56.3K
11

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1


دروازہ بڑی زور سے دھڑکا تھا, اس نے بمشکل اپنی نیند بھری آنکھیں کھولیں, بخار کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آنکھوں کے پپوٹے بھی دکھ رہے تھے, پوری کوشش کے باوجود وہ ایک دم اٹھ نہ سکی, اس کے پہلو میں دائیں طرف لیٹی تین سالہ منسا مسلسل رو رہی تھی, بائیں طرف لیٹا چار سالہ ماہر بھی اٹھ گیا تھا اور مسلسل ریں ریں کر رہا تھا
دروازہ پھر سے دھڑ دھڑایا گیا تھا
“ساریہ… دروازہ کھولو, باہر نکلو” سہام کی غصے سے چنگھاڑتی ہوئی آواز نے اس کے حواس جھنجھوڑے تھے, وہ ایک دم کمبل ہٹاتے ہوئے بستر سے اتری, مسلسل روتی ہوئی منسا کو گود میں اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھی, پورا بدن بخار میں پھنک رہا تھا, دو, تین قدم اٹھاتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا, دھڑام سے فرش پر گری, قالین کی وجہ سے تھوڑی بچت ہو گئ تھی, منسا کا باجا اور اونچا ہو گیا, بمشکل اس نے دروازہ کھولا
“ساریہ یہ کوئی ٹائم ہے اٹھنے کا, پتہ بھی ہے تمہیں کہ میں نے آٹھ بجے ہاسپٹل پہنچنا ہوتا ہے, نہ کپڑے استری کئے ہوئے ہیں, نہ ناشتا بنایا ہے… ” سہام ایک دم اس پر برس پڑا, ساریہ نے دھیرے سے اپنی آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا تھا, ماہر بھی ریں ریں کرتا ہوا اس کی ٹانگوں سے آ کر چپک گیا تھا
“ساریہ یار پکڑو اسے… پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے اسے, اس کا پیمپر بھی چینج کروا دینا اور فیڈر بھی دے دینا, کمرہ بھی سمیٹ دینا پلیز… ” انشرہ نے انتہائی کوفت سے بلکتی ہوئی مروہ کو اس کی گود میں چڑھا دیا
“میرے اوور آل دھونے والے ہیں ساریہ, اور کپڑے بھی, وہ دھو دینا…اور میرے ڈاکیومنٹس والا کیبن بھی صاف کر دینا, اسے کھولوں تو ایک دم الٹی کر دیتا ہے, دس دن ہو گئے ہیں تمہیں کہتے ہوئے ” سہام نے اس کی طرف دیکھے بغیر ایک نیا حکم صادر کیا تھا
“بلکہ مشین ہی لگا لینا ساریہ… بچوں کے بھی گندے کپڑوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے, کچن بھی دیکھ لینا, رات کے برتن بھی یونہی پڑے ہیں, پانی بھی آنے والا ہو گا, مروہ کو نہلانا بھی ہے آج… شام میں اسے انجکشن لگوانے جانا ہے” انشرہ جلدی جلدی اوور آل پہن رہی تھی
“جلدی اٹھا کرو ساریہ… تمہیں پتہ بھی ہے کہ ہم دونوں نے ڈیوٹی پہ جانا ہوتا ہے, صبح ذرا جلدی اٹھ کہ کام نمٹا لیا کرو اس کے بعد پورا دن سونا ہی ہوتا ہے تم نے, تھوڑی سی ذمہ داری پکڑ لو یار… دو بچوں کی ماں بن گئی ہو, انشرہ کا تو تمہیں پتہ ہی ہے سارا دن ہسپتال ہوتی ہے, مروہ بھی تمہاری ذمہ داری ہی ہے, دیکھو ذرا ایک نظر… پورا گھر کوڑے کا ڈھیر بنایا ہوا ہے تم نے, خدا جانے تم سارا دن کرتی کیا رہتی ہو ؟ ” سہام اس کی ساری اگلی پچھلی اکارت کر رہا تھا, ساریہ نے ایک نظر اسے دیکھا
یعنی وہ شادی کے پانچ سال بعد بھی غیر ذمہ دار ہی تھی…صبح سے لیکر شام تک اس کے تین بچے, اس کا گھر, اس کا کھانا پینا, پہننا اوڑھنا, نہانا دھونا… سب کچھ کرنے کے باوجود وہ غیر ذمہ دار تھی
وہ دونوں ہاسپٹل جانے کے لیے بالکل تیار تھے, سہام نے گاڑی کی چابی اٹھائی تھی
“چلو جلدی… ” وہ انشرہ کو اشارہ کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا
ساریہ کو لگا جیسے ابھی پورا گھر اس کے سر پر آ گرے گا, مسلسل روتے ہوئے تین بچے, گندا مندا کچن, ہر طرف پھیلاوا, میلے کپڑوں کا ڈھیر…اور پچھلے چار دنوں سے شدید دکھتا ہوا بدن
اس کی ایک دم بس ہوئی تھی… پچھلے پانچ سالوں کا ایک ایک دن اس پر قہقہے لگا رہا تھا
“سہام… ” پوری ہمت جمع کر کہ اس نے سہام کو آواز دی تھی, وہ ایک دم رکا, انشرہ بھی رک گئی تھی, وہ دو قدم آگے بڑھی, ڈیڑھ سالہ مروہ کو انشرہ کی گود میں دیا, منسا کو سہام کی گود میں چڑھایا اور ماہر کو بازو سے پکڑ کر اس کی جانب دھکیل دیا
“میں امی کے گھر جا رہی ہوں… آپ یہاں کسی ذمہ دار کو لے آئیں”دوپٹہ سر پر اوڑھ کر اس نے پاؤں میں سلپرز ڈالتے ہوئے دھیرے سے کہا اور باہر نکل گئی, سہام اور انشرہ حیران پریشان کھڑے رہ گئے تھے
“ساریہ… رکو تو… کیا ہوا ؟” ایک دم ہوش آنے پر وہ دروازے کی طرف بھاگا لیکن ساریہ سنی ان سنی کرتے ہوئے باہر نکلتی چلی گئی, انشرہ نے ایک نظر اپنی گود میں پڑی مروہ کو دیکھا… پھر سارے گھر کو اور پھر گھڑی کو… جو پورے آٹھ بجا رہی تھی
“یااللہ…” اب کے اسے لگا جیسے پورا گھر اس کے سر پر آ گرے گا
…………………………………..
“لاؤ بک دو, ٹیسٹ لکھواؤں” سعدیہ اپنے لئے کرسی کھینچ کر وہیں بیٹھ گئی, ساریہ نے جلدی سے بائیو کی کتاب اس کی طرف بڑھا دی
“بس کرو اب رٹا لگانا” سعدیہ نے مسلسل رٹا لگاتے سہام کو ٹوکا
“بس دو منٹ… ” وہ بولا
“ہو گئے دو منٹ… بند کرو اسے” سعدیہ نے اس کے ہاتھوں سے کتاب چھین لی, وہ بس تلملا کر رہ گیا, سعدیہ نے اسے گھورتے ہوۓ ٹیسٹ لکھوایا دیا
“میں آدھے گھنٹے بعد چیک کر لوں گی… خبردار جو ایک دوسرے کی طرف دیکھا بھی تو… ” اس کی یہ وارننگ سراسر سہام کے لیے تھی, ساریہ اور انشرہ دونوں سر جھکاتے ہوۓ ادھر ادھر ہو کر بیٹھ گئیں
“تم اپنی کرسی اس کونے میں لے جاؤ… شاباش” سعدیہ نے کہا
“کیوں… ؟” وہ بلبلا کر بولا
“کیوں کا کیا مطلب… چلو” سعدیہ نے اسے گھرکا
“وہاں لائیٹ کم ہے… ” پہلا بہانہ
“کھڑکی کھول لو… “
“ہوا آتی ہے اور مجھے سردی لگتی ہے” دوسرا بہانہ
“واش روم کی لائیٹ جلا لو”
“افوہ… اسقدر بدبو آتی ہے وہاں سے” تیسرا بہانہ
“سہام… شٹ اپ” سعدیہ کی بس ہو گئ, وہ منہ بناتا ہوا کونے میں جا کر بیٹھ گیا, دوسرے سوال پر ہی اس کی بے چینی شروع ہو گئی تھی
یہ کیسا سوال ہے ؟ یہ تو کتاب میں ہے ہی نہیں… یہ تو سلیبس میں تھا ہی نہیں… یہ پتہ نہیں کہاں سے دے دیا, یہ والا تو لمبا ہی بہت ہے, توبہ اتنا مشکل ٹیسٹ… پھر جب دال نہ گلی تو چیٹنگ…
“ساری… اے ساری, یہ کہاں سے آیا ہے ؟” وہ مسلسل سرگوشیاں کر رہا تھا
“سعدیہ آپی… سہام مسلسل چیٹنگ کر رہا ہے” حالانکہ اس نے انشرہ سے کچھ بھی نہیں پوچھا تھا لیکن انشرہ جانتی تھی کہ ساریہ اسے الف سے لیکر ے تک سارا ٹیسٹ بتا دے گی
“سہام… باہر آ جاؤ میرے پاس” سعدیہ نے اسے آواز دی تھی
“چڑیل… تم سے پوچھا تھا بھلا… ” سہام تن فن کرتا باہر نکل گیا تھا…انشرہ اور وہ تو ازلی دشمنوں کی طرح تھے
وہ تینوں آپس میں کزنز تھے, انشرہ اکلوتی تھی, اس کے ابو دبئی میں کام کرتے تھے, اس کی امی سہام اور ساریہ کی پھپھو تھیں, کئی کنال پر پھیلا ان کا انتہائی شاندار بنگلہ نما گھر تھا, شاندار سی گاڑی تھی… اور کئی ایکڑ کی زرعی اراضی بھی تھی
ان کے بنگلے کے بالکل ساتھ ان کے دونوں بھائیوں کا مشترکہ گھر تھا, سہام کی بابا بڑے تھے, ان کا پورشن نیچے تھا, سب سے بڑی سعدیہ, اس سے چھوٹا سہام اور سب سے چھوٹی ہادیہ…ان دونوں بھائیوں کا کپڑے کا کاروبار تھا, سعدیہ نے بائیو میں ایم ایس سی کی ہوئی تھی, اوپر والا پورشن ساریہ کے بابا کا تھا… اس سے چھوٹا حاشر تھا, ساریہ, سہام اور انشرہ تینوں نویں میں تھے… اور سعدیہ کے پاس ٹیوشن پڑھتے تھے, تائی امی اور چچی دونوں آپس میں بہنیں تھیں سو روایتی جیٹھانی اور دیورانی والے سیاپے ختم تھے
……………………………………..
صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا, کچن میں گہما گہمی اپنے عروج پر تھی, تائی امی مسلسل ایک کے بعد دوسرا پراٹھا توے سے اتار رہی تھیں اور چچی بھاگ بھاگ کر کچن کے بالکل ساتھ رکھی ڈائیننگ ٹیبل پر رکھتی جا رہی تھیں, تایا ابا اور چچا دونوں دوکان پر جانے کے لئے تیار تھے, حاشر نے کالج جانا تھا, ہادیہ کی وین دروازے پر کھڑی تھی, سعدیہ کے دونوں بچے سکول جانے کے لئے تیار تھے, وہ ان کے پیچھے بھاگ بھاگ کر پاگل ہوئی پڑی تھی
“فاطمہ چاۓ بھی لے آؤ” تایا ابا نے آواز لگائی
“امی میرا پراٹھا بھی بنا دیں… مولی والا” حاشر کچن کے دروازے میں ایستادہ تھا
“ایک طرف ہٹو… میں اپنے بچوں کے لنچ باکس تیار کروں, سارا دن بھوکے پیاسے کیسے پڑھیں گے ” سعدیہ اسے ایک طرف کرتی ہوئی کچن میں آگئی
“ہاں ہاں…آپ کے بچے تو خیر سے سی ایس ایس کی تیاری کر رہے ہی نا سعدیہ آپی, صبح سے شام تک مسلسل کتابیں چھانتے ہیں, ایک میں ہوں جو پچھلے دس گھنٹوں سے مولی والے پراٹھے کی فریاد کرے جا رہا ہوں” حاشر نے کہا
“امی پلیز… پہلے اس بھکڑ کو مولی والا پراٹھا بنا دیں تاکہ یہ جاۓ یہاں سے” سعدیہ نے اسے گھورا
“تائی امی میرا آملیٹ… ” ہادیہ کندھے پر بیگ ڈالے دھڑ دھڑ کرتی سیڑھیاں اتری تھی
“اوہ… چلو میرے پیچھے لائن میں لگو” حاشر نے اسے بازو سے پکڑ کر کچن میں جانے سے روکا تھا
“مجھے دیر ہو رہی ہے” وہ چیخی, وین والے نے ہارن بجایا تھا
تبھی بیرونی دروازہ کھلا, سب نے ایک دم دروازے کی طرف دیکھا… ساریہ اندر داخل ہوئی تھی…اکیلی
“ساریہ… میرا بچہ اس وقت… خیر تو ہے نا” فاطمہ ہر شے چھوڑ چھاڑ اس کی طرف بڑھیں تھیں, تائی امی بھی کچن سے باہر نکل آئیں, ساریہ دو قدم آگے کو آئی تھی
ستا ہوا چہرہ… سر سے ڈھلکتا ہوا دوپٹہ, انتہائی پر شکن کپڑے, پیروں میں عام سے سلپرز
“ساریہ کیا ہوا بیٹا… ؟” مراد صاحب ایک دم اس کے قریب آۓ
“ابو… ” سرگوشی کے سے انداز میں ساریہ کے لبوں سے نکلا, ساتھ ہی پچھلے کئی دنوں کا غبار آنکھوں کے راستے بہہ نکلا اور اس سے پہلے کہ وہ ان کی آغوش میں جاتی, زور دار چکر آیا اور وہ دھڑام سے وہیں فرش پر گر گئی
“ساریہ… ” فاطمہ اور مراد کے کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا, مراد صاحب نے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا… وہ بخار میں پھنک رہی تھی
…………………..
“سعدیہ آپی… ملاحم پوچھ رہا تھا کہ وہ کل سے آ جاۓ” سہام نے وہی رٹ شروع کی تھی
“کیوں ؟ ” سعدیہ نے اسے گھورا
“وہ کہہ رہا تھا کہ اس کی بائیو کافی ویک ہے… وہ الگ سے بائیو کی ٹیوشن پڑھنا چاہتا ہے” ملاحم اس کا سکول فرینڈ تھا
“دیکھو سہام… ابو کی طرف سے اجازت نہیں ہے” سعدیہ نے کہا
“ان سے میں بات کر لوں گا, آپ اپنا بتائیں ” سہام نے کہا
“تم پہلے ابو سے تو بات کرو” سعدیہ نے جان چھڑوانی چاہی, لیکن فرہاد صاحب کو منانا تو سہام کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا, وہ آخر کو ان کا اکلوتا بیٹا تھا, انہیں ماننا ہی پڑا
اگلے ہی دن سے ملاحم ان کی کلاس کا چوتھا سٹوڈنٹ بن گیا تھا, دھیرے دھیرے ان چاروں کی چوکور بن گئی, انشرہ اور سہام کا مزاج ایک جیسا تھا…طوفانی, غصیل… اور تند
ان دونوں کی بس کچھ ہی دیر بنتی تھی, اس کے بعد ٹھشون فشوں… لیکن بگڑتی بھی بس کچھ ہی دیر تھی, اگلے ہی پل ایک ہو جاتے تھے, ساریہ بہت زیادہ دھیمے مزاج کی تھی, بالکل اپنے ابا جیسی… چھاؤں جیسی
دھیرے دھیرے وقت سرکا… وہ چاروں سیکینڈ ایئر تک پہنچ گئے, سہام اور انشرہ دونوں بہت ذہین تھے, ساریہ کبھی کبھار مات کھا جاتی تھی, ملاحم کبھی اوپر… کبھی نیچے
سہام, انشرہ اور ملاحم تینوں نے اینٹری ٹیسٹ دیا تھا
صرف سہام اور انشرہ کا میڈیکل میں ایڈمیشن ہوا …ملاحم دو, تین دن ان گھر والوں کا سامنا ہی نہیں کر سکا, بڑی مشکل سے سہام اسے کھینچ تان کر لیکر آیا
“پھر کیا ہوا… کچھ اور کر لینا” سبھی نے حوصلہ دیا لیکن… اس سرما کی دھوپ جیسی لڑکی کا دیا حوصلہ سب سے انمول تھا
وہ سردیوں کی ایک شام تھی, سہام اسے اوپر لے آیا تھا, ساریہ چاۓ لیکر آئی تھی, سہام کا موبائل بجا اور وہ اسے کان سے لگا کر نیچے اتر گیا, ملاحم سر جھکاۓ بیٹھا تھا, وہ ٹیرس کی ریلنگ کے قریب ہی بیٹھے تھے, نیلے آسمان پر سفید بادل ٹکروں کی شکل میں تیر رہے تھے, ہواؤں کے جھونکے جیسے چھپن چھپائی کھیل رہے تھے, سورج بڑی جاذبیت سے وہ سارا منظر دیکھتے ہوۓ غروب ہو رہا تھا
“یہ لو… ” ساریہ نے کپ اس کی طرف بڑھایا, اس نے چپ چاپ پکڑ لیا
“تم پتہ کیا کرو ملاحم… ؟” وہ کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی, ملاحم ہمہ تن گوش تھا
“تمہارا انگلش کا ایکسینٹ بہت اچھا ہے, تم بی ایس انگلش کر لو, پھر سی ایس ایس کر لینا” ملاحم ایک دم ہنس پڑا
“سی ایس ایس کرنا کیا اتنا ہی آسان ہے جتنا تم نے کہہ دیا” وہ بولا
“جب کرو گے تو آسان ہو جاۓ گا نا… ” وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی, ملاحم نے نظر بھر کر اسے دیکھا, وہ اڑتے ہوئے بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑس رہی تھی
“تم کیا کرو گی ؟” اس نے پوچھا
“کیا کروں ؟” ساریہ نے اپنا چہرہ اہنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں رکھا, ملاحم کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر دھیرے سے بولا
“میرا انتظار… “
………………………………
اسے دو گھنٹوں بعد ہوش آیا تھا, پچھلے ایک ہفتے سے اسے بخار تھا جو بگڑ کہ ٹائفاییڈ بن چکا تھا, ہسپتال والوں نے اسے داخل کر لیا تھا, فرہاد صاحب نے ہسپتال پہنچتے ہی سہام کو کال کی تھی
“کیا کہا ہے تم نے ساریہ کو… ؟” وہ فون پر ہی اس پر برس پڑے
“ابو میں… میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا” وہ بوکھلا گیا
“کہاں ہو ؟”
“گھر ہوں… چھٹی کی ہے آج” اس کی آواز سے لگ رہا تھا کہ وہ کتنا بیزار تھا
“وہ بچی ہسپتال کے بیڈ تک پہنچ گئی ہے سہام اور تم کہہ رہے ہو تم نے کچھ نہیں کہا” فرہاد صاحب نے کہا
“ساریہ ہسپتال میں ہے… ” سہام کو یہ بھی نہیں پتہ تھا, انہوں نے تاسف سے کال کاٹ دی, دوپہر کے قریب سمعیہ کو سہام کی کال آئی
“امی… ساریہ گھر آ گئی ؟” ہسپتال جانے کی ایک تو اس کی ہمت نہیں پڑی, دوسرے بچے اسے ہلنے بھی نہیں دے رہے تھے
“نہیں… شام کو ڈسچارج ہو گی” سمعیہ نے کہا
“بچے آپ کے پاس چھوڑ دوں ؟” اس کی بس ہو گئ تھی
“سہام تو نے آخر کیا کیا ہے ؟” وہ بولیں
“امی میں نے کچھ نہیں کیا… ” وہ جھلا گیا, دوپہر تک انشرہ کی بس ہو گئ
“سہام خدا کا واسطہ… میں پاگل ہو جاؤں گی پلیز یا تو مجھے امی کی طرف جانے دو یا ان دونوں کو ماموں لوگوں کی طرف چھوڑ آؤ” وہ رونے والی ہو گئی تھی
بچے سنبھالنا کہاں آسان ہوتا ہے… اب ایک رو پڑا, اب دوسرا, اب ایک کو پوٹی آ گئی, اب دوسرے نے سو سو کر لیا, اب تیسرے نے دودھ نکال دیا, اب پہلے کو بھوک لگ گئی, اب دوسرے کو نیند آ گئی, اب تیسرے نے پیمپر بھر دیا, اب پہلا سو کر اٹھ گیا, اس نے رو کر دوسرے کو بھی جگا دیا… اف توبہ
دن کے دو بج رہے تھے جب سہام منسا اور ماہر کو سعدیہ کے پاس چھوڑ کر ہسپتال پہنچا, انشرہ اپنی امی کی طرف چلی گئی تھی, ساریہ کو ہوش آ گیا تھا, سہام کی شکل دیکھتے ہی اس نے آنکھیں بند کر لیں, شام تک وہ ڈسچارج ہو گئی تھی, سہام اس سے کوئی بھی بات کرنے کی ہمت نہ کر سکا
رات کے کھانے کے بعد اس کی پیشی ہو گئی, فرہاد صاحب کے کمرے میں… فرہاد, سمعیہ, فاطمہ اور مراد
“پانچ سال ہو گئے ہیں تمہاری اور ساریہ کی شادی کو… ان پانچ سالوں میں روٹھ کر میکے آنا تو درکنار… اس نے کبھی کال پر بھی اپنا کوئی دکھڑا نہیں رویا, کبھی تمہاری کوئی شکایت نہیں کی, تین سالوں سے وہ انشرہ کے ساتھ رہ رہی ہے لیکن کبھی اس کے خلاف بھی کچھ نہیں کہا, کبھی آج تک وہ ناراض ہو کر یہاں نہیں آئی… پھر اب ایسا کیا ہو گیا کہ وہ دونوں بچے چھوڑ کر تن تنہا یہاں چلی آئی… وہ بھی ایک سو تین بخار کے ساتھ ؟” فرہاد صاحب کہتے چلے گئے
“ابو… قسم سے مجھے نہیں پتہ کہ اسے کیا ہوا ہے, مجھے نہیں پتہ کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی, اس نے بتایا ہی نہیں کہ اسے بخار تھا, آج صبح وہ دیر سے اٹھی, مجھے تھوڑا سا غصہ آ گیا بس… لیکن خد ا کی قسم میں نے اسے ہاتھ تک نہیں لگایا, بس اتنا کہا کہ جلدی اٹھ جایا کرو, وہ ایک دم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آ گئی ” سہام نے کہا, اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ سچ کہہ رہا ہے, فرہاد صاحب کو بھی اپنے خون پر اتنا مان تو تھا کہ اس نے ساریہ پہ ہاتھ نہیں اٹھایا ہو گا… گالی نہیں دی ہو گی
“آپ اسی سے پوچھ لیں… کہ کیا ہوا ہے؟”
………………………….
جاری ہے