No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
سہام کا ایڈمیشن لاہور ہی ہوا تھا, انشرہ ملتان چلی گئی , ساریہ نے ملاحم کے ساتھ ہی پنجاب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا تھا
ملاحم نے اسے یونیورسٹی کے گیٹ پر دیکھا
“ساریہ… ” وہ بس مسکراۓ جا رہا تھا… ایویں, بلاوجہ
“تم بھی بی ایس انگلش ہی کر لیتیں… ؟” اس نے ساتھ چلتے ہوئے کہا
“میرا ایکسینٹ تمہارے جیسا نہیں ہے”
“میری کلاس کے اسی سٹوڈنٹس میں سے کسی کا بھی ایکسینٹ میرے جیسا نہیں ہے”
“مجھے انگلش اچھی بھی نہیں لگتی نا… “
“میں ساتھ ہوں گا تب بھی اچھی نہیں لگی گی… ؟” وہ یونہی بڑے مبہم سے انداز میں اظہار کر جاتا تھا, ساریہ خاموش رہ گئی
ایک ہفتے بعد وہ اس کی کلاس میں تھی
“تھینک یو ساریہ مراد… ” وہ خوش تھا… بے پناہ خوش
“اب اگر میں فیل ہو گئی تو… ؟” وہ بس اس کے چہرے سے نظریں چرا گئی
“…تو پھر ملاحم سعد کے ہونے کا تو جواز ہی ختم ہو گیا نا … “
………………………..
اسے گھر آۓ دو دن ہو گئے تھے, اس دوران کسی بھی گھر والے نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی, سمعیہ اور فاطمہ کی اچھی خاصی منت سماجت کر کہ سہام دونوں بچے وہیں چھوڑ گیا تھا, کئی بار اس نے ساریہ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود… وہ اس کی طرف دیکھ ہی نہیں رہی تھی, وہ بیچارہ دو دن سے چھٹی پر تھا, تیسرے دن مجبوراً ہاسپٹل چلا گیا, انشرہ مستقل اپنی امی کی طرف تھی, ظاہر ہے ڈیڑھ سالہ بچی کو وہ اب ہسپتال ساتھ تو نہیں لیکر جا سکتی تھی, طاہرہ بیگم سے بھی بس دو دن ہی گزرے, تیسرے دن وہ اسے اٹھاۓ بھائیوں کے گھر آ گئیں
“اے ساریہ…ادھر آ میرا بچہ, پکڑ اسے, میرے تو ہوش گم کر دیئے ہیں اس بچی نے” انہیں ساریہ کچن کے دروازے میں کھڑی نظر آئی تھی, وہ چپ چاپ کان لپیٹ کر ادھر ادھر ہو گئی, سعدیہ نے آگے بڑھ کر اسے پکڑا
“اے فاطمہ ہوا کیا ہے اسے… ؟ کیوں شوہر سے لڑ کر آ گئی ہے ؟” ان کا سانس پھولا ہوا تھا
“خدا جانے پھپھو اب شوہر سے لڑی ہے یا سوتن سے… ” سعدیہ کی زبان تو ویسے بھی ذرا ترش اور ترچھی ہی تھی
“لو… انشرہ بھلا کیوں لڑے گی اس سے…سارا دن تو بیچاری ہسپتال میں ذلیل ہوتی ہے, اسی نے کچھ کہا ہو گا, ذرا بلا تو اسے… میں پوچھوں” وہ وہیں بیٹھ گئیں
“رہنے دیں طاہرہ آپا… وہ تو ہمیں بھی کچھ نہیں بتا رہی” سمعیہ نے کہا
“یہ کوئی طریقہ تو نہ ہوا, کسی چیز کی کوئی کمی ہے کیا اسے… ؟ ماشاءاللہ ڈاکٹر ہے اس کا شوہر, خدا نے بیٹا بھی دیا, بیٹی سے بھی نوازا, پورے گھر کی ملکہ ہے… عیش کرتی ہے” طاہرہ بیگم شروع ہو چکی تھیں, سمعیہ نے بالکل ہی کان لپیٹ لئے, کچھ دیر بعد وہ مروہ کو وہیں چھوڑ کر واپس چلی گئیں, سمعیہ کے لئے تو وہ اتنی ہی قابل محبت تھی جتنے ماہر اور منسا… انہوں نے بھی دوبارہ اسے طاہرہ کی طرف نہیں بھیجا, رات آٹھ بجے انشرہ ڈیوٹی سے واپس آئی تو ملازمہ کو بھیج کر مروہ کو واپس بلا لیا, وہ ڈیڑھ سالہ بچی بھی پورا دن ماں کے لمس کو ترس جاتی تھی, سہام رات کو بھی نہ آیا, اس کی ڈبل شفٹ تھی
رات کے کھانے کے بعد مراد نے ساریہ کو اپنے کمرے میں بلایا, فرہاد اور سمعیہ بھی وہیں تھے
“یہاں بیٹھو ساریہ بیٹے… ” انہوں نے اپنے برابر جگہ بنائی, وہ چپ چاپ بیٹھ گئی
“کیا ہوا ہے بیٹے… ؟” انہوں نے پوچھا
“سہام سے جھگڑا ہوا ہے ؟”
“نہیں”
“انشرہ سے کوئی تو تو میں میں ہو گئی”
“نہیں”
“بچوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ بنا ہے؟”
“نہیں “
مراد صاحب پوچھتے چلے گئے, وہ نہیں نہیں کہتی چلی گئی
“پھر اس طرح تن تنہا کیوں چلی آئیں ؟” وہ تھک کر بولے
“سہام نے مجھے غیر ذمہ دار کہا… “
………………………………
سعدیہ کی ڈیٹ فکس ہو گئی تھی, گھر میں شادی کےہنگامے جاگ اٹھے, انشرہ تین چھٹیاں لیکر آئی, سہام مہندی والے دن بھی کلاسز لیکر آیا, دھیرے دھیرے سبھی ہال کے لئے نکل گئے, حسب عادت ساریہ محترمہ ہر ایک کی مدد کرنے میں خود کو بھلا ۓ ہوۓ تھیں, سب کے کپڑے استری کئے, جوتے پالش کئے, پرفیوم, کنگھا, جرابیں, واسکٹس… ہادیہ میڈم تو اپنے کمرے اٹھا کر دلہن کے ساتھ پارلر چلی گئیں, بالکل آخر میں رہ جانے والے چند ایک لوگوں میں وہ سب سے آخری تھی, گھر سے ہال تک کا آخری چکر تھا, مراد صاحب گاڑی لیکر آۓ تھے, ملاحم ان کے پیچھے ہی اندر داخل ہوا تھا
“چلو بھئی جلدی کرو… کون کون رہ گیا یے” مراد صاحب نے آواز لگائی
“ساریہ اوپر ہے…. ” فاطمہ نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے کہا
“ساریہ… ” انہوں نے اسے آواز دی تھی
“بس آ گئی ابو… ” وہ دو,دو سیڑھیاں ایک ساتھ پھلانگ رہی تھی جب ملاحم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا
سیاہ بال ادھر ادھر لہرا رہے تھے, کلائیوں میں چوڑیاں کھنک رہی تھیں, دونوں ہاتھوں سے اپنا گولڈن گھیر دار شرارہ ذرا سا اوپر کیے وہ نیچے اتری تھی
ملاحم کی دنیا درہم برہم ہوئی تھی
نجانے وہ واقعی اسقدر حسین تھی کہ اس سمے نے اسے اتنا حسین بنا دیا تھا
“چلیں ابو… ” وہ پھولی سانسوں کی ساتھ اس کے پاس آ کھڑی ہوئی
“جلدی چلو… ” مراد صاحب باہر نکلے, باقی سب ان کے پیچھے
“میرے ساتھ جانا… پلیز” وہ خوشبوؤں کا ایک جھونکا بن کر اس کے قریب سے گزری تو ملاحم نے دھیرے سے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تھی
اس چاند چہرے پر ایک دم شفق کی سرخیاں پھیلی تھیں, وہ نا محسوس سے انداز سے سب سے پیچھے رہ گئی, گاڑی بھر گئی, وہ رہ گئی
“انکل اگر آپ برا محسوس نہ کریں تو ساریہ کو میں لے آتا ہوں” وہ بڑے سبھاؤ سے بولا
“موٹر سائیکل پر کیسے لاؤ گے ؟” مراد صاحب ہچکچاۓ
“نہیں نہیں انکل… میں کسی دوست سے کہہ دیتا ہوں, گاڑی دے جاۓ گا, ہم بس آپ کے پیچھے پیچھے ہی آ رہے ہیں” ملاحم نے کہا
“چلو ٹھیک ہے” مراد صاحب مطمئن ہو کر گاڑی نکال لے گئے, ملاحم نے اسی وقت کسی کو کال کر کہ گاڑی لانے کا کہا تھا, ساریہ نے نظر بھر کر اسے دیکھا, گرے تھری پیس میں ملبوس وہ وجاہت کا شاہکار ہی لگ رہا تھا, ملاحم نے کال ڈس کنیکٹ کرتے ہوئے اسے دیکھا, ساریہ اسے ہی دیکھ رہی تھی, ملاحم دھیرے سے مسکرایا
وہ سرخ ہو کر نظریں چرا کر دروازے سے پیچھے کو ہٹ گئی, ملاحم نے سیل جیب میں ڈالتے ہوئے اس کی پشت کو دیکھا, وہ دو قدم چل کر لان میں پڑی کرسی پر بیٹھ گئی, ملاحم اس کے قریب ترین درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا
“تھینک یو ساریہ… ” وہ دھیرے سے بولا
“کس بات کے لئے ؟” وہ بولی
“تم میری ہر بات مان لیتی ہو” وہ مسکرایا, ساریہ نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے سر جھکا لیا
“ساریہ مراد… آج بہت خوبصورت لگ رہی ہے” وہ آہستگی سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا, کرسی گھسیٹی اور عین اس کے سامنے آ بیٹھا, ساریہ کے گھٹنے اس کے گھٹنوں کو چھو رہے تھے, ملاحم نے بڑے حق سے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا
ساریہ جھجھک گئی, وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا, چند لمحوں بعد اس نے اپنا مہندی سے سجا ملائم سا ہاتھ اس کی چوڑی ہتھیلی پر رکھ دیا, ملاحم کی چاروں انگلیاں اسے مقید کر گئیں
“ساریہ… ” وہ اس کے چہرے کو حفظ کر رہا تھا, ساریہ نے بمشکل نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
“آج سے… ابھی سے… ملاحم سعد صرف تمہارا ہے, ہمیشہ تمہارا ہی رہے گا, ہمیشہ تم سے ہی محبت کرے گا, میں کوئی شاعر نہیں ہوں ساریہ… مجھے حرف جوڑنے نہیں آتے, میں کوئی موسیقار بھی نہیں ہوں… سو تمہارے لئے دھنیں تخلیق نہیں کر سکتا, میں کوئی مصور بھی نہیں ہوں… ورنہ تمہیں رنگ رنگ بکھیر دیتا, میں ایک انتہائی نکما سا انسان ہوں… میں بس محبت کر سکتا ہوں, اور ہمیشہ کرتا رہوں گا”
……………………..
سہام اور انشرہ کی زندگی بے حد مشکل ہو گئی تھی, ان کے آبائی گھر سے ہسپتال کا راستہ تقریباً آدھے گھنٹے کا تھا جو صبح صبح ٹریفک رش کی وجہ سے گھنٹے پر محیط ہو جاتا تھا, اسی مصیبت کی وجہ سے سہام نے ہسپتال کے بالکل قریب گھر لیا تھا, اب جب سے ساریہ واپس آئی تھی, ان دونوں کی سفر نے ہی مت مار رکھی تھی, ظاہر ہے وہ اور انشرہ کسی تیسرے بندے کے بنا الگ نہیں رہ سکتے تھے… مروہ کو کون دیکھتا… ؟ کھانا کون پکاتا… ؟
سہام نے ایک ایک کی منت کر لی کہ جب تک ساریہ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تب تک کوئی ان دونوں کے ساتھ چل کر رہے, طاہرہ کی تو صاف “ناں” تھی, سعدیہ کے اپنے دو بچے تھے, اس کا شوہر انگلینڈ ہوتا تھا, سال بعد آتا تھا تو سسرال جاتی تھی,فاطمہ جاتیں تو پچھلوں کو کون دیکھتا… سمعیہ ویسے بلڈ پریشر کی مریض تھیں… ہادیہ کی یونیورسٹی…ایک ہفتے میں ہی سہام کے چھکے چھوٹ گئے, اس رات وہ نائیٹ شفٹ کر کہ صبح آٹھ بجے فارغ ہوا, پورے دو گھنٹے بعد گھر پہنچا… اور بنا اوور آل اتارے ساریہ کے کمرے میں جا گھسا, وہ منسا کو گود میں لئے فیڈر پلا رہی تھی
“اگر تم چاہتی ہو نا کہ میں سب کے سامنے تمہارے پاؤں پکڑ کر تم سے معافی مانگوں… تو خدا کی قسم میں یہ بھی کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن پلیز ساریہ, مجھ پر رحم کرو, قیامت تو جب آنی ہے سو آنی ہے میرے لئے یہ گزرا ایک ہفتہ ہی قیامت تھا, خدا کے لئے… بس کر دو, یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ, معاف کر دو, تمہیں میرا غیر ذمہ دار کہنا برا لگا نا… اس کے لئے ہزار دفعہ سوری, آئیندہ نہیں کہوں گا, کچھ بھی نہیں کہوں گا” وہ ہاتھ جوڑے کہتا چلا گیا, ایک لمحے کو ساریہ کے دل پر ہاتھ پڑا
“سہام ہاتھ نہ جوڑیں… پلیز” وہ منہ پھیر گئی
“ساریہ… میری جان چلو گھر چلیں” سہام نے اس کے قریب آ کر اس کا بازو پکڑا
“میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر… یہ ایک ہفتہ جو تمہارے بغیر گزرا… یہ میں ہی جانتا ہوں کہ کیسے گزرا… ؟ مجھے تمہاری ضرورت ہے ساریہ پلیز… ” وہ کہے جا رہا تھا, ساریہ نے دھیرے سے اپنا بازو چھڑوایا
“آپ کو میری ضرورت کیوں ہے سہام… ؟” اس نے پوچھا
“کیونکہ میں اور انشرہ اکیلے مینیج نہیں کر…” ساریہ نے اس کی بات کاٹ دی, سعدیہ اور فاطمہ کھلے دروازے میں کھڑی تھیں
“آپ اور انشرہ… سہام آپ اور انشرہ… بس, بات ختم… آپ کو ساریہ نامی ایک بیوی کی ضرورت نہیں ہے سہام… آپ کو ساریہ نامی ایک خدمت گار کی ضرورت ہے بس…آپ دونوں کماتے ہیں, اچھی سی اجرت پر ایک ملازمہ رکھ لیں… مجھ سے شرط لگا لیں اگر اس کے بعد آپ کو ساریہ مراد کا نام بھی یاد رہ جاۓ تو… “
…………………………
وہ پانی پینے اٹھی تھی, رات کے گیارہ بج رہے تھے, پانی کی بوتل خالی… سر جھٹک کر وہ باہر نکلی, سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی تو سمعیہ کے کمرے کی لائیٹ جل رہی تھی, اس کی چھٹی حس جاگ گئی, وہ دھیرے سے دروازے سے آن لگی, سمعیہ اور فرہاد کے علاوہ سہام بھی اندر ہی تھا
“سہام یہ تیرا چوتھا سال ہے, اگلے سال تو فارغ ہو جاۓ گا, اسی سال ساریہ کا بھی بی ایس مکمل ہو جاۓ گا, ہم دونوں سوچ رہے تھے کہ ساریہ کا بی ایس ہوتے ہی اگر تیری اور ساریہ منگنی… ” اندر بیٹھے سہام اور باہر کھڑی ساریہ پر ایک ساتھ بجلی کڑکی تھی
“ابو… کیا مطلب… ؟” وہ اچھل پڑا, فرہاد صاحب ایک دم خاموش ہو گئے
“ابو ساریہ بہت اچھی لڑکی ہے لیکن مجھے اس سے شادی نہیں کرنی, میں نے اس کے بارے میں اس نہج پر کبھی نہیں سوچا, مجھے اپنے پروفیشن کی ہی کسی لڑکی سے شادی کرنی ہے جو کل کو میرے ساتھ میرے برابر میں کھڑی ہو” سہام کہتا چلا گیا, سمعیہ نے فرہاد کی طرف دیکھا
“اول تو ابھی رک جائیں…ایم بی بی ایس مکمل ہو لینے دیں, اگر نہیں تو پھپھو سے بات کر لیں, مجھے انشرہ سے شادی کرنی ہے” اس نے فیصلہ سنا دیا, باہر کھڑی ساریہ کی جان میں جان آئی تھی
“اب طاہرہ سے کون بات کرے گا… ؟” سمعیہ کے طوطے اڑ گئے تھے… فرہاد صاحب کے چھکے چھوٹ گئے تھے
“آپ اور ابو… “
……………………….
وہ کلاسز لیکر نکلی تو شام کے ساۓ گہرے ہو رہے تھے, تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہ مین گیٹ کی طرف بڑھنے لگی, اسے حاشر لینے آتا تھا
“یونیورسٹی گارڈن تک چلو گی… ؟” ملاحم کی آواز پر وہ پلٹی
“دیر ہو رہی ہے ؟” اس نے کہا
“میں چھوڑ آؤں گا” ساریہ ہچکچا گئی
“بائیک پر نہیں بیٹھنا تو گاڑی میں چھوڑ آؤں گا” وہ اس کی ہر ہچکچاہٹ سمجھ لیتا تھا, ساریہ نے کال کر کہ حاشر کو منع کر دیا
“چلو… ” وہ بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے بولی, ملاحم کی آنکھوں کی جگ مگ ہی نرالی تھی, پندرہ, بیس منٹ وہ اسے اپنے پہلو میں لئے چلتا رہا, شام کے ساۓ گہرے ہو رہے تھے, آسمان پر لالیاں بکھر رہی تھیں, وہ دنوں دو طرفہ درختوں کی قطاروں کے درمیان بنی روش پر چل رہے تھے, ہوا کا جھونکا آتا تو پتے دور تک بکھر جاتے, چڑیوں کی چوں چوں کسی بیک گراؤنڈ میوزک کا کام دے رہی تھی
“ملاحم… رات ہونے والی ہے” وہ چلتے چلتے رک گئی, ملاحم پلٹا
“چلو گھر چلیں… ” وہ بولی, ملاحم دھیرے سے مسکرایا
“کاش کہ تمہارے ساتھ گزارے ہوٍۓ لمحے واپس لانے کا کوئی منتر ہوتا…” ساریہ نے سر جھکا لیا, ملاحم نے اپنی جیکیٹ کی جیب سے ایک گلاب کا پھول نکالا اور دو قدم اس کے قریب ہو کر اس کی طرف بڑھا دیا
“سالگرہ مبارک ہو… ساریہ مراد” وہ مسکرا رہا تھا
ساریہ نے بڑے جذب سے مسکراتے ہوئے گلاب پکڑ لیا
“تھینک یو… “
“چلو تمہیں چھوڑ آؤں ” وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر بولا جسے ساریہ نے ایک ہلکی سی جھجک کے بعد تھام لیا
“ملاحم… ایک بات پوچھوں ؟”
“پوچھو… “
“انشرہ مجھ سے زیادہ حسین ہے, ہماری کلاس میں بہت ساری لڑکیاں مجھ سے زیادہ خوبصورت ہیں, تمہارے سوشل سرکل میں کئی لڑکیاں محھ سے زیادہ کانفیڈینٹ اور شارپ ہوں گی لیکن… تمہیں مجھ سے ہی محبت کیوں ہوئی ؟” اس نے پوچھا, ملاحم ہنس دیا
“میں بس اتنا پوچھوں گا کہ سہام مجھ سے زیادہ ہینڈسم اور ڈیشنگ ہے, ڈاکٹر ہے, تمہارا کزن ہے پھر تمہیں مجھ سے ہی محبت کیوں ہوئی ؟” ملاحم نے کہا
“میں نے کب کہا کہ میں تم سے محبت…. ” ساریہ ایک دم بولتے بولتے رکی, ملاحم اپنی انتہائی روشن آنکھوں سے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا
“نہیں کرتی ہو… ؟” اس نے پوچھا, یونیورسٹی گیٹ آ گیا تھا, گاڑی گیٹ کے باہر کھڑی تھی
“بولو ساریہ… تم مجھ سے محبت نہیں کرتیں ؟” وہ مجسم سوال بنا کھڑا تھا
“صرف آج نہیں… صرف ابھی نہیں…میں ساری عمر تم سے محبت کروں گی ملاحم… “
……………………
