Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal NovelR50652 Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 07)
Rate this Novel
Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 07)
Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal
تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے گھر آنے کی کوئی کسر رہ گئ تھی کیا
زینب گھر پر اکیلی تھی بیل بجنے پر اس نے دروازہ کھولا اور سامنے صارم کو کھڑے دیکھ کر
اس کے تن بدن میں آگ لگ گئ..
پلیز مجھے اندر آنے دو بات کرنی ہے…
امی گھر پر نہی ہے اور تمہارے لئے اب اس گھر میں کوئی جگہ نہیں
دفع ہو جائوں ادھر سے..
بس ایک بار بات سن لو میں چلا جائو گا صارم نے منت کرنے والے انداز میں کہا..
یہی پے بولو کیا بات کرنی ہے اور نکل لو..
ادھر نہیں لوگ دیکھ کر کیا سوچے گے پلیز زینب اندر آنے دو ایسے اجنبی نا بنو پلیز..
مسٹر صارم ہم ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہی ہیں تم مہمان تھے کبھی ہمارے
اب کوئی رشتہ نہیں ہے ہمارا..
پلیز زینب ایک بار بولنے کا موقع تو دو پھر جو سزا دو گی منظور ہو گی مجھے
بس ایک بار سن لو..
اچھا ٹھیک ہے آ جائو زینب نے بادلنخواستہ اجازت دی ایسے دروازے پر کھڑے ہونا اسے اچھا نہی لگ رہا تھا..
ہاں بولو کیا کہنا ہے تمہیں وہ صارم کو لان میں رکھی کرسیوں کی طرف لے آئی
اور آتے ساتھ ہی مطلب کی بات پر آ گئی..
سب سے پہلے مجھے معافی مانگنی ہے امی کے اس دن کے رویے کی..
کر دیا معاف بس اب جائو زینب نے احسان کرنے والے انداز میں کہا..
اور مجھے اپنی شدتوں کا حال بیان کرنا ہے تم سے صارم نے بیقراری سے کہا..
کیا کون سی شدتیں پتہ بھی ہے کیابول رہے ہو زینب نے اسے ڈانٹ کر چپ کرانے کی کوشش کی
جیسے پہلے کرتی تھی پر اب وہ fscکا سٹوڈنٹ نہیں ڈاکٹر صارم تھا..
پلیز زینب ایسے مت بولو مجھے سمجھ نہی آ رہا کہاسے شروع کرو..
ارے تمہارا دماغ ٹھیک ہے پتہ ہے کیا بات کرنی ہے..
زینب جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا بہت اپنی اپنی سی لگی تھی
بہت پیارا احساس جاگا تھا تم میری نوعمری کا عشق ہو میری رگ رگ میں شامل ہو
تمہیں چوری چوری دیکھنا تمہاری ڈانٹ تمہاری باتیں مجھے کتنی اچھی لگتی تھی
کبھی بتا نہی سکا کیوں کہ میں صیح ٹائم کے انتظار میں تھا
صارم جلدی سے شروع ہو گیا کہ کہیں یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل نا جائے
میں چاہتا تھا کسی قابل بن جائوں پھر تمہیں ممانی جان نے ہمیشہ کے لئے مانگ لو گا
جب میں یہاں سے جا رہا تھا جیسے تم میرے گلے لگ کے روئی تھی
خدا کی قسم میرا دل کیا کہ رک جائو پر دور جاتا تب ہی نزدیک آتا
اور تم سے بات اس لئے نہی کرتا تھا میں اپنے ارادوں میں کمزور نہی پڑنا چاہتا تھا
بات کرتا تو ملنے کو دل کرتا ملتا تو مقصد سے پیچھے ہٹتا مقصد سے پیچھے ہٹتا تو
مطلب تم سے ہمیشہ کے لئے دوری جو کہ مجھے نامنظور تھی
اس لئے وقتی جدائ برداشت کرتا رہا
میں جب تمہارے قابل بنا تو ماں سے تمہارے لئے بولا پاپا کو تو کوئ اعتراض نہی تھا
ماما نے بہت شور کیا پر وہ مان گئ اس دن پاپا بھی آتے ساتھ وہ کام کی وجہ سے نہی آ سکے
آ جاتے تو یہ سب نا ہوتا مجھے نہیں پتہ تھا ماما کچھ ایسا بولے گی
مجھے معاف کر دو پلیز میں ماما کو منا کر لائو گابس تم وعدہ کرو کہ انتظار کروگی
صارم نے اس کے سامنے ہاتھ پھیلایا..
صارم کے خاموش ہونے پر زینب ہوش میں آئی صارم کے پھیلے ہوئے ھاتھ کو حیرت سے دیکھنے لگی..
زینب کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آ گئ بیتی باتیں وہ وقت یاد کر کے..
کرو وعدہ پلیز زینب مجھے خالی ہاتھ مت لوٹانا کوئی آس دلا دو مجھے
میں بہت چاہتا ہو تمہیں نہی رہ سکتا اب بہت انتظار کیا ہے میں نے تمہارا..
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے یہ سب بکواس کرنے کی پہلے تمہاری ماں کم کر کے گئی تھی
جو باقی کسر تم پوری کر رہے تھے ہم نے تمہیں اپنے گھر میں رہنے کو جگہ دی
اور تم میرے بارے میں یہ سب سوچتے تھے اس سے پہلے کے میں تمہارے ساتھ کچھ کر دو نکل جائو
میرے گھر سے..
زینب پیار کرنا کوئی گناہ تو نہی اور مجھے خود نہی پتہ چلا یہ سب کیسے ہوا
پلیز ایسے مت کرو..
گناہ نہی ہے پر تمہیں شرم نہی آئی میرے بارے میں یہ سب سوچتے ہوئے
میں تمہیں عمر کی طرح ٹریٹ کرتی تھی عمر جیسا سمجھ کر اور تم تمہیں شرم نہی آئ
میں بڑی ہو تم سے کوئ تو لحاظ رکھتے..
پلیز زینب بڑی ہو تو کیا ہو زیادہ بڑی تو نہیں ہو بس دو سال اتنے سے فرق نہی پڑتا
میں نے جان بوجھ کے تو یہ سب نہی کیا میرا کوئ اختیار نہی چلا اس سب پر صارم نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا..
مان لیا اب دفع ہو جائو ادھر سے مجھے دوبارہ کبھی نظر نا آنا..
ابھی تو میں جا رہا ہو بہت جلد امی ابو کے ساتھ آئو گا اور تمہیں ہمیشہ کے لئے لے جائوں گا…
ایسا کبھی نہی ہو گا زینب نے سختی سے انکار کیا..
ایسا ہی ہو گا ایک دن تمہیں بھی مجھ سے محبت ہو گی مجھے اللہ پر یقین ہے…
تم جاتے ہو یا کوئی چیز مارو تمہارے سر میں..
جا رہا مت جلائو خود کو اپنا خیال رکھنا عمر اسد اور ممانی کو میرا سلام کہنا…












پتہ نہی اس لڑکی کا کیا بنے گا اب پتہ نہی کیوں منہ بنا کے بیٹھی ہے
اللہ ہی خیر کرے کس کی شامت آنے والی ہے
عمر نے زینب کو خاموش بیٹھے دیکھا تو طنز کیا..
تیری ہی شامت آنے والی ہے بھائی اسد نے بھی لقمہ دیا..
ہیںں،،،،،، میں نے کیا کیا ہے عمر نے حیرت سے اسد کی طرف دیکھا…
تو اور کیا میں نے کچھ کیا ہو گا میں تو شرافت سے رہتا ہو گھر میں اپ ہی اپی سے پنگا کرتے ہے
اور پھر بےعزتی کرواتے ہے کھی کھی کھی اتنا کہ کر اسد ہنسنے لگا..
تم دونوں بکواس بند کرو گے
زینب نے اکتا کر کہا وہ ان دونوں کی باتیں سن رہی..
آپ مراقبے سے باہر آگئ آپی عمر نے مزاق کیا…
عمر کے بچے میں تیرا سر پھاڑ دینا ہے..
میرے بچے کدھر سے آ گئے ابھی تو میرے اپنے کھیلنے کودنے کے دن ہیں..
ہاں جی بلکل اپ تو ننھے سے بی بی ہے ہمارے اسد فیڈر لے کے آئو بی بی کا…
ہاہاہاہاہا آپی مزا آ گیا بھائ کی بےعزتی سے کافی دنوں سے آپ نے کی نہی تھی
تو بہت اڑ رہے تھے اسد نے خوش ہو کر زینب کو داد دی…
زینب چل کچن میں ہر وقت تینوں لڑتے رہتے ہو نجمہ بیگم نے زینب کو کچن میں بھیجا
اس سے پہلے کے تینوں کی لڑائ آگے بڑتی…










صارم بیٹا کھانا لائو تیرے لئے صارم جیسے ہی گھر آیا شبانہ بیگم لپک کر اس کی طرف گئی
اکلوتا بیٹا تھا اور ان سے بات نہی کر رہا تھا..
میں کھا کر آیا ہو صارم بے رخی سے بول کر روم میں چلا گیا..
