Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal NovelR50652 Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 02)
Rate this Novel
Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 02)
Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal
اور مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہر کسی کی آپی بننے کا—-اس سے پہلے کے کوئی صارم سے کچھ کہتا زینب نے غصے سے کہا تن فن کرتی روم سے نکل گئی..
ارے صارم بیٹا ناراض نہی ہونا یہ پاگل ہے پتہ ہی نہی چلتا اسے کے کیا بولنا ہے کیا نہی
نجمہ بیگم نے وضاحت دی…
ارے ممانی جان آپ بے فکر ہو جائے مجھے برا نہی لگا زرا بھی اب میں بھی اس گھر میں رہوں گا
تو عادت ڈالنی چاہے مجھے کہ سب کے ساتھ گھل مل کے رہوں …
ارے جیتا رہے میرا بچہ نجمہ بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
اچھا بیٹا تم آرام کر لو کل سے کالج بھی جانا ہے…
اوکے جی میرا کمرہ ..
عمر جائوں بھائی کو روم دکھائو…









میں نے ایسا کیوں بولا کہ زینب میری آپی نہیں دیکھا جائےتو عمر نے ٹھیک کہا تھا
پھر مجھے اچھا کیوں نہیں لگا
عمر صارم کو روم میں چھوڑ کر چلا گیا تھا اور صارم تب سے سوچوں میں گم تھا
کہ اسے کیاہو گیا تھا جو ایسے بولا زینب اسے بہت اپنی اپنی لگی تھی بچپن میں ہی کہیں دیکھا تھا اسے
اور اب دیکھا تھا پر ایک انجانا سا رشتہ محسوس کر رہا تھا وہ زینب کے ساتھ دیکھتے ساتھ ہی لگ رہا تھا
وہ کسی ڈور میں بندھ گیا ہے
اور اس رشتے کا انجام کیا ہو گا اس کے بارے میں اس نے کچھ نہیں سوچا تھا
اف اللہ اگر کسی کو پتہ چلا تو کیا کہے گے زینب کو تو میں پہلے ہی پسند نہیں آیا شائد
کہیں گھر سے ہی نا نکال دے
خود ہی سوچ کرخود ہی مسکرا رہا تھا..









صبح وہ ریڈی ہو کر نیچے آیا تو زینب عمر اسد تیار تھے ناشتے کے ساتھ نوک جھوک جاری تھی ان کی
صارم ان کی باتوں پر مسکرانےلگا..
ارےصارم بھائی آپ ریڈی ہے جلدی آئے ماما کے ہاتھ کا مزے دار ناشتہ کرے
ورنہ ہماری آپی کے ہاتھوں کے جلے ہوئے پراٹھے کڑوی چائے پینی پڑے گی
عمر نے صارم کو ناشتے کے لئے بلایا ساتھ ہی زینب کی ٹانگ کھینچی ….
امی دیکھ لو اپنے نمونے کو کسی دن مرے گا یہ میرے ہاتھوں ……
اف آپی آپ کتنی ظالم ہے ماما کی بہو کو شادی ہے پہلے ہی بیوہ کرنے کا ارادہ ہے توبہ توبہ
ماما دیکھے آپ کی بیٹی کے ارادے کتنے خطرناک ہے…
زینب بیٹا صبح صبح ایسی باتیں منہ سے نہیں نکالتے اور عمر تم بھی منہ بند رکھوں لیٹ ہو رہے ہو
نجمہ بیگم نے ان دونوں کو چپ کروانے کی ناکام کوشش کی…
توبہ امی آپ تو میری شادی ہوئی نہیں اور بیٹی کے ساتھ مل گئی یہ نہیں ہوا کہ اسے ڈانٹ دے
مجھے مفت میں ہی ڈانٹ رہی ہے بیٹے کو مارنے کا پلان بنا رہی ہے…
ہاں منہ دھو رکھوں تم سے شادی کرے گا کون نمونے لگتے ہو پورے کارٹون کہی کے..
زینب نے اسے منہ چڑایا….
صارم یہ سب دیکھ کر مسکرا رہا تھا وہ اکلوتا بیٹا تھا اپنے والدین کا
اسے یہ سب دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا تھا…
اچھا بس کرو چلو زینب وین آ گئی تمہاری …
ابھی تو میں جارہی ہو عمر کے بچے چھوڑوں گی نہیں تمہیں واپسی پر ریڈی رہنا
زینب عمر کو منہ چڑاتی کالج کے لئے نکل گئی….
چلے بھائی ہم بھی چلے عمر اور صارم بائیک پرکالج کے لئے نکل گئے
اور اسد نزدیک ہی سکول میں جاتا تھاپیدل…









زینب میں نے مشین لگا دی ہے کپڑے نکال کے اور ڈال دینا آج سنڈے تھا
عمر لوگ سو رہے تھے زینب ابھی اٹھی تو اسے ماں کاموں میں مصروف نظر آئی
تو دل کو کچھ ہوا
امی آپ کتنا کام کرتی گھر کا سلائی کا ہمارے سارے کام آپ کو تو چھٹی کا دن بھی نہیں ملتا
زینب نے لاڈ سے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دی…
ارے میری جان میں کاموں سے نہیں تھکتی بلکہ تھکاوٹ اتر جاتی ہے میری کام کرنے سے..
توبہ ہے امی آپ تو دنیا سے نرالی ماں ہے اچھا بتائے میں کیا کرو….
ارے ابھی بولا ہےکہ کپڑے نکال کہ اور ڈال دینا اور لڑکوں کو بھی اٹھا دو
ناشتہ بنانے لگی ہو میں….
اچھا امی آپ ناشتہ دیکھ لے میں کپڑے دیکھ کر اٹھاتی ہو ان کو بھی…









اف عمر اٹھ جائو امی نے سارا کام کر لیا ہے اب تمہارا رہ گیا ہے بازار سے سامان وغیرہ لانا ہے
ارے اٹھو میں فضول میں بول رہی ہو کیا
اب اگر نہیں اٹھے تو یہ پانی والا جگ تمہارے اوپر ہو گا
زینب نے پانی والا جگ اٹھا کر دھمکی دی پر سامنے والے پر کوئی اثر نا ہوتا دیکھ کر
اس نے چادر کھینچی اور بنادیکھے پانی ڈالنے لگی اس کا پائوں سلپ ہوا اور پانی والے جگ سمیت سوئے وجود پر گری
اور جب اس کی نظر سامنے پڑی عمر کی جگہ صارم کو دیکھ کر اس کی آنکھیں باہر کو آنے لگی
اور صارم کو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ یہ کیا ہے بیچارہ نیند میں تھا
تم ادھر کیا کر رہے ہو اوپر اٹھنے کے بجائے زینب اس سے غصہ ہونے لگی
صارم کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بولے زینب کو اتنا نزدیک پا کر
وہ بولنے لائق نہیں بچا تھا ..
ارے آپی آپ اوپر اٹھے گی تو بچارہ جواب دے گا ڈیڑھ من کی دھوبن اوپر پڑی ہے
اسے تو سانس بھی نہی آ رہی ہو گئی
عمر واش روم سے نکلا اور ساری سچوئشن سمجھ کر بولا…
اور سوری زینب کو یکدم احساس ہوا تو جھٹ سے کھڑی ہو گئی
اور صارم نے اپنی مسکراہٹ دبائی …
یہ ادھر کیا کر رہا ہے مجھے لگا تم ہو گے
زینب نے کھسیا کر کہا…..
ہم دونوں نے مووی دیکھی اور صارم میرے پاس سو گیا اسد کو ہم نےصارم کے روم میں بھیج دیا
اب جائوں ہم آ رہے ہیں …
تمہیں تو میں دیکھ لو گی مجھے دھوبن بولا زینب نے عمر کو گھور کر دیکھا اور باہر نکل گئی…
