Koyel Anghothi Chor by Uzma Mujahid NovelR50611 Koyel Anghothi Chor (Episode 07)
Rate this Novel
Koyel Anghothi Chor (Episode 07)
Koyel Anghothi Chor Uzma Mujahid
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺠﮭﮯ
ﺟﺎﻥ ﭘﺎﺋﮯ ﮨﻮ ۔ ﺳﺐ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﻮ ؟
ﺳﺐ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﻮ ؟
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ہو۔۔
نوفل کی آواز پہ وہ پلٹی اآج دوسری بار وہ اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو کیچوئل ڈریس میں اپنی گریس فل پرسنایلٹی لیے اسے غصے سے گھورتا اور بھی چارمنگ لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
جی آپ کون کوئل نے حیرانگی کا بھرپور اظہار کیا
نوفل کو تو جیسے پتنگے لگ گئے ۔۔۔۔
ریڈ ڈیپ کلر کامدار لہنگا اور شرٹ مکمل بھیگ چکے تھے پانی میں ٹہرنے سے میک اپ بھی دھل گیا تھا مگر پھر بھی اسکے تیکھے نقوش بہت پیارے لگ رہے تھے ۔۔۔
میں نوفل آفندی ہوں مس کوئل انگوٹھی چور ۔۔
نوفل بھی اسی کے انداز میں گویا ہوا تھا جبکہ لفظ چبا چبا کے بولتا اپنے غصے پہ مکمل کنٹرول کرنے کی کوشش میں بھی نظر آرہا تھا۔۔۔۔
کوئل نے ابرو اچکائے سامنے موجود اپنے شوہر کو دیکھا اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آپ ہی میرے شوہر ہیں کوئی اور چور اچکا میرے کمرے آگیا ہو تو۔۔۔
نوفل کو اسکے انداز نے چونکایا اتنی پرانی بات تو نہیں تھی اور نہ اتنی آسانی سے بھلائے جانے والی ملاقات۔۔۔
بے نیازی سے کہتی وہ بیڈ سے اپنا ڈریس اٹھاتے پھر سے واشروم میں بند ہوچکی تھی جبکہ وہ اسکی حددرجہ جاہلوں والی حرکت دیکھ ماتھا مسلنے لگا کہیں اس نے کوئی بڑی غلطی تو نہیں کردی اپنی جلد بازی میں ۔۔۔۔
چھوٹے بابا وہ ٹیچر مما کہاں گئیں حمزہ اور منہہ دروازے پہ موجود کوئل کے بارے استفسار کررہے تھے۔۔۔۔۔
میں یہاں ہوں منہہ باہر آتے ہی وہ بے تکلفی سے اسکی جانب بڑھتی اپنی گود میں اٹھاتے بولی
آپکی ٹیچر مما آپ سے ناراض ہیں ٹیچر کی یہاں فرسٹ نائٹ تھی آپ روم میں ہی نہیں آئیں پوری رات آپکا انتظار کیا۔۔۔,
وہ مخاطب منہہ سے تھی جبکہ نوفل کو لگ رہا تھا وہ صاف اسے ہی سنا رہی ہے کیونکہ منہہ کو اتنا تفصیلی جواب اور شکوہ بنتا تو نہیں تھا۔۔۔۔
سوری ٹیچر آئیندہ سے میں آپکے پاس رہوں گی منہہ کی لاڈیاں شروع ہوچکی تھیں۔۔۔
حمزہ اور نوفل اک دوسرے کو دیکھا وہ ایسے اگنور ہورہے تھے جیسے یہاں موجود ہی نا ہوں۔۔۔
بچے آپ لوگ چلو میں آپکی مما کو لے کے آتا ہوں حمزہ کو اشارہ کرتا منہہ کی طرف بڑھا پھر اسکی بات سمجھتے وہ دونوں باہر کو بھاگے۔۔۔۔
کوئل بنا اسکو دیکھے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا بیٹھی اپنا اتنا اگنور ہونا کسی طرح بھی نوفل کو ہضم نہیں ہورہا تھا وہ جو سمجھ رہا تھا کہ جیسے ہی روم میں جائے گا وہ روتی دھوتی اس سے اپنے نا آنے کی وجہ پوچھے گی جھگڑا کرے گی مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں تھا اٹیٹیوڈ دکھایا جا رہا تھا اور وہ بھی اس بندے کو جس میں خود کوٹ کوٹ کے انا کا خمیر ڈالا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
کیا میں اس رویے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں مس کوئل
انداز اب کے نارمل ہی تھا۔۔۔
کیا میں نے اس گھر میں اپنے موجودگی کا سوال کیا آپ سے ترکی بہ ترکی جواب ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوفل کی چہرے پہ بے ساختہ مسکراہٹ آئی پولیس والے کی بیوی ہو اتنا سٹیمنا ہونا بھی چاہیئے کوئل اسکا انداز دیکھ گڑبڑائی تھی۔۔۔۔
بہرحال آج کے بعد آپ مجھے اس لباس میں نظر نہ آئیں امید ہے کہ آپکی وارڈروب اچھے ڈیزائینر کے کپڑوں سے بھری ہوئی ہوگی کیونکہ میں اپنی مما کی چوائس سے واقف ہوں چینج کر کے آئیے میں آپکا انتظار کررہا ہوں۔۔۔۔۔
اسکا دھونس بھرا انداز دیکھ کوئل کے سر پہ لگی ۔۔
میں کسی کے احکامات بجا نہیں لاتی پولیس والے ہوں گے آپ اپنے تھانے میں نوفل کو اسکا انداز اب چڑ کھانے پہ مجبور کررہا تھا ۔۔۔۔
اوکے تو میں آپکو مما سامنے ایسے ہی لے جاتا ہوں واپسی کی باتوں پہ آپکا ریکشن یقیناً دیکھنے کے قابل ہوگا کہتے ساتھ ہی وہ کوئل کی جانب بڑھا وہ اک دم پیچھے ہوئے۔۔
مم میں چینج کرکے آتی ہوں کہتے ساتھ ہی وہ ڈرییسنگ روم میں چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔
اندر واقعی ہی بہترین کیلکشن اسکے سامنے تھی مرجنڈا کلر کا قدرے ہلکے کام۔والا ڈریس پہنے باہر آئی روم خالی تھا اس نے سکون سانس بھری سانس لی تبھی حبہ خاتون بھی کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔
ہماری بہو سے تو اتنی۔زحمت نہیں ہوئی کے ساس کو آکے سلام کرلیں سوچا ہم خود ہی درشن کرا آئیں ہماری کالونی کی عورتیں ملنا چاہ رہی ہیں آپ سے پانچ منٹ میں تیار ہوکے آپ نیچے آجائیں اپنی سناتی حکم۔دیتی یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔
کیا اس گھر میں سب ہی سنکی ہیں کوئل نے پہلے آنی والی سوچ پہ آہ بھری اور ڈریسنگ پہ موجود چیزیں دیکھیں جن کے استعمال سے بھی وہ انجان تھی آگے بڑھتے لائٹ کلر کی لپ اسٹک اٹھائی مسکارہ آئی لینر لگائے باہر کی جانب لپکی جو کہ راستوں سے بھی انجان تھی آوازوں پہ اندازے لگاتی مہمانوں کی جانب بڑھی جہاں پانچ چھ خواتین سامنے موجود تھیں حبہ خاتون نے اسکے حلیے پہ اک مطمئن نگاہ ڈالی اور اسکا تعارف کروانے لگی۔۔۔۔
کچھ عجیب سا نام نہیں ہے بیٹا آپکا کوئل آئی مین ہاؤ یور پیرنٹس انسپائرڈ ود بلیک بک ۔۔۔۔۔
رئیلی اٹس ساؤنڈ گڈ کوئل ۔۔۔۔۔
مختلف خواتین کے تبصرے اپنے نام اور زات کے۔متعلق سن اسے اپنی ممانیاں یاد آئیں یہ آرٹیفشل چہرے لیے بظاہر لبرل آئنٹیاں بھی اسکی ممانیوں سے کم۔نہی تھیں۔۔۔۔
تبھی اک خاتون کا موبائل بجا اور دوسری طرف کی بات سن انہوں نے ہائے ہائے کی دہائی شروع کردی کوئل انکا انداز دیکھ سہمی کہیں یہاں پر بھی تو اسکی ذات کو نہیں رگیدا جائے گا۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا مسز رانا حبہ خاتون بھی پریشان سی انکی جانب بڑھیں ارے میرا بچہ سائکل سے گر کے زخمی ہوگیا مجھے جانا ہوگا حبہ خاتون کی نگاہ کوئل کی جانب اٹھی کیا کچھ نہیں تھا ان نگاہوں میں سب خواتین وہاں سے روانہ ہوئیں ۔۔۔۔۔
ارے بھابھی اب تو مان لیا نا کہ آپکی بہو سبز قدم ہے ہمارے نوفل کا ہاتھ زخمی ہوا آج مسسز رانا کا بیٹا اللّٰہ جانے آگے ہم نے کیا کیا دیکھنا ہے کوئل اس عورت سے انجان تھی مگر نوفل نہیں۔۔۔
واٹ نان سینس چچی جان یہ توہم پرستی کی باتیں آپ کو نہیں لگتا آپ اک دن کی دلہن کو آکورڈ فیل کروانے کی کوشش کررہی ہیں۔۔۔۔
حبہ خاتون نے اک نگاہ اس پہ ڈالی اور اپنے ہونہار بیٹے پہ کوئل آپ اپنے روم میں جائیں خواہ مخواہ کی بدمزگی ہوتا دیکھ اس نے کوئل کو وہاں سے جانے کا بولا جو شاید وہاّں سے جانے کے حکم میں ٹہری تھی۔۔۔۔۔۔۔
نوفل کو گولی لگی اور وہ بھی شادی والے دن مم میں کیسے انجان اسکی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے یقیناً اس لیے وہ رات میں اسکے پاس نہیں آیا تھا دروازہ پہ دستک ہوئی وہ جلدی سے اپنے آنسو چھپا گئی آنے والی صبح والی ملازمہ اور اسکے ساتھ بیوٹیشن تھی۔۔۔۔۔





گرے کلر ٹیل میکسی پہ رئیل سٹونز کا کام اور اس میں جڑے آبنوسی نگینے کوئل کی خوبصورتی کو مزید ابھار رہے تھے نوفل اسے اپنے سامنے دیکھ کئی ثانیے پلک جھپکنا بھول گیا وہ واقعی بے تحاشا حسن کی مالک تھی مگر جو چیز شاید اسکو مزید جلا بخشتی وہ اسکے ہونٹوں پہ آنے والی مسکراہٹ تھی وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکی کزن اسے کیا لطیفے سنا رہی تھی جو اس جیز سڑیل مزاج لڑکی بھی ہنس رہی تھی مگر جو بھی تھا وہ مکمل طور پہ نوفل کو اپنے سحر میں جکڑ چکی تھی۔۔۔۔
آہا تو یہ چیز تھی جس پہ نوفل فدا ہوا تھا یقیناً اس کا بے داغ حسن طائشہ نوفل کو مسحور دیکھ جلن کا شکار ہوئی ۔۔
دیکھو تو زرا کتنی بے شرم دلہن ایسے منہ کھولے ہنسے جارہی جیسے شادی کرنے کیلئے مری جارہی ہو تاشہ کی آواز نوفل کی سماعتوں تک بخوبی پہنچ چکی تھی جو بتا پھوپو کی بیٹی جویریہ کو تھی مگر سنوا یقیناً نوفل کو رہی تھی نوفل اسے مکمل اگنور کرتا سٹیج کی طرف بڑھا
بس کریں رابعہ آپی کیا آپ اس سے ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار بنوانے لگی ہیں پبلک ساری ْآپکو دیکھ رہی۔۔۔
جی نہیں ساری پبلک آفندی انڈیسٹریز کے اکلوتے چشم وچراغ کی پیاری دلہن کو دیکھ رہی ہے تم دونوں ہی بہت پیارے لگ رہے بس خدا اس خاندان کی کڑوی نگاہوں سے بچا لے رابعہ آپی واقعی حد درجہ منہ پھٹ واقع ہوئی تھیں نوفل کا قہقہ بے ساختہ تھا اب اسے سمجھ آرہا تھا یقیناً وہ کوئل کو بھی ایسا کچھ سناواتی رہی ہونگی
ولیمہ بھی بخیروعافیت انجام پا چکا تھا کوئل کے گھر والوں میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہوا تھا حبہ خاتون جھوٹے سچے بہانے پیش کرتی رہیں
گھر میں قدم رکھتے ہی انکا سامنا روزینہ اور رمشہ سے ہوا جہاں کوئل انکی موجودگی پہ حیران تھی وہیں حبہ خاتون کا بی پی شوٹ کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔
آپ لوگوں میں کوئی لحاظ ہے کہ ہمیں آپ لوگوں کی وجہ سے کتنی شرمندگی اٹھانی پڑی ہے آج ارے آپ نے تو یتیم سمجھ سر سے بوجھ اتار پھینکا مگر دنیا کے دکھاوے کو آجاتے اتنا لاوارث کردیا لڑکی کو بھائی ہمیں بھی دو لوگوں کو منہ دکھانا ہے لوگ کیا کہیں گے آفندی خاندان نے لاوارث لڑکی کو اپنی بہو بنا لیا اپنا نہیں تو ہمارا خیال کرلیتا خاندانی لوگ ہیں ہم …….
وہ کوئل کا لحاظ رکھے بنا شروع ہوچکی تھیں وہ اک نظر ممانی کے فیس پہ ڈالی اور دوسری حبہ خاتون کے جو بھی تھا نام کے سہی رشتہ دار ہی تھے ۔۔۔۔۔۔
دیکھیں ہم بھی آپکے لحاظ میں ہیں آپکے بیٹے نے ہم سے نجانے کونسے جنم کی دشمنی نکالی ہے جھوٹا مقدمہ بنا کے کوئل کے دونوں ماموں کو رات سے حوالات میں بند کردیا ہے ہم بھلا کیسے اپنے زخم لے کے آجاتے اپنی بات مکمل کرتے انہوں نے خونخوار نظروں سے کوئل کو دیکھا رمشہ تو جب سے آئی تھی منہ کھولے اسکی شان وشوکت ہی دیکھ رہی تھی مگر روزینہ اسوقت صدمے سے نڈھال تھیں ورنہ وہ بھی ضرو ٹامہگوئیاں لیتیں۔۔۔۔۔۔
ارے کرم۔جلی منحوس لڑکی اس گھر سے نکل آئی پھر بھی اپنا سائیہ ہماری خوشیوں پہ ڈال کے آ گئی کچھ تو ہمارے احسان یاد رکھتی کیسے ایک دن کی تھی تجھے پال پوس کے جوان کیا یہ صلہ دیا روزینہ کی ہائے وائے دیکھ حبہ خاتون کا دل بھی نرم ہوا کوئل کچھ نا کرکے بھی پھر سے جرمدار ہوگئی تھی اپنی آنکھوں میں آنسو چھپائے میکسی سنبھالتی کمرے کی طرف بھاگی ۔۔۔۔
دیکھیں بہن آپکی خواہش پہ ہم نے اس رشتے کی ہاں کی اگر آپ کا بیٹا پولیس والا ہے تو کیا پہلا وار ہی سسرال والوں پہ کرے گا وہ پھر سے رونے۔لگ گئیں حبہ خاتون انہیں ہمدردی سے دیکھتے اپنے رویے کی معزرت کرنے لگیں نجانے کیوں نوفل نے ان لوگوں سے ایسا سلوک کیا انہیں جھوٹی سچی تسلیاں دیتے وہ اپنے کمرے میں چلی گئیں
نجانے یہ۔لڑکی انہیں اور کیا کیا دکھانے والی تھی۔۔۔۔۔





وہی شخص میرے لشکر سے بغاوت کر گیا
جیت کے سلطنت جس کے نام کرنی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوفل جیسے ہی گھر میں داخل گھر میں گہرا سناٹا پھیلا اسے وحشت میں مبتلا کرگیا ہال سے واپسی پہ اسے کانسٹیبل کی کال آئی جس کے مطابق ظفر صاحب جیل میں بے ہوش ملے ہیں وہ جو انہیں صرف چند گھنٹوں کا سبق سکھانا چاہ رہا تھا بنا کو کسی کچھ بتائے پولیس اسٹیشن کی طرف بڑھ گیا اور اب رات کے دو بج رہے تھے اپنے کمری کی طرف بڑھتے اک نگاہ بچوں کے کمرے پہ ڈالی اندر دیکھا وہ دونوں پرسکون سو رہے تھے چٹ پٹ انہیں پیار کرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تبھی خیال اک نظر اس دشمن جان کو بھی دیکھ لیا جائے برا پھنسایا ماں نے اسے حبہ خاتون کے روم۔کی لائٹ آف تھی مطلب وہ نیند کی ٹیبلٹس لیے سورہی ہونگی شرارتی مسکان لیے اسکے روم کی جانب بڑھا دروازہ ان لاکڈ تھا لائٹ آن تھی مگر کوئل روم۔میں نہیں تھی اک نگاہ واشروم کی طرف کی وہاں کی بھی لائٹ آف تھی تو کیا اسکے گھر والے اسے لے گئے تھے نہیں نوفل کی حرکت کے بعد تو کوئل سے رابطے کا سوچیں گے بھی نہیں ٹیرس کی کھلی کھڑکی دیکھ اسکی جانب بڑھا سامنے ہی وہ رگنگ چئیر پہ موجود کسی پنڈولم کی طرح جھولتی نظر آئی ڈریس چینج ہوچکا تھا مگر وہی سیاہ لباس دیکھ نوفل پھر سے بدمزہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منع کیا تھا کہ سیاہ لباس میں نظر نہ آؤ تو پھر سے کس بات کا سوگ منا رہی ترش لہجے میں کہتا اسکی جانب جھکا کوئل جو اپنے خیالوں میں گم تھی اسکی آواز سن ہڑبڑا کے اٹھی تبھی اسکی گود میں موجود کوئی چیز نیچے گری ۔۔
آواز پہ نوفل نے نگاہ کی وہ وہی سیاہ رنگ کی ڈائری تھی اس سے پہلے نوفل اسے اٹھانے کو جھکتا وہ خود ہی اٹھاتی اسے سینے سے لگا گئی بلکل کسی مقدس کتاب کی طرح ۔۔۔۔۔۔
رات کے اس پہر کسکے انتظار میں جاگ رہی ہیں اور وہ بھی یہاں اٹس ناٹ سیف چلیں کمرے میں نوفل نے کہتے ساتھ قدم بھی بڑھائے مگر وہ۔پھر بھی وہیں جمی رہی ۔۔۔۔
مجھے آپ سے بات کرنی ہے اسکی بات سن نوفل مسکرایا مگر پلٹے بناہی کہا۔۔۔۔۔۔
زہے نصیب مسسز کوئل کیا بات کرنی ہے آپکو ہم سے ہمیں اتنا اہم جاننے کاشکریہ۔۔۔
کوئل اسکے طنز کو بخوبی سمجھ رہی تھی مگر اس سے مخاطب ہونا اسکی مجبوری تھی فلحال ۔۔۔
کونسا ایسا جرم کرکے آرہے ہیں جہاں نظریں ملانے کی ہمت نہیں کوئل کا لہجہ اس سے بھی دو ہاتھ آگے تھا تبھی وہ پلٹا ۔۔۔۔۔۔
اے۔ایس۔پی نوفل آفندی کو اس بات کا ہمیشہ غرور رہے گا کہ بیوی اس نے ٹکر کی لی ہے اوپرلے ہونٹ کا کونہ دانتوں میں دبائے اسکو اچھا خاصا تپا گیا۔۔۔۔
مسٹر اے۔ایس ۔پی کیا میں پوچھ سکتی۔ہوں کے۔میرے ماموں لوگوں کو کس جرم۔کی پداش میں آپ نے اریسٹ کیا ہے ۔۔۔
کوئل کی بات پہ چونکا تھا تمہیں کس نے خبر کردی اسکا غصیلہ انداز دیکھ کوئل کو عجیب لگا۔۔۔۔
کیوں آپ کا جب دل کرے گا کسی بھی معصوم کو اٹھا کے جیل میں ڈال دیں گے کوئی آپ سے سوال نہیں کرے گا۔۔۔۔
شریف نہیں ہیں وہ۔لوگ لاکھوں روپے کے جعلی نوٹوں سمیت پکڑے گئے ہیں نوفل نے گویا اسکی معلومات میں اضافہ کرنا چاہا۔۔۔۔۔
اور ان کو وہ جعلی نوٹس تھمائے کس نے تھے اے ۔ایس۔پی۔ صاحب ڈائریکٹلی اسکی آنکھوں میں دیکھتی وہ نوفل کو بھی کنفیوژ کرگئی ۔۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا نوفل نے بڑی جلدی خود پہ قابو پایا وہی مطلب جو آپ سمجھ رہے۔۔۔۔۔۔
کوئل احمر کی قیمت ادا کی تھی نا آپ نے اور دو کوڑیوں کی بھاؤ جس لڑکی کو خریدا وہ بھی جعلی رقم۔دے کے صیح کہتے ہیں دنیا والے آپ پولیس والے کالے دھن کو سفید کرکے پیش کرنا خوب جانتے ہو ویلڈن مسٹر اے۔ایس۔پی دونوں ہاتھ اٹھائے کلیپ والے انداز میں اسے شاباشی دیتی نوفل کو اسکی نظروں میں گرا گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
