Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Koyel Anghothi Chor (Episode 05)

Koyel Anghothi Chor Uzma Mujahid

حبہ خاتون نے اپنے بیٹے کو دیکھ دور سے بلائیں لیں

مما پارٹنر کہاں ہیں میرے منہہ اور حمزہ کا پوچھتے اسکے چہرہ پہ پرشفیق مسکراہٹ تھی تھوڑی دیر پہلے کی تلخی کا کہیں شائبہ تک نہ تھا۔۔۔

سوگئے ہیں منہہ کو تو ایکسائٹمنٹ میں نیند نہیں آرہی اسکی ٹیچرمما بن کے آئیں گی اسکا بس چلے تو آج ہی کوئل بیٹی کو اٹھا کے اپنے گھر لے آئے

حبہ خاتون کی بات پہ وہ بھی ہنس پڑا طائشہ۔۔

طائشہ نے ان ماں بیٹے کی ہنسی کو دیکھ اپنے اندر کے اٹھتے درد کو سہلایا ۔۔

ارے تاشہ بیٹے کب سے ایان تمہیں بلا رہا تھا کہا رہا تھا مما بلا رہی ہیں حبہ خاتون سے پیغام سن وہ تیزی سے اپنے پورشن کی طرف بڑھی۔۔۔

اسے کیا ہوا ہے تم ننے کچھ کہا نوفل اسکا رویا رویا چہرہ دیکھ وہ نوفل کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔

کچھ نہیں مما وہیں پورے خاندان کا ڈرامہ جانتی ہیں سب آپکے بیٹے کے پیچھے دیوانی ہیں سب نوفل نے شرارت سے آنکھ دبائی وہ بھی اسکی بات سمجھتے افسوس سے سر ہلانے لگیں ۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤

کیا تماشہ لگا رکھا اس بدذات لڑکی نے افشین کی آواز پہ پورا گھر جمع تھا ایسی بھی کیا بدشگونی پھیلانی۔

سب سامنے موجود مہندی کے جوڑے کو راکھ بنا دیکھ سکتے میں تھے۔۔۔۔

رمشہ نے آگے بڑھتے اسے بازو سے پکڑا

“کیا چاہتی ہو تم ابھی اور کتنی نحوست جھیلے یہ گھر تمہاری وجہ سے کیوں جلایا جوڑا “

میں یہ شادی نہیں کرونگی میں اچھے سے جان گئی ہوں میری قیمت وصول کی ہے آپ نے کل کو آصفہ اور رمشہ کو بھی بیچیں گے آپ لوگ “

افشین کا ضبط جواب دے گیا اس نے کوئل کو تھپڑ دے مارا

“تمہاری جرآت کیسے ہوئی میری بیٹیوں کا نام لینے کی وہ تمہاری طرح کرم جلی نہیں نہ ہی پیدا ہوتے ماں باپ کو کھا گئیں اور کیا گناہ کردیا اتنا عرصہ جو کھلایا ہے تو ارے اگلوں کو بھی تو پتا چلے کوئی ولی وارث ہے تمہارا ایسے مفت میں پکڑا دیں ارے بھائی شادی کا خرچہ ہی تو لیا ہے ایسا بھی کیا گناہ کیا جو تمہارے کان بھر دیے اس لڑکے نے “

افشین سمیت سب قہر برساتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے “اور شادی تو تم کروگی ہی ۔۔۔نہیں تو ڈولو(مالی) کے ساتھ نکاح پڑھوا کے رخصت کردیں گے “

روزینہ کو بھی پیسہ ہاتھ آنے سے پہلے جاتا دکھائی دے رہا تھا

“کروا دیں مگر میں اس اے ایس پی سے شادی نہیں کرونگی دماغ میں بیٹھا لیں یہ بات آپ لوگ بھی”

کوئل بھی ضدی انداز میں کہتی وہاں سے واک آؤٹ کرگئی۔۔۔۔۔

ان سب کو تو اب صیح معنوں میں ٹینشن ہوچکی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی آدھی رقم نوفل سے وصول۔کرچکے تھے اس صورت انہیں واپس کرنا پڑتا مگر ہاتھ آئی رقم۔بھلا کیسے “یہی پہ آکے ان کے سارے بل خم نکل جاتے ۔۔۔

کال بند کرتے اسکے ماتھے پہ ان گنت سلوٹیں ابھری دل تو چاہ رہا تھا کے اک منٹ میں جاکے اس لڑکی کا دماغ ٹھکانے لگا دے مگر اس میں کچھ قصور تو ان لوگوں کا بھی ہوگا آخر کو کیوں اس نے مہندی کا جوڑا جلایا تھا۔۔

مما کی ڈیزائینر کو کال کرکے ارجنٹ بیسیز ویسا ہی جوڑا تیار کرنے کہا لیکن اسکی لک کے انکے پاس ویسا ہی سمپل پیس موجود تھا وہ منہہ کو لیتا اس ڈریس سمیت وہاں پہنچا گھر کے داماد کی حثیت سے اسکی خوب آؤ بھگت کی گئی تھی جب اس نے کوئل سے ملنے کی خواہش کی افشیں سمیت سب کو پریشانی نےگھیرا ۔۔۔

“وہ ایسا ہے کہ ہمارے خاندان میں اس چیز کو معیوب سمجھا جاتا ہے کہ مہندی سے پہلے دلہا دلہن اک دوسرے کو ملیں شام کو مہندی ہے آ تو رہے آپ لوگ”

اپنا راز کھل جانے کے ڈر سے انھوں نے سو حیلے بہانے بنا دیے ۔۔۔۔

منہہ اور اپنی ملازمہ کے ہاتھ ڈریس بھیجا اور کچھ شاپنگ بیگز بھی روزینہ انکے ساتھ گئی تھی۔۔۔

کوئل۔اپنے سامنے منہہ کو دیکھ حیران ہوئی اور ساتھ موجود ہستیوں کو دیکھ بھی شاپنگ کے نام پہ وہ پہلے ہی اتنا کچھ بھیج چکے تھے جو آتا اسکے نام تھا جاتا کہیں اور تھا

” مجھے اپنی مما سے اکیلے میں بات کرنی ہے کیا آپ ہمہں کچھ دیر اکیلا چھوڑیں گی “

روزینہ تو اسکے اپنی مما کہنے پہ چونکی تو کیا نوفل پہلے سے شادی شدہ اور یہ بچی وہ بغیر کچھ کہے وہاں سے چلی گئی اور ملازمہ کو بھی اتنی دیر اسکے کمرے میں آنے کا آرڈر نوفل کی طرف سے تھا۔۔۔۔۔۔۔

کوئل بنا کچھ بولے منہہ کو دیکھے جارہی تھی

“ٹیچرمما آپ میرے سے ناراض ہیں “

کوئل کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیے پیار سے پوچھا اس نے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا

“پھر آپ میری مما کیوں نہیں بننا چاہتی پتا ہے ہمارا گھر بہت بڑا ہے اگر آپ میرے ساتھ نہیں سونا چاہو تو کسی اور کمرے میں سوجانا “

اپنی سمجھ کے مطابق بولتی وہ بچی اسے اپنے جیسی ہی لگی جسکے نزدیک مما اپنے بچوں کے ساتھ سوتی ہیں اور یہ حقیقت ہی تو تھی ماں ہی وہ ہستی ہوتی جو اپنے بچوں کو اپنے ممتا کی چھاؤں میں چھپائے زمانے کے گرم سرد ہواؤں سے بچا لیتی ہے اور اس معاملے میں دو بدنصیب آمنے سامنے بیٹھی تھیں تو کیا منہہ بھی اسکے جیسے زندگی گزارے گی اک درد کا احساس ہوا تھا اسے جو فیصلہ وہ خود نہیں کرپارہی تھی منہہ نے اس سے منٹوں میں کروا دیا تھا بہت سے خوف اور اندیشے بھی تھے مگر وہ خدا پہ توکل کیے چپ سادہ گئی۔۔۔۔۔۔

اور منہہ جسکو نوفل نے کسی رٹو طوطے کی طرح اپنے پیغام اور دھمکیاں یاد کروائی تھیں وہ سب بھلائے اپنی شروع ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔

کیا پتا نوفل کی دھمکیاں وہ اثر کرتی یا نا کرتیں جو منہہ کی معصومیت کرگئی۔۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

لائٹ یلو کلر فل کام۔والی شرٹ کے ساتھ مہندی کلر کا شرارہ پہنے اس پہ مہندی کلر کا دوبٹہ لیے جس کے چاروں سائیڈ پہ گوٹہ کناری کا کام کیا گیا تھا پھولوں کا زیور پہنے پرسوز حسن سب کو اپنی جانب متوجہ کررہا تھا کئی رشتہ دار تو رومئیسہ کی بیٹی کو دیکھ ہی پہلی بار رہے تھے ۔۔۔۔۔

کہاں چھپا کے رکھا تھا آپ نے اتنا قیمتی نگینہ افشین رومئیسہ کی بیٹی تو بہت پیاری ہے پہلے دیکھا ہوتا تو اپنے بیٹے کیلئے لے لیتی افشین اور روزینہ کب سے خواتین کے ایسے ملے جلے صدمات بھرے تاثرات سن رہی تھیں۔۔۔

ارے رہنے دیں بہن کہاں کا نگینہ جب تک ادھر رہی نحوست کی پوٹلی بنی رہی اپنے اماں باپ کو تو کھا گئی کیوں آپ اپنی اچھی خاصی زندگی میں اسکی پرچھائیاں چاہ رہی تھیں ہم۔تو دفعان کررہے پر کیا ہے بس رومئیسہ کی آخری نشان سمجھ کے سینے سے لگائے رکھا۔۔۔

افشین اور روزینہ کی باتیں کسی اور کو بھی چونکا رہی تھیں۔۔۔۔

آپ کیا کہہ رہی تھیں دلہن کے بارے کے اسکا سایہ منحوس ہے ۔۔اک عورت نے افشین سے تجسس بھرے انداز میں پوچھا وہ عورت یقیناً دلہے والوں میں سے تھیں ۔۔۔

آئے ہائے بہن کیا بتاؤں ۔۔۔۔اور کوئل کی نحوست بھری داستان سامنے موجود خواتین کا بھی دل دہلا رہی تھیں۔۔۔۔

اچانک ہی شارٹ سرکٹ ہوا تھا اور لان میں جلتی لائٹس بجھ گئیں کوئل کے چہرے پہ اک خوف کیسی کیفیت پیدا ہوئی تو کیا اسکی نحوست کی پہلی پرچھائی اسکی اپنی زندگی پہ ہی پڑگئی تھی۔۔۔۔۔

فنکشن کا مزہ خراب ہوچکا تھا ویسے بھی رسم ہوچکی تھی اسلیئے مہمانوں نے واپسی کی تیاری پکڑی۔۔۔

بھابھی آپ نے لڑکی کی جانچ پڑتال تو کروائی تھی میرا مطلب ہے کیا ہے، کیسی ہے، چال چلن طائشہ کی ماں کی بات سن حبہ خاتون نے انہیں دیکھتے نفی میں سرہلادیا وہ دراصل نوفل کی ضد تھی تو

“ہائے اللّٰہ بھابھی میں بھی بیٹی والی ہوں سو بار میرے منہ میں خاک جو اگر جھوٹ بولوں مگر اس لڑکی کے بارے کچھ اچھی باتیں نہیں سننے کو ملیں”

اور پھر چچی نے جھوٹی سچی ملا کے من گھڑت کہانیاں حبہ خاتون کے کان میں انڈیل وسوسے پیدا کردیے۔۔۔۔

مگر پھر بھی وہ چہرے پہ مسکراہٹ سجائے بولیں ارے نہیں نفیسہ یہ سب توہم۔پرستی کی باتیں ہیں ہوتا تو وہی جو خدا کی زات نے لکھا ہوتا۔۔۔۔

انکی مطمئن کرتی اپنے دل کیا کرتیں جو انہیں ڈرائے جارہا تھا بھلا اب انکے پاس کھونے کیلئے کیا بچا تھا انکا کل سرمائیہ تو نوفل اور دو بچے ہی تھے انہوں نے نوفل کی بات بغیر تحقیق کے مان کے غلطی کی ہے بار بار اپنی غلطی کا احساس انکا دل ہولائے جارہا تھا۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤

اس قدر اس کی جستجو ہے مجھے!

جیسے دنیا میں آخری شخص ہے وہ۔۔۔

نوفل اسکی تصویر دیکھے مبہوت ہوگیا اتنا معصوم پریوں جیسا حسن وہ خدا کی تخلیق کا مکمل شاہکار لگ رہی تھی “میرا انعام ” حمزہ کا ہاتھ سامنے آیا تھا نوفل اس لالچی بچے کو دیکھ ہنس پڑا تھا

“کس بات کا انعام تمہاری مما لا رہا ہوں یہ کم ہے کیا اسکی ناک کو دباتے اسکی گدگدی کرنے لگا جبکہ حمزہ تو اسکو طوطا چشمی کرتے دیکھ غصے سے لال پیلا ہوگیا

“دس از ناٹ فئیر نوفل بابا آپ پہلے بھی دو بار چیٹینگ کرچکے ہیں ایسا نا ہو آپکے معملات بننے سے پہلے بگاڑ دوں “

حمزہ سرعام اک پولیس والے کو دھمکی دیتا اسے حیران کرگیا وہ کہیں سے بھی سات سال کا بچہ نہیں لگ رہا تھا۔۔

آہاں ایس۔پی نوفل کو اگر کوئی چیلنج کرسکتا ہے تو اسکا اپنا خون ورنہ کسی اور کی اتنی مجال کہاں شرارت سے کہتے اسکو آنکھ ماری۔۔

” ڈونٹ بی فرینک افی” وہ کبھی کبھی زیادہ غصے میں آتا تو اسکا نک نیم کال کرتا جسکا مطلب تھا اب اگلی غلطی کی گنجائش نہیں تبھی نوفل نے اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لیا اوکے تو بتاؤ کب چلیں پھر آپکی پسندیدہ سپورٹس بائیک لینے بلاآخر نوفل نے اسکے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے ۔۔۔۔

حمزہ نے وکٹری کا نشان بنایا مطلب وہ اسے ہرا چکا تھا نوفل نے سرہلاتے اپنی ہار تسلیم کی کیونکہ ابھی اس نے حمزہ سے اور بہت سے کام نکلوانے تھے۔۔۔۔۔۔

نوفل کے موبائل کی بیل بجی تو کال سنتے ہی گھر سے باہر چلا گیا۔۔

حبہ خاتون جلے پیر کی طرح پورے گھر میں چکراتی پھر رہی تھیں تبھی موبائل بجا انکا دل۔انجانے خدشے سے سکڑ کے سمٹا تھا نوفل بنا بتائے گھر سے چلا گیا تھا اور اب انہوں نے جلدی سے کال اٹھائی دوسری طرف کی بات سن وہ زمین پہ بیٹھتیں گئیں دوسری طرف کال۔پہ موجود کانسٹیبل مسلسل ہیلو بولے جا رہا تھا۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤

بس نوفل۔میں نے کہہ دیا تم وہاں شادی نہیں کروگے ہم بارات لے کے نہیں جائیں گے۔۔۔۔۔۔

ہائے وہ۔لڑکی سبز قدم ہے تمہیں کیوں نہیں سمجھ آرہی وہ انکی بے تکی باتیں سن کے بیزار ہوا بیٹھا تھا مما کیا ہوگیا ہے سبز لال قدم۔کچھ نہیں ہوتا اس گینگ سے کب سے ہمارا تنازعہ چل رہا تھا ۔۔۔۔۔

نوفل کو رات پولیس مقابلے میں گولی لگی تھی جو ہاتھ کو چھو کے گزر گئی تھی مقصد اسکے ہاتھ سے ویپن گرانا تھا

مگر پھر بھی وہ فتح یاب ہوئے تھے کانسٹیبل نے ہڑبڑاہٹ میں اسکے گھر کال کردی تھی جبکہ بعد میں نوفل کے ہاتھوں خوب دھلائی بھی ہوئی گھر آتے اک نیا چیلنج منہ اٹھائے کھڑا تھا شام کو اسکی بارات تھی اور حبہ خاتوں کی لوجکس سے اسکا دماغ گھوم رہا تھا۔۔۔۔۔

مما یہ دیکھیں وہ لڑکی اور پھر کل نکاح بھی ہوچکا ہے ایسے رخصتی اگر نا ہوئی تو لوگ اسکا جینا حرام کردیں گے۔۔

“اور جو وہ اپنے منحوس قدم یہاں دھرنے سے پہلے میرا گھر اجاڑ رہی ہے”

نوفل نے حیرت سے اپنی ماں کودیکھا جو کہیں سے اسے کالج کی پروفیسر نہیں لگ رہیں تھیں۔۔

ٹھیک ہے تو پھر میری بھی اک شرط ہے تم اس لڑکی کو اسوقت تک بیوی کا درجہ نہیں دوگے جب تک کے ہمیں یقین نہیں ہوجاتا کہ وہ لڑکی سبز قدم نہیں اور اس گھر کیلئے نقصان دہ ثابت نہیں ہوگی “نوفل تو ماں کی بات سن غش کھانے لگا ” ٹھیک ہے اگر آپ کی یہی ضد ہے تو مجھے آپکی شرط منظور ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *