Koyel Anghothi Chor by Uzma Mujahid NovelR50611 Koyel Anghothi Chor (Episode 09)
Rate this Novel
Koyel Anghothi Chor (Episode 09)
Koyel Anghothi Chor Uzma Mujahid
نوفل جب کمرے میں داخل ہوا کوئل اسکے بیڈ پہ ہی سوچکی تھی اک نظر پرسکون سی سوتی کوئل پہ ڈالی اور اسکے برابر لیٹ گیا مگر آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی کوئل کے ماضی کا انکشاف حبہ خاتون یقیناً اسکی ممانیوں کو دیکھ کے پہچان چکی تھیں اگرچہ احمر ماموں کی شادی کا مختصراً قصہ اسے بھی یاد تھا کہ انکی شادی کے بعد دونوں خاندانوں نے صرف شادی لے موقع پہ ایک دوسرے کو دیکھا یا پھر احمر کے مرنے پہ اسکے بعد سے یہ چیپٹر کلوز تھا انجانے میں وہ اپنی ماں کے زخم ادھیڑ گیا تھا مگر وہ کبھی بھی انکی توہم پرستی کا شکار کوئل کو نہیں ہونے دے گا ۔
وہ سمجھ رہا تھا کہ ماّ م کی کل وقتی باتیں ہیں سب مگر اتنی بڑی سازش نگاہ بھٹکتے پھر سے اس پری چہرہ کوئل پہ گئی بے خودی کے عالم میں اس پہ جھکتا اسکے چہرے پہ اپنے پیار کی پہلی مہر ثبت کی اب کے کوئل کی زندگی میں آسانیاں ہوں گی نیند میں ہی وہ مسکائی تھی کسی بچے کی طرح کیا تھی یہ لڑکی اسکی ڈائری پڑتے کوئل کی زندگی کے ہر پہلو سے آگاہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
اک شور ہے برپا ہوا اب تو مرے اندر
الجھے ہیں نئے درد سے کچھ درد پرانے
معاشرہ اتنا بے حس کیسے ہوسکتا ہے اک معصوم فرشتہ صفت بچہ جس نے دنیا میں قدم نہیں رکھا اسے پہلے ہی نحوست قرار دے دیا گیا۔
زندگی موت کا اختیار برحق فیصلہ اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے تو کیسے اسے کسی کی موت زمدار قرار دے دیا گیا۔
گھر میں کام کرتے روز نجانے کتنے کانچ کے برتن ہاتھوں سے پھسل کے گرتے زخمی کرتے تو اسکا الزام کیسے ایک لڑکی کی موجودگی پہ دھر دیا گیا۔
اسکے ذہن میں لڈ پینسل سے لکھے بہت سے مدہم الفاظ ابھرے۔
“میں اللّٰہ سے سوال ضرور کرونگی اگر کوئل مما پاپا کو اپنے پاس بلانا تھا تو اسے کیوں گندی مامی کے پاس رکھ کے بھول گیا “
“اللّٰہ میاں کوئل کے بابا کیوں نہیں ہیں جو اسکیلئے کھلونے لائیں “
“جب کوئل کی مما کو اٹھا لیا تو سب کی مما کو اٹھا لو”
بہت سے شکوے بہت سے گلے بہت سی ادھوری خواہشیں
“اللّٰہ میاں میرا دل کرتا میں کسی کو مما بولوں مجھے مما لادو نا”
“سب کہتے کوئل اپنی مما کو کھا گئی میں کیسے کھا گئی۔”
“مامی کہتی ہے جب کوئی غلط کام کرو سیاہ لباس پہنو تاکہ تمہاری بدبختی سب کو پتا چلےمجھے سیاہ رنگ سے نفرت ہے “
نوفل کو لگ رہا تھا وہ الفاظ زندہ ہوتے اسکے اردگرد شور مچانے لگے ہیں اپنی کیفیت سے گھبراتا وہ اٹھ کے باہر چلا گیا بھلا کوئی اتنا سیاہ کار کیسے ہوسکتا ۔۔۔
لفظوں کی دسترس میں مکمل نہیں ہوں میں
لکھی ہوئی کتاب کے بَاہر بھی سن مجھے !!





کوئل کی آنکھ کھولی سامنے موجود نوفل کو دیکھ ہڑبڑا کے اٹھی وہ جو بڑی مشکل سے سونے کی کوشش میں تھا جھٹ آنکھیں کھولیں۔
“یا آفت آگئی تھی آرام سے بھی تو اٹھا جا سکتا تھا ؟”
“اے۔ایس۔پی یہاں کیوں مم میرا مطلب”
نوفل نے بغور اسکے چہرے پہ چھائے رنگوں کے سائے دیکھے۔
“جی میں یہاں کوئی مسئلہ؟”
آج پہلی بار کوئل اسکے انداز دیکھ جھجک رہی تھی وہ جو بے دھڑک بولتی تھی اسکی بولتی آنکھوں سے کنفیوژ ہوگئی۔
بنا اسکو دیکھے بیڈ سے اترنے لگی مگر نوفل نے اسے اپنی جانب کھینچتے اپنے اوپر گرایا ۔
کوئل کی تو اب صیح معنوں میں سٹی گم ہوئی۔
“ک کیا کر رہے آپ ” بوکھلاتے ہوئے نوفل کو خود سے دور ہٹانے کی کوشش کی ۔
“وہیں جو بہت پہلے کر لینا چاہیئے تھا”
نوفل کا شرارتی انداز کوئل اپنے آپ چھڑانے میں ناکام ہوئی ۔
چھوڑو کیا کھاتے ہو اے۔ایس۔پی کوئی راستہ نہ دیکھ آنکھوں سے تیر برسائے۔
“ہائے ظالم ادا ” جانثاری تو گویا نوفل پہ آج ختم تھی سینہ پہ ہاتھ رکھے اسکی طرف جھکا ۔
کوئل نے اپنے ناخن اسکے بازو میں چبھوئے تبھی وہ چیختے گرفت ڈھیلی کرگیا ۔
جنگلی لڑکی یقیناً اب انجکشن لگوانے پڑیں گے مصنوعی درد چہرہ پہ سجایا گیا۔
مسٹر اے۔ایس۔پی اس وقت گلی میں ٹہرے کسی لوفر سے کم نہیں لگ رہے آپ کوئل موقع غنیمت جانتے بیڈ سے اتری۔
بڑا تجربہ ہے نوفل نے گویا اسے شرمندہ کرنا چاہا ۔
ہے تو نہیں آپکے ساتھ ہوتے ہو ضرور جائے گا۔
منٹوں میں کنفیڈینٹ بحال ہوا ۔
ادھر آؤں جنگلی لڑکی میں بتاؤں نوفل کی دہائی پہ اسے تھمب ڈاؤن کرتی دروازہ پار گئی۔
ایک سرشاری کا احساس تھا نوفل کے گرد جو اسلیئے اردگرد ہر چیز کو منور کر گیا۔
موبائل اٹھائے ٹائم دیکھا صبح کے چھ بج رہے تھے مطلب کے سونا بنتا تھا ۔۔۔





ناشتے کی ٹیبل پہ حبہ خاتون اور اسکے درمیان مکمل خاموشی تھی ۔
“بوا کوئل کو بھی بلا لائیں”
نوفل کا حکم سنتی بوا پریشان ہوئیں کیونکہ کوئل کا ٹیبل پہ آنا منع تھا بقول حبہ خاتون “وہ صبح صبح اس منحوس کا چہرہ دیکھ اپنا ناشتہ اور دن خراب نہیں کرسکتیں”
جبکہ نوفل۔بھی انکی سوچ سے آگاہ تھا پھر گستاخی کیسی۔
“بوا ” نوفل کی پکار پہ وہ چونکی۔
“جج جی بیٹا ہم ابھی بلا لاتے ہیں ” حبہ خاتون سے نظریں چراتیں وہ کوئل کو بلانے چل دیں۔
وہ جو کب سے اپنی ڈائری ڈھونڈنے میں مشغول تھی بوا کی بات سن جھٹکا لگا۔
“جو صبح اس نے نوفل کا بدلہ ہوا روپ دیکھا وہ وہم نہیں تھا مگر یہ معجزہ کیسے؟”
اتنا سوشنے کا وقت کہاں تھا وہ بوا کے پیچھے کچن میں داخل ہوئی حبہ خاتون اسے دیکھتے ہی زور سے چئیر کھسکاتیں واک آؤٹ کرگئیں ۔
اس نے اک شرمندہ نگاہ سامنے موجود نوفل پہ ڈالی جسکا چہرہ کسی بھی تاثر سے خالی بلکل سپاٹ تھا ۔
“بوا آپ رہنے دیں ہمارا ناشتہ کوئل بنا دے گی”
نوفل کی بات سن وہ غش کھانے کو تھی ۔
نوفل نے ابرو اچکائے بغور اسے دیکھا جیسے پوچھا ہو “کوئی اعتراض”
کوئل نے جیسے سوال سمجھ کے نفی میں سرہلایا اور ناشتہ بنانے کو کھڑی ہوگئی۔
ناشتہ کرتے ہی وہ کھڑا ہوگیا “چائے لے کے روم میں آؤ اپنے بات کرنی ہے کچھ”
نارمل انداز وہ کچھ بھی اخز نہیں کرپارہی تھی۔
حبہ خاتون بیگ اٹھائے گزریں اک کڑک نگاہ ان دونوں پہ ڈالتی باہر کی طرف بڑھ گئیں۔
کوئل کو جیسے ہوش آیا تھا
“وہ تو روز نوفل کے ساتھ جاتی تھیں پھر”
“لیو لی ہے آج میں نے پورا دن تمہارے ساتھ سپینڈ کرنے کو”
“اتنی کرم۔نوازی کیوں بھلا ؟”
بس وہ سوچ کے رہ گئی تھی
چائے کمرے میں پھر سے یاد دہانی کرواتا وہاں سے روانہ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
