56.3K
11

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

قسم سےیارامیںتمہارا

عائشہ_ذوالفقار


ویک اینڈ تھا… سہام اور انشرہ دونوں آۓ ہوۓ تھے, ان کے آنے پر ساریہ زیادہ تر اپنے کمرے میں ہی بند رہتی تھی, اب بھی وہ رات کا کھانا لیکر اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی, ماہر کو کل سے ہلکا ہلکا بخار تھا سو وہ کھانا کھاتے ہی سو گیا, منسا اپنے کھلونے نکال کر بیٹھ گئی تھی, کچھ دیر بعد ساریہ نے اسے بھی سلا دیا
رات کے دس بج رہے تھے جب وہ کھانے کے خالی برتن لیکر نیچے آئی, چاۓ کی طلب ہو رہی تھی, سمعیہ کے کمرے کے آگے سے گزرنے ہوۓ اس کے کانوں نے اپنا نام
سنا تو رک گئی, سہام اور انشرہ دونوں ان کے کمرے میں تھے
“سہام میں نے تجھے کہا تھا کہ ساریہ سے بات کر بیٹے, اس سے پوچھ لے کہ وہ کیا چاہتی ہے, وہ تیری بیوی ہے سہام… تجھ پر اس کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا انشرہ کا” سمعیہ نے کہا
“ممانی میں نے کبھی سہام کو اس کا حق ادا کرنے سے منع نہیں کیا, یہ جتنا مرضی وقت اس کے ساتھ گزارے میں نے کبھی برا نہیں منایا, کبھی اپنی ذات اور زبان سے اسے کوئی تکلیف نہیں دی لیکن پھر بھی نہ جانے اسے کیا ہو گیا ہے” انشرہ کہتی چلی گئ, ساریہ چپ چاپ باہر کھڑی سب سن رہی تھی
“مجھے پتہ ہے اسے کیا ہو گیا ہے… ” سہام کی بات سن کر وہ چونک گئی اور نا محسوس سے انداز سے دروازے کے قریب ہو گئی
“کیا مطلب ؟” سمعیہ نے کہا
“اس کا دل بھر گیا ہے مجھ سے… مجھ سمیت آپ سب لوگ چاہے جتنے مرضی جتن کر لیں وہ اب واپس نہیں جاۓ گی” سہام نے کہا
“سہام… غلط بات نہ کر” سمعیہ کو اچھا نہیں لگا
“میں سچ کہہ رہا ہوں امی… پچھلے ہفتے ملا تھا میں ملاحم سے, میں نے سوچا کہ وہ دونوں کافی عرصہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں تو شاید وہ ملاحم کی بات ہی سن لے گی لیکن… اس نے تو مجھے ایک نئی کہانی سنا دی…بقول اس کے وہ اپنی سابقہ محبوبہ کو قطعی کچھ نہیں سمجھاۓ گا, وہ جو کر رہی ہے بالکل ٹھیک کر رہی ہے” سہام کہتا چلا گیا, سمعیہ حق دق اسے دیکھ رہی تھیں
“امی مجھے پورا یقین ہے کہ یا تو اس نے ساریہ کو یہ سب کرنے پر اکسایا ہے یا پھر ساریہ نے اسے لاہور واپس بلایا ہے… ” سہام کے کہتے ہی دروازے کے باہر کھڑی ساریہ کی بس ہوئی تھی
پانچ سالوں میں کیا کچھ برداشت نہیں کیا… بچا ہی کیا تھا اس کے پاس… ؟ صرف ایک صاف شفاف کردار جسے آج سہام نے کیچڑ اچھال کر گندا کر دیا تھا
یکدم دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی تھی, سہام اسے دیکھ کر یکلخت بوکھلا گیا
“جو شخص کسی پاک دامن عورت پر تہمت لگاۓ اور اس پر چار گواہ لے آۓ تو عورت کی بد کرداری ثابت ہو جاتی ہے سہام فرہاد… تمہارے نکاح میں ہوتے ہوئے میں نے ملاحم سعد کو یہاں بلایا اور اس کے اکسانے پر تمہیں چھوڑ کر یہاں آ گئی… مجھ پر لگائی اس تہمت کو ابھی اسی وقت ثابت کرو گے تم, ابھی اسی وقت چار گواہ لیکر آؤ جو مجھ پر لگائی تمہاری اس تہمت کو سچا کہیں… ابھی اسی وقت… “وہ اس پر چڑھ دوڑی تھی, لمحوں میں سارے آپ جناب بھول گئی تھی
“ساریہ میری بات… ” سہام ایک دم کھڑا ہو گیا
“اور اگر میرے اوپر نہیں لا سکے نا چار گواہ… تو خدا کی قسم کوڑا میرے ہاتھ میں ہو گا” وہ زور سے چلائی تھی, فاطمہ اور مراد بھی اس کی آواز سن کر وہاں آ گئے
“ساریہ بیٹے کیا ہوا ہے ؟” مراد صاحب نے پوچھا
“اگر میں نے اسے بلانا ہوتا نا سہام… تو میں اپنی زندگی کے پانچ سنہرے سال تم جیسے گھٹیا اور خود غرض انسان کے ساتھ رہ کر مٹی نہ کرتی, اگر میں نے اسے بلانا ہوتا تو اسی رات بلا لیتی جب تم نے اس عورت سے نکاح کیا جس نے گزرے پانچ سالوں میں مجھے بس اتنی ہی اہمیت دی ہے جتنی ایک ملازمہ کو دی جاتی ہے…گزرے پانچ سالوں کے ہر ہر پل میں مجھے اسے بلانے کا موقع دیا لیکن میں نے نہیں بلایا اور آج جب خدا نے مجھے اپنی نعمت اور رحمت دونوں سے نوازا ہوا ہے تب بلانا تھا میں نے اسے… ” مارے صدمے کے اس کی آواز پھٹنے والی ہو گئی, مراد صاحب نے شکوہ کناں نظروں سے سہام کی طرف دیکھا
“میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا انکل… ” سہام شرمندہ سا ہو گیا
“ساریہ…. بیٹے جاؤ اپنے کمرے میں” مراد صاحب نے کہا لیکن وہ دو قدم چل کر سہام کی طرف آ گئی
“تمہارے لئے شادی سے پہلے محبت کرنا جائز تھا, پسند کی شادی کرنا بھی جائز تھا…میرے اوپر سوتن لیکر آنا بھی جائز تھا… لیکن اگر اس نے تمہیں یہ کہہ دیا وہ ماضی میں مجھ سے محبت کرتا تھا تو آگ لگ گئی تمہیں… ” ساریہ چیخ پڑی
“چلو جاؤ… ابھی اسی وقت وہ کتاب لیکر آؤ جس میں یہ لکھا ہے کہ تمہیں شادی سے پہلے انشرہ ایاز سے دل لگی کرنے کا پورا حق تھا لیکن مجھے ملاحم سعد سے دل لگانے کا کوئی حق نہیں تھا… دکھاؤ مجھے خدا نے کہاں ایک مرد کو سب حلال کیا ہے اور عورت کو حرام… ” اس کی آنکھیں چھلک گئیں, مراد صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“ہاں کرتا تھا وہ مجھ سے محبت… سی ایس ایس کی تیاری کے لیے جب اسلام آباد جانے لگا تب کہا تھا اس نے مجھ سے کہ میں ابو سے کہتا ہوں وہ تمہارے بابا سے بات کریں لیکن میں نے منع کر دیا…خدا کی قسم اٹھا کر کہہ رہی ہوں بابا کہ میرے اور سہام کے نکاح کے بعد وہ صرف ایک بار مجھ سے ملنے آیا تھا, کچھ نہیں کہا اس نے, بس مجھے مقدر پر صبر کرنے کا کہہ کر چلا گیا… ہمیشہ کے لئے, اس کے بعد نہ وہ پلٹ کر آیا… نہ میں نے بلایا” وہ روتی جا رہی تھی
“ٹھیک ہے… آج آخری بار مجھے ان سب کے سامنے اپنا فیصلہ سنا دو” سہام نے کہا
“مجھے طلاق دے دو” ساریہ نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا, سہام سمیت اس کمرے کا ہر فرد دم بخود رہ گیا تھا
“اور طلاق لینے کے بعد کیا کرو گی ؟” وہ بولا
“وہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے” ساریہ نے کہا
“سنو… تم میری بیوی ہو, میرے دو بچوں کی ماں ہو, محض تمہاری ایک فضول سی ضد کے پیچھے میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا, جب تک دل کرے یہاں بیٹھی رہو… چاہے تا عمر بیٹھی رہو” سہام ذرا سختی سے بولا تھا, پورے گھر کے سامنے تو بےعزتی ہوئی تھی, اس سے پہلے کہ ساریہ جواباً اسے کچھ کہتی, اسے اپنے کندھوں کے گرد کسی کے مضبوط بازوؤں کا حصار محسوس ہوا تھا… وہ حاشر تھا, اس کا تین سال چھوٹا بھائی جو اب بڑا ہو گیا تھا, اس نے بہت محبت سے ساریہ کو خود سے لگایا اور سہام کے آگے کھڑا ہو گیا
“اگر آپ طلاق نہیں دیں گے تو میں آپی کا خلع دائر کر دوں گا”
…………………………….
اس کی رات دس بجے کی فلائیٹ تھی, سارا سامان ریڈی تھا, اس کے بعد ساریہ نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی, ڈنر کے بعد اس نے ائیر پورٹ کے لئے نکل جانا تھا
“سہام بھائی جلدی کریں… آٹھ بج گئے ہیں” حاشر نے اس کا سامان باہر نکالا اور گاڑی میں رکھا, وہ باری باری سب سے ملا, ساریہ فاطمہ کے پیچھے کھڑی تھی, سہام نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا
“چلو سہام… ” مراد صاحب نے گاڑی سٹارٹ کر دی تھی, وہ سر ہلا کر باہر نکل آیا, سب کچھ روٹین کے مطابق ہی ہو رہا تھا, ائیر پورٹ چیکنگ کے دوران حاشر اور مراد صاحب اس کے ساتھ تھے
ساڑھے نو بجے فلائیٹ ٹیک آف کی پہلی اناؤنسمنٹ ہوئی تھی, وہ باری باری دونوں سے گلے ملا اور جہاز کی سمت چل دیا
“سہام… ” یقیناً وہ انشرہ کی ہی آواز تھی
“سہام رکو… ” اور وہ رک گیا تھا
“انشرہ… ” پلٹ بھی آیا تھا
“سہام… ” وہ روتے ہوئے ایک دم اس کے ساتھ آ لگی
“سہام میں… میں آ گئی” وہ رو رہی تھی, حاشر اور مراد صاحب دونوں دم بخود کھڑے تھے
سہام نے دھیرے سے اپنا ایک بازو اس کے کندھوں کے گرد لپیٹ دیا, دوسرے ہاتھ سے اس کے آنسو خشک کئے اور اسے خود سے لگاۓ پلٹ آیا
“چلو… گھر چلیں” وہ واپسی کے لئے مڑ گیا تھا
“سہام جانا نہیں ہے ؟” مراد صاحب نے حیرانی سے پوچھا
“نہیں… ” وہ انشرہ کو لیکر واپس آ گیا تھا
سمعیہ اور فاطمہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھیں, ساریہ کچن میں تھی, سعدیہ اور ہادیہ پھیلاوا سمیٹ رہی تھیں جب وہ انشرہ کو لئے اندر داخل ہوا, بڑی مضبوطی سے اس نے انشرہ کا ہاتھ تھام رکھا تھا
“سہام تو گیا نہیں ؟” سمعیہ حیران تھیں
“امی… انشرہ واپس آ گئی ” وہ بولا, ساریہ کے دل پر ہاتھ پڑا تھا
“سہام تیرا سارا مستقبل داؤ پر لگ جاۓ گا بیٹے…” فرہاد صاحب انتہائی پریشان تھے
“کچھ دنوں بعد چلا جاؤں گا ابو… تھوڑے بہت نقصان کی خیر ہے” ساریہ کو یقین نہ آیا کہ یہ اسی رات والا سہام بول رہا تھا, اسی لمحے اسے اپنی اوقات کا ادراک ہو گیا تھا
“امی میں انشرہ کو گھر چھوڑ کر آتا ہوں” وہ دھیرے سے کہہ کر انشرہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا, سب گھر والے بس ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے, سمعیہ سے تو بالکل برداشت نہ ہوا, کچھ ہی دیر بعد وہ طاہرہ کے سامنے تھیں
“واہ آپا… چالیں چلنا تو کوئی آپ سے سیکھے, دل کیا تو بیٹی کو عین بارات والے دن بھگا دیا, دل کیا تو واپس لے آئیں” وہ تن فن کرتی رہی تھیں
“ارے مجھے تو کچھ پتہ ہی نہیں… جو کچھ کیا اس کے باپ نے کیا, اب بھی اسی نے واپس بھیجا ہے اسے” طاہرہ نے ہاتھ نچایا
“کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں آپ آپا… ہمیں ذلیل کرنے کا, بے عزت کرنے کا, اگر اسے واپس بلا کر سہام کے سر ہی تھوپنا تھا تو بھگایا ہی کیوں ؟ تب ہی شادی ہو جانے دیتیں, کم از کم میرے بچے کا مستقبل تو سنور جاتا… ” سمعیہ خوب بولیں… بے حد و حساب
اور بول بول کر واپس آ گئیں
شام کو طاہرہ فرہاد اور مراد کے سامنے اپنا میلو ڈرامہ لگا کر بیٹھی تھیں
آنسو… سسکیاں, رونا بلکنا… ایموشنل بلیک میلنگ
“نہ میری ماں… نہ باپ… صرف تم دونوں بھائی ہو… تم بھی چھوڑ دو مجھے… ” انہوں نے اچھا خاصا واویلا کیا
فرہاد صاحب تو بس لمبی سانس بھر کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے
دو دن گزر گئے, تیسرے دن سہام اپنے ماں باپ کے سامنے تھا
“مجھے جانے سے پہلے انشرہ سے نکاح کرنا ہے” اس نے اپنا مدعا بیان کر دیا
“سہام… بیٹا جتنا نقصان ہو چکا ہے نا, وہی کافی ہے, چپ چاپ اپنا ویزہ ری نیو کروا اور چلا جا… انشرہ والے معاملے کو تھوڑا وقت دے” سمعیہ نے کہا
“پھپھو چاہے پھر اسے کہیں بھیج دیں” وہ تڑخا
“تو بھیج دے… تیرے پاس بیوی بھی ہے اور اللہ تجھے اولاد بھی دے دے گا” سمعیہ ستی پڑی تھیں
“امی… میری اور ساریہ کی شادی صرف ایک مجبوری تھی… نہ میں اس سے شادی کرنا چاہتا تھا اور نہ وہ مجھ سے” سہام نے کہا
“لیکن اب تو ہو گئ نا… اب اسے قسمت کا لکھا مان لے” سمعیہ نے کہا
“امی پلیز… میں نے انشرہ سے محبت کی ہے, میں اس سے نکاح کر کہ آسٹریلیا جاؤں گا” وہ اڑ گیا
“اور ساریہ کو کس کنویں میں دھکا دے گا… یہ بھی بتا دے ؟” سمعیہ کو غصہ آ گیا, فرہاد صاحب چپ چاپ سب سن رہے تھے
“میں اسے کیوں دھکا دینے لگا… وہ آرام سے یہاں آپ لوگوں کے پاس رہے, میں کونسا اسے چھوڑ رہا ہوں” سہام نے کہا, سمعیہ چپ کر گئیں
وہ اپنی ضد پر اڑا رہا, فرہاد اور مراد اکلوتی بہن کے آنسوؤں سے بھی مجبور تھے, انشرہ آخر تھی تو ان کا اپنا خون… ان کی بھانجی… جو کچھ بھی ہوا اس میں اس لڑکی کا تو کوئی قصور نہیں تھا
عجیب سی صورتحال بن گئی, سمعیہ, فاطمہ سے نظریں چرا جاتیں, فرہاد صاحب اور مراد صاحب میں ایک ان دیکھا سا فاصلہ آ گیا, ساریہ اور سہام میں تو بات چیت صفر ہو کر رہ گئی, طاہرہ بیگم صبح شام بھائیوں کے گھر چکر لگاتیں…سہام یر لمحہ انشرہ کی دلجوئی میں لگا رہتا
آخر کو ہوا وہی جو سہام نے چاہا… ان دونوں کا نکاح طاہرہ بیگم کے گھر ہوا تھا, رخصتی سہام کے آنے کے بعد ہونا طے پائی, مراد صاحب نکاح میں شریک ہوۓ تھے, فاطمہ نہیں گئ تھیں
اور وہ…
وہ تھی اور اس کا ٹیرس… اور ٹیرس کی ریلنگ
“مجھے پتہ ہے تم کبھی کسی کے سامنے نہیں روؤ گی, بس چھپ چھپ کر کسی کونے کھدرے میں گھٹتی رہو گی, سسکتی رہو گی” وہ سچ ہی تو کہہ کر گیا تھا
شادی کے صرف دو ماہ بعد ہی سہام اس پر سوتن لے آیا تھا… سوتن بھی وہ جو اس کی محبت تھی
نکاح کے دو دن بعد وہ آسٹریلیا چلا گیا تھا
………………………
شام کے پانچ بجنے والے تھے جب فاطمہ نے اس کے کمرے کا دروازہ بجایا, وہ کل رات سے کمرے میں بند تھی, صبح ناشتہ بھی نہیں کیا, ہادیہ بلانے گئی تو دوپہر کے کھانے کے لئے بھی نیچے نہیں آئی, ہادیہ تھک ہار کر دونوں بچے لیکر نیچے آ گئی, دروازہ ہنوز بند… اب بھی فاطمہ دروازہ پیٹے گئیں لیکن بے سود… وہ کھول ہی نہیں رہی تھی
“اللہ اس لڑکی نے خود کو کچھ کر نہ لیا ہو… ” انہیں ہول ہونے لگے تھے
“ہادیہ اس کے کمرے کی ڈپلیکیٹ چابی ڈھونڈ… ” فاطمہ نے کہا, سمعیہ بھی جیسے تیسے سیڑھیاں چڑھ کہ اوپر آ گئیں تھیں
“ساریہ… بچے دروازہ تو کھول” وہ مسلسل دروازہ بجا رہی تھیں, تبھی ملاحم بیرونی دروازے سے اندر داخل ہوا, مسلسل دروازہ بجانے کی آواز سن کر جلدی سے اوپر کو بھاگا
“کیا ہوا آنٹی ؟” وہ فاطمہ کو روتے دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا
“ملاحم… ساریہ دروازہ نہیں کھول رہی” فاطمہ ایک کے بعد ایک چابی ہول میں گھسا رہی تھیں
“آنٹی ایک طرف ہٹیں ذرا… ” وہ دروازے کی طرف آیا, وہ اندر سے لاکڈ تھا
“کوئی باریک سی تار لیکر آؤ… ” اس نے ہادیہ سے کہا, وہ جلدی سے سٹور سے نکال لائی, ملاحم نے جیسے تیسے وہ تار ہول میں گھسا گھسا کر دروازہ کھول ہی لیا
“ساریہ… میری بچی” فاطمہ سب سے پہلے اندر آئی تھیں, وہ دنیاو مافیہا سے بے نیاز کمبل تانے اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھی
“ساریہ… ” فاطمہ نے اس کا کمبل کھینچا… وہ پسینوں پسین تھی… اور بے ہوش…
فاطمہ نے جیسے ہی اسے چھوا… ایک دم ٹھٹھک گئیں, وہ گرم آگ ہو رہی تھی
“آنٹی چلیں ساریہ کو ہاسپٹل لے چلتے ہیں” ملاحم نے اسے اپنے مضبوط بازؤوں میں اٹھایا اور نیچے لے آیا, اس کا جسم جیسے لپٹوں میں جل رہا تھا, فاطمہ اور ہادیہ اس کے ساتھ تھیں, سٹریچر پر ڈال کر وہ اسے ایمرجنسی تک لیکر آیا… ساریہ کی قسمت کہ ایمرجنسی میں ڈاکٹر سہام فرہاد ہی آن ڈیوٹی تھا
“سہام دیکھ تو میری بچی کو کیا ہو گیا ؟” فاطمہ روۓ جا رہی تھیں, ہادیہ انہیں دلاسے دے رہی تھی
“خالہ حوصلہ کریں… کچھ نہیں ہو گا ساریہ کو” وہ ماسک لگا کر اندر چلا گیا تھا
ملاحم نے مراد صاحب کو بھی کال کر دی تھی, ان کے آنے کے کوئی آدھے گھنٹے بعد سہام ایمرجنسی سے باہر نکلا
“کیا ہوا ساریہ کو ؟”
“نروس بریک ڈاؤن… ” اس نے ماسک اتارتے ہوئے تھکے تھکے سے لحجے میں کہا
“یا خدا… “فاطمہ کا کلیجہ منہ کو آ گیا
“ڈپریشن کا شدید اٹیک تھا, اوپر سے بلڈ پریشر انتہائی لو…کچھ وقت اور گزر جاتا تو ساریہ کومہ میں جا سکتی تھی” سہام ان سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا
“اب کیسی ہے وہ ؟” مراد صاحب نے پوچھا
“خطرے سے باہر ہے چاچو… تھوڑی دیر تک ہوش آ جاۓ گا, میں اسے کسی پرائیوٹ روم میں شفٹ کروا دیتا ہوں” سہام دھیرے سے کہہ کر چلا گیا, فاطمہ نڈھال سی بینچ پر گر گئیں تھیں
اسے رات نو بجے ہوش آیا… فاطمہ اس کے پاس ہی تھیں
“امی… ” اس کے خشک لبوں سے سرگوشی سی نکلی
“پانی… ” فاطمہ نے گلاس اس کے منہ سے لگا دیا
“امی… میرے بچے… ” اس نے پھر پوچھا
“گھر ہیں… سعدیہ کے پاس” فاطمہ نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تھا, ساریہ نے آنکھیں بند کر لیں, دو آنسو نکل کر گالوں پر بہہ گئے, مراد صاحب بھی وہاں آ گئے تھے
“ساریہ… ” انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“بابا… ” اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی
“پریشان نہ ہو میرا بیٹا… جیسا تو چاہے گی ویسا ہی ہو گا”
…………………………………
جاری ہے