Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 08)

Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal

زینب میں دیکھ رہی ہو کچھ دنوں سے تم چپ چپ ہو کیا بات ہے

نجمہ نے زینب کو خاموش بیٹھے دیکھا تو پوچھا..

نہی امی کوئ بات نہی بس ایسے ہی…

اچھا تم مجھ سے چپھائو گی بتائو مجھے کیا بات ہے نجمہ نے زینب کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا..

امی وہ صارم اتنا کہہ لر وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی..

ارے تم اس دن کی ات پر ابھی تک پریشان ہو چھوڑو اس بات کو

نجمہ بیگم سمجھی کہ وہ اپنی پھوپھو کی باتوں پر پریشان ہے

انہیں نہی پتہ تھا کہ صارم آیا تھا..

جج________جی امی میں اسی بات پر زینب ناں کو پریشان نہی کرنا چاہتی تھی اس لئے

وہ بھی بات بدل گئی..

اچھا اب سیڈ نہی ہو نا تم میں تمہیں اپنے گھر کا کرنا چاہتی ہو

ایک دو رشتے والیوں سے میں نے بولا ہوا ہے کوئی اچھا رشتہ نظر میں ہوا تو بتائیں گی..

امی مجھے نہی کرنی شادی زینب نے ماں کی گود میں سر رکھ کر لاڈ سے کہا..

ارے کیوں نہی کرنی میں تو چاہتی ہو جیتے جی تم تینوں کی خوشیاں دیکھ لو..

تو ہم عمر بھائی کی پہلے کر دیتے ہیں اب ماشااللہ سے اچھی پوسٹ پر ہے اسد کی سڈی بھی کمپلیٹ ہونے والی ہے…..

تم بڑی ہو پہلے تمہاری کرو گی..

ارے امی مجھے نہی پتہ آپ عمر سے بات کرے اسے کوئی لڑکی پسند ہے تو

ٹھیک ورنہ ہم دیکھنا تو شروع کرے اچھی لڑکی مشکل سے ملتی ہے..

کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو کوئی اچھا رشتہ ہوا تو ساتھ میں ہی دونوں کی کر دو گی…

ارے میں بول رہی ہو پہلے بھائی کی کرے گے میں انجوائے کرنا چاہتی ہو

اگر میری ساتھ کرے گی تو خاک مزہ آئے گا😏😏

اچھا بس کر منہ نا بنا پہلے کوئی رشتہ ملے تو عمر سے بھی بات کرے گے

نجمہ بیگم نے بات ختم کرنے کی کی…

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

صارم کیوں مجھے تنگ کر رہے ہو محمود آپ ہی اسے سمجھائے

وہ لڑکی اس کے لئے مجھے پسند نہی اور ہے بھی بڑی ایک بار تو چلی گئی تھی

دوسری بار کی مجھ سے امید نا رکھنا..

تو آپ بھی بھول جائے کے میں شادی کرو گا کسی اور سے زینب کے علاوہ

صارم نے سختی سے کہا…

شبانہ صارم ہمارا بیٹا ہے تم اس کی خوشی کے لئے مان جائو اور زینب تمہاری بھتیجی ہے

محمود صاحب نے بھی صارم کی سائیڈ لی…

بس رہنے دے آپ باپ بیٹے مجھے زینب نہی پسند پہلے اس کی ناں نے میرا بھائی چھینا

اور اب وہ لڑکی مجھ سے میرا بیٹا چھینے یہ میں کبھی ہونے نہی دو گی

شبانہ نے نفرت سے کہا…

تو ٹھیک ہے امی آج کے بعد اس گھر میں میری شادی کی بات نہی ہو گی

ورنہ میں یہ گھر چھوڑ دو گا صارم ٹیبل کو ٹھوکر مار کے تن فن کرتا گھر سے نکل گیا..

دیکھ رہے ہیں آپ اس لڑکے کو ابھی یہ حال ہےشادی ہو گئ اس زینب سے تو کیا ہو گا..

ارے بیگم کچھ نہی ہو گا اگر دل بڑا کر کے بیٹے کی خوشی کا خیال کرو گی

تو اس کے دل میں اور عزت بڑھے گی تمہاری..

میں کیسے سمجھائو آپ کو مجھے وہ لڑکی نہی پسند تو نہی ہے

چاہے جو مرضی بولے اپ میرے دل میں جو نفرت ہے ان مے لئے کبھی کم نہی ہو سکتی…

تم بلاوجہ کی نفرت پال کر بیٹھی ہو اب تو تمہارا بھائی بھی اس دنیا میں نہی رہا

اس کے لئے ہی سوچ مو اس کی روح نو کتنی تکلیف ہوتی ہو گی تمہارے منہ سے

یہ سب سن کر اور پسند کی شادی کرنا کوئی جرم نہی ہے سوچنا اس بات پر

ورنہ اکلوتا بیٹا کھو دو گی…

میں کیسے سمجھائو اس دل کو شبانہ بیگم بڑ بڑانے لگی…

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میرا انتظار کرو گی..

اف کیوں میں سوچ رہی ہو اس نمونے کو میں کیوں کرو گی اسکا انتظار

زینب اکیلی روم میں بیٹھی انجانے میں ہی صارم کی باتیں زوچ رہی تھی اور خود پر ہی جھنجھلا رہی تھی

وہ سوچوں میں گم تھی کہ اس کا فون بجا..

ہیلو کون ؟؟؟

میں صارم..

تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی کال کرنے کی…

ہمت کی بات نا کرو زینب ہمت تو بہت ہے مجھ میں بس تم ساتھ دو میرا پلیز..

تمہارے دماغ سے یہ خناس نکلا نہی پھر وہ ہی بکواس..

یہ خناس نہی بہت انمول اور پاکیزہ جزبے ہیں میرے تمہارے لئے

انہیں یو بے مول نا کرو خناس بول کر…

صارم پلیز میں تمہیں لاسٹ بار بول رہی ہو آیندہ مجھ سے ایسی بات نا کرنا

میں امی اور عمر کو بتا دو گی انہیں بہت اعتبار ہے نا تم پر میں نہی چاہتی کہ وہ ٹوٹے…

میں کچھ غلط تو نہی کیا زینی جو تم مجھ سے یو بات کر رہی ہو ان جزبوں پر کسی کا اختیا نہی ہوتا..

تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے زینی بولنے کی ساری تمیز بھول گے ہو زینب نام ہے میرابڑی ہو تم سے

آپی بولا کرو عمر اسد کی طرح…

سوری آیندہ مجھ سے ایسا نہی کہنا اور ایک دن آئے گاجب تمہیں مجھ سے محبت ہو گی

وہ بھی بے انتہا..

اور ایسا کبھی نہی ہو گا اتنا بول کہ زینب نے جلدی سے فون رکھ دیا اس کا دل بہت تیز دھڑک رہا تھا

صارم کی باتوں سے وہ اندر تک ہل گئ تھی کچھ سمجھ نہی آ رہا کیا کرو

کیسے سمجھائو اس لڑکے کو مجھے بدنام کر کے چھوڑے گا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *