56.3K
11

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8


اس کے نکاح کے بعد نائلہ نے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا, ماریہ کو اندازہ تھا کہ وہ ایسا رد عمل ہی ظاہر کریں گی کیونکہ ان پر ان کے دوسرے شوہر کے بے حد احسانات تھے جنہیں وہ بھلا نہیں سکتی تھیں
نکاح کے بعد ماریہ نے ہسپتال کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا, ساس, سسر اور نندوں کے آگے زبان کو جو گرہ لگائی وہ تا عمر نہیں کھولی, اس کے پاس ان کی ہر بات کے جواب میں بس دو ہی الفاظ ہوتے تھے
“جی.. ٹھیک “
لیکن اسقدر تابعداری اور سعادت مندی کا اسے ذرا سا بھی صلہ نہ ملا, اسماء ملک کے لحجے میں ہمیشہ اس کے لئے نفرت ہی ہوتی, شعیب ملک تو خیر بلانا ہی گوارا نہیں کرتے تھے, رخسانہ ملک کے لئے بھی وہ انتہائی قابل نفرت تھی, اس گھر میں صرف ایک سائرہ تھی جو اس سے سیدھے منہ بات کرتی تھی لیکن رفتہ رفتہ اس کا رویہ بھی تبدیل ہوتاچلا گیا
ماریہ سمجھ نہ سکی کہ اسے آخر کیا ہوتا چلا گیا
وہ دن بدن اس سے دور ہوتی چلی گئی
کیا ہوا تھا سائرہ کو ؟ کیا ہوتا ہے ایک بیوی کو اپنے اوپر سوتن لا کر…؟
بس وہی ہو گیا تھا اسے
عورت چاہے کتنی بھی اعلی ظرف کیوں نہ ہو… سوتن برداشت نہیں کرتی, چاہے اسے وہ خود ہی کیوں نہ لائی ہو
ہر چیز برداشت ہو جاتی ہے… بس شوہر کا بٹوارہ برداشت نہیں ہوتا, اس کی محبت میں شراکت داری برداشت نہیں ہوتی… یہ ہی حال سائرہ کا ہوتا چلا گیا بعض اوقات تو وہ اسقدر روکھے لحجے میں ماریہ سے بات کرتی کہ وہ حیران ہی رہ جاتی تھی, اور پھر وہی ہوا جو اس سے سب نے کہا تھا
نائلہ نے
شایان نے
زخرف نے
وہ بس گھر کے ایک کونے تک محدود ہو کر رہ گئی, اگر اس گھر میں کوئی اس کا تھا تو وہ زضرف تھا, وہ بھی بس چند لمحوں کے لیے… ہفتے میں بس ایک آدھ بار ہی وہ اسے نصیب ہوتا تھا, اس دن بھی اس نے دودھ ابلنے کے لیے چولہے پر رکھا تو فون بج اٹھا, سائرہ اس کے برابر میں کھڑی اپنے لئے چائے بنا رہی تھی
“دیکھنا دودھ ابل نہ جائے…” وہ اسے کہہ کر باہر نکل آئی, دو منٹ بعد فون سن کر واپس کچن میں آئی تو دودھ ابل ابل کر کر پوری سلیب پر پھیل چکا تھا اور اسماء ملک آنکھوں میں قہر لیے کھڑی تھیں
” میں فون سننے گئی تھی اور سائرہ سے کہہ کر گئی تھی کہ دھیان رکھنا…” اس نے دھیرے سے کہا
” مجھ سے تو کچھ نہیں کہا تم نے… میں تو ابھی آئی ہوں ” سائرہ صاف مکر گئی, ماریہ دم بخود کھڑی رہ گئی, بات اتنی بڑی نہیں تھی لیکن اسماء کا ہاتھ اٹھ گیا, وہ لڑکھڑا کر سلیب پر گری اور اس کا سر الماری کے ابھرے ہوئے کونے میں لگا, بس ایک لمحے کے لیے سائرہ کا دل تڑپا تھا لیکن اگلے ہی پل وہ کچن سے باہر تھی, اسماء ملک نے قہر بار نظروں سے اسے گھورا
“میرا بس چلے تو لمحہ نہ لگاؤں تمہیں اس گھر سے نکالنے میں” وہ اسے گھورتے ہوۓ باہر نکل گئیں
اس نے چپ چاپ سلیب صاف کی, کچن صاف کیا اور اوپر اپنے کمرے میں آ گئی, زخم دھو کر سنی پلاسٹ لگایا اور کچھ دیر رو کر ماتم منایا, رات تک وہ اوپر ہی رہی, گھر والے ڈنر کر چکے تب نیچے اتری, وہ سب گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتی تھی, اسماء ملک کو نہ جانے کیسے پتہ چل گیا تھا کہ وہ نائلہ کے پہلے شوہر کی اولاد تھی سو اب تو ہر بات میں وہ اس کے باپ کو گھسیٹ لاتی تھیں, کھانے پر تو اکثر ہی بد مزگی ہونے لگی تھی, رات کے گیارہ بج رہے تھے جب وہ نیچے آئی, سنک گندے برتنوں سے بھرا پڑا تھا, پہلے اس نے سارے برتن دھوۓ, پھر اپنے لئے کھانا نکالا اور وہیں بیٹھ کر کھانے لگی, تبھی اسے زخرف کی گاڑی رکنے کی آواز آئی, اس سے پہلے کہ وہ منظر سے غائب ہوتی, وہ سیدھا کچن میں ہی چلا آیا
“یہ کونسے وقت کا کھانا کھا رہی ہو ؟” وہ فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوۓ بولا
“رات کا… آپ کھائیں گے؟” ماریہ نے کہا
“نہیں مجھے بس ایک کپ چاۓ پلا دینا” وہ کرسی کھینچ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا, ماریہ سر ہلاتے ہوئے کھڑی ہو گئی
“پہلے کھانا تو کھا لو… ” زخرف نے اس کا بازو پکڑا تھا, تبھی اس کی نظر ماریہ کے ماتھے کی طرف چلی گئی
“یہ کیا ہوا ہے ؟” وہ پریشان ہو گیا
“کچھ نہیں… بس چوٹ لگ گئی ہے” ماریہ نے سرسری سے لحجے میں کہا
“کیسے لگی چوٹ ؟” وہ بولا
“زخرف میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میرے ساتھ چاہے جیسا بھی سلوک ہو میں کبھی آپ سے شکوہ نہی کروں گی… اور جھوٹ میں بول نہیں سکتی سو خاموشی ہی بھلی ہے” وہ رسان سے بولتے ہوئے چاۓ بنانے لگ گئی, زخرف کچھ دیر تو اس کی پشت کی طرف دیکھتا رہا پھر دھیرےبسے اٹھا, اس کے قریب آیا, اپنے دونوں بازو اس کی کمر کے گرد ڈال کر اپنا چہرہ اس کے کندھے پر رکھ دیا
“ساس سے مار پڑی ہے ؟” اس کے لحجے میں شرارت تھی
“ہاں آپ کھل کہ ہنس لیں” ماریہ کی بات پر وہ واقعی ہنستا چلا گیا, کچن کے باہر سے گزرتی سائرہ نے ان دونوں کو بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھا تھا, ماریہ نے مسکراتے ہوئے اسے چاۓ کا کپ پکڑا دیا, وہ دونوں وہیں بیٹھے چاۓ پینے کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے رہے
“چلو آؤ… ” خالی کپ میز پر رکھتے ہوۓ زخرف نے اس ک ہاتھ پکڑا تھا
“کہاں ؟” وہ وہ بولی
“اوپر… اب امی کی غلطیوں کا کفارہ میں نہیں ادا کروں گا تو کون کرے گا” زخرف نے مسکراتے ہوئے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا تھا
“صبح اٹھ کر سائرہ مجھے قتل کر دے گی ڈاکٹر زخرف ملک… ” وہ ڈر رہی تھی
“صبح کی صبح دیکھی جاۓ گی, اتنا ڈر ڈر کر جیو گی تو زندی کیسے رہو گی ” زخرف اسے اپنے بازؤں کے حصار میں اوپر لے گیا تھا
…………
“اور سناؤ زخرف… سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے نا ؟” وقفے کے دوران وہ ڈاکٹر ولید کے آفس کی طرف آ گیا تھا
“کس حوالے سے پوچھ رہے ہیں سر ؟” زخرف سمجھ نہ سکا
“بھئی دو دو بیویوں کے نرغے میں رہتے ہو آجکل… کل پرزے ٹھیک ہی نا سارے ؟” انہوں نے کھل کر کہا, زخرف بس مسکرا کر رہ گیا
“بڑے عرصے سے ڈاکٹر ماریہ کا کوئی نیا انٹرویو نہیں آیا….؟” انہوں نے چاۓ کا سپ لیتے ہوئے پوچھا
“دراصل ماریہ نے ہسپتال چھوڑ دیا ہے… ” زخرف نے انہیں حیران کیا تھا
“کیا مطلب ؟” وہ سمجھ نہ سکے
“امی نے اس کے سامنے ایک شرط یہ بھی رکھی تھی کہ شادی کے بعد اسے اپنی پروفیشنل لائف بالکل ختم کرنی پڑے گی… اور اس نے کر دی” زخرف نے کہا
“تو اب کیا کرتی ہے ؟” وہ حیرانی کی ساتوی مںنزل پر تھے
“گھر پر ہوتی ہے… ساس سسر کے دل میں کوئی نرم گوشہ بنانے کی جدوجہد کرتی رہتی ہے” زخرف نے کہا
“یعنی صرف تمہاری خاطر اس نے اپنے خواب, اپنی اتنے سالوں کی محنت اور ہسپتال… سب قربان کر دیا ؟” وہ بولے
“اس کی چاہتوں اور محبتوں کی کوئی حد نہیں ہے ڈاکٹر ولید… میں تو مقروض ہوتا جا رہا ہوں اس کا” زخرف نے کہا, وہ بول نہ سکے, ان کی نظروں کے سامنے بڑا کچھ لہرایا تھا
“جانتے ہو زخرف… جب میں تمہاری عمر کا تھا تو مجھے بھی محبت ہوئی تھی…” وہ دھیرے سے بولے
“وہ میری کزن تھی, اس سے میری شادی بھی ہو گئی تھی لیکن… مجھے اپنے خواب پورے کرنے تھے, ہسپتال سیٹ کرنا تھا, نام کمانا تھا, شہرت حاصل کرنی تھی سو جب وہ مقام آیا جہاں مجھے اپنے خوابوں اور محبت میں سے کسی ایک کو چننا پڑا… تو میں نے خواب چن لیے….اور محبت ٹھکرا دی” وہ روانی سے اسے بتاتے چلے گئے , زخرف بس حیران س بیٹھا انہیں دیکھ رہا تھا
“ڈاکٹر عنبرین میری دوسری بیوی ہیں, تب مجھے لگا کہ میں نے بہت عقلمندی کا کام کیا ہے لیکن… میرے دل میں آج بھی کہیں کسک ہے کہ کاش میں تب محبت چن لیتا, ڈاکٹر ماریہ مجھ سے زیادہ بہادر نکلی, اسقدر دولت, شہرت, عزت, نیک نامی اور اسقدر شاندار ہسپتال کو ایک دم ٹھوکر مار کر محبت کو چن لینا آسان نہیں ہوتا… ” وہ بولے
“اس کی محبت کا ہمیشہ بہت احترام کرنا زخرف… کیونکہ محبت بس ایک بار ملتی ہے… کھو جاۓ تو پھر ایڑھیاں رگڑنے پر بھی نہیں ملتی” زخرف نے دھیرے سے سر ہلا دیا
ماریہ کی محبت کا اسیر تو وہ نہ جانے کب سے ہو چکا تھا
………
اس دن وہ ذرا جلدی گھر آ گیا, گاڑی کھڑی کر کہ اندر آیا تو ایک شور عظیم برپا تھا, نہ جانے کیا بات ہوئی تھی, سائرہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی, اسماء اور رخسانہ دونوں فل سپیڈ زبان چلاتے ہوئے کچن کے دروازے میں سر جھکاۓ کھڑی ماریہ کے چھکے چھڑوا ۓ جا رہی تھیں, ناعمہ اور مومنہ بڑے مزے سے تماشہ دیکھنے میں مگن تھیں, شعیب ملک بھی خاموش بیٹھے تھے
“کیا ہو گیا ؟” وہ تیزی سے اس کی طرف آیا
“زخرف میں نے کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس جیسی ناہنجار اس گھر میں آ جاۓ گی جس کے نہ آگے کا پتہ نہ پیچھے کا… نہ جانے کس کا خون ہے ؟” زخرف کو ان کا یوں کہنا بالکل اچھا نہیں لگا, پورے خاندان کے سامنے نہ جانے وہ کب سے اسے بے عزت کر رہی تھیں
“جاؤ اوپر… ” زخرف نے اسے ہاتھ پکڑ کر اوپر کی طرف دھکیلا تھا, وہ نم آنکھوں اور ستے ہوۓ چہرے کے ساتھ اوپر چلی گئی
“بس کریں امی… ” اس نے بمشکل اسماء کو خاموش کروایا تھا, رات کو وہ سائرہ سے شکوہ کئے بنا رہ نہیں سکا
“تم خود لیکر آئی تھیں نا اسے اس گھر میں… اپنی مرضی سے, تو پھر اب مسئلہ کیا ہے ؟” وہ بولا
“وہ تمہیں مجھ سے چھین رہی ہے زخرف… ” سائرہ ایک دم چیخ پڑی, زخرف نے تاسف سے اسے دیکھا تھا
“تم دور ہو رہے ہو مجھ سے… وہ اپنا بنا رہی ہے تمہیں اور تم… تم اس کے ہوتے جا رہے ہو ” وہ رو پڑی
“میں اس کا نہ ہو کر کیسے رہوں سائرہ ؟” زخرف زچ ہو گیا
“کہا تھا نا میں نے کہ مجھے تقسیم ہوتا نہیں دیکھ پاؤ گی تم… ؟” زخرف آس کے آنسو دیکھ کر تڑپ گیا تھا
اور یہ تو بس شروعات تھیں
……………..
وہ اس دن بھی رات گئے گھر آیا, ماریہ نیچے صوفے پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی, وہ گاڑی کھڑی کر کہ اند آیا تو اسے جاگتے دیکھ کر کافی حیران ہوا
“اب تک جاگ رہی ہو…؟” زخرف نے پوچھا
“ادھر آئیں ؟” ماریہ نے اپنے ساتھ صوفے کی طرف اشارہ کیا تھا , زخرف سر ہلاتے ہوئے اس کے پہلو میں گر گیا
“ایک خوشخبری سنانی تھی آپ کو ؟” ماریہ نے دھیرے سے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا
“میں Expected ہوں… ” اس نے دھیرے سے کہا تھا, زخرف کئی لمحوں تک تو مارے خوشی کے بول نہ سکا, پھر بڑے دل سے مسکراتے ہوئے اسے گلے لگایا اور اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے
“تم نے میری ساری تھکن اتار دی ماریہ… سب بہت خوش ہوں گے یہ خبر سن کر, امی ابو کو کب سے اس خوشخبری کا انتظار تھا, سائرہ کو بتایا ؟” زخرف واقعی بہت خوش تھا
“نہیں… اسے آپ خود بتائیے گا” ماریہ نے کہا
“اچھا اب اس خوشی میں ایک کپ چاۓ تو پلا دو” زخرف نے فرمائش کی تھی, وہ کچھ ہی دیر میں چاۓ بنا لائی, زخرف کپ خالی کرتے ہوئے وہیں صوفے پر ہی سیدھا ہو گیا
“یہاں کیوں لیٹ رہے ہیں… ؟ اوپر چلے جائیں” ماریہ نے کہا, اس نے جواباً مسکراتے ہوئے اس کے طرف ہاتھ بڑھا دیا جسے ماریہ نے دھیرے سے تھام لیا, زخرف نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا, وہ اس کے سینے پر گر سی گئی
“آپ کو تو کوئی کچھ نہیں کہے گا لیکن میرا ریکارڈ لگ جاۓ گا ڈاکٹر صاحب… ” ماریہ نے کہا, زخرف نے بنا کچھ کہے اس کے بالوں میں لگا کیچر کھینچ دیا, اس کے دونوں بازو ماریہ کے گرد ایک مضبوط سا حصار بنا گئے
“میں ہمیشہ تمہاری محبت کا قرضدار رہوں گا ماریہ… ” وہ اس کی خوشبو سے مخمور ہوتا, اس کے چہرے پر اپنے ہونٹ ثبت کرتا جا رہا تھا
“یہ قرض نہیں ہے زخرف… یہ آپ کا حق ہے” ماریہ نے دھیرے سے کہتے ہوئے اپنا آپ اس کے حوالے کیا تھا
لیکن… ماریہ کی پریگنینسی بھی اسے اس کا حق نہیں دلوا سکی تھی
…………..
وہ زخرف کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی جب سایرہ کچن میں داخل ہوئی, کچھ دیر بغور اس کے چہرے کی طرف دیکھتی رہی پھر آگے کو آئی
“تو آخر تمہیں بھی مزے اڑانے آ ہی گئے ؟” سائرہ کا لحجہ انتہائی سخت تھا
“پچھلے چار ہفتوں بعد کل رات صرف چار گھنٹوں کے لئے بیٹھا تھا وہ میرے پاس ؟” ماریہ نے کہہ ہی دیا
“اور تم نے ان چار گھنٹوں میں ہی کسر پوری کر لی ؟” سائرہ کو آگ لگی ہوئی تھی
“ہو کیا گیا ہے تمہیں ؟ اتنی پوزیسسو کیوں ہوتی جا رہی ہو ؟” ماریہ کو اس کا لحجہ اچھا نہیں لگا
“وہ شوہر ہے میرا… اس کے لئے پوزیسسو ہونا میرا حق ہے” سائرہ پھٹ پڑی
“تو اس حساب سے تو وہ میرا بھی شوہر ہے, اس کے ساتھ چار گھنٹے گزارنا میرا بھی حق ہے” ماریہ کا لحجہ سائرہ کو سلگا گیا
“اپنی اوقات میں رہو تم… صرف میرے کہنے پر زخرف نے تم سے شادی کی ہے…. اور میرے کہنے پر تمہیں چھوڑ بھی سکتا ہے” ماریہ اد کی بات سن کر دم بخود رہ گئی تھی
دن بدن سائرہ انسیکیور ہوتی جا رہی تھی, ماریہ ویسی ہی تھی… پہلے دن جیسی, سائرہ کے لئے اس کی احسانمندی اور تشکر میں کوئی کمی نہیں آئی تھی
زخرف بھی ویسا ہی تھا, پہلے دن جیسا, اس کا سارا وقت اب بھی سائرہ کے لئے ہی تھا, اس کی زیادہ تر توجہ اب بھی سائرہ کے حصے میں ہی تھی لیکن… وہ اپنی جگہ درست تھا
ماریہ آخر کو بیوی تھی اس کی… چاہے دوسری ہی سہی, پورا حق تھا زخرف کا اس پر… وہ کیسے نہ اس کا ہو پاتا ؟ اور بیوی بھی کارڈیالوجسٹ ماریہ خان… جس کی ذات میں ڈھونڈے سے بھی کوئی کھوٹ نہیں ملتا تھا, جس کی ذات سے زخرف کو ہمیشہ محبت ہی ملتی تھی, پریگنینسی کے بعد زخرف کی توجہ جیسے ہی ماریہ کے لئے ذرا زیادہ ہوئی, سائرہ کو اس سے اتنی ہی نفرت ہوتی چلی گئی
اس دن بھی نہ جانے بات کہاں سے شروع ہوئی تھی لیکن ختم ہوئی ماریہ کے خون پر…
“کسی کھرے انسان کا خون ہوتیں تو یوں میرے حق پر ڈاکہ نہ ڈال رہی ہوتیں… نہ جانے کس کا گندا خون ہو تم ؟” سائرہ کی زبان آگ اگل رہی تھی
“بس… اب تم میرے بابا کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہو گی” ماریہ کی آواز اونچی ہو گئی
“ورنہ کیا کر لو گی تم… ہاں… کیا کر لو گی… ہو کون تم…؟ گھٹیا نسل, گھٹیا خون” سائرہ ایک دم چیخی تھی
“سائرہ… ” شائد پہلی بار ماریہ کی آواز اونچی ہوئی تھی اور سائرہ کا ہاتھ اس کا گال رنگ گیا تھا, ماریہ لڑکھڑا کر صوفے پر گر گئی, زخرف نے بڑے تاسف سے سائرہ کی طرف دیکھا
“اسلئے لائی تھیں تم اسے اس گھر میں… ؟ ” وہ بولا
“زخرف مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی جو اسے یہاں لے آئی… خدا کا واسطہ ہے تمہیں میری اس غلطی کو سدھار دو, اسے چھوڑ دو زخرف ورنہ میں گھٹ گھٹ کر مر جاؤں گی” ماریہ بس پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی
“تمہارے خیال سے یہ بچوں کا کھیل ہے سائرہ… جب تم نے کہا اسے اپنا لو تو اپنا لیا اور جب تم نے کہا کہ چھوڑ دو تو چھوڑ دیا” زخرف تپ گیا
“دیکھا, ہو گئے نا تم بیگانے زخرف… ہو گئے نا مجھ سے دور…. اس نے چھین لیا ہے تمہیں مجھ سے” سائرہ چیخ رہی تھی
“یار کچھ نہیں ہوا ہے… میں کل بھی تمہارا تھا… آج بھی تمہارا ہوں اور ہمیشہ تمہارا ہی رہوں گا” زخرف نے بمشکل اسے چپ کروایا تھا
…………….
وہ اس دن ہاسپٹل میں تھا جب اسے ماریہ کی کال آئی
“زخرف پلیز میری مدد کریں… میں بہت تکلیف میں ہوں” اسے ماریہ کی انتہائی تکلیف دہ آواز سنائی دی تھی
“کیا ہوا ؟” وہ یکدم بوکھلا گیا
“لیبر پین… ” ماریہ سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا
“میں آ رہا ہوں” وہ اسی وقت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گھر آ گیا, گیراج میں شعیب ملک کی گاڑی کھڑی دیکھ کر وہ حیران رہ گیا, گھر پر ہونے کے باوجود وہ اسے ہسپتال نہیں لیکر گئے تھے, زخرف اسے اٹھا کر انتہائی مان اور بھروسے کے ساتھ شایان کے ہسپتال لے آیا, سایرہ وہیں تھی, ماریہ کا سٹریچر آئی سی یو میں چھوڑتے ہوئے وہ بھاگتا ہوا اس کے آفس کی طرف آ گیا
“چلو اٹھو, اپنے بچے کو خود اس دنیا میں لیکر آؤ” اس نے بڑے منں سے سائرہ کا بازو پکڑا تھا جسے اس نے ایک لمحے میں جھٹک دیا
“میں کم از کم اس خود غرض عورت کی اولد کو اس دنیا میں نہیں لا سکتی… ” سائرہ کے لحجے میں فقط نفرت تھی
“سائرہ… ” زخرف دم بخود رہ گیا
“تم ایک مسیحا ہو… اپنی نفرت میں اسقدر اندھی نہ بنو” وہ بولا
“زخرف… پلیز… جاؤ یہاں سے” وہ تنفر سے کہتی ہوئی اپنی فائلوں پر جھک گئی, زخرف نے بڑے تاسف سے سے دیکھا تھا
“آج پہلی بار افسوس ہوا ہے مجھے کہ میں نے تم سے محبت کی تھی ” وہ اسی وقت ماریہ کو لیکر وہاں سے چلا گیا, شایان نے اسے ہر ممکن روکنے کی کوشش کی لیکن…
“زخرف رکو تو سہی… میں ڈاکٹر فوزیہ سے کہتا ہوں وہ کر دیتی ہیں ماریہ کی ڈلیوری” شایان نے کہا
“نہیں شایان… یہ بے شک راستے میں مر جاۓ لیکن اسے یہاں نہیں رہنے دوں گا میں ” وہ ماریہ کو لیکر شفاء ہسپتال آ گیا, تاخیر کے باعث اس کی حالت کافی بگڑ گئی تھی, خدا نے اسے بیٹے کی نعمت سے نوازا تھا, پورا ایک ہفتہ وہ ہسپتال میں رہی, اس دوران کوئی بھی اسے دیکھنے نہیں آیا, نہ زخرف کے گھر والوں میں سے… اور نہ ماریہ کے گھر والوں میں سے حالانکہ زخرف نے خود نائلہ کو کال کر کہ نانی بن جانے کی خوشخبری سنائی تھی
صرف شایان اسے دیکھنے آیا… روز… لگاتار
“آج مجھ پر تمہارے ان گنت احسانوں میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا ہے ماریہ…. ” زخرف نے اس کی پیشانی چومی تھی, اس کا نڈھال وجود اپنے سینے سے لگایا تھا
“آپ خوش ہیں زخرف… ؟” ماریہ نے پوچھا
“کاش تم میرے دل میں جھانک سکتیں… ” وہ اپنے بیٹے کے دونوں پاؤں چوم رہا تھا
…………………