No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
اگلے دن سہام کا ولیمہ تھا, فنکشن رات کا تھا, ایک بار پھر اسے ہادیہ کے ساتھ پارلر بھیج دیا گیا, سہام نے ایک جبری سی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائی ہوئی تھی, رات آٹھ بجے حاشر اسے پارلر سے لیکر آیا, اس نے سی گرین کلر کی میکسی کے ساتھ سلور جیولری پہن رکھی تھی, کسی روبوٹ کی طرح اسے ایک بار پھر سہام کے پہلو میں لا کر بٹھا دیا گیا, ملاحم عین وقت پہنچا تھا… بس ایک دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ سہام سے گلے ملا اور سٹیج پر بیٹھی ساریہ مراد پر ایک نظر ڈالی, وہ ہنوز سر جھکاۓ اپنے ہاتھوں کی پشت کو گھور رہی تھی, ملاحم اسے کچھ بھی کہے بغیر سٹیج سے اتر گیا
فنکشن ختم ہوتے ہوتے گیارہ بج گئے, ایک بار پھر اسے سہام کے کمرے میں لا کر بٹھا دیا گیا اور وہ حسب معمول غائب تھا, ساریہ جانتی تھی کہ وہ تب گھر واپس آۓ گا جب سب گھر والے سو چکے ہوں گے, وہ ان میں سے کسی کا بھی سامنا نہیں کرناچاہتا تھا
جب بیٹھے بیٹھے تھک گئی تو اٹھ کھڑی ہوئی, قد آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر دھیرے دھیرے دوپٹے سے سوئیاں کھولنے لگی, دسیوں سوئیاں کھولیں تو بھاری کامدار دوپٹہ سر سے اتر کر پیچھے کو گر گیا, انتہائی کھینچ تان کر اس نے بالوں میں سے بھی ہیر پنز نکالی تھیں, لمبے سیاہ بال یکدم پشت پر بکھرتے چلے گئے, ایک ایک کر کہ اس نے ساری جیولری بھی اتار دی اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے سادہ کپڑے نکال کر واش روم میں گھستی, ٹیرس کی طرف کسی کے قدموں کی آواز ابھری تھی
ساریہ کو لگا جیسے کسی نے اس کا دل جکڑ لیا ہو, وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی, بس پتھرائی ہوئی نظروں سے آئینے میں اپنے پیچھے نظر آتے اس کے عکس کو دیکھتی رہی گئی
ڈارک گرے کلر کے تھری پیس میں ملبوس وہ دو قدم آگے کو آیا تھا…اور دھیرے سے کمرے کا دروازہ لاک کیا تھا, ساریہ ہنوز کھڑی اسے دیکھ رہی تھی, ملاحم نے انتہائی نرمی سے اس کے دونوں بازو تھام کر اسے اپنی طرف موڑا
بھاری کامدار میکسی جس کا دوپٹہ اس کے قدموں میں گرا پڑا تھا, چہرے پر ہم رنگ سا میک اپ اور انتہائی خوبصورت گہری سیاہ جھیلیں جو مسلسل اسے ڈوب جانے کی دعوت دے رہی تھیں, کمر پر بکھرے بال جن کی کئی ایک آوارہ لٹیں اس کے چاند چہرے کو چھو رہی تھیں
ملاحم کوشش کے باوجود نظریں نہ ہٹا سکا… اس کا یہ روپ تو جب بھی سوچا… اپنے لئے ہی سوچا تھا, جب سے لفظ محبت پڑھا تب سے ہمیشہ یونہی اس کے روبرو ہونے کا سوچا تھا…ہمیشہ یہ ہی سوچا تھا جب وہ اپنی پوری زندگی میں صرف ایک بار پورے دل سے تیار ہو گی تو اس کے سامنے کھڑا ہونے کا اختیار صرف ملاحم سعد کو گا لیکن… اس نے جب جب یہ سوچا ہو گا قسمت کتنی زور سے ہنسی ہو گی نا…
“میری ایک بجے کی فلائیٹ ہے واپسی کی… تم سے ملنے آیا تھا” وہ دھیرے سے بولا, لمحہ لگا اور اس کے سامنے کھڑی ساریہ مراد کی دونوں جھیلیں لبا لب بھر گئیں, دھیرے سے اس نے سر جھکا لیا
“ساریہ…” ملاحم نے ہر شے بھلا کر اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیا تھا
“ایک چیز ہوتی ہے محبت… وہ ہم دونوں کے اختیار میں تھی لیکن… ایک اور چیز ہوتی ہے مقدر… جس پر ہم دونوں کا کوئی اختیار نہیں… بس کہانی ختم” اس کے کہتے ہی ساریہ کی آنکھوں پر بندھا ہر بند ٹوٹ گیا, آنسو روانی سے اس کے گالوں پر بہہ نکلے, ملاحم کا دل مسلا جا رہا تھا
“میں پتہ ہے کیوں آیا ہوں…تاکہ تم کھل کر رو سکو, اپنا غبار نکال سکو, کیونکہ میں جانتا ہوں تم میرے بعد کسی کے بھی سامنے نہیں روؤ گی, بس اندھیرے میں کسی کونے کھدرے میں چھپ کر گھٹتی رہو گی… سسکتی رہو گی” ملاحم کے کہنے کی دیر تھی, وہ بلک بلک کر رو پڑی…ملاحم نے دھیرے اپنا داہنا ہاتھ اس کی سر کی پشت پر رکھا اور انتہائی محبت سے اس کا چہرہ اپنے سینے سے ٹکا لیا, ساریہ نے آنکھیں بند کرتے ہوئے دھیرے سے اس کا باہنا ہاتھ تھام لیا تھا, ملاحم نے اسے چپ نہیں کروایا… رونے دیا
اس کی شرٹ آگے سے بھیگتی چلی گئی, وہ بہت نرمی سے اپنی انگلیاں اس کے بالوں میں پھیرتا رہا, کئی لمحوں بعد اس نے دھیرے سے اسے خود سے الگ کیا تھا, دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا, بہت نرمی سے اس کا بھیگا ہوا چہرہ اپنی انگلیوں سے خشک کیا
“ایک وعدہ کرو گی مجھ سے… ” ملاحم نے اس کی آنکھوں میں جھانکا, وہ بولی نہیں, بس اسے دیکھتی رہی, ملاحم دھیرے مسکرایا اور اپنے لب اس کے سر پر رکھ دئیے
“اپنے رشتوں کو سرخرو کرتے کرتے مجھے بھلے ہی بھلا دینا لیکن… خود کو مٹی نہ ہونے دینا”
……………………..
ہادیہ کا لاسٹ سمیسٹر تھا, حاشر کا ایل ایل بی مکمل ہو گیا تھا, دونوں نے مل کر کمپین چلائی تھی اور نتیجہ کے طور پر دونوں کی منگنی طے ہو گئی تھی, معمول کے مطابق فنکشن ہال میں ہی رکھا گیا تھا, اسے سبھی نے زور لگایا کہ وہ بھی ہادیہ کے ساتھ پارلر کا چکر لگا آۓ لیکن پارلر تو دور کی بات… وہ تو سرے سے فنکشن میں جانے کے لیے ہی تیار نہیں تھی, دونوں بچوں کو تیار کر کہ خود کمبل تان کر لیٹ گئی
سب نے اپنے اپنے سے جتن کر لئے لیکن بے سود… نہ جانے کیسے لیکن وہ ان چھ ماہ میں ڈھیٹ بھی ہو گئی تھی, تھک ہار کر محلے کی ایک سیانی سی عورت کو اس کے پاس چھوڑ کر باقی گھر والے ہال چلے گئے, حسب معمول ملاحم بھی انوائیٹد تھا, سہام سے وہ معمول کے مطابق ہی ملا, ماحن, ماہر کو دیکھتے ہی اس کی گود سے اتر گیا تھا, کچھ دیر تو اس کی متلاشی نظریں گوہر مقصود ڈھونڈتی رہیں… جب نہیں ملا تو تھک گئیں
“سعدیہ آپی… ساریہ نہیں آئی ؟” اس نے پوچھ ہی لیا, فاطمہ بھی قریب ہی تھیں
“ایک ایک نے منتیں کر لیں اس لڑکی کی لیکن مجال ہے جو کسی کی سن لے, کیا کہیں گے مہمان کہ لڑکے کی اکلوتی بہن ہی اس کی منگنی پر نہیں آئی” فاطمہ ستی پڑی تھیں, ملاحم نے سعدیہ کی طرف دیکھا
“ماحن کا خیال رکھنے کی حامی بھریں تو میں اسے لے آتا ہوں” اس نے کہا
“پکا لے آؤ گے ؟”سعدیہ زیادہ پر امید نہیں تھی, اس نے اثبات میں سر ہلایا
“جاؤ… ” وہ مسکراتے ہوئے بولی, ملاحم پلٹ کر باہر نکلا اور دس منٹ میں گاڑی اڑا کر ساریہ کے گھر پہنچ گیا, وہ جانتا تھا محترمہ اپنے کمرے میں ہی ہوں گی, وہ اوپر آ گیا, دروازہ کھلا ہی تھا, دھیرے سے ناک کر کہ وہ اندر داخل ہوا, ساریہ نے کمبل نیچے کر کہ دروازے کی طرف دیکھا, وہاں وہی تھا… اس نے دوبارہ کمبل اوڑھ لیا, ملاحم مسکراتے ہوئے بیڈ کے قریب آیا اور اس کے کنارے پر بیٹھ گیا
“ماتم منا رہی ہو ؟” اس نے پوچھا
“میں کیوں مناؤں ماتم… ؟ ” وہ کمبل میں سے ہی بولی
“تمہارے پانچ سال جو زندہ دفن ہو گئے ” ملاحم نے کہا
“میرا مقدر… ” وہ بولی
“تو مقدر پر یوں رو رو کر صبر نہیں کرتے… اس پر مسکرا کر شکر کیا کرتے ہیں لڑکی” ملاحم نے اس پر سے کمبل کھینچا, ساریہ نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا
“چلو اٹھو… چلیں” اس نے بڑے دوستانہ انداز سے کہا
“میرا دل نہیں کر رہا ملاحم… ” وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
“میرے کہنے سے بھی نہیں چلو گی ؟” اس نے پرانا پینترا آزمانا چاہا
“تمہاری یہ ٹرک پانچ سال پرانی ہو گئی ہے” ساریہ نے کہا, ملاحم مسکرا دیا
“جانتا ہوں… کیونکہ میں خود بھی تو پانچ سال پرانا ہو گیا ہو نا… ” ملاحم کمبل پوری طرح ایک طرف کر کہ کھڑا ہو گیا
“چلو… کونسے کپڑے استری کر کہ دوں ؟” وہ اس کی الماری کی طرف آیا
“رہنے دو تم… سعدیہ آپی نے کر دئیے ہوں گے” نہ جانے کیسے ساریہ کو اس کے انداز پر ہنسی آ گئی
“میں نیچے انتظار کر رہا ہوں… جلدی کرو… ” وہ اس کے سر پر سوار تھا, ساریہ بادل نخواستہ سی کپڑے لیکر واش روم گھس گئی, وہ موبائل سکرین دیکھتا ہوا نیچے آ گیا, کچھ دیر بعد وہ باہر نکلی تو وہ کمرے میں نہیں تھا, جلدی جلدی بالوں کی اونچی سی پونی ٹیل بنا کر اس نے ہلکا سا میک اپ کیا اور دوپٹہ کندھے پر ڈال کر نیچے اتر آئی
وہ صوفے پر آڑا ترچھا سا لیٹا تھا
“چلو… ” وہ اپنا شولڈر بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے بولی, ملاحم نے ایک نظر اس کے صبیح چہرے کی طرف دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا
“مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات بھی کرنی ہے” وہ اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بولا تھا
“وہ بھی کر لو… ” ساریہ نے کہا
“ابھی نہیں… ایسے نہیں ” وہ دھیرے سے مسکرایا, ساریہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی, اس کی گاڑی ہال کے دروازے پر رکی تھی , ملاحم نے نیچے اتر کر اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا, وہ چپ چاپ نیچے اتر آئی, اسے ملاحم کے ہمراہ ہال میں داخل ہوتے دیکھ کر فاطمہ کی جان میں جان آئی تھی, ماحن دوڑتا ہوا آیا اور ملاحم کی گود میں چڑھ گیا, ماہر بھی ماں کی ٹانگوں سے آ کر لپٹ گیا تھا
“ادھر آؤ… ہر وقت پاپا کی گود میں چڑھے رہتے ہو ” ساریہ نے ماحن کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا, وہ پہلے تو ہچکچایا پھر باپ کے منہ کو دیکھنے لگا
“آؤ… آپ کی اور ماہر کی فوٹوز بناتے ہیں…” ساریہ کے دوسری بار کہنے پر وہ اس کی گود سے اتر گیا
“ویسے آج ایک بات تو ثابت ہو گئی ” ملاحم مسکرایا تھا
“اور وہ کیا… ؟
“یہ ہی کہ میری اور میرے بیٹے کی پسند بالکل ایک جیسی ہے” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا , ساریہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی لیکن اس کے لبوں پر پھیلتی خفیف سی مسکراہٹ ملاحم سعد کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہی تھی, کچھ فاصلے پر کھڑے سہام کی نظروں نے بڑی دور تک ساریہ کا پیچھا کیا تھا
“سنو… ” ملاحم نے اسے پکارا, وہ رکی اور پلٹ کر اسے دیکھا
“واپسی پر میرے ساتھ جانا… پلیز”
…………………………
وہ اسی رات اسلام آباد واپس چلا گیا تھا… ہمیشہ کے لئے…سہام اور ساریہ کی شادی کو ایک ہفتہ گزر گیا, طاہرہ بیگم اس دن کے بعد سے ان کی طرف آئیں ہی نہیں… انہیں روز ایاز صاحب کی کال آتی, انشرہ کا کوئی حال نہیں تھا, وہ بار بار واپس جانے کی ضد کرتی تھی, طاہرہ بیگم بالکل خاموش سی ہو گئی تھیں جیسے اب کوئی نئی چال بن رہی ہوں, پچھلا پینترا تو متوقع نتائج پیدا نہیں کر سکا تھا
سہام کو ایم او شپ کرتے ایک سال ہونے کو آیا تھا سو اس نے اسپیشلایزیشن کا فیصلہ کر لیا, دو, تین فارن یونیورسٹیوں میں اسکالرشپ کے لئے اپلائی کر رکھا تھا, پورا دن وہ اسی سلسلے میں خوار ہوتا رہتا تھا, اس دن بھی وہ ناشتہ کے بعد گاڑی لیکر گھر سے نکل گیا, ساریہ تھوڑے بہت کام نمٹا کر کمرے میں بند ہو گئی, جب سے ان دونوں کا نکاح ہوا تھا… تب سے ایک دفعہ بھی بات چیت نہیں ہوئی تھی, وہ رات گئے آتا اور کروٹ لیکر سو جاتا, ساریہ سارا دن کمرے میں بند رہتی اور ساری رات ٹیرس پر بیٹھ کر جاگتی رہتی
“ساریہ آپی… آپ کو چچی بلا رہی ہیں” ہادیہ نے اس کے کمرے میں جھانک کر کہا
“کہاں ہیں ؟” اس نے پوچھا
“اپنے کمرے میں… ” ہادیہ کہہ کر پلٹ گئی, وہ کچھ دیر بعد دوپٹہ لپیٹ کر نیچے فاطمہ کے کمرے میں آ گئی
“امی بلایا تھ آپ نے ؟” اس نے کہا
“یہاں بیٹھ… ” فاطمہ نے اسے اپنے برابر میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا, وہ چپ چاپ بیٹھ گئی
“دیکھ ساریہ… مجحے تجھے کچھ بھی سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے, تو خود سمجھدار ہے, پڑھی لکھی ہے… تیرا اور سہام کا نکاح جس بھی صورتحال میں ہوا… پر ہو گیا, تم دونوں اب میاں بیوی ہو, اس رشتے کو سرخرو کیوں نہیں کر رہے ؟” فاطمہ نے کہا, ساریہ ان کی بات سمجھ گئی تھی
“سہام کی طرف سے کوئی پیش رفت…. ” فاطمہ نے اس کی بات کاٹ دی
“ساریہ… بیٹے سہام کی دلی کیفیت کا تو پتہ ہے تجھے, انشرہ سے اس کی اچھی خاصی دلی وابستگی ہو گئی تھی, وہ اتنی جلدی اس کی جگہ تجھے کیسے قبول کرے ؟ مشکل ہے… بہت مشکل ہے اس کے لئے ” فاطمہ نے کہا
“تو پھر میں کیا کروں ؟” وہ الجھ کر بولی
“تو اب بیوی ہے اس کی… اس کی توجہ کھینچ ساریہ, اسے ماضی بھلا کر حال میں لیکر آ, وہ نہیں آتا تیری طرف تو تو اس کی طرف چلی جا… وہ اگر ابھی فوراً سے محبت نہیں کر پا رہا تو تو کر لے… تو تو کر سکتی ہے نا اس سے محبت… تیرا تو شوہر ہے نا, اور بیوی کے لئے اس کا شوہر ہی اس کی پہلی محبت ہوتا ہے” وہ اس کی اندرونی کیفیت سے بے نیاز اس کے دل پر خنجر چلاۓ جا رہی تھیں, وہ بس چپ چاپ سنتی رہی… اور کیا کرتی
مزید دو دن گزر گئے, وہ سہام کی طرف مائل ہونے کی ہمت نہ کر سکی اور اس بار سمعیہ نے اسے بلا لیا, وہی ساری نصیحتیں… وہی ساری باتیں
“تائی امی آپ سہام سے بھی تو کہیں نا… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی
“سہام ابھی ذرا اپ سیٹ ہے بچے… ٹھیک ہو جاۓ گا, مجھے پتہ ہے تو اسے اپنا بنا لے گی” سب گھر والوں نے ایک بار پھر سے بندوق اس کے کندھوں پر رکھ دی تھی , وہ بیچاری کیا کرتی… ؟ سہام رات بارہ, ایک بجے گھر آتا تھا اور دن چڑھے تک پڑا سویا رہتا تھا
تین ہفتے گزر گئے… اس دن سعدیہ کے بیٹے کی سالگرہ تھی, کچھ دن پہلے اللہ نے اسے ایک اور بیٹے سے بھی نوازا تھا, خلاف معمول آج دن بھر سہام گھر پر ہی رکا رہا, ہادیہ اور حاشر نے مل کر گھر پر ہی چھوٹا سا فنکشن ارینج کر لیا تھا, یونہی خوش گپیاں کرتے کرتے رات کے دس بج گئے, ساریہ, ہادیہ کے ساتھ سب کچھ سمیٹ کر اوپر کمرے میں آئی تو وہ اپنا لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا, وہ ایک نظر اسے دیکھ کر واش روم میں گھس گئی, چینج کر کہ باہر آئی, ہاتھوں پر لوشن لگایا اور کن اکھیوں سے اسے دیکھا, وہ پوری طرح لیپ ٹاپ کی سکرین میں منہمک تھا, کچھ دیر تو وہ آئینے کے سامنے کھڑی آگے کا لائحہ عمل تیار کرتی رہی پھر دھیرے سے اپنے گلے میں پرا دوپٹہ کھینچ کر صوفے پر پھینکا اور خود بیڈ پر بیٹھ گئ, چند لمحوں بعد سہام کی طرف کھسکی اور اس کے ساتھ جڑ کر اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا, لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر رینگتی سہام کی انگلیاں یکدم ساکت ہوئی تھیں
“کیا کر رہے ہیں ؟” اس نے پوچھا
“دو, تین یونیورسٹیوں کو میلز کی تھیں… ان کے آنسرز چیک کر رہا ہوں” وہ بولا
“سبھی نے اپروو کر دیا آپ کا سکالرشپ… ؟” وہ کوشش کے باوجود اسے “تم” نہ کہہ سکی
“دو طرف سے اپروو ہوا ہے” سہام نے کہا, ساریہ نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کے بازو پر رکھا, پھر ہولے ہولے اپنی انگلیاں اس کے بازو پر پھیرتے ہوئے اس کے ہاتھ کی پشت تک لے آئی
“کہاں جائیں گے ؟” اس کی انگلیوں نے دوبارہ سے اس کے بازو پر رینگنا شروع کر دیا اور رینگتے رینگتے اس کی شرٹ کے فرنٹ تک پہنچ گئیں
“آسٹریلیا… ” سہام کو اس کا لمس اپنے سینے پر بخوبی محسوس ہو رہا تھا, اس کے بدن سے اٹھتی مہک سہام کی سانسوں میں گھلتی جا رہی تھی, ساریہ کی انگلیوں نے دھیرے سے اس کی شرٹ کا پہلا بٹن کھولا… پھر دوسرا… تیسرا کھولنے لگی تو سہام نے اس کے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھ دیا
“یہ کیا کر رہی ہو تم ؟” اس نے گردن موڑ کر ساریہ کو دیکھا, ساریہ کا چہرہ اس کے لبوں سے بس ایک, دو انچ کی دوری پر ہی تھا
“میں شاید… آپ کو… Seduce کرنے کی کوشش کررہی ہوں” وہ بولی تو لب کپکپا گئے
“کس نے کہا ہے تم سے یہ سب کرنے کو ؟” سہام نے دھیرے سے لیپ ٹاپ بند کیا تھا
“کس کس نے نہیں کہا مجھ سے یہ سب کرنے کو سہام… ” نہ جانے کیوں اس کی آواز مدھم ہو گئی, اس کے ہاتھ پر رکھے سہام کے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی ہوئی تھی, ساریہ نے دھیرے سے اس کا تیسرا بٹن بھی کھول دیا
“امی اور تائی امی روز مجھ سے سوال کرتی ہیں, بابا اور تایا ابا کہتے کچھ نہیں لیکن جن نظروں سے دیکھتے ہیں وہ ناقابل برداشت ہیں میرے لئے… ہر دوسرے دن میری پیشی ہو جاتی ہے” وہ کہتی چلی گئی, سہام نے اس کی مخروطی ملائم انگلیاں اپنے سینے پر چلتی محسوس کی تھیں, پورے حق سے اس نے ساریہ کی کمر کے گرد بازو ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا, ساریہ کا چہرہ اس کے لبوں سے ٹکرایا تھا, دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں میں لگا کیچر کھینچ دیا, اس کے لمبے سیاہ بال کسی گھٹا کی صورت سہام پر برستے چلے گئے, ہاتھ مار کر اس نے لیپ ٹاپ ایک طرف کر دیا
“ساریہ اس لمحے میرے پاس تمہیں دینے کے لئے سواۓ وحشت کے اور کچھ نہیں ہے” سہام کی سانسیں اس کے چہرے کو جھلسانے لگیں
“چلیں آج وحشت ہی دے دیں… محبت جب ممکن ہو تب دے دینا” اس کے کہتے ہی سہام نے کسی صحرا کی طرح اسے لپیٹ میں لیا تھا, ساریہ اس کے بوجھ کے زیر اثر گرتی چلی گئی, سہام نے لائیٹ آف کی تھی
واس رات وحشت… اور محبت کا فرق اس کانچ نما لڑکی کو بس چند لمحوں میں ہی سمجھ آ گیا تھا, اس کے انتہائی شکستہ وجود کو اپنے بازوؤں کی قید سے رہا کرتے ہوئے سہام نے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تھی “ایم سوری… “
وہ بس آنکھیں بند کر کہ کروٹ بدل گئی تھی… پوری رات اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو تکیہ گیلا کرتے رہے
صبح وہ سہام سے پہلے اٹھ گئی, شاور لیا, بال سلجھاۓ اور دوپٹہ لیکر نیچے آ گئی, کچن میں ہلچل مچنا شروع ہو گئی تھی, سمعیہ دھڑا دھڑ پراٹھے اتار رہی تھیں
“کہاں رہ گئی سعدیہ… ؟” انہوں نے آواز دی
“لائیں تائی امی… میں رکھ آتی ہوں” اس نے پراٹھا ٹفن میں رکھ کر ٹفن اٹھا لیا, اس کے پلٹتے ہی سمعیہ اور فاطمہ نے اس کی پشت کی طرف دیکھا, کمر سے نیچے تک آتے اس کے سیاہ بالوں سے پانی کے قطرے گر رہے تھے, دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر سکھ کا سانس لیا تھا, ساریہ نے سب کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا
دن کے گیارہ بجنے والے تھے جب اسے سہام کی آواز سنائی دی
“ساریہ… ” وہ اسے بلا رہا تھا, ایک نظر سمعیہ کےطمئین چہرے پر ڈال کر وہ اوپر آ گئی, وہ ابھی تک کمبل تانے الٹا لیٹا تھا
“میرے کپڑے نکال دو, ریزرویشن کے لئے جانا ہے” اس نے یونہی لیٹے لیٹے کہا تھا, ساریہ سر ہلا کر الماری کی طرف آ گئی, پینٹ, شرٹ, کوٹ, ٹائی… سب کچھ نکال دیا, سہام بستر سے اٹھ گیا تھا
ٹراؤزر کے اوپر اس نے صرف بنیان پہن رکھا تھا, ساریہ نے س کی طرف دیکھنے سے گریز ہی کیا, چپ چاپ اس کی نئی شرٹ میں سے پنیں نکالتی رہی, وہ موبائل چارجنگ پر لگا کر صوفے کی طرف آیا اور تولیہ اٹھا لیا, تبھی نظر اس کی پشت پر پڑی تھی… کندھے پر ڈھلکتا آنچل اور کمر پر بکھرے بال جو اب تک گیلے تھے, وہ تولیہ کندھے پر ڈالتے ہوئے اس کی طرف آیا اور بڑے حق سے اپنے دونوں بازو اس کے گرد باندھتے ہوئے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھ دیا
“تم ٹھیک ہو” اس نے نرمی سےساریہ کی گردن کو اپنے لبوں سے چھوا تھا
“ٹھیک ہوں” وہ اچھی خاصی پزل ہو گئی, سہام نے ایک نظر اس کے کپکپاتے ہوۓ لبوں اور سرخ چہرے پر ڈالی تھی…پھر ایک کے بعد ایک لمس چھوڑتا چلا گیا
ساریہ کھڑی رہ گئی…ساکت…جامد
وہ لمس شاید ان دونوں کے بیچ بنے اس نئے رشتے کی پہلی شروعات تھے…
پہلی خوبصورت شروعات
اس کے کانوں میں مدھم سی سرگوشی گھولتا وہ واش روم میں گھس گیا تھا
“I am sorry for the last night… “
…………………….
