Khoon Bahaa By Zarish Noor Readelle50108 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ناول ”خون بہا “
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١٤
وہ صوفے پر بیٹھی گہری سوچ میں گم تھی۔ اسے ماں کی یاد آ رہی تھی ۔نہ جانے ان کے ساتھ کیا ہو ا ہو گا۔اگر بابا کو پتہ چل گیا کہ مجھے موباٸل ماں نے دیا تھا تو۔۔۔۔۔۔۔۔اس سے آگے وہ سوچ ہی نہ سکی۔
”یوں سٹیچو بن کر رات نہیں گزرے گی۔چینج کرو اور آرام سے سو جاٶ۔“
گیلے بالوں میں برش چلاتا وہ بے تاثر لہجے میں کہہ رہا تھا۔اور بنا اس کی طرف دیکھے ساٸیڈ ٹیبل سے سیگریٹ کا پیکٹ اور لاٸٹر اٹھا کر باہر نکل گیا۔زینب جہاں کی تہاں بیٹھی رہ گٸی۔اس کی کلون کی خوشبو چاروں اور پھیل گٸی تھی۔
رات کا نجانے کون سا پہر تھا۔اس کی آ نکھ کھلی۔بیڈ کے دوسرے کنارے پر لیٹے زرغام کو دیکھ کر وہ لمحے بھر کو ٹھٹکی ۔اس نے اپنی سا ری زندگی میں اتنا وجہیہ مرد نہیں دیکھا تھا۔کھڑے کھڑے مغرور نقوش سے جھلکتی بے نیازی!وہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی کہ زرغام نے ایک دم سے اس کی طرف کروٹ لے لی۔زینب نے سٹپٹا کر اپنی نظروں کا زاویہ بدلہ جیسے اس کی چوری پکڑی گٸی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ٹوٹ کر بارش برسی تھی۔اسے بارش سے عشق تھا۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکےاس کے نم بالوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے گزر جاتے، اس نے شرارت سے منڈیر پر بیٹھے سارے کبوتر اڑا دٸے۔
تبھی وہ اس کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔
مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔ زینیہ ابھی بابا کے بارے میں نہیں جانتی اور نہ ہی وہ تمہارے بارے میں جانتی ہے کہ تم کون ہو۔مجھے اپنی بہن سے بہت محبت ہے ۔میں نہیں جانتا سب کچھ جاننے کے بعد اس ک تمہارے ساتھ رویہ کیسا ہوگا۔اس لٸے سو چ لو کہ تمہیں یہاں اس گھر میں رہنا ہے یا نہیں۔
اور آپ ؟آپ اس سب میں کہاں کھڑے ہوں گے؟؟ الفاظ اس کے منہ سے رک رک کر نکلے۔
میں تمہیں کسی غلط فہمی میں نہیں رکھنا چاہتا۔ابھی وقت تمہاری مٹھی میں ہے۔واپسی کے دروازے کھلے ہیں۔جو چاہے فیصلہ کرو میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔”کیونکہ مجھے زبردستی اور بے ایمانی سے نفرت ہے۔“
ایک نظر اس کے پتھراۓ ہوۓ چہرے پر ڈالتا ہواوہ باہر نکل گیا۔
تو زینب سلطان !تمہارے لٸے زندگی نے یہ راستہ منتخب کیا ہے۔اس نے اپنی زندگی کے سودوزیاں کا حساب لگانا چاہا ۔
”اگر زندگی سے اس شخص کو نکال دوں تو مجھے صر ف خسارہ ہی خسارہ نظر آتا ہے“
فیصلہ تو ہو چکا تھا۔اس یونانی دیوتاٶں جیسی آن بان رکھنے والے شوہر سے اسے پہلی نظر کی محبت ہو گٸی تھی وہ اس محبت کی خاطر سب کچھ ہارنے کے لٸے تیار تھی۔
”مجھے اب کہیں نہیں جانا۔“
اس نے زرغام کو پکارا ۔جو جاتے جاتے اپنی جگہ پر بغیر مڑے اس کی سننے کے لٸے رک گیا۔
”مجھے آپ سے بس اتنی فیور چاہیے ہے کہ آپ کا نام میرے نام سے جڑا رہے۔“
وہ بے خود سا اس کے چہرے پر پھسلتی بوندوں کو دیکھتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزرے چھے ماہ میں زینیہ بہت بہتر ہو گٸی تھی اور زرغام نے وعدے کے مطا بق صفوان کو اپنے ماں باپ کو حویلی لانے کا عندیہ دے دیا تھا۔۔۔
اور وہ سن کر پہلی فرصت میں ماں اور باپ کو لے کر حویلی پہنچ آیا۔
حویلی میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
اور پھر زینیہ کی رضامندی سے منگنی بہت دھوم دھام سے ہو رہی تھی۔
زرغام نے زینیہ کو بتا دیا تھا اس کے ہاتھ میں جو ہیرے کی انگوٹھی ہے وہ ہاسپٹل میں اسے صفوان نے پہناٸی تھی۔اور وہ حیرت سے منہ کھولے صفوان کو دیکھنے لگی۔
جو آنکھوں میں خوشیوں کا ایک جہان لٸے اسے دیکھ رہا تھا۔
اور اس کی نظروں سے گبھرا کر زینیہ نے نظریں جھکا لیں۔
تقریب خاصی وسیع پیمانے پر کی گٸی تھی۔زاٸرہ خاتون نے اپنے سب جاننے والوں کو مدعو کیا تھا۔زینیہ شہرسے آٸی پارلر والی سے تیار ہو کر بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔اس کےلٸے صفوان نے اپنی پسند سے بھاری کام ولا پنک کلر کا جوڑا لایا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ اس نے زینیہ کو ہمیشہ بلیک عبایا میں ہی دیکھا ہے ۔اس لٸے وہ چاہتا ہے وہ ایسا کھلتا ہوا کلر پہنے اور وہ دیکھ سکے وہ کلر فل ڈریس میں بھی اتنی ہی خوبصورت لگتی ہے جتنی عبایا میں لگتی تھی۔
زینب نے سیاہ کلر کی میکسی زیب تن کی تھی۔وہ پہن تو گرین کلر رہی تھی ۔لیکن جب زرغام بلیک قمیض شلوار پہن کر نیچے آیا تو اس نے بھی سوچ لیا کہ وہ اس کے ہم رنگ ڈریس ہی پہنے گی۔اور جب وہ تیار ہو کر نیچے آٸی تو زرغام نے جان بوجھ کر نظریں چرا لیں۔وہ جانتا تھا کہ یہ ڈریس اس کی وجہ سے پہنا گیا ہے۔
کیونکہ وہ پہلے ہی کمرے میں اس کا نکالا گیا گرین ڈریس دیکھ آیا تھا۔
زرغام کو اس کا یہ انداز بہت بھایا تھا۔اور اس کی گھنی مونچھوں تلے لب اپنے آپ مسکراہٹ میں ڈھل گٸے
۔سکھ چین کی گھنی شاخوں میں برسوں سے پناہ لیتی چڑیاں اچانک ایک ساتھ شور مچانے لگی۔زینب نے سر اٹھا کر دیکھاتو ایک بلی ان کی تاک میں بیٹھی تھی۔زینب تیزی سے اٹھ کر اس طرف بھاگی لیکن اسے دیکھتے ہی بلی ایک چست میں وہاں سے بھاگ گٸی۔یک زبان چہچاتی چڑیاں ایک دم سے پرسکون ہو گٸیں۔
رات کے فنکشن کے اثرات ابھی بھی یہاں وہاں بکھرے پڑے تھے۔خشک پھولوں کی پتیاں،مٹھاٸی کے خالی ڈبے، کسی ٹوٹی چوڑیوں کہ کانچ زینب کو ایک دم سے فضا حبس آلود لگی ۔اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو آسمان میں اس کے سر پر تیرتی چار پانچ چیلیں!اس کا دل إیک دم سے گبھرا گیا۔جٕیسے کچھ برا ہونےوالا ہے۔
وہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھتی نیچے کی طرف بھاگی،زرغام ،اور زاٸرہ خاتون نےایک ساتھ نظر اٹھا کر اسی کی طرف دیکھا تھا۔اسے ان کی نظروں سے کچھ عجیب سا احساس ہوا تھا۔اس نےالٹے قدموں باہر نکلنا چاہا،لیکن اس سے پہلے ہی زینیہ کی آواز نے اس کے پاٶں جھکڑ لیۓ۔
زرغام علی خان !
اس کی آواز میں کچھ تو تھا جو زینب سلطان نے مڑکر اس کی طرفدیکھا۔
زرغام علی خان ! اس کی آواز ایک بار پھر گونجی ۔۔زینب کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
”اگر تم میرے بھاٸی ہو ،تو اس لڑکی کو ابھی اور اسی وقت طلاق دے دو ۔“
اور زینیہ کے الفاظ زینب کے سر پر کسی بم کی طرح لگے تھے۔
اس نے زرغام علی خان کی طرف دیکھنا چاہا لیکن آنکھوں جمع ہو رہےپانی نے ا س کا چہرہ دھندلا دیا۔
زرغام علی خان!نے کچھ کہنے کے لٸے منہ کھولا ۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ہی زینب نے ایک امید بھری نظر زینیہ پر ڈالی ۔لیکن وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔
وہ اس کی منت سماجت کرنے کے لٸے آگے بڑھی لیکن وہ اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر پہلے ہی بول اٹھی۔
میرے قریب مت آنا زینب سلطان۔میں اپنے پاس تمہاری پرچھاٸی بھی برداشت نہیں کروں گی۔اس کی آواز میں ایک غراہٹ تھی۔جیسا کسی زخمی شیرنی کےزخم ادھیڑے گٸے ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
