Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

۔
“ما۔۔۔۔مائرہ۔۔۔یہ جہانگیر عالم۔۔۔۔۔؟؟؟”
آنئیشا کی آواز سے مائرہ اندر آگئی تھی۔۔۔۔۔
“یہ جہانگیر عالم آڈوپٹڈ فادر ہے مس حورعین کے اور دماغی ڈاکٹر بھی ہیں۔۔۔مس حورعین بہت ٹائم تک ڈپریشن میں رہی تھیں۔۔۔۔
اور۔۔”
آنئیشا نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔۔۔اور وہیں گر گئیں تھیں وہ۔۔۔۔۔
۔
۔
آنکھیں بند کرنے سے پہلے انکے ہونٹوں پر ایک ہی نام تھا حورعین کا۔۔۔۔۔
۔
“میم۔۔۔۔میم۔۔۔۔۔۔”
مائرہ نے جلدی سے سٹاف کے کچھ لوگوں کی مدد سے آنئیشا کو صوفے پر لٹایا تھا اور جلدی سے ایمبولینس کو فون ملا دیا تھا۔۔۔۔۔
سب کچھ اتنی افراتفری میں ہوا۔۔۔۔
مائرہ خود بہت پریشان ہوگئی تھی۔۔۔۔ اور قریب ہسپتال صرف ایک ہی تھا ڈاکٹر جہانگیر عالم کا۔۔۔۔
۔
ڈاکٹر جہانگیر آنئیشا کو اِس حالت میں دیکھ کر بہت پریشان ہوگئے تھے۔۔۔
اور فوری ٹریٹمنٹ شروع کرنے کا حکم دے دیا تھا۔۔۔۔
حیرانگی کی بات یہ تھی مائرہ ڈاکٹر جہانگیر کے اسرار پر بھی نہیں بتا رہی تھی کچھ انہیں۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتی تھی وہ اس راز کو حورعین سے پوچھے بغیر ڈاکٹر جہانگیر کو بتاۓ اس لیے وہ خاموش ہوگئی تھی۔۔۔
۔
“مائرہ۔۔۔تمہیں آنئیشا۔۔۔میرا مطلب یہ لیڈی کہاں ملی۔۔۔۔؟؟ تم جانتی ہو انہیں۔۔؟؟؟”
“نہیں سر۔۔۔میں۔۔۔۔آفس کے راستے پر ملی مجھے۔۔۔۔اور ان کے پاس جو سیل فون تھا میں نے انکی فیملی کو کال کرکے بتا دیا ہے۔۔۔۔۔”
مائرہ نے گھبراتے ہوئے جواب دیا تھا۔۔۔۔
“وٹ۔۔۔؟؟؟ تم نے کیوں میرے پوچھے بغیر انفارم کیا کسی کو۔۔۔۔”
وہ غصے ہوگئے تھے بہت۔۔یہ انکا موقع تھا آنئیشا کے پاس رہنے کا۔۔۔
“وہ سر۔۔۔۔”
“آنئیشا ابشام احمد۔۔میری بیوی۔۔۔۔؟؟”
ابشام احمد بھاگتے ہوئے آۓ تھے ریسیپشن پر پیچھے پریشان آریز اور نورلعین تھیں۔۔۔۔۔
“سر آپ کی وائف اندر ایمرجنسی میں ہیں۔۔۔انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔۔میں نے ہی آپ کو فون کیا تھا۔۔۔۔۔”
مائرہ نے جہانگیر صاحب سے نظریں بچاتے ہوئے کہا تھا جو غصے سے مائرہ کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر جہانگیر۔۔۔۔؟؟ ڈاکٹر میری بیوی کیسی ہیں۔۔۔؟ ہارٹ اٹیک کیسے آیا۔۔کچھ ہوگا تو نہیں اسے۔۔۔۔؟؟”
ابشام نے جہانگیر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر پوچھا تھا آنکھیں بھیگ گئیں تھیں انکی۔۔۔۔۔
“ابشام صاحب۔۔۔ڈاکٹر ابھی اندر ہیں آنئ۔۔۔آپ کی بیوی کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔”
اور ابشام کو پاس والے بینچ پر بٹھا دیا تھا دونوں بچوں نے۔۔۔۔
“ڈیڈ ماما کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔وہ ٹھیک ہوجائیں گی۔۔۔۔”ایک طرف نور اور دوسری طرف آریز بیٹھ کر تسلی دے رہے تھے ابشام صاحب کو۔۔۔۔
اور جہانگیر عالم حسرت بھری نگاہوں سے کبھی اس کمرے کو دیکھ رہے تھے جہاں آنئیشا تھی۔۔۔تو کبھی نورلعین کو۔۔۔۔
آنئشا کی فکر انہیں بھی اندر ہی اندر کھائی جا رہی تھی۔۔۔۔
۔
اور ڈاکٹر بھی باہر آگئے تھے۔۔۔۔
“ڈاکٹر میری بیوی اب۔۔۔اب کیسی ہے وہ۔۔۔۔؟؟؟”
جہانگیر اور ابشام دونوں ایک ساتھ ڈاکٹر کی طرف بڑھے تھے پر پوچھا ابشام نے پہلے تھا۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر جہانگیر انکی حالت ابھی بھی نازک ہے۔۔۔اور آپ انکے ہسبنڈ ہیں تو آپ کو انکو ایسی باتوں سے دور رکھے جو ہارٹ اٹیک کو ٹریگر کرتی ہیں۔۔”
ڈاکٹر نے جتنی عزت اور ادب سے ڈاکٹر جہانگیر سے بات کی تھی پھر اتنی سختی سے ابشام صاحب سے کہا تھا۔۔۔
“ڈاکٹر ہمیں پتا نہیں تھا۔۔۔مجھے بزنس چھوڑ کر اپنی بیوی کی بات ماننی چاہیے تھی۔۔۔ واپس لے جاؤں گا ان لوگوں کو واپس آنئیشا مے ڈسچارج ہونے پر۔۔۔۔”
اِس بات پر جہانگیر اور شوکڈ ہوگئے تھے۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“موم۔۔۔ایم سوری موم۔۔۔میں جو کیا وہ غلط تھا مجھے معاف کر دیجئے”
نور نے روم میں آتے ہی اپنی موم کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔۔
“تم نے حورعین سے معافی مانگی۔۔۔۔؟؟؟”
“پر موم میں کیوں۔۔۔۔”
“بس نورلعین۔۔۔اور آنئیشا اسکی ضرورت نہیں پڑے گی ہم واپس جارہے ہیں۔۔۔۔”
ابشام نے آنئیشا کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور پاس بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔
پر آنئیشا کی دھیان ابھی بھی اس فائل پر تھا۔۔۔۔
صرف پڑھنے پر اسکی دھڑکن بند ہوگئی تھی پر اسکی بیٹی۔۔۔؟؟
جس پر یہ سب گزرا۔۔۔۔
آنئیشا کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔۔۔
“موم۔۔۔اگر آپ کہیں تو میں حورعین سے معافی مانگ لوں گا۔۔۔پر آپ ایسے نا روئیں۔۔۔۔”
آریز نے آنئیشا کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔پر آنئیشا اور رونے لگی تھیں۔۔۔
“آنئیشا۔۔۔جان کیا ہوا ہے۔۔۔؟ مجھ سے شئیر کرو پلیز۔۔۔”
“آپ سب باہر چلے جائیں مجھے اکیلا رہنے دیں۔۔۔۔۔”
یہ کہہ کر آنئیشا نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔۔۔
“پر موم۔۔۔۔”
نور کی آنکھیں بھر گئیں تھیں آنئیشا کی بے رخی پر۔۔۔۔۔
“اِٹس اوکے بیٹا۔۔۔ماں ابھی ٹھیک نہیں ہیں۔۔۔۔۔”
ابشام دونوں بچوں کو باہر لے آۓ تھے۔۔۔۔
“پاپا ماں بہت چینج چینج لگ رہی ہیں۔۔۔کیا پریشانی ہوئی ہوگی جو اچانک سے ہارٹ اٹیک۔۔۔۔۔؟؟”
آریز نے ابشام کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔۔۔
“بیٹا میرا یہاں آنے کا فیصلہ غلط تھا۔۔۔آپ کی موم مجھے کہتی رہی اور میں نے ایک نا سنی۔۔۔۔۔”
۔
تینوں لوگ وہیں بینچ پر واپس بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔
یہ وہ فیملی تھی جو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کے بغیر ایک قدم نہیں چلی تھی۔۔۔
پر آج وہ سب پاس ہوکر بھی دور محسوس کر رہے تھے ایک دوسرے کو۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا آپ اندر نہیں آئیں گے۔۔۔؟؟”
“نہیں بچوں میں بس یہیں تک آسکتا ہوں۔۔۔۔آپ دونوں جاؤ ماں کو میرا سلام کہنا۔۔۔۔ اور زیادہ تنگ نا کرنا۔۔۔کوئی مسئلہ ہو مجھے فون کردینا۔۔۔۔”
ولید نے دونوں بچوں کے ماتھے پر بوسہ دے کر انہیں اندر بھیج دیا تھا۔۔۔
ولید واپس گاڑی کی طرف جانے لگا تھا کہ عدنان صاحب کو باہر بیٹھے دیکھ انکی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔۔۔”
ولید نے سلام کیا۔۔۔۔
“وعلیکم سلام۔۔۔۔”
عدنان صاحب نے ولید کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔
“بیٹھنے کا نہیں کہے گے آپ مجھے۔۔۔۔؟؟؟”
“کہنا تو نہیں چاہتا۔۔۔پر بیٹھ جاؤ۔۔۔۔”
ولید سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
“آپ مجھے زمہ دار سمجھ رہے ہیں اپنے بیٹے کی موت کا۔۔۔۔؟؟؟”
عدنان صاحب نے اب کے ولید کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔۔
“میں تمہیں زمہ دار سمجھتا ہوں پر اپنی بیٹی کی تکلیفوں کا۔۔۔۔حورعین یہ سب ڈیزرو نہیں کرتی تھی۔۔۔۔ وہ بہو نہیں بیٹی ہے میری۔۔۔۔
تم جان گئے ہوگے وہ آنئیشا کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔”
ولید نے نظریں جھکا لی تھیں۔۔۔۔
“جان گیا ہوں۔۔۔پر سمجھ نہیں آرہی کیا پوچھوں کس سے پوچھوں۔۔۔۔
حورعین کی موم نے مجھ سے ملنے سے منع کردیا تھا۔۔۔۔”
“ہمم کس لیے اور کیا پوچھنا چاہتے ہو اب۔۔۔؟؟ کس حق سے۔۔۔؟ حورعین اب میرے بیٹے کی بیوہ ہے۔۔۔۔تمہارے پاس کوئی حق نہیں ہے۔۔۔ آنئیشا جس حالت میں یہاں سے گئی تھی۔۔۔وہ اب اد جگہ کھڑی ہے جہاں اس دن تھی جب میری بیگم نے اسے اور اس پانچ سال کی بیٹی کو گھر پناہ نہیں دی تھی۔۔۔۔”
ولید نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔اسکی آنکھ سے نکلا ہوا آنسو دیکھ لیا تھا عدنان صاحب نے۔۔۔۔
“حورعین کی ماں سے یہ پوچھنا ہے۔۔۔کہ آپ تو ماں تھی۔۔۔۔آپ نے اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کیوں کیا۔۔۔ہم بھیڑیوں میں اپنی بیٹی کو کیوں چھوڑ دیا۔۔۔۔”
“ہم انسانوں سے بھیڑیے کیوں بن گئے ہیں کبھی سوچا ہے۔۔۔؟؟؟
اسلام سے دوری اللہ سے دوری نے ہمیں ظالم بنا دیا ہے۔۔۔۔۔
حاشر میرا بیٹا ہی نہیں میرا دوست تھا۔۔۔پر جو اس نے کیا مجھے فخر ہے اپنی اولاد پر۔۔۔”
ولید کا سر شرمندگی سے جھکا جا رہا تھا۔۔۔۔
“آپ کی ہر بات سہی ہے۔۔۔ ہم لوگ عیاشی عیش عشرت میں بھول جاتے ہیں کہ جب ہماری پکڑ ہوگی ہمارا مال دولت عزت شہرت بھی ہمیں بچا نہیں پاۓ گی۔۔۔۔”
“میرے جوان بیٹے کی موت نے جتنی میری کمر توڑ دی ہے اتنی تکلیف حورعین بیٹی کے لیے بھی ہو رہی ہے مجھے۔۔۔
آنئشا اس دن کے بعد صرف دو بار ہمارے گھر ہماری زندگیوں میں واپس آئی ایک بار حاشر کی شادی پر اور اب حاشر کی موت پر۔۔۔۔”
عدنان صاحب اپنی گلاسیز اتار کر اپنی آنکھیں صاف کرنے لگے تھے
“حاشر کی موت کا ذمہ دار میں بھی ہوں پر میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں میں۔۔۔۔”
“اسلام وعلیکم شاہ جی۔۔۔۔”
ولید کی بات کاٹ دی تھی کچھ لوگوں نے۔۔۔۔
سامنے پولیس آفیسر کھڑے تھے۔۔۔۔۔
“وعلیکم سلام۔۔۔۔۔”
“عدنان صاحب تع کھڑے ہوگئے تھے پر ولید شاہ نہیں۔۔۔”
“یہ لوگ۔۔۔؟؟”
ولید نے عدنان صاحب کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا
“یہ لوگ ہی حاشر کے قاتلوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔۔کچھ پتا چلا محسن کا۔۔۔۔؟ وہ بچہ بھی غائب ہے کہیں اسے بھی کچھ ہو نا گیا ہو اسکے گھر والے۔۔۔۔۔”
عدنان صاحب کی بات بہت بری طرح سے کاٹ دی تھی کچھ اور لوگوں نے۔۔۔
“آپ لوگوں کی وجہ سے میرا بیٹا غائب ہوا ہے۔۔۔ حاشر پتا نہیں کہاں کن چکروں میں تھا اسی نے میرے بیٹے کو کچھ کروا دیا خود تو مر گیا میرا بیٹا۔۔۔۔”
“بس کریں بہن جی۔۔۔۔”
عدنان صاحب نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔
اور ولید شاہ جو ابھی بھی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے دو اِن لوگوں کو غور سے دیکھ رہا تھا محسن کے نام سے ولید شاہ کا خون کھولنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
وہ حیران تھا دنیا کی چالاکیوں پر۔۔۔۔
“کیوں بس کروں۔۔۔حاشر اس جگہ لیکر گیا تھا محسن کو۔۔۔آپ لوگوں کے بیٹے کی وجہ سے میرے بیٹے کی جان خطرے میں ہے۔۔۔۔”
“بس کر جائیں آپ سب۔۔۔آپ جانتی ہیں عدنان بھائی کس قرب سے گزر رہے ہیں۔۔۔۔”
“ہاں تو انکے ساتھ جو ہوا ہم کیوں بھگتے۔۔۔۔ہمیں ہمارا بیٹا چاہیے۔۔۔”
ایک طویل لڑائی شروع ہوگئی تھی دونوں فیملیز کے درمیان۔۔۔محسن کی فیملی کے لوگ جتنا آپے سے باہر ہورہے تھے۔۔۔حاشر کی فیملی اتنی ہی عزت کے ساتھ پیش آرہی تھی۔۔۔۔
“حاشر پتا نہیں کن کاموں میں پڑ گیا تھا۔۔۔پر میرا کزن جتنا اچھا تھا ہم جانتے ہیں۔۔۔حاشر نے ہی اسے کسی کام میں ڈالا ہوگا۔۔۔”
“ہاں اور اگر میرا کزن چوبیس گھنٹے میں گھر واپس نہیں آیا عدنان صاحب تو میں وہ حال کروں گا کہ۔۔۔۔”
“کیا کرے گا تو۔۔۔۔؟؟؟ایک قدم عدنان صاحب کی طرف بڑھا تو پچھلا قدم اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا۔۔۔۔”
ولید جس فورس اور غصہ سے اٹھا تھا وہ کرسی اور ٹیبل دونوں گر گئے تھے۔۔۔۔
“تو کون ہے ہمارے فیملی میٹر سے دور رہ ورنہ۔۔۔۔”
ولید نے اسکا گریبان پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔۔
“تو ولید شاہ سے بات کر رہا ہے بچے۔۔۔۔ پانچ سیکنڈ میں معافی مانگ۔۔۔”
اور وہ لوگ کچھ قدم پیچھے ہوگئے تھے۔۔۔۔
“شاہ جی ہم کر لیں گے آپ بے فکر ہوکر گھر جائیں۔۔۔۔”
آفیسر کی بات سن کر ولید نے ایک آنکھ دیکھا تھا کہ وہ لوگ بھی پیچھے ہوگئے تھے۔۔۔۔
“یہ لوگ میری فیملی ہیں۔۔۔۔۔حاشر کا کردار صاف تھا۔۔۔ اور آپ کا بیٹا محسن۔۔۔؟ جو جھوٹ بول کر حاشر کو وہاں لیکر گیا تھا۔۔۔۔۔ میں حاشر کی بے گناہی ثابت کروں گا۔۔۔۔
اور محسن اگر مجھے مل گیا تو اسے اتنا ماروں گا کہ یاد رکھے گا آپ کے بیٹے کی لالچ نے انکے جوان بیٹے کو نگل لیا۔۔۔۔
یہ شریف نیک لوگ ہیں جو خاموش ہیں۔۔۔۔ پر میں ولید شاہ ایسے معاملات میں شریف نہیں ہوں۔۔۔۔غنڈہ ہوں میں۔۔۔۔ یہاں آکر بدتمیزی کر کے آپ لوگوں نے مجھے احساس دلا دیا ہے کہ میں اب اور چپ نا رہوں اور ڈھونڈ نکالو حاشر کے قاتلوں کو۔۔۔۔۔۔”
ولید نے اس گرے ہوئے کزن کو پھر سے اوپر اٹھایا تھا۔۔۔
“معافی نہیں مانگی۔۔۔۔؟؟؟؟؟”
“انکل۔۔۔ایم سو سوری۔۔۔۔۔”
“اب یہاں سے بنا تماشہ کئیے دفعہ ہوجائیے۔۔۔”
وہ لوگ جلدی جلدی وہاں سے چلے گئے تھے۔۔
“تمہیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی ولید شاہ۔۔۔۔”
“آپ کو غصہ کرنا ہے کیجیئے۔۔۔مجھے جو کہنا ہے کہیئے۔۔۔پر آپ کے بیٹے نے اپنی جان دے کر ولید شاہ کو قرض دار بنا دیا ہے اپنا۔۔۔۔
اب آپ اور آپ کی فیملی کے پیچھے ولید شاہ کھڑا ہے۔۔۔۔
حاشر کو انصاف ضرور ملے گا۔۔۔۔۔”
ولید نے آگے بڑھ کر عدنان صاحب کو گلے لگا لیا تھا جس نے سب کو حیران کر دیا تھا اور جب عدنان صاحب نے ولید کو گلے لگایا تو ولید کی نظریں اوپر کھڑکی کی طرف گئیں تھیں جیسے اسے کسی کی چھپی نظریں خود پر محسوس ہورہی تھیں۔۔۔اور جب اس نے اوپر کی جانب دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔
پر وہ جانتا تھا کوئی تھا۔۔۔کون تھا ولید شاہ وہ بھی جانتا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“عدیل یہ ملائکہ کا کیا ڈرامہ ہے۔۔۔؟ جب تم آتے ہو تمہارا فون بجنے لگتا ہے۔۔۔؟؟؟”
نینا نے موبائل پھر سے عدیل کو دیا تھا۔۔۔۔۔
“زرا سی نیکی کی جان پر پڑ گئی ہے۔۔۔اب یہ وہ کارڈ ہے جو مجھے شاہ انڈسٹریز کا “سی-ای-او” بنوائے گی اور ولید شاہ کے سامنے بھی کھڑی ہوگی اگر کل کو بھیا کو کوئی شک ہوا تو۔۔۔۔۔”
عدیل نے سگریٹ سلگاتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا شک۔۔۔۔؟؟ وہ تو میری جان کے در پر ہے۔۔۔۔”
“تو اسی لیے تو یہ پلان بنایا ہے۔۔۔۔ ہیومن ٹریفکنگ کا الزام لگانے سے ولید شاہ کی امیج ڈیمیج ہوجاۓ گی۔۔۔۔اور اسی وقت بچوں کو میں حاشر کے گھر سے لے آؤں گا۔۔۔۔اور پھر ان کا کام۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔”
دونوں کی ہنسنے کی آوازیں گونج رہی تھی پورے کمرے میں۔۔۔۔۔
۔
۔
انکا پلان جتنا مرضی سوچی سمجھی سازش تھی۔۔۔۔
پر اب کی بار ولید شاہ دل سے نہیں دماغ سے کھیل رہا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آنئیشا۔۔۔۔تم نے اگر میری کہی باتوں کی ٹینشن لی ہے تو نا لو۔۔۔ میں نور کو کبھی نہیں بتاؤں گا کہ وہ میری بیٹی ہے۔۔۔۔
میں تمہیں اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔۔تم نہیں جانتی کتنا ڈر گیا تھا میں۔۔۔۔۔”
جہانگیر عالم نے جیسے ہی آنئیشا کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی آنئیشا نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا تھا۔۔۔۔
“جہانگیر کونسی بیٹی۔۔۔؟ تم کیوں ایک ہی بات کو دہرا رہے ہو نور۔۔۔”
“کیوں تم جھٹلا رہی ہو نیشا۔۔۔؟ نورلعین میری بیٹی ہے۔۔۔۔”
دروازہ ایک دم سے بند ہوا تو جہانگیر اور آنئیشا دونوں ہی گھبرا گئے تھے۔۔۔۔
“ہاۓ موم۔۔۔ہیلو ڈاکٹر جہانگیر۔۔۔۔۔”
نورلعین بہت مسکراتے ہوئے داخل ہوئی تاکہ کمرے میں موجود لوگوں کو شک نا ہو کہ اس نے دونوں کی ساری باتیں سن لی تھیں۔۔۔۔۔۔
۔
“تم کب آئی نور۔۔۔۔؟؟”
آنئیشا کے لہجے میں ابھی بھی بے رخی تھی جو نور کو محسوس ہوگئی تھی۔۔۔پر اسکی نظریں جہانگیر عالم پر تھیں اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے اس سچ کو تسلیم کرے اپنی موم سے پوچھنے کی ہمت نہیں تھی
اپنے ڈیڈ سے وہ شئیر کر نہیں سکتی تھی۔۔۔۔
نور پوری طرح پریشان ہوگئی تھی۔۔۔۔
“بس ابھی موم۔۔۔باہر نرس سے بات کرتے ہوئے لیٹ ہوگئی سو سوری۔۔۔
آپ اب کیسی ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
نور نے اگے جھک کر بوسہ لیا تھا آنئیشا کا۔۔۔۔۔
“اب بہتر ہیں آپ کی موم بیٹا۔۔۔۔بس پریشانی سے دور رکھئیے۔۔۔۔۔۔”
جہانگیر عالم نے نور کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔۔اور وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔
“موم پلیز ایم سوری۔۔۔۔۔مجھے معاف کر دیجئے۔۔۔اگر آپ کہیں گی تو میں حورعین سے بھی معافی مانگ لوں گی۔۔۔۔۔”
اس بات پر آنئیشا کی ناراضگی تھوڑی کم ہوگئی تھی۔۔۔۔
اور انہوں نے نور کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔۔
“بیٹا کسی کا دل دکھا کر ہم بھی کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔۔۔حاشر کی موت کا صدمہ سب کو ہے۔۔۔حورعین کو ہم سے زیادہ ہے۔۔۔۔اسے اِس طرح سب کے سامنے ذلیل کرنے سے تم اسے اور دکھ دے رہی تھی۔۔
آج کے بعد تم حورعین اور ولید شاہ کے کسی معاملے میں نہیں بولو گی۔۔۔۔”
آنئشا کے لہجے میں ایک الگ غصہ آگیا تھا۔۔۔۔
“پر موم۔۔۔۔”
“نور کوئی بحث نہیں چاہیے مجھے۔۔۔۔۔۔”
“ہمم اوکے اوکے۔۔۔۔آپ پریشانی نا لیں۔۔۔۔۔”
۔
“نور نے ایک نئے پلان کے ساتھ آنئیشا کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔۔
اسے پتا تھا اب اسے ولید شاہ کون دے سکتا ہے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ارش میں ٹھیک ہوں بیٹا اب سو جاؤ۔۔۔۔”
حورعین نے ارش کو پھر سے لٹا دیا تھا۔۔۔۔
“ماں۔۔۔آپ نے ڈنر بھی نہیں کیا تھا کیسے سو جاؤں میں۔۔۔۔؟؟؟”
ارش پھر سے اٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
“آپ کو پتا ہے ہم دونوں نے بھی ڈنر نہیں کیا۔۔۔۔۔”
عاشی نے بند آنکھوں سے کہا تو حورعین کی توجہ پھر سے دونوں بچوں کی طرف ہوگئی۔۔۔۔۔
“کیا۔۔۔؟؟ تم دونوں مجھے اب بتا رہے ہو۔۔۔؟؟ کیوں ضدی ہوگئے ہو دونوں۔۔۔؟؟ تمہارے بابا نے پھر سے بگاڑنا شروع کر دیا تم دونوں کو۔۔۔؟؟
رکو میں ابھی لاتی ہوں۔۔۔۔”
حورعین جیسے ہی روم سے چلی گئی تھی ارش نے موبائل تکیے کے نیچے سے نکال کت کان کو لگایا تھا۔۔۔۔
“بابا آپ نے جیسا کہا تھا ویسا ہی کر رہی ہیں ماں اب ڈنر لینے گئی ہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔سن رہا تھا۔۔۔۔اب جب ماں کھانا لیکر آئیں تو ماں کو پیٹ بھر کر کھلانا۔۔۔۔۔”
“بابا ماں جتنے غصے سے گئی ہیں وہ تو ہمیں ڈبل ڈنر کھلا دیں گی۔۔۔۔”
عاشی نے جلدی سے کہا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔میری پری کوئی نہیں آج ڈبل کھا لینا کل بابا ڈبل آئس کریم بھی کھلا دیں گے۔۔۔۔۔”
دونوں بچے خوش ہوگئے تھے۔۔۔۔۔
کہ جیسے ہی روم کا دروازہ کھلا ارش نے جلدی سے موبائل واپس چھپا دیا تھا۔۔۔۔
“ارش عاشی اب جلدی سے کھانا کھاؤ۔۔۔۔”
“ماں آپ بھی ساتھ کھائیں۔۔۔۔۔”
دونوں بچوں نے حورعین کا ہاتھ پکڑ کت بیڈ پر بٹھا لیا تھا۔۔۔۔
یہاں جیسے ہی تینوں نے ایک دوسرے کو کھانا کھلانا شروع کیا تھا وہاں ولید شاہ نے کھانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔دونوں جانب خاموشی تھی۔۔۔۔
حورعین دونوں بچوں کو کھلا رہی تھی۔۔۔اور دونوں بچے حورعین کو۔۔۔۔
۔
“ماں اب بس۔۔۔۔”
“میں بھی ماما۔۔۔۔”
“ہممم اب ہاتھ دھو کر آؤ اور سونے کی تیاری کرو۔۔۔۔”
دونوں بچے جیسے ہی باتھروم کی جانب بڑھے تھے حورعین کی آواز سے رک گئے تھے۔۔۔۔
“بچوں جب تک تم دونوں ہاتھ منہ دھو لو۔۔۔تب تک تمہارے بابا سے بات کر لوں میں۔۔۔؟؟؟”
حورعین نے موبائل نکال کر پکڑ لیا تھا اور دونوں بچے بھاگ کر باتھروم میں چھپ گئے تھے۔۔۔۔۔
۔
۔
حورعین نے جیسے ہی موبائل کان پر لگایا تو ولید شاہ کے ہنسنے کی آواز سنائی دے رہی تھی اسے۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔میں نے ان دونوں کو کہا بھی تھا پکڑے جاؤ گے ہاہاہاہا۔۔۔۔۔اب باتھروم سے جلدی باہر نہیں آنے والے ہاہاہاہا۔۔۔۔ “
ولید شاہ کی آواز اسے اور غصہ دلا رہی تھی۔۔۔۔۔
“بس یہی کرسکتے ہو۔۔۔گمراہ۔۔۔پہلے مجھے کرتے آۓ ہو اب میرے بچوں کو کر رہے ہو جھوٹ بولنا سیکھا رہے ہو موبائل رکھنے کی اجازت کس سے لی تم نے کتنا بگاڑو گے اور۔۔۔۔؟؟؟”
حورعین کی کڑوی باتوں سے ولید کے چہرے کی ہنسی چلی گئی تھی۔۔۔
“گمراہ نہیں کر رہا تھا بس پریشانی ہورہی تھی۔۔۔تم وقت پر کھانا کیوں نہیں کھاتی ہو۔۔۔؟”
ولید کی باتوں میں فکر پریشانی جھلک رہی تھی۔۔۔۔
“تمہیں کیا میں کھانا کھاؤں یا نا کھاؤں۔۔۔؟؟ تم مجھے میری زندگی میں اکیلا کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔۔۔۔؟؟”
“نہیں چھوڑ سکتا حورعین۔۔۔کس کے سہارے چھوڑوں تمہیں اکیلا۔۔۔۔؟؟؟”
“ہاں جو سہارا تھا اسے تو تم نے چھین لیا۔۔۔اب تماشائی بنتے ہو۔۔۔؟؟
تم ولید شاہ ساری حدیں پار کر چکے ہو۔۔۔۔”
“بس۔۔۔حورعین۔۔۔۔ کیا بولی جا رہی ہو۔۔۔؟ تمہیں پتا بھی ہے تم۔۔۔”
“مجھے پتا ہے ولید شاہ۔۔۔۔اب تم دیکھو گے۔۔۔۔دیکھ لینا۔۔۔۔تمہیں ہر اس ظلم کا حساب دینا ہوگا۔۔۔۔”
“تم سزا جزا کی بات کر رہی ہو۔۔۔تو سن لو۔۔۔۔ آج تم کسی اور کے گھر اسکی بیوہ بن کر عدت پوری کر رہی ہو۔۔۔۔۔
ولید شاہ کے لیے اس سے بڑی کوئی سزا نہیں ہے۔۔۔۔۔
سنا تم نے یہ سزا مجھے زندہ درگور کرنے کے لیے کافی ہے میں پھر بھی جی رہا ہوں۔۔۔۔۔
کیونکہ اب ولید شاہ بھاگے گا نہیں۔۔۔۔۔
اب ولید شاہ اپنی خواہشات کے لیے تم تینوں کی خوشیاں برباد نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔
تم جتنی نفرت کرو گی نا میں اتنا پیار کروں گا۔۔۔۔۔”
۔
ولید نے فون بند کردیا تھا۔۔۔وہاں اسکا چہرہ بھرا ہوا تھا تو یہاں حورعین کا چہرہ بھر گیا تھا۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔
۔
۔
“آپ میرے لیے کچھ بھی کریں گے پاپا۔۔۔۔۔؟؟؟”
نورلعین کے منہ سے پہلی بار پاپا لفظ سُن کر جہانگیر عالم خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔۔۔
“ہاں میرے بچے۔۔۔بس ایک بار کہو کیا چاہیے۔۔۔۔؟؟ “
“پاپا مجھے ولید شاہ چاہیئے۔۔۔۔ہر صورت میں۔۔۔۔ اگر وہ مجھے نا ملا تو میں مر جاؤں گی اسکے بغیر۔۔۔۔۔”
۔
“بیٹا ولید شاہ۔۔۔؟؟؟”
جہانگیر صاحب جہاں خوش تھے وہیں اداس بھی ہوگئے تھے۔۔۔۔
حاشر کی آخری باتیں یاد آگئی تھیں۔۔۔۔
ایک طرف انکی یہ بیٹی جو پچھلے کچھ دنوں سے انہیں ایکسپٹ کرنے لگی تھی۔۔۔۔
ایک طرف وہ بیٹی جو انہیں بہت پہلے باپ کے روپ میں اپنا چکی تھی۔۔۔
اب اِس حقیقی بیٹی کی بات مانے گے تو اس بیٹی کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔۔۔۔
اور اگر اس بیٹی کی بات ٹھکرا دی تو وہ اپنی اس بیٹی کو کھو دیں گے جسے کچھ دن پہلے پایا تھا۔۔۔۔
“آپ کیا میری بات نہیں مانے گے پاپا۔۔۔؟ آپ تو بہت دعوے کر رہے تھے۔۔۔”
“بیٹا ولید شاہ کا بیک گراؤنڈ اچھا نہیں ہے۔۔۔۔۔پر تم نے پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا ہے۔۔۔۔ولید شاہ تمہیں ملے گا۔۔۔۔”
جہانگیر عالم نے نورلعین کے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔۔
“تھینک یو پاپا۔۔۔۔لو یو سوو مچ۔۔۔۔۔”
نور بہت خوش ہوکر وہاں سے چلی گئی تھی پیچھے اداس جہانگیر عالم کو چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔۔
۔
وہ اپنی گہری سوچ سے باہر تب آۓ جب انکا موبائل ٹیبل پر پڑے وائبریٹ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔۔”
“وعلیکم سلام پاپا۔۔۔۔حورعین بات کر رہی ہوں۔۔۔۔۔پاپا سو سوری میں آپ سے بات نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔آپ جانتے ہیں نا۔۔۔”
“بیٹا۔۔۔میں جانتا ہوں۔۔۔۔تم سوری نا بولو میرے بچے۔۔۔۔”
“پاپا کیسے ہیں آپ۔۔۔؟؟؟ آپ مجھ سے کوئی ضروری بات کرنا چاہتے تھے حاشر کے مطلق۔۔پلیز آپ مجھے اب بتا دیجئے۔۔۔۔”
جہانگیر صاحب کیبن کی ونڈو کے پاس جاکر کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔۔۔”وہ “بیٹا۔۔۔۔۔حاشر۔۔۔۔۔حاشر؟کہہ رہا تھا ولید شاہ کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔۔۔۔یہی حاشر کی آخری بات تھی۔۔۔۔۔”
یہاں جہانگیر عالم کی لفٹ آنکھ سے آنسو نکل آیا تھا۔۔۔۔۔
دوسری طرف حورعین بستر پر گر گئی تھی۔۔۔۔۔
اب اسکے ہاتھ بندھ گئے تھے اب اسکے پاس ولید شاہ کے لیے رحم کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
اب دیکھنا یہ تھا پہلے کس نے کامیاب ہونا تھا۔۔۔۔۔
ولید شاہ
حورعین
عدیل شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔