Koyel Anghothi Chor by Uzma Mujahid NovelR50611 Koyel Anghothi Chor (Episode 02)
Rate this Novel
Koyel Anghothi Chor (Episode 02)
Koyel Anghothi Chor Uzma Mujahid
نوفل چاہ کے بھی حبہ خاتون کو کوئل کے گھر جانے کیلئے راضی نہیں کرپارہا تھا وہ جو سمجھ رہا تھا جو ماں بچپن سے اسکی اک کہے پہ ہر ضد پوری کردیتی تھیں وہ اب بھی کردیں گی مگر وقت اور حالات بدل چکے تھے۔۔۔
چھوٹے بابا منہہ کی آواز پہ وہ متوجہ ہوتا چٹ پٹ اسکے دونوں گال چوم کے لال کردیے اور جو پتا نہیں کیا بتانے آئی تھی اسکو اپنی بات ہی بھول گئی ۔۔۔۔۔
جی چھوٹے پاپا کی جان لاڈ سے کہتے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا وہ۔اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ سر پہ مارتی بات بھول جانے پہ افسوس کررہی تھی۔۔۔
منہہ ہم اک گیم۔کھیلتے ہیں جس میں آپ میرے کوئیسچن کا جواب دیں گی تو میں صرف اپکو فیری لینڈ لے کے چلونگا نوفل کے لالچ پہ منہہ نے فوراً سر اثبات میں ہلا دیا۔۔۔۔
اچھا بتاؤ یہ جو تمہاری کوئل ٹیچر ہیں ہاتھ میں کیا لے کے گھومتی تھیں مطلب ایسی چیز جو ہر وقت انکے پاس ہو نوفل کی بات غور سے سنتی منہہ نے ایکسائیٹڈ ہوکے جواب دیا “ڈنڈا” جس سے سب بچوں کو ڈرانے کی کوشش کرتیں پر ڈرتا ان سے کوئی بھی نہیں تھا اندر آتے حمزہ کا قہقہ بلند ہوا نوفل۔اسے گھورنے لگا وہ بیچارہ چپ کرکے انکی باتیں سننے لگا۔۔۔
نہیں منہہ کچھ اور بھی تو ہوگا نا اپنے انسر کے رونگ جانے پہ پریشان ہوتی زیادہ سوچنے لگی بابا “پنسل” دو پنسل ہوتی تھیں اک ریڈ ایک بلو اور۔۔۔۔
نوفل کی سوئی اور پہ رکی اور کیا منہہ جلدی سے پوچھا مبادا اسے بھول ہی نہ جائے اور” اک ڈائری ” نوفل کا دل اسکی بات پہ باغ باغ ہوا آخر وہ اسے اپنے مدعے کی بات پہ لیا آیا لیکن منہہ کی اگلی بات پہ دل کیا اسکا جھنجوڑ کے رکھ دے پر بابا وہ تو سب ٹیچرز پاس ہوتی ہے اس سے دیکھ وہ ہمارا ٹاپک اور ۔۔۔
بس بس منہہ سارے انسر رونگ دیے جاؤ دادو سے کہو بابا کیلئے چائے دیں صبر کے گھونٹ پیتا اسے وہاں سے روانہ کیا۔۔۔۔
حمزہ منہہ کی نسبت کافی سمجھدار بچہ تھا تسلی آمیز انداز میں اسکے شانے پہ ہاتھ ٹکایا کیوں پارٹنر کس بات پہ کوئل ٹیچر کی پہ جاسوسی ہورہی معاملہ کافی گھمبیر لگتا ہے رازدارنہ انداز میں نوفل کی طرف جھکا ۔۔۔
ہاں یار گھمبیر تو مگر کوئی حل نہیں “واہ جی ایویں حل نہیں نو ٹینشن ڈئیر وین حمزہ از ہئیر ” فلمی انداز میں کہتے فرضی کالر جھاڑتے نوفل کے ساتھ ٹکا اور پھر نوفل اسے پلان سمجھ چکا تھا جو کہ تھا کوئل کی ڈائری چرانے کا۔۔۔۔۔۔۔





اگلے دن حمزہ منہہ کو لیے کوئل کے گھر کے سامنے ٹہرا تھا جبکہ نوفل انہیں چھوڑ کے زرا آگے کو گاڑی روکے واپس آیا اور ساتھ لگے پودوں میں خود کو چھپاتا انکی باتیں سننے لگا۔۔۔۔۔
بیٹا کوئل باجی آج کے دن کسی کو نہیں ملتیں نوفل اک اور روداد سن پریشان ہوا مطلب کیا اب یہ لڑکی ملنے کیلئے بھی دن مقرر کرتی ہے” آئی بڑی پرائم منسٹر” نوفل کی آنکھوں کے سامنے لاپرواہ چہرہ گھوما تھا جبکہ ادھر حمزہ اور منہہ اس سے ملنے کیلئے باضد تھے۔۔۔۔
دیکھیں انکل میری یہ بہن انکی یاد میں پل پل تڑپتی اور روتی ہے حمزہ کا ڈائیلاگ منہہ فوراً منہ بسورے رونے لگی تھی چوکیدار تنہا بچے دیکھ پریشان ہوا اس پہ یہ الگ مصیبت کوئی بڑا ہوتا تو سمجھا بجھا واپس کو بھیج دیتا مجبوراً وہ انہیں ساتھ لیے چلا آیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
کوئل جو وہی لاؤنچ میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی منہہ اور اسکے ساتھ اک اور بچہ دیکھ فوراً اٹھتی اسکی طرف آئی منہہ کے پھولے سرخ گال اور لمبی پلکوں پہ اٹکے موتی بتا رہے تھے کہ روتی رہی ہے کوئل کو وہ بچی ویسے ہی بہت پسند تھی جسکی ماں اسے پیدا کرتے فوت ہوگئی منہہ بچے کیا ہوا کوئل کو سامنے دیکھ اسکی محبت اپنی ٹیچر کیلئے جاگ اٹھی تھی ۔۔۔
وہ ٹیچر جی آپکا چوکیدار ہمیں آپ سے ملنے نہیں دیتا تھا کہتا آج آپ سے ملنے کا دن نہیں وہ اسکی بات پہ جزبز ہوئی جانتی تھی کہ یہ انسٹرکشنز کون دے کے گیا ہے وہ دونوں کیلئے آئسکریم نکال لائی۔۔۔
منہہ بچے آپکے بابا نے آپکو انگوٹھی لینے کیلئے بھیجا ہے نا یہاں منہہ کو پچکارتے وہ بولی جبھی حمزہ نے اسکی غلط فہمی دور کرنا لازمی سمجھی نہیں ٹیچر منہہ کہتی اسے آپ سے ٹیوشن پڑھنی اور مجھے بھی کیا ہم آپکے پاس آسکتے کوئل اسکی بات سنتی چونکی تھی۔۔
کیوں منہہ آپ کیوں گھر والوں کو تنگ کررہیں اور وہ ٹہری سدا کی اوور ایکٹنگ کی دوکان فوراً سے اس سے لپٹی ان دونوں کو لاڈ پیار میں بزی۔دیکھ حمزہ اپنا کام کرنے لگا تھا نوفل بھی آئی پیڈ کھولے وہیں پہ اپنا کام کرنے لگا تھا ڈئیوائس انسرٹ ہوتے ہی وہ گیٹ کی جانب بڑھا میرے بچے اندر گئے ہونگے انہیں بلا دیں گے آپ پلیز چوکیدار اسے دیکھنتے ہی پہچان چکا تھا ابھی اک ہفتہ پہلے ہی وہ یہاں آیا تھا جی وہ اندد کی جانب بڑھ گیا اور نوفل اپنا باقی کام انجام دیتا انکا انتظار کرنے لگا کوئل نے اسے ٹیوشن دینے سے معزرت کرلی تھی مگر اپنا نمبر دے دیا کہ وہ کبھی کبھی خود اسے کال کرلے گی۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ گھر سے باہر تھے حمزہ نے وکٹری کا نشان بناتے نوفل کو اوکے کا سائن دیا ۔۔۔۔۔
منہہ انکے اشاروں سے بے پرواہ نوفل کو اپنی ٹیچر کی ملاقات کے بارے بتا رہی تھی اور ٹیوشن نہ لینے پہ سیڈ ہورہی تھی جبکہ حمزہ اور نوفل مسکرا دیے ٹیوشن دلاوا کون رہا تھا اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





کوئل پریشانی سے بار بار چکر لگا رہی تھی اک نظر رکی اور جلدی جلدی اپنی ڈائری کو ڈھونڈنے لگی آخر آج کے دن گیٹ پہ کیوں اسکیلئے منع کیا گیا سامنے موجود اپنی ڈائری اٹھاتے اس نے ڈائری کا ورک کھولا جسے وہ خود ہی اپنے ہاتھوں سے لکھتی آرہی تھی پھر ڈر کیسا مگر نہیں وہ جو دنیا کے سامنے اپنی بہادری دکھا سکتی پر اپنے اندر کاپنپتے ڈر اور خوف کو وہ کیسے ختم کرتی۔۔۔۔۔۔
آج منگل کا دن تھا اور منگل کو۔۔۔۔۔۔
تبھی اسکا فون بج اٹھا انون نمبر تھا پھر بھی کال اٹھا لی دوسری طرف کی بات سنتی اسکے ہاتھ سے ڈائری گری تھی منہہ اک سسکی نکلی۔۔
شاید اسکی نحوست کی پرچھائی کا شکار وہ معصوم۔بچی ہوگئی تھی کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ خود ان سے ملنے سے انکار کردیتی کتنی دیر وہ روتی رہی اسے یاد نہیں خود کو آنے والے وقت کیلئے تیار کرتی وہ آگے بڑھی اور اپنی ڈائری اٹھا لی۔۔۔۔۔
منہہ کی قاتل۔۔
سچ تو یہ ہے کہ کبھی راس نہ آتے منظر،
ہم سیاہ بخت کبھی آتے جو اجالوں کی طرف..۔۔
وہ اٹھی اور اور سیاہ جوڑا پہن لیا جو کہ علامت تھا کہ آج اک اور گناہ اس سے سرزد ہوچکا ہے۔۔۔۔





گھونگٹ میں منہ چھپائے وہ کب سے اپنے ہمسفر کا انتظار کررہی تھی جو اسکی پہلی نظر کی محبت تھی اور اتنی مشکلوں کے بعد بلاآخر وہ ایک ہوہی گئے تھے ۔۔۔۔
کمرے میں اسکی موجودگی کو محسوس کرتے رومیئسہ کی مٹھی۔پسینے میں بھیگی تھی احمر اسکے سامنے بیٹھا اور اپنی من چاہی بیوی کا گھونگٹ اٹھایا سامنے موجود ہستی کے خیرہ کن حسن نے اسے بے ساختہ خدا کی بڑائی بیان کرنے پہ مجبور کیا تھا رومئیسہ اسکی آنکھوں میں موجود اپنے لیے ستائش دیکھ مسکرا اٹھی چٹکی بجاتے اسے اپنی جانب متوجہ کیا احمر نے اسکے مہندی والے ہاتھ اٹھائے اپنے لبوں سے لگائے”میں خود کو اسوقت زمین پہ موجود دنیا کا خوشنصیب ترین مرد سمجھتا ہوں جسکے پہلو میں اسوقت اک خوبصورت سی لڑکی بیٹھی ہے” صرف باتوِں سے ہی نہیں آنکھوں سے بھی وہ اسکے حسن کی مدح سرائی میں مگن تھا رومئیسہ اسکی پیار بھری سرگوشیوں سے سمٹی جارہی تھی اور رات آہستہ آہستہ بھیگتی ان کے ملن پہ مسکراتی آگے کو بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔
احمر کی صبح کا آغاز رومئیسہ کودیکھے بغیر نہیں ہوتا گھر آتے ہی پہلے اسکی پکار ہوتی بعد میں کہیں جاکے کوئی دوسرا کام انجام دیا جاتا اسکی اتنی دیوانگی دیکھ کبھی کبھی اسے۔لگتا انکی خوشیوں کو اپنی ہی نظر لگ جائے گی ۔۔۔۔
آج وہ بہت خوش تھی کیونکہ ڈاکٹر نے اسے امید سے ہونے کی نوید سنائی وہ بےصبری سے احمر کا انتظار کرنے لگی مگر اس نے آنا تھا نہ وہ آیا رات کے اندھیرے میں ایمبولنس کا سائرن نے پورے محلے کوخوف میں۔مبتلا کردیا تھا انکے گھر کے سامنے رکی ایمبولینس اسے وحشت میں مبتلا کررہی تھی وہ چاہ رہی تھی کہ ایسا کچھ نہ ہو جو مگر ہونی کو کون ٹال سکتا تھا سامنے ہی احمر کا وہ چہرہ جو اسے دنیا کا خوبصورت چہرہ لگتا تھا سفید کپڑے میں لپٹا ہوا تھا ساتھ احمر کے بھائی اور رشتہ دار بھی موجود تھے شاید انکو پہلے ہی اسکے ایکسڈینٹ کی خبر مل گئی تھی اسکے قدم آگے بڑھنے سے انکاری تھے اور وہ وہیں زمین پہ گر گئی ۔۔۔۔۔۔۔
جب آنکھ کھولی تو اسکی دنیا اجڑچکی تھی اسکا احمر اسے بے رحم۔معاشرے کے تھپیڑوں کے سہارے اکیلا چھوڑ چکا تھا اسکی جواں مرگ موت پہ۔جہاں پورا محلہ سوگوار تھا وہیں بیوگی کی چادر اوڑھے رومئیسہ کیلئے ترحم۔تھا انکی نگاہوں میں اسکی ساس اور دیوروں نے کسی بھی طرح کا سہارا دینے کیلئے انکار کردیا اور وہ چپ چاپ اپنے بھائیوں کے سہارے انکے گھر چلی آئی تھی۔۔۔
جہاں اسکی بھابھیوں کو اسکے دوسرے جی سے ہونے کی خبر ملی انہوں نے اسے ابارٹ کروانے کا مشورہ دیا کیونکہ انہیں لگتا تھا ایسے تو شاید کوئی ایسے قبول کر بھی لے لیکن اگربچے کی زنجیر پاؤں میں پڑ گئی تو وہ ساری عمر بھائیوں کے سہارے بیٹھی رہ جائے گی وہ۔چپ چاپ خالی نظروں سے انہیں دیکھتی رہتی اسکے آنے کے دوسرے دن بعد ہی رومیئسہ کی ماں جوان بیٹی کا روگ لیے دنیا سے رخصت ہوگئی باپ تو پہلے ہی اسکا نہیں تھا اب ماں کا سہارا وہ بھی چھن گیا پے در پے ہونے والے حادثات نے اسے بستر سے لگا دیا ۔۔۔
ڈاکٹر کے مطابق بہت کم چانس تھے اسکا بچہ سروائیو کرسکے اسلیئے بہتر تھا کہ وہ ابارٹ کروا لے مگر وہ اپنے احمر کی نشانی اس دنیا میں لانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
پھر اسکے شب وروز ہی ایسے تعنے تشنوں میں بسر ہونے لگے بڑی بھابھی نے صاف لفظوں میں اسکے بچے کو نحوست قرار دیا تھا جسکی خبر باپ کو ملی بھی نہیں اور وہ دنیا سے چلا گیا اسے۔لیے انکی دہلیز پہ آئی تو نانی چلی گئی رومئیسہ کا دل بھی اپنی اولاد کے بارے ایسی باتیں سن کے سہما تھا مگر اسے حوصلہ تب پڑا جب بڑے بھائی نے بھابی کو توہم پرست کہہ کے ڈانٹ دیا پر وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو ہر پل اسے کچوکے لگانے لگا تھا۔۔۔۔۔۔
اسکی طبیعت بگڑی تو بھابیوں نے ہنہ ڈرامہ کہہ کے اگنور کردیا مگر شام میں بھائی اسے ہاسپٹل لے گئے جہاں وہ اک خوبصورت سی بچی کو جنم دیتی خود بھی دنیا کی آزمائشوں سے آزاد ہوگئی مگر اپنی بچی کے حصے میں اک اور کلنک لگا گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
