No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
“آخر کہاں ہوگی وہ فائل۔۔۔؟؟”
“اس فائل کو تو نہیں ڈھونڈ رہی تم۔۔۔؟؟”
پیچھے سے کسی نے ایک فائل آگے کی تھی۔۔۔
حورعین جو اندھیرے میں موبائل کی روشنی سے فائل ڈھونڈ رہی تھی اسکا موبائل ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔۔
“وہ۔۔۔مم۔۔دراصل۔۔۔”
اگر میرے بیٹے کو برباد کر کے تمہیں دئیے گئے دکھوں اور تکلیفیوں کا مداعوا ہوسکتا ہے تو تم وجاہت شاہ کو بھی برباد کر سکتی ہو بیٹا۔۔۔۔””
وجاہت صاحب نے وہ فائل حورعین کے سامنے رکھ دی تھی۔۔۔اور اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
“یہ میں کیا کر رہی ہوں۔۔۔؟؟ یا اللہ کہاں جاؤں میں۔۔۔کیا کروں میں۔۔۔؟؟”
وہ اپنا سر پکڑے وہیں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
حورعین کے روم سے باہر جاتے ہی ولید شاہ کی آنکھیں بھی کھل گئی تھیں۔۔۔
ولید کپڑے پہنے جلدی سے روم سے باہر گیا تھا۔۔۔
اسے حیرت تب ہوئی جب وہاں اندھیرے میں کھڑے اس نے اپنے بابا سائیں کو اپنی سٹڈی سے ایک فائل لے جاتے اس کی سٹڈی میں دیکھا۔۔۔
اور دبے پاؤں جب وہ اپنے سٹڈی روم کے باہر کھڑا تھاتو کھلے دروازے سے اس نے اپنے بابا سائیں کے کہے الفاظ سن لیے تھے۔۔۔
اور اس سے پہلے کوئی اسے وہاں دیکھتا۔۔۔وہ جلدی سے اپنے کمرے میں جانے لگا تھا کہ کچن کی جلتی ہوئی لائٹ نے اسے روک دیا تھا۔۔۔
۔
اور جب پاس گیا تو جو اس نے دیکھا اسے شوکڈ کرگیا تھا۔۔۔
ایان جو ایک سٹول پر کھڑے کیبنٹ سے کچھ نکال کر نیچے کاؤنٹر پر رکھ رہا تھا۔۔۔
اور پھر اپنی پلیٹ پر بریڈ اور جام لگا کرسی پر رکھ دی تھی۔۔۔اور ایک دودھ کا گلاس بھی۔۔۔
ولید نے اسے اکیلے یوں اس طرح محنت کرتے دیکھ بہت کچھ محسوس کیا تھا۔۔۔
جب اسے اپنے چہرے پر کچھ گیلا محسوس ہوا تو اسے معلوم ہوا اسکی آنکھیں بھیگ چکی تھیں پوری طرح۔۔۔
“آپ وہاں کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟ آپ کو برا لگا میں واپس یہاں کیوں آیا ہوں۔۔؟؟”
ایان کی آواز سن کرولید نے اپنا چہرہ صاف کرلیا تھا اور اندر آکر بلکل سامنے والی کرسی ہر بیٹھ گیا تھا
“نہیں مجھے برا نہیں لگا۔۔۔اور تم کیا کر رہے ہو اس وقت۔۔؟؟ بریک فاسٹ۔۔؟؟ ہاہاہاہا۔۔”
ولید نے اپنا لہجہ بہت نرم کرلیا تھا۔۔۔
“میں ڈنر کر رہا ہوں۔۔۔”
“کیوں ڈنرنہیں کیا تھا۔۔؟؟”
“کسی نے پوچھا نہیں تھا۔۔ ماما حمزہ انکل کے ساتھ باہر گئیں ہوئی تھیں۔۔۔ دادو اور دادا سائیں اپنے فرینڈ کی طرف۔۔اور آپ دونوں بی لیٹ گھر آئے تھے۔۔۔سووو کسی نے مجھے نہیں پوچھا۔۔۔
ابھی بہت بھوک لگ رہی تھی۔۔۔”
ایان بریڈ پر جام لگائے کھانا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“تمہیں پتا ہے مجھے بھی بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔مجھے نہیں بنا کر کھلاؤ گے۔۔۔؟؟”
“سچی آپ کھائیں ے میں اگر بریڈ پر جام لگا کر دوں گا۔۔؟؟”
“ہاں نا۔۔۔بہت بھوک لگی ہے۔۔۔مجھے بھی کسی نے ڈنر نہیں پوچھا۔۔۔”
ولید نے بچوں سا منہ بنا لیا تھا۔۔۔
پر ایان بہت خوشی سے اٹھ گیا تھا جہاں کاؤنٹر پر اس نے بریڈ رکھا ہوا تھا۔۔۔۔
۔
جیسے ہی ولید نے وجاہت کو سٹڈی سے اپنے کمرے میں جاتے دیکھا اس کی نظریں اپنے بابا سائیں کے خالی ہاتھوں پر تھی اسے امید نہیں تھی کہ حورعین وہ فائل لے لے گی۔۔۔اسے ابھی بھی یقین تھا حورعین اسے موقع دے گی۔۔۔
۔
اپنی کشمکش میں وہ یہ دیکھنا بھول گیا تھا کہ ایان نے پہلے سے رکھی ہوئی ایک پلیٹ نکال کر ولید کے سامنے رکھ دی تھی اور دودھ کا گلاس۔۔۔
اور جب اس نے ولید کے پیچھے کھڑے ایک شخص کو دیکھا تھا جو بہت خوش ہوتے ہونے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔۔
ایان اس شخص کی طرف دیکھ کر ہنسا تھا۔۔۔
“آپ نہیں کھا رہے۔۔؟؟”
ولید نے اپنے سٹڈی روم سے نظریں ہٹا کر ایان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
اور پھر ایان کی پلیٹ سے اپنے ہاتھوں سے اسے کھلایا تھا۔۔۔اور جو ایان نے اسے پلیٹ دی تھی ولید نے وہ کھا لی تھی۔۔۔ حلانکہ اسے بھوک نہیں تھی۔۔۔پر وہ اس بچے کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا۔۔۔
“اب تم جاؤ اور سو جاؤ۔۔۔”
ولید بھی لائٹس بند کر کے اوپر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔ اسکے دل میں بار بار حورعین کا خیال آرہا تھا۔۔ وہ چاہتا تھا وہ سٹڈی میں جائے اور آج ہی یہ سب نفرتیں مٹا دے۔۔پر وہ آج جیسے ہار گیا تھا۔۔۔
۔
بھاری دل کے ساتھ وہ بیڈروم میں چلا گیا تھااور جب روم میں گیا تھا آنکھیں بھر آئیں تھیں اسکی۔۔۔
وہ وہاں بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔جیسے آخری بار محسوس کرنا چاہتا تھا حورعین کی اپنی اپنے بچوں کی یادیں۔۔۔
سائیڈ ٹیبل پر پڑے فوٹو فریم کو اٹھا کر اس نے چوم لیا تھا۔۔۔
۔
بےبی ڈول۔۔۔۔۔”
ولید کچھ دیر بعد سو گیا تھا۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“میں ولید شاہ کو اپنے ہاتھوں سے سزا تو دے نہیں سکتی کسی اور کو کیسے اجازت دے سکتی ہوں کہ وہ میرے ولید کو سزا دے۔۔؟؟
ولید شاہ بہت تلخیاں ہیں۔۔۔ اس فائل کو کھوؒ لیا تو شاید مجرم میں بن جاؤں گی۔۔۔
ولید میں انتظار کروں گی اس دن کا جس دن تم خود میرے سامنے سب قبول کرو گے۔۔۔۔”
۔
اپنے پلو سے اپنا منہ پونچھ کر حورعین نے وہ فائل اسی روم کے ایک کارنر پر پھینک دی تھی۔۔۔۔اور چلی گئی تھی وہاں سے۔۔۔۔۔
۔
۔
اور اس کے جانے کے بعد ہی کوئی اور سٹڈی روم میں آیا تھا۔۔۔اور وہ فائل اٹھا لی تھی اور ہنستے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔پر جانے سے پہلے ایان کو بہت پیار کر کے گیا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ولید شاہ آج سوو لو سکون کی نیند۔۔کل سے تمہیں اتنا مجبور کر دوں گی کہ تم خود مجھے سب سچ بتاؤ گے۔۔۔”
حورعین نے سر ولید کے سینے پر رکھ دیا تھا اور آنکھیں بند کر لی تھی۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دیر بعد۔۔۔۔”
۔
“ماما۔۔۔بابا۔۔۔۔ گڈ مارننگ۔۔۔۔۔۔آج آپ دونوں نے اٹھنا نہیں ہے کیا۔۔۔۔”
دونوں بچے بہت پرجوشی کے ساتھ اندر روم میں ناک کرنے کے بعد داخل ہوئے تھے۔۔۔۔
حورعین تو اٹھ گئی تھی۔۔۔ پر جیسے ہی اسکی نظریں ولید کے منہ سے نکلتی جھاگ پر پڑی تھی۔۔۔
حورعین کی جیسے جان نکل گئی ہو۔۔۔
“ولید۔۔۔۔ولید۔۔۔۔”
ولید کے چہرے پر کندھے پر ہاتھ رکھ کر اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے۔۔۔حورعین کی آواز اسکی چیخوں میں تبدیل ہوگئی تھی۔۔۔اور دونوں بچے ماں کو اس حالت میں دیکھ کر باہر مہرالنسا اور وجاہت کو بلانے چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
“ولید۔۔۔۔۔اٹھو۔۔۔۔۔ولید۔۔۔تم اٹھ کیوں نہیں رہے۔۔۔۔”
“ولید۔۔۔۔”
وجاہت شاہ جلدی سے آگئے تھے۔۔۔۔
حورعین اپنے ڈوپٹے سے بار بار ولید کا منہ صاف کر رہی تھی۔۔۔
“پلیز بابا سائیں کچھ کیجیئے۔۔۔۔”
“مہرالنسا بہو کوسنبھالو۔۔۔”
“وجاہت صاحب نے گارڈز کو آواز دی تھی اور جلدی سے ولید شاہ کو ہسپتال لے جایا گیا تھا۔۔۔
۔
“تیرے بنا جینا نہیں ہے۔۔۔
تو تو میری سانسیں میں شامل۔۔۔”
۔
“ولید پلیز۔۔۔ڈونٹ ڈو دس ٹو مئی پلیز۔۔۔۔۔”
حورعین نے ایمبولینس میں بیٹھتے ہی ولید کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
۔
تیری دوہائیاں تیرے صدقے سوہنے یار
دہ دے رہائیاں مینوں دل سے سوہنے یار۔۔۔۔
دل کا کہیں ہے کیا سہارا۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پلیز بیٹا۔۔۔۔۔”
مہرالنسا نے حورعین کے ہاتھ سے ولید کا ہاتھ چھڑا دیا تھا۔۔۔ولید کو “آئی-سی-یو” لے گئے تھے۔۔۔
۔
“آپ مجھ سے وعدہ کیجئے میرے ہاتھ چھوڑنے پر وہ پر سے میرا ہاتھ تھامے گا۔۔۔؟؟”
حورعین کی بات شاید مہرالنسا کو سمجھ نہیں آئی تھی پر وجاہت صاحب سمجھ گئے تھے۔۔۔
وہ سٹڈی روم سے جانے کے بعد سو نہیں پائے تھے۔۔۔پر جو ابھی ہوا انہیں امید نہیں تھی۔۔۔
پر اس وقت وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتے تھے۔۔۔۔
لیکن وہ جانتے تھے۔۔۔انکی جان ولید میں ہے۔۔۔اگر ولید کو کچھ ہوا تو وہ بھی مر جائیں گے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ڈاکٹر میرے بیٹے کو بچا لیں۔۔۔خدا کے لیے۔۔۔”
دیکھیں شاہ جی۔۔۔ولید کو زہر بہت مقدار میں دیا گیا ہے۔۔۔۔
آپ لوگ ہسپتال بھی بہت لیٹ لیکر آئیں ہیں۔۔۔
ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے انکو ہوش آجاۓ گا تو چانسز ہیں نہیں تو ہم بھی کچھ نہیں کر پائیں گے۔۔۔۔ آپ دعا کیجیے۔۔۔۔”
ڈاکٹر وجاہت شاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلے گئے تھے۔۔۔ جو کمزور انسان کی طرح کھڑے تھے آئی-سی-یو کے سامنے۔۔۔۔
۔
اور کچھ قدم کے فاصلے پر حورعین ڈاکٹر کی بات سن کر وہیں بنچ پر گر گئی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
“تم جانتی ہو۔۔۔تم میری زندگی کا وہ خوبصورت خواب ہوجس کے سچ ہونے کی دعائیں کی میں نے چاہت کی میں نے۔۔۔وہ خوبصورت خواب۔۔۔
کہ جو سچ ہوا تو زندگی نہیں رہی پاس۔۔۔۔””
۔
وہ جان گیا تھا۔۔۔۔ولید۔۔۔۔۔ اسے پتا چل گیا تھا میں نے۔۔۔۔۔۔
۔
“حورعین کی بھیگتی آنکھوں میں آنسو کے ساتھ ساتھ لبوں سے ایک آہ نکلی تھی۔۔۔۔اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔۔۔
۔
اسے سب کی باتیں سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔
۔
“ولید شاہ پر ہمیشہ سے جان لیوا حملے ہوئے پر کوئی حملہ یا دشمن اسے آج تک نقصان نا پہنچا سکا۔۔۔۔
وجاہت یہ کسی اپنے کا کام ہے جس پر ولید کو یقین تھا۔۔۔۔
وہ اپنا جس نے ولید سے بہت نفرت کی ہو۔۔۔ہمیں پتا کرنا چاہیے۔۔۔۔۔”
سامنے کھڑے شخص کی باتیں حورعین کے دل کو اندر ہی اندر مارنے لگی تھیں۔۔۔۔
اس نے آنکھیں جیسے ہی بند کی ڈاکٹر کی آواز آگئی تھی۔۔۔۔
۔
“ولید کو ہوش آگیا ہے۔۔۔۔پر۔۔۔۔انکے پاس وقت بہت کم ہے۔۔۔آپ میں سے حورعین کون ہیں۔۔۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔۔۔”
مہرالنساء کی رونے کی آوازیں بہت لوگوں کی توجہ حاصل کر چکی تھی ثمرین اور ذکیہ کی حالت بھی ویسی ہی تھی۔۔۔۔۔
“مس حورعین۔۔۔۔پئیشنٹ کے پاس وقت بہت کم ہے۔۔۔۔”
حورعین کسی روبوٹ کی طرح اندر چلی گئی تھی۔۔۔۔
مشینوں کی آواز دل کی دھڑکن صاف سنائی دے رہی تھی اسے۔۔۔۔
۔
جیسے اسکے قدموں کی آہٹ سن لی تھی ولید نے۔۔۔۔ جس کی بند آنکھیں کھل گئیں تھیں۔۔۔۔
“بےبی ڈول۔۔۔۔۔”
ولید نے آکسیجن ماسک اتار ہی تھا۔۔۔اور اس نام پر حورعین کی آنکھیں چھلک گئیں تھیں پھر سے۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔۔”
حورعین سامنے کرسی پر بیٹھنے لگی تھی کہ ولید نے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا اپنے بیڈ پر۔۔۔۔
“یہاں۔۔۔میرے پاس بیٹھو۔۔۔ اب ان آخری لمحات میں بھی فاصلے رکھ کر مارنا ہے۔۔۔۔؟؟؟”
اس نے مذاق کیا تھا پر اسکی آواز میں بہت درد تھا۔۔۔۔۔۔
۔
ولید۔۔۔۔اگر تم اب ایسے مجھے چھوڑ کر چلے گئے نا تو کبھی معاف نہیں کروں گی تمہیں۔۔۔۔۔”
ولید کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے حورعین وہاں بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
۔
“معاف تو تم نے پہلے بھی نہیں کیا تھا حورعین۔۔۔۔۔ ابھی بھی ویسے ہی جاؤں گا بنا معافی کے۔۔۔۔۔پر۔۔۔۔پر ایک گلہ رہے گا۔۔۔۔۔”
ولید نے حورعین کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لبوں تک لے گیا تھا اور بوسہ دیا تھا۔۔۔
۔
“ولید شاہ میں تمہیں ہمیشہ گلے رہے مجھ سے۔۔۔۔۔”
حورعین نے روتے ہوئے ولید کے سینے پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔۔
“ہمم شاہ کی جان۔۔۔۔ پر اس گلے نے تمہارے ولید کو جیتے جی مار دیا۔۔۔۔”
ولید نے حورعین کے بالوں کو سہلاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔
“کیسا گلہ ولید۔۔۔۔؟؟؟”
۔
ولید نے گہرا سانس لیا تھا جب مانیٹر کی بیپ تیز ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“حورعین اگر میری موت سے سب ٹھیک ہوجانا تھا تو مجھے بتا دیتی
تمہارا یہ دیوانہ ہنستے ہنستے اپنی جان دے دیتا۔۔۔۔۔
پر زہر۔۔۔۔؟؟
تمہیں پتا ہے۔مجھے اس بات نے موت سے پہلے موت دے دی ہے۔۔۔۔”
حورعین نے اسکے سینے سے سر اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا تھا جو حورعین کے چہرے کی طرح بھرا ہوا تھا۔۔۔۔
“ولید ایم سوری۔۔۔۔تم جانتے ہو میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔
تمہارے بغیر میں جی نہیں سکتی ولید پلیز۔۔۔۔۔”
حورعین نے اگے جھک کر ولید کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا جس کی آنکھوں میں ایک سکون آگیا تھا حورعین کے اظہار محبت پر۔۔۔۔
“ولید تم سن رہے ہو۔۔۔۔۔تم ایسے۔۔۔۔۔چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔۔۔۔”
“بےبی ڈول۔۔۔۔وہ لفظ کہہ دو نا وہ نام لے دو جو اس رات کو لیا تھا جب ہم ملے تھے۔۔۔۔”
ولید نے حورعین کے ماتھے پر بوسہ دے کر التجا کی تھی۔۔۔۔۔
“اینجل۔۔۔۔۔۔۔”
“بےبی ڈول۔۔۔۔۔ ولید شاہ نے ہمیشہ محبت کی تم سے اور کرتا رہے گا۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔۔اور میں حدید سے کہوں گا اسکی ماں کو اسکی بہت یاد آتی ہے۔۔۔
میں وہاں اسکا خیال رکھوں گا تم یہاں ارش اور عاشی کا رکھنا۔۔۔۔”
“ولید پلیز۔۔۔ایسی باتیں مت کرو میں مر جاؤں گی۔۔۔۔۔”
ولید۔۔۔۔۔۔
پر جب اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ولید شاہ کی آنکھیں بند ہوگئی تھیں۔۔۔۔۔۔
۔
“ولید۔۔۔۔۔”
“حورعین۔۔۔۔۔۔”
حورعین کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کسی نے اسے جھنجوڑا تھا جس کی آنکھیں ایک جھٹکے سے کھل گئیں تھیں۔۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔۔”
اور اسکی نظریں سامنے آئی سی یو پر گئیں تھیں جہاں ولید شاہ کی سانسیں چلتی ہوئی نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔
۔
۔
اور ڈاکٹر بھی باہر آگئے تھے۔۔۔
“ڈاکٹر ولید اب کیسے ہیں۔۔۔؟؟”
سب سے پہلے حورعین اٹھ کر ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔۔۔ اس کا وجود اس خواب کے بعد ابھی تک کانپ رہا تھا۔۔۔
“اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔۔آپ مس حورعین ہیں۔۔؟؟ آپ انہیں اندر جا کر دیکھ سکتی ہیں۔۔ وہ بے ہوشی میں بھی آپ کا نام پکار چکے ہیں۔۔۔”
۔
“نہیں۔۔۔میں اندر نہیں جاؤں گی۔۔۔جب تک ولید اٹھ کر خود باہر نہیں آجاتے۔۔۔”
حورعین بینچ پر جا کر پھر سے بیٹھ گئی تھی۔۔۔
وہ اس خواب کو پھر سے جینا نہیں چاہتی تھی وہ ولید شاہ کو زندہ سلامت اپنے قدموں پر کھڑا دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
سب فیملی کی ترس کھاتی نگاہیں حورعین کو دیکھ کر اندر چلی گئیں تھیں۔۔۔۔
۔
“حورعین۔۔۔۔”
حمزہ جو بھاگتے ہوئے ہسپتال آیا تھا۔۔۔۔حورعین کو ایسے نڈھال دیکھ کر وہیں بیٹھ گیا تھا۔۔
اسے نظر آرہا تھا سب اندر ولید کے پاس ہیں پر حورعین نہیں۔۔۔
“حورعین۔۔۔ولید ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔”
“کیا ولید کو پتا تھا میں اسے کچھ پلانے والی ہوں۔۔۔؟”
“وہ۔۔۔۔۔میں اندر ولید کو دیکھ کر آجاؤں۔۔۔”
پر حورعین نے حمزہ کا ہاتھ اپنے سر پر رکھ دیا تھا۔۔۔
“میری قسم کھا کر بتائیے ولید سب جان گیا تھا۔۔۔؟؟”
“ہاں۔۔۔ایم سوری۔۔۔میں۔۔میں نے کل رات اسے فون پر بتایا تھاکہ وہ نیند کی دوائی نہیں تھی وہ زہر تھا۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ وہ زہر نہیں تھا حمزہ بھائی۔۔۔میں آپ کو کیا لگتی ہوں۔۔؟ ولید کو میں۔۔۔
میں زہر دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔”
۔
“اپنے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں چھپائے وہ اور زیادہ رونے لگی تھی۔۔۔۔”
“میں نے اسے زہر نہیں دیا ۔۔میں ایسا کبھی نہیں ساچ سکتی تھی۔۔۔پر وہ۔۔۔اس لیے ایسی باتیں کر رہا ےتھا اسے بس اتنا ہی یقین تھا مجھ پر۔۔؟؟”
۔
“مس حورعین۔۔۔”
ایک نئی آواز سن کر حور نے سر اٹھایا تھا سامنے کچھ پولیس آفیسر کھڑے ہوئے تھے۔۔۔
۔
“جی۔۔؟؟”
حمزہ کھڑا ہوگیا تھا جلدی سے۔۔
“ولید شاہ کو زہر دینے کے جرم میں ہم آپ کو گرفتار کرتے ہیں۔۔۔”
“انسپیکٹر۔۔۔آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔”
حمزہ ڈھال بن کر کھڑا تھا۔۔۔
“ہمارے پاس ثبوت ہے۔۔۔راؤ نے اعترافِ جرم کیا تھا۔۔۔بلاؤ راؤ کو۔۔۔”
اور راؤ کو ایک آفلیسر لے آیا تھا وہاں۔۔۔۔
جسے غصے اور نفرت کی نظروں سے حورعین دیکھ رہی تھی۔۔۔
“میری بہو کہیں کسی کے ساتھ نہیں جائے گی انسپیکٹر۔۔۔”
وجاہت شاہ کی آواز گونج اٹھی تھی
“شاہ جی ہمارے پاس ثبوت ہیں۔۔۔اور ولید شاہ خطرے سے باہر ہیں پر زندہ رہیں گے اسکی کیا گارنٹی ہے ہمیں ہمارا کام کرنے دیجیئے۔۔۔۔”
اور آفیسر نے لیڈی آفیسر کو حورعین کو اریسٹ کرنے کا کہا تھا۔۔۔
جس پر حورعین بلکل چپ تھی۔۔۔اس نے ہاتھ آگے بڑھائے تھے۔۔۔پر سامنے اب کوئی اور آکر کھڑ ا ہوگیا تھا۔۔۔
۔
جہانگیر عالم۔۔۔۔”
۔
“یہ آدمی میری بیٹی کے ہاں نہیں میرے یہاں ملازمت کرتا تھا۔۔۔اگر کوئی سسپیکٹ ہونا چاہیئے تو مجھے گرفتار کیجیئے۔۔۔۔”
“دیکھیئے آپ لوگ اگر اہمیں نا سیکھائیں۔۔۔”
“آپ سب لوگ میرے لیے پریشان نا ہوں جانے انجانے میں میں زمہ دار ہوں۔۔۔”
حورعین دو قدم راؤ کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
اور ایک زور دار تھپڑ مار دیا تھا راؤ کو۔۔۔۔
“تم نے گناہ کیا ہے۔۔۔ تم نے جو مجھے ولید کے دودھ میں ملانے کو کہا تھا وہ میں نے پھینک دیا تھا راؤ۔۔۔
پر زہر پھر بھی دیا گیا ولید کو۔۔۔
اور اس بار میں خود سزا دوں گی۔۔۔۔اس لسٹ میں سب سے پہلا نمبر تمہارا ہے راؤ۔۔۔ گنتی گننا شروع کر دو کیونکہ اب تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔۔چلیں۔۔۔”
۔
حورعین ان لوگوں کے آگے چلنا شروع ہوگئی تھی
“میں ساتھ چلتا ہوں۔۔۔”
پر جہانگیر عالم غصے سے دیکھا تھا حمزہ اور وجاہت شاہ کو۔۔۔۔
“ابھی اس کا باپ زندہ ہے۔۔۔”
جہانگیر عالم حورعین کو سامنے مین گیٹ سے لے جانے کے بجائے پچھلے گیٹ سے لے کر گئے تھے۔۔۔
“سر پولیس گاڑی میں گیٹ کے سامنے ہے۔۔۔”
“تو جاؤ اپنی گاڑی میں آؤ۔۔۔اور میڈیا یا کسی اور کے سامنے ایک لفظ بھی بولا تو یاد رکھنا ہر ممکن اقدام کر کے سزا دلواؤں گا میں۔۔۔۔”
اور وہ حورعین کا ہاتھ پکڑ کر اپنی گاڑی میں بٹھا چکے تھے۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا آپ ٹھیک ہیں اب۔۔؟؟”
“بابا۔۔۔”
عاشی روتے ہوئے اندر آئی تھی۔۔۔
ولید نے دونوں بچوں کو پیار کیا تھا تھا۔۔۔ پر اس کی نگاہیں حورعین کو تلاش کر رہی تھیں۔۔۔
“بچوں ماں کہاں ہے۔۔؟؟ سب کہہ رہے تھے حویلی میں ہیں۔۔۔”
“پر بابا ماما تو آپ کے ساتھ ہسپتال آئیں تھیں۔۔۔۔”
“بچوں بابا ابھی آرام کر لیں۔۔۔”
“ایک منٹ ثمرین آپی۔۔۔حورعین کہاں ہے بابا۔۔۔؟؟”
“ولید یار ابھی تم۔۔۔”
“حمزہ بےبی ڈول کہاں ہے۔۔؟؟ “
ولید اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
سب لوگ نظریں چرا رہے تھے۔۔۔
“ذکیہ بیٹا بچوں کو باہر لے جاؤ۔۔۔”
وجاہت صاحب نے بہت آہستہ سے کہا تھا۔۔۔۔
“حورعین کہاں ہے۔۔؟؟ بابا سائیں۔۔۔”
بچے باہر چلے گئے تو ولید نے پھر سے پوچھا۔۔۔
“وہ۔۔۔ولید۔۔۔پولیس کو لگتا ہے تمہیں زہر حورعین نے دیا وہ حورعین کو۔۔۔”
“ولید نے غصے سے پیچھے جھٹک دیا تھا پاس لگی ڈرپ اور ہاتھ میں لگی سرنج اتار کر پھینک دی تھی
“آپ مجھے بتا رہے ہیں میری بیوی تھانے میں ہے۔۔؟؟”
“آپ کہہ رہے ہیں میری عزت کو لے کر گئے ہیں وہ لوگ۔۔۔اور آپ تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔۔؟؟
وجاہت شاہ کی بہو بھی تھی وہ۔۔۔یا ابھی بھی نفرت نے دل نرم نہیں کیا میری بیوی کی طرف سے۔۔؟؟”
ولید وجاہت کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔۔
“ولید یار۔۔۔۔”
ولید کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔
“میں ہر اس انسان کو چھوڑوں گا نہیں۔۔۔جس نے میری بیوی پر اس طرح کا الزام لگایا۔۔۔”
“ولید میں نے وکیل کو بھیجا ہے۔۔۔”
“ہاں آپ نے بھیجا ہے اور میں کسی بے غیرت مرد کی طرح انتظار کروں۔۔؟؟ پیچھے ہٹ جائیں آپ سب۔۔”
۔
اور پھر سب پیچھے ہوگئے تھے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آپ کو ہمارے ساتھ تعاون کرنا ہوگا ورنہ حوالات میں۔۔”
“کون ڈالے گا میری بیوی کو حوالات میں۔۔۔؟؟ ڈال کے دکھاؤ۔۔۔ کس جرم میں۔۔۔؟؟”
“ولید شاہ آپ۔۔”
وہ آفیسر بھی ایک دم ڈر گیا تھا۔۔۔
“ڈاکٹر۔۔۔۔یہاں اندر آکر بتاؤ۔۔کیا مجھے کسی نے زہر دیا تھا۔۔۔؟؟”
“نہیں ولید شاہ کی رپورٹس میں کہیں بھی زہر نہیں ہے۔۔۔”
“پر راؤ نے۔۔۔”
“راؤ تو خود دماغی سہی نہیں ہے۔۔۔ راؤ کی فیملی کو بلاؤ زرا۔۔۔۔”
آفیسر کے پسینے تو چھوٹ رہے تھے۔۔۔پر جب راؤ کو بلایا گیا تو اسکے چہرے کے رنگ بھی اڑھ گئے تھے ولید شاہ کو دیکھ کر پر اسے زیادہ ڈر آج حورعین ولید شاہ سے لگ رہا تھا جس کی آنکھوں میں خون نظر آرہا تھا راؤ کو۔۔۔
“راؤ چلو جاؤ تم اپنے فیملی کے ساتھ۔۔۔۔اور آفیسر میں بہت جلدی ملنے آوں گا۔۔۔ چلو حورعین۔۔۔”
ولید نے آگے ہاتھ بڑھایا تھا جو بہت جلدی پکڑ لیا تھا اس نے پر سامنے جہانگیر صاحب آگئے تھے۔۔۔
“میری بیٹی تمہارے ساتھ کہیں نہیں جائے گی۔۔۔ “
“کونسی بیٹی۔۔۔؟؟ میرا کوئی باپ نہیں ہے۔۔۔۔ میرا باپ اسی دن مر گیا تھا جس دن اس نے مجھے مارنے کے لیے میری ماں کا کسی ڈاکٹر کا نمبر دیا تھا۔۔۔۔”
۔
اور حورعین ولید کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے آئی تھی۔۔۔
۔
پورے راستے دونوں گاڑی کی بیک سیٹ پر خاموش بیٹھے تھے۔۔۔
کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا۔۔۔ ڈرائیور گاڑی بہت آہستہ چلا رہا تھا ولید کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے
“ولید۔۔۔۔”
“درائیور اگر تم نے گاڑی کی سمیڈ تیز نا کی تو میں تمہیں یہیں نیچے اتار دوں کا جلدی چلاؤ۔۔۔”
ولید نے حوروعین کی بات کو ان سنا کر دیا تھا اور ونڈؤ سے باہر دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔
پر حورعین کو ولید کی بے رخی نے بہت دکھ پہنچا دیا تھا۔۔۔اور اس نے بھی ونڈو سے باہر دیکھنا شروع کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
“ایک لمحے میں سمٹ آیا۔۔۔صدیوں کا سفر۔۔۔۔
زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے۔۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
شاہ حویلی۔۔۔۔۔۔”
۔
“ماما بابا آپ آگئے۔۔۔۔”
دونوں بچے بھاگتے ہوئے انکی طرف آئے تھے۔۔۔
“بیٹا بابا کو ابھی آرام کرنا ہے۔۔۔”
حورعین نے آہستہ سے کہا تھا۔۔۔
ولید بہت خاموشی سے اوپر روم میں چلا گیا تھا۔۔۔
اور مہرالنسا ثمرین حورعین کو لیکر بیٹھ گئی تھیں۔۔۔
“تم ٹھیک ہو بیٹا۔۔۔؟؟”
“کیا آپ کو بھی ولید کی طرح لگتا ہے زہر میں نے دیا۔۔۔؟؟”
وجاہت صاحب اپنے روم میں جاتے ہوئے رک گئے تھے۔۔۔۔
“ولید کو بھی لگتا ہے مطلب۔۔۔؟؟”
وجاہت صاحب نے آکر پوچھا تھا
“ولید نے مجھ سے بات نہیں کی کوئی بھی۔۔۔انہیں بھی لگتا ہے۔۔۔میں نے زہر دیا۔۔۔”
“کیا مطلب ماں۔۔۔؟؟”
ارش نے پوچھا تھا اور اب حورعین شوکڈ ہوئی تھی کہ بچے بھی کمرے میں موجود ہیں۔۔۔
“کچھ نہیں بیٹا آپ اوپر روم میں جاؤ۔۔۔”
“دادو۔۔۔مجھے سب سمجھ آتا ہے۔۔۔پر ماں میں جانتا ہوں آپ بابا سے کتنا پیار کرتی ہیں۔۔آپ انہیں کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔۔۔۔” ارش نے اٹھ کر حورعین کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔ حورعین کی آنکھوں میں اب خوشی کے آنسو تھے اپنے بیٹے کو اس طرح دیکھ کر۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“میں ایک بزنس ٹرپ پر جا رہا ہوں بابا سائیں۔۔۔ آفس حمزہ دیکھ لے گا۔۔۔”
ولید ایک سوٹ کیس ہاتھ میں لئے نیچے آگیا تھا۔۔۔
“پر ولید۔۔۔۔”
حورعین کو ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا ولید نے۔۔۔
“بےبی ڈول یہ سب برداشت کرنے کے لیے اس سچ کو اپنانے کے لیے مجھے وقت چاہیئے۔۔۔۔”
ولید نے آگے بڑھ کر حورعین کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
“ولید بیٹا بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔”
“بابا سائیں ابھی بہت ادھورے کام ہیں انکے بعد بات کریں گے۔۔۔۔”
۔
۔
ولید وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
پر ولید تم نے تو کہا تھا ہم تم ملک سے باہر جا رہے۔۔۔پر اب ہم میرے سسر جی۔۔میرا مطلب سکندر شاہنواز کے بنگلے میں کیوں جا رہے۔۔۔؟؟”
ولید کسی بات کا جواب نہیں دے رہا تھا بس ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔
۔
اور جب سامنے سکندر شاہنواز کا بنگلہ نظر آیا ولید نے بریک لگا دی تھیں۔۔۔
اور اپنی گن نکال لی تھی جب گارڈز نے راستہ روکا تھا۔۔۔
“دیکھیں ولید صاحب ہمیں سختی سے منع کیا گیا ہے آپ اندر نہیں جا سکتے۔۔۔”
ولید کی گاڑی کے پیچھے اور گاڑیاں رکی تھیجس میں سپیشل فورس تھی اور پولیس نے ہر طرف سے گھراؤ کر لیا تھا۔۔۔
“پیچھے ہٹ رہے ہو یا گولی چاؤں۔۔۔؟؟”
ولید کی دھمکی پر وہ سب پیچھے ہٹ گئے تھے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ایان بیٹا۔۔۔یہاں آؤ اور بتاؤ اپنے بابا کو کے تم کیسے انکے نقشے قدم پر چلے ہو۔۔۔”
اور سکندر صاحب نے ایان کو بیڈ کی طرف دھکا دیا تھا جہاں عدیل شاہ ابھی بھی بندھا ہوا بے ہوش پڑا تھا جیسا ملائکہ نےچھوڑا تھا۔۔۔
اور کمرے میں راٹھور اور اسکا بیٹا بھی موجود تھے جنکو ابھی تک پتا نہیں تھا ولید زندہ ہے۔۔۔۔
“ہاہاہاہا سکندر صاحب ابھی یہ جشن بند کر دیتے ہیں ابھی تو اسکے جنازے میں بھی جانا ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ ایان تمہارا شکریہ ادا کیسے کریں ہم۔۔۔؟؟”
سب لوگ پھر سے ہنسنے لگے تھے۔۔۔اور اس بچے کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ سب کیا باتیں کر رہے ہیں۔۔۔
ایان نے عدیل کے پاؤں کی رسی کھولنا شروع کر دی تھی
“ایان رسی کیوں کھول رہے ہو۔۔؟؟ ہاہاہا تم سے میں نے وعدہ کیا تھا تم اپنے ڈیڈ کو بس دیکھ سکتے ہو۔۔۔”
“پر نانو اس طرح سے کیوں باندھا ہے۔۔۔؟؟ یہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہے”
“ہاہاہاہاہا بیٹا میں اور تمہارے نانو ہم دونوں مل کر تمہارے ڈیڈی کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کرنے لگے ہیں۔۔۔”
سکندر صاحب پھر سے راٹھور کی بات پر کھلکھلا کر ہنس دئیے تھے۔۔۔۔
۔
“اور اسی وقت دروازہ کھل گیا تھا۔۔۔۔”
ولید نے اپنی گن سکندر کے ماتھے پر رکھی تھی۔۔۔پر اسکی نظریں پہلے ایان پر پڑی تھی جو عدیل کے پاؤں کی رسی اپنے دانتوں سے کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔پھر ولید کی نظروس شخص پر پڑی تھی جو اسکا چھوٹا بھائی تھا۔۔۔
ولید کو پہلے بار عدیل کی حالت پر ترس آیا تھا اور آنکھوں میں آنسو بھی۔۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔”
سکندر صاحب نے موقع کا فائدہ اٹھا کر ولید کو پیچھے دھکیل دیا تھا اور اپنی گن سے فائرنگ کر دی تھی۔۔۔
پولیس اور گارڈز نے بھی جوابی فائرنگ کی تھی اور پھر خاموشی ہوگئی تھی۔۔۔
وہ تینوں زخمی گرے پڑے تھے زمین پر۔۔۔
“حمزہ تم ٹھیک ہو۔۔؟؟”
ولید نے حمزہ کی بازو سے خون بہتے دیکھ لیا تھا
“میں ٹھیک ہوں ایان۔۔۔۔”
حمزہ جلدی سے اندر گیا تھا۔۔۔اور ایان کو اپنے گود میں بہت شفقت سے اٹھا لیا تھا
“میں نے آپ کو وہ پلیٹ دی تھی جس میں زہر تھا۔۔۔میں۔۔۔”
ولید نے جلدی سے ایان کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔
“پرمس کرو اب تم یہ بات کسی کو نہیں بتاؤ گے۔۔۔۔”
“آئی پرمس۔۔۔پر میرے ڈیڈ کے لیے مجھے یہ کرنا پڑا۔۔۔ایم سوری۔۔۔۔”
ایان روتے ہوئے ولید کے گلے لگ گیا تھا۔۔۔۔
“تمہارے ڈیڈ بہت جلدی تمہارے پاس ہوں گے۔۔۔۔حمزہ تم ایان کو لے جاؤ۔۔۔”
ولید نے عدیل کے ہاتھ پاؤں کھول دئیے تھے۔۔۔اور خود اپنے بھائی کو اٹھا کر وہاں سے لے گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا نے فون نہیں اٹھایا ماما۔۔۔؟؟؟”
سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے۔۔۔۔
“نہیں بچوں بابا وہاں پہنچ کر فون کریں گے۔۔۔۔”
“اور آپ بھی جا رہی ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
ارش کے ماتھے پر بوسہ دے کر حورعین اٹھ گئی تھی اور اپنا موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھا لی تھی۔۔۔۔
“کیا میں پوچھ سکتا ہوں بہو رات کے اس پہر کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟؟”
وجاہت صاحب بھی اٹھ گئی تھے اپنا کھانا چھوڑ کر۔۔۔۔
“راؤ کے ساتھ ابھی بہت حساب باقی ہیں میرے۔۔۔۔ اس نے نا صرف مجھے گمراہ کیا۔۔۔
پر پولیس کو اس نے گواہی دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ ولید کو زہر دینے میں اسکا بھی ہاتھ ہے۔۔۔۔
ایم سوری۔۔۔پلیز بچوں کا خیال رکھئے گا۔۔۔۔میں جلدی آجاؤں گی۔۔۔”
وہ بھی ولید کی طرح جلدی سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مائرہ کہاں ہے وہ۔۔۔؟؟؟”
حورعین نے پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا تھا اور مائرہ بیٹھ گئی تھی گاڑی میں۔۔۔۔
“میم جسے میں نے راؤ کا پیچھا کرنے کے لیے لگایا تھا وہ شہر سے باہر اس لوکیشن پر ہیں”
“ہیں۔۔۔؟؟؟ کتنے لوگ ہیں۔۔۔؟؟ مائرہ تم گھر جاؤ ایڈریس مجھے دے دو میں آگے سے اکیلی جاؤں گی۔۔۔۔۔”
حورعین نے گاڑی سائیڈ پر کھڑی کر دی تھی۔۔۔۔
“حورعین میم۔۔۔۔ ایم سوری پر میں بھی ساتھ جاؤں گی۔۔۔۔”
“میں تمہیں خطرے میں نہیں ڈال سکتی مائرہ۔۔۔۔”
“خطرے میں اب وہ لوگ ہیں۔۔۔گرلز پاور دکھا دیتے ہیں آج انکو۔۔۔۔”
مائرہ نے آنکھ ماری تھی جس پر حورعین ہنس دی تھی۔۔۔
اور پھر ہنستے ہنستے رونے لگی تھی۔۔۔۔۔
“ولید کو زہر اس رات سے دیا گیا تھا مائرہ۔۔۔۔
اور راؤ جیسے شخص پر میں نے بھروسہ کیا۔۔۔اگر ولید کو کچھ ہوجاتا تو میں نے بھی مرجانا تھا۔۔۔”
“ششش پلیز۔۔۔چپ ہوجائیے۔۔۔”
مائرہ نے جیسے ہی حورعین کو گلے لگایا تھا حورعین اور ذیادہ رونے لگی تھی۔۔۔
اور روتے روتے اسکی آواز سسکیوں میں تبدیل ہوگئی تھی۔۔۔
“اس نے جاتے ہوئے ایک بار مڑ کر نہیں دیکھا وہ مجھ سے نفرت کرنے لگا ہے پھر سے مائرہ۔۔۔اور مجھے ڈر ہے ولید شاہ کی نفرت پھر سے سب کچھ برباد نا کر دے۔۔۔۔”
“میم۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا وقت لگے گا پر سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔ولید شاہ کی نظروں میں اب محبت کے ساتھ ساتھ آپ کی عزت بھی ہے۔۔۔
اور بربادی کو پھر سے برباد نہیں کیا جاسکتا۔۔۔اب انہیں اور آپ کو سب آباد کرنا ہوگا۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
ولید اسے اپنے اپارٹمنٹ میں کیوں لاۓ ہو۔۔۔؟؟؟اوو شٹ۔۔۔ اسکی اتنی بری حالت کی ان لوگوں نے۔۔۔۔۔”
حمزہ نے بیڈ پر عدیل کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
“ہممم۔۔۔۔اچھا ابھی گھر میں نا بتانا میں یہی ہوں۔۔۔ابھی نینا کو اسکے انجام تک پہنچانا ہے۔۔۔۔”
“اوکے۔۔۔۔پر حورعین کو یہ سزا کیسی۔۔۔؟ وہ تو یہ سمجھ رہی ہے کہ تمہیں یہ لگتا ہے کہ زہر تم نے دیا اسے۔۔۔۔”
۔
“ہاہاہاہا۔۔۔بےبی ڈول نے مجھے اس ایک رات تڑپا دیا تھا مجھے بھی لگا تھا کہ وہ مجھے زہر دہ دے گی۔۔۔
پر وہ بھی میری طرح نکلی محبت میں دیوانی۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔سہی ہے تم دونوں کا۔۔۔۔ اچھا ولید ایان نے سچ میں تمہیں۔۔۔”
“ہمم اس رات میں کچن میں ایان مجھے کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوگیا تھا حمزہ۔۔۔ اور ایک بات حویلی کی سیکیورٹی میں سے کسی ایک نے اندر کا رستہ لازمی دیکھایا ہوگا۔۔۔۔۔ پتا کرنا”
“پکڑ لیا تھا اسے۔۔۔۔آگے میں خود ہی دیکھ لوں گا۔۔۔۔”
“اور حمزہ عدیل کو جب تک ہوش نہیں آجاتا میں یہیں ہوں۔۔۔۔
حورعین نے مجھے یاد دلایا تھا عدیل میرا چھوٹا بھائی ہے ایک آخری موقع دوں گا اسے پر حورعین کی رضامندی کے بعد۔۔۔۔”
ولید کی باتوں نے شوکڈ کردیا تھا حمزہ کو۔۔۔۔
پر اب وہ کیا کرسکتا تھا۔۔۔۔
ولید کی ہاں میں ہاں ملا کر وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تمہاری بیوقوفی کی وجہ سے میں پکڑی جا سکتی ہوں ایڈیٹ۔۔۔۔”
نینا نے غصے سے دروازہ کھولا تھا اس پرانے گھر کا جس میں وہ رہ رہی تھی۔۔۔۔
“اور جو میں پکڑا گیا ہوں۔۔۔؟؟ کس طرح وہ آیا اور لے گیا اپنی بیوی کو۔۔۔اور ہر ثبوت تھا اور تو اور وہ ڈاکٹر۔۔۔۔ ولید شاہ مجھے چھوڑے گا نہیں۔۔۔۔
پر جو غصہ میں نے حورعین میڈم کی آنکھوں میں دیکھا وہ مجھے سزا دیئے بغیر نہیں ٹلے گا۔۔۔۔”
راؤ بنا دروازہ بند کئیے اندر داخل ہوگیا تھا اور بڑبڑائے جا رہا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔وہ بھیگی بلی۔۔۔۔ راؤ مرد بنو۔۔۔۔”
“تم نہیں جانتی وہ بھیگی بلی اس شیر کی بیوی ہے۔۔۔اب اس شیر سے نہیں ڈاکٹر نینا اسکی بیوی سے ڈرو۔۔۔۔”
نینا نے حورعین کی تعریف سن کر گلاس دیوار پر مار دیا تھا جس سے راؤ اس سے بھی ڈر گیا تھا۔۔۔۔
“اپنے باقی کے پیسے پکڑو اور دفعہ ہوجاؤ راؤ۔۔۔۔اور وہ فائل۔۔۔۔اب راؤ مجھے اصلی فائل چاہیے ورنہ وہ لوگ تو بعد میں کریں گے جو کریں گے میں تمہیں پہلے سزا دوں گی”
راؤ نے فائل نکال کر نینا کے سامنے رکھ دی تھی۔۔۔۔
“مجھے سکندر صاحب نے نقلی فائل دینے کا کہا تھا۔۔۔۔”
راؤ جلدی سے پیسے اٹھا کر بھاگا تھا۔۔۔اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا کہ حورعین نے گاڑی اس کے سامنے لاکر بریک لگائی تھی۔۔۔۔
“راؤ بہت جلدی میں لگ رہے۔۔۔؟؟؟”
حورعین گاڑی سے نکل کر سامنے آگئی تھی اور اسکے ہاتھ میں گن تھی۔۔۔۔
“وہ۔۔۔میم۔۔۔حورعین میڈم۔۔۔”
“راؤ اپنے آپ پر میں نے ہمیشہ سب کچھ برداشت کیا تھا پر میرے اپنوں پر آنچ آۓ اور میں برداشت کر جاؤں گی۔۔۔؟؟
ولید شاہ حورعین کی جان نہیں ہے ولید شاہ میں جان ہے حورعین کی۔۔۔۔
ہم الگ ہوئے تھے۔۔۔پر تم نے ہمیں جدا کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔
اب میں تمہیں موقع دے رہی ہوں بھاگو اور جان بچاؤ اپنی۔۔۔۔”
۔
راؤ نے ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے بھاگنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
“حورعین کی گن اٹھی تھی۔۔۔۔پر اس نے گولی نہیں چلائی تھی۔۔۔پر جب اس نے ہوائی فائر کیا تھا راؤ ڈر کر وہیں بےہوش ہوکر گر گیا تھا۔۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا میم یہ تو ڈر سے بے ہوش ہوگیا۔۔۔۔”
حورعین ابھی اس کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ اور دو گاڑیاں آگئیں تھیں وہاں۔۔۔۔
“سیریسلی بہو۔۔۔؟؟؟”
وجاہت شاہ گاڑی سے نکل کر حور کے سامنے آۓ تھے اور اسکے ہاتھ سے گن پکڑ لی تھی۔۔۔۔
“اپنے بیٹے سے کہہ دیں کہ مرد بنے اور واپس گھر آۓ۔۔۔ورنہ اسی گن سے اسے سچ میں شوٹ کر دوں گی۔۔۔۔”
وجاہت شاہ جاتے ہوئے تک گئے تھے۔۔۔۔اور کچھ سیکنڈز کے بعد کھل کر ہنسے تھے
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ ولید شاہ اب واقع مشکل میں ہیں۔۔۔۔۔”
حورعین کے سر پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے اپنے گارڈز کو راؤ کو اٹھا کر گاڑی میں بیٹھانے کا کہہ دیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
“میم وہ اندر ڈاکٹر نینا ہے۔۔۔۔”
“مائرہ اسے میرے شاہ جی دیکھ لیں گے۔۔۔۔”
حورعین نے آنکھ ماری تھی مائرہ کو۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
ولید حورعین ٹھیک نہیں ہے کافی دن سے بیمار تھی اب بےہوش ہوگئی ہے۔۔۔
تم ہائیپر نا ہو۔۔ابھی ڈاکٹر کو بلایا ہے۔۔۔۔”
حمزہ نے فون بند کردیا۔۔۔۔
اور کچھ دیر میں ولید حویلی میں تھا اور سیدھا اپنے بیڈروم کی طرف گیا تھا۔۔۔۔
سب لوگ روم کے باہر انتظار کر رہے تھے ڈاکٹر اندر چیک اپ کر رہی تھیں
۔
“آپ لوگ میری غیر حاضری میں میری بیوی کا خیال نا رکھ سکے۔۔۔”
“ولید وہ تمہاری بیوی ہے تمہاری ذمہ داری ہے۔۔۔۔
اور ویسے بھی اپنی بیویوں سے ہم کم تنگ آۓ ہوئے ہیں۔۔۔”
وجاہت صاحب نے اتنے ہی غصے سے کہا تھا کیونکہ انہیں غصہ تھا ولید کے اس طرح چلے جانے سے۔۔۔۔
ان دنوں حورعین کے اداس چہرے کو دیکھ کر وہ بہت زیادہ پریشان ہورہے تھے انہیں لگ رہا تھا کہ انکا بیٹا کہیں پھر نا اپنا گھر خراب کر لے۔۔”
“بابا سائیں آپ کو تو میں بعد میں بتاتا ہوں۔۔۔ولید بچوں کی طرح خفا ہوکر اندر چلا گیا تھا۔۔۔۔
“ڈاکٹر میری بیوی اب ٹھیک ہے۔۔۔؟ کیا ہوا ہے۔۔پلیز آپ۔۔۔”
شئیز پریگننٹ مسٹر شاہ۔۔۔”
“ڈاکٹر وہ تو ٹھیک ہے پر بےہوش ہونے کی وجہ آپ ایسے ہنس کیوں رہی ہیں۔۔۔؟؟”
اور وہ چپ ہوگیا تھا جب ڈاکٹر کی بات اسے سمجھ آئی تھی۔۔۔۔
“ڈاکٹر۔۔۔سچ میں۔۔۔؟؟؟”
“شئیز پریگننٹ مبارک ہو۔۔۔۔۔”
ولید کا چہرہ اسکے آنسوؤں سے بھر گیا تھا۔۔۔۔
“حدید۔۔۔۔۔”
ولید نے جھک کر حورعین کے پیٹ پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔
یا اللہ میں میں کیسے تیرا شکریہ ادا کروں میرے مالک۔۔۔۔ مجھے اتنا نواز دیا میرے مولا۔۔۔”
ولید نے سر جھکا کر حورعین کے کندھے پر رکھ دیا تھا جو ابھی بھی جاگی نہیں تھی اپنی بےہوشی سے
ولید حورعین کے چہرے پر اسکے ماتھے پر بار بار بوسہ دیا تھا وہ خوشی سے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔۔
اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
“حدید ولید شاہ۔۔۔۔ بابا آپ کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگا کر رکھیں گے۔۔۔”
حورعین کے ماتھے پر اپنا سر رکھ لیا تھا اس نے۔۔۔۔
“بےبی ڈول مجھے اتنی بڑی خوشی دینا کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔تم نے ولید شاہ کو پوری طرح مکمل کردیا آج۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
