No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
اس دن طاہرہ بیگم انشرہ کو ساتھ لیکر آئی تھیں
“مشکل وقت میں گدھے کو بھی باپ بنا لیا کرتے ہیں کم عقل لڑکی, چل اس سے معافی مانگ… وہ تو نعمت ہے تیرے لئے انشرہ… دیکھ کیسے تتر بتر ہو گئے ہو تم لوگ اس کے بغیر, ارے ملازمہ یا آیا تیری بچی کو ویسے تھوڑی نا سنبھالیں گی جیسے وہ سنبھال رہی ہے, اچھی بھلی وہ سب کچھ کرے جا رہی تھی نہ جانے کیا کہہ دیا ہے تم دونوں نے اسے, چل چل کہ اس سے معافی مانگ… ” وہ اسے زبردستی کھینچ لائیں, ساریہ ٹی وی لاؤنج میں تھی
“ساریہ بچے… یہ دیکھ میں اسے لے آئی, یہ معافی مانگے گی تجھ سے ” طاہرہ بیگم پھولی پھولی سانسوں سے بولیں
“پھپھو پلیز… مجھ سے کوئی معافی نہ مانگے” وہ اٹھنے لگی تھی جب انشرہ نے اسے روکا
“دیکھو ساریہ… قسم سے میں نے آج تک یہ ہی کوشش کی ہے کہ میری ذات سے تمہیں کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچے, میں تمہارا احسان مانتی ہوں یار… مجھے پتہ ہے تم اپنے دو بچوں کے ساتھ مروہ کو کتنی مشکل سے مینیج کرتی ہو گی, پلیز ساریہ… ایم سوری, جانے انجانے میری جو بھی بات بری لگی ہے اس کے لئے سوری” انشرہ اتنی بری بھی نہیں تھی… یہ سچ تھا کہ گزرے سالوں میں اس کا اور ساریہ کا ایک بھی جھگڑا نہیں ہوا تھا لیکن… کچھ تو تھا جو ساریہ پتھر ہو گئی تھی
“انشرہ… پلیز, جب تم نے کچھ کہا ہے نہیں تو معافی کس چیز کی… ؟” وہ بولی
“اے ساریہ بس کر اب… چھور دے ضد” طاہرہ بیگم نے کہا
“پھپھو مجھے بس اتنا بتا دیں کہ اگر آج آپ کی بیٹی کی کوئی سوتن نہ ہوتی تو یہ اکیلی کیسے مینیج کرتی ؟” ساریہ تڑخ گئی, طاہرہ بیگم بول نہ سکیں
“چلو تم بتاؤ… ایک لمحے کے لئے فرض کرو کہ میں تم دونوں کے بیچ ہوں ہی نہیں…بس تم, سہام اور مروہ, پھر کیا کرتیں تم…؟ کسے اپنے ساتھ رکھتیں ؟ ” ساریہ کہتی چلی گئ, انشرہ فوراً سے بول نہ سکی, سعدیہ اور فاطمہ دونوں چپ چاپ تماشہ دیکھ رہی تھیں
“انشرہ میں اگر پچھلے تین سالوں سے اپنی سوتن اور اس کی بچی کو مینیج کر رہی ہوں تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ میں بےوقوف ہوں… ” وہ ذرا سا رکی
“خدا تم دونوں میاں بیوی کی زندگیاں آسان کرے… بس اتنا کر سکتی ہوں میں تمہارے لئے “
…………………………
طاہرہ بیگم سے بات کرنا کونسا آسان تھا… سمعیہ اور فرہاد دونوں گئے… انشرہ گھر آئی ہوئی تھی
“آپا… ہم دونوں سہام کے لئے انشرہ کا ہاتھ مانگنے آۓ ہیں” فرہاد صاحب نے مدعا بیان کر دیا, کچن میں چاۓ بناتی انشرہ کا دل زور سے اچھلا تھا… کھلکھلایا بھی تھا… خوش بھی ہوا تھا
“ارے… اتنی جلدی کیا پڑی ہے تم دونوں کو… اس لڑکے کو کچھ بن تو جانے دو” طاہرہ بیگم نے کہا
“یہ آخری سال ہے اس کا آپا… بس اب ہاؤس جاب کرے گا, ڈاکٹر تو بن گیا ہے ماشاءاللہ ” فرہاد نے کہا
“کماتا تو نہیں ہے نا ابھی… ؟” طاہرہ نے کہا
“نوکریاں کونسا پلیٹ میں رکھ کر ملتی ہیں آپا…ادھر ادھر کوشش کرے گا, ہاتھ پاؤں مارے گا تو مل جاۓ گی, تب تک پرائیوٹ کلینک کر لے گا” فرہاد کہتے چلے گئے
“اور بیوی کو کہاں سے کھلاۓ گا… ؟ اس کے خرچے کہاں سے پورے کرے گا ؟” سمعیہ کی بس ہو گئ
“خد اکا خوف کریں آپا… آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے انشرہ کے منہ میں نوالہ تب جاۓ گا جب سہام کماۓ گا, اللہ خیر رکھے جہاں سب کھا رہے ہیں, انشرہ بھی کھاۓ گی, جیسا سب پہن رہے ہیں یسا انشرہ بھی پہنے گی” سمعیہ نے کہا
“اچھا… میں انشرہ کے ابو سے بات کر کہ پھر بتاؤں گی” انہوں نے ناک پر سے مکھی اڑائی, وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر رہ گئے
“گھر آتے ہی سہام ان کے پیچھے پڑ گیا
“کیا کہا پھپھو نے… ؟”
“وہ محترمہ تو یوں کر رہی ہیں جیسے ان کی بیٹی یہاں آ کر بھوکی مر جاۓ گی…توبہ توبہ سگے بھائی کی زبان پر بھروسہ نہیں ہے اسے, بندہ اس سے پوچھے کہ اب تک کہ سارے فیصلے بھی تم نے انشرہ کے ابو سے پوچھ کر ہی کئیے ہوں گے ” سمعیہ ستی پڑی تھیں, سہام چپ ہو گیا
وقت گواہ ہے کہ وہ دونوں میاں بیوی چھ بار طاہرہ بیگم کے گھر گئے, سہام کی ہاؤس جاب شروع ہو کر ختم بھی ہو گئی…انشرہ بھی ہاؤس جاب کر کہ آ گئ لیکن بڑی بی نے ہاتھ نہ پکڑایا
ہر بار کوئی نا کوئی بہانہ… کوئی نہ کوئی اعتراض
سہام بھی ضد ڈال کر بیٹھ گیا
“سہام… ایسے دال نہیں گلے گی, انشرہ کو قائل کر, اسے کہہ کہ اپنی اماں کو مناۓ, اسی کی سنیں گی وہ” سعدیہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی
لیکن انشرہ تو پہلے سے قائل تھی… کیا کمی تھی بلا سہام میں… ؟ بالکل پرفیکٹ تھا, چلو ان دونوں کے بیچ کوئی دھواں دھار محبت نہ سہی لیکن پسندیدگی تو تھی, ویسے بھی اس گھر میں انشرہ سب کی فیورٹ تھی
انشرہ نے ٹھان ہی لی
“امی… مجھے سہام سے شادی کرنی ہے”
…………………………..
وہ اس دن دونوں بچوں کے کپڑے خریدنے مارکیٹ آئی تھی, فاطمہ بھی ساتھ تھیں, مال میں داخل ہوتے ہی فاطمہ تو گروسری سیکشن کی طرف چلی گئیں اور وہ بوتیک کی طرف آ گئی, اچانک مال کے دروازے پر شور سا مچا, گارڈز میں کھلبلی سی مچ گئی
“کیا ہوا بھائی ؟” وہ پریشان سی ہو کر باہر نکلی تھی
“کچھ نہیں باجی… اے سی صاحب وزٹ پر ہیں ” دوکاندار نے کہا اور ساتھ ہی اس نے ایک بلیک گاڑی مال کے دروازے پر رکتے دیکھی, فرنٹ سیٹ سے گارڈ نیچے اترا اور بیک ڈور کھولا, اے سی صاحب نفس نفیس تشریف لاۓ تھے, ساریہ ایک لمحے کے لئے جامد رہ گئی, وہ لوگوں کے بیچ سے راستہ بناتا ہوا اندر داخل ہوا, داہنے ہاتھ میں اس نے ایک تین سالہ بچے کی انگلی تھام رکھی تھی, ادھر ادھر نظریں دوڑاتا ہوا وہ اس کے قریب سے گزرا
“آواز دو… ” دل نے کہا
“آواز نہ دینا… پانچ سال بیت گئے ہیں… اسے تم یاد بھی نہیں ہو گی” دماغ نے کہا
“ساریہ… آواز دو” دل مچلے جا رہا تھا
“مت دینا… وہ سنے گا ہی نہیں “
“جلدی… آواز دو” دل جیسے سینے سے باہر آنے لگا تھا, وہ اس کے پاس سے گزر کر دو قدم آگے بڑھا
“ملاحم سعد… ” اس نے آواز دی تھی اور… وہ بالکل پانچ سال پہلے کی طرح ایک دم رک گیا
پلٹنے میں چند ثانئے لگے, آنکھوں میں وہ چمک ابھری کہ سورج حیران… لبوں پر وہ مسکان پھیلی کہ غنچے حیران, چہرہ جیسے قوس قزح ہو گیا
“ساریہ… “
…………………………
وہ چھت پر تھی, کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ آسمان پر قبضہ کرتے ہوئے گہرے سیاہ بادل دیکھ رہی تھی, گھٹائیں چڑھتی آ رہی تھیں, ہواؤں کے جھونکے جھکڑ بنتے جا رہے تھے
“ساریہ… نیچے آ جا” فاطمہ نے آواز لگائی, ملاحم سہام سے ملنے آیا تھا, واپسی کے لئے جانے لگا تو اس کا پوچھ لیا, بی ایس ختم ہونے کے بعد ملاقاتیں شاذو نادر ہی ہوتی تھیں
“ساریہ کہاں ہے آنٹی ؟”
“اوپر ہے… دس دفعہ کہہ چکی ہوں کہ نیچے آ جا” فاطمہ چیزیں سمیٹ رہی تھیں
“میں مل لوں اس سے… ؟”
“ہاں ہاں… اسے نیچے ہی لے آنا” فاطمہ نے کہا, سر ہلاتا ہوا وہ سیڑھیاں چڑھ گیا, ہ دنیا و مافیہا سے بے خبر کرسی کی پشت پر سر رکھے, ٹانگیں سامنے میز پر دھرے, آنکھیں بند کئے ہوٍۓ تھی, ملاحم نے دھیرے سے دیوار سے ٹیک لگائی
اسے یوں دیکھنا ہی کتنا خوبصورت تھا, وہ اسے گھنٹوں یونہی کھڑے ہوۓ دیکھ سکتا تھا… پہروں یونہی ایستادہ رہ سکتا تھا
چپ چاپ دیوار کے ساتھ کھڑا وہ اسے دیکھتا رہا… بوندیں گری تھیں, اس نے ایک دم آنکھیں کھولیں, اسے سامنے دیکھ کر چونکی اور ایک دم کھڑی ہو گئی
“تم کب آۓ ؟” اس نے ادھر ادھر لہراتا ہوا دوپٹہ قابو کیا تھا
“تم نے آنکھیں کیوں کھولیں ؟” کمال کا جواب تھا, ساریہ جھینپ گئی
“میں کل اسلام آباد جا رہا ہوں… تم سے ملنے آیا تھا ” ملاحم نے کہا, اس نے سی ایس ایس کی تیاری شروع کر دی تھی, ساریہ نے سر جھکا لیا
“تم میرے ساتھ کیوں نہیں چلتیں… دونوں مل کر سی ایس ایس کرتے ہیں” ملاحم نے کہا
“ملاحم… میں تمہارے کہنے پر آنکھیں بند کر کہ کسی آتش فشاں میں کود سکتی ہوں لیکن پلیز… میں سی ایس ایس نہیں کر سکتی, تمہارے کہنے پر بھی نہیں” ساریہ کے انداز پر وہ بے ساختہ مسکرا دیا
“چلو تم PPSC دے لینا… تمہاری پرسنیلٹی کو ایک انگریزی معلم بننا بہت سوٹ کرے گا” وہ ہنس دیا تھا, ساریہ نے بھی مسکراتے ہوئے سر جھکا لیا, اس نے ایم فل میں داخلہ لے لیا تھا
“ساریہ… میں سوچ رہا تھا کہ جانے سے پہلے اگر ہم دونوں کی انگیجمنٹ ہو جاتی تو… ” وہ ذر سا رکا, ساریہ ہلکا سا سرخ ہوئی تھی
“اتنی جلدی کیا ہے ” وہ بولی
“یار مجھے سہام کی طرف سے شک رہتا ہے, وہ تمہارا کزن ہے, ڈاکٹر ہے, ڈیشنگ بھی ہے… تمہارے ابو کہیں تمہیں اس کے حوالے نہ کر دیں” اس لمحے ملاحم کے لحجے میں واقعی ایک انسیکیور عاشق بول رہا تھا, ساریہ کھلکھلا کر ہنس پڑی
“اچھا… تو ملاحم سعد کو رقابت محسوس ہو رہی ہے” وہ بولی
“نہیں یار… بس اندیشہ ہے” وہ جھینپ گیا
“تمہارے اس اندیشے کی میں ضمانت دیتی ہوں, سہام میری طرف نہیں آۓ گا, اس کی نظریں کہیں اور ہی ہیں” وہ بولی, ملاحم پہلے تو ٹھٹھکا, پھر سمجھ گیا اور دھیرے سے سر ہلاتے ہوئے مسکرا دیا
“چکر لگایا کرو گے ؟” ساریہ نے کچھ دیر بعد پوچھا
“میرا دل رہتا ہے یہاں… کیسے نہیں آؤں گا ” وہ دو قدم اس کی طرف آیا تھا , ساریہ کے بال دوپٹے سے نکل کر ادھر ادھر لہرانے لگے تھے… بوندیں تواتر سے گرنے لگی تھیں, وہ اس کے صبیح چہرے پر گرتی بوندیں دیکھتا رہ گیا
ایک پھُٰول تھا… گلابی پھول
اور اس پر قطرے تھے… شفاف قطرے
بے خود ہو کر وہ اس کی طرف بڑھا, ساریہ کے لب کپکپاۓ تھے, بے اختیار وہ پیچھے دیوار سے لگ گئی, ملاحم نے وہ فاصلہ دو قدموں میں ختم کیا تھا
وہ گلابی پھول عین اس کی نظروں کے سامنے تھا, اس کی انگلیوں کی دسترس میں تھا
دھیرے سے اپنی انگلی سے اس نے ساریہ کے چہرے پر اڑتی لٹ کو اس کے کان کے پیچھے اڑسا تھا, ساریہ کے گال سرخ ہوۓ تھے
گلابی پھول سرخ پڑتا جا رہا تھا, ملاحم کی انگلی نے اس کے کان کی لو سے گال تک کا سفر طے کی تھا, پھر ساریہ کی ٹھوری تک پہنچی تھی, ساریہ کا چہرہ جھکتا جا رہا تھا, ملاحم نے اپنا دوسرا ہاتھ دیوار پر ٹکایا, دھیرے سے اس کے چہرے پر جھکا
بوچھاڑ تیز ہوئی تھی, ہوا کا جھونکا آیا تھا
ملاحم کی انگلی نے اس کا چہرہ اوپر اٹھا یا تھا
سرخ گلاب… بوندوں سے دھلا, نکھرا سا, سہما سا… شرمایا سا…گھبرایا سا
“I love you… my heart…”
…………………………..
وہ دونوں بچے سلا چکی تھی جب سعدیہ اس کے کمرے میں آئی
“میری بھی سننی ہے یا نہیں… ؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“آپ کی کب نہیں سنی سعدیہ آپی ” وہ بیڈ سے اتر آئی
“آؤ باہر چلتے ہیں” سعدیہ اسے لیکر باہر لان میں آ گئی, ساریہ کرسی پر بیٹھ گئی
ساریہ میں تمہارے ساتھ ہوں… گزرے ہر پل میں بھی تھی… اور آنے والے ہر ایک لمحے میں بھی ہوں, تم مجھے اتنی ہی عزیز ہو جتنی ہادیہ… شاید اس سے بھی زیادہ, وہ میری اتنی نہیں سنتی جتنی تم سنتی ہو… نہ میں یہ پوچھوں گی کہ کیا ہوا… ؟ اور نہ یہ کہ کیسے ہوا… ؟ بس یہ کہ اب کیا کرو گی؟” سعدیہ نے کہا
“آپ یہ سوال مجھ سے بہت جلدی نہیں پوچھ رہیں سعدیہ آپی… ؟” ساریہ نے کہا
“پندرہ دن ہو گئے ہیں… “
“میں اپنے پانچ سالوں کا زیاں صرف پندرہ دنوں میں کیسے بھول جاؤں ؟” وہ بولی
“کونسا زیاں ؟” سعدیہ نے پوچھا
“میری زندگی کا, میرے دل کا, میری خوشیوں کا, میرے جذبات کا, میرے صبر کا اور… شاید میری محبت کا” اخیر میں اس کا لحجہ دھیما ہو گیا
“تمہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ملا… ؟” اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“مجھے بس ایک شوہر ملا… تقریباً دو ماہ کے لئے بس, وہ دو ماہ کافی خوشنما ہیں لیکن اتنے بھی نہیں کہ ان کے صدقے پورے پانچ سال بھول جاؤں” ساریہ نے کہا
“تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ساریہ مراد اس بار اپنا وہ ظرف اونچا نہیں کرے گی جو وہ ہر بار سر جھکا کر کرتی رہی ہے ؟” سعدیہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے پوچھا تھا
“نہیں… اس بار نہیں”
…………………………
