Koyel Anghothi Chor by Uzma Mujahid NovelR50611 Koyel Anghothi Chor (Last Episode)
Rate this Novel
Koyel Anghothi Chor (Last Episode)
Koyel Anghothi Chor Uzma Mujahid
سُنو جاناں ،
میں تھک گیا ہوں بہت
اب ہو جاؤ میرے مُکمل ، یا
مجھے مکمل تنہا کر دو.۔۔
“چائے” کوئل کی آواز پہ نوفل اپنی سوچوں سے باہر آیا ۔
چائے پکڑاتی وہ واپس کو جانے لگی تبھی نوفل نے نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑتے اپنے قریب بٹھایا۔
“میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی سٹڈی کنٹنئو کرو گھر میں بیٹھے رہنے سے آپ لکا دماغ مختلف سوچوں کی آمجگاہ بنا رہتا جس کا اثر مجھ بیچارے پہ آتا”
انداز شرارتی تھا یا وہ واقعی سریس تھا سمجھنے سے قاصر تھی
“پر میں” اسکی بات بیچ۔میں ہی رہ گئی۔
“پر آپ کچھ نہیں اے۔ایس۔پی کی بیوی بولنے کا اختیار آپکو نہیں دیا میں ۔”
نوفل کی بات اسے اپنی توہین ہی لگی تھی۔
وہ تلملاتی کھڑی ہو گئی۔
نوفل نے بھی اسکا انداز بخوبی ملاحظہ کیا۔
“اوکے تو آپ بتائیں کیا چاہتی ہیں آپ”
“مجھے بچے چاہیئں”
حیرت سے اپنی جانب نوفل کو تکتے پا کر وہ کنفیوز ہوتی بات ادھوری چھوڑ گئی۔
نوفل نے پھر سے اسے اپنی گرفت میں لیا۔
“ہاؤ سویٹ وائف یو آر اتنی جلدی ہیسبینڈ کی خواہش پتا چل گئی”
آنکھوں میں ناچتی شرارت کے باوجود لہجہ معنی خیز تھا۔
کوئل گڑبڑائی۔
“مم میرا مطلب منہہ اور حمزہ گھر میں رونق نہیں انکے یہاں نہیں ہونے سے”
جلدی سے وضاحت دی مبادہ وہ پھر سے نا اپنی جوڑ توڑ شروع کردے۔
“ہاہ حسرتیں ” ایک ٹھنڈی آہ بھرتے اسے آزاد کیا چائے اب تک ٹھنڈی ہوچکی تھی ۔
“ایک بات پوچھوں”
کوئل نے کب سے دماغ میں کلبلاتے سوال کو زبان پہ لانے کا فیصلہ کیا۔
“منہہ کی مما آئی مین آپکی فرسٹ وائف انکا کوئی زکر نہیں کرتا اس گھر میں کوئی نہ ہی میں نے آپ لوگوں کی تصویر کوئی دیکھی ہے “
کوئل کی بات پہ نوفل نے ناسمجھی سے دیکھا پھر اسکی بات سمجھ آتے اک زوردار قہقہ لگایا۔۔
“پاگل ہے کیا یا بیوی کی یاد اچانک آن وار ہوئی تبھی ایسے ریکٹ کررہا “
کوئل کی کنفیوژ شکل دیکھ خود پہ قابو پایا۔
“منہہ کی فرسٹ مام میرے بگ بی کی مسسز تھیں ڈیلوعی کے وقت کچھ کمپلیکشنز کی وجہ سے وہ سروائیو نہیں کر سکیں “
نوفل کی بات پہ اسے جھٹکا لگا وہ تو اب تک انہیں نوفل کے بچے سمجھتی رہی تھی اور حمزہ کی باروں پہ اسے لگتا تھا باپ بیٹے کی فریکنس ہے تبھی جہاں اس انکشاف نے اسے افسردہ کیا وہی اسکا دل بھی دھڑکا گیا ۔
“تو وہ اس شخص کی زندگی کی بغیر شریک اکیلی وارث تھی مگر طائشہ کو وہ بھول گئی “
“لگتا آج اے ۔ایس ۔پی صاحب اںٹرویو ہی دینے گھر میں رکے تھے خیر بچوں والے معاملے میں مما سے بات کرونگا نہیں تو پھر؟”
ادھوری بات چھوڑتے ماتھا مسلا ۔
“نہیں تو پھر کیا ؟” کوئل اسکی ادھوری بات زچ کرگئی۔
تبھی اسے خود سے قریب کیا سرگوشی کے انداز میں بولا
“نہیں تو جی ہم خود ٹرائی کرلیتے اپنے بچوں کی “
نوفل کی بات اسے جی جان سے لرزا گئی اس نے سرکنا چاہا مگر نوفل نے اسکی کوشش ناکام بنا دی۔
“کیوں جی ابھی تو پکی بیوی بنی ہوئی تھی اب گھبراہٹ کیسی؟”
نوفل نے اسکی کانوں کی لو کو اپنے لبوں سے چھوا اور ساتھ میں دونوں بازو اسکے گرد لپیٹے مکمل اپنے حصار میں لیا۔
“اے۔ایس۔پی چھچ چھوڑو مجھے اپنے یہ لوفر انداز کہیں اور دکھایا کرو “
چہرے پہ چھائی سرخی اسکے بلش ہونے کی وضاحت دے رہی تھی۔
“خواہ مخواہ یار بیوی لوفر بنا رکھا لوگوں سے پوچھو کتنا شریف ہوں میں خود پہ اتراتے اسے آزاد کرتا بیڈ پہ دراز ہوگیا”
کوئل تو اتنی دیر سے اسکے انداز دیکھ پریشان تھی ۔






نوفل کے حکم پہ وہ اپنا سامان اسکے کمرے میں شفٹ کرچکی تھی ڈیلی اسکے ہاتھ کا ناشتہ گھر میں بننے لگا تھا اسکی کوشش ہوتی تھی کے حبہ خاتون کے سامنے نہ آئے مگر نوفل اسے اپنے سے پہلے ڈائنگ ٹیبل پہ دیکھنا چاہ رہا ہوتا اسیلئے بامشکل خود پہ قابو رکھے ہوئے تھیں۔
گھر میں ہوتی ایکٹیوٹیز سے انجان وہ اپنی لائف میں بزی تھیں یا پھر جان بوجھ کے سب اگنور کررہی تھیں شیری کو لے کے نوفل سے بھی کٹ آف کررکھا تھا۔
ابھی بھی وہ ناشتہ بنانے کو بوا کے ساتھ کچن میں لگی ہوئی تھی تبھی حبہ خاتون بھی اندر داخل ہوئیں۔
“تم جانتی ہو لڑکی روز تمہارا منحوس چہرہ دیکھنے کی وجہ سے میں مسلسل اپ سیٹ ہوں جب تمہیں کہا گیا تھا کہ کمرے سے باہر نہیں نکلنا پھر کیوں پورے گھر میں دندناتی پھرتی ہو “
حبہ خاتون کی بات سن اسکی آنکھوں میں آنسو امڈے۔
“مما کیوں وہ کمرے کی حدود میں باؤنڈ رہے جتنا یہ گھر میرا ہے اتنا میری بیوی کا بھی ہے اگر آپکو اسکے یہاں رہنے چلنے پھرنے پہ اعتراض ہے ٹھیک پے ہم آج ہی یہ گھر چھوڑ جاتے ہیں “
نوفل کی اچانک آمد اور ساتھ میں دوٹوک انداز حبہ خاتون اور کوئل دونوں کو چونکا گیا تھا۔
“واہ بیٹا بہت خوب اس کل کی آئی لڑکی نے تمہیں ماں کے خلاف کردیا بہت اچھے “
حبہ خاتون کی آواز میں مان ٹوٹنے کی واضع جھلک تھی مگر وہ اس لڑکی کے سامنے خود کو کمزور نہیں دکھانا چاہتی تھیں۔
“مما آپ بھی تو سمجھنے کی کوشش کریں اک اچھی خاصی نارمل لڑکی کو آپ نے اور آپکی سو کولڈ سوسائٹی نے کیا بنا دیا ہے “
نوفل نے اسکے کندھوں پہ ہاتھ رکھتے اسے خود سے قریب کیا۔
“شی از مائی وائف مام وہ جسے میں نے پہلی بار دیکھتے اپنی لائف میں شامل کرنے کا ڈسیزن لیا تھا کیوں جانتی ہیں نا آپ کیونکہ یہ میرے لیے لکی ثابت ہوئی کیونکہ میری پروموشن ہوئی آپ جانتی ہیں نا کتنی سٹرگلگ کنڈیشن میں رہا ہوں میں؟”
“پھر آپ کیسے کوئل کو سبز قدم۔ہونے کی سند دے سکتی ہیں؟”
اسکا سوالیہ انداز حبہ خاتون کی تنی گردن میں فرق نہ لاسکا۔
“منہہ کے پیدا ہوتے ہی فوزیہ بھابھی کی ڈیتھ ہوگئی تب تو آپ نے یا پھر آپکے خاندان نے اسے منحوس ہونے کی سند لگائی کیونکہ وہ آپکی پوتی تھی؟ اسیلئے”
“منہہ ابھی چلنا سیکھی بھی نہیں اور دانیال بھائی جان کی کار ایکسیڈینٹ میں ڈیتھ ہوگئی تب بھی آپکو اسکیلئے ایسا محسوس نہیں ہوا بلکہ آپ نے تو اسے حمزہ سے بھی زیادہ پریفرینس دی کیوں؟”
آپ تو ایجوکیٹڈ ہیں مام پھر سے اتنی توہم پرستی کیوں وہ بھی صرف دوسروں کی ذات کیلئے ؟
حدیثِ مبارکہ میں بتایا گیا ہے کہ جب اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو سب کچھ (موت تک کا) لکھ دیا جاتا ہے ۔
یہ تو اول۔روز سے طے تھا کہ کوئل نے یتیم ہی پیدا ہونا ہے پھر ہے کسی کا مقابلہ تقدیر لکھنے والی زات سے ؟
بس کردیں مام آپ لوگ اٹس اوور چیزیں اتنی رونگ نہیں تھیں جتنا آپ لوگ لے گئے میں نے خود کو خوشقسمت گردانا تِبھی شادی کرلی مجھے نہیں پتا تھا میں اپنے لیے کیا محاظ کھڑا کرنے جارہا ہوں”
“
اب کے نوفل۔کا لہجہ بہت درد لیے ہوئے تھا حبہ خاتون کو بھی احساس ہوا کے انہوں نے اپنی غلط سوچ اور توہم۔پرستی میں پڑکے کیسے نوفل کی نارمل لائف کو ڈسٹرب کردیا تھا جس لڑکی کو وہ لائیں وہ اگر چاہتیں تو اس خاندان اور سوسائٹی میں معتبر کر سکتیں مگر ماضی کی خلش نے انہیں سخت گیر کردیا تھا۔
“مما میں کوئل کو نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ میں اسے خدا اور رسول کو گواہ بنا کے لایا ہوں میں پہلے ہی اسکا گنہگار ہوّں سوری میں آپکا بے ادب بیٹا ہوں “
آنکھوں میں بے اختیار نمی امڈ آئی تھی ۔
“ایم سوری بیٹا مجھے معاف کردو میں بھٹک گئی تھی اور پھر احمر ؟”
احمر کے زکر پہ وہ بھی چونکی تبھی حبہ خاتون نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے۔
“مجھے معاف کردو کوئل میرے احمر کی نشانی ہوتم میرے بھائی کی”
وہ پھوٹ پھوٹ کے رودیں۔کوئل نے ناسمجھی سے نوفل کی جانب دیکھا اسنے ہلکے سے اثبات میں سر ہلاتے اسے پوری بات بتائی۔
کوئل آنسو بھری آنکھیں لیے حبہ خاتون کی جانب بڑھی جنہوں نے اسکیلئے اپنے بازو وا کیے ہوئے تھے۔
“مما احمر ماموں تقدیر میں جو تھا انکو ملا تقدیر کا مطلب اللہ کا علم ہے انکی جتنی زندگی تھی وہ اسی کے دائر اختیار میں گزارتے وہ چلے گئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور، ارادہ اور اختیار دیا ہے اس کو سیدھا اور غلط راستہ واضح کر کے بتایا ہے دونوں راستوں پر چلنے کا انجام بھی بتایا ہے اور پھر اس کو اپنی مرضی سے کسی ایک راستے پر چلنے کا اختیار بھی دیا۔ اس سے بندہ مجبور کہاں سے ہوگیا مجبور نہیں اسے اختیار ہے۔ خدا کے حکم کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کا علم اللہ کے علم اور قدرت میں ہے اگر اللہ تعالیٰ کسی کو کسی کام سے زبردستی روکنا چاہے تو روک سکتا ہے اور بندہ ہو یا پتا حرکت نہیں کر سکتا اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے بندے کو اختیار دے دیا ہے۔ چاہے نیکی کرے چاہے گناہ”
نوفل کی بات سن ان دونوں نے سر اثبات میں ہلایا ۔
کوئل نے ایک فخریہ نگاہ سے اپنے مجازی خدا کو دیکھا جس نے اسکا مقدمہ دنیا کے سامنے بہترین انداز میں لڑا تھا اسے یقین تھا عنقریب اسکی زندگی دھندلکے چھٹ جائیں گے۔
“تھینکس اے ۔ایس۔پی ” کمرے میں آتے ہی وہ بولی کوئل کی آواز میں واضع تشکر تھا
“یار میرا اک نام بھی ہے نوفل آفندی سوچو تو بڑا پیارا نام ہے”
“مگر مجھے تو یہی پسند “اب کے کوئل اترائی _
“مگر مجھے نہیں پسند “نوفل نے منہ بنایا ۔
“کیوں نہیں پسند” کوئل کی بات سنتے اسے آنکھیں دکھائی۔
“کیونکہ میں کوئل کی کوک میں نوفل کا نام سننا چاہتا ہوں یہ کیا کل کو میرے بچے بھی اے ایس پی لگائیں پھریں”
نوفل کے احتجاج پہ وہ بے ساختہ ہنسی جبکہ وہ اسکی ہنسی کی چھنکار میں کھو گیا ۔۔
“کوئل” مدہوش ہوتے اسے پکارا۔
“ہنم” مختصر جواب۔
کیا تم اپنی بات پہ اب بھی قائم ہو؟”
نوفل کی بات پہ اسے دیکھا “کونسی بات ؟” دماغ میں کہیں صبح کی کوئی خاص بات نہیں تھی ۔۔۔
“وہیں تمہیں بچے چاہیئں”
نوفل کا شرارتی انداز اسے بلش کر گیا وہ دل۔ہی دل میں خدا کی شکر گزار ہوئی جس نے اسے ایسے بہترین ہمسفر سے نوازا تھا۔
بیشک یہ دنیا وہی دیکھتی اور سوچتی ہے جو وہ خود سے اختراع کرتی ہے۔۔
“یار کوئل باقی سب تو ٹھیک ہے مگر یہ انگوٹھی ؟” اسکے ہاتھ کی تیسری انگلی میں موجود انگوٹھی کو دیکھا وہیں جو انکے ملن کا بہانہ بنی تھی۔
“ویسے کیا دبنگ انداز تھا نا میں تازہ تازہ اے۔ایس۔پی کا سٹار لگائے پہنچا اور پہلا ہی واسطہ اک چور سے پڑا “کوئل انگوٹھی چور سے “
اپنی بات مکمل کرتے وہ قہقہ لگائے ہنسا جبکہ وہ خجل سی ہوتی کان کھجانے لگی ۔
“میں کیسے واپس کردیتی زندگی میں پہلا تحفہ ملا تھا وہ بھی آپ چھیننے آ گئے “
“محترمہ اس انگوٹھی کی قیمت پتا ہے آپکو “اب کے نوفل کا انداز سنجیدہ تھا۔
“نہیں اور نہ ہی مجھے جاننا ہے “
بے نیازی سے کہتی مطمئن انداز میں نوفل کے شانے پہ سر ٹکائے اسے خود سپردگی کا احساس کروا گئی نوفل نے اپنے حصار میں لیتے اسکے ماتھے پہ بوسا دیا۔
“وہ کبھی بھی اسے اپنی ماں اور شیری کی گھناؤنی سازش کا بتانے والا نہیں تھا اور نہ کبھی یہ کے وہ اسکی ڈائری میں موجود اسکی ادھوری حسرتیں پوری کرنے والا ہے عنقریب “
قدیم زمانے سے گمراہ انسانوں کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے جرائم اور گناہوں کو تقدیر کا نام دے کر مطمئن ہوجاتے ہیں اور مظلوم طبقہ بھی خدا کی رضا سمجھ کر چپ ہوجاتا ہے یہ امر ذہن نشین رہے کہ تقدیر علم الٰہی کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں کیا ہے؟
اسے وہی بہتر جانتا ہے ہمیں اس پر اتنا ایمان رکھنا چاہیے کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ کے علم کے مطابق ہوتا ہے۔اس کے ٹائم ٹیبل کے مطابق ہوتا ہے اس کے لیے کوئی حادثہ اچانک نہیں ہوتا کیونکہ وہ سب کچھ پہلے سے جانتا ہے۔
یاد رکھیں کہ ہم تقدیر کے مکلف نہیں بلکہ احکام شرع کے پابند ہیں کوئی شخص جرم کا ارتکاب اور نیکی کا انکار اس دلیل سے نہیں کر سکتا کہ میری تقدیر میں یہی تھا اس لیے کہ آپ کو شریعت نے نیکی کرنے اور بدی سے بچنے کا واضح حکم دیا ہے آپ اس شرعی حکم کو بخوبی جانتے ہیں۔
تقدیر کا تعلق علم غیب سے ہے جو آپ کے بس میں نہیں پھر جو چیز آپ جانتے ہیں اور جس کا حکم بھی آپ کو دیا گیا ہے اور جس کی تعمیل یا انکار کا نتیجہ بھی آپ کے سامنے رکھ دیا گیا ہے اگر آپ اس کی تعمیل نہیں کرتے اور اس علم الٰہی کا جسے آپ جانتے ہی نہیں، بہانہ بنا کر آپ غلط راہ اختیار کر رہے ہیں کہ جی قسمت میں یہی لکھا تھا آپ کو کیسے پتہ چل گیا کہ آپ کی قسمت میں یہی لکھا تھا۔ کیا آپ نے لوح محفوظ پر لکھا دیکھ لیا تھا؟
پس جس کا پتہ ہے اختیار ہے، کرنے کی قدرت ہے، جس کے انجام سے باخبر ہیں اس پر عمل نہ کرنا اور جسے جانتے ہی نہیں اس کا بہانہ بنا کر فرائض سے فرار اور جرائم کا ارتکاب کرنا، بیمار اور مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ بقول علامہ اقبال رحمہ اﷲ۔
تقدیر کے پابند ہیں جمادات و نباتات
مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند
اس غلط سوچ نے ہمارے معاشرے کو جہنم زار بنا دیا ہے۔
عمل سے فارغ ہوا مسلمان بنا کے بہانہ تقدیر کا۔
