Khoon Bahaa By Zarish Noor Readelle50108 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
ناول ””خون بہا ““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ٩
رات کی سیاہی اپنے پر پھیلا رہی تھی۔ حویلی کی اونچی دیواروں کے پار اس وقت سلطان خان غضب ناک ہو رہا تھا۔اور اسکے عتاب کا نشان اسکے ادنٰی ملا زم بن رہے تھے۔
اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ زرغام علی خان کے ساتھ کیسے نبٹے۔اس کی ہر چال الٹی پڑ رہی تھی۔
وہ غصے سے بپھرا ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک ہوڈی سے منہ چھپاۓ وہ اپنے فلیٹ سے نکلا اور لفٹ سے نکل کر سر جھکا کر وہ اس بلڈنگ کی حدود سے باہر نکل آیا۔
مین روڈ پر آ کر اس نے ایک ٹیکسی لی اور اسے مطلوبہ جگہ کا نا م بتا کر چوکنا ہو کر بیٹھ گیا۔
ہاسپٹل سے تھوڑا پہلے وہ ٹیکسی سے اتر آیا اور اب اس کارخ ہاسپٹل کی جانب تھا۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو کمرا خالی تھا۔
وہ چلتا ہوا بیڈ کےقریب آیا اور جھک کر زینیہ کی پیشانی پر بوسہ دینا چاہا۔لیکن اس سے پہلے ہی کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا وہ اس افتادہ کے لٸے تیار نہیں تھا۔اس لٸے اسکے ساتھ ہی کھینچتا چلا گیا،لیکن جلدہی اس نے خود کو سنبھال لیا اور پیچھے موجود شخصیت کے ہاتھ کو پکڑ کر ایک جھٹکا دے کر سامنے کیا تو زینب کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔
دوسری طرف وہ بھی اسے دیکھ کر پریشان ہو گٸی۔
سوری ! میں نےسوچا نہ جانے کون ہے اور شاید انہیں کوٸی نقصان پہنچانے والاہے۔
اسکی بات پر زرغام نے اثبات میں سر ہلایا اور نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
وہ وضو کر کے وا ش روم سے نکلی تھی۔اس کے چہرے پر پانی کے قطرے موتیوں کی طرح اس کے چہرے سے پھسل پھسل کر نیچے گر رہے تھے۔اور اس نے ہمیشہ کی طرح بلیک چادر لپیٹ رکھی تھی
۔
اس کی نظریں اپنے چہرے پر جمے دیکھ کر وہ کنفیوژ سی ہو گٸی اور اس کی ساٸیڈ سے نکل کر ایک ساٸیڈ پہ رکھے بینچ پر جا کر بیٹھ گٸی۔
جبکہ زرغم سر جھٹک کر بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔
وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس لوٹا تو اس کے ساتھ دو ڈاکٹرز بھی تھے۔
ڈاکٹرز زینیہ کا معاٸنہ کرنے لگے جبکہ وہ زینب کے برابر آ کر بینچ پر بیٹھ گیا۔ اس کا کندھا زینب کے کندھے کے ساتھ مس ہوا تو خود میں سمٹ گٸی اور غیر ارادی طور پر اس کے اپنے درمیان تھوڑا سا فاصلہ قاٸم کر گٸی۔
زرغام علی خان کی نظریں سامنے تھی ۔لیکن پھر بھی اس نے اس کا چونکنا اور پھر فاصلہ قاٸم کر نا اس کی آنکھوں سے چھپا نہیں رہ سکا تھا۔اس کے چہرے پر ناگوار سے تاثرات پھیل گٸے اور وہ بینچ سے اٹھ کر سامنے موجود ونڈو میں کھڑے ہو کر باہر دیکھنےلگا۔
زینب نےاس کی طرف نظر اٹھاکر دیکھا جو ایک ہاتھ ونڈو پر رکھے جب دوسرا ہاتھ پاکٹ میں رکھے پوری دل جمعی سے باہر دیکھ رہاتھا۔بلیو جینز پر بلیک ہوڈی پہنے ہلکی ہلکی داڑھی صاف رنگت پیشانی پر پھیلے بال جنہیں وہ تھوڑی دیر کے بعد ہاتھوں سےپیچھے کرتا تھا لیکن وہ پھر سے اسکی پیشانی کو چھونےکی خواہش میں واپس آگے آ جاتے ۔
زینب نے اپنےدل کی غیر ہوتی حالت پہ نظریں جھکا لیں۔لیکن دل پھر سے اسے دیکھنے کےلٸے بضد تھا۔
اب کی بار اس نے نظریں اٹھاٸی تو وہ تیز نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔وہ جی جان سے کانپ گٸی،جیسے اس کی چوری پکڑی گٸی۔
تبھی ایک ڈاکٹر اسکے پاس آیا۔
سردار صاحب مبارک ہو ،آپ کی بہن کی کنڈیشن بہت حوصلہ آفزا ہے ۔ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ہی ٹھیک ہو جاٸیں گی۔
اور ڈاکٹرز کی بات سن کر اس کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر دوڑ گٸی۔
ڈاکٹرز کےجانےکےبعد وہ زینیہ کے پاس آیا۔
اپیا آپ نے سنا ڈاکٹرز کیا کہہ رہے ہیں آپ ٹھیک ہیں ۔بس آپ جلدی سے اٹھ جاٸیں پھر میں آپ کو حویلی لے کے چلوں گا ۔ہم اپنے گھر چلیں گے امو جان کے پاس چلیں گے۔
زینیہ سب سن رہی تھی۔وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی۔صرف امو جان کے پاس کیوں؟
کیا بابا جان مجھے قصوروار سمجھتے ہیں۔
وہ کمرے مں موجود اس لڑکی کو بھی دیکھنا چاہتی تھی جس کا لمس وہ محسوس کر رہی تھی ۔ اس خاموش کمرے میں جس کی سسکیاں گونجتی تھیں۔
بے بسی سے اسکےآنسو نکل آۓ۔جنہیں ہمیشہ کی طرح زرغام علی خان نے پوروں پر چن لیا۔
وہ پھر سے جاکر ونڈو میں کھڑا ہو گیا۔
میں واپس گاٶں جا رہا ہوں ۔ایک ہفتے کے بعد واپس آٶں گا۔پھر تمہیں بھی لے جاٶں گا۔
اور وہ سر جھکاۓ بیٹھی زینب پر ایک گہری نظر ڈال کر بیرونی دروازے کی طر ف مڑ گیا۔
اور وہ خاموش نظروں سے دروازےکی طرف دیکھنے لگی جہاں سے وہ باہر گیا تھا۔
ُُحُب عربی زبان کا لفظ ہے جسکا مطلب دل کی گہرائیوں سے ہونی والی محبت ہے اور جب کوئی اپنا سیاہ سے سیاہ رُخ اس ڈر کے بغیر آپ کے سامنے کھول کر رکھ دے کہ آپ نہ تو اس کو دھتکاریں گے اور نہ طعنہ بازی کریں گے،جب کوئی بچوں کی طرح آپ کے سامنے اونچا اونچا رو لے،یا پھر پاگلوں والی کوئی بات کر کے ہنس لے،کہ آپ اسے دل سے جانتے ہیں،آپ سمجھیں کہ وہ مطمئن ہے کہ اسکی بات صرف آپ تک ہی محدود رہے گی تو اس تعلق کو حب کہتے ہیں۔
زینب کا زرغام کے ساتھ تعلق بھی بس ایسا ہی تھا۔ اسی لٸے تو جب اس کے لٸے سارے راستے بند ہو گٸے تھے۔اس نے اسے پکار لیا اور وہ بھی بغیر کوٸی سوال کیے اس تک چلا آیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتے کے بعد آج پھر سے جرگہ بلایا گیاتھا۔
جرگے میں سب لوگ موجود تھے۔
بلیک قمیض شلوارپہ سر پر واٸٹ دستار رکھے علاقے کے سارے سردار موجو د تھے۔
سلطان خان سر جھکاۓ بیٹھا تھا،کیونکہ اس ایک ہفتے میں اس نے اسلام آباد کا ایک ایک کونہ چھان مارا تھا لیکن زینب سلطان کو نہ جانے زرغام علی خان نےکس کونے میں چھپا دیا تھا۔
سلمان پاشا کی آواز سلطان خان کے کانوں میں گونجی تو وہ اپنے خیالوں کی دنیاسے باہر نکلا۔
جناب سردارِاعلیٰ میری بیٹی زینب کو یہ شخص زرغام علی خان پہلے ہی اغوا ٕ کر کے نہ جانے کہاں چھپا دیا ہے ۔
زرغام علی خان ٹانگ پہ ٹانگ رکے اطمینان سے بیٹھا رہا۔
سلمان پاشا زرغام کی طرف مڑے۔
سردار زرغام علی خان کیا سلطان خان نے آپ پر جو الزام عاٸدکیا ہے وہ درست ہے۔
زرغام علی خان نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ چٸیر سے تھوڑا آگے ہو کر بیٹھا ،جی وہ میرے پاس ہی ہے لیکن میں نے اسے اغوا ٕ نہیں کیا ہے ۔وہ اپنی مرضی سے مرے پاس آٸی ہے۔
اگر ایسا ہے تو اسے جرگے کے سامنےپیش کرو سلطان خان للکار کر بولے۔
اس کے لٸے اسے یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ ہے اس کا وڈیو پیغام۔اس نے موباٸل سرداراعلیٰ کے آگے کرتے ہوۓکہا ۔
وہ بھی جرگے میں پیش ہو جاۓ گی،لیکن اس سے پہلے اس کی جان کی امان چاٸیے ہے۔مجھے ڈر ہے کہ سلطان خان اس کی جان لینے کے درپہ ہیں ۔اور ہاں انہوں نے اس کا زبردستی نکاح پہ نکاح کروانے کی کوشش بھی کی ہے۔
سلطان خان تم اتنے گر گٸے ہو۔
جی نہیں سرداراعلیٰ یہ لڑکا مجھ پر الزام لگا رہا ہے۔
لیکن صرف یہ لڑکا نہیں کہہ رہا تمہاری بیٹی بھی یہ کہہ رہی ہے۔
سلطان خان کے کندھے ڈھلک گٸے ۔وہ کسی ہارے ہوۓجواری کی طرح اپنی جگہ پر بیٹھ گٸے۔
سلطان خان تمہیں وارننگ دی جارہی ہے۔ اگر آگے سے کچھ ایسا ہوا تو آپ کو اس کی سزا ملے گی۔
زرغام علی خان اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
اور چلتا ہوا سلطان خان کے سامنے آ کر کھڑا ہوا۔
سلطان خان مجھے تمہاری بیٹی کی جان کی امان نہیں چاٸیے تھی۔
وہ تو تمہارا خون ہے اگر مرتی ہے تو مر جاۓ۔میں تو تمہیں یہاں تک اس لٸے لایا ہوں کہ اب جرگےمیں وہ شامل ہو گی تو میری بیوی کی حیثیت سے اور جب تم میری بیوی کا خون کرو گے تو پھر خون بہا میں کیا اپنی جان دو گے یا پھر اپنی دوسری شادی شدہ بیٹی فاٸقہ سلطان ۔
اور اس کی باتیں سن کر سلطا ن خان کے ماتھےپر پسینے کے ننھےقطرےنمودار ہوۓ تھے۔
زرغام نے ٹشو اس کی طرف بڑھایا تھااور بڑی شان سے اپنی گاڑی میں جا بیٹھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
