Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal NovelR50652

Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal NovelR50652 Last updated: 28 April 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Ho Na Jaye by Zara Kanwal

زینب سب سے بڑی ہے اس سے چھوٹا عمر اور پھر اسد زینب bsc عمر fsc کر رہا ہے اور اسد میٹرک کا سٹوڈنٹ ان کے والد فاروق صاحب ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھے دل کے مریض تھے
کچھ عرصہ پہلے ان کا انتقال ہو گیا یہ سب بہت بری طرح سے ٹوٹ گئے
لیکن زندگی کی ایک تلخ حقیقت پیٹ ہے جسے ہر حال میں کھانے کو چاہے
اس لئے وہ سب ایک دوسرے کا سہارے بنتے ہیں اور جلد ہی عمر اور اسد کی شرارتوں سے سب زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں..
فاروق صاحب کی پنشن آتی ہے اور نجمہ بیگم کے پاس سلائی کا ہنر ہے جس سے وہ گھر کی گاڑی چلا رہی ہے.
بچے چاہے جتنے شرارتی لیکن ماں کا گھر کے اخراجات کا اچھے سے اندازہ ہے زینب اور عمر بچوں کو ٹیوشن دے کر پڑھائی کاخرچا نکال لیتے ہیں ...
اماں ابھی ہم کون ساامیر کبیر ہے جو وہ آپ کا رشتے دار ہمارے گھر رہے گا
زینب نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا..
بس زینب تو ایسا کیوں سوچتی ہے مہمان تو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں وہ میرا ہی نہی تم سب کا کزن ہے پھوپھو کابیٹا ہے تمہاری....
تو کیا کرے ویسے تو کبھی کسی کو خیال آیا نہیں ہمارا ابو کے بعد سب مطلب کے ہیں ..
زینب بس کر اور اوپر والا کمرہ بچے کے لئے سیٹ کر دے ...
لو بچہ کدھر سے ہو گیا مجھے تو یاد بھی نہیں پتہ نہی کدھر سے نکل آتے ہیں یہ رشتے دار ...
ارے عمر کی کلاس میں ہے اسی کے کالج میں ایڈمیشن لیا ہے اس نے...
اچھا بابا مجھے نہیں سننی تعریفیں جا رہی ہو کب آنا ہے اس نمونے نے...
زینب آخری بار بول رہی ہو اب کوئی بکواس نہی کرنا کل شام تک آجائے گا اور دل بڑا کرنا سیکھو...
ہو آ جائے گا کل شام تک زینب بڑبڑاتے ہوئے کمرہ ٹھیک کرنے چلی گئی...
دیکھوں سب کو مجھے بھول کر اس لنگور کے آگے پیچھے پھر رہے ہیں اگر اب مجھ سے دونوں نے بات کی دیکھنا کیا حال کروگی میں
زینب خود میں ہی جل بھن رہی تھی جب سے اس کا کزن آیا تھا اسد اور عمر اس کے ساتھ بیٹھے تھے ..
ارے زینب آپ ادھر کیوں کھڑی ہے آپ بھی آ جائے صارم بھائی تو بہت اچھے ہے..
لگتا ہے زینب کو ہمارا آنااچھا نہیں لگا صارم نے کہا..
نن---نہی ایس کوئی بات نہیں میں تو ایسے ہی کچن میں کام کر رہی تھی زینب نے جلدی سے بات بنائی کیوں کے نجمہ بیگم کی گھوری وہ دیکھ چکی تھی
اسی لئے جلدی سے ان لوگوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی..
صارم نے بہت غور سے اسے دیکھا .....
آپ کیا کرتی ہے صارم نے زینب سے پوچھا..
میں bsc کر رہی ہو زینب نے منہ بنا کر جواب دیا...
صارم نے دلچسپی سے زینب کو دیکھا...
صارم یار یہ ہماری آپی بہت مزے کے کھانے بناتی ہے ابھی دو دن پہلے اتنی لذیز بریانی کھلائی کے کیا بتائو
عمر نےطنزیہ کہا...
امی زینب نے شکایتی نظروں سے ماں کی طرف دیکھا..
عمر تنگ نہیں کرو بہن کو ...
ارے صارم بھائی آپ بھی بچ کے رہنا آپی ہی لگی آپ کی بھی عمر نے شرارت سے کہا...
ارے میری کیوں آپی ہوئی صارم کے یکدم سے منہ سے نکلا...
وہ سب صارم کی طرف دیکھنے لگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *