Koyel Anghothi Chor by Uzma Mujahid NovelR50611 Koyel Anghothi Chor (Episode 01)
Rate this Novel
Koyel Anghothi Chor (Episode 01)
Koyel Anghothi Chor Uzma Mujahid
کوئل۔ہاہاہا یہ کیسا نام ہوا بھلا منہہ ۔۔۔۔۔
چھوٹے بابا آپ میری فیورٹ ٹیچر کا مزاق اڑا رہے ہو۔۔۔۔
نوفل کی ہنسی پہ منہہ نے اپنے پہلے سے پھولے گال اور زیادہ پھولا لیے تھے۔۔۔۔
پھر تو وہ یقیناً کلاس میں کوک کوک بھی کرکے تمہیں سناتی ہوگی حمزہ نے اسکی پونی کھینچی ۔۔۔۔۔
دادو دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھے وہ چیخی تھی اور حبہ خاتون سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اسکے پاس آئی تھیں۔۔۔۔
کیا ہوگیا ہے نوفل کیوں میری بچی کو تنگ کررہے ہو۔۔۔۔۔۔
آپکی بچی رشتہ کروانے والی ماسی بنی ہوئی ہیں رشتہ لائی ہیں بابا کا حمزہ نے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ لڑاکا عورتوں کی طرح انہیں مخاطب کیا۔۔۔۔۔۔
ہاں تو میں نے کیا غلط کیا ہے آپکو پتا کوئل ٹیچر نا کلاس میں رورہی تھیں سب کہہ رہے تھے انکی شادی ٹوٹ گئی ہے اسلیئے رو رہی ہیں میں نے انہیں کہا آپ میرے بابا سے شادی کرلو پر رو نہیں ۔۔۔
میں نے ان سے وعدہ کیا ہے اب بابا نہیں مانتے منہہ کی بات پہ حبہ خاتون نے حیرانی سے اسے دیکھا جبکہ نوفل اور حمزہ کا قہقہ اک بار پھر بلند ہوا تھا۔۔۔۔
ابھی آگے تو سنیں نوفل نے ماں کی پریشان صورت دیکھ کے مزہد کہا ۔۔۔۔
کیا ابھی آگے کیا منہہ۔۔۔۔
انہوں نے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہ رونی صورت بنائے نوفل کو دیکھنے لگی تھی جو اسکا سیکرٹ لیک کر رہا تھا۔۔۔۔
آپکی لاڈلی آپکے جیولری بکس سے انگوٹھی اٹھا کے باقاعدہ منگنی کی رسم کر آئی ہیں مس کوک کوک کوئل سے ۔۔۔
ہائے میرا اللّٰہ حبہ خاتون کا ہاتھ بےساختہ دل پہ پڑا تھا وہ میری خاندانی انگوٹھی جو میں نے نوفل کی بیوی کیلئے سنبھال رکھی تھی۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کیا منہہ۔۔۔۔
جبکہ منہہ نے انہیں رونی شکل بنائے دیکھا ڈونٹ یو وری مام میں کل ڈیوٹی سے آتے اسکی ٹیچر سے وہ رنگ لے آؤنگا۔۔۔۔۔
مما کو سریس ہوتا دیکھ نوفل بھی سنجیدہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔







جی کس سے ملنا ہے آپکو ٹیوشن سنٹر پہ موجود اسوقت وہ وزیٹر روم میں بیٹھا تھا۔۔۔۔
جی ایکچوئلی میں منہہ کا بابا ہوں مجھے مس کوئل۔سے ملنا ہے۔۔۔۔
سوری۔سر انہیں تو یہ ٹیوشن سینٹر چھوڑے تقریباً اک ویک ہوچکا ہے جبکہ نوفل کے تو سر پہ لگی تھی کوئی اتنی آسانی سے کیسے انکی خاندانی انگوٹھی لے کے گم ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
آپکو ان سے کس سلسلے میں ملنا ہے۔۔۔
ایکچوئلی وہ ۔۔۔۔کچھ توقئف کے بعد اسے مناسب نہیں لگا تھا یوں اپنے گھر کی بات انکے سامنے رکھنا۔۔۔۔۔
کیا مجھے انکا کوئی ایڈرس مل سکتا ہے۔۔۔
وہ۔جانتا تھا کہ مما اپنی خاندانی روایات کو لے کے کتنی کنشئس رہتی ہیں انگوٹھی تو اسے ہر حال۔میں حاصل کرنی ہی تھی۔۔۔۔۔۔
جی آپ ویٹ کریں میں پرنسپل ڈائری سے دیکھ کے بتاتی ہوں۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ان محترمہ نے اسے ایڈرس لا دیا تھا۔۔۔
وہ جو سمجھ رہا تھا کہ اسے مس کوئل کی تلاش میں تنگ سی گلیوں میں جانا پڑے گا ڈیفینس کے اک شاندار بنگلے کو سامنے دیکھ بھونچکا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوکیدار اپنے سامنے پولیس یونیفارم میں ملبوس شخص کو دیکھ تھوڑا مرعوب ہوا تھا۔۔۔۔
مس کوئل یہی رہتی ہیں نوفل کے دریافت کرنے پہ اک بار پھر چوکیدار نے اسے سر سے پاؤں تک گھورا تھا۔۔۔
جی صاحب مگر آپکو ان سے کس سلسلے میں ملنا ہے۔۔۔۔۔
یہ۔تو میں ان سے مل کے ہی بات کرونگا کیا آپ انہیں بلا دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
جی صاحب آپ اندر آجائیے شاید چوکیدار کو مناسب نہیں لگا تھا اسے باہر کھڑا کیے رکھنا۔۔۔۔۔
ڈرائنگ روم۔اسے بٹھا کے وہ کوئل کو بلانے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
تبھی ڈرائنگ روم میں اک الٹرا ماڈرن خاتون اور انکے ساتھ اک لڑکی داخل ہوئی تھی اپنے سامنے اک پولیس والے کو دیکھ وہ رکی تھیں۔۔۔
جبکہ نوفل بھی ادب میں کھڑے ہوتے انہیں سلام۔کرنے لگا تھا۔۔۔
اسے اپنی سچویشن بہت آکورڈ لگ رہی تھی بنا جان پہچان کسی کے گھر میں گھسنا۔۔۔۔۔
ایکچوئلی میں مس کوئل سے ملنا چاہ رہا تھا اک انگوٹھی کے سلسلے میں جو آئی تھنک ان کے پاس ہے۔۔۔
کوئل کے زکر پہ ان خاتون اور لڑکی کے چہرے کے بدلتے تاثرات اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکے تھے۔۔۔۔
اوہ ہمیں پہلے ہی پتا تھا کہ یہ محترمہ کوئی نا کوئی چن ضرور چڑھائیں گی لو اب پہلے عاشق اور غنڈے موالی کم آتے تھے جو اب پولیس بھی اس گھر میں آئے گی اک یہی دن دیکھنا تو باقی تھا ۔۔۔۔۔
نوفل ان خاتون کو سینہ کوبی کرتے دیکھ گھبرا اٹھا تھا دیکھیں
محترم خاتون آپ شاید غلط سمجھ رہی ہیں نوفل نے انجانے میں اسکی گواہی دینی چاہی تھی۔۔۔۔۔
تبھی مکمل سیاہ میں ملبوس لڑکی اسے آتی دکھائی دی تھی سفید دودھیا رنگت سیاہ رنگ میں اور زیادہ چمک رہی تھی۔۔۔۔۔
آگئی سیاہ بخت منحوس لڑکی ابھی اس گھر کو اور کیا کیا تیرے کرتوت دیکھنے باقی ہیں جھپٹنے والے انداز میں اس لڑکی پہ حملہ آور ہوئی تھیں تبھی اس لڑکی نے ان عورت کے بڑھتے ہاتھوں کو راستے میں ہی روکا تھا۔۔۔۔۔
بس کریں آپ میرا آج کا قصور لکھوائیں تبھی اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ڈائری اور قلم اس عورت کو پکڑایا تھا۔۔۔۔۔
نوفل اس سب ڈرامے میں خاموش تماشائی بنا کھڑا تھا۔۔
آہنم تھوڑا گلا کھنکار کے اس نے اپنی موجودگی کا احساس کروایا تھا۔۔۔۔۔۔
اتنا تو وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ انکی مطلوبہ شخصیت یہی ہیں جو مردمار خاتون ٹائپ نظر آرہی تھیں۔۔۔
لیں آگئی آپکی مجرم آپ انہیں پکڑ کے لے جائیں اور آئیندہ کبھی اس دہلیز پہ۔واپس نہیں لائیے گا اسے۔۔۔۔۔
کب سے خاموشی کھڑی لڑکی نے بھی مداخلت کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ اب کوئل نے بھی اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
وہ ایکچوئلی میں منہہ کا فادر ہوں آئی مین اس نے رنگ دی تھی آپکو۔۔۔۔۔
وہ جو سوچ کے آیا تھا مس کوئل کی کلاس لے گا اب بولنا ہی بھول چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوری میں اک بار کی لی گئی چیز واپس نہیں کرتی۔۔۔۔
نوفل اسکی بچوں والی بات پہ شاکڈ ہوا تھا مطلب کے ایسے بھی لوگ ہیں اس دنیا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کچھ سوالیہ نظریں اس پہ۔گاڑیں تھیں وہ جو سمجھ رہا تھا اسکی یونیفارم۔کا رعب ہی کافی ہوجائے گا اپنے اندازوں کے غلط ہونے پہ خود کو کوسنے لگا۔۔۔۔۔
دیکھیں مس۔۔۔۔۔
آپ نے لکھ لیا میرا نیا گناہ تو میری ڈائری مجھے واپس کردیں اسکی بات کو درمیان میں کاٹتے وہ اس خاتون سے مخاطب تھی ۔۔۔۔۔
کرم جلی ابھی اور کیا لکھوں ورک ورک تو سیاہ ہے تمہاری قسمت کی طرح ۔۔۔۔۔
اوکے ڈن ان سے ڈائری لیتی اس نے نوفل کی طرف بڑھائی تھی۔۔۔۔۔۔
آپ۔جو جرم میرے حصے کا لے کے آئے ہیں یہاں درج کریں۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ نوفل اس لڑکی کی۔اتنی دیدہ دلیری پہ حیران تھا۔۔
دیکھیں مس آپ کائنڈلی میری چیز مجھے واپس کردیں میں کسی بحث میں نہیں پڑ سکتا نوفل میں اب روایتی اے۔ایس۔پی بیدار ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
کوئل انگوٹھی چور ۔۔۔۔۔فرام اے۔ایس۔پی۔نوفل
اسکی وردی پہ چمکتا نام دیکھ وہ اندراج کرچکی تھی جیسے روز پولیس اسٹیشن کا داروغہ کسی کا جرم باآواز بلند سنواتے درج کرتا تھا۔۔۔۔
بلند آواز میں کہتے اس نے ایک ورک پہ سب لکھا جبکہ نوفل کے علاوہ کوئی بھی اسکی حرکت پہ حیران نہیں تھا شاید انکیلئے یہ کوئی معمول کی بات تھی۔۔۔۔
محفل برخاست ۔۔۔اک ہاتھ اوپر کو اٹھاتی وہ وہاں سے روانہ ہوگئی تھی جبکہ نوفل اس عجیب وغریب شے کو دیکھ کے پریشان ٹہرا تھا۔۔۔۔






کیا نوفل تم اپنے حواس میں تو ہو بھلا ایسے کیسے میں انجان لوگوں میں تمہارا رشتہ لیے چلی جاؤں۔۔۔۔
انجان کہاں ہیں مما منہہ کی ٹیچر ہیں اور میں بھی ان لوگوں سے مل آیا ۔۔۔۔۔۔
اور آپ خود ہی تو کہتی ہیں شادی کر لو نوفل منہہ اور حمزہ کو ماں کی ضرورت ہے پھر اب کیا ۔۔۔
اس نے اک اور پتا پھینکا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے کل جاؤنگی پھر پر دیکھ لو بیٹا ایسے کچھ مجھے مناسب نہیں لگ رہا حبہ خاتون نے دل میں پلتے خدشے ظاہر کیے۔۔۔۔۔۔۔
