Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal NovelR50652 Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 01)
Rate this Novel
Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 01)
Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal
اف اللہ آپی یہ کیا بنایا ہے آپ نے مارنے کا ارادہ ہم معصوموں کو…
عمر کے بچے میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں ایک تو سارا دن چولہے کے آگے اتنی گرمی میں کھڑے ہو کر تم منحوسوں کے لئے بریانی بنائی
اور باتیں دیکھوں کیسے سنا رہے ہو اتنا کہہ کر زینب وہی زمین پر بیٹھ کر رونے لگی..
اف ایک تو ہماری آپی اللہ کے فضل و کرم سے ڈرامہ نہی پوری فلم ہے اسد نے بھی اپنا حصہ ڈالا..
اچھا ٹھیک ہے جائو تم دونوں مجھ سے بات نہیں کرو زینب نے اپنے آنسو صاف کئے اور روم میں جانے لگی..
ارے آپی ہم تو مزاق کر رہے تھے آپ نے سچ سمجھ لیا دونوں بھائیوں نے زینب سے لاڈ سے پوچھا..
اچھا مزاق تھا یہ تو چلو کھائو بیٹھ کر زینب نے کھانے کی طرف اشارہ کیا..
اچھا کھا رہے ہیں آپ بھی آ جائو دونوں نے برے برے منہ بناتے ہوئے بیک وقت کہا…
ارے زینب پانی پلا باہر تو بہت گرمی ہے …
جیسے ہی وہ کھانے کے لئے بیٹھنے لگے نجمہ بیگم کی آواز آئی…
شکر ہے امی آپ آ گئی ورنہ آپ کی بیٹی کا پورا پورا ارادہ تھا ہم معصوموں کو مارنے کا..
تم دونوں پھر شروع ہو گئے ..
زینب نے غصے سے کہا…
تم تینوں اپنی چونچیں بند کرو زینب مجھے پانی پلا..
ماں کے غصے سے ڈر کر عمر اور اسد کھانا کھانے لگے زینب ماں کے لئے پانی لے آئی..
امی آپ جلدی نہیں آ گئی مجھے تو لگا شام تک آئے گی..
ہاں وہ ایک دو گھروں میں اور بھی جانا تو تھا پھر نہیں گئی تم کل کالج سے واپسی پر پیسے لیتی آنا ..
مجھے نہیں اچھا لگتا خود ان میڈموں کو نہیں پتہ کپڑے لے جاتی ہیں تو سلائی دینا یاد نہیں رہتا ان کو..
زینب نے ہمیشہ کی طرح غصہ دکھایا …
اچھا منہ بند کر اپنا موقع چاہیے تجھے بولنے کا نجمہ بہگم نے اسے ڈانٹ کر چپ کروایا…








زینب سب سے بڑی ہے اس سے چھوٹا عمر اور پھر اسد زینب bsc عمر fsc کر رہا ہے اور اسد میٹرک کا سٹوڈنٹ ان کے والد فاروق صاحب ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھے دل کے مریض تھے
کچھ عرصہ پہلے ان کا انتقال ہو گیا یہ سب بہت بری طرح سے ٹوٹ گئے
لیکن زندگی کی ایک تلخ حقیقت پیٹ ہے جسے ہر حال میں کھانے کو چاہے
اس لئے وہ سب ایک دوسرے کا سہارے بنتے ہیں اور جلد ہی عمر اور اسد کی شرارتوں سے سب زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں..
فاروق صاحب کی پنشن آتی ہے اور نجمہ بیگم کے پاس سلائی کا ہنر ہے جس سے وہ گھر کی گاڑی چلا رہی ہے.
بچے چاہے جتنے شرارتی لیکن ماں کا گھر کے اخراجات کا اچھے سے اندازہ ہے زینب اور عمر بچوں کو ٹیوشن دے کر پڑھائی کاخرچا نکال لیتے ہیں …








اماں ابھی ہم کون ساامیر کبیر ہے جو وہ آپ کا رشتے دار ہمارے گھر رہے گا
زینب نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا..
بس زینب تو ایسا کیوں سوچتی ہے مہمان تو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں وہ میرا ہی نہی تم سب کا کزن ہے پھوپھو کابیٹا ہے تمہاری….
تو کیا کرے ویسے تو کبھی کسی کو خیال آیا نہیں ہمارا ابو کے بعد سب مطلب کے ہیں ..
زینب بس کر اور اوپر والا کمرہ بچے کے لئے سیٹ کر دے …
لو بچہ کدھر سے ہو گیا مجھے تو یاد بھی نہیں پتہ نہی کدھر سے نکل آتے ہیں یہ رشتے دار …
ارے عمر کی کلاس میں ہے اسی کے کالج میں ایڈمیشن لیا ہے اس نے…
اچھا بابا مجھے نہیں سننی تعریفیں جا رہی ہو کب آنا ہے اس نمونے نے…
زینب آخری بار بول رہی ہو اب کوئی بکواس نہی کرنا کل شام تک آجائے گا اور دل بڑا کرنا سیکھو…
ہو آ جائے گا کل شام تک زینب بڑبڑاتے ہوئے کمرہ ٹھیک کرنے چلی گئی…









دیکھوں سب کو مجھے بھول کر اس لنگور کے آگے پیچھے پھر رہے ہیں اگر اب مجھ سے دونوں نے بات کی دیکھنا کیا حال کروگی میں
زینب خود میں ہی جل بھن رہی تھی جب سے اس کا کزن آیا تھا اسد اور عمر اس کے ساتھ بیٹھے تھے ..
ارے زینب آپ ادھر کیوں کھڑی ہے آپ بھی آ جائے صارم بھائی تو بہت اچھے ہے..
لگتا ہے زینب کو ہمارا آنااچھا نہیں لگا صارم نے کہا..
نن—نہی ایس کوئی بات نہیں میں تو ایسے ہی کچن میں کام کر رہی تھی زینب نے جلدی سے بات بنائی کیوں کے نجمہ بیگم کی گھوری وہ دیکھ چکی تھی
اسی لئے جلدی سے ان لوگوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی..
صارم نے بہت غور سے اسے دیکھا …..
آپ کیا کرتی ہے صارم نے زینب سے پوچھا..
میں bsc کر رہی ہو زینب نے منہ بنا کر جواب دیا…
صارم نے دلچسپی سے زینب کو دیکھا…
صارم یار یہ ہماری آپی بہت مزے کے کھانے بناتی ہے ابھی دو دن پہلے اتنی لذیز بریانی کھلائی کے کیا بتائو
عمر نےطنزیہ کہا…
امی زینب نے شکایتی نظروں سے ماں کی طرف دیکھا..
عمر تنگ نہیں کرو بہن کو …
ارے صارم بھائی آپ بھی بچ کے رہنا آپی ہی لگی آپ کی بھی عمر نے شرارت سے کہا…
ارے میری کیوں آپی ہوئی صارم کے یکدم سے منہ سے نکلا…
وہ سب صارم کی طرف دیکھنے لگے
