Koyel Anghothi Chor by Uzma Mujahid NovelR50611 Koyel Anghothi Chor (Episode 06)
Rate this Novel
Koyel Anghothi Chor (Episode 06)
Koyel Anghothi Chor Uzma Mujahid
پلکوں پہ لے کے بوجھ کہاں تک پھرا کروں
اے خوابِ رائیگاں میں بتا تیرا کیا کروں !
شاید کوئل کی انوکھی رخصتی تھی جہاں پہ کسی نے دنیا کے دکھاواے کو رونا بھی مناسب نہیں سمجھا بےسروسامانی کا اک اور احساس اس پہ حملہ آور ہوا تھا اپنے وجود کے غیر اہم ہونے کا احساس مسلسل کچوکے لگا رہا تھا نوفل نے آگے بڑھ کے اسے گاڑی میں بیٹھنے میں مدد دی وہیں حبہ خاتون نے نوفل کو آنکھوں کے اشارے سے تنبہہ کی وہ بچارا گڑبڑا کے جلدی سے ہاتھ چھوڑتا سیدھا کھڑا ہوا کوئل جسکے دل نے اس کا لمس محسوس کرتے ہی زوروں سے دھڑکنا شروع کیا تھا اسکے ہاتھ چھڑانے پہ اک دم سب سرد پڑا تھا۔۔۔۔۔
ظفر صاحب گلے ملنے نوفل کی طرف بڑھے
“تمہیں اپنا وعدہ یاد ہے نا بقایا رقم کا”
ہنمم ہاں مجھے یاد ہے وہ بھی فارمیلٹی کے انداز میں مسکرایا اور جلدی ہی بارات آفندی ولا کی طرف روانہ ہوگئی جہاں کوئل زندگی کے مزید رنگوں سے آگاہ ہونے کو تھی۔۔۔۔





خس کم جہاں پاک ۔۔۔
ہال سے واپس آتے ہی روزینہ نے باآواز بلند کہا اپنے جلمے کی داد وصول کرنے کو اپنے اردگرد والوّ کو دیکھا سب کے چہروں پہ اک بھرپور مطمئن سی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔۔
تبھی اندر داخل ہوتے پولیس اہلکاروں نے سب کو چونکایا دیا
آپ میں ظفر اور فرحان کون ہیں پہلا سوال جو آتے سے ہی ہوا ۔۔
جی میں ظفر ہوں” نوفل نے اتنی جلدی وعدہ پورا کردیا انکی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ دونوں کی گرفتاری اور سرچ وارنٹ جاری ہوئے ہیں ۔۔
سامنے موجود کانسٹیبل کی آواز پہ سب کے چہرے پہ ہوائیاں اڑیں تھیں۔۔۔۔۔۔
کک کس لیے کیا کیا ہے میرے شوہر نے روزینہ جلدی سے ظفر کو ہٹاتی انکے سامنے آئی ۔۔۔۔
دیکھیں بیبی ظفر اور فرحان کے خلاف مافیہ سے جعلی رقم وصول کرنے اور بینک میں جمع کروانے کا الزام ہے ہم چاہتے تو اسی وقت کاروائی کرسکتے تھے مگر اس علاقے کے اے۔ایس۔پی آپکے داماد بن رہے ہیں اسی لحاظ میں ہم پیچھے ہوگئے۔۔۔۔
وہاں ہر کوئی اس الزام پہ ورطہ حیرت میں ڈوبا تھا اور کسی کا واویلا سنے بغیر وہ ان دونوں کو گرفتار کرکے لے گئے۔۔۔۔۔۔
اتنا بڑا دھوکا روزینہ اور افشین نے اک دوسرے کی طرف دیکھا یقیناً یہ سب نوفل کا کیا دھرا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔






کوئل کب سے بیٹھی اے۔ایس۔پی نوفل کا انتظار کررہی تھی کتنے ادھار تھے جو اس نے چکتے کرنے تھے مگر اس نے بھی انتظار کی ٹھان رکھی تھی شاید۔۔۔۔۔
اور اسی انتظار میں اسے نیند آگئی گھر کا کوئی فرد بھی اسکے روم میں نہیں آیا تھا تازہ پھولوں سے سجی سیج اسکی قسمت پہ اداسی سے مسکرائی اور صبح کی پو پھوٹتے ہی وہ مرجھانے لگے۔۔۔۔۔
کھٹکے کی آواز پہ وہ اٹھ بیٹھی نگاہ پردوں کے پیچھے سے جھانکتے آفتاب پہ پڑی آنے والی نے اک نظر اس بدنصیب لڑکی پہ ڈالی جسکا حلیہ بتا رہا تھا کہ اسکی رات بنا کوئی احساس چھوئے گزر چکی ہے۔۔۔۔۔
وہ جی بڑی بیگم صاحبہ نے کہا ہے کہ آپ ناشتے کے بعد ریڈی ہوجائیے گا پارلر والی آج گھر پہ ہی تیار کرنے آئی گی آپکو”
سامنے ٹیبل پہ ناشتہ رکھتی وہ بنا اسکی کوئی سنے جیسے آئی ویسے ہی چلی گئی۔۔۔۔
کوئل کو اک شدید بےعزتی محسوس ہورہی تھی اسکا دلہا پہلی رات ہی اسکے کمرے میں نہیں آیا۔۔۔
اک برف تھی جو پگھلی تھی اور وہ ٹوٹ کے روئی یہ کیسا موڑ تھا اک ان چاہے ہونے کی اذیت کی شدت سے وہ آگاہ ہوئی تھی ۔۔۔
ٹھکرائی تو وہ بچپن سے جارہی تھی مگر جو شخص اک دنیا کے سامنے اسکا ہاتھ پکڑے خدا اور رسول کو گواہ بنائے اس گھر میں لایا ہے وہ شاید اسے کوئی اپنا گناہ سمجھ اسے بھول گیا ہے زندگی میں تین بار وہ شدت سے روئی تھی اک جب ہوش سنبھالتے اسے پتا چلا کہ اسکی ممانیاں اسے منحوس سمجھ کے اپنے بچوں کو اسکے سایے سے بھی دور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں،،،،،
دوسرا جب آوارہ لڑکوں کی وجہ سے اسے اور اسکی مرحومہ ماں کی کردار کشی کی گئی اور اب جب اسے ٹھکرائے جانے کی ذلت کا سامنا تھا ۔۔۔
کیا وہ ملازمہ کی آنکھوں میں تحریر حیرت سے ناآشنا تھی ۔۔۔۔
نہیں کوئل اب نہیں بہت رو لیا اور بہت رلا لیا زمانے نے اب خود کو مضبوط کرنا ہے ورنہ دنیا ایسے ہی تمہیں قدموں مہں روندتی چلی۔جائے گی ۔۔۔
یقیناً انگوٹھی کی خاطر اسکا صاف انکار نوفل کی انا پہ کاری ضرب ثابت ہوا تھا اور وہ اسکی زندگی سے کھیل گیا ورنہ وہ کسی شخص کی چاہت نہیں ہوسکتی جو بھی تھا نوفل کو اسکے سامنے آکے اپنے رویے کی وجہ بتانی چاہیئے تھی۔۔۔۔
وہ اٹھتی آئینے کی سامنے جاٹہری جہاں میک اپ اور اسکا روپ سروپ اب بھی بہت پیارا لگ رہا تھا تو کیا کوئل احمر اس قابل تھی کے اسے کوئی ریجکٹ کرسکے لیکن اسکے سیاہ نصیب وہ وارڈروب کی طرف بڑھی اپنا بیگ نکالا اور اس میں سے اپنا من پسند سیاہ لباس اٹھائے واشروم کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
کوئل انگوٹھی چور فرام اے ایس پی نوفل ۔۔۔
اپنی آواز کی بازگشت اب بھی اسکے کانوں میں پڑی تھی۔۔
“ویلکم ٹو دا ہیل لائف آف کوئل انگوٹھی چور مسٹر نوفل”
وہ جو مکمل۔دلہن بنی شاور کے نیچے ٹہری تھی اک زہریلی مسکراہٹ اور آنسو کی نمی اسکے دل کا حال بیان کررہی تھی۔۔۔۔
کچھ لوگوں کی اذیتوں میں شدت صرف اس وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ انہیں ترک تعلق نہیں آتاانہیں نظر انداز کرنا نہیں آتا، انہیں چھیننا نہیں آتا، انہیں جیتنا نہیں آتا، انہیں منافقت نہیں آتی وہ ایک دفعہ جس کو اپنے قریب کر لیں پھر ان کو ان کے بچھڑنے پر صبر نہیں آ تا۔۔۔





حبہ خاتون بیٹے کی ہر حرکت سے بخوبی آگاہ ہورہی تھیں پھر بھی خاموش ہوئے بیٹھی رہیں اسکا بار بار کوئل کے کمرے کی طرف نگاہ اٹھنا اور بار بار گھڑی کی جانب دیکھنا
“نوفل بیٹا ناشتہ کرو صیح سے اور کہاں جانا ہے جو بار بار گھڑی دیکھ رہے”
وہ مما کی بات سن کے چونکا تھا
“کچھ نہیں مما بس ایسے ہی آج اک امپورٹنٹ کیس دیکھنا ہے شاید جانا پڑے تو ۔۔۔
الجھا انداز دیکھ جیسے وہ کسی نتیجے پہ پہنچی تھیں۔۔۔۔
میں نے کوئل کا ناشتہ اسکے کمرے میں بھیج دیا ہے پھر بھی اگر تم اس سے ہیلو ہائے کرنا چاہو تو کر آؤ اور اسے بتا دینا اپنے نہ آنے کی وجہ بھی ۔۔۔
کچھ دیر ناشتے اور دماغ میں پکتے لاوے کو اک ساتھ ہینڈل کیا لیکن جیسے ہی حبہ خاتون کچن کی جانب گئیں وہ کوئل کے روم کی طرف بڑھ آیا ناک کرتا اندر داخل ہوا ۔۔
مگر وہ کہیں نہیں تھی واشروم بھی اوپن تھا مگر شاور چلنے کی آواز آرہی تھی کچھ جھجکتے ہوئے وہ آگے بڑھا تبھی اسکی نظر بیڈ پہ پڑے سیاہ رنگ کے لباس پہ پڑی اسکی رگیں غصے کی زیادتی سے تنی تھیں پھر بھی صبر کرتا وہ مزید آگے ہوا ۔۔۔۔
نوفل کو لگا شاید ہی اس دنیا میں اس لڑکی سے زیادہ کوئی پاگل ہو جو لاکھوں مالیت کا لہنگا اتنی بے دردی سے پانی میں بھگوئے ٹہری تھی۔۔۔۔
“کوئل “
وہ چاہ کے بھی آواز کی سختی پہ قابو نہیں پا سکا تھا ۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
