Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal NovelR50652 Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 03)
Rate this Novel
Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 03)
Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal
آج کے بعد چاہے جو ہو جائے مجھے نہی بھیجنا نمونے کو بلانے کے لئے نا میں جائو گی
زینب ماں کے پاس آ کر بڑ بڑانے لگی…
اب کیا کہہ دیا اس نے تم دونوں ہر وقت بچوں کی طرح لڑتے رہتے ہو گھر آئے مہمان کا ہی احساس کر لیا کرو…
امی یہ مجھے نہیں عمر کو بولے مجھے صارم کے سامنے ڈیڑھ من کی دھوبن بولا اس نے
میں کدھر سے ڈیڑھ من کی ہو اتنی سمارٹ سی تو ہو اتنا بول کے زینب گول گول گھومنے لگی
جیسے ہی اس کی نظر سامنے پڑی صارم ناشتے کے لئے نیچے آ چکا تھا اور زینب کو بڑی فرصت سے دیکھ رہا تھا
جب آ گئے تھے نیچے تو بول دیتے میں ناشتا لا دیتی بیٹھ کر ٹکر ٹکر کیا دیکھ رہے ہو
زینب نے عمر کا غصہ صارم پر نکالا..
زینب میں دیکھ رہی ہو تمہاری بدتمیزی صارم سے اچھے سے بات کیا کرو
نجمہ بیگم نے اسے ٹوکا..
اوہ ہو امی آپ نے ہی تو بولا تھا اور صارم صاحب نے خود بھی کہ وہ ادھر فیملی ممبر کی طرح رہنا چاہتے ہیں
تو انہیں اندازہ ہو ہی گیا ہو کہ ہم کیسے رہتے ہیں
مطلب ہر وقت ہنسی مزاق چلتا ہے ہمارا کیوں صارم تمہیں اچھانہیں لگتا ہمارا مزاق…
جج—-جی اچھا لگتا ہے صارم نے لڑکھڑاتے ہوئے کہا پتہ نہیں کیوں زینب کے سامنے آتے ہی اس کا دل کچھ بولنے کو
نہیں کرتا تھا بس سننا چاہتا تھا یا دیکھنا چاہتا تھا..
پھر بھی تمیز کے دائرے میں رہا کرو میں آخری بار بول رہی ہو تم سے زینب نجمہ بیگم نے غصے سے کہا …
ٹھیک ہے میں کچھ بولوں گی ہی نہیں جا رہی ہو اپنے کمرے میں کھلائے آپ اپنے چہیتوں کو
زینب غصے سے پائوں پٹخ کر اپنے کمرے میں چلی گئی…
ارے بات صارم اسے روکنے لگا کہ نجمہ بیگم نے بیچ میں ہی ٹوک دیا
یہ ناشتا کرو تم بیٹا وہ ایسی ہی ہے مان جائے گی..
ہاں صارم بھائی آپ نہی سوچے آپی کا وہ ایسی ہی ہے عمر نے بھی صارم کا گلٹ کم کرنے کی کوشش کی
کیوں کے اسے صارم کے چہرے پر شرمندگی صاف نظر آ رہی تھی……
اچھا صارم نے مایوسی سے کہا کیونکہ اب اس سے بھی کچھ نہیں کھایا جانا تھا…









تم کیا لینے آئے ہو ادھر
زینب نے صارم کو اپنے روم میں دیکھ کر کہا….
آپ آج سارا دن روم سے نہی نکلی تو میں نے سوچا پتہ کر لو آپ کی طعبیت تو ٹھیک ہے…
جی اللہ کاشکر ہے ٹھیک ہو میں میرے ماں اور بھائیوں کو تو میری فکر نہیں بھوک سے پیٹ میں درد ہو رہا
اسد کے بچے سے بولا بھی تھا چپکے سے کچھ کھانے کو دے جائے پر اس نمونے کو کیا پڑی ہے میری..
اسد تو باہر چلا بیٹ لے کر
آپ بولے تو میں لا دیتا ہو کچھ باہر سے کیا لائو صارم نے بہت میٹھے لہجے میں پوچھا…
تم کیوں لا کر دو گے تمہاری وجہ سے تو میں بھوکی بیٹھی ہو اور تم سے لے کر کھا لو اس سے اچھا میں بھوکی رہ لو
زینب نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا…
دیکھے مجھے نہیں پتہ آپ مجھ سے پہلے دن سے ہی ناراض کیوں ہیں
اگر میری کوئی بات بری لگی ہے تو میں معافی چاہتا ہو
اور آپ بولے تو میں ہوسٹل شفٹ ہو جاتا ہو آپ لوگ میری وجہ سے گھر کا ماحول خراب نا کرے …
صارم کی باتیں سن کر زینب کو لگا کہ صارم اچھا لڑکا ہے عہ بلاوجہ دل میں غصہ رکھتی ہے
دیکھوں مجھے تم سے کوئی مسلہ نہیں بٹ تمہاری ماں مطلب میری پھوپھو پر غصہ ہے مجھے
پاپا کے جانے کے بعد وہی سگہ رشتہ تھی ہمارے پاس پر انہوں نے کبھی مڑ کر خبر نہیں کی
اور جب مطلب پڑا تو بھائی اور بچے یاد آ گئے …
میں مانتا ہو ماما کی غلطی ہے میں چلا جائوں گا اور آپ کا نام نہیں آئے گا
آپ بس ناراض نہی ہو صارم نے منت والے انداز میں کہا
اسے زینب کا بھوکا رہنا برداشت نہیں ہو رہا تھا…
ارے واہ تم تو بڑے سمجھدار ہو عمر جتنے ہو پراس میں عقل نہی تم میں ہے
ٹھیک ہے تم رہوں ادھر ہی پر عمر اسد کی نہی میری سائیڈ سے بولو منظور ہے..
جج—جی صارم کی زبان لڑکھڑانے لگی اسے تو لگا تھا زینب اسے گھر سے نکل جانے کو بولے گی
بٹ وہ اسے کیا بول رہی تھی..
چلو تو پھر ملائو ہاتھ زینب نے ہاتھ آگے کیا اب سے ہم دوست….
جسے صارم نے بڑی گرمجوشی سے تھام لیا…..
اب چھوڑ بھی دو جب صارم نے کافی دیر تک ہاتھ نہیں چھوڑا تو مجبورن زینب کو اسے کہنا پڑا…
اوہ سوری ..
جی میں سمجھ سکتی ہو تمہیں تو یقین بھی نہیں ہو رہا ہو گا کہ زینب نے اپنا دوست بنا لیا تمہیں
زینب نے ہنس کر بولا…











صارم جب میں کالج سے آئو گی تو ریڈی رہنا میں تمہیں لاہور گھمائو گی…
ہیں——یہ کب ہوا عمر نے حیرت سے دونوں کودیکھا……
جب سے بھی ہوا ہو تم سے مطلب اپنے کام سے کام رکھوں زینب نے اسے پہلے گھور کر دیکھا پھر جواب دیا..
عمر میری اور زینب کی دوستی ہو گئی ہے صارم نے بڑے فخر سے کہا..
اچھا یہ تو بہت اچھی بات ہے نجمہ بیگم نے زینب کی طرف بہت پیار سے دیکھا..
اور عمر اسد تم دونوں میری بات کان کھول کے سن لو اب ہم بھی دو ہو گئے ہیں سو سچ سمجھ کے پنگا لینا
زینب نے وارنگ والے انداز میں کہا….
کیا مطلب صارم بھائی اب آپ ہمارے دوست نہیں رہے آپی کی سائیڈ …
ہاں عمر میں زینب کی طرف سے ہو اب پارٹی بدل لی میں نے …..
توبہ آپنے تو پھپھے کٹنی عورتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا بھائی کتنی جلدی پارٹی بدل لی
عمر نے طنزیہ کہا….
اوئے عمر کے بچے میرے دوست کو پھپھے کٹنی نا بول یہ تجھ پر سوٹ کرتا ہے
اور اسد کے بچے تم شرم نام کی کوئی چیز ہے یا نہی..
میں نے کیا کیا ہے آپی اسد نے منمناتے ہوئے کہا…
تم کر بھی کچھ نہی سکتے کل میں نے کچھ بولا تھا تمہیں لانے کو…
اچھا امی میں لیٹ ہو رہا ہو میں جا رہا اسد نے نکلنے کی کی اسے پتہ تھا زینب دو لگانے سے زرا گریز نہیں کرے گی..
دیکھ بھاگ گیا چلاک لومڑی زینب نے پیچھے سے چمچ پھینکا تب تک اسد دروازہ پار کر گیا…..
بس کر زینب کیوں بھائیوں کے پیچھے پڑی رہتی ہے نجمہ بیگم نے اسے ٹوکا..
اچھا ہم بھی چلے چل بھائی عمر نے صارم کومخاطب کیا اور باہر کو نکل گیا…
اچھا صارم ریڈی رہنا بہت مزہ آئے گا زینب نے صارم کو پیچھے سے آواز دے کر کہا…
