56.3K
11

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5


سہام اور انشرہ کی منگنی پورا ایک ماہ رہی اور اس ایک ماہ میں ان دونوں کا وہ دھواں دھار عشق چلا کہ کیا کہیں… سہام ان دنوں ہاؤس جاب کر کہ فارغ تھا اور ایم او شپ کر رہا تھا, انشرہ بھی ہاؤس جاب کر کہ آ چکی تھی سو فارغ تھی, سہام کی گاڑی ہوتی اور گاڑی میں وہ دونوں… شادی سے پہلے ہی ہنی مون کی ساری کسر پوری ہو گئی تھی, سمعیہ نے تو گن گن کر دن گزارے اور جیسے ہی مہینہ پورا ہوا, شادی کی تاریخ طے کر دی, اس بار طاہرہ بیگم کا واویلا کسی کھاتے میں نہیں تھا, گھر میں گہما گہمی سی مچ گئی, روز بازار کے چکر لگتے, ہال بک کروا لیا گیا, سہام کی شاندار سی بری تیار ہوئی, طاہرہ بیگم بھی کسی سے کم نہیں تھیں, انشرہ کا فرنیچر دیکھنے لائق تھا
اس دن بھی انشرہ پارلر سے آئی تھی, پرسوں اس کی مہندی تھی, طاہرہ بیگم اسے بازو سے کھینچ کر اندر لے گئیں اور دروازے کی کنڈی لگا دی
“کیا ہو گیا امی ؟” وہ حیرانی سے بولی
“میری بات سن… دھیان سے, تیرے ابو کی کال آئی تھی, انہوں نے دبئی میں ایک رشتہ دیکھا ہے تیرے لئے ” طاہرہ بیگم نے اس کے سر پر بم پھوڑا
“امی… ” وہ مارے صدمے کے کچھ بول نہ سکی
“میری بات سمجھ انشرہ… کیا ہے سہام کے پاس سواۓ ایک ڈاکٹری کی ڈگری کے, کل کلاں کو کتنا کما لے گا ؟ میں تو سہام سے تیری شادی کرنے پر راضی ہی نہیں تھی, بھائیوں نے مجبور کر دیا” وہ کہتی چلی گئیں
“امی, کوئی خدا کا خوف کریں, آپ کو اس وقت یہ سب یاد آ رہا ہے, پرسوں مہندی ہے میری” وہ چیخ پڑی
“آہستہ بول, بات سن میری, میں نے تیرے باپ کو انکار نہیں کیا ہے ابھی, وہ تھوری دیر تک کال کر کہ فائنل بتائیں گے, اگر مجھے رشتہ اچھا لگا تو چپ چاپ میری ہاں میں ہاں ملاۓ گی تو, سمجھی” وہ بولیں
“اور آپ کے بھائی… انہیں کیا کہیں گی؟” اس نے پوچھا
“انکار کر دوں گی اور کیا… سمعیہ ویسے بھی آجکل کچھ زیادہ ہی اونچا اڑنے لگی تھی” طاہرہ بیگم ہنسیں
“امی, یہ ساری بکواس اپنے دماغ سے نکال دیں, میں نے سہام سے ہی شادی کرنی ہے” انشرہ کو غصہ آ گیا
“چپ کر, بڑی آئی سہام کی دیوانی… ” طاہرہ بیگم نے اس کے ایک لگائی
“ساری عمر ان دونوں بہنوں نے میرے اوپر راج کیا ہے, میں تو مراد اور فاطمہ کی شادی کے حق میں بھی نہیں تھی لیکن مراد اڑ گیا, دونوں بہنیں مزے سے پورے گھر پر قبضہ جما کر بیٹھ گئیں, سینے پر سانپ لوٹتے ہیں میرے جب دھڑا دھڑ دوکان کے پیسے پر عیش کرتی ہیں… ” طاہرہ بیگم شعلے اگل رہی تھیں
“تو آپ نے کونسا عیش نہیں کی امی, ان سے زیادہ بڑا گھر ہے آپ کا, ان سے زیادہ ریل پیل ہے پیسے کی, ان سے زیادہ بڑی گاڑی ہے آپ کے پاس… بس کریں امی, اب آپ فاطمہ اور سمعیہ کا بدلہ مجھ سے اور سہام سے تو نہ لیں” انشرہ نے کہا
“پرے ہو… خاک ہے میری پاس, جب شوہر ہی پاس نہیں تو فائدہ.. چار, چار سال بعد چکر لگاتا تھا تیرا باپ بس مہینے دو مہینے کے لئے… اور وہ دونوں بہنیں شوہروں کے دلوں پر راج کرتی تھیں” ساری جلن ہی یہ تھی
“امی بس کریں… پرسوں میری مہندی ہے, ڈرامے نہ کریں” وہ تنگ آ کر اٹھ کھڑی ہوئی لیکن طاہرہ بیگم ٹھان چکی تھیں, سمعیہ سے تو انہیں خدا واسطے کا بیر تھا, ان سے ضد لگا کر وہ فاطمہ کو اس گھر میں لے آئی تھیں, ہمیشہ ان کے بھائیوں نے طاہرہ کی شعلہ اگلتی زبان کے آگے بیویوں کا ساتھ دیا, بس یہ ہی کسک تھی, اب بھی بس سمعیہ کو نیچا دکھانا تھا, وہ اگر بیٹے کی ضد کے ہاتھوں مجبور تھی تو اس بیٹے کو مہرہ بنا کر ہی اسے ہرانا تھا, رات کو وہ پھر انشرہ کے کمرے میں چلی آئیں
وہی رٹ… دبئی کا رشتہ… کروڑ پتی لوگ… اکلوتا لڑکا
انشرہ فٹ فٹ اوپر اچھل رہی تھی, انتہائی مارے باندھے وہ مہندی میں شامل ہوئیں, ان کا چہرہ سوجا پڑا تھا
باقی سب خوش تھے… سب سے زیادہ انشرہ
ملاحم نے کل پہنچنا تھا, فنکشن ختم ہوتے ہوتے رات کے بارہ بج گئے, انشرہ سونے لگی تھی جب طاہرہ بیگم اسے کے کمرے میں آئیں
“امی… آپ کچھ نہیں کہیں گی” وہ انگلی اٹھا کر بولی
“ہاں… بالکل صحیح, اب بس میں کر گزروں گی”
……………………..
وہ کچن میں تھی جب اس کا سیل بجا, وہ دودھ کے نیچے آنچ مدھم کر کہ باہر نکلی اور ماہر کے ہاتھوں سے موبائل لے لیا
“ہیلو… کون ؟” نمبر انجان تھا
“کیسی ہو ؟” وہی مانوس سی, ملیح سی آواز
“ٹھیک ہوں” وہ دھیمے سے بولی
“میں اور ماحن فن لینڈ جا رہے ہیں, چلو گی ؟” اس نے پوچھا
“میرا دل نہیں کر رہا ملاحم” وہ بیزاریت سے بولی, ملاحم دھیرے سے مسکرا دیا, گزرے پانچ سالوں میں وہ اس کی بات رد کرنا بھی سیکھ گئی تھی
“میرے کہنے پر بھی نہیں چلو گی ؟” یہ اس کا آخری پتا تھا
ملاحم… ” وہ بے بس سی ہو گئی
“بچوں کی آؤٹنگ ہو جاۓ گی ساریہ, سعدیہ آپی کے بچوں کو بھی لے چلتے ہیں” ملاحم نے اس کی مشکل آسان کی
“آ جاؤ پھر… ” وہ بادل نخواستہ بولی تھی
“بس دس منٹ… ” اور واقعی دس منٹ بعد وہ اس کے گھر کے سامنے تھا, وہاں پہنچ کر اسے ساریہ کے دائیں بائیں صرف چار عدد بچے ہی نہیں ہادیہ اور حاشر بھی کھڑے نظر آ گئے
“ہاۓ ملاحم بھائی… ہم بھی تو دیکھیں کہ جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھنا کیسا لگتا ہے” وہ دونوں بچوں سے پہلے اندر تھے, ساریہ کے لئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ مسکرا دیا, ماحن اس کی گود میں ہی بیٹھا تھا
“اسے مجھے دے دو, ڈرائیو کیسے کرو گے ؟” ساریہ نے اسے گاڑی سٹارٹ کرتے دیکھا تو پوچھا
“میں پچھلے تین سال سے ایسے ہی گاڑی چلا رہا ہوں” اس نے ماحن کے دونوں ننھے ننھے ہاتھ سٹیرنگ پر رکھے تھے, ساریہ نے سر جھکا لیا
وہاں پہنچ کر بچے ہادیہ اور حاشر کے ذمے تھے… ظاہر ہے اب ان کے آنے کا کوئی تو مصرف ہوتا… ماحن اور ماہر تو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کرن ارجن بن چکے تھے, منسا ہادیہ کی گود میں تھے, سعدیہ کے دونوں بیٹے خود کو کسی باس سے کم نہیں سمجھ رہے تھے, آدھا پونا گھنٹہ بچوں کے پیچھے پھرنے کے بعد ساریہ ایک بینچ پر بیٹھ گئی
“یہ لو… ” ملاحم سب کو آئس کریم دے کر آیا تھا
“ملاحم… مجھے سچ میں نہیں کھانی” وہ بولی
“کیوں…؟
“It’s your favorite flavor, I remember “
“پانچ سال کافی ہوتے ہیں بندے کی پسند ناپسند بدلنے میں” ساریہ نے کہا
“آئس کریم کا فلیور بھی ؟” وہ اچنبھے سے بولا, ساریہ نے جھلا کر اس کی طرف دیکھا, اس نے ایک بار پھر کپ ساریہ کی طرف بڑھا دیا, ساریہ نے بادل نخواستہ کپ اس کے ہاتھوں سے لے لیا
“ساریہ… ” وہ اس کے برابر بیٹھتے ہوئے دھیرے سے بولا
“ایک بات پوچھوں ؟” ساریہ نے اثبات میں سر ہلا دیا
“مجھے کیوں نہیں بتایا ؟” ملاحم نے پوچھا
“کیا ؟”
“سہام اور انشرہ کی شادی کا…”
“سہام نے صرف اس سے شادی کی تھی ملاحم… مجھے طلاق نہیں دی تھی” ساریہ حد سے زیادہ تلخ ہو چکی تھی
“اور اگر بالفرض دے بھی دیتا… تب بھی میں تمہیں کیوں بتاتی ؟… اور بتا کر کیا کہتی… ؟ کہ ملاحم سعد اب واپس آ جاؤ… اور آ کر اپنا لو مجھے, اب آ جاؤ کہ مجھ سے جس جس کی جو جو غرض منسوب تھی وہ پوری ہو گئی, باپ اور تایا کا سر اونچا ہو گیا, ماں اور تائی کا مان پورا ہو گیا, انشرہ کے جانے سے سہام کی زندگی میں جو کمی آ گئی تھی وہ پوری ہو گئی…” وہ کہتی چلی گئی
“ہاں تو کہہ دیتیں… یہ ہی سب کہنا تھا ساریہ, بس اتنا ہی تو کہنا تھا کہ ملاحم سعد اب واپس آ جاؤ” اس کے نزدیک سب کتنا آسان تھا, ساریہ پھیکا سا مسکرا دی
“میں آج بھی اس کی بیوی ہوں ملاحم… اس کے دو بچوں کی ماں” ساریہ نے کہا
“تو پھر ہنستی کیوں نہیں ہو ساریہ مراد… مجھے ایک ماہ ہو چلا ہے واپس آۓ اور اس ایک ماہ میں بھول کر بھی تمہارے لبوں پر مسکراہٹ نہیں دیکھی, اس کی بیوی ہو تو بیویوں والا سکھ کیوں نہیں ہے تمہارے چہرے پر… ؟ دو بچوں کی ماں ہو تو ماؤں والا غرور کہاں ہے تمہارا ؟ ” وہ کہتا چلا گیا, ساریہ خاموش تھی… بالکل خاموش
“یاد کرو ساریہ… کیا وعدہ لیا تھا میں نے تم سے… ؟ ” اس نے پوچھا
“رشتوں کو معتبر کرتے کرتے مجھے بھلے ہی بھلا دینا ساریہ مراد لیکن خود کو نہیں… کبھی بھی نہیں” ساریہ کو یاد تھا
“تو پھر… کہاں گیا وہ وعدہ ؟” ملاحم مسلسل اسے دیکھ رہا تھا, ساریہ نے آئس کریم کا کپ بنچ پر رکھا اور کھڑی ہو گئی, ملاحم نے دیکھا تو آئس پگھل کر پانی بن چکی تھی, اس نے ایک چمچ بھی نہیں کھایا تھا
“رشتوں کو معتبر کرتے کرتے انہی میں کہیں ختم ہو گیا”
……………………
صبح تقریباً چھ بجے وقت تھا جب انشرہ کے کمرے کا دروازہ بجا, وہ بیچاری رات بارہ بجے کی سوئی اتنی صبح کیسے اٹھ جاتی… اٹھتے اٹھتے بھی دس, پندرہ منٹ لگ گئے
دروازہ کھولا تو سامنے طاہرہ بیگم کھڑی تھیں
“کب سے دروازہ بجا رہی ہوں… بہری ہے کیا؟” وہ تڑخ کر بولیں
“کیا ہو گیا ؟” انشرہ کو نیند چڑھی پڑی تھی
“چل میرے ساتھ… تیرے ابو آ رہے ہیں دبئی سے, انہیں لینے جانا ہے” طاہرہ بیگم نے اس کا ہاتھ پکڑا
“ابو… اس وقت… انہوں نے تو آنا ہی نہیں تھا” انشرہ طاہرہ بیگم کے ساتھ ساتھ گھسیٹتی جا رہی تھی
“اب آ رہے ہیں تو کیا روک دوں… چل انہیں لیکر آئیں ائیر پورٹ سے” گاڑی دروازے پر تیار کھڑی تھی
“لیکن امی… اتنی ایمرجنسی میں… سب ٹھیک تو ہے” انشرہ کو طاہرہ بیگم کی بات قطعی ہضم نہیں ہو رہی تھی
“انشرہ… چپ کر جا” طاہرہ کو اس پر رات سے شدید غصہ تھا, وہ بادل نخواستہ چپ ہو گئی
“امی… ” کچھ دیر بعد اس نے دوبارہ انہیں پکارا
“کیا ہے اب ؟” وہ اسے پھاڑ کھانے کو دوڑیں
“امی پلیز… یہ آپ کا کوئی نیا ڈرامہ تو نہیں ہے نا… ؟” اس نے کہا
“انشرہ… میں تیری ماں ہوں سمجھی…. دشمن نہیں ہوں” وہ تاسف سے بولیں, انشرہ بس انہیں دیکھ کر رہ گئی, ائیر پورٹ آ گیا تھا, گاڑی سے نیچے اترتے ہی طاہرہ بیگم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا, اس کا موبائل بھی کمرے میں ہی پڑا رہ گیا تھا, وہ اسے ساتھ لئے اندر چلی گئیں
“امی وزیٹنگ ایریا تو پیچھے ہے… ابو یہاں سے گزریں گے” اس نے کہا لیکن طاہرہ بیگم اس کی سنی ان سنی کرتی چلی گئیں, کچھ ہی لمحوں بعد انشرہ کو ادراک ہو گیا کہ کچھ تو غلط تھا
“امی… ” وہ ایک دم رک گئی
“ابو نہیں آ رہے نا… ؟” وہ چیخی
“نہیں… تو دبئی جا رہی یے” طاہرہ بیگم نے زبردستی اسے سیکیورٹی سیکشن میں دھکیل دیا, ہر جگہ وہ اس کا سایہ بنی ہوئی تھیں
“امی کوئی خدا کا خوف کریں, کوئی ماں ایسا کرتی ہے بھلا, آج میری بارات ہے, امی آپ کو اپنے بھائیوں کی عزت کا بھی کوئی احساس نہیں ہے” انشرہ ان کے ہاتھ کی گرفت سے اپنی کلائی چھڑوا نہیں پا رہی تھی
“چپ کر جا… بھائیوں نے ساری عمر مجھے جتنی عزت دی ہے وہ بھی مجھے پتہ ہے” طاہرہ نے کہا
“امی… ” انشرہ رو پڑی
“میں اور سہام ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں پلیز… امی” اس کے آنسوؤں کا بھی کوئی اثر نہ تھا
فلائیٹ ٹیک آف کے لئے بالکل تیار تھی, طاہرہ بیگم رات ہی اس کی ریزرویشن کروا چکی تھیں
“امی… ” وہ مسلسل رو رہی تھی
“چلی جا… ” طاہرہ بیگم پتھر ہو گئیں, ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے جہاز میں گھسا کر آتیں, فلائیٹ ٹیک آف کی آخری اناؤنسمنٹ ہوئی تھی, طاہرہ بیگم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اندر جانے کا کہا تھا, وہ مسلسل روتی ہوئی آگے بڑھ گئی, جب تک جہاز اڑ نہیں گیا طاہرہ بیگم وہیں رکی رہیں, جب نظروں سے اوجھل ہو گیا تو شوہر کو کال ملائی
“وہ آ رہی ہے انشرہ کے ابو… وہ جہاز سے اترتے ہی ادھر ادھر بھاگنے کی کوشش کرے گی, بس اسے قابو کر لینا, کم از کم دو ماہ وہ واپس نہ آۓ, چاہے لے جا کر گھر میں کہیں بند کر دیں, دھیان رکھنا” وہ واپسی کے لئے مڑ گئیں, وقفے وقفے سے شوہر کو کال کرتی رہیں, ایک دفعہ وہ صحیح سلامت دبئی اپنے باپ کے ہاتھوں تک پہنچ جاتی تو وہ جا کر بھائیوں کے سر پر بم پھوڑتیں
تقریباً نو بجے انہیں ایاز صاحب کی کال آ گئی, انہوں نے انشرہ کو ریسیو کر لیا تھا
“طاہرہ وہ مسلسل رو رہی ہے… ” وہ آخر کو باپ تھے
“رونے دیں… خود ہی چپ کر جاۓ گی” طاہرہ بیگم پتھر ہو گئیں
“اگر یہ تماشا نہ بھی ہوتا تو کیا تھا طاہرہ… بھائیوں سے اتنی ہی پرکاش تھی تو انشرہ کا رشتہ ہی نہ دیتیں, اور اگر دے دیا تھا تو اپنا ظرف بڑا کر لیتیں ” ایاز صاحب نے تاسف سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی تھی, طاہرہ بیگم اسی وقت بھائیوں کے گھر آ گئیں, وہاں ناشتے کا سیشن چل رہا تھا
سبھی خوش تھے… بہت خوش
“آئیں پھپھو… ناشتہ کر لیں” سب سے پہلے سہام کی نظر ان پر پڑی
“فرہاد, تیرے سے ایک ضروری بات کرنی ہے” ان کا لحجہ سب کو چونکا گیا
“کہیں آپا… ؟” فرہاد صاحب کھڑے ہو گئے
“الگ ہو کر میرے بات سن لے” طاہرہ بیگم نے کہا
“آپا اگر کوئی خیر کی خبر ہے تو اکیلے میں سن لیتا ہوں لیکن… اگر کوئی قیامت لانی ہے تو یہیں لے آئیں ” وہ آخر کو سگے بھائی تھے ان کے, طاہرہ بیگم نے ایک لمبا سانس بھرا
“پرسوں انشرہ کے ابو کی کال آئی تھی… انہوں نے انشرہ کا رشتہ دبئی اپنے ایک دوست کے بیٹے سے طے کر دیا ہے اور انشرہ آج صبح دبئی چلی گئی ہے” وہ قیامت لے ہی آئیں, فرہاد صاحب نے ایک دم آنکھیں بند کی تھیں
“کیا مطلب…. ایسے کیسے وہ دبئی چلی گئی پھپھو… رات تک تو بہت خوش تھی” سہام کو یقین نہیں آ رہا تھا
“اچھا تو اب کیا باپ کا کہا ٹال دیتی… ؟ اور تجھ سے رشتہ ہی تو طے ہوا تھا اس کا, کونسا نکاح ہو گیا تھا ” طاہرہ نے کہا
“میں خود ایاز سے بات کرتا ہوں, ایسے کیسے اس نے بارات سے تین دن پہلے رشتہ توڑ دیا” مراد صاحب ایک دم اٹھے
“کر لو بھئ… کرو” طاہرہ کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ گئیں, مراد صاحب تب کے ایاز کو کالز کرنا شروع ہوۓ, دن کے بارہ بج گئے لیکن انہوں نے کال ریسیو نہیں کی… واٹس ایپ آف لائن, ایمو آف لائن
“بس کریں مراد… اتنا تو پتہ چل ہی گیا ہے کہ ملی بھگت ہے” فاطمہ نے ان کے کان میں سرگوشی کی تھی, فرہاد صاحب ہاتھوں میں سر گراۓ ہوۓ تھے
“آپا یہ اچھا نہیں کیا آپ نے ؟” سمعیہ کی بس ہوئی تھی
“اے لو…میں نے کیا کیا ہے؟ انشرہ کے باپ کی مرضی, اس کا خون ہے, اس کی اولاد, وہ جو چاہے فیصلہ لے” طاہرہ بیگم نے ہاتھ نچایا
“آپا… ” فریاد صاحب ان کے قدموں میں آ کر بیٹھ گئے
“کس چیز کا بدلہ لے رہی ہیں آپ ہم سے ؟ سہام کی بارات ہے آج, اکلوتا بیٹا ہے وہ میرا, پورے شہر کو کارڈ بانٹے ہیں, پورے محلے کو پتہ ہے, سارے رشتے دار آۓ بیٹھے ہیں, کچھ تو خیال کریں” فریاد صاحب کہتے چلے گئے, طاہرہ بیگم کے روم روم میں سکون اترا تھا… ہاں یہ ہی تو چاہتی تھیں وہ…
“آپا اگر میری کوئی بات بری لگی ہے تو میں معافی مانگتی ہوں آپ سے, یوں نہ کریں, مجھے پتہ ہے آپ نے انشرہ کو کہیں نہیں بھیجا, پلیز آپا, اسے بلائیں ” سمعیہ رو پڑیں
“میں جا رہی ہوں فرہاد… میری زبان پہ تو اعتبار ہی نہیں ہے تم لوگوں کو” وہ ہاتھ جھاڑ کر چل دیں, لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی, سمعیہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا, بارہ بج رہے تھے, ہال کی بکنگ بارہ سے چار بجے کی تھی
“فرہاد… مہمان ہال جانا شروع ہو گئے ہوں گے” انہوں نے دھیرے سے کہا
“کیا کروں میں ؟” وہ ڈھے سے گئے, سہام دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا ھا
“کس کس کو انکار کروں ؟ کس کس کو کہوں کہ واپس چلے جاؤ… کس کس کا سامنا کروں ؟” وہ ٹوٹتے جا رہے تھے, سعدیہ نے انہیں تھام رکھا تھا, سمعیہ دھیرے سے اٹھیں, فاطمہ اور مراد کی طرف آئیں, اپنا دوپٹہ پکڑا اور جھولی بنا کر فاطمہ کے آگے پھیلا دیا, مراد صاحب حق دق رہ گئے
“فاطمہ… میری عزت, میرے شوہر کی عزت… میرے جوان بیٹے کی عزت” وہ رو پڑیں تھیں, فاطمہ ایک دم تڑپ گئیں, سہام ابھی تک بت بنا کھڑا تھا
بس لمحہ لگا تھا, فاطمہ نے خود سے سات, آٹھ قدم پر کھڑی ساریہ کا بازو پکڑا اور سمعیہ کے آگے کر دیا
“آپ کی عزت… میری عزت” انہوں نے سمعیہ کو گلے سے لگایا لیا, ساریہ بس دم بخود کھڑی تھی
یہ کیا… یہ کیا ہوا ؟
تبھی اس کے ہاتھ میں پکڑا موبائل وائبریٹ ہوا, اس نے دھیرے سے سکرین کی طرف دیکھا, ملاحم کا ٹیکسٹ تھا
“I’ll be close to my heart in five minutes “
“(پانچ منٹ میں میں اپنے دل کے پاس ہوں گا)