No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
وہ اس دن گھر آیا تھا, سبھی اسے دیکھ کر بہت خوش تھے
“ہاۓ اللہ… میرا سٹوڈنٹ سی ایس ایس آفیسر بن گیا” سعدیہ کی خوشی دیدنی تھی, ملاحم بس مسکرا کر رہ گیا, ساریہ اس کی آمد سے انجان نہیں تھی لیکن کمرے سے باہر نہیں نکلی, سعدیہ ہی چاۓ لیکر آئی
“یہ تمہارا بیٹا ہے… ” سمعیہ نے پوچھا, وہ بچہ بالکل اس کے ساتھ چپک کر بیٹھا تھا
“ہاں جی… ” ملاحم نے کپ اٹھا لیا
“اور اس کی ماں.. ؟” انہوں نے پھر پوچھا
“ماحن کی پیدائش پر اقراء کی ڈیتھ ہو گئی تھی آنٹی” وہ دھیرے سے بولا, سمعیہ کو حقیقتاً دکھ ہوا
“تو دوسری شادی کر لیتے… اتنا چھوٹا بچہ تو پالنا ہی بہت مشکل ہوتا ہے ” فاطمہ نے کہا
“بس آنٹی… دل نہیں مانا, میں خود ہی ماحن کی ماں اور باپ دونوں بن گیا” وہ دھیرے سے ہنسا تھا, فاطمہ چپ کر گئیں
“اب یہاں ڈیوٹی ہے ؟” سعدیہ نے پوچھا
“جی… دس دن پہلے پوسٹنگ ہوئی ہے, ابو کی ڈیتھ کے بعد گھر بالکل ہی بند ہو گیا تھا, اسے صاف کروایا ہے, فرنیچر سیٹ کروایا ہے, بس اب امید تو ہے کہ دو, تین سال یہیں رہوں گا” وہ کہتا چلا گیا, ماہر اور منسا باہر لان میں کھیل رہے تھے, سعدیہ ماحن کو بھی گود میں اٹھا کر ان کے پاس چھوڑ آئی
“ساریہ کہاں ہے آنٹی ؟” اس نے چاۓ ختم کر کہ پوچھ ہی لیا
“اوپر اپنے کمرے میں ہے” فاطمہ نے کہا
“میں مل لوں اسے ؟” وہ ہچکچایا
“ہاں بیٹا… جاؤ” فاطمہ نے کہا, وہ دھیرے سے سر ہلا کر اوپر آ گیا, اس کے کمرے کا دروازہ کھلا ہی تھا, ملاحم نے ہلکی سی دستک دی
“آجاؤ…” ساریہ کی آواز پر وہ اندر داخل ہوا, وہ اسے دیکھ کر چونک گئی, اٹھنے لگی تو اس نے روک دیا
“بیٹھی رہو ” وہ خود کرسی کھینچ کر اس کے بیڈ کے پاس ہی بیٹھ گیا
“کیسی ہو ساریہ… ؟”
“ٹھیک ہوں” وہ پوچھ نہ سکی کہ تم کیسے ہو
“یقین کرو مجھے زندگی میں کبھی اتنی خوشی محسوس نہیں ہوئی جتنی پرسوں تمہاری پکار سن کر ہوئی… میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا شہر مجھے واپسی کا اسقدر نایاب تحفہ دے گا” وہ کہتا چلا گیا, ساریہ سر جھکاۓ بیٹھی رہی
“سہام سے ملاقات ہوئی تھی پرسوں…اس نے بتایا کہ انشرہ بھی اس کے ساتھ ہی ہوتی ہے” وہ چپ چاپ سر جھکاۓ انگلی سے بیڈ کی چادر کھرچتی رہی
“میں تو کافی حیران ہوا تھا سن کر… کب واپس آئی وہ دبئی سے ؟” اس نے پوچھا
“دو ماہ بعد ہی آ گئی تھی … ” ساریہ کا حلق خشک ہوا تھا, سر مزید جھک گیا
“کیا… ؟” ملاحم کا چہرہ دیکھنے لائق تھا
“لیکن اس کی امی نے تو اسے… ” ساریہ نے اس کی بات کاٹ دی
“ملاحم وہ دونوں ہمیشہ سے ہر جگہ ساتھ رہے ہیں… سکول, کالج, ٹیوشن, کیریئر, ہاسپٹل, گھر, کمرہ…اور بستر… ” ساریہ کی آنکھوں کے گوشے نم ہوۓ تھے, ملاحم حق دق اسے دیکھتا رہ گیا
ایک تو ویسے ان دنوں ساریہ کی ذہنی حالت انتہائی نازک تھی اوپر سے ملاحم کی آمد نے جیسے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا
“ساریہ…” ملاحم ہر چیز سے بے پرواہ ہو کر کرسی سے اٹھا اور ساریہ کی گود میں دھرے اس کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے قریب بیٹھ گیا, پوری کوشش کے باوجود وہ خود پر قابو نہیں رکھ پائی, آنسو ٹوٹ کر گرے, گالوں پر سے ہوتے ہوئے ملاحم کے ہاتھ کی پشت پر آ گرے, وہ تڑپ گیا تھا
اصل تحفہ تو یہ تھا… شہر واپسی کا
وہ محبت جسے وہ پانچ سال پہلے مسکراتے ہوئے الوداع کہہ کر گیا تھا آج اس کی واپسی پر آنسوؤں سے رو رہی تھی… اور شائد جب سے وہ گیا تھا تب سے رو رہی تھی
“سہام نے انشرہ سے شادی کر لی تھی ” ساریہ کے کپکپاتے ہوۓ لبوں سے نکلا, ملاحم چند لمحے تو یونہی اس کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ دھرے بیٹھا رہا, دکھ شاید سہام کی دوسری شادی کرنے کا نہیں تھا بلکہ…
اس نے بہت نرمی سے اپنی انگلیوں کی پوروں سے ساریہ کا چہرہ اوپر اٹھایا, وہ آنسوؤں سے تر تھا
“اس نے انشرہ سے شادی کر لی… تمہارے ہوتے ہوئے… ؟”
…………………….
آخر کار انشرہ کی کوششیں رنگ لے آئیں, دبئی میں بیٹھے اس کے والد نے تو کب کا گرین سگنل دے دیا تھا بس طاہرہ بیگم ہی نخرے کئے جا رہی تھیں, جس دن انہوں نے ہاں کی… سمعیہ, فاطمہ, فرہاد اور مراد اسی دن جا کر شادی کی تاریخ لے آۓ, سمعیہ قطعی سہام اور انشرہ کی منگنی کے حق میں نہیں تھیں
“بھئی صاف بات ہے مجھے تو آپا کی زبان پر ذرا سا بھی اعتبار نہیں ہے, منگنی بھی کوئی رشتہ ہوتا ہے بھلا… ان کا کیا بھروسہ کہ کل وزیر اعظم کا رشتہ آ جاۓ اور وہ فٹ سے منگنی توڑ دیں… میں تو ڈائریکٹ شادی کروں گی” وہ اٹل تھیں, اس پر بھی طاہرہ بیگم اور سمعیہ میں ایک زور دار جنگ ہوئی
“اے لو… ایک ہی ایک میری بیٹی ہے اب میں اس کی بھی منگنی نہ کروں… ؟ میں تو دھوم دھام سے منگنی کروں گی اور پھر پورے ایک سال بعد شادی کروں گی” طاہرہ بیگم نے کہا
“میں تو آپ کو ایک دن کی مہلت نہ دوں آپا… آپ ایک سال کی بات کر رہی ہیں” سمعیہ نے کہا, وہ تو تو میں میں ہوئی کہ الامان الحفیظ… فرہاد صاحب کو آتے ہی پڑی
طے یہ ہوا کہ فی الحال منگنی ہو جاۓ…اور اگلے ہی مہینے شادی… مقصد دونوں خواتین کو شانت کروانا تھا, منگنی کا فنکشن ظاہر ہے اکٹھا ہی تھا, فرہاد صاحب نے ہال بک کروا لیا تھا, منگنی سے ایک دن پہلے اسے ملاحم کی کال آئی
“تم آؤ گے کل…؟” اس نے پوچھا, اسے گئے چار ماہ ہو گئے تھے, شدت سے دل کر رہا تھا اسے دیکھنے کو
“یقین کرو اتنا ٹف شیڈول ہے… میری تو نیند بھی پوری نہیں ہو پاتی, کبھی کبھی تو دل کرتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس آ جاؤں” ملاحم واقعی عاجز آیا پڑا تھا, ساریہ چپ سی ہو گئی
“ہے… کدھر گئیں ؟” وہ سمجھا شاید سگنلز کو کچھ ہوا ہے
“ملاحم… تم ایک دن کے لئے بھی نہیں آ سکتے ؟” اس کے لحجے میں شاید سب کچھ ہی سمو گیا تھا, ملاحم کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی, جس دن سے اس نے ساریہ کے سامنے اپنی محبت کا اقرار کیا تھا تب سے لیکر آج تک پہلی بار اسے ساریہ کے لحجے میں اتنی بے قراری محسوس ہوئی تھی
“کیسے آؤں ؟ میری جان وقت نہیں ہے” اس کے دل نے شدت سے اسے شرارت پر اکسایا حالانکہ اس کا بس چلتا تو اسی لمحے اڑ کر ساریہ کے روبرو ہو جاتا
“چلو ٹھیک ہے… ” انتہائی مدھم سی آواز میں کہہ کر ساریہ نے کال کاٹ دی اور ملاحم سعد نامی وہ انتہائی باوفا عاشق اسی رات سب کچھ چھوڑ چھاڑ لاہور واپس آ گیا
اگلے دن سہام کی منگنی تھی, بڑی بے دلی سے ساریہ نے کپڑے بدلے تھے, بڑی بے توجہی سے تیار ہوئی تھی, گیارہ بجے تک سب ہال پہنچ گئے, انشرہ نے گولڈن اور پرپل امتزاج کی میکسی پہنی ہوئی تھی… ساتھ گولڈن میک اپ اور جیولری, سہام نے نیوی بلو تھری پیس پہن رکھا تھا… صحیح معنوں میں چاند ستارے کی جوڑی تھی, طاہرہ بیگم انشرہ کی بلائیں اتار اتار کر ہلکان ہو رہی تھیں, فاطمہ اور سمعیہ انتہائی بے زاری سے ان کے ڈرامے دیکھ رہی تھیں, سعدیہ کا ڈیرھ سال کا بیٹا تھا, وہ اس کے پیچھے بھاگ بھاگ کر بے حال تھی, ہادیہ اور حاشر کے فوٹو شوٹس اور سیلفی سیشینز عروج پر تھے, وہ کچھ دیر تو انشرہ کے پاس بیٹھی رہی, پھر سٹیج سے اتر آئی, کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھی اور سر کرسی کی پشت سے لگا لیا, اس کا رخ آدھا پونا سا سٹیج کی طرف اور تھوڑا تھوڑا بیرونی دروازے کی طرف تھا, انشرہ اور سہام ایک ساتھ بیٹھے تھے, فوٹو گرافر دھڑا دھڑ تصویریں لے رہا تھا جب وہ ہال میں داخل ہوا, انتہائی بے تابی سے ادھر ادھر نظریں گھماتا ہوا وہ اسے کھوج رہا تھا… کھوجتے کھوجتے ایک دم رکا
وائیٹ کلر کی فیری فراک کے ساتھ نیٹ کا دوپٹہ کندھے پر ڈالے, لائیٹ سا میک اپ کئے, لبوں پر پنک لپ اسٹک سجاۓ وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی, لمبے سیاہ بال پشت پر سے ہوتے ہوئے نیچے لٹک رہے تھے, ایک ہاتھ سر کے نیچے ٹکایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں فون تھا, ملاحم کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی, ساریہ کا سوگوار سا حسن اس کے دل میں اترتا چلا گیا
وہ اس لمحے اتنی اداس تھی تو کیوں… ؟ صرف اس کے لئے
دھیرے سے وہ اس پشت کی طرف سے اس کی جانب بڑھا اور انتہائی نرمی سے اپنا ایک ہاتھ اس کی آنکھوں پر رکھ دیا
لمحہ بھر کے لئے ساریہ کی سانس رکی تھی, دل کی دھڑکن ایک دم خطرناک حد تک بڑھ گئی, بس چند پل… وہ ایک تڑپ کر اٹھی تھی, وہ عین اس کی نظروں کے سامنے تھا
فان تھری پیس میں ملبوس اسے دیکھتا ہوا دھیمے دھیمے مسکراتا سیدھا اس کے دل میں اتر رہا تھا
“تم مجھے یاد کر رہی تھیں نا… ؟” وہ اس کی طرف بڑھا, نہ جانے کیوں ساریہ کی آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے, حالانکہ اس لمحے اس کی انتہائی خوبصورت آنکھیں سورج کی چمک کو بھی مات دے رہی تھیں, اس کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ بہار رتوں کے جھونکوں سے زیادہ پر لطف تھی اور اس کے گالوں پر پھیلتی سرخی گلابوں کی سرخیوں سے کہیں زیادہ سرخ تھی
“تم تو کہہ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے” اس نے نظریں چراتے ہوئے شکوہ کیا
“میرا وقت اگر تمہارے لئے نہیں تو پھر بھاڑ میں گیا ساریہ مراد… ” وہ بولا, ساریہ نے مسکراتے ہوئے نظریں جھکا لیں
“بتایا کیوں نہیں کہ آ گئے ہو ؟” وہ خوش تھی… بے انتہا خوش
“اگر بتا دیتا تو اس لمحے تمہارے چہرے پر اپنی محبت کہ یہ ہزار رنگ کیسے دیکھتا ؟” ملاحم نے کہا, ساریہ جھینپ سی گئی, سہام نے ملاحم کی طرف ہاتھ ہلا کر آواز دی تھی, وہ ایک نظر ساریہ کو دیکھتا ہوا سٹیج کی طرف بڑھا
“سنو ملاحم… ” ساریہ نے دھیرے سے پکارا, وہ یکدم رک گیا
“I love you… “
…………………………….
ساریہ کو واپس آۓ ایک ماہ ہو چلا تھا, اسے تقریبا سبھی نے سمجھایا, ماں, باپ نے, ساس, سسر نے, سعدیہ نے, طاہرہ تو روز ہی اس کی برین واشنگ کر کہ جاتی تھیں, انشرہ البتہ اس کے بعد نہیں آئی, سہام نے شروع شروع میں بہت کوششیں کیں لیکن پھر جیسے اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیئے, طاہرہ بیگم کی طرف رکنا انشرہ اور سہام دونوں کو بہت مہنگا پڑتا تھا, مجبور ہو کر انہوں نے ایک باورچن اور ایک ملازمہ کا بندوبست کیا, سمعیہ کی انتہائی منت سماجت کر کہ سہام انہیں اپنے ساتھ لے گیا, ظاہر ہے وہ ڈیڑھ سالہ بچی ملازمہ کے رحم و کرم پر نہیں ڈالی جا سکتی تھی, دس, پندرہ دن بعد ہادیہ کے سمیسٹر ایگزامز ختم ہوۓ تو وہ بھی سمعیہ کے ساتھ چلی گئی, یعنی جیسے تیسے زندگی گزر ہی رہی تھی, پورا گھر حیران تھا کہ بڑی سے بڑی بات پر سمجھوتہ کر لینے والی ساریہ مراد کو آخر ہو کیا گیا تھا… وہ جو سوتن جیسا دکھ جھیل گئی تھی…وہ آخر شوہر کا غیر ذمہ دار کہہ دینا کیوں برداشت نہیں کر پا رہی تھی…؟ اس بار وہ واقعی چٹان بن گئی تھی, یونہی ایک مہینہ اور گزر گیا
اس دن بھی وہ اپنے کمرے میں تھی جب حاشر اسے بلانے آیا
“ساریہ آپی آپ کو ابو بلا رہے ہیں” وہ کھٹک گئی
“کون کون ہے وہاں ؟” اس نے پوچھا
“سہام بھائی آۓ ہوۓ ہیں” حاشر کہہ کر پلٹ گیا, وہ ایک لمبی سانس بھر کر اٹھی, مراد صاحب کے کمرے میں سعدیہ سمیت سبھی جمع تھے
“بیٹھو ساریہ… ” مراد صاحب نے سعدیہ کے پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا, وہ ایک نظر سہام کے پریشان سے چہرے پر ڈال کر چپ چاپ سعدیہ کے ساتھ بیٹھ گئی
“ساریہ… دیکھو بیٹے یہ مت سمجھنا کہ ہم تم پر کوئی زور زبردستی کر رہے ہیں, میاں بیوی میں جھگڑے ہو جاتے ہیں لیکن پھر صلح بھی ہو جاتی ہے, یہ گھر تمہارا میکہ بھی ہے اور سسرال بھی… جب تک دل کرے یہاں رہو لیکن بیٹے… شوہر سے ناراض ہو کر نہیں, اگر سہام نے تمہیں برا بھلا کہا ہے تو تمہاری اس درجہ ناراضگی جائز ہے, اگر گالی دی ہے تو بے شک تم اس کی شکل بھی مت دیکھو, اگر ہاتھ اٹھایا ہے تو اس کے منہ پر تھوک دینا حق ہے تمہارا لیکن… اگر صرف اس کے غیر ذمہ دار کہہ دینے کی وجہ سے تم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آ گئی ہو تو یہ غلط ہے بیٹا… وہ شوہر ہے تمہارا, تمہارے بچوں کا باپ ہے, صبح سے شام تک ہسپتال میں خوار ہوتا ہے تو کس لئے ؟ اپنی بیوی اور بچوں کے لئے, اگر کبھی غصے میں آ کر اس نے تمہیں غیر ذمہ دار کہہ بھی دیا تو… اگنور کر دو ساریہ, یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے” مراد صاحب کہتے چلے گئے
“آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بابا… پھر کیا ہوا جو سہام نے مجھے غیر ذمہ دار کہہ دیا, شوہر تو بیویوں کو اس سے بھی زیادہ کہہ جاتے ہیں, یہ کونسا اتنی بڑی بات ہے… ہے نا… اور یہ بھی کونسا اتنی بڑی بات تھی بابا کہ مجھے چار دن سے بخار تھا, اور یہ بھی اتنی بڑی بات نہیں تھی کہ گھر میں دو, دو ڈاکٹرز ہوتے ہوئے میرے پاس میڈیسن نہیں تھی کیونکہ وہ دونوں سارا دن میری خاطر ہسپتال میں ذلیل ہوتے ہیں تو شام کو گھر واپس آ کر مجھے چیک اپ کروانے کا وقت نہیں ہوتا ان کے پاس, چار دن سے میں اس بخار کے ساتھ صبح پانچ بجے اٹھ کر رات کو گیارہ بجے سو رہی تھی وہ بڑی بات نہیں تھی بابا لیکن اگر ایک دن میں اپنی طبیعت خرابی کی وجہ سے صبح جلدی نہیں اٹھ سکی تو یہ بہت بڑی بات تھی…” وہ کہتی چلی گئی
“زیادہ نہیں بابا… بس سہام سے اتنا پوچھ لیں کہ کیا انہیں پتہ تھا کہ مجھے چار دن سے بخار تھا ؟” ساریہ نے کہا, مراد صاحب نے فوراً سہام کی طرف دیکھا
“چاچو اس نے بتایا ہی نہیں کہ… ” سہام دھیرے سے بولا لیکن ساریہ نے اس کی بات کاٹ دی
“ہاں میں نے نہیں بتایا… میں کیوں بتاؤں کہ مجھے بخار ہے ؟ آپ میرے شوہر ہیں سہام, آپ کو کیوں نہیں پتہ کہ میری بیوی چار دن سے بخار میں پھنک رہی ہے, انشرہ آپ کو کتنی بار بول کر بتاتی ہے کہ اس کی طبیعت خراب ہے… اور جانتے ہیں میں نے کیوں نہیں بتایا ؟ کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ بتانے کا کوئی فائدہ نہیں, آپ گاڑی دروازے سے نکالتے ہوئے سرسری سا کہہ جائیں گے کہ لاؤنج کی دراز میں پینا ڈول پڑی ہے کھا لینا بس… پچھلے پانچ سالوں سے میں ہر بار وہاں سے پینا ڈول ہی اٹھا کر کھاتی ہوں… ایک دن کا بخار بگڑ کر ہفتوں پر محیط ہو جاتا ہے, کونسا یہ بڑی بات ہے کہ نہ جانے کتنی ہی بار میرا بخار بگڑ کر ٹائیفائیڈ بنا ہے, جب کہہ دوں کہ چیک اپ کروا لائیں تو میں یہ ہی سنتی ہوں کہ یار میں خود ڈاکٹر ہوں, ہسپتال جانے کی کیا ضرورت ہے, صبح میں خود میڈیسن لا دوں گا, پانچ سالوں میں وہ صبح کتنی بار آئی ہے سہام… میں خود ہی ڈھیٹ بن کر ٹھیک ہو جاتی ہوں, چلیں مان لیا… آپ مصروف ہوتے ہیں لیکن بقول آپ کے میں تو سارا دن فارغ ہوتی ہوں…اس کے باوجومیں کسی پرائیوٹ کلینک پر چیک اپ کروانے نہیں جا سکتی کیونکہ تین تین بچے سنبھالنے ہوتے ہیں میں نے… آپ کے لئے یہ کہہ دینا بڑی بات نہیں تھی سہام کہ میں آپ دونوں کو ہسپتال بھیج کر سارا دن فارغ ہی ہوتی ہوں لیکن میرے لئے ہے… اس کمرے میں آپ کی ماں بھی بیٹھی ہیں… پوچھیں ان سے کہ تایا ابا کے دوکان پر جانے کے بعد وہ لمبی تان کر سو جایا کرتی تھیں… سعدیہ آپی, آپ اور ہادیہ خود بخود ہی پل کر جوان ہو گیۓ ؟ پوچھیں سعدیہ آپی سے کہ حسن بھائی تو باہر ہوتے ہیں پھر پیچھے سے انہوں نے تو بہت مزے کئے ہوں گے, ان کے دونوں بچے بھی بس اللہ نے ہی پال دئے… ہے نا” وہ کہتی چلی گئی, سہام چپ تھا
“بابا بڑی بات یہ تھی کہ اس روز پانچ سالوں میں ایک دن سہام کو ناشتہ نہیں ملا, بڑی بات یہ تھی اس دن پانچ سالوں میں پہلی بار انشرہ کو ناشتہ بنانا پڑا… لیکن یہ بڑی بات نہیں تھی کہ پانچ سال ان دونوں میاں بیوی کے لئے ٹائم پر ناشتہ بنانے کے باوجود میں غیر ذمہ دار ہوں” وہ کہتی چلی گئی
“اچھا آئی ایم سوری ساریہ, مجھے غصہ آ گیا تھا, دیر ہو رہی تھی, مجھے واقعی نہیں پتہ تھا کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی, آئیندہ ایسا نہیں ہو گا…” سہام نے کہا
“مجھے آئیندہ سے کوئی سروکار نہیں ہے سہام… ماضی میں جو کچھ ہو چکا میرے لیے وہی بہت ہے” ساریہ نے کہا
“ایسا کیا ہو گیا ماضی میں تمہارے ساتھ ؟” سہام کی آواز تیز ہو گئی
“میرے ہوتے آپ نے انشرہ سے شادی کر لی تھی… ” وہ شاید اپنی پوری زندگی میں اتنا اونچا بولی تھی, ساتھ ہی گالوں پر آنسو لڑھک آۓ
“ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوۓ تھے میری اور آپ کی شادی کو اور آپ میرے اوپر سوتن لے آۓ تھے… سوتن بھی وہ جو آپ کی محبت تھی” وہ بولی, سہام چپ رہ گیا
“آخر کیوں کوئی میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا… ؟سہام, انشرہ اور مروہ… فیملی مکمل ہے, میں اور میرے دو بچے ان کی فیملی میں کہیں فٹ نہیں ہوتے, سہام آپ خدا کی قسم اٹھا کر کہیں کہ آج آپ کو میری ضرورت ایک بیوی کی حیثیت سے ہے… کہیں ؟” وہ بولی, سہام بول نہ سکا, سبھی خاموش تھے
“کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کو صرف میری ضرورت ایک کئیر ٹیکر کی حیثیت سے ہے, بیوی تو پہلے سے ہے آپ کے پاس… ہر طرح سے آپ کے معیار پر پورا اترتی ہے, آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلتی ہے, آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اچھی لگتی ہے, قسم کھا کر کہیں کہ ان گزرے دو ماہ میں آپ کو ایک بار بھی میری کمی محسوس ہوئی ہے… ایک بیوی کی حیثیت سے ؟” اس نے پوچھا
“ساریہ یار میری بات… ” لیکن ساریہ نے اس کی بات کاٹ دی
“نہیں… میں نے پوری زندگی ہمیشہ دوسروں کی ہی سنی ہے سہام… لیکن اب نہیں, میں نے پانچ سال ایک ان چاہے وجود کے طور پر گزارے ہیں اب اور نہیں… میری کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو, ہاں آپ کے گھر کو میری ضرورت ہے اور ایم سوری… میں اپنی باقی کی پوری زندگی ایک sophisticated maid کے طور پر نہیں گزار سکتی, اگر بابا کو لگتا ہے کہ میں اور میرے دو بچے ان پر بوجھ ہیں تو اٹس اوکے, I am M. Phil in English… میں اپنی آنے والی زندگی میں کچھ نہ کچھ تو ڈھنگ کا کر ہی لوں گی” وہ کہتی چلی گئی , فاطمہ کی آنکھیں بھر آئیں, مراد صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“مجھے اس گھر میں واپس نہیں جانا… That’s it”
…………………….
جاری ہے
