Khoon Bahaa By Zarish Noor Readelle50108 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
ناول ”خون بہا“
از قلم زرش نور
لاسٹ ایپیسوڈ
ارے زینب تم نے نٸے باس کو دیکھا ہے ؟یار کیا چیز ہے؟
زینب آج آفس آٸی تو علینہ اسے نٸے باس کے بارے میں بتانے لگی۔
زینب کو تو ان باتوں میں کوٸی انٹرسٹ ہی نہیں تھا۔
اس کا خیال تھا دنیا میں زرغام علی خان سے زیادہ خوبصورت مرد کوٸی ہے ہی نہیں۔
علینہ کافی دیر اسکی تعریفیں کرتی رہی اور پھر زینب کی عدم دل چسپی دیکھتے ہوۓ خاموش ہو گٸی ۔
جو اپنے کام میں مگن فاٸلز سیٹ کررہی تھی۔
تبھی ایم ڈی خاور حسین کے ساتھ زرغام علی خان اندر داخل ہوا۔ علینہ نے اس کا بازو پکڑ کر اس طرف اشارہ کیا اور ساتھ ہی زیر لب بڑ بڑاٸی ،نیو باس۔۔۔۔۔
اور زینب سلطان کی جو نگاہ اٹھی تو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گٸی۔
زرغام علی خان کے ساتھ ایک بےحد ماڈرن لڑکی اس کے بازٶں پر ہاتھ ٹکاۓ آگے بڑھ رہی تھی۔
”یار اس ڈاٸن کو دیکھو کیسے چپک رہی ہے اس کے ساتھ ،خاور حسین کی بہن ہے۔۔۔ے۔ علینہ نے جھک کر زینب کے کان کے قریب سر گوشی کی۔
اور وہ تینوں چلتے ہوۓ آ کر زینب کے کیبن کے سامنے کھڑے ہو گٸے۔
ایک ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں گھساۓ ،دوسرے ہاتھ سے سگار کے کش لے رہا تھا۔ بات کرتے کرتے اس نے نظر اٹھا کر زینب سلطان کو دیکھا ، جو کن اکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
وہ دو قدم چل کر زینب کے قریب ہوا۔
آپ کو کیا نام ہے میم!
جی ۔۔۔۔۔زینب سلطان ۔۔اس کی آوازمیں لڑکھڑاہٹ تھی۔
اور اس کے زینب سلطان کہنے پرغصے سے زرغام علی خان کی پیشانی سلوٹوں سے بھر گٸی۔
اوکے! آپ کا کیا کام ہے یہاں؟
جی میں ایڈیٹنگ کرتی ہوں اور ساتھ کبھی کبھار کچھ لکھ بھی لیتی ہوں۔
ہمم ۔۔۔۔۔اس ہفتے کا میگز ین کور آپ نے ایڈیٹ کیا تھا۔
جی ہاں! ”وہ اعتمادسے بولی۔“
دیکھٸے مس۔۔۔کیا نام ہے آپ کا؟
اس کی ایکٹنگ پر زینب نے دانت پیسے ۔اسکادل چاہا سامنے پڑی ساری فاٸلز اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے۔
جی زینب سلطان۔۔۔اسنے ضبط کے گھونٹ بھرتے ہوۓ جواب دیا۔
دیکھٸے مس ! آپ نے جو یہ کور ایڈیٹ کیا ہے اس پر آپ نے بہت زیادہ تیز رنگوں کا استعمال کیا ہے۔
یہاں اگر تحریر سرخ کی بجاۓ بلیک کلر میں ہی ہوتی تو یہ زیادہ آچھی دکھتی۔
اس نے ایک جگہ پر انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
آج کے بعد آپ جو ایڈیٹ تیار کریں گی ،وہ پہلے مجھے دیکھاٸیں گی پھر اس کے بعد وہ اپروو ہو گی۔انڈرسٹینڈ۔۔۔۔
یس سر۔۔۔اس نے چبا چبا کر لفظ ادا کے۔
اوکے پھر ابھی آپ کے دماغ میں اس ویک کے کور کے لٸے اٸیڈیاز ہیں ،وہ لے کر آپ میرے آفس میں آ جاٸیں۔
جی سر۔
اور وہ مسکراہٹ ضبط کرتا ہوا اپنے آفس میں چلا گیا۔اور رو م میں ادھر ادھر ٹہلتے ہوۓ اس کےآنے کا انتظار کرنے لگا۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ لیپ ٹاپ اٹھا ۓ اندر چلی آٸی۔
وہ اسکے سامنے بیٹھ گٸی اور لیپ ٹاپ پر اسے کچھ ڈیزاٸن دکھانے لگی۔
زرغام نے اپنی سیٹ چھوڑی اور اس کی سیٹ کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔
زینب کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوٸی۔
اس نے تھوک نگلا اور پھر سے سکرین کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کچھ دکھانے لگی۔جب زرغام نے اسکے کان کے پاس جھکتے ہوۓ ہاتھ سےبسکرین پر ٹچ کر کے کچھ پوچھا اور اس کے لب اس کے کان کی لو سے ٹکراۓ۔
اور لیپ ٹاپ زینب سلطان کے ہاتھ سے نیچے جا گرا جسے زرغام نے بروقت پکڑ لیا۔
”کیاہوا؟کچھ سمجھ نہیں آ رہا تو کیا میں سمجھا دوں؟“زرغام علی خان کی شرارت سے بھرپور آواز اسے حواسوں میں کھینچ لاٸی۔اس نے بے ساختہ اپنے سامنے رکھا لیپ ٹاپ بند کر دیا۔
”جی نہیں ۔۔۔مجھے سب سمجھ آتا ہے۔“
”آچھا۔۔۔!“وہ بےاختیار ہنس دیا۔“مثلاً؟کیا کیا سمجھ آ گیاہے آپ کو ؟“لہجہ زومعنی تھا۔
”میں چلوں۔“اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا اور اپنی چیزیں سمیٹنے لگی۔
”کچھ دیر رکو زینب ۔۔۔۔۔۔مجھے تم سے کچھ باتیں کلٸیر کرنی ہیں۔“
”لیکن میرے پاس کہنے کے لٸے کچھ بھی نہیں ہے۔“ہمیشہ کی طرح اس نے دل کی آواز پر لات ماری۔
وہ اپنی کہہ کر بیرونی دروازے کی طرف مڑ گٸی۔
زینب سلطان میری باتوں کا جواب دے کر جاٶ ۔ورنہ میں ابھی اس آفس سے تمہیں اپنی بانہوں میں اٹھا کر لے جاٶں گا۔
اور تم جانتی ہو میں ایسا کر سکتاہوں۔”یہ صرف دھمکی نہیں ہے،اگر تم نے اس کمرے سے باہر قدم رکھا تو مجھے اپنے ساتھ پاٶ گی۔“
اور وہ پاٶں پٹختی واپس آ کر سیٹ پر بیٹھ گٸی۔
”پوچھٸے!کیا پوچھنا چاہتے ہیں آپ؟“
اس رات جب میں نے تمہیں کہاتھا کہ میرے آنےتک اس کمرے سے کہیں نہیں جانا۔پھر تم کیوں بھاگ گٸی ؟
آپ نےکہا تھا آپ آ کر میرے بارے میں فیصلہ کریں گے۔آپ نے یہ نہیں کہا تھاکہ،میرا انتظار کرنا ۔میں نے آپ کو روکا بھی تھا۔اپنی انا کو روندھ کر آپ کی طرف پیش قدمی کی تھی۔لیکن آپ ایک بھی لفظ کہے بغیر چلے گٸے۔
پھر میں نے سوچا کہ اس سے پہلے آپ میرے نام کے ساتھ سے اپنا نام ہٹا دیں ۔میں آپ کی پہنچ سے دو ر چلی جاٶں۔تاکہ کم سے کم آپ کا نام میرے نام سے تو جڑا رہے گا۔ آخر میں اس کی آواز میں آنسو کی نمی سی گھل گٸی۔
نام تو تم اب بھی اپنا زینب سلطان ہی کہلواتی ہو پھر بس نکاح نامے پر زینب زرغام علی خان لکھا ہونے سے کیا ہوتا ہے۔
وہ طنزیہ مسکراٸی ! کچھ اور پوچھنا ہے سر۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
اور زینب سر جھکاۓ بیٹھے زرغام علی خان پر ایک نظر ڈال کر باہر نکل گٸی۔
جبکہ زرغام علی خان نے آفس کی ایمپلاٸز کے کواٸف والی ویب کھولی اور زینب سلطان کے نام پر کلک کیا۔
نام ۔زینب سلطان
والد یا شوہر کا نام ۔۔۔زرغام علی خان
سٹیٹس۔۔۔۔شادی شدہ
زرغام علی خان کے چہرے پر ایک الوہی چمک ابھری۔۔۔
اور اس نے مسکراتے ہوۓ زینیہ ک نمبر ڈاٸل کیا۔
زینیہ آپی۔۔۔مبارک ہو آپ کی بھابھی مل گٸی ہے۔
”شہزادے سچ کہہ رہے ہو؟“ اس کی خوشی سے چور آواز اس کی سماعتوں سے ٹکراٸی۔
”بالکل سچ۔“ اس کی آواز میں ایک کھنک تھی۔
کب لا رہے ہو اسے گھر؟
بس پہلے اسے منا لوں پھر لے کر آتاہوں۔
اوکے! بیسٹ آف لک۔
تھنکس۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کام میں مگن تھی
وہ پوری دلجمعی سے اپنا کام کر رہی تھی۔وہ زرغام علی خان کو مزید باتیں سنانےکا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔
تبھی وہ اسے اپنی طرف آتا دکھاٸی دیا۔اس کے ہر ہر انداز میں عجلت تھی۔ وہ اسے دیکھاکر اسے نظرانداز کرتی ہوٸی مزید تن دہی سے کام کرنے لگی۔
وہ اسے مخاطب کرنے کی جگہ اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر عجلت میں بولا،زینب جلدی چلو میرے ساتھ کچھ کام ہےتم سے۔
اسکی اس حرکت پر سب لوگ ان دونوں کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔سب کی نظر زرغام علی خان کے ہاتھ میں موجود زینب کے ہاتھ پر تھی۔
علینہ نے حیران ہو کر دونوں کو دیکھا۔
زینب نے سب کی طرف دیکھتے ہوۓ درشتی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا۔
سر ابھی آفس آورز ہیں بعد میں آپ سے بات کرتی ہوں۔
زرغام علی خان غضب ناک ہوا ۔
زینب زرغام علی خان !۔۔۔میں کیا کہہ رہا ہوں تمہیں سمجھ آ رہی ہے یا نہیں۔اب کی بار اس نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا گیا۔
تبھی زینب نے بھی خود کو اس سے چھڑانے کی جدوجہد کی اور تبھی پاس پڑا ایک فریم نیچے گر کر چکنا چور ہو گیا۔
آفس میں سب لوگوں کو سانپ سونگھ گیا۔ اتنے دنوں میں وہ زرغام کو اتنا تو جان ہی گٸے تھے کہ وہ غصے کا بہت تیز ہے۔
زرغام علی خان نے مٹھیاں بھینچ کر زینب پر ایک نظر ڈالی جس کی آنکھ میں آنسو سے اس کے چہرے سے ہوتے ہوۓ اس کی نظر اس کےپاٶں پر گٸی جہاں شیشے کا ایک ٹکڑا لگنے سے اس کا پاٶں خون سے رنگین ہو گیاتھا۔
وہ جھک کر اس کے پاٶں کے قریب بیٹھ گیا۔اور اس کا پاٶں اٹھا کر اپنے گھٹنے پر رکھتے ہوۓ علینہ کو فرسٹ ایڈ باکس لانے کے لٸے بولا۔
سب لوگوں کے لٸے یہ سین اب بہت دل چسپی لٸے ہوأ تھا۔ان کا نیا نیا باس آفس کی ایک ایمپلاۓ سےآخر چاہتا کیا ہے۔
زینب کی ڈریسنگ کر کے وہ اٹھا اور اسے اٹھانےکے لٸے ہاتھ بڑھایا۔
زینب امو جان ہاسپٹل میں ہیں ۔وہ تم سے ملنا چاہتی ہیں۔
کیا۔۔۔؟۔اس کی بات وہ جلدی سے اٹھی لیکن اتنی ہی تیزی سے واپس بیٹھ گٸی۔
زرغام علی خان نے اپنے آس پاس سب کی چہ میگوٸیاں سنی جس میں دبی دبی سی ہنسی بھی شامل تھی ۔اس نے جہاں تک نظر پہنچتی تھی۔وہاں تک ایک کڑی نظر ڈالی۔
سب نظریں چرا کر اپنے کام کی طرف متوجہ ہونے لگے۔جب اس نے ہاتھ اٹھا کر سب کو متوجہ کیا۔
جی تو آج آپ سب لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ یہ جو ہیں زینب سلطان یہ میری آفیشلی واٸف ہیں۔
ہماری شادی کو سات سال ہو چکے ہیں۔اس لٸے آپ سب کو اتنا حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اور اب سب حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
جبکہ زرغام علی خان نے جھک کر اسے بانہوں میں اٹھا لیا تھا۔
اس کے اٹھانےپر زینب نے احتجاج کیا لیکن اس نے کہاں کسی کی سننی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسپٹل میں صفوان اور زینیہ دونوں موجود تھے۔
زرغام اسے اٹھاۓ جب ہاسپٹل میں پہنچا تو زینیہ نے اپنی ہنسی روکنے کے لٸے منہ دوسری طرف کر لیا۔
اسے بینچ پر بیٹھا کر وہ زینیہ کی طر ف مڑا ۔
اپیا ۔۔۔کہاں ہیں امو جان؟
آپ نے کہا تھا کہ وہ کہہ رہی ہیں میں زینب کو لٸے بغیر نہ آٶں۔دیکھیں میں اسے لے آیا ہوں۔
بتاٸیں نے کہاں ہیں امو جان۔۔۔۔
اس کی خاموشی پر وہ اور پریشان ہو گیا۔
جبکہ زینیہ سے اب اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گٸی۔
زینب اور صفوان نےزرغام کی حالت دیکھ کر قہقہ لگایا۔جبکہ زینیہ نے آگے بڑھ کر زینب کو گلے لگا لیا۔
ڈٸیر بھابھی ۔۔۔کہاں غاٸب ہو گٸی تھی۔ویسے بتاٶں ۔
اموجان! بالکل ٹھیک ہیں۔
وہ نہ ہمنے سوچا ویسے تو کیا پتہ میرا بھیا تمہیں منانے کتنا وقت لگا دے ۔اس لٸے ہم نے اس کے ساتھ چھوٹا سا مذاق کیا ہے۔
تو پھر بھابھی جان چلیں گھر؟
زینب نے نظر اٹھا کر زرغام علی خان کو دیکھا اور اس کی جذبے لٹاتی نظروں سے گبھراکر سر جھکا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج زینب کے گھر آنے کے پورے سات دن کے بعد اس کا ولیمہ تھا۔اور ان سات دنوں میں زرغام کو زینب کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھنے دی گٸی۔
زرغام نے بلیو کلر کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس آج کی تقریب پر چھایا ہوا تھا۔
وہ بار بار اپنی کلاٸی میں بندھی گھڑی پر وقت دیکھ رہاتھا۔
اور پھر اس کا انتظار ختم ہوا ۔ بلیو کلر کے لہنگے میں جس پر گولڈن کام کیا ہوا تھا۔ مہندی سے سجےہاتھ،کلاٸیوں میں بھر بھر کر چوڑیاں ڈالی گٸیں تھی۔
نفاست سے کیا گیا میک اپ زرغام علی خان کے ہوش اڑانے کےلٸے کافی تھا۔ وہ پلکیں جھپکنا بھی بھول گیا۔
زینب کے ساتھ علینہ اور زینیہ تھی۔
اسے سٹیج پر اس کے برابر بیٹھا کر زینیہ زرغام علی خان کے پاس آٸی اور اس کی پیشانی کا بوسہ لیا۔
زینیہ کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔
صفوان یحیی اس کے برابر آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا قلب مومن بھاگ کر زرغام علی خان کی گود میں بیٹھ گیا۔
ماموں کیا یہ ہماری مامی ہیں؟ ”وہ پرشوق نظروں سے زینب کو دیکھتے ہوۓ پوچھ رہا تھا۔
”جی بیٹا! زرغام نے جھک کر اس کے گال پر کس کرتے ہوۓ جواب دیا۔“
”آچھا۔۔۔۔اس نے آچھا کو لمبا کھینچا۔“
کیوں کیا ہوا مامی آ چھی نہیں لگی؟
نہیں۔۔!پیاری ہیں بٹ آپ سے زیاد نہیں۔۔
اور اس کی بات پر سب کا جاندار قہقہ ایک ساتھ گونجا۔
بیٹا یہ تو آپ اپنے ماموں سے پوچھیں کہ انہیں مامی کتنی پیاری لگتی ہیں۔زینیہ نے شرارت سے قلب مومنکو اپنی گود میں بٹھاتے ہوۓ کہا۔
اس کی بات پر زینب کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ ٹھہری۔
وہ تو قلب مومن سے سو فیصد متفق تھی۔وہ جانتی تھی وہ شہزادوں کی آن بان والا شخص ہے۔اسے تو کوٸی بھی مل سکتی تھی۔لیکن اس کے رب نے اسے زینب سلطان کی قسمت میں لکھا تھا۔
وہ اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرتی کم تھا۔جس نے اس کے دل میں اس کے لٸے محبت پیدا کی۔
ولیمے کی تقریب سے وہ اسے لے کر سیدھا اپنے فارم ہاٶس کے لٸے نکلا تھا۔
زینب سلطان سرشار سی اس کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔
اور وہ۔۔۔وہ تو ہواٶں میں اڑ رہا تھا۔آج وہ ہر فکر ہر پریشانی سے آزاد ہو گیا تھا۔ وہ گزرے ہر پل کا ازالہ کرنا چاہتا تھا۔
اس نے بیچ روڈ میں گاڑی روک دی اور مڑ کر پرشوق نظروں سے زینب سلطان کے اس سجےسنورے روپ کو اپنے اندر اتارنےلگا۔
آج ایک راز کی بات بتاٶں ؟
اسکی بات پر اس نے اپنی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا اور اگلے پل پلکوں کی جھالر پھر سے گرا دی۔وہ اس کی لو دیتی آنکھوں میں دیکھنےکی سکت نہیں تھی۔
میں تمہیں بہت پہلے سے جانتا ہوں۔ تقریبا“ بارہ سال پہلے سے جب تم شاید نٸی نٸی کالج گٸی تھی۔
میں نے ایک بار شہر سے گاٶں آتے ہوۓ تمہیں راستے میں دیکھا تھا۔
تمہاری گاڑی خراب ہو گٸی تھی ۔ اور تب میں نے تمہاری گاڑی ٹھیک کی تھی۔لیکن تم ہوش میں ہوتی تو مجھے بھی دیکھتی۔لیکن تمہارا شاید پیپر تھا اور تم اپنی کتاب پر جھکی تھی۔تم نےتو تبھی میرا دل چرا لیا تھا۔
جب جرگے میں ،میں نے تمہارا نام لیاتو تم نے یہ نہیں سوچا کہ میں تمہارا نام کیسے جانتا ہوں۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
میں جانتا تھا،وہ مسکرایا تو اس کےگالوں کے ڈمپل گہرے ہوۓ۔
”اور زینب سلطان سوچنے لگی ،کیا کوٸی مرد بھی اتنا خوبصورت لگ سکتا ہے۔ “
اور اس کے دل نے گواہی دی کہ وہ اس خوبصورتی میں ایک سحر ہے جس سےوہ کبھی بھی نہیں نکل سکتی۔
میں تمہیں دیکھنے کے لٸے تمہارے کالج کے باہر کھڑا رہتا تھا۔اور تمہاری وجہ سے میں نے اپنی کتنی ایک کلاسز بنک بھی کی تھی۔
جانتی ہومیں زینیہ آپی کو بھی ساتھ لے کر آیا تھا۔ وہ تمہیں دیکھنے آٸی تھی کہ وہ کون ہے جس کے لٸے ان کا بھاٸی دیوانہ ہو گیا ہے۔
اور وہ اسکی باتیں سن کر حیران ہو رہی تھی۔
زرغام علی خان نے اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو اپنی نرم گرم گرفت میں لیا۔
اور اسے اپنی بانہوں کی گرفت میں لے کر اپنےقریب کیا ۔اور اپنے لب اس کے سر پر رکھ دٸے۔
جبکہ زینب سلطان نے سکون سے اس کے سینےپر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔
بادلوں کی اوٹ میں چھپا چاند بھی ان کے ملن پر مسکرا دیا۔
زندگی دکھ اور سکھ کا نام ہے۔خوشیاں او غم تو زندگی کے ساتھ ہیں ۔اور بہادری سے ان کا مقابلہ کرنے والا ہی زندگی کےمیدان میں کامیاب ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
