Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Ho Na Jaye (Episode 09)

Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal

کیا بات ہے بیگم ہے بیگم پریشان لگ رہی ہیں محمود صاحب نے شبانہ کو یہاں وہاں ٹہلتے دیکھا

تو پوچھا…

صارم ابھی تک گھر نہی آیا 11 بج رہے ہیں ڈیوٹی تو 9 بجے ختم ہو جاتی ہے..

تو کال کر لے اور وہ کوئی بچہ نہی ہے جو آل ایسے پریشان ہو رہی ہے..

کی ہے کال نہی اٹھا رہا..

تو پھر ٹرائی کر لو بزی ہو گا..

کرتی ہو بول کر نمبر ملایا اور کال اٹینڈ ہونے کا انتظار کرنے لگی

جیسے ہی کال اٹینڈ ہوئی وہ جلدی سے بولی

صارم بیٹا کدھر ہو آئے کیوں نہیں کال بھی نہی اٹھا رہے تم ٹھیک تو ہو نا

انہوں نے ایک ہی سانس میں کہی سوال کر ڈالے…

میں ٹھیک ہو اور آج نائٹ ڈیوٹی بھی کرو گا جن کی نائٹ تھی انہیں ایمرجنسی میں گھر جانا پڑا

تو میں اس کی جگہ ڈیوٹی پر ہو..

کیوں تم کیوں کرنے لگے تمہارا بھی گھر ہے میں کتنا پریشان ہو تمہارے لئے..

میرا نہی آپ کا گھر ہے جہاں آپ کی حکمرانی ہے میں آپ کی دل آزاری نہی کرنا چاہتا

پلیز پریشان نہی ہو میں آ جائو گا صبح تک اللہ حافظ..

شبانہ کیا ہوا کس سوچ میں پڑ گئ صارم ٹھیک تو ہے نا محمود نے انہیں سوچ میں گم دیکھا

تو اپنی طرف متوجہ کیا..

ہاں ٹھیک ہے اور بول رہا کہ یہ میرا گھر ہے اس کا نہیں وہ بہت دور ہو گیا ہے مجھ سے

شبانہ بیگم نے خود کلامی کے انداز میں کہا..

ابھی بھی وقت ہے بیگم صارم کو دور مت کرو خود سے زینب سے پیار نہی عشق کرتا ہے وہ

تب سے جب بچہ تھا گیارہویں کا طالب علم اب وہ ایک بھو پور مرد ہے

کیسے نکالوں گی تم اس کے دل سے زینب کو کیوں بیٹے کو تنہائیوں کے حوالے کرنا چاہتی ہو..

آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میں صارم جیسا چاہتا ہے ویسا کرو گی اس کی خوشی کو اپنی خوشی بنائوں گی

اس کی اس بات نے کہ یہ گھر میرا ہے اس کا نہی دل چیر دیا ہے میں اپنے بیٹے کو اکیلا نہی ہونے دو گی

شبانہ نے ایک عزم سے کیا

محمود اسے دیکھ کر مسکرانے لگے اچھا اب سو جائوں صبح صارم کو خوشخبری دے گے..

ہاں بہت خوش ہو گا وہ..

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

امی مجھے آپ سے بات کرنی ہے زینب نے ماں کو فارغ بیٹھے دیکھا تو ان سے بات کرنے چلی آئی..

ہاں بو لو کیا بات ہے بہت پریشان ہو..

امی وہ صارم اتنا بول کے وہ رونے لگی…

ارے کیا ہوا صارم کو ٹھیک تو ہے نا نجمہ نے پریشانی سے پوچھا…

کچھ نہی ہوا اسے مجھے پریشان کر رہا ہے وہ زینب نے ساری بات ماں کو بتا دی..

زینب سچ بولو تو صارم مجھے بہت عزیز ہے اگر تمہاری پھوپھو تمہیں اپنی خوشی سے بہو بنا لیتی تو

میرے لئے اس سے بڑھ کر کچھ نہی تھا پر ابھی تمہاری پھوپھو مانے گی نہی اس رشتے کے لئے

تو تم پریشان نا ہو اور صارم اتنا اچھا لڑکا ہے کہ وہ ماں باپ کی مرضی کے بنا کچھ نہی کرے گا

اب کال آئے تو مجھ سے بات کروانا سمجھائوں گی اسے خود کو برباد نا کرے

اور ایک دو رشتے مجھے بتائے ہے کسی نے تمہارے لئے سوچ رہی ہو بلا لیتی ہو ان کو

کیا پتہ بات بن جائے..

امی میں نے بولا تھا نا پہلے عمر کی کرے شادی..

میں نے بات کی تھی عمر سے وہ کہتا ہے پہلے تمہاری اچھے طریقے سے دھوم دھام سے کرے گا پھر اپنے بارے میں سوچے گا…

دیکھ لو گی میں اس عمر کے بچے کو..

ارے اسد تم کدھر جا رہے ہو زینب نے اسد کو باہر جاتے دیکھا تو پوچھنے لگی..

آپی فائنل ہونے والے ہیں سب نے گروپ سٹڈی کا پلان بنایا ہے ایک دوست کے گھر جا رہا ہو

ادھر ہی سب اکھٹے ہو گے..

اچھا جائوں دھیان سے جانا ادھر ادھر مت دیکھنا..

کیا آپی ادھر ادھر کیا ہوتا ہے..

کچھ نہی جائو پڑھائی کرو..

جا رہا ہو اللہ حافظ امی اینڈ آپی..

خدا حافظ دونوں نے ایک ساتھ کہا…

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہیلو زینب..

میں نے منع کیا تھا نا کہ مجھے کال نہی کرنا اب تمہاری امی سے بات کرواتی ہو

وہ ہی تمہیں سمجھائے گی ڈاکٹر کس نے بنا دیا تمہیں عقل نام کو نہی تم میں

پتہ نہیں مریضوں کا کیا حال کرتے ہو گے اب تم ڈاکٹر ہو تمہیں زیب نہیں دیتی یہ حرکتیں

زینب نے ساری دل کی بھڑاس نکالی..

ہو گیا تمہارا لیکچر صارم نے مسکرا کر پوچھا…

تم کتنے بےشرم ہو گئے میں ڈانٹ رہی ہو تم پر کوئ اثر نہی ہو رہا چاہتے کیا ہو تم..

میں بس تمہیں چاہتا ہو صارم نے گھمبیر لہجے میں کہا بے انتہا کیسے سمجھائوں تمہیں

کہ کتنا چاہتا ہو..

تم ____________زینب سے شرم کے مارے کچھ بولا نہی گیا کہاں سنی تھی اس نے

اس طرح کی باتیں اس کا دل ایسے دھڑکنے لگا جیسے ابھی باہر آ جائے گا

کیا تم بولو زینب..

کچھ نہیں کیا یہ فضولیات کے لئے کال کی ہے..

پلیز میرے جزبوں کی یوں بےعزتی نا کرو تمہارے نزفیک یہ فضول ہو گے میری زندگی کا حاصل ہے

اور ہاں امی مان گئی ہے دل سے تمہارے لئے اب پلیز تم بھی مان جائوں..

ہو گیا تمہارا یہ امی سے بات کرو وہ ہی تمہیں سمجھا سکتی ہے…

ارے بات تو سنو تب تک زینب ماں کو فون پکڑا چکی تھی..

کیسے ہو بیٹا صارم نجمہ نے اپنے ازلی نرم لہجے میں پوچھا امی ابو کیسے ہیں..

جی ممانی سب ٹھیک ہے آپ سنائے عمر اسد سب کیسے ہیں…

جی ہم سب ٹھیک ہے..

ممانی مجھے آپ سے بات کرنی ہے انکار مت کیجئے گا صارم نے آس سے کہا..

بولو بیٹا میں سن رہی ہو..

ممانی جان امی آنا چاہتی ہے میرا رشتہ لے کر اور پچھلے روئیے پر معافی مانگنا چاہتی ہے…

بیٹا شبانہ کے بھائی کا گھر ہے جب چاہے آئے اور ہم لوگ اس بات کو بھول گئے ہے معافی کی کوئی بات نہیں..

اور وہ زینب کو مانگے گی تو آپ انکار تو نہی کرے گی نا..

بیٹا تم جانتے مجھے تم عمر اسد جتنے عزیز ہو تم سے بڑھ کر میرے لئے کوئی نہیں

پر زینب نہیں مانے گی بہت ضدی ہے وہ..

میں اسے منا لو گا پلیز آپ مان جائے صارم منت کرنے والے انداز میں بولا

اگر زینب نہی تو میری زندگی میں اور بھی کوئی نہی مجھے امی کو منانے میں بہت دن لگ گئے

آپ کو بھی منا لو گا میں..

مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ مجھے تو خوشی ہو گی اگر وہ آئے گی تو

زینب کےلئے اس سے بڑھ کر کوئی رشتہ ہو نہی سکتا پر میں چاہتی ہو کہ زینب اپنے دل سے

یہ رشتہ قبول کرے..

زینب کی اپ فکر نا کرے اسے میں منا لو گا بس اپ لوگ میرا ساتھ دے

صارم نے اک عزم سے کہا…

ہم تمہارے ساتھ ہے بیٹا اچھا امی کو سلام کہنا رکھتی ہو فون..

اوکے اللہ حافظ..

جی خدا حافظ…

صارم کی آنکھوں سے خوشی سے آنسوں نکل آئے بس اب زینب کو منانا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *