Koyel Anghothi Chor by Uzma Mujahid NovelR50611 Koyel Anghothi Chor (Episode 04)
Rate this Novel
Koyel Anghothi Chor (Episode 04)
Koyel Anghothi Chor Uzma Mujahid
حقیقتیں تو گھڑی بھر نہ سانس لینے دیں
حسیں فریب.. متاعِ حیات ہوتے ہیں۔۔۔
افشین کی۔زبانی کوئل کے رشتے کی بات سن سب حیران تھے اچانک بیٹھے بیٹھائے اور روزینہ کو وہ اے۔ایس۔پی
یاد آیا جو پہلے بھی انکی موجودگی میں آیا تھا افشین کو جب انگوٹھی کی بات بتائی وہ بھی حیران ہوئی۔۔۔۔
کوئل یہ اے۔ایس۔پی نوفل آفندی کون ہے افشیں کی بات سنتے اس نے اک نظر وہاں موجود تجسس سے دیکھتی اپنی کزنز کودیکھا۔۔۔۔۔۔۔
“محبوب ہے میرا کسی کو کوئی اعتراض اگر جو آپ لوگوں نے اس سے میری شادی نہیں کروائی تو اسی کے ساتھ اس گھر سے چلی جاؤں گی”
کوئل کی بات سن سبکے کان کھڑے ہوگئے” آصفہ “جو کہ افشین کی اکلوتی بیٹی تھی اسکا ہاتھ چپس کھاتے وہی ساکت ہوا “رضی” کے ہاتھ سے موبائل گر کے زمین بوس ہوا “رمشہ” ماں کی گود سے سر اٹھائے اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
سب سے پہلے روزینہ کا سکتہ ٹوٹا چیل کی طرح اس پہ جھپٹیں جیسی ماں ویسی بیٹی ارے کچھ تو تربیت رکھ لیتی ہماری ہائے اللّٰہ ہمارے بیٹیوں والے گھر ہیں یہ نحوست کی پوٹلی اتنی دلیری سے سبکے سامنے اپنے معاشقے کھولے کھڑی آنے تو دو ظفر (بڑے ماموں) کو آج ہی اسے گھر سے باہر نہ کردوں اپنی زبان کے جوہر دکھا کے وہ چپ ہوچکی تھی مگر روزینہ اور افشین کے ہاتھ سے اسکی غلطی کا احساس کروا رہے تھے پر وہ ڈھیٹ بنی سامنے موجود اپنی کزنوں کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ
دوسری جانب موجود نوفل اک ان دیکھی بے چینی کا شکار ہورہا تھا اسے اس لڑکی سے کوئی ہمدردی نہ تھی نہ کوئی پیار مگر پھر بھی وہ بے چین ہورہا تھا مزید دیکھا نہیں گیا تو خاموشی سے سکرین آف کرتا آنکھیں موند گیا۔۔۔۔۔
سر سامنے موجود سپاہی نے سیلوٹ مارا اور اپنے آنے کی وجہ بیان کی نوفل غائب دماغی سے اسکی بات سنے جارہا تھا اسکا دھیان کوئل کی طرف لگا ہوا تھا بڑی مشکل سے ڈیوٹی سے فری ہوتا وہ گھر آیا جہاں اک سرپرائز اسکیلئے موجود تھا۔۔۔۔۔





کوئل کو اس دن والا شخص یاد آیا جو منہہ کا باپ تھا آج اسکی وجہ سے پھر سے اسکے زخم ادھیڑے گئے تھے ۔۔۔
کالج سے آتے ہوئے کئی بار اک لڑکے نے اسے تنگ کیا مگر وہ ممانیوں کے ڈر سے گھر میں کسی سے زکر نہ کرتی کہیں اسکا کالج جانا بند نہ ہوجائے کبھی اس پہ گندے فقرے اچھالے جاتے تو کبھی گندی نظریں اسے اپنے جسم سے آر پار محسوس ہوتیں شاید ان لڑکوں بھی اچھے سے معلوم ہوچکا تھا کا اسکا سائبان کوئی نہیں تبھی وہ بعض نہ آتے کچھ دن اس نے طبیعت خراب ہونے کا بہانہ بنا کے کالج سے چھٹی کرلی اور وہ۔لڑکے گیٹ تک آپہنچے اسکے بعد افشین اور روزینہ نے مل کے جہاں ماموں سامنے اسکی زات کو رگیدا وہیں اسکی مرحومہ ماں پہ بھی الزام لگے ۔۔۔
آج پھر اک انجان شخص کی وجہ سے وہ موردالزام۔ ٹہرائی گئی تھی بیشک اسکا مقصد صاف تھا وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا سیدھے سبھاؤ رشتہ بھیجا مگر وہ اسے جانتا ہی کتنا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ اک شادی شدہ دو بچوں کے باپ سے شادی کیوں کرتی اسے یقین تھا کہ افشین کو شاید اسکا پورا انٹروڈکشن نہیں کروایا گیا تبھی وہ۔اتنا واویلا مچا رہیں تھیں ورنہ وہ جتنی اس سے خائف تھیں اسکی ضد میں فوراً ہاں کردتیں۔۔۔
شام میں اک ہنگامہ اسکا منتظر تھا جہاں دونوں ماموں اسکیلئے سوال نامہ لیے کھڑے تھے وہ کہاں نوفل سے ملی ،کب سے مل رہی اسے اپنی نہیں تو انکی عزت کا پاس رکھنا چاہیئے تھا بلا بلا وہ چپ چاپ انکی نظروں میں موجود اپنے لیے بیزاری دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔۔
کیا آپ لوگوں کیلئے اتنا کافی نہیں کہ اک عزاب آپ لوگوں کی زندگیوں سے دفعان ہورہا ہے تو اتنی جرح کیوں بہتر یہی ہے کہ آپ ایس پی کے گھروالوں کو ہاں کردیں ۔۔
وہ جو صرف ممانیوں کے سامنے زبان چلاتی تھی اب دونوں ماموں کو بھی حیرت میں ڈالے وہاں سے چلی گئی مزید جلتی پہ تیل افشین اور روزینہ نے ڈالا۔تھا اور انہوں نے حبہ خاتون کو رشتے کی منظوری دے دی ۔۔۔۔۔۔
حبہ خاتون نے جیسے ہی اسے کوئل کے گھر والوں کی طرف سے رشتے کی ہامی بھرنی کی امید سنائی اسنے سکوں کی سانس خارج کی وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اس لڑکی سے کس لیے شادی کرنا چاہ رہا ہے مگر وہ۔اس پہیلی کو سلجھانا چاہتا تھا اور جب سے حبہ خاتون سے یہ۔معلوم پڑا کہ وہ یتیم ہے اور ننھیال کے سہارے زندگی بسر کررہی اسے اس لڑکی سے ہمدردی محوس ہونے لگی تھی ۔۔۔
پہلے پہل اسکی آنکھوں میں موجود ہٹ دھرمی نے اسے کوئل کی جانب متوجہ کیا تھا پھر اسکی بے بسی اور اب ہمدردی کا بخار ۔۔۔۔۔۔





تاشہ پھوپو ہم اپنے چھوٹے بابا کی شادی کرنے لگے ہیں منہہ کی بات پہ اس نے حیرت سے ماں کی جانب دیکھا جہاں حبہ خاتون نے مسکراتے ہوئے منہہ کی بات کی تائید کی ۔۔۔
کک کس سے چچی جان بمشکل اپنے فق ہوتے چہرے پہ ابھرتے تاثرات پہ قابو پایا وہ جو سمجھ رہی تھی کہ منہہ اور حمزہ کے زریعے وہ نوفل کے دل دماغ پہ قبضہ جما چکی ہے اور نوفل کی باتوں سے اسے لگ بھی رہا تھا عنقریب وہ اسے پرپوز کرے گا” ایسے کیسے اچانک چچی آئی میں کون ہے لڑکی اپنی فیملی میں یا پھر باہر” اپنی بات کے مکمل ہونے پہ وہ حبہ خاتون کو دیکھنے لگی
پھوپو دادی کو تو کچھ پتا نہیں میں بتاتی منہہ نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا اور کوئل کا تعارف کروانے لگی جو کہ اسکی ٹیچر تھی منہہ کو بہت پسند تھی حمزہ نے بھی اسے دیکھا دادی نے بھی
منہہ کی باتوں پہ کہیں اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر کیوں اپنی سرخی ہوتی آنکھوں پہ ضبط کرتی وہ اپنے پورشن کی طرف چلی گئی جبکہ حبہ خاتون ارے تائشہ کرتی رہ گئیں۔۔۔۔۔
خاندان بھر میں نوفل کے اس اچانک طے جانے والے رشتے پہ کوئی خوش سے حیران تھا تو کوئی آس امید ٹوٹنے پہ غمزدہ تائشہ کی امی نے تو صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ انہوں نے تائشہ کو نوفل کیلئے ہی بٹھا رکھا تھا پھوپو نے بھی یہی کہا کہ جب گھر میں بیٹیاں موجود تھیں تو خاندان سے باہر جانے کی کیا ضرورت اور حبہ خاتون تابڑ توڑ ہونے والے حملوں سے گھبرا کے اک بار پھر نوفل کو سوچنے کو کہا
“مما آپ کو کیا لگتا ہے خاندان میں کوئی ایسی لڑکی ہے جو میرے بچوں کو بغیر کسی لالچ اپنا سکے”
نوفل کی بات سن حبہ خاتون نے بھی اسکے سامنے اک سوال رکھ دیا تمہیں کیا لگتا ہے نوفل تو کیا وہ لڑکی
“میرے منہہ اور حمزہ کو ممتا دے سکے گی”
نوفل انکی بات سنکے ماتھا مسلنے لگا
” مگر مما آپ خود ہی تو کہتی ہیں نوفل شادی کرلو پھر کسی نا کسی کو تو آنا ہی تھا نا اس گھر میں اور پھر خاندان والوں نے ویسے بھی راضی نہیں ہونا تھا اگر تائشہ کیلئے راضی ہوتا تو پھوپو کی اقراء میں کیا برائی اور ماموں بھی تو کئی اک بار آپکو کہہ چکے دانیہ کیلئے بتائیں کس کس کو راضی کرتیں”
آپ حبہ خاتون کو واقعی اسکی بات سہی لگی تھی اور پھر خاموشی سے شادی کی تیاریاں ہونے لگیں ۔۔۔۔۔
ادھر دستخط کرو تم ظفر ماموں نے اسکے سامنے کچھ کاغزات رکھے وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی پھر کاغزات پہ موجود تحریر بھلا وہ۔کیسے اتنی آسانی سے اپنی ماں کا حق چھوڑ دیتی اس نے نفی میں سرہلاتے قلم واپس کردیا جبکہ چھوٹے ماموں نے تعیش میں آتے اسے تھپڑ دے مارا تھا اور ساتھ دھمکی کے اگر وہ ان کاغذات پہ دستخط نہیں کرے گی تو اسکا رشتہ وہ اپنی مرضی سے کہیں بھی طے کردیں گے اسے بھلا کونسا نوفل سے دلی لگاؤ تھا
وہ بھی ان کے سامنے ڈٹ کے کھڑی ہوگئی تھی ظفر صاحب کے اشارے پہ سب کمرے سے باہر چلے آئے تھے۔۔۔۔۔





نوفل۔نے اپنے سامنے موجود ہستیوں کو بغور دیکھا انکا مدعا سن وہ بلکل حیران نہیں ہوا تھا کیونکہ اب وہ اس گھر میں موجود روزمرہ کی باتوں سے اچھے سے آگاہ ہورہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے آپکی شرط منظور ہے مگر میں اک بار کوئل سے ضرور پوچھنا چاہونگا
وہ ان لوگوں کے منصوبے میں شامل تھی یا نہیں اسکا دماغ الجھا وہیں سامنے بیٹھی شخصیات گڑبڑاگئیں دیکھو اے ایس پی ڈیمانڈز تو ہماری یہی ہیں باقی تم خود دیکھ لو کل مہندی ہے اور آج ہمیں کوئل کیلئے رشتوں کی کمی نہیں ہماری بچی ہے ہم اسے گھر بھی رکھ سکتے۔۔۔
نوفل نے تاسف سے ان لوگوں کو دیکھا۔۔۔
“ٹھیک ہے مجھے آپ لوگوں کی ہر شرط منظور لیکن اس بات کو صیغہ راز رکھنے کی گارنٹی دیں مجھے پتا نہیں وہ کیوں نہیں چاہ رہا تھا انکے درمیان کی ہوئی ڈیلنگ سے کوئل آگاہ ہو “وہ جو خود کچھ دیر پہلے اس پہ شک کررہا تھا “
پھر سے اس لڑکی کے بارے اپنی رائے تبدیل کرنے لگا۔۔
ہمیں ہر شرط منظور ہے تمہاری نوفل کی زات پہ احسان کرتے وہاں سے روانہ ہوئے۔۔۔۔
حبہ خاتون سے بھی اس نے مشورہ کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔
وہ ماؤف ہوتے دماغ سے افشین اور روزینہ کی باتیں سن رہی تھی اسے اتنا بے مول کردیا گیا آنسوؤں کا سیلاب لیے وہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی دماغ میں اک ہی بات کی گونج تھی ” مرا ہوا ہاتھی لاکھ کا ہوتا لو آج کوئل تو زندہ رہ کے بھی کرؤڑ پتی بنا گئی ہمیں نحوست گئی گھر میں لکشمی آئی پورے اک کروڑ قیمت دی ہے اے ایس پی نے” بے ساختہ اسکے لبوں سے نکلا تھا “ماں”
آج اسکی ماں کے ماں جائے اسے بیچ آئے تھے ۔۔۔
روتے روتے ہی اسکی آنکھ لگ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
سمندر آنکھ میں لے کر وہ لڑکی سوچ میں گم ہے
کہ جب مائیں نہیں ہوتیں تو دکھ کِسکو سناتے ہیں۔۔۔۔





وہ سگریٹ لبوں میں دبائے مسلسل اسی کے بارے سوچ رہا تھا آج اسکے سربراہان نے اسکی قیمت لگائی تھی وہ بھی لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں اور اس نے اسے خرید لیا مگر جائز طریقے سے۔خون کا اتنا سفید رنگ دیکھ وہ پریشان ہو اٹھا کتنی دیر سے وہ اسی سوچ میں گم تھا سگریٹ جلتی بجھتی اسکی انگلیوں کے پور چھونے لگی اچانک وہ چونک اٹھا کسی نے اسکی انگلیوں پہ ہاتھ مار کے سگریٹ نیچے گرائی سامنے موجود تائشہ کو دیکھ مسکرایا اسکی سوجی آنکھیں اس بات کی۔غمازی تھیں کے وہ کتنی دیر سے روتی رہی ہے ۔۔۔
میں جانتی ہوں
“افی”
تم اس شادی سے خوش نہیں ہو پلیز مجھے بتاؤ وہ کیا مجبوری ہے جو تم اتنا بڑا قدم اٹھا رہے اگر تو یہ چچی جان کا فیصلہ ہے میں ان سے بات کرتی میرے ساتھ ایسے مت کرو میں نہیں رہ سکوں گی
تمہارے بنا پھر سے اسکی آنکھوں میں ساون کی لڑی لگی تھی وہ اسکے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھتے دوزانو بیٹھ گئی تھی کسی سائل کی طرح ۔۔۔
نوفل کا دل اسے دیکھ گھبرایا وہ بنا کچھ کہے کھڑا ہوگیا
پلیز تاشہ تم اپنے قیمتی آنسو ایسے ضائع نہیں کرو جو ہورہا سب میری مرضی سے ہورہا میں خوش ہوں”
اسکی آواز خود کو بھی کھوکھلی محسوس ہوئی۔۔
وہ تیزی سے اٹھتی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
“افی کہاں سے لگ رہا تم خوش ہو یہ روگ کسکا ہے جانے والوں کا یا پھر آنے والی کا “
وہ بغور اسکی آنکھوں میں پڑتے سرخ ڈورے دیکھنے لگی “
“تمہیں مجھ پہ ترس نہیں آرہا پہروں یہاں بیٹھ کے ہم نے اک دوسرے کے دکھ درد بانٹے ہیں تم مجھ سے اگر ناراض آئی پرامس میں فیملی میں کسی کزن سے بات نہیں کرونگی میں دیکھوں گی بھی نہی”
محبوب کی غلامی میں خود کو پیش کرتی طائشہ اسے اس وقت زہر سے بھی زیادہ بری لگنے لگی وہ اک قدم بڑھا کے اسکے پاس آیا نوفل خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ غلطی کہاں ہوئی جو وہ اسکیلئے اتنا سریس ہوچکی تھی بھاری قدموں سے اسکے سامنے آیا
“طاشہ ڈونٹ بی ایکٹ لائک آ سلی گرل یو آر مائی کزن سسٹر نتھنگ مور دن اٹ آہ بیسٹ فرینڈ ٹو”
اسکی ذات پہ احسان کرتے اس سے رشتہ بنایا طائشہ تو اسکے “کزن سسٹر ” بولنے پہ جھٹکا کھا گئی
” تت تم ایسے کیسے کہہ سکتے افی تم۔نے مجھے ہمیشہ احساس دلایا کے میں سب کزن سے سپیشل ہوں تمہارے لیے”
ہچکولے کھاتی کشتی کی مانند اسکا لہجہ میں بھی غیر یقینی کیفیت تھی
“یس تم۔میرے لیے آج بھی ویسے ہی سپیشل ہو مگر صرف کزن کی حد تک نتھنگ مور الس”
بات ختم۔کرتے وہ ٹیرس سے اندر کی طرف بڑھ گیا طائشہ اسی۔کرسی پہ ڈھے گئی جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
