Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koyel Anghothi Chor (Episode 08)

Koyel Anghothi Chor Uzma Mujahid

“ویلڈن مسٹر اے۔ایس۔پی”

دونوں ہاتھ اٹھائے کلیپ والے انداز میں اسے شاباشی دیتی نوفل کو اسکی نظروں سے گرا گئی۔

“جانتی ہو نا وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کا ہر لمحہ تم پہ قید کیا پھر بھی تم انہی کی سائیڈ لے رہی ہو۔”

نوفل کے لہجے سے کڑواہٹ صاف ظاہر تھی۔

“جو کرتے تھے سرعام کرتے تھے وہاں رہ کے مجھے میرے گناہ پتا تھے یہاں پہ کیا مسٹر نوفل کس جرم کی سزا دے رہے ہیں آپ لوگ آپکی ماں میرے سے سیدھے منہ بات کرنا گوارہ نہیں کرتیں ہر روز ان چاہے ہونے کا احساس اندر ہی اندر ختم کررہا ہے مجھے۔ “

اک قدم اسکی طرف بڑھاتے بالکل اسکے سامنے آ ٹہری تھی۔

“کیا آپ بتا سکتے ہیں مجھے یہاں لا کے آپ کن گناہوں کی سزا دینا چاہ رہے ہیں صرف اک انگوٹھی کیلئے اتنا بڑا ڈرامہ رچانے کی کیا ضرورت اے ۔ایس۔اپی کے کسی کی برباد زندگی اور زیادہ برباد کر دیا “

“کوئی فرق نہیں آپ میں اور ان لوگوں میں “

اسکو مجرموں کی طرح خاموش دیکھ تنفر سے کہتی آگے بڑھ گئی ۔

نوفل کا دل اک دم جیسے کسی بری چیز کے شکنجے میں آیا ہو بھلا وہ ایسا کیوں سمجھ رہی کے اک معمولی سی انگوٹھی کیلئے نہیں وہ تو اسکی بہادری کا قائل ہوا تھا وہ تو اسکا لکی چارم تھی دل نے وہیں پکارا تھا کہ اگر نوفل آفندی کے ساتھ کوئی سجے گی تو وہ کوئل ہی ہوگی مگر وہ اس سے بدگمان تھی اس حد تک کیوں غلطی کہاں ہوئی تھی۔

اب بھلا اے۔ایس۔پی نوفل کو کون سمجھائے سینے پہ سٹار سجا لینا ہی کافی نہیں ہوتا زندگی کی حقیقتیں کچھ اور مانگتی ہیں اک عورت محبت سے مقدم عزت کو جانتی ہے اول روز کا اسکا رویہ کوئل کو بری طرح گھائل کر گیا تھا اپنی زندگی کی بےرنگ ہونے سے پہلے بھی واقف تھی مگر نئے گھر آنے پہ تھوڑی امید پیدا ہوئی تھی جو ختم ہوگئی۔

باہر کے سکوت میں اک گہرا سانس خارج کرتا واپس کوئل کے روبرو آیا تھا جہاں وہ بے مقصد ڈریسنگ کی چیزوں سے چھیڑ خانی کررہی تھی ۔

“میں تمہیں انکی اصلیتیں بتا کے دکھی نہیں کرناچاہ رہا تھا کوئل مگر ہماری شادی والی رات مجھ پہ قاتلانہ حملہ کروایا گیا جسکا سرغنہ تمہارے ماموں تھے۔ انکے لالچ کا یہ عالم رہا ہے مجھے راستے سے ہٹا کے کہیں اور تمہیں بیچنا چاہتے تھے کیونکہ اب ان کو ایسا لگ رہا تھا کہ تم بہت انمول ہو۔

غلطی میری ہے اول تو مجھے انکی بات ہی نہیں ماننا چاہیئے تھی میں نے اگر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا ہوتا تو اسی وقت کرلیتا جب وہ پہلی بار میرے پاس آئے تھے”

نوفل کو کوئل کا ان مطلبی لوگوں کیلئے اتنا سینٹی ہونا قطعً گوارہ نہیں ہوا اپنی بات مکمل کرتے وہ کمرے سے نکل گیا۔

کوئل نے بھاگ کے دروازہ۔لاک کیا اور ہاتھوں میں منہ چھپائے بلک بلک کے رونے لگی تھی کیسی قسمت پائی تھی اس نے جہاں روشنی کی کوئی کرن کوئی اجالا نہ تھا اک سے بڑھ کے اک درد اسکا منتظر تھا۔۔۔۔۔۔

مگر وہ صابر واقع ہوئی تھی اپنی سوچوں میں گم اسے یہ پتا بھی نہیں چلا کہ نوفل اسکے سرہانے رکھی ڈائری لے گیا تھا۔

❤
❤
❤
❤
❤

وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزرتا ہی رہتا ہے حبہ خاتون ان سروس تھیں اور کالج واپسی پہ اپنا بوتیک چلاتیں ۔

بچے بورڈنگ سکول چلے گئے تھے اس میں بھی حبہ خاتون کی ضد تھی وہ کوئل کے سائے سے انہیں دور رکھنا چاہ رہیں تھیں نوفل اور اسکا سامنا بہت کم ہوتا اگر سامنے آ بھی جائے تو کنی کترا کے گزر جاتا وہ اس سے ناراض تھا مگر کس بل بوتے پہ جب بھی وہ سوال سوچتی اپنے دماغ کی نسیں پھٹتی محسوس ہوتیں۔

ایسا ہی اک عام سا دن تھا جب حبہ خاتون اپنی روٹین کے مطابق کالج گئی ہوئی تھیں اور نوفل کا کوئی اتا پتا نہ تھا

جب ملازمہ نے اسے نیچے گیسٹ کے آنے کی اطلاع دی

وہ بنا کچھ سوچے ہی ڈرائنگ روم کی طرف بڑھی جہاں پہ اک ڈیسنٹ سا لڑکا بیٹھا تھا ۔

یقیناًوہ۔کوئی نوفل کا رشتدار تھا۔

“ارے آپ مسسز نوفل ہیں رائٹ “

خوش کن انداز میں کہتا اسکی جانب ہاتھ بڑھایا جسے بہت خوبصورتی سے اگنور کرتے وہ اسکا انٹروڈکشن لینے لگی ۔

“جی آپ کون ۔”

“میں شیری ہوں آج ہی لندن سے آیا ہوں بٹ یہاں آکے تو سرپرائزڈ رہ گیا نوفل جیسا اوور سمارٹ لڑکا پورے خاندان سے ٹکر لے کے جو چیز لایا سو مین ٹوٹلی مڈل کلاس لکس “

بنا کوئی لگی لپٹی رکھے شیری نے اسکے سر پہ دوپٹہ لینے اور سادہ حلیے پہ تنقید اسکی اتنی صاف گوئی پہ کوئل مٹھیاں بھینچے رہ گئی۔

” ارے شیری تم واٹ آ سرپرائز “

تبھی وہاں طائشہ آن دھمکی تھی شیری کے گلے لگتے کوئل کو ان کمفرٹیبل فیل کروا گئی۔

کوئل کو اپنا آپ ان لوگوں میں فضول ہی لگا تھا اسیلئے بغیر کچھ بولے وہاں سے کھسک لی۔

“آئی کانٹ امیجن یار نوفل نے تم جیسی اعلا چوائس کو چھوڑ کے اس پینڈو سے شادی کرلی کیسے”

شیری کی آواز نے دور تک اسکا پیچھا کیا۔

تو کیا طائشہ اور نوفل ؟

اسکے سامنے ایک نیا سوال کھڑا ہوا تھا مگر اس گھر میں اسکی اوقات ہی کیا تھی ایک بےنام موتی آنکھوں سے نکلا وہ آنکھیں موندے سوگئی۔

جب دوبار اسکی آنکھ کھلی باہر تاریکی چھا چکی تھی خود کو ملامت کرتی وہ نیچے کی طرف بڑھی جہاں پہ ہنسی اور آوازوں کی لے بتا رہی تھی نیچے کافی سارے لوگ جمع ہیں صبح کا واقع اسکی حس میں بیدار ہوا

کچھ سوچتے اپنے قدم۔واپسی کو بڑھائے .

کچھ دیر حبہ خاتون اسکے کمرے میں موجود تھیں

” یہ کیا طریقہ ہے کوئل میرا بھانجا اتنی دور سے آیا آپ نے ان سے ریفریشمنٹ تک کا پوچھنا گوارہ نہیں کیا ہاؤ ال مینرڈ یو آر”

غصے میں لال ٹماٹر ہوتیں حبہ خاتون اسے شرمندہ کررہی تھیں کوئل کو بھی لگا کے یہ اسی کی ہی غلطی تھی طائشہ اور شیری کے ذاتی فعل پہ اسے اتنا ریکٹ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔

“سس سوری آنٹی آج پہلی بار ان سے مخاطب ہونا پڑا تھا کوئل کو۔

اٹس اوکے آجائیں اب کچھ ہی دیر میں کھانا لگنے والا ہے کم از کم ہم۔اپنے گھر کی روٹین مہمانوں کے سامنے نہیں لانا چاہ رہے “

بےنقط سناتی وہ وہاں سے روانہ ہوگئیں۔

خود کا تنقیدی جائزہ لیتی وہ ڈریسنگ کی طرف بڑھی وہ نہیں چاہتی تھی کے نوفل اور اسکی فیملی کو پھر سے اسکی وجہ سے کسی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے ۔

نوفل نے سیڑھیوں سے اترتی لائٹ پنک کاٹن کا سوٹ پہنے سامنے سے آتی کوئل کو دیکھا دوپٹہ سائیڈ پہ ڈالے کھلے بالوں کی ڈھیلی سے چٹیا بنائے سامنے تھی نوفل کو وہ روٹین سے ہٹ کے تیار نظر آئی حبہ خاتون نے فارمل سمائل کے ساتھ اسے اپنے پہلو میں ٹکنے کا اشارہ کیا تھا ۔

“ارے نوفل کوئی تعارف کی رسم ہوتی ہے شیری نے آنکھ کا کونہ دابتے اسے اشارہ کیا “

“اہنم سو گائز میٹ مائی لکی چارم مسسز کوئل نوفل آفندی اسکے دونوں شانوں سے پکڑے سبکے سامنے کرتا بولا۔ “

کوئل کو لگا جیسے لکی چارم بول کے سبکے سامنے اسکی توہین کی ہے یقیناً وہ طنز کررہا تھا مختل ہوتے حواسوں پہ قابو پاتے وہ دھیمے سروں میں مسکرا دی تھی۔

حبہ خاتون ٹیبل لگانے کا کہتیں وہاں سے اٹھ گئیں وہ نہیں جانتی تھی کے یہ ینگ پارٹی کون تھی مگر ان کی باتوں سے کافی حد تک فریش ہوچکی تھی شیری اور تاشہ کا بھی کوئی غلط کمنٹ نہیں آیا تھا۔

تبھی تاشہ اٹینشن سیکر بننے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی تھی حبہ خاتون ساتھ مل کے کام کرنے لگی کچن سے ڈائننگ روم کی طرف جاتے ہوئے وہ۔سلپ ہوئی اور ہاتھ میں پکڑے کرسٹل گلاس زمین بوس اور ساتھ اسکی ہائے وائے کی دہائی۔

“نجانے صبح صبح کس منحوس کا چہرہ دیکھ لیا تھا “

نوفل کے سہارے کھڑے ہوتے آنکھوں میں آنسو بھرے بولی شاید اسکو چوٹ واقعی زیادہ لگی تھی۔

“ڈونٹ بی فولش تاشہ اب یہ نہ کہہ دینا کے تم نے صبح صبح کوئل بھابھی کو دیکھا ہے”

شیری کا کھلا طنز وہ فق ہوتے چہرے کے ساتھ نوفل کو دیکھنے لگی جو آنکھیں چراتا دوسری جانب دیکھنے لگا۔

کیا ہوگیا ہے بچو تاشہ دھیان سے کام کرنا چاہیئے تھا آپکو

چلو آجاؤ سب حبہ خاتون نے ماحول پہ چھائی ناگواری کو ختم کرنا چاہا تاشہ کا ہاتھ ابھی تک نوفل کے ہاتھ میں ہی دبا تھا ان سب لوگوں کیلئے شاید یہ عام سی بات تھی مگر کوئل کو ایک بے چینی نے گھیرا کھانا کھاتے ہی سب اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے تھے جبکہ مسٹر شیری شاید لمبے دورانیے کو آئے تھے اسیلئے حبہ خاتون نےگیسٹ روم میں اسکے ٹہرنے کا انتظام کروادیا تھا۔

❤
❤
❤
❤
❤

زندگی پھر سے اپنی ڈگر پہ رواں دواں تھی۔

“مام میں سوچ رہا ہوں کوئل کا ایڈمیشن کروا دوں نیکسٹ تاکہ وہ اپنی سٹڈی کنٹنئو کرسکے”

حبہ خاتون سے مخاطب ہوتے بولا تھا نوفل اسوقت ان کے پاس بیٹھا تھا “

“مرضی ہے تمہاری میں کیا کہہ سکتی انکا نروٹھا انداز وہ بخوبی دیکھ رہا تھا۔

مام آپکو نہیں لگتا آپ اسکے ساتھ کچھ غلط کررہی ہیں دل کی بات زبان پہ آخر لانے کی ہمت کر ہی لی تھی۔

ہنمم تمہیں کیوں کر ایسے لگا؟

آج کا تاشہ کا بہیو کیا سمجھوں میں اسے اگر آپ ہی اس گھر میں اسکا مقام نہیں دلاوائیں گی تو ۔

“تو کیا نوفل میں اس لڑکی کو سر پہ سوار کر لوں اپنے خاندان کا شیرازہ بکھرنے دوں مجھ میں اب اور ہمت نہیں ہے نوفل کہ کوئی اور دکھ سہل کر سکوں تمہاری ضد اور محبت میں اس لڑکی کو بہو بنا کے لے آئی ہوں مگر اسکا سائیہ ۔”

وہ بات ادھوری چھوڑے لمبے لمبے سانس لینے لگیں نوفل نے دراز سے انکا ان ہیلر اٹھا کے پکڑایا اوکے اوکے ریلکس مام پلیز آپ ریلکس رہیں میں آئیندہ اس ٹاپک پہ کوئی بات نہیں کرنے والا آپ۔۔ حبہ خاتون نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے کندھے پہ رکھے

“میں جانتی ہوں نوفل کے اس لڑکی کے ساتھ بہت برا ہو رہا مگر اس دل کا کیا کروں جو پہلے ہی جوان بیٹے اور بہو کی موت اس پہ ان یتیم بچوں کی زمداری مجھے کچھ وقت دے دو تم۔ “

ریلکس مام چلیں آپ ریسٹ کریں صبح آپکو جلدی بھی اٹھنا ہے حبہ خاتون نے اپنے فرمانبردار بیٹے کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھا وہ ان سے رخصت لیتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔

دل۔میں اک خلش سی تھی یا کوئل کی باتیں جو مسلسل اک کرب کیسی کیفیت میں تھا ۔۔

رات کو اسکی آنکھ انجانے سے احساس سے کھلی گلہ خشک ہورہا تھا پانی کا جگ بھی خالی تھا کچن کا رخ کرتے اسے محسوس ہوا جیسے کوئل کے کمرے سے کچھ گرنے کی آواز آئی ہو پہلے اپنا وہم گردانتے وہ آگے بڑھا لیکن چند قدم چل کے پھر سے بے چینی کا گھیراؤ الٹے قدموں اوپر کی جانب بڑھا تھا۔

“چھوڑو مجھے گھٹیا انسان کوئل کی گھٹی گھٹی آواز نوفل کے جسم میں شرارے امڈے تھے۔”

“ارے میری بلبل کس کیلئے اتنا تردد جس شوہر کیلئے اتنا سہج سہج کے قدم رکھتی وہ تو تمہیں منہ لگانا گوارہ نہیں کرتا”

شیری نے مزید اسکی طرف قدم بڑھائے تبھی نوفل نے دروازے کو توڑنے والے انداز میں بجایا تھا ۔

کوئل دروازہ کھولو نوفل کی آوز اسکے بے جان جسم۔میں روح پھینک گئی جبکہ شیری رات کے اس پہر اسکی آمد پہ حواس باختہ ہوا تھا اسکی گرفت ڈھیلی پڑتے دیکھ کوئل نے دروازہ وا کیا سامنے موجود نوفل کو دیکھ روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی

۔

“یہ یہ دکھاوا کر رہی ہے نوفل اس نے مجھے خود کمرے میں بلایا تھا دھوکے “۔

اسکی بات درمیان میں ہی رہ گئی تھی نوفل کے پڑنے والے گھسن نے اسکی بولتی بند کروا دی ۔

“تمہاری جرأت کیسے ہوئی خبیث انسان کے تم۔میری بیوی میری عزت پہ ہاتھ ڈالو”

نوفل کا ہاتھ اٹھا تو رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا حبہ خاتون بھی اسکی آواز سن کے اوپر آئی تھیں۔

“کیا ہورہا ہے یہاں چھوڑو نوفل مر جائے گا وہ”

حبہ خاتون کی بات سنتے اسے چھوڑتا کھڑا ہوا۔

“مام اس سے کہیں ابھی اور اسی وقت میرے گھر سے دفع ہوجائے نہیں تو”

چنگھاڑتے ہوئے اک بار پھر اسکی طرف بڑھا تھا حبہ خاتون اب تک معمالہ سمجھ نہیں پا رہی تھیں شیری بھی جان خلاصی ہوتے دیکھ وہاں سے کھڑا ہوا تھا نوفل بنا کوئی دوسری بات کیے کوئل کو اپنے ساتھ لیتے روم میں آگیا تھا۔

❤
❤
❤
❤
❤

وقفے وقفے سے جاری اسکی سسکیوں کی آواز نوفل کو ڈسٹرب کررہی تھی ۔

“اور کتنا سوگ منانا ہے بلا نہیں سکتی تھی تم مجھے “

اسکے سر پہ کھڑا چیخا کوئل نے نم پلکیں اٹھائے اسے شکوہ کناں نظروں سے دیکھا

” کس حق سے بلاتی ۔”

“روم لاک کیوں نہیں کیا تھا” وہ اسکی بات اگنور کرتے بولا۔

“آس تھی کبھی روم واسی واپس آجائے” بنا ڈرے جواب دیا۔

“دیکھ لیا نتیجہ پھر “

نوفل کہاں غلطی ماننے والوں میں سے تھا۔

“دیکھ ہی لیا جب گھر کا کوئی مالک نہ ہو تو چور اچکے ہی اسے اپنا مسکن بنانے کی کوشش کریں گے”

کوئل نے کب ہار ماننا سیکھا تھا۔

“جتنی زبان چلتی ہے اتنے ہاتھ بھی چلا لینے تھے “وہ چڑتے ہوئے بولا۔

اب کے کوئل افسوس بھری نگاہوں سے دیکھتی دوسری جانب رخ کر گئی۔

اور نوفل کا دماغ اسی چیز پہ سٹک تھا اگر اسے آنے میں دیر ہوجاتی تو۔

اس نے بھلا کیسے ایک لٹیرے کو اپنے گھر میں جگہ دے دی شل ہوتے دماغ ساتھ کھڑا ہوا۔

“آپ کہاں جارہے” اب کے کوئل کی آواز میں ڈر نمایا تھا۔

“جہنم میں چلنا ہے” پھاڑ کھانے والے انداز میں اسے گھورا ۔

“نہیں میں یہی رہ لونگی آپکو ہی مبارک ہو”

اتنی سریس سچویشن میں بھی اسے ہنسی آئی تھی مگر چہرہ جھکا لینے کی وجہ سے نوفل اسکے تاثرات نہیں دیکھ پایا تھا۔

دوبارہ پانی لینے کو آگے بڑھا تھا گیسٹ روم سے آتی آوازیں سن مشکل سے خود پہ قابو پایا اور آگے کو بڑھا۔

“تم نے تو کہا تھا میں آتے ہی دو دن میں اس منحوس لڑکی کو گھر سے باہر کرونگا اور نوفل اس سے بدظن ہوگا کہ فوراً طلاق دے کر نکالے گا یہ کارنامہ کیا نوفل کے دل میں اسکیلئے مزید ہمدردی پیدا کردی میں بھلا کیسے اس منحوس لڑکی کا سایہ اپنی اولاد پہ برداشت کروں جسکی منحوس ماں میرا بھائی کھا گئی۔”

مام کی بات سن نوفل کے دماغ میں سنسناہٹ پیدا ہوئی

تو کیا کوئل احمر ماموں کی بیٹی ہے اور یہ سب اسکی مام کا پلان تھا اتنا گھناؤنا انتقام اسے مزید سننے کی ہمت کہاں تھی وہ بنا آہٹ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *