Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ناول ”” خون بہا ““

از قلم زرش نور

قسط نمبر ١٣

وہ اسے بانہوں میں لٸے ہونٹ بھینچے کھڑا تھا۔
عجیب لڑکی ہے،کیا میں اتنا ڈراٶنا ہوں جو یہ مجھے دیکھتے ہی ہوش وخرد سے بیگانہ ہو گٸی۔

اس کے وجود کوبازٶں میں بھرکر اس نے بیڈپر ڈالا،اور اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر اسے ہوش میں آتے دیکھ کر خود جا کر صوفےپر بیٹھ گیا۔

اسے ڈیم کے لٸے پیپرورک کرنا تھا۔دودن کے اندر اسے تمام کاغذی کارواٸی مکمل کرنی تھی۔تاکہ جلد سے جلد ڈیم کی تعمیر شروع کی جا سکے۔

ہوش میں آتی زینب نٕے گردن موڑ کر ایک ساٸیڈ پہ بیٹھے زرغام علی خان کو دیکھا۔جو لبوں میں سیگریٹ دباۓ کسی فاٸل میں سر دٸیے بیٹھا تھا۔

زینب کے دیکھنے پر اس نے ایک اچٹتی نظر اس پر ڈالی اور اٹھ کر لاٸٹ آف کر کے روم سے باہر نکل گیا۔

زینب کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونےلگے،وہ خود ترسی کا شکار ہو رہی تھی۔اس کا خیال تھاکہ زرغام علی خان نے صرف بہن کی محبت میں اسے اس کمر ے میں جگہ دی ہے۔ ۔اپنی سوچوں سے الجھتی رات کے نہ جانے کس پہر نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوٸی تھی۔

زینب کی نیند کی پروا کرتے ہوۓوہ دوسرے کمر ے میں تو آ گیا ۔لیکن وہ کوٸی کام ڈھنگ سے نہ کر سکا ۔اسے بار بار اسی کا خیال رہا تھا ، کہ وہ آج اس کےروم میں موجود ہے۔جسے وہ خیالوں میں کہیں بار اپنے روم میں دیکھ چکا تھا۔
اپنی سوچوں سے لڑتے لڑتے اس نےفاٸل بند کر دی اور باقی کام کل پر اٹھا کر وہ روم میں آگیا۔

بغیر کوٸی آواز کیے وہ روم میں داخل ہوا اور اسکی مخالف سمت سے آ کر اس کے برار لیٹ گیا۔

اس کی طرف کروٹ لے کر ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھتےہوۓ ،وہ اسے دیکھنےلگا۔
بلیک کپڑوں میں دوپٹے سے بے نیاز آنکھوں میں کاجل کی ہلکی سی لکیر جو کناروں سے باہر نکلی ہوٸی تھی۔ گلابی پنکھڑیوں سےہونٹ اسے دیکھتے زرغام علی خان اس کی طر ف جھکتا چلا گیا۔

اس کے لمس پر وہ تھوڑا سا کسمساٸی اور اپنا بازٶں اس کے گلے میں ڈالتی پھر سے سو گٸی۔

زرغام علی خان نے اس کے بازٶں پر اپنا لمس چھوڑا اور آنکھیں موند لیں۔

فجر کے وقت زینب کی آنکھ کھل تو خود کو زرغام کے حصار میں دیکھ کر وہ تیزی سےپیچھے ہوٸی،لیکن اس کی گرفت مضبوط تھی۔

وہ اس کی نیند کی پروا کرتے ہوۓ نرمی سے اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔وہ نماز کے لٸے لیٹ ہو رہی تھی۔

اس کی اس تگ ودو میں ZAK پہلےہی جاگ چکا تھا۔لیکن اسے تنگ کرنے کے لٸے ،اس نے اپنا حصار اور تنگ کیا۔زینب کی حالت رونے والی ہو گٸ تھی۔

زرغام علی خان نے اسے مزأحمت ترک کرتے دیکھ کر اپنی گرفت ڈھیلی کی اور رخ موڑ کر لیٹ گیا۔

وہ تیزی سے اس سے پیچھے ہوٸی اور اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو سنبھالتی اٹھ کر روم سے باہر نکل گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ زینیہ اور ز أٸرہ خاتون ناشتہ کر رہی تھیں۔جب وہ تیزی سےسیڑیاں اترتا نیچےآیا ۔اور سب کو سلام کرتا ہوا زینب کے جھکے سر پر ایک نظر ڈال کر اس کے عین سامنے والی چٸیر سنبھال لی۔

زینب کے لٸے نوالہ حلق سے اترانا مشکل ہو گیا۔ صبح والا واقعہ یاد کر کے اس کی ہتھلیاں بھیگنے لگی۔ اس نے ایک چور نظرزرغام علی خان پر ڈالی وہ خشمگیں نظروں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔

وہ اس کی نظروں سے خاٸف ہوتی ہوٸی زاٸرہ خاتون کی طرف دیکھنےلگی۔
زرغام علی خان کو زینب پر غصہ آ رہا تھا۔وہ صبح نماز کے بعد اس کا انتظار کرتا رہا لیکن وہ واپس روم میں آ ٸی ہی نہیں۔
مما میں چلتا ہوں؟ بیٹھک میں کچھ لوگ میرا انتظار کر رہےہیں۔
بیٹا ناشتہ تو کر لو۔

نہیں بھوک نہیں ہے،وہ زینب کو ایک نظر دیکھتا بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زرغا م اس وقت بالکل خاموش بیٹھا تھا۔کیونکہ لوگوں نے اسے بتایا تھا کہ جس جگہ پر ڈیم بننا ہے وہاں کی کچھ زمین سفیر خان کی ہے جو کے سلطان خان کا بھانجا ہے۔

”سردارزرغام اگر اس نے زمین دینے سے انکارکردیا تو؟“

آپ لوگ پریشان نہ ہوں ، میں کرتا ہوں کچھ ۔

اور سب ایک امیدسےاسے دیکھتے وہاں سے جانے لگے۔

اس نےوہیں بیٹھے بیٹھے اسلام آباد میں موجود اپنے دوست سے رابطہ کیا۔اور اسے سفیر خان سے سہراب ڈیم میں اس کی آ رہی زمین کا سودا کرنے کے لٸے کہا۔

زرغام میں کوشش کرتا ہوں لیکن مجھے یہ ممکن نہیں لگ رہا وہ بہت بگڑا ہوا نواب زادہ ہے۔

تم اس سے بات تو کرو ،اگر نہ مانا تو پھر دیکھتے ہیں۔

ٹھیک دو گھنٹے کے بعد زرغام کے موباٸل پر رنگ ہوٸی تھی۔

زرغام وہ ما ن گیا ہے لیکن اس کی ایک شرط ہے کہ وہ اس زمین کی رقم بھی لے گا ۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔

اور کیا بولو یار۔۔۔۔

اور یہ کہ تم اس کےساتھ ایک پریس کانفرنس کر کے کہو کہ سفیر نے تمہیں وہ زمیں ڈیم کے لٸے عطیہ کی ہے۔
کتنی رقم ما نگی ہے اس نے؟

دس کروڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرغام علی خان نے ہونٹ بھینچ لٸے ۔
میں تمہیں پہلے ہہ کہہ رہا تھا زرغام وہ ایک نمبر کا کمینہ ہے۔دوکروڑ کی زمیں کا وہ دس کروڑ ما نگ رہا ہے۔

ڈن کر دو ۔۔۔

لیکن زرغام یہ گھاٹے کا سودا ہے۔
اس کا آجر اللہ کے ہاں بہت زیادہ ہے ہے۔

تم نہیں جانتے رومہ کے کنویں کی کہانی
“بئرِ رومہ” ایک صحابی کی ملکیت میں تھا جن کا نام “رومہ الغفاری” (رضی اللہ عنہ) تھا۔ وہ اس کنوئیں کا پانی فروخت کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ رسول صلى الله عليه وسلم نے اُن سے فرمایا کہ ” کیا تم اس کنوئیں کو جنت کے چشمے کے بدلے فروخت کرو گے”۔ انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہ میرے پاس اس کے سوا کوئی کنواں ہے ہی نہیں لہذا میں ایسا نہیں کر سکتا۔

اس پر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے 35 ہزار درہم کے عوض اس کنوئیں کو خرید لیا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا کہ اگر میں اس کنوئیں کو خرید لوں تو کیا میرے لیے بھی جنت کے چشمے کی وہ ہی پیش کش ہو گی جو آپ نے رومہ کو فرمائی تھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا “ہاں”.. اس پر حضرت عثمان نے کہا “میں اس کو مسلمانوں کے واسطے خرید چکا ہوں”۔

اس لٸے اللہ کے لٸے سودا کرتے وقت نفع ونقصان نہیں دیکھتے،اللہ اس کا بدلہ دس گناہ بڑ ھا کر دیتا ہے۔
اسے رقم ادا کر دو اور میری طرف سےصفوان کو کہو اس کے ساتھ پریس کانفرنس رکھ لے۔

اوکے سردار صاحب جیسا آپ کا حکم وہ شرارتاً بولا، اس کی بات پر زرغام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصروفیت ہونے کی وجہ سے میں کل ایپیسوڈ نہیں لکھ سکی۔
آج بھی بہت مشکل سے آپ لوگوں کی محبت میں اپنی نیند کی قربانی دے کر یہ ایپیسوڈ لکھی ہے۔
اگر آچھی لگے تو لاٸک کریں اور ہاں کمینٹ کرنا نہ بھولیں۔