Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 10)

Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal

صارم پھر کب چلنا ہے زینب کی طرف شبانہ بیگم نے خوشی سے صارم سے پوچھا

جب سے انہوں نے صارم کی خوشی کو دل سے مانا تھا ان کے دل کی بھی یہی خواہش بن گئی تھی

کہ جلد سے جلد زینب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس گھر میں لے آئے..

امی ابھی تو مجھے زینب کو منانا ہے آپ نہی جانتی کتنی ضدی ہے وہ

دو سال میں نے اس گھر میں گزارے ہیں جانتا ہو وہ آسانی سے نہی مانے گی

بہت پاپڑ بیلنے پڑے گے صارم نے شرارتی انداز میں کہا…

اچھا پھر جلدی پاپڑ بیل اور منا لے اسے..

جی آج ہوسپٹل سے واپسی پر ممانی کی طرف جائو گا دعا کیجئے گا…

ارے میری دعائیں تمہارے ساتھ ہے اللہ تمہیں کامیاب کرے ہر نیک مقصد میں..

اچھا میں چلتا ہو..

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

امی آپ نے سوچا بھی کیسے میں اس رشتے کے لئے کبھی بھی نہی مانو گی

چاہے کچھ ہو جائے میں ساری زندگی کنواری رہنا پسند کر لو گی پھوپھو کے گھر نہی جائو گی

نجمہ نے زینب کو ساری بات بتا دی تھی اور وہ تب سے آگ بگولہ ہو رہی تھی..

دیکھ زینب میں اس رشتے پر دل سے خوش ہو لیکن اگر تو راضی نہی ہو گی

تو میں بھی نہی مانو گی تو اتنا بھڑک کیوں رہی ہے..

بس کرے امی آپ تو ساری زندگی پھوپھو نے ہمیں کبھی منہ نہی لگایا اس دن بھی آئی اور بےعزتی کر کے چلی گئ

اور آپ پھر بھی اس رشتے پر دل سے خوش ہے

پر مجھ سے کوئی امید نا رکھئے گا مجھے پھوپھو کی باتیں بھولی نہی ہے..

ارے تیری پھوپھو بھی انسان ہے وہ شرمندہ ہے اپنی باتوں پر مجھ سے معافی بھی مانگی ہے انہوں نے

اور میں نے انہی معاف کر دیا ہے تم بھی دل بڑا کرو اور معاف کر دو پھوپھو کو

تم سے بڑی ہے کچھ کہہ دیا تو کیا ہوا

اگر ان کی جگہ میں تمہیں کچھ ایسا کہہ دیتی تو مجھ سے بھی اتنی نفرت کرتی کیا…

امی آپ ________________ زینب سے آگے کچھ بولا ہی نہی گیا..

دیکھو بیٹا معاف کرنے سے انسان چھوٹا نہی ہو جاتا بلکہ معاف تو وہی کرتا ہے

جس کا ظرف بڑا ہو اور مجھے یقین ہے میری بیٹی بڑے ظرف والوں میں ہے..

جب آپ سب کچھ تہہ کر کے بیٹھی ہے تو مجھ سے کیا پوچھ رہی ہے جو دل کرتا ہے کرے

وہ پائوں پٹختی روم سے نکل گئی..

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

عمر ہو یا اسد مجھے کسی سے بات نہی کرنی نکل جائو میرے روم سے

زینب اپنے روم میں منہ تکیہ میں دے کر لیٹی تھی جب قدموں کی آہٹ ہوئی

اسے لگا عمر یا اسد ہو گے وہی اس ٹائم گھر آتے ہیں..

عمر اسد نہیں میں ہو..

تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے روم میں آنے کی زینب صارم کی آواز پر غصے سے کھڑی ہو گئی..

مجھے تم سے بات کرنی ہے..

مجھے تم سے کوئی بات نہی کرنی امی مجھ سے بات کر چکی ہے تمہارا مقدمہ انہوں نے

بہت اچھے سے لڑا اور جیت گئی ہے جائو اب مجھے تم سے کوئی بات نہی کرنی

اپنی کم مائیگی کا سوچ کر زینب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے..

زینب پلیز رو نہی صارم کو اس کے آنسوئو سے تکلیف ہو رہی تھی..

میں رو نہیں رہی مسٹر صارم مجھ پر ہمدردی دکھانے کی ضرورت نہی ہے

نکلوں میرے روم سے…

میری بات سن لو میں چلا جائو گا.

ہاں بولو اب کیا رہتا ہے بولنے کو زینب نے طنزیہ انداز سے کہا..

زینب میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہو پر تمہاری خوشی سے کوئی زبردستی نہی کرے گا

تمہارے ساتھ میں تمہاری آنکھ میں آنسو نہی دیکھ سکتا اور امی نے جو بھی کہا وہ شرمندہ ہے

اپنے الفاظ پر میں یہ بھی نہی کہوں گا کہ امی کو معاف کر دو کیونکہ تمہیں پورا حق ہے

کہ کسی انسان نے تمہاری بےعزتی کی ہے تو بدلہ لو اس سے بس اتنا کہوں گا

محبت کرنا تمہارے بس میں نہی ہے تو ٹھیک ہے پر مجھ سے نفرت نہی کرو

میں نے تو کبھی خواب میں بھی نہی سوچا کہ تم ہارو اور میں جیتوں

اگر تم ہارو گی تو میں بھی ہارو گا..

اور تم مجھے خود سے محبت کرنے سے نہیں روک سکتی کیونکہ یہ میرے بس میں نہیں ہے

تم سے محبت میرے لہو میری رگ رگ میری سانسوں میں بسی ہے

تمہیں تب سے چاہتا ہو جب چاہت کے معنی بھی نہیں پتہ تھے اور اب تو میں بہت آگے نکل آیا ہو

اس راستے پر منزل ملے نا ملے میں واپس نہیں مڑ سکتا چاہیے ساری زندگی بھٹکتا رہو

سر ٹکرا ٹکرا کے مر جائو

بس تم خوش رہو مجھے تمہاری خوشی عزیز ہے چلتا ہو

اور ہاں وہ دروازے کے پاس رک گیا

میں ممانی سے بھی بول دو گا تم سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرے گا

اللہ حافظ..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *