Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koyel Anghothi Chor (Episode 03)

Koyel Anghothi Chor Uzma Mujahid

’’تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن گزارتا ہے (نطفہ) پھر اسی قدر علقہ پھر اسی قدر مضغہ پھر اللہ فرشتہ بھیجتا ہے اور چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ رزق، عمر، نیک بخت یا بدبخت‘‘۔ (القرآن)

اور رومئیسہ کی بیٹی کو زمانے نے بدبخت قرار دیا تھا جو پیدا ہی یتیم ہوئی اسکی پرورش اور اسکے نان نفقہ کی زمداری اسوقت اہم مسئلہ تھا اسکیلئے اک بار احمر کی فیملی سے کانٹیکٹ کیا مگر انہوں نے یہ کہہ کے اسے ٹھکرا دیا کہ وہ سیاہ بخت انکا جوان بیٹا کھا گئی انکی طرف سے اسے زندہ قبر میں دفن کردیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔

رومئیسہ کے دو بھائی تھے جوائنٹ ہی رہ رہے تھے تو طے یہ پایا کہ دس سال تک اسکی زمداری بڑے بھیا سنبھالیں گے اسکے بعد چھوٹے بھائی دنیا کو بھی منہ دکھانا تھا بڑی بھابی کی پوری کوشش تھی کے اسے کسی یتیم خانے ڈال دیا جائے مگر شاید بڑے بھیا کے دل۔میں خدا ترسی تھی اور دوسرا رومئیسہ انکی اکلوتی بہن تھی اسکیلئے وہ اتنا تو کرہی سکتے تھے اور پھر اسکیلئے اک میڈ کا انتظام بھی بڑے بھیا نے خود کیا تھا شب وروز گزرتے رہے کبھی کسی کو اسکا نام رکھنا بھی یاد نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

مما اس والی بے بی کا کیا نام ہے نشاء جو کے بڑے بھائی کی بیٹی تھی اپنے سے تین سال چھوٹی بچی کو لان میں چلتے دیکھ اپنی ماں سے پوچھا انہیں بھی حیرت ہوئی کے ان میں سے کسی نے بھی ابھی تک رومیئسہ کی بیٹی کا نام نہیں رکھا تھا تبھی گھر کے پچھلے حصے میں بنے باغ میں اک کوئل آ کے بیٹھی اور کوک کوک کرتی اپنی موجودگی کا احساس دلا گئی ۔۔۔

روزینہ (بڑی بھابی) چونکی تھیں اور اپنی بیٹی کی طرف متوجہ ہوئی

“اسکا نام کوئل ہے رمشہ سیاہ بخت کوئل” انکے لہجہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئل جیسا رنگ اسکے نصیب پہ چڑھا ہے نشاء ماں کی اتنی بڑی باتوں سے انجان اس بےبی کوئل کو دیکھنے لگی جو ہمکتے ہوئے انکی جانب آرہی تھی ۔۔۔…..

❤
❤
❤
❤
❤
❤

نوفل نے جیسے ہی آئی۔پیڈ آن کیا ڈرائنگ روم کا منظر واضع ہوا تھا جہاں پہ کوئل سیاہ رنگ کا لباس پہنے سامنے تھی اور اسی دن والی عورت اس پہ چیختی چلاتی نظر آرہیں تھیں نوفل کچھ بھی سن نہیں سکا تھا کیونکہ حمزہ جب ڈئیوائیس انسرٹ کررہا تھا وہ وائس ریکارڈر آن کرنا بھول گیا اسے رہ رہ کے اس پہ غصہ آرہا تھا وہ جانتا تھا یہ ان پروفیشنل حرکتیں ہیں مگر شاید وہ پہلی لڑکی تھی جس کی ذات میں وہ دلچسپی لے رہا تھا تھا تبھی وہ چونکا جب سامنے اک اور خاتون نے اسے تھپڑ لگایا تھا اور وہ چپ چاپ سب سہہ رہی تھی وہ جو اسے کوئی افلاطون لڑکی سمجھے بیٹھا تھا بزدلی سے مار کھاتے حیران ہوا پھر وہی سیاہ ڈائری اسکے سامنے لہرائی گئی اور وہ اسے لیتی اوپر کی طرف بڑھ گئی شاید اسکا کمرہ ہی اوپر تھا نوفل نے ٹھنڈی سانس بھرتے سکرین آف کردی اسکے دماغ میں ان گنت سوال ابھر رہے تھے بیشک اس لڑکی کی خوبصورتی ایسی تھی جو مقابل کو زیر کرنے کی طاقت رکھتی تھی مگر آج کی رنگین دنیا میں بھی اسکا سیاہ لبادہ اسے اس میسٹری کی سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ۔پھر سے حبہ خاتون کے سر ہوا تھا وہ اسکی کی ضد پہ پریشان ہو اٹھیں ٹھیک ہے میں جاؤنگی مگر مجھ اس اتاؤلے پن کی وجہ بتا دو نوفل تم جس لڑکی کو جانتے نہیں پہلی نظر میں اسے ساری زندگی کیلئے کیسے چن سکتے ہو شادی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ حبہ خاتون کی بات پہ وہ تھوڑا سراسیمہ انداز میں سر کھجانے لگا پھر سے ہوا مما اس گھر کو بھی تو اک عورت کی ضرورت ہے نا حمزہ اور منہہ کو اک ماں کی اور وہ لڑکی منہہ سے کافی اٹیچ بھی مجھے اندر سے فیلنگز آرہی ہیں کہ وہ ان کیلئے اک بہت اچھی ماں ثابت ہوگی(جبکہ خدا جانتا تھا کہ وہ اپنی ماں قائل کرنے کیلئے کیسے جھوٹ بول رہا تھا اسے منہ پھٹ کوئل کہیں سے بھی نا اس گھر کیلئے پرفیکٹ لگی تھی نا منہہ اور حمزہ کیلئے) حبہ خاتون نے شک بھری نگاہ اس پہ ڈالی وہ گڑبڑایا لاحولہ مما میں آپکو ایسا لگتا ہوں۔۔۔۔

لگتے تو نہیں مگر اب حرکتیں ہی ایسی ہیں تمہاری حبہ خاتون کا نروٹھا انداز وہ بخوبی سمجھ رہا تھا چھوٹے بابا منہہ کی آواز پہ دونوں اسکی طرف متوجہ ہوئے جو سر کو پکڑے اسکی طرف آرہی تھی یقیناً اسکا سر کا زخم دکھ رہا ہوگا۔۔۔۔

حمزہ اور منہہ جب کوئل ٹیچر سے مل کے واپس آئے اسی دن وہ کھیلتے ہوئے سٹئیرز سے گر کے زخمی ہوگئی تھی روتی ہوئی منہہ کو بہلانے کیلئے نوفل نے حمزہ کو کہا اسکی فیورٹ ٹیچر کو انفارم کرے کیا پتا وہ اسکی محبت میں چلی آئی جبکہ حمزہ کی ادھوری بات سن کے منہہ سٹئیرز سے گری ہے کوئل اپنے جرم میں اک اور اضافہ کرچکی تھی۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

‏ہر شخص پارسائی کی عمدہ مثال تھا

دل خوش ہوا خود کو گناہ گار دیکھ کر….

کوئل ہاتھ میں رومئیسہ کی تصویریں اٹھائے بیٹھی تھی احمر اور وہ بیشک مکمل جوڑی لگ رہے تھے مگر شاید خدا کے ہاں انکی لمبی عمر نہیں لکھی ہوئی تھی ورنہ ان لوگوں کو جینے کاحق تھا کوئل کیلئے یہی بہت تھا کہ اسکی شناخت یہ تصویریں اور ماں باپ کا نام تھا وہ لاوارث ہوکے بھی لاوراث نہیں تھی اسے یاد تھا کہ جب سے اس نے ہوش سنبھالا اس گھر میں موجود ہر شخص نے اسے نحوست کی پوٹلی کہہ پکارا جب وہ رمشہ ساتھ سکول جانے لگی اسکے نام کا مزاق اڑایا جاتا سکول کے پہلے ہی دن اسکی وین حادثے کا شکار ہوئی اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا گھر آتے ساتھ ہی بڑی مامی نے اسے روئی کی طرح دھنک کے رکھ دیا اور پھر اسے رمشہ کے سکول سے ہٹا کے اک گورنمنٹ ادارے میں ڈال دیا گیا یہ بھی اسکیلئے رحمت تھی جتنا وقت وہ سکول گزارتی پرسکون رہتی مگر گھر آتے سے وہی تعنے تشنے اگر کسی سے کچھ ٹوٹ جائے تو اسکی زمدار کوئل کی نحوست کسی کو چھری کٹ لگ جائے کوئل کی نحوست غرضیکہ گھر میں رونما ہونے والا کوئی واقع ایسا نہ تھا جسے کوئل کی بدبختی سے منصوب نہ کیا گیا ہو جب وہ دس سال کی ہوئی اسکے حقدار بدل گئے وہ خوش تھی بڑی مامی کے عتاب کا نشانہ نہیں بنے گی مگر اسکی بھول تھی بڑی مامی شوہر کے لحاظ میں بعض دفعہ اسے معاف کردیتیں مگر چھوٹی مامی افشین زبان کے ساتھ ہاتھ کی بھی بہت تیز واقع ہوئیں اسکے ساتھ ہی گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کوئل کے ذمہ لگا دیے اس گھر میں جو اسے رعایت دی گئی وہ پڑھائی کے معاملے میں تھی ماموں کے بچوں کے ساتھ وہ بھی اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھی ہوئی تھی سرکاری ادروں میں پڑھنے کے باوجود اسکا تعلیمی ریکارڈ باقی گھر کے بچوں کی نسبت اچھا تھا اور پھر ایف سی کے بعد جب سب کزنز اچھی یونیورسٹیز میں چلے گئے وہ بس حسرت سے انہیں دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئل او کوئل کی پکار پہ وہ۔کمرے سے باہر نکلی جی مامی سامنے افشین موجود تھیں

میرے کچھ مہمان آرہے ہیں اسلیئے ثمینہ (کام والی) کے ساتھ مل۔کے کچن دیکھ لینا اور خبردار جو انکے سامنے بھی آئیں ۔۔۔

وہ خاموشی سے کچن کی طرف بڑھ گئی افشین جو سمجھ رہیں تھیں کے وہ حسب عادت کوئی جواب دے گی خاموشی سے اسے کچن کی جانب بڑھتا دیکھ ہہہ کہتیں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں وہ اب اکثر دونوں مامیوں کے سامنے زبان چلانے لگی تھی کیونکہ اسے وہ کئی بار دونوں ماموں کے منہ سے اس گھر میں اسکی شراکت داری والی بات سن چکی تھی جب اس نے اپنے آگے پڑھنے کی خواہش ظاہر کی ساتھ یہ بھی کے اگر وہ اسے پڑھنے دین گے وہ اپنا حصہّ نہیں لے گی تب انہوں نے اسے جھڑک دیا کہ وہ پہلے ہی اس پہ کافی سرمایہ خرچ کرچکے ہیں باقی اسکی شادی پہ۔لگائیں گے وہ مزید کچھ بولے بغیر واپس آگئی مگر اسکے لہجے میں نمایاں اک تلخی رچ بس گئی تھی

آج منہہ کا سن وہ ابھی تک شاکڈ تھی اسلئے بنا کچھ بولے سب سہہ رہی تھی

توں تو سورج ہے تجھے کہاں معلوم رات کا دکھ

توں ایک بار میرے آنگن میں اتر شام کے بعد۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤

نوفل منہہ اور حبہ خاتون کو اسکے گھر کے سامنے چھوڑ کے جاچکا تھا اور سختی سے اس بات کا تنبہیہ کی کے ان لوگوں کے سامنے انگوٹھی کا کوئی زکر نہیں کریں گی

سامنے موجود ہستی کی گریس فل پرسانیلٹی دیکھ چھوٹی مامی قدرے مرعوب ہوتیں انہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھانے لگیں

دراصل ہمیں میرا مطلب مجھے کوئل بیٹی سے ملنا ہے وہ خود بھی اک بار ضرور اپنے بیٹے کی چوائس دیکھنا چاہ رہی تھیں۔۔

افشین نے حیرت سے سامنے موجود عورت کو دیکھا اور پھر کوئل کو بلوایا کوئل جیسے ہی روم میں انٹر ہوئی منہہ بھاگتے اپنی ٹیچر سے لپیٹی وہ بہت حیرانی سے منہہ کو دیکھنے لگی اسکے سر پہ موجود بینڈج اس بات کو ظاہر کررہی تھی کہ اسے واقعی چوٹ لگی شاید اس نے ادھوری بات سن کے خود سے بہت کچھ ازیوم کرلیا ۔۔

حبہ خاتون کو بھی وہ من موہنی کامنی سی لڑکی بہت اچھی لگی انہیں نوفل کی چوائس پہ کوئی اعتراض نہ تھا اور جب انہوں نے افشیں کے سامنے اپنا سٹیٹس اور ساتھ میں مدعا پیش کیا اسکی آنکھیں کھلی رہ گئیں اتنی شاندار فیملی سے کوئل کا رشتہ آنا اکیسوی صدی کا معجزہ ہی تھا مگر دوسرے ہی لمحے اپنی حیرت پہ قابو پاتے وہ شروع ہوئیں ۔۔۔

دراصل کوئل کو تو میں نے اپنے بیٹے سے منصوب کررکھا ہماری نند کی اکلوتی نشانی ہے میں اور فرحان (چھوٹے ماموں) تو بلکل اسے اپنی آنکھوں سے اوجھل ہوتا نہیں دیکھ سکتے مگر آپ چاہیں تو ہماری اور بھی پچیاں ہیں دیکھیں پہلا رشتہ تو خدا کی جانب سے بھیجا گیا ہوتا ہے ہمیں بھی اچھا نہیں لگے گا آپ اتنی آس سے آیی ہیں آپکو خالی ہاتھ لوٹانا افشین جلدی سے اور راہیں ہموار کرنے لگی تھیں حبہ خاتون کو مایوسی ہوئی تھی انکا جواب سن کے ۔۔۔

پھر بھی بہن آپ لوگ اگر اک بار پھر سوچ لیں اگر تو اور اپنا کانٹیکٹ نمبر دیتیں وہ وہاں سے روانہ ہوگئیں ۔۔۔۔

رات میں جب نوفل۔کو انہوں نے ساری روداد لفظ بہ لفظ سنائی تو چپ ہوگیا اسے کوئل کی مامی کا اک پرسینٹ یقین نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

اب جو کرنا تھا اسے ہی کرنا تھا۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *