Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 04)

Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal

اف امی ہم تھک گئے رات گئے جب وہ چاروں باہر سے آئے تو نجمہ بیگم ان کا انتظار کر رہی تھی

اتنا لیٹ مجھے پریشانی ہو رہی تھی وہ بچوں کو ڈانٹنے لگی…

ارے میری پیاری ماں فکر نہیں کرے اب ہم صیح سلامت گھر آ گئے ہیں

زینب لاڈ سے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دی..

اچھا ہٹوں پیچھےاور صارم بیٹا آپ بتائو مزہ آیا انہوں نے خاموش کھڑے صارم کو مخاطب کیا..

ارے امی بہت آیا صارم کی وجہ سے ہی لیٹ ہوئے زینب اور یہ نئے نئے دوست بنے ہیں

تو دونوں مجھے اور اسد کو اکیلا چھوڑ کر پتہ نہیں کدھر کدھر کی خاک چھانتے رہے ہیں

عمر نے جلے دل سے کہا

کیونکہ زینب نے اسے اور اسد کو ایک جگہ ویٹ کرنے کا بولا اور صارم کو ساتھ لے پیٹ پوجا کر آئی

اور یہ دونوں بھوکے ہی رہ گئے زینب نے کل کا بدلہ لیا جب وہ ناراض تھی تو دونوں میں سے کسی نے نہی منایا تھا..

زینب بری بات بیٹا باہر بھی تم لوگ یہی کچھ کرتے ہو

دیکھنے والے بھی کہتے ہو گئے کیا تربیت کی ہے ان کے والدین نے..

ارے امی کسی نے کچھ نہیں کہا میں سونے جا رہی ہو آپ کے دونوں شہزادے بیٹے بھوکے ہیں کچھ کھلا دے ان کو

زینب کھلکھلاتی ہوئی اوپر چلی گئی …

اچھا جائوں منہ ہاتھ دھو لو سالن تو بنا ہوا ہے میں روٹی ڈالتی ہو اور صارم بیٹا تم بھی آ جائو ..

نہیں آنٹی میں تو کھا کر آیا ہو سوری اسد عمر وہ زینب کو میں نے بولا بھی تھا کہ کچھ لے جائے..

ارے سوری کی ضرورت نہیں بیٹا زینب ایسی ہی ہے لاپرواہ تم جائو ریسٹ کرو..

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

صارم روم میں آنے کے بعد چینج کیا اور بیڈ پر لیٹ گیا پر آج کی رات نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی

اسے بار بار وہ پل یاد آ رہا تھا جب زینب اس کا ہاتھ پکڑ کر لے گئی تھی

زینب کتنی پیاری ہے اور اس کی آنکھیں کیسے جھیل سی گہری ہے

اور میں ڈوب رہا ہو ان میں آہستہ آہستہ

مجھے پتہ ہے شائد اسے اچھا نا لگے بٹ میں کیا کرو میرے بس میں نہیں

وہ مجھے عمر کی طرح ٹریٹ کرنے لگی ہے اگر اسے پتہ چلے کے میں کیا سوچ رہا ہو تو کیا ردعمل ہو گا

میں ابھی کسی کو پتہ نہی لگنے دو گا پہلے کچھ بنوں گا پھر زینب کا ہاتھ مانگوں گا

وہ پہلے ہی امی سے ناراض ہے مجھ سے بھی نا ہو جائے

یہی سب سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا….

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کتنی جلدی ٹائم گزر گیا پتہ بھی نہیں چلا آج صارم نے چلے جانا تھا اس کی fsc ہو گئی تھی انٹری ٹیسٹ بھی کلئیر کر لیا تھا

آگے اسے میڈیکل کی فیلڈ میں جانا تھا ایڈمیشن بھی ہو گیا تھا میڈیکل کالج میں

اب اس نے ہاسٹل میں رہنا تھا

عمر انجینرنگ کی طرف جا رہا تھا اسد بھی کالج میں آ گیا تھا اور زینب آگے msc میں ایڈمیشن لیا تھا کالج سے یونیورسٹی کا سفر طے ہو گیا تھا

نجمہ بیگم بہت خوش تھی اپنے بچوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر….

صارم تم ہمارے پاس ہی رہ لو پہلے کی طرح ہاسٹل رہنے کی کیا ضرورت ہے

زینب کی بات پر صارم مسکرانے لگا

مسکرا کیوں رہے ہو میں نے کوئی لطیفہ تو نہی سنایا زینب نے چڑ کر کہا

اسے اچھا نہی لگ رہا تھا صارم جا رہا تھا ..

کچھ یاد آگیا تھا اس لئے مسکرایا صارم نے ٹالنے والے انداز میں کہا..

بتائو مجھے کیا یاد آیا…

ارے صارم کو یاد آیا ہو گا جب وہ آیا تھا رہنے تم نے کتنا رولا ڈالا تھا اور اب اداس ہو رہی ہو جا رہا ہے تو….

ہاں رولا تب ڈالا تھا جب دوست نہی تھا ابھی صارم میرا بیسٹ فرینڈ ہے تم دونوں نمونے مجھے تنگ ہی کرتے ہو

بس صارم میری سائیڈ لیتا ہے اور اب یہ بھی نہی ہو گا زینب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے…

زینب پلیز ایسے تو نا کرو میں جانہی سکوں گا صارم کو تکلیف ہوئی تھی اس کے آنسو دیکھ کر

اس نے بہت مشکل سے یہاں سے جانے کا فیصلہ کیا تھا وہ چاہتا تھا کسی قابل بن جائے پھر زینب کے سامنے آئے..

اچھا میں ٹھیک ہو چلو ہمیں جانے سے پہلے آئس کریم کھلا کر لائو زینب نے فرمائش کی…

اچھا چلو صارم فورن کھڑا ہو گیا ..

وہ چاروں باہر چلے گئے اور نجمہ بیگم زینب کے بچگانہ رویے کو سوچ کرمسکرانے لگی…

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم آتے جاتے رہنا بیٹا جب دل کرے ہماری یاد آئے تو دوڑے چلے آنا یہ گھر تمہارا بھی ہے

نجمہ بیگم نے صارم کے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا…

جی ضرور صارم نے سعادت مندی سے کہا…

عمر اسد سے ملنے کے بعد جب اس نے زینب کو اللہ حافظ بولا تو وہ بھاگ کر اس کے گلے لگ گئی

اور رونے لگی میں تمہیں بہت مس کرو گی ملنے آئو گے …

ہاں آئو گا صارم سے آگے بولا نہی گیا گلے میں آنسوئوں کا پھنداسا اٹک گیا..

چلتا ہو اللہ حافظ بول کر وہ نکل گیا

کچھ دیر اور رکتا تو اس کے بھی آنسو بہنے لگتے اور وہ کوئی غلطی نہی کرنا چاہتا تھا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *