56.3K
11

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6


وہ آج اندرون لاہور وزٹ پر تھا, خلاف معمول آج ماحن اس کے ساتھ نہیں تھا, سعدیہ اور فاطمہ کے بے حد اصرار پر وہ اسے ان کے پاس چھوڑ گیا تھا, دن کا ایک بج رہا تھا جب اسے سہام کی کال آئی
“کہاں ہے ملاحم ؟” اس نے پوچھا
“وزٹ پر تھا… گھر جانے لگا ہوں” وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولا
“یار تجھ سے ایک بات ڈسکس کرنی تھی… کہاں ملے گا ؟” سہام نے کہا
“ابھی آ سکتا ہے ھے تو گھر آ جا… شام میں ایک میٹنگ ہے میری” ملاحم نے کہا
“اوکے… میں آتا ہوں ” سہام نے کال کاٹ دی, ملاحم کھٹک گیا, گھر پہنچ کر ابھی اس نے شاور ہی لیا تھا کہ سہام کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا, وہ بالوں کو تولئے سے رگڑتا ہوا نیچے آ گیا
“کیسا ہے دوست ؟” سہام اس سے گلے ملا
“فائن.. بیٹھ ” ملاحم نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور فریج سے کوک کے دو ٹن نکال لیے
“خیر ہے ؟” اس نے ٹن سہام کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا
“نہیں… ” سہام نے گھونٹ بھرا تھا
“کیا ہوا ؟” ملاحم اس کے سامنے بیٹھ گیا
“ساریہ مجھ سے ناراض ہو کر آ گئی ہے… چار ماہ ہو گئے ہیں” سہام نے کہا
“کیوں ؟”
“ملاحم اس نے پانچ سالوں میں کبھی مجھ سے کسی چیز کا شکوہ نہیں کیا, کبھی میری کسی بات کو رد نہیں کیا, اس کے ہوتے مجھے ہمیشہ ہر چیز اے ون ہو کر ملی, پانچ سال اس نے میرے ساتھ یوں گزارے جیسے وہ میرے ساتھ بہت خوش ہے لیکن… “ملاحم نے اس کی بات کاٹ دی
“تجھے کیسے لگا سہام کہ وہ ان پانچ سالوں میں بہت خوش تھی؟”
“کیونکہ وہ کبھی مجھ سے نہیں لڑی, کبھی غصے سے بھی بات نہیں کی, ملاحم یار پانچ سالوں میں کبھی بھی مجھے ایسا نہیں لگا کہ اسے میری کوئی بات بری لگی ہو اور اب… اب صرف غیر ذمہ دار کہہ دیا تو اسے برا لگ گیا” سہام پریشان ہوا پڑا تھا
“اور تو نے کبھی اس سے پوچھا بھی نہیں کہ اسے غصہ کیوں نہیں آتا ؟ وہ کبھی ہائپر کیوں نہیں ہوتی ؟ تین تین بچوں کو پورا پورا دن سنبھالتے ہوئے بھی وہ تیری ہر چیز اے ون کیسے کر دیتی ہے ؟” ملاحم کہتا چلا گیا
“نہیں… کیونکہ مجھے لگا یہ اس کی فطرت ہے, وہ تو شروع سے ایسی ہی تھی نا ملاحم… دھیمی سی, ٹھنڈی سی, پر سکون سی” سہام نے کہا
“سہام… یار تو کس مٹی کا بنا ہے…ایک لڑکی اپنی انتہائی غیر متوقع شادی کے صرف دو ماہ بعد ہی سوتن جیسا رشتہ قبول کر لیتی ہے, دو بچے پیدا کر لیتی ہے, صبح سے شام تک انہیں سنبھالتی ہے, شوہر اور سوتن کے سارے کام بھی کرتی ہے, کچن بھی دیکھتی ہے, پھر سوتن کا بچہ بھی پالتی ہے لیکن… پھر بھی کبھی ہائپر نہیں ہوتی ؟ سہام تو ایک ڈاکٹر ہے یار, تجھے تو مجھ سے زیادہ پتہ ہے عورت ایک بچہ پیدا کر لے تو اس کی قوت برداشت کتنی کم ہو جاتی ہے… اس نے تو دو کئے ہیں, وہ بھی اوپر تلے… میں نے اقراء کی ڈیتھ کے بعد سے ماحن کو تن تنہا پالا ہے… حالانکہ میں نے اسے جنم نہیں دیا لیکن یہ صرف میں جانتا ہوں یا میر خدا کی میں نے اس بچے کو کیسے پالا ہے… ؟ آج بھی میں سوچتا ہوں کہ میں ان تین سالوں میں پاگل کیوں نہیں ہوا… وہ تو تین بچے پال رہی تھی یار… تین چھوٹے بچے… ایسے میں بھی اسے کبھی غصہ نہیں آیا… ؟ کیوں ؟” ملاحم کہتا جا رہا تھا
“اسے غصہ آتا ہو گا سہام… بہت آتا ہو گا, نہ جانے کتنی ہی بار ٹیمپر لوز کرتی ہو گی لیکن… ہر بار گھٹ گھٹ کر سب کچھ اندر ہی اندر پی جاتی ہو گی یا پھر کسی کونے میں تنہا بیٹھ کر رو لیتی ہو گی کیونکہ… یہ تو فطرت تھی نا اس کی… ہمیشہ خاموش ہو جانے کی, ہمیشہ صبر کر جانے کی, ہمیشہ جھک جانے کی” وہ سچ کہہ رہا تھا
“تو اس بار کیا ہوا دوست… ؟ اس بار بھی صبر کر لیتی..” سہام نے کہا, ملاحم دھیرے سے مسکرایا
“عورت کا صبر اور ظرف حوض کوثر سے تو نہیں نکلا کہ کبھی ختم ہی نہ ہو… ” ملاحم نے کہا, سہام بول نہ سکا, ملاحم نے اٹھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
“مجھ سے کیا چاہتا ہے ؟” اس نے پوچھا
“میں جانتا ہوں اس کی کوئی بہت گہری یا قریبی دوست نہیں ہے جس سے وہ کھل کر سب کچھ ڈسکس کر سکے… اس کے فرینڈ سرکل میں میرے اور انشرہ کے بعد تیسر بندہ ملاحم سعد تھا… چار سال تم دونوں نے اکٹھے پڑھا ہے… پلیز یار اسے کہہ کہ میرا جرم اتنا بھی بڑا نہیں ہے جتنی بڑی وہ سزا تجویز کررہی ہے” سہام نے کہا
“تجھے لگتا ہے یہ تیرے اسے غیر ذمہ دار کہنے کی سزا ہے ؟” ملاحم نے کہا, سہام اس کے منہ کی طرف دیکھنے لگا
“میری بات شاید تجھے بری لگے دوست لیکن… ہو سکتا ہے یہ ایک انتہائی مہربان اور اعلیٰ ظرف لڑکی کی زندگی کو ایک کھیل سمجھ لینے کی سزا ہو” سہام ٹھٹھک گیا
“میں نے اس کی زندگی کو کبھی کھیل نہیں سمجھا ملاحم… “اسے اچھا نہیں لگا
“اچھا…تو پھر اس کے ہوتے ہوئے انشرہ سے شادی کیوں کی ؟” نہ چاہتے ہوئے بھی ملاحم کی آواز اونچی ہو گئی
“کیونکہ… میں اس سے… محبت کرتا تھا ” لفظ سہام کے لبوں سے ٹوٹ کر نکلے
“واہ میرے دوست… مرد کو تو پورا حق ہے کہ اگر ایک انتہائی باوفا اور باکردار بیوی کے ہوتے ہوئے پرانی محبت لوٹ کر آ جاۓ تو اسے سرخرو کر دے لیکن عورت… وہ کیا کرے ؟ وہ بس ہر بار سر ہی کیوں جھکاۓ, صبر ہی کیوں کرے, معاف ہے کیوں کرے, اس پر کیوں یہ فرض ہے کہ وہ شادی کے بعد بس شوہر سے ہی محبت کرے… پرانی محبت بھول جاۓ, ہر بار وہ ہی کیوں دو بچوں کا سوچے… ؟ ہر بار وہی کیوں کمپرومائز کرے ؟” ملاحم کہتا چلا گیا, سہام بالکل خاموش تھا
“ایک بات بتا سہام… چلو مان لیا کہ اس دن ساریہ سے شادی کرنا تیری مجبوری تھی… تو نے کر لی, لیکن جب انشرہ کے لوٹ آنے پر اس سے شادی کی تو ساریہ کو آزاد کیوں نہیں کیا… ؟” ملاحم نے پوچھا
“میں اسے آزاد کیوں کرتا… ؟’ سہام حیرانی سے بولا
“کیونکہ تو اس سے پیار نہیں کرتا تھا ” ملاحم نے کہا
“ہاں لیکن… وہ میری بیوی تھی, ماں بننے والی تھی, چاچو کیا سوچتے کہ ضرورت کے وقت منہ اٹھا کر میری بیٹی سے شادی کر لی اور جب ضرورت ختم ہو گئی تو چھوڑ دیا, فاطمہ خالہ کو کیا منہ دکھاتا ؟ اور سب سے بڑھ کر ساری عمر ساریہ سے نظریں کیسے ملاتا… ؟ اس کا کیا بنتا اگر اسے طلاق کا داغ لگا کر چھوڑ دیتا, کون اپناتا اسے ایک بچے کے ساتھ… ؟ ” سہام شاید سچا تھا
“اور میں اس بات پر حیران ہوں سہام کہ اس چچا کی بیٹی پر سوتن لا کر تو ان سے نظریں ملا پاتا ہے ؟” ملاحم طنزیہ سا ہنسا تھا, سہام چپ رہ گیا
“یہ ہی تو ہم مردوں کی ڈپلومیسی ہے یار… ہم کبھی بھی خود کو دوراہے پر کھڑا نہیں کرتے, کبھی بھی خود کو اس نہج پر نہیں جانے دیتے جہاں ہمیں کسی دو میں سے ایک کو چننا پڑے… ہمیشہ عورت ہی یہ فیصلہ کرتی ہیں, ہمیشہ عورت ہی دوراہے پر کھڑی ہوتی ہے… ہم ہمیشہ اپنی سائیڈ محفوظ کرتے ہیں اور چننے کا اختیار عورت کو دے دیتے ہیں… انشرہ چلی گئ تو ساریہ سے شادی کر لی… وہ پلٹ آئی تو محبت زندہ باد کہہ کر اسے بھی سر آنکھوں پر بٹھا لیا…حالانکہ تو دو میں سے ایک کو چن سکتا تھا سہام… تو بیوی اور محبت میں سے کسی ایک کو چن سکتا تھا لیکن تو نے نہیں چنا, تیری جگہ ساریہ ہوتی تو تجھ سمیت پورا خاندان اسے دوراہے پر کھڑا کر دیتا… اور المیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر اور محبت میں سے ہمیشہ شوہر کو ہی چنتی ہے بھلے ہی وہ اس کے سر پر سوتن ہی کیوں نہ بٹھا چکا ہو” ملاحم کا لحجہ کڑوا ہو گیا
“تو میں یہ سمجھوں کہ تو میرے ساتھ نہیں ہے ؟” سہام نے سانس بھرتے ہوئے کہا
“بالکل… میں اسے کچھ نہیں سمجھاؤں گا” ملاحم نے کہا
“چل ٹھیک ہے… شکریہ دوست ” سہام کا ٹن خالی ہو چکا تھا, وہ ملاحم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑا ہو گیا, ملاحم اسے باہر تک چھوڑنے آیا تھا
“ملاحم… یار میں اتنا برا نہیں ہوں جتنا صورتحال نے مجھے بنا دیا ہے, تو نے کہا نا کہ مجھے انشرہ سے شادی کرنی تھی تو ساریہ کو چھوڑ دینا چاہئے تھا… خدا کی قسم… میں آج اسے چھوڑ دوں لیکن… دو بچوں کے ساتھ وہ ساری عمر کے لئے تنہا ہو جاۓ گی اور میں جانتا ہوں میری طرح اس کے ماضی میں پہلی محبت نام کا کوئی دیوتا نہیں ہے جو اسے خود میں سمیٹ لے گا” سہام نے دھیرے سے کہا
“تجھے کیسے پتہ ؟” ملاحم نے کہا, سہام ٹھٹھک گیا
“کیونکہ اس نے کبھی…” وہ بولتے بولتے رکا
“اتنا اعتبار دیا تھا تو نے اسے کہ وہ تیرے سامنے اپنا ماضی کھول سکتی ؟” ملاحم مسلسل اسے دیکھ رہا تھا, سہام بول نہ سکا, دو قدم چل کر گاڑی کی طرف بڑھا, پھر رکا اور مڑا
“یعنی تو جانتا ہے کہ اس کے ماضی میں محبت نام کا دیوتا رہا ہے” اس نے پوچھا
“شاید… ” ملاحم نے کہا
“کون تھا وہ ؟”
“اسلام آباد میں سی ایس ایس کی تیاری کرتا ہوا ایک چوبیس سالہ لڑکا جو اس کی شادی کے اگلے ہی دن اس کے آنسو صاف کر کہ ہمیشہ کے لئے اسے الوداع کہہ گیا تھا… ” ملاحم دو قدم چل کر سہام کے قریب آیا
“اور اس سے وعدہ لیکر گیا تھا ساریہ مراد بھلے ہی اپنی پہلی محبت کو دھول سمجھ کر اڑا دے لیکن… اپنی ذات کو کبھی مٹی نہیں ہونے دے گی…” وہ کہتے کہتے رکا, سہام دم بخود تھا
“… اور آج ایک بار پھر… پانچ سال پہلے کی طرح وہ ساریہ مراد کو اس کے خود غرض رشتوں کے بیچ بس ایک وعدہ لیکر ہمیشہ کے لئے اکیلا نہیں چھوڑ جاۓ گا”
………………….
دن کے سوا بارہ بجے کا وقت تھا جب وہ ساریہ کے گھر پہنچا… پورے گھر میں ایک افراتفری کا سماں تھا, سہام اور حاشر سیلون گئے ہوۓ تھے, فرہاد اور سمعیہ ہال پہنچ چکے تھے اور مراد اور فاطمہ بس نکلنے والے تھے, سعدیہ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ ریڈی تھی
“ساریہ کہاں ہے آپی ؟” ملاحم نے سرسری سا سعدیہ سے پوچھا
“پارلر گئی ہے… ” وہ اپنے دوپٹے میں الجھی ہوئی تھی, ساڑھے بارہ تک تقریباً سبھی ہال پہنچ گئے, سہام بھی آ چکا تھا
“پارلر کوئی نہیں گیا… ؟” سعدیہ بھاگی ہوئی فاطمہ کے پاس آئی
“نہیں حاشر کو بھیجتی ہوں” فاطمہ نے کہا
“آنٹی میں چلا جاتا ہوں” ملاحم سعدیہ اور اس کے بیٹے کو لیکر آیا تھا
“جا میرا بیٹا… ساریہ اور ہادیہ کو لے آ… ” فاطمہ نے کہا اور اس نے اپنی خوشی میں سرشار دھیان ہی نہیں دیا کہ انہوں نے انشرہ کا نام ہی نہیں لیا تھا, پانچ منٹ میں وہ پارلر پہنچ گیا
“ساریہ مراد کو بلا دیں” اس نے گاڑی سے نکل کر باہر کھڑے چوکیدار سے کہا تھا, وہ سر ہلا کر اندر چلا گیا, ملاحم نے گاڑی کے ڈور سے ٹیک لگا لی, چند لمحوں بعد ہادیہ اسے تھام کر باہر لے آئی تھی
ساتھ ہی گاڑی سے ٹیک لگاۓ اس لاکھوں میں ایک لڑکے کے دل پر قیامت ٹوٹی تھی
وہ ایک دم سیدھا ہوا, دم بخود پارلر کی سیڑھیاں اترتی, سرخ عروسی لہنگے میں ملبوس, زیورات سے سجی ساریہ مراد کو دیکھتا رہ گیا, ساریہ نے بس ایک نظر اس پر ڈالی تھی… پھر جھکا لی, آنسو پلکوں کی باڑ توڑنے کو بیتاب تھے, وہ قریب آئی تو ملاحم کو ہوش آیا
“دروازہ کھولیں ملاحم بھائی… ” ہادیہ نے کہا, اس نے بادل نخواستہ کار کا پچھلا دروازہ کھولا, وہ دونوں پیچھے ہی بیٹھ گئیں
نہ جانے خود پر کتنا ضبط کر کہ اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی, فرنٹ مرر سے پھر اس کی طرف دیکھا, وہ سر جھکاۓ ہوۓ تھی
“انشرہ کہاں ہے ہادیہ ؟” اس نے ہمت جمع کر کہ پوچھا
“آپ کو کچھ نہیں پتہ ؟” ہادیہ نے حیرانی سے پوچھا
“کیا… ؟”
“پھپھو نے انشرہ آپی اور سہام بھائی کی شادی سے انکار کر دیا ہے, آج صبح… اور انہیں راتوں رات دبئی بھیج دیا ہے ان کے ابو کے پاس… تو اب ان کی بجاۓ ساریہ آپی کی شادی ہو رہی ہے سہام بھائی سے” ہادیہ نے مختصراً بتایا, ملاحم نے پھر سے مرر میں اس کی طرف دیکھا, سر ابھی بھی جھکا ہوا تھا… ہاں البتہ آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر اس کے حنائی ہاتھوں پر گر رہے تھے, وہ چپ چاپ اسے ہال لے آیا, ہادیہ نے سہارا دے کر اسے نیچے اتارا, سعدیہ نے دوسری طرف سے تھام لیا
اسے سہام کے برابر میں بٹھا دیا گیا تھا
ملاحم سعد نے اس کا نکاح ہوتے دیکھا… ایک ایسے شخص کے ساتھ جو اس سے محبت نہیں کرتا تھا… جو اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا
اسے شدت سے اس اعلیٰ ظرف لڑکی کی قسمت پر رونا آیا جو اپنی آنے والی زندگی ایک ایسے انسان کے ساتھ گزارنے والی تھی جو کسی اور کے نام منسوب رہا تھا
اس نے ساریہ کو ہاں میں سر ہلاتے دیکھا…نکاح کے کاغذات پر سائن کرتے دیکھا…اور اس سے زیادہ نہیں دیکھ سکا
چپ چاپ مڑا اور ہال سے نکلتا چلا گیا
فنکشن چار بجے تک ختم ہو گیا, رشتہ داروں میں چہ میگوئیاں ضرور ہوئیں لیکن شہر میں عزت بچ گئی اور طاہرہ بیگم… ان کی شکل دیکھنے والی تھی
انہوں نے تو کیا سوچا تھا اور یہاں کیا ہو گیا ؟ نہ کوئی رونا دھونا ہوا, نہ عزت اچھلی, نہ تماشہ ہوا, چپ چاپ ساریہ سہام کے ساتھ رخصت ہو کر گھر واپس آ گئی
انگارے تھے جو ان کے سینے پر لوٹ رہے تھے… وہ دونوں بہنیں تو اب تک ساتھ تھیں… تنہا تو طاہرہ بیگم رہ گئی تھیں
گھر پہنچتے ہی سہام نے گاڑی نکالی اور کہیں نکل گیا, ہادیہ اور سعدیہ اسے سہام کے کمرے میں چھوڑ گئیں
کیا ہونا تھا… کیا ہوتا ہے اس قسم کی شادیوں کے بعد ؟ وہ رات گیارہ بجے تک بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھی رہی, موبائل آف کر دیا تھا, جب دل زیادہ بھر جاتا تو رو لیتی, پھر خود ہی چپ کر جاتی
سہام بارہ بجے آیا, کپڑے تبدیل کئے, موبائل چارجنگ پر لگایا اور منہ تک کمبل تان کر لیٹ گیا, اس نے دھیرے دھیرے سارے زیور اتارے, پھر کپڑے بدلے, میک اپ اتارا اور چپ چاپ ٹیرس پر نکل آئی, کمرے میں سانس بند ہو رہا تھا, ریلنگ سے ٹیک لگا کر فرش پر ہی بیٹھ گئی
کھل کر رو بھی نہیں سکتی تھی… پوری رات گھٹ گھٹ کر روتی رہی, سسکیاں بھرتی رہی
“ملاحم… ایم سوری, ایم سوری… “
…………………..
اسے واپس آۓ چھ ماہ ہو گئے تھے, ماہر کو سکول داخل کروا دیا تھا, وہاں اکیلے رہ رہ کر سمعیہ کی طبیعت اچھی خاصی اپ سیٹ ہو گئی تھی سو تھک ہار کر وہ واپس آ گئیں اور مروہ کو بھی لے آئیں, یہاں اسے سنبھالنا آسان تھا, فاطمہ, سعدیہ… اور یونیورسٹی کے بعد ہادیہ بھی گھر ہی ہوتی تھی
“انشرہ روز یہاں کیسے آیا کرے گی ؟” سہام اور انشرہ دونوں اس شام آۓ تھے
“نہ آۓ… ہفتے بعد آ جایا کرے” سمعیہ نے کہا
“مروہ رہ لے گی اس کے بغیر… ؟” سہام نے کہا
“پہلے بھی تو سارا دن اس کے بغیر ہی رہتی ہے, بس رات کو ہی سوتی ہے اس کے ساتھ… دل بڑا کرو, ہفتے بعد آ جایا کرنا…میری بس ہو گئی ہے” سمعیہ نے کہا
“اب کہاں ہے مروہ ؟” انشرہ نے پوچھا
“ساریہ لیکر گئی ہے ” انہوں نے کہا
“ساریہ نے اٹھا لیا اسے ؟” سہام ایک دم بولا, سمعیہ نے غصے سے اسے دیکھا
“صرف جنم دینے والی ماں نہیں ہوتی سہام… پالنے پوسنے والی بھی ماں ہوتی ہے, صرف حضرت آمنہ ہی ہمارے نبی کریم صہ کی ماں نہیں تھیں… حضرت حلیمہ سعدیہ کا بھی بڑا مقام ہے بیٹے… اسی نے پالا ہے اسے, ڈیرھ سال… اب یہاں آ گئی تو کیا اٹھا کر دور پھینک دے گی اسے ؟ ” سمعیہ نے اسے اچھا لتاڑا
“نہیں بس میں… ” وہ سر جھکا گیا, انشرہ اٹھ کر اوپر چلی گئی
“سہام… بیٹے ایک دفعہ اور اس سے بات کر… ایک آخری دفعہ, مان جاتی ہے تو منا لے” سمعیہ نے کہا
“وہ نہیں مانے گی امی… ” سہام نے کہا
“پھر پوچھ لے کہ کیا چاہتی ہے ؟”
………………….
جاری ہے