No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
“ڈاکٹر میری بیوی اب ٹھیک ہے۔۔۔؟ کیا ہوا ہے۔۔پلیز آپ۔۔۔”
شئیز پریگننٹ مسٹر شاہ۔۔۔”
“ڈاکٹر وہ تو ٹھیک ہے پر بےہوش ہونے کی وجہ آپ ایسے ہنس کیوں رہی ہیں۔۔۔؟؟”
اور وہ چپ ہوگیا تھا جب ڈاکٹر کی بات اسے سمجھ آئی تھی۔۔۔۔
“ڈاکٹر۔۔۔سچ میں۔۔۔؟؟؟”
“شئیز پریگننٹ مبارک ہو۔۔۔۔۔”
ولید کا چہرہ اسکے آنسوؤں سے بھر گیا تھا۔۔۔۔
“حدید۔۔۔۔۔”
ولید نے جھک کر حورعین کے پیٹ پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔
یا اللہ میں میں کیسے تیرا شکریہ ادا کروں میرے مالک۔۔۔۔ مجھے اتنا نواز دیا میرے مولا۔۔۔”
ولید نے سر جھکا کر حورعین کے کندھے پر رکھ دیا تھا جو ابھی بھی جاگی نہیں تھی اپنی بےہوشی سے
ولید حورعین کے چہرے پر اسکے ماتھے پر بار بار بوسہ دیا تھا وہ خوشی سے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔۔
اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
“حدید ولید شاہ۔۔۔۔ بابا آپ کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگا کر رکھیں گے۔۔۔”
حورعین کے ماتھے پر اپنا سر رکھ لیا تھا اس نے۔۔۔۔
“بےبی ڈول مجھے اتنی بڑی خوشی دینا کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔تم نے ولید شاہ کو پوری طرح مکمل کردیا آج۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا سائیں آپ نے سنا ڈاکٹر نے کیا کہا۔۔۔۔؟؟
میرا حدید واپس آرہا ہے بابا۔۔۔۔”
ولید گلے لگ گیا تھا وجاہت کے جن کی آنکھیں بھی آبدیدہ ہوگئیں تھی۔۔۔
ولید بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔ ثمرین نے اپنے چھوٹے بھائی کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا تھا۔۔۔۔۔
“ولید اللہ نے تمہیں پھر سے موقع دیا ہے میرے بچے اس موقع کو گنوانا مت۔۔۔۔”
ولید مہرالنساء کے گلے لگ کر اشک بار ہوگیا تھا۔۔۔۔
“بابا آپ کیوں رو رہے ہیں۔۔۔؟؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔بچوں۔۔۔۔ ایک پرنس آرہا ہے ہمارے گھر۔۔۔۔”
ولید ان دونوں کے برابر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
“پر بابا یہاں کا پرنس میں ہوں۔۔۔۔”
ارش نے منہ بنا لیا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔آپ تو یہاں کے کنگ ہو میرے بچے۔۔۔۔”
ولید اپنی مسکان چھپا نہیں پا رہا تھا وہ اتنا خوش تھا۔۔۔
اسے اتنا خوش دیکھ کر باقی سب بھی بہت زیادہ خوش تھے۔۔۔۔
سب کچھ واپس آرہا تھا۔۔۔انکا سکون انکی خوشیاں۔۔۔۔۔
پر ایک طوفان تھا جو انکی زندگیاں پھر سے برباد کرنے والا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ولید۔۔۔”
ولید نے حورعین کو چپ کروا دیا تھا اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ کر۔۔۔
“شش بےبی ڈول ابھی نہیں۔۔۔ابھی یہ جوس پئیو۔۔۔”
پر حورعین نے منہ پیچھے کرلیا تھا اسی وقت۔۔۔وہ بیڈ سے اٹھنے لگی تھی کہ اسے پھر سے چکر آئے تھے۔۔۔
“دیکھا ایسے ایک دم سے اٹھو گی تو ایسے ہی ہوگا۔۔۔پلیز لیٹی رہو۔۔۔”
حورعین نے کروٹ لے لی تھی اور ولید سمجھ گیا تھا حورعین کی ناراضگی۔۔۔
“بےبی ڈول۔۔۔”
“ابھی بھی کیوں آئے ہو۔۔۔؟ جاؤ واپس اپنی بزنس ٹرپ پر۔۔۔”
“ہاہاہاہا باپ رے اتنا غصہ۔۔۔”
“ولید پلیز میرے سر میں آگے ہی درد ہورہا ہے پلیز “لیو مئ آلون۔۔۔”
“نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔کبھی نہیں میری جان۔۔۔”
ولید بھی وہیں حورعین کے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ گیا تھا۔۔۔
گہری خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔جہاں حورعین ولید کو اتنے اچھے موڈ میں دیکھ کر حیران تھی۔۔
وہیں ولید موقع ڈھونڈ رہا تھا یہ خوش خبری حور کو سنانے کے لیے۔۔۔
پر پھر اس نے ارادہ بدل دیا تھا۔۔۔
وہ آج اپنی بےبی ڈول کو باہر ڈنر پر لے کر جائے گا وہاں بتائے گا اسے۔۔۔
۔
“آج کیا بات ہے بہت خوش لگ رہے ہیں۔۔؟؟”
فائننلی حورعین سائیڈ چینج کر لی تھی ولید کا چہرہ بہت پاس تھا کہ وہ خود بھی شرما گئی تھی اس طرح کروٹ بدلنے پر۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ ابھی بھی وہیسے شرما جاتی ہو نا ۔۔ہاہاہا۔۔۔”
“پیچھے ہٹ جائیں۔۔۔”
اس نے ولید کے کندھے پر ہلکا سا ہاتھ مار کر کہا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔آئی لو یو بےبی ڈول۔۔۔۔”
ولید نے ہنستے ہوئے کہا تھا پر لہجہ بہت سنجیدہ تھا اسکا۔۔۔
۔
“ولید تم اس رات کو۔۔۔”
ولید۔۔۔۔۔
دروازے پر نوک نے حور کی بات کاٹ دی تھی۔۔۔
۔
حمزہ نے اب کے بہت جلدی سے دروازے پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔
ولید جلدی سے اٹھنے لگا تھا پر حورعین نے پھر سے اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔۔۔
“شاہ جی۔۔۔ اس بار اگر بنا بتائے کہیں بھی گئے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔”
ولید جہاں بہت شوکڈ تھا وہیں اسکی آنکھوں میں شرارت تھی جب وہ حورعین کی طرف جھکا تھا۔۔۔۔
“ایسا اب کبھی نہیں شاہ کی جان۔۔۔ اب ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔”
ولید حورعین کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
پر وہ مسکان حمزہ کا پریشان چہرہ دیکھ کر ختم ہوگئی تھی اس کمرے سے باہر آتے ہی۔۔۔
حمزہ ولید کا ہاتھ پکڑ کر اسے حویلی سے باہر لے گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“حمزہ اب بتاؤ گے کیا ہوا ہے حویلی سے یہاں تک لانے کا مقصد۔۔؟ یہ کس جگہ ہیں۔۔؟”
۔
ڈاکٹر نینا اندر ہے ولید۔۔۔ حورعین نے اسی جگہ راؤ کو رنگے ہاتھ پکڑا تھا۔۔پر نینا کو نہیں کچھ کہا اس لیے کہ اسے تم دیکھ لو گے۔۔۔
ابھی اس سے حساب برابر کر لیں۔۔۔پھر ایک اور مسئلہ سر پر ہے۔۔۔”
حمزہ نے آخر والی بات پر آواز دھیمی کر لی تھی۔۔۔
“تم اس فائل کی ٹینشن لے رہے ہو۔۔؟ حورعین وہ فائل کبھی خود نہیں پڑھے گی تو کسی اور کو دینا تو دور کی بات ہے ۔۔”
۔
ولید تو اندر چلا گیا تھا پیچھے کچھ گارڈز بھی تھے اور حمزہ وہیں کھڑا رہ گیا تھا۔۔
ابھی اسے وہ فون کال کا انتظار تھا جو اسے صبح بھی آئی تھی اس فائل کو لیکر ایک میڈیا ایجنسی سے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بہت جلدی میں ہو نینا۔۔۔؟؟”
دروازے جتنی زور سے کھولا گیا تھا نینا کے ہاتھ سے اسکے کاغذات گر گئے تھے جن میں پاسپورٹ بھی تھا اسکا۔۔۔
“و۔۔۔ولید۔۔۔۔۔”
ولید کے قدم جیسے ہی اسکے پاس آئے تھے ولید کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔
“یہ ہاتھ میں نے اس لے نہیں اٹھایا کہ تم نے مجھے دھوکہ دیا جھوٹ بولا۔۔۔
یہ ہاتھ میں نے اس لیے اٹھایا نینا کہ تم نے میری فیملی کو نقصان پہنچایا۔۔۔
میری بیوی کو میرے بچوں کو۔۔۔
حاشر کو نینا۔۔۔”
ولید نے نینا کا گلہ اپنی گرفت میں لے لیا تھا جس سے اسکا سانس بند ہو رہا تھا۔۔۔
پر ولید نے ایک جھٹکے سے اسے بیڈ پر پھینک دیا تھا۔۔۔
“نینا تمہیں موت نہیں ملے گی تا عمر کی سزا ملے گی۔۔۔ بہت شوق ہے نا تمہیں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا انہیں خراب دوائیاں دینے کا۔۔؟ اب تمہاری میڈیسن تم پر آزمائی جائے گی۔۔۔
ڈاکٹر نینا پاگل خانے میں کیسی لگے گئیں آپ۔۔۔”
۔
وہاں ایک ایمبولینس بھی آگئی تھی۔۔۔
“ولید۔۔۔تمہیں کیا لگتا ہے میں ہار مان جاؤں گی۔۔؟؟ تمہاری بیوی نے جو فائل چوری کر کے ہمیں دی تھی وہ میڈیا تک چلی گئی ہے۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ولید ہم تو بظاہر دشمن تھے۔۔۔تم نے تو گھر میں آستین کا سانپ پالا ہوا۔۔۔تم۔۔۔”
ولید نے ایک اور تھپڑ مار دیا تھا اسے۔۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے ہر بار کی طرح پھر سے یقین کرے گا ولید شاہ۔۔؟؟
اسے لیکر جائیں میں ضرور آتا رہوں گا۔۔۔دیکھنے اس کی حالت۔۔۔۔
سائیکو،،،،”
ولید پیچھے ہوگیا تھا پر اسکا غصہ ابھی تک کم نہیں ہوا تھا وہ آج قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔
وہ آج کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا ولید شاہ ایسے۔پیچھا نہیں چھوٹے گا اس سائیکو سے۔۔۔۔ولید تمہیں پانا میری ضد تھی اب میرا جنون ہے۔۔۔۔
تمہاری محبت جاگ گئی ورنہ آج میں تمہاری بیوی ہوتی۔۔۔۔”
۔
“میری محبت کبھی مری نہیں تھی نینا حورعین سے محبت میری زندگی میں سانسوں کا کام کرتی آئی ہے۔۔۔
ہاں خود غرض ہوگئی تھی محبت۔۔۔۔اور جب محبت خود غرض ہو جائے آپ کی تو بربادی اور پچھتاوا چھوڑ جاتی ہے۔۔۔
میں جیتی جاگتی مثال ہوں۔۔۔۔
میری بےوفائیاں مجھے لے ڈوبی ہیں۔۔۔ورنہ تم جیسی لڑکی میری زندگی میں کیسے اتنا وقت رہ لی۔۔۔۔؟؟؟”
اس کی نظروں کی حقارت نے نینا کو شرمندہ کر دیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ارش بھیا یہ چیٹنگ ہے۔۔۔میری باری تھی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا ماں عاشی ہر بار ہارنے پر ایسے ہی کہتی ہے۔۔۔”
“یہ سب لڑکیاں ایسے ہی کرتی ہیں۔۔۔”
وجاہت صاحب نے بہت آہستہ سے کہا تھا۔۔۔
“اچھا شاہ جی آپ تو ہر بات چیٹنگ کر کے جیتتے تھے۔۔بھول گئے۔۔۔
عاشی بیٹا یہ شاہ خاندان کے سارے مرد نا ایسے ہی ہیں چیٹنگ کرتے ہیں۔۔۔
“دادو۔۔۔۔۔”
ارش کھڑا ہوگیا تھا غصے میں۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا ماں۔۔۔۔”
حورعین صبح سے اب کچھ اینجوائےکرنے لگی تھی۔۔۔
“حورعین بیٹا جوس پی لو نا اس حالت میں۔۔۔۔”
“کس حالت میں ماں۔۔۔؟”
مہرالنسا نے وجاہت کی طرف دیکھا تھا جنہوں نے نا میں سر ہلایا تھا۔۔۔
وہ لوگ چاہتے تھے ولید خود حورعین کو یہ بتائے۔۔۔پر اب زبان سے نکل گئی تھی بات تو مہرالنسا بھی گھبرا گئی تھیں۔۔
“اس حالت میں میرا مطلب ہے بیٹا تمہارے سر میں درد تھا کمزوری ہورہی ہے۔۔۔”
۔
“تھوڑی دیر پہلے تو پیا تھا پلیز۔۔۔۔”
“ماما کوئی پلیز نہیں ابھی بپئیں۔۔۔”
“اففف اللہ سب کو کیا ہوگیا ہے کچھ زیادہ ہی فکر کر رہے میری۔۔۔”
۔
حورعین نے جوس کا گلاس پکڑ لیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ گھنٹے بعد۔۔۔۔
۔
۔
“بابا سائیں آپ نے نیوز دیکھی۔۔؟ ولید کہاں ہے پلیز اسے بلا لیجیئے۔۔۔”
۔
وجاہت شاہ نے ٹی وی پر وہی ریموٹ مار کر اسے توڑ دیا تھا۔۔۔
اور وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔۔۔
“ہمت کیسے ہوئی میرے بیٹے کو ہاتھ لگانے کی اس کے غنڈوں کی۔۔۔پتھراؤ کرنے کی۔۔۔میں ہاتھ توڑ کے رکھ دوں گا ہر ایک کے۔۔۔۔”
وجاہت شاہ کی آواز سے سب ڈر گئے تھے بچے حورعین کے پیچھے چھپ گئے تھے جو ابھی تک ولید کے سر سے خون بہتی اس ویڈیو کو اپنی آنکھوں سے ہٹا نہیں پا رہی تھی۔۔۔
۔
“وجاہت ابھی باہر نا جائیں میڈیا کے لوگ ابھی بھی باہر ہیں۔۔۔”
“ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤں۔۔؟؟”
۔
“مہرالنسا کا ہاتھ جھٹک کر وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
شاہ حویلی۔۔۔”
۔
“ماں میں ٹھیک ہوں پلیز آپ لوگ پریشان نا ہوں۔۔۔”
ولید نے اوپر بیڈروم کی جانب قدم بڑھا دئیے تھے۔۔۔
ابھی وہ بس اپنی بیوی سے ہم کلام ہونا چاہتا تھا۔۔۔ابھی کوئی بات نہیں پردے میں رہنی چاہیے تھی۔۔۔ابھی بس سب کچھ کھل کر سامنے آنا چاہیے تھا۔۔۔۔
۔
“ولید کچھ بھی کرنے سے پہلے اس آنے والے بچے کا سوچ لینا۔۔۔حورعین پر کوئی غصہ نہیں کرنا۔۔۔۔”
۔
وجاہت شاہ نے بہت ہلکی آواز سے کہا تھا۔۔۔۔
۔
“بابا سائیں میرے لیے دعا کیجیئے گا کہ زندہ لوٹ آؤں۔۔۔۔۔۔”
ولید کی بات حورعین نے سن لی تھی۔۔۔
اور وہ وہاں سے سیدھا ٹیریس پر چلی گئی تھی۔۔۔وہ ولید شاہ کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
۔
وہ شرمندہ بھی تھی اور اب غصے میں بھی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“حورعین یہاں کیا کر رہی ہو اس وقت موسم خراب ہے اندر چلو۔۔۔۔”
ولید نے ہاتھ پکڑ کر اندر لے جانے کی کوشش کی تو ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑا لیا تھا حورعین نے۔۔۔۔
“میڈیا کے سامنے سچ کیوں نہیں بتایا۔۔۔؟؟ بتا دیتے آپ کی بیوی کی وجہ سے وہ فائل باہر تک گئی۔۔۔آپ کی بیوی نے راؤ جیسے گھٹیا مرد کو اپنے پرسنل میٹرز میں اِنوولوو کرلیا تھا۔۔۔۔آپ بتا دیتے۔۔۔۔”
وہ بہت دھیرے سے بولی تھی۔۔۔۔
“کیا بتا دیتا جب وہ سب تم نے کیا ہی نہیں۔۔۔ وہ فائل اس سٹڈی سے باہر سکندر شاہنواز کے ہاتھوں گئی۔۔۔۔”
ولید نے ہاتھ پکڑنے کی دوبارہ کوشش کی پر وہ ایک قدم پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔۔
“اور راؤ اسے تو میں نے ہائیر کیا تھا نا۔۔۔۔ بتا دیتے سب کو کہہ دیتے بدلہ لینے کے لیے آپ کی بیوی۔۔۔۔”
۔
“اننف۔۔۔۔۔تم عزت ہو میری حورعین بےغیرت نہیں ہے ولید شاہ میرے صبر کی اِتنی آزمائش بھی نا لو کہ میں برداشت نا کرپاؤں اور کر گزروں وہ جس کا پچھتاوا ہم دونوں کو جینے نہیں دے گا۔۔۔”
ولید نے ایک جھٹکے سے اُسے خود سے پیچھے کر دیا تھا۔۔۔ حور کچھ پل کے لیے حیران تھی ولید کا اِس قدر غصہ دیکھ کر۔۔۔
۔
“کیا کرو گے۔۔؟؟ مار دو گے۔۔؟؟ جیسے حاشر کو مارا تھا۔۔؟؟ “
ولید کی آنکھوں میں اب کی بار غصہ نہیں تھا۔۔۔ ایک مسکان تھی اُسکی شکست کی مسکان۔۔۔
“تمہیں یقین نہیں ہے اپنے ولید پر۔۔؟؟ مجھ پر حورعین۔۔؟؟”
ولید نے بہت پیار سے حورعین کے کندھے پر ہاتھ رکھے تھے اپنے دونوں۔۔۔
“یقین ولید۔۔۔نہیں ہے یقین۔۔۔حاشر کو مار کر تم نے میرا یقین توڑ دیا تھا۔۔۔
تم نےبتا دیا تھا کہ عدیل شاہ کے بڑے بھائی ہو تم۔۔۔ تم دونوں سے حورعین کی خوشیاں کبھی نہیں دیکھی گئی نا۔۔۔؟؟”
ولید کے دونوں ہاتھ گر گئے تھے حور کے کندھوں سے۔۔۔
“ولید تم سے شادی تمہیں خوش کرنے کے لیے نہیں کی تھی۔۔۔”
“پر تمہاری خوشیوں کے لیے ولید شاہ نے خود کو برباد کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی”
“میں نے تمہاری بربادی کے لیے حاشر کی موت کا بدلہ لینے کے لیے ہاں کی تھی شادی کے لیے ولید۔۔۔آج میں اظہار کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
“تم اُن چیزوں کا اظہار کر رہی ہو۔۔جن کا مجھے پتا ہے۔۔۔ یار میں تو سوچ رہا تھا آج ولید شاہ برباد تمہارے سامنے کھڑا ہے۔۔۔آج تم اظہارِ محبت کرو گی۔۔
میری بربادیوں کا نقصان محسوس نہیں ہوگاپر تم ۔۔۔۔”
ولید نے منہ پھیر لیا تھا۔۔۔
حورعین کی آنکھوں میں جتنی نفرت ولید کو نظر آرہی تھی۔۔۔اُسکے دل میں چھپی محبت پر پردے ڈال رہی تھی وہ محبت۔۔۔
“ولید۔۔۔طلاق دینے کا فیصلہ تمہارا تھا۔۔۔”
حورعین نے بہت آہستہ سے کہا تھا۔۔۔
“تم نے بھی تو نہیں روکا تھا نا مجھےحورعین۔۔۔”
حورعین نے بھی اپنا منہ پھیر لیا تھا۔۔۔
“اگر روک لیتی تو رُک جاتے تم۔۔۔؟؟ میں تمہیں روکنا چاہتی تھی۔۔پر اُس دن تمہاری آنکھوں میں میرے لیے محبت نہیں نینا کے لیے چاہت دیکھی تھی میں نے۔۔۔
اور جب مجھے کسی سے لگاؤ ہونے لگا تم نےاُسے مار دیا۔۔حاشر کے قاتل ہو تم۔۔۔”
۔
“نہیں ہوں میں قاتل کسی کا حورعین۔۔۔۔”
ولید چِلا اٹھا تھا۔۔۔ اور اُتنے ہی غصے سے حورعین کا منہ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
“میں نے نہیں مارا اُسے۔۔۔ ارے جو تمہیں اور بچوں کی زندگی میں خوشیاں لا رہا تھا میں تو سکون میں آگیا تھا۔۔۔ تمہارے اِس خوبصورت چہرے پر خوشیاں پھر سے دیکھ کرتم نے بہت کچھ برداشت کیااِس بِیسٹ کی محبت میں۔۔۔
پر حورعین تمہارے عشق میں ولید شاہ خود برباد ہوگیا ہے۔۔۔
میں آج ہمارے بچے کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔۔۔ ہمارے حدید کی ۔۔۔ ہماری آنے والی اولاد کی قسم کھا کر کہتا ہوں حاشر کو میں نے نہیں مارا۔۔۔”
ولید بھیگی پلکیں لیئے وہیں بیٹھ گیا تھا اپنے گھٹنوں پر۔۔۔
حورعین کو پوری طرح سے حیران کر کے۔۔۔
حورعین نے ولید کی سسکیوں کو سن کر کے ولید کے بالوں پر انگلیاں پھیرے اسکا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔۔۔۔
“ولید حدید۔۔؟؟ ولید میں۔۔۔”
“تم پریگننٹ ہو۔۔۔حدیدپھر سے ہمیں ایک کرے گا۔۔۔ہمارا حدید۔۔”
ولید نے روتے ہوئے حورعین کے پیٹ پر ایک بوسہ دیا تھا۔۔۔اور وہیں سر رکھ لیا تھا۔۔۔
اُسکی جان میں جان اُس وقت آئی تھی جب حورعین نے ولید کے سر پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
۔
“ولید تم نے کچھ نہیں کیا تو پھر وہ۔۔۔۔وہ پاپا۔۔۔۔میرا مطلب ڈاکٹر جہانگیر عالم۔۔۔۔”
“میں نے انکو جھوٹ بولنے کا کہا تھا۔۔۔۔ میں چاہتا تھا تم مجھ سے نفرت کرو اور بدلہ لینے کے لیے پھر سے شادی کے لیے ہاں کرو میں۔۔۔۔”
ولید کو شاید لگا تھا حورعین غصہ کرے گی۔۔۔۔پر اب جو ولید حور کء آنکھوں میں دیکھ رہا تھا وہ دھوکہ اور بے یقینی تھی۔۔۔۔
“یہ سچ نہیں ہے ولید کہہ دیں آپ نے اتنی لمبی پلیننگ نہیں کی تھی۔۔۔”
۔
“کاش میں کہہ سکتا پر شروع دن سے حاشر کی موت کے بعد ہر چیز کا علم تھا مجھے اور۔۔۔۔”
اسے بات مکمل کرنے کا موقع نہیں ملا تھا حورعین نے اتنی زور سے تھپڑ مارا تھا ولید کو۔۔۔۔کہ وہ کچھ پل کے لیے خود بھی حیران ہوگیا تھا۔۔۔۔
۔
“ولید اتنا بڑا جھوٹ اتنا بڑا دھوکہ۔۔۔؟؟؟
پل پل جیتی رہی مرتی رہی اس بدلے میں۔۔۔۔”
اس نے گریبان پکڑ لیا تھا ولید کا
“میں تمہیں قاتل سمجھتی رہی۔۔۔میرا دل گواہی دیتا تھا تم مجرم نہیں ہو تم ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ پر میں۔۔۔۔۔
میں تمہیں برباد کرنے کے موقعے ڈھونڈتی رہی ولید۔۔۔۔
تمہارے جھوٹ نے مجھے اپنی محبت سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔”
اور جھٹکے سے پیچھے دھکیل دیا تھا اس نے ولید کو۔۔۔۔
“کیوں بولا جھوٹ صرف شادی کرنے کے لیے۔۔۔۔
اگر اتنی تڑپ تھی شادی کی مجھ سے تو طلاق کیوں دی تھی۔۔۔
تم مرد طلاق دے کر اس زندگی میں ہم عورتوں کو جہنم دیکھا دیتے ہو۔۔
پھر دل ٹرپتا ہے تو پھر سے وہی محبت اور شادی۔۔۔۔۔”
وہ رئیلنگ پکڑے روئیے جا رہی تھی مسلسل۔۔۔۔۔
“بات صرف شادی کی نہیں تھی بات اس وقت تمہاری اور بچوں کی حفاظت کی تھی۔۔۔۔مجھے جو سہی لگا میں نے کیا حورعین۔۔۔۔۔
پلیز ہاتھ جوڑتا ہوں میری بات کا یقین کرو میرا مقصد تم تینوں کی پروٹیکشن تھا۔۔۔۔میں۔۔۔۔”
“ولید آپ کو تو اچھی تفریح ملی ہوگی نا مجھے بیوقوف بنا کر۔۔۔؟ جب جب میں کچھ کرنے کی کوشش کرتی تھی تب تب آپ میرے پیچھے ہنستے ہو مذاق بناتے ہوگے۔۔۔۔۔
کیا گیم کھیلی نا آپ نے۔۔۔۔ آج میں اپنی نظروں سے گر گئی ہو۔۔۔
جتنا گندا الزام آپ پر لگاتی رہی آپ نے تو وہ جرم کیا ہی نہیں۔۔۔۔
پر مجھے گمراہ کر کے آپ نے مجھے میری نظروں میں مجرم بنا دیا۔۔۔۔ ولید شاہ۔۔۔۔۔”
ولید نے اسکا ہاتھ مظبوط گرفت میں پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
“میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں۔۔۔۔۔
اپنا لو یا ٹھکرا دو۔۔۔۔۔”
ولید نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔
۔
محبت ایسی نہیں ہوتی ولید۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نا تھا اس سے مگر۔۔۔۔
جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا۔۔۔۔”
۔
وہ روتی ہوئی واپس روم میں بھاگ گئی تھی اور دروازہ لاک کر لیا تھا اندر سے۔۔۔۔۔۔
۔
“ایم سوری حورعین۔۔۔۔۔ میں مانتا ہوں میں غلط ہوں پلیز ایم سوری۔۔۔۔”
اسکے چلانے کی آوازیں اسکے گھر والوں تک تو پہنچ گئیں تھیں پر حورعین نے سب ان سنا کر دیا تھا اپنے کپڑے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔۔۔
مائرہ کو فون ملا کر بہت سے انتظامات کروا لئیے تھے اس نے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
“ولید۔۔۔ وہ جا رہی ہے اسے روک لو۔۔۔۔۔”
“وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی حمزہ”
ولید نیچے کھڑا بےبسی کے عالم میں دیکھ رہا تھا حورعین کو بچوں کے ساتھ نیچے آتے دیکھ۔۔۔۔
“بابا۔۔۔۔”
عاشی بھاگتے ہوئے آئی تھی حورعین سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر۔۔۔۔
“بابا آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں نا۔۔۔۔”
ولید شاہ اپنے دونوں بچوں کو اپنے سینے سے لگائے کھڑا تھا اسکی آنکھیں پھر سے حورعین پر پڑی تھیں بھیک مانگ رہی تھیں
پر حورعین کی آنکھوں میں صرف نفرت ملی تھی جواب میں ولید شاہ کو۔۔۔
“ہم بہت جلدی پھر سے ایک ہوں گے بچوں۔۔۔ تب تک آپ دونوں نے ماں کا اور حدید کا خیال رکھنا ہے۔۔۔”
ولید نے دونوں کے منہ پر بہت دفعہ بوسہ دیا تھا اور پھر سے گلے لگا کر ان دونوں کے چہرے صاف کئیے تھے۔۔۔۔
“اب روتے ہوئے نہیں جانا اوکے۔۔۔۔جاؤ دادو دادی سے مل لو بچوں۔۔۔۔”
حمزہ بھی وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔ولید نے بہت ہمت کر کے حورعین کی طرف قدم بڑھائے تھے۔۔۔۔
“بےبی ڈول۔۔۔ایک بار پھر سے سوچ لو۔۔۔”
“تم نے سوچا تھا مجھ سے جھوٹ بولتے وقت۔۔۔۔حاشر کی موت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ولید۔۔۔۔”
حور نے بہت بے رخی سے اپنا بھیگا ہوا چہرہ صاف کیا تھا۔۔۔۔
“میں مجبور تھا۔۔۔ اپنی بےوفائی سے پہلے ہی کھو چکا تھا تمہیں۔۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے آگے بڑھا تھا اور حورعین اتنا ہی پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔۔
“اب میں مجبور ہوں۔۔۔۔ تم صرف دھوکے باز ہی نہیں جھوٹے بھی ہو ولید۔۔۔”
اس نے اپنے سوٹ کیس کا ہینڈل پکڑنے کی کوشش کی تھی پر ولید نے ہاتھ رکھ لیا تھا پہلے۔۔۔۔۔
“پہلے جنون میں گناہ ہوۓ۔۔۔۔پھر محبت میں غلطیاں ہوئی مجھ سے۔۔۔
پر اتنا حق تو دو تمہیں ایک بار اپنے سینے سے لگا کر الوداع کہہ دوں حورعین۔۔۔۔”
اسی ہینڈل سے ولید نے وہ سوٹ کیس ان دونوں کے درمیان میں سے ہٹا دیا تھا۔۔۔۔۔
“ولید حق سارے چھین کر تم گنوا چکے ہو۔۔۔ تمہارے گلے لگوں گی تو یہاں سے اس دروازے تک کا سفر طے نہیں کر پاؤں گی میں۔۔۔۔”
ولید شاہ کا سر جھک گیا تھا
“تم جانتی ہو ابھی تک کے سفر میں تم نے بھی میرے ساتھ بہت ناانصافیاں کی ہیں حورعین۔۔۔”
کہتے ہوئے اسکی آواز نے ساتھ چھوڑ دیا تھا تو اس نے بھی منہ پھیر لیا تھا۔۔۔
“جانتی ہوں۔۔۔ پر اس سفر میں ظلم تم نے کئیے ہمیشہ۔۔۔۔ سچ بتا کر ہار جاتے ولید۔۔۔۔جھوٹ بول کر مجھے جیتنے سے اچھا تھا۔۔۔۔”
وہ اپنا سامان اٹھا کر باہر چل دی تھی جہاں سب انتظار کر رہے تھے۔۔۔
۔
“اللہ لڑن رات ہووے۔۔۔۔
پر وچھڑن رات نا ہووے۔۔۔۔۔”
۔
“وہ جا رہی ہے مجھے چھوڑ کر حمزہ۔۔۔۔”
ولید حمزہ کے گلے لگ گیا تھا۔۔۔۔
“اپنی فیملی کو ائرپورٹ تک چھوڑنے نہیں جاؤ گے ولید۔۔۔؟؟”
“تم چھوڑ آؤ انہیں۔۔۔۔
ولید شاہ میں اب اور ہمت نہیں رہی ٹوٹنے کی۔۔۔۔۔”
۔
۔
“اب ڈر نہیں لگتا کچھ کھونے کو۔۔۔۔۔
میں نے زندگی میں زندگی کو کھویا ہے۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
ایک ہفتے بعد لندن۔۔۔۔۔
۔
۔
حورعین اور بچے جب سے واپس مسز حماس کے گھر آۓ تھے اسی دن سے حورعین کھوئی ہوئی تھی۔۔۔
الجھن میں تھی۔۔۔
جب جب ولید شاہ کو چھوڑ کر وہ دور ہوئی اسے ہر بار وہ سہی اور ولید شاہ غلط لگتا تھا۔۔۔۔
پر اس بار اسکا ضمیر اسکے خلاف گواہی دے رہا تھا۔۔۔۔
“اس نے جھوٹ بولا مجھے پھر سے دھوکہ دیا۔۔۔”
اپنی پرچھائی کو دیکھ کر وہ اور چلا دی تھی۔۔۔۔
“اگر وہ دھوکہ نا دیتا تو کونسا تم نے اسکی بات مان لینی تھی۔۔۔”
“کیونکہ میں ناراض تھی اس سے اس نے کسی اور عورت کو وہاں تک رسائی دے دی تھی جہاں پر صرف میرا حق تھا۔۔۔۔
وہ اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
اور جب مجھے لگا وہ اب واپس ایک موقع مانگے گا اب وہ مجھے نا چھوڑنے کے لیے اپنائے گا اسی دن اس نے ڈائیورس دینے کا فیصلہ سنا دیا۔۔۔
اسے بچے چاہیے تھے۔۔۔اور جو بچے اسکے تھے انکی قدر نہیں کی۔۔۔۔”
وہ اور روئی تھی اسکی آواز اسکی سسکیوں میں بدل گئی تھی۔۔۔۔
۔
اور دروازے پر دستک ہوئی اور پھر کھل گیا تھا۔۔۔۔
دونوں بچے اندر داخل ہوگئے تھے۔۔۔۔
اور دونوں نے بنا کوئی سوال کئیے حورعین کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا تھا۔۔۔
“ماما آپ ایسے روئیں گی تو حدید بھی اداس ہوگا۔۔۔۔”
عاشی نے حورعین کا چہرہ صاف کیا تھا جب وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“ماں پلیز۔۔۔۔ہم اب کوئی ضد نہیں کریں گے بابا کے پاس جانے کا بھی نہیں کہیں گے۔۔۔۔”
ولید کا نام سن کر وہ اور رونے لگی تھی اسے اس ہفتے ولید کا نام سن کر بھی تکلیف ہونے لگی تھی اسکی آنکھیں بھیگ جاتی تھی۔۔۔
اسے ولید شاہ کی بہت یاد ستانے لگی تھی۔۔۔۔
۔
“اب آنکھیں بند کریں ہم لوری سنائیں آپ کو۔۔۔۔”
عاشی حورعین کے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ گئی تھی اور دوسری طرف ارش۔۔۔۔
۔
“آ لے کے چلوں تجھ کو اک ایسے دیس میں۔۔۔۔
ملتی ہیں جہاں خوشیاں پریوں کے بھیس میں۔۔۔۔”
حورعین کے چہرے پر مسکان آگئی تھی جب عاشی نے اپنے ہاتھ حور کی آنکھوں پر رکھے تھے۔۔۔۔۔
۔
۔
“ہو چاند چاہے آدھا ہو پھر بھی روشنی۔۔۔۔
امید جو نا ٹوٹے ہر بات ہے بنی۔۔۔۔”
۔
ارش نے حورعین کے آنسو صاف کرتے ہوئے باقی کی لائینز بہت پیار سے کہی تھی عاشی کی طرح۔۔۔۔
۔
۔
“بس بچوں۔۔۔۔ خود رونے لگے مجھے چپ کرواتے ہوئے۔۔۔۔”
حورعین نے دونوں کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔۔
اسے پھر بھی ولید شاہ کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
آنسو کی ایک اور لڑی نے اسکا چہرہ پھر سے تر کر دیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
ولید حمزہ جلدی کرو پلیز۔۔۔ یہاں کے ہمسائے کے جاگنے سے نہیں اس کتے کے جاگنے سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا سمیر جیجو نا ڈرو ولید شاہ کا نام لے دینا وہ ڈر جاۓ گا۔۔۔۔”
ولید ہنستے ہوئے پھر سے اس سیڑھی پر چڑھنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا ولید انگریزوں کا کتے اردو نہیں جانتے ہاہاہاہا۔۔۔۔”
حمزہ بھی آہستہ آہستہ ولید کے پیچھے سیڑھی چڑھا رہا تھا۔۔۔۔
۔
وہ لوگ حورعین کے نئے کراۓ کے گھر کی بیک سائیڈ پر تھے۔۔۔۔
ولید اس وقت اپنی بیوی بچوں کو دیکھنا چاہتا تھا جو اب دو بجے رات کے یہ چوری چھپے گھر کے اندر جانے میں محنت کر رہے تھے۔۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا ولید حمزہ کی بات میں دم ہے۔۔۔یہاں کیسے پتا ہوگا تمہارا۔۔۔؟؟”
حمزہ اور سمیر دونوں ہنسنے لگے تھے تب ہی ولید نے نیچے ٹانگ ماری تھی جس پر حمزہ اور ہنسا تھا۔۔۔۔
“آپ دونوں چپ ہوجاؤ بس کمرے کی کھڑکی تک پہنچنے لگا ہوں۔۔۔۔۔”
اور ایک دم سے اس کتے کی بھونکنے کی آواز آئی۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔ وہ آگیا۔۔۔کتا جاگ گیا۔۔۔۔”
“سمیر جیجو سیڑھی مت چھوڑنا پلیز۔۔۔۔”
حمزہ جتنی سیڑھی اوپر چڑھا تھا اتنی ہی نیچے اترنی کی کوشش کرنے لگا تھا۔۔۔
“سمیر جیجو۔۔۔وہ کتا بندھا ہوا ہے۔۔۔آپ بس کچھ سیکنڈ پکڑ لیں میں بس اوپر۔۔۔”
“وہ کتا آرہا ہے۔۔۔۔”
سمیر ہے ڈرتے ہوئے پیچھے قدم کیا تو سیڑھی زرا سی سلیپ ہوئی اور جس سائیڈ پر وزن زیادہ تھا اسی رخ گر گیا۔۔۔۔
او سیڑھی کے گرنے کا اتنا شور نہیں تھا جتنا اس پر دو لوگوں کا۔۔۔۔”
۔
توڑ دی میری کمر۔۔۔۔ ہاۓ اللہ۔۔۔۔ “
حمزہ کے چلانے کی آواز آرہی تھی۔۔۔۔
پر ولید کا منہ ابھی بھی زمین کی جانب تھا۔۔۔
“ولید۔۔۔حمزہ یہ کہیں چل تو نہیں بسا۔۔۔۔”
سمیر اور حمزہ نے جب ولید کے کندھے پر ہاتھ رکھے تو اس نے غصے سے جھٹک دئیے تھے اور اس پانی نما کیچر سے منہ نکال کر دونوں کو دیکھا تھا۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔۔”
سمیر نے شوکڈ ہوکر دیکھا تھا ولید کا کیچر سے بھرا ہوا چہرہ۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ولید۔۔۔۔۔”
حمزہ کو اپنی کمر کی درد بھول گئی تھی۔۔۔۔۔
۔
“ڈونٹ یو دیڑھ آپ دونوں مرد بنو۔۔۔کہاں سے گرا دیا مجھے۔۔۔ایڈیٹ۔۔۔۔”
۔
“ہاہاہاہا ولید وہ تو ٹھیک ہے ایسے جنگی کتے کے سامنے کیسے مرد بنے کاٹ لیا تو۔۔۔۔”
“سمیر جیجو وہ بند ہے آنکھیں کھول کر دیکھو۔۔۔۔”
تب ان کی نظر اسکی رسی پر پڑی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ سمیر جیجو اس بندھے کتے کے پیچھے آپ نے میری کمر توڑ دی۔۔۔۔”
ولید بھی اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر اٹھا تھا اور حمزہ بھی۔۔۔۔
“سیریسلی اسکی تو میں۔۔۔۔”
سمیر نے غصے سے اس کتے کو دیکھا تھا جو اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا اس رسی سے۔۔۔۔
“سیڑھی لیکر آئیں۔۔۔۔”
ولید نے پھر سے غصہ کیا تھا۔۔۔۔
“میں تم دونوں سے کہہ رہا ہوں وہ اپنی رسی توڑ لے گا کتنے غصے سے بھونک رہا۔۔۔۔”
“ولید تم جاؤ اوپر میں دیکھتا ہوں اس کتے کو”
حمزہ نے کتے کی طرف قدم بڑھائے تھے اور ولید نے سیڑھی پر۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔۔ بھاگو یہ کتا کمینہ اپنی رسی توڑ چکا ہے۔۔۔۔”
پہلے حمزہ بھاگا تھا پھر سمیر۔۔۔ سیڑھی پھر سے وہیں سلیپ ہوگئی تھی۔۔۔۔اور ولید شاہ پھر سے زمین پر۔۔۔۔۔
“اب سچی میں ولید شاہ کی کمر ٹوٹ گئی۔۔۔۔”
ولید نے خود سے بات کی تھی۔۔۔
اسی گھر کے پاس چکر کاٹ رہے تھے وہ باقی تین وہ دونوں آگے آگے تھے اور وہ کتا ان کے پیچھے پیچھے۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا میرا موبائل کہاں ہے ان دونوں کی ویڈیو بنا لوں۔۔۔ دو دفعہ گرا دیا مجھے۔۔۔۔”
ولید ہنستے ہوئے موبائل ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔اور ایک ہاتھ نے آگے بڑھ کر ایک طرف سے موبائل اٹھا کر اسکے سامنے کیا تھا۔۔۔
ولید نے سر اٹھا کرپہلے دو قدم کو دیکھا اور اوپر چہرہ کیا تو حورعین دونوں ہاتھ باندھے نیچے اسکے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
“مارکو۔۔۔۔۔”
دونوں بچوں کی آوازیں آرہی تھی پیچھے سے ولید کو اور کچھ ہی سیکنڈ میں ارش اور عاشی ہنستے ہوئے سمیر اور حمزہ کو اس کتے سے بچا کر انکی جانب لے آۓ تھے۔۔۔۔
“بھوت۔۔۔۔”
حمزہ چاچو آپ نے تو کہا تھا بابا بھی ساتھ آئیں ہیں۔۔۔۔پر یہ کون ہیں۔۔۔ بھوت جیسے۔۔۔۔”
عاشی کی بات پر حورعین نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی چھپائی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ولید۔۔۔۔”
وہ دونوں مرد پھر سے ہنسے تھے۔۔۔۔
“آپ لوگوں کو اس وقت نہیں آنا چاہیے تھا بچوں چلو اندر۔۔۔۔۔”
حورعین نے شدید غصے میں کہا تھا اور بچوں کو اندر جانے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
“سب خراب ہوگیا۔۔۔”
ولید نے مایوسی سے کہا تھا۔۔۔
“کچھ خراب نہیں ہوا۔۔۔۔ یار تو ابھی کے ابھی بےہوش ہو جلدی۔۔۔۔”
حمزہ نے ولید کے کان میں کہا تھا۔۔۔۔
“کیسے۔۔۔؟؟ ولید شاہ دو بار اتنی اونچائی سے گر کر بےہوش نہیں ہوا۔۔۔”
سمیر نے بھی اتنی آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔۔
پر ولید کی نظریں حورعین اور اپنے بچوں پر تھیں۔۔۔۔جو واپس اندر جا رہے تھے۔۔۔
ابھی وہ اور دیکھتا کہ حمزہ اور سمیر ہے بہت زور سے ولید کو زمین پر دھکا دے دیا تھا۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
“چپ اوے۔۔۔آنکھیں بند۔۔۔۔
ولید۔۔۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔۔ولید۔۔۔کیا ہوا۔۔۔”
سمیر جیجو ولید آنکھیں نہیں کھول رہا۔۔۔۔”
“حمزہ۔۔۔۔”
۔
حمزہ نے ولید کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا جب اس نے بات کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔
اور کچھ سیکنڈ میں دونوں بچے اور حورعین بھاگتے ہوئی انکے پاس آئیں تھے۔۔۔۔
“کیا ہوا ولید کو حمزہ بھائی۔۔۔۔آپ اندر لے کر چلیں۔۔۔۔”
“بابا سائیں آنکھیں کھولیں۔۔۔۔”
ولید نے حورعین کی نظریں حمزہ پر پا کت جلدی سے عاشی کے گال پر بوسہ دیا تھا اور آنکھ مار کر پھر آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔۔
“ماما بابا کو اندر لیکر چلے پلیز۔۔۔۔”
عاشی اور ذیادہ رونے لگی تھی اور اسی طرح ولید کو آنکھ مار دی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ولید شاہ کے بچے ہیں۔۔۔۔”
حمزہ اور سمیر نے ہنسی کو روک کر اسے اٹھا لیا تھا اور حور کے پیچھے پیچھے اندر لے گئے تھے۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ایم سوری حورعین مجھے ابھی جلدی جانا ہوگا ثمرین کا فون آگیا۔۔۔”
“ثمرین آپی بھی آئی ہیں ساتھ۔۔۔؟؟؟”
حورعین نے ولید کے شوز اتارتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔
“جی اور صبح لیکر آؤں گا۔۔۔۔باۓ بچوں۔۔۔۔”
“ارے سمیر جیجو میں بھی شاید آپ کی گاڑی میں آیا تھا۔۔۔حورعین سو سوری پلیز میرے جگر کو سنبھال کر رکھنا۔۔۔۔”
“پر حمزہ بھائی۔۔۔۔”
“پلیز۔۔۔خدا حافظ بچوں میری بیوی بیٹھی ہوگی سٹک پکڑ کر اس نے بولا تھا ہم سب ساتھ آکر سرپرائز دیں گے۔۔۔۔”
حمزہ دونوں بچوں کے ماتھے چوم کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
حورعین نے بےہوش ولید کو دیکھا اور پھر دونوں بچوں کو۔۔۔۔
“ماما اٹس اوکے ہم بابا کو صبح مل لیں گے آپ انکے زخموں پر مرہم لگا دیں۔۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔۔۔”
جب حورعین کو پیچھے سے ہنسنے کی آواز آئی تو ولید نے پھر سے منہ سیدھا کر لیا تھا۔۔۔۔
“حورعین نے دوسرا شوز بھی اتار دیا تھا بہت آرام سے۔۔۔
“اب آپ آنکھیں کھول سکتے ہیں ولید۔۔۔۔”
حورعین باتھروم کی طرف چلی گئی تھی۔۔۔۔اور فرسٹ ایڈ باکس لے آئی تھی۔۔۔ولید ابھی بھی ایکٹنگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
“میں سچ میں بےہوش ہوا تھا بےبی ڈول۔۔۔۔”
بچوں کے جیسے منہ بنا کر ولید بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
پر جیسے ہی ٹیک لگانے کی کوشش کی اسکی کمر میں پھر سے درد ہوا تھا منہ سے آہ نکلی تھی۔۔۔۔
۔
“دیکھائیے مجھے۔۔۔۔شرٹ اتارئیے۔۔۔۔”
“بےبی ڈول۔۔۔۔”
“میر۔۔۔میرا وہ مطلب نہیں تھا ولید دیکھنے دیں مجھے۔۔۔۔”
اس نے سختی سے کہا تھا پر اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا ولید کی شرارت بھری نظروں سے۔۔۔۔
“کچھ نہیں ٹھیک ہوجاؤں گا۔۔۔۔تمہیں دیکھ لیا بچوں کو دیکھ لیا۔۔۔۔”
“آپ ایسے نہیں مانیں گے۔۔۔۔”
حورعین نے خود سے ولید کی شرٹ کے فرسٹ بٹن کھول دئیے تھے۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔ آپ کو تو بہت چوٹ آئی ہے۔۔۔۔۔”
ولید جیسے ہی۔لیٹا تھا حورعین نے ولید کی کمر دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔ جہاں سے خون بھی نکل رہا تھا۔۔۔۔
“اس طرح سے کرنے کی کیا ضرورت تھی ولید۔۔۔۔۔”
“کیا کرتا سکون نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
بیرونی درد دوا سے ٹھیک ہو جاتا ہے پر اندرونی درد۔۔۔۔؟؟
وہ ٹھیک نہیں ہوتا۔۔۔۔۔”
وہ حورعین کی طرف چہرہ کر چکا تھا اب۔۔۔۔۔
“ولید شاہ میں اب وہ حورعین نہیں رہی جو آنکھیں بند کر کے واپس جانے کے لیے راضی ہوجاؤں گی۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔جانتا ہوں میری جنگلی بلی۔۔۔۔۔”
“میرے خیال سے اب آپ کو اس دوا کی ضرورت نہیں وہ باکس پکڑ کر اٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
“پر مجھے اس دوا کی ضرورت ہے بےبی ڈول کچھ دیر پاس بیٹھ جاؤ حدید سے باتیں کرنے کو ترس گیا ہے اسکا باپ۔۔۔۔۔”
اسکی بات پر ان دونوں کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں۔۔۔۔
ولید نے اسکا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر بیٹھا دیا تھا اور اپنا سر حورعین کی گود میں رکھ لیا تھا۔۔۔۔
۔
“اسلام وعلیکم بیٹا۔۔۔۔”
حورعین کے پیٹ پر بوسہ دیا تھا اس نے اسکے آنسو حورعین کا دامن بھیگا رہے تھے اور حورعین کے ولید شاہ کے ماتھے کو۔۔۔۔
ولید سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا اسی وقت حورعین نے ولید کا چہرہ اپنی طرف موڑا تھا۔۔۔۔
“حدید آپ کو پتا ہے یہ کون ہیں۔۔۔؟؟؟ یہ آپ کے بابا سائیں ہیں۔۔۔۔ ولید شاہ۔۔۔ میں نے کہا تھا نا بابا سائیں کیسے بھاگتے ہوئے آئیں گے آپ سے ملنے۔۔۔۔”
حورعین نے کہتے ہوئے آنکھیں بند کر لی تھی جب ولید کے رونے کی آوازیں اسکے دل کو چیر گئیں تھیں۔۔۔۔
“خبردار ولید شاہ اگر میرے بچوں کے سامنے اس طرح کمزور پڑے آپ۔۔۔
مجھے روؤب دار ولید شاہ واپس چاہیے۔۔۔۔۔سنا آپ نے۔۔۔۔۔”
“میں نے سن لیا شاہ کی جان۔۔۔۔ سن لیا میں نے۔۔۔۔۔”
ولید نے چہرہ تھوڑا سا اٹھا کر حورعین کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا سر واپس حور کی گود میں رکھ لیا تھا۔۔۔۔۔
“حدید شاہ ۔۔۔۔ بابا آپ سے ہی نہیں آپ کی ماما سے اور آپ کے بہن بھائی سے بھی ملنے آۓ ہیں۔۔۔۔
حورعین میرا وجود ادھورا ہے تمہارے بغیر۔۔۔۔۔
پل پل جی رہا ہوں تو لگ رہا وہ پل میری موت کی طرف بڑھتے ہوئے قدم ہیں میرے۔۔۔۔۔”
“بس کرجائیں موت کا نام لینا ولید خدارا بس کر دیجئے۔۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے چلا دی تھی۔۔۔۔۔
“بےبی ڈول پلیز ایسے نا چلاؤ پلیز برا اثر پڑے گا حدید بیٹا کان بند کر لو۔۔۔۔”
حورعین نے ولید کے کندھے پر تھپڑ مارا تھا اور روتے ہوئے۔۔۔۔
“اوؤچ لگ گیا چوٹ پر۔۔۔۔”
ولید اٹھ گیا تھا
“کہاں لگا ولید۔۔۔۔”
اس نے پریشانی سے پوچھا تھا۔۔۔۔
“یہاں لگا بےبی ڈول۔۔۔۔سیدھا دل پر۔۔۔۔۔”
“شرم نہیں آتی نا ذرا بھی۔۔۔صبح ہوتے ہی مجھے آپ یہاں سے چلتے دکھائی دیں۔۔۔۔”
وہ خفا ہوکر چلی گئی تھی کمرے سے۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔بیگم ساتھ لیکر جاؤں گا۔۔۔۔ایسے نہیں تو اٹھا کر سن لینا۔۔۔۔۔”
ولید جیسے ہی چلایا تھا باہر سے ایک کشن سیدھا اسکے منہ پر لگا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔بےبی ڈول۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“اکیلی وارث ہو تم۔۔۔۔۔
میری بےشمار چاہتوں کی۔۔۔۔۔”
۔
۔
