Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

“بےبی ڈول یار اب سوری بول تو رہے ہیں یہ دونو بندر۔۔۔”
ولید نے بچوں کو آنکھ مار دی تھی جب دونوں نے غصے سے دیکھا تھا ولید کو بندر کہنے پر۔۔۔
“دو بندر۔۔؟؟ تین بندر نظر آرہے ہیں مجھے۔۔۔”
حورعین نے ٹاول بیڈ پر رکھ کر الماری سے اپنا نئے کپڑے نکالنا شروع کر دئیے تھے۔۔
“ہاہاہاہا۔۔بابا۔۔۔”
“بابا سائیں۔۔۔۔”
اب دونوں بچے ہنسے سے۔۔۔
“ارے میں بندر تھوڑی ہوں۔۔۔ میں تو گوریلا ہوں بڑا سا خونخار گوریلا۔۔۔”
ولید دونوں بچوں کو پیچھے کر کے حورعین کی طرف لپکا تھا جو بلکل ڈر گئی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا بےبی ڈول۔۔۔۔”
ولید دونوں بچوں کے ساتھ بیڈ پر گر کے ہنسنے لگا تھا اور حورعین کھلے منہ سے تینوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“گو ٹو ہیل۔۔۔۔”
“بےبی ڈول تمہارے بغیر کہیں نہیں جانا۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا ۔۔۔بابا روکڈ۔۔۔۔”
“ماں شوکڈ۔۔۔۔”
ارش نے عاشی کا فقرہ کمپلیٹ کیا تھا۔۔۔۔
“حورعین پاؤں پٹک کر اپنے کپڑے باتھروم میں لے گئی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔بچوں تمہاری پاں بھڑک گئی ہے۔۔۔ روم سے نکلتے ہیں۔۔۔”
اور تینوں پھر سے ہنستے ہوئے روم سے چلے گئے تھے
“یااللہ۔۔۔ولید شاہ ابھی بھی بچہ ہی ہے۔۔۔۔”
حورعین نے ہنستے ہوئے شیشے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
اور اپنی ہنسی اور چہرے پر مسکان دیکھ کر وہ خود بھی حیران تھی۔۔۔
۔
“ویسے بےبی ڈول۔۔۔ہنستے ہوئےاور بھی خوبصورت لگتی ہو۔۔۔”
باتھروم کے دروازے کے اس طرف سے آواز آئی تو حورعین نے غصے سے دیکھا تھا بند دروازے کو۔۔۔
“شاہ جی۔۔ابھی تک کمرے میں ہیں آپ۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ویسے بےبی ڈول غصے میں اور زیادہ خوبصورت لگتی ہو۔۔۔”
حورعین نے جیسے ہی دروازے ہاتھ مارا تھا ولید ہنستے ہوئے پیچھے ہٹ گیاتھا۔۔
“باپ رے اتنا غصہ میری ڈول کو۔۔۔”
اور حورعین نے غصے سے دروازہ کھول دیا تھا۔۔۔
اور اگلے پل پاؤں پھسلنے سے وہ ولید شاہ کی باہنوں میں تھی۔۔۔
“شاہ جی۔۔۔”
دونوں صوفہ پر گر گئے تھے۔۔۔ ولید کی گرفت بہت مظبوط ہوگئی تھی حورعین کی وئیسٹ پر۔۔۔
“ہمم میری جان۔۔۔ابھی اتنا بھڑک رہی تھی۔۔۔اب چپ ہوگئی۔۔۔؟؟”
ولید نے حورعین کا جھکا ہوا سر اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
“پیچھے ہٹیں شاہ جی۔۔۔”
حورعین نے چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا۔۔۔ ولید شاہ کے اتنے قریب اسکی دھڑکن اور تیز ہورہی تھی۔۔پر وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
“پر شاہ کی جان میں تو پیچھے ہی ہوں۔۔۔”
ولید نے دونوں ہاتھ ہٹا لئیے تھے۔۔۔
پر جب حورعین اٹھنے لگی تھی ولید نے پھر سے اپنے ہاتھ حورعین کی وئیسٹ پر رکھ دئیے تھے۔۔۔
“ولید۔۔۔”
“بہت جلدی ہے جانے کی میری بانہوں سے۔۔؟؟”
ولید کی آنکھوں میں ایک درد بھر آیا تھا حور کی جلدی دیکھ کر۔۔۔
“ہمم۔۔۔۔”
حورعین نے سر ولید کے سینے پر رکھ دیا تھا جب ولید نے حورعین کا جواب سن کراپنے دونوں ہاتھ اٹھا لئیے تھے۔۔۔
“جاؤ۔۔۔میں زبردستی تمہیں اپنی آغوش میں نہیں رکھنا چاہتا شاہ کی جان۔۔۔”
“ہمم پر شاہ جی مجھے اچھا لگتا ہے جب مجھے زبردستی رکھتے ہیں آپ اپنی آغوش میں۔۔۔”
حورعین نے ولید کی ہرٹ بیٹ سنتے ہوئے سرگوشی کی تھی۔۔۔ اور ولید کی گال پر بوسہ دے کر اٹھ گئی تھی۔۔۔
“حورعین۔۔۔۔”
ولید نے مسکراتے ہوئے اپنے اسی گال پر ہاتھ رکھا تھا اور حورعین کو روکنے کی کوشش کی تھی۔۔۔پر وہ پھر سے باتھروم میں بھاگ گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“یہ قصور میرا ہے۔۔۔کہ یقین کیا ہے۔۔۔
دل تیری ہی خاطر رکھ چھوڑ دیا ہے۔۔۔”
۔
حورعین کو لگا تھا ولید روم سے چلا گیا ہوگا نیچے۔۔۔وہ بنا دوپٹہ لئیے باتھروم سے باہر آگئی تھی۔۔ اس سوٹ کا میچنگ دوپٹہ روم میں ہی بھول گئی تھی۔۔
اور جب اسے گا کوئی روم میں نہیں وہ بلاجھجک باہر آگئی تھی۔۔۔
پر جب روم میں آئی تو ولید دوسری وہیں اسی جگہ بیٹھا ہوا تھا فون پر ایک کلائنٹ سے بات کر رہا تھاجب حورعین کو دیکھا تو بات کرتے ہوئے رک گیا تھا وہ
جس طرح حورعین شرما گئی تھی ولید کے ساتھ اسکی نظر بھی بیڈ کے اسی کارنر پر گئی تھی جہاں اسکا دوپٹہ پڑا ہوا تھا۔۔۔
“میں آپ سے بات میں بات کرتا ہوں۔۔”
ولید نے فون بند کر دیا تھا۔۔۔اور وہاں سے اٹھ کر دوپٹہ اٹھایا تھا۔۔۔۔
اور حورعین کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
“مجھے لگا تھا آپ چلے گئے ہوں گے۔۔۔”
حورعین نے نظریں جھکا لی تھی۔۔۔
“تمہیں پتا ہے جب تم مجھے عزت سے “آپ” کہتی ہو مجھے کتنا اچھا لگتا ہے۔۔۔”
حورعین نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو ولید بلکل سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔
۔
“اک تو ہی ہے دولت میری۔۔۔حاصل تو میرا۔۔۔۔
کتنی ہے محبت تجھ سے۔۔۔بےحساب وفا۔۔۔۔”
۔
“ولید میرا دوپٹہ۔۔۔”
ولید نے بہت آہستہ سے وہ دوپٹہ اوڑھا دیا تھا اسے۔۔۔
اور حورعین کو پوری طرح سے ٹرن کر کے اسکا رخ آئینے کی طرف کردیا تھا۔۔۔
اور خود اپنا چہرہ حورعین کے کندھے پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
۔
“تم جانتی ہو تمہیں اپنے اتنا پاس پاکر میری بےچین روح کو سکون مل جاتا ہے حورعین۔۔۔
جیسے تھکا ہوا انسان پانی پی کر سکون کا سانس لیتا ہے ویسا سکون۔۔۔
جیسے تیز ظوفان گزر جانے کے بعد ایک گہری خاموشی چھا جاتی ہے ویسا سکون۔۔۔
جیسے مرتے ہوئے انسان کو ایک دھڑکن ملتی ہے اسے زندگی واپس ملنے جیسا سکون۔۔۔”
ولید کی گرفت جیسے ہی مظبوط ہوئی تھی ان دونوں کی آنکھیں سامنے شیشے میں دیکھ رہی تھی ایک دوسرے کو۔۔۔
۔
“کوئی درد رہا نا دل میں۔۔۔نا کوئی خلا۔۔۔۔
ہر خواہش پوری ہوئی ہے۔۔۔تجھے پا جو لیا۔۔۔”
۔
“ولید۔۔۔”
حورعین چہرہ پھر جھکا لیا تھا۔۔۔ وہ ولید کی گرفت سے آزاد ہونا چاہتی تھی پر ولید شاہ کے اردے کچھ اور ہی تھے جب اس نے حورعین کو وپاس اپنی طرف موڑ لیا تھا۔۔۔
“اور پھر تم ایسے سرگوشی سے میرا نام لیتی ہو۔۔۔میرا خود پر کنٹرول نہیں رہتا ولید کی جان کیوں مجھے ہارٹ اٹیک کروانا چاہتی ہو۔۔؟؟ “
ولید نے مذاق کرنے کی کوشش کی تھی پر دونوں پھر سے سیریس ہوگئے تھے جب ولید نے حورعین کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
اور پاس کیا تھا۔۔۔
حورعین نے اپنی آنکھوں بند کر لی تھی۔۔۔اسکی سانسیں جیسے رک سی گئی تھی۔۔۔
شاید وہ جان گئی تھی ولید شاہ کے ارادے۔۔۔
“میں کبھی تمہاری مرضی کے بغیر تمہیں چھوؤں گا بھی نہیں بےبی ڈول۔۔۔۔”
ولید نے حورعین کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
۔
“پر شاہ جی اتنی خوبصورت بیوی ہو سامنے تو کنٹرول کھو سکتے ہیں آپ۔۔۔”
۔
حورعین نے ہنستے ہوئے ولیدکے گلے لگ گئی تھی۔۔۔
پتا نہیں کیوں آج ولید شاہ کے الفاظ نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔۔۔جیسے ابھی ولید شاہ کی آغوش نے۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ولید اب ہاتھ چھوڑ دیں۔۔۔”
“کیسے چھوڑ دوں۔۔تم مجھے چھوڑ کر بھاگ گئی تو۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔نہیں چھوڑیں گے تو بھاگ جاؤں گی۔۔۔ہاہاہاہا”
“ہاہاہاہا بےبی ڈول۔۔۔۔”
دونوں روم سے باہر آگئے تھے۔۔۔ہنستے ہوئے نیچے جانے لگے تھے تو کچھ آوازوں
نے انہیں روک دیا تھا۔۔۔
۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو دھکا دینے کی۔۔”
“تمہاری بہن کی ہمت کیسے ہوئی میری سیٹ پر بیٹھنے کی۔۔۔”
ایان نے غصے سے کہا تھا ارش کو۔۔۔
“اچھا نام لکھا ہوا ہے تمہارا۔۔؟؟ دکھاؤ مجھے۔۔۔”
ارش نے غصے سے ایان کا ہاتھ پکڑ کر اسے کرسی کی طرف دھکا دیا تھا۔۔۔
سب لوگ ایک پل میں حیران ہوگئے تھےبچوں کی لڑائی دیکھ کر۔۔۔
“ایان بیٹا۔۔۔”
حمزہ نے ایان کو پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“زیادہ اوور سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں سب جانتے ہیں یہ میری جگہ ہے۔۔۔”
“اچھا اب سے نہیں رہی۔۔۔عاشی بیٹھو یہاں آکر۔۔۔”
ارش نے ڈری ہوئی عاشی کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس اس کرسی پر بٹھانے کی کوشش کی پر ایان نے اسے پھر سے دھکا دے دیا تھا۔۔۔اس بار ارش نے پکڑ لیا تھا اسے۔۔۔
“میں تیرے ہاتھ توڑ دوں گا۔۔”
ارش نے ایان کو مکا مار دیا تھا۔۔۔جو نیچے گر گیا تھا۔۔۔
“ارش۔۔۔”
حورعین غصے سے ارش کے پاس جانے لگی تھی کہ ولید نے اسکا ہاتھ روک دیا تھا۔۔۔
“توڑ کر دکھا میرے ہاتھ۔۔۔۔”
ایان نے بھی ارش کو مکا مار دیا تھا۔۔۔ دونوں بچے لڑنے لگے تھے بُری طرح اور گھر کے بڑوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کسی کہیں سہی اور غلط کہیں۔۔۔
“تیری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی ارشمان ولید شاہ پر۔۔۔”
ارش نے پھر سے ایان کو مکا مارا تھا۔۔۔
“اور تیری ہمت کیسے ہوئی مجھے مارنے کی۔۔۔میں بڑا ہوں تجھ سے۔۔۔ ایان عدیل شاہ ہوں میں”
“ہاہاہاہا۔۔۔ بڑا۔۔؟؟ چل جا کام کر اپنا۔۔۔ ورنہ تجھے بھی نکال دوں گا اس حویلی سے جیسے میرے بابا سائیں نے تیرے بابا کو نکالا تھا۔۔۔”
ایان نے ارش کو غصے سے نیچے دھکا دے دیا تھا اور دونوں میں پھر سے لڑائی ہوگئی تھی۔۔۔
ابھی تک کوئی آگے نہیں بڑھا تھا سب دونوں بچوں کی باتوں سے اتنا شوکڈ ہوگئے تھے۔۔۔۔
“حورعین کی نظروں میں جو اب تک نرمی تھی پھر سے غصے اور نفرت میں بدل گئی تھی۔۔۔
۔
“ارشمان ولید شاہ۔۔۔۔ابھی اوپر بابا کی سٹڈی میں جاؤ۔۔۔۔”
“پر ماں۔۔۔”
“ابھی۔۔۔۔”
۔
حورعین کی آواز سے ملازم تو وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔ ارش عاشی کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے جانے لگا تھا کہ ایان کے پاس رک گیا تھا۔۔۔۔
“میری بہن کی طرف دیکھنا بھی مت آج کے بعد۔۔۔بہت بُرا حال کروں گا۔۔۔”
۔
وجاہت شاہ نے جیسے ہی ولید کی طرف دیکھا تھا ولید شاہ کے کندھے فخر سے اور چوڑھے ہوگئے تھے۔۔۔پر تب تک جب حور کی نظریں اس پر نہیں پڑی تھیں۔۔۔۔
۔
“ذکیہ۔۔۔خون اور وراژت بدلی نہیں جا سکتی۔۔۔ یہ شاہ خاندان ہے۔۔۔ اب ہمیں مردوں کی نہیں اپنی تربیت دینی ہوگی اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے
“ولید شاہ” اور عدیل شاہ نا بنے۔۔۔ کیوں کہ ان دونوں کا انجام ہمارے سامنے ہے۔۔۔
آج اپنے بیٹوں کو لاڈ پیار دیا تھا پتا نہیں کتنی زندگیاں برباد کردیں گے یہ۔۔۔
تم ان سالوں میں میری بہن جیسی رہی ہو میرے ساتھ۔۔۔”
حورعین نے ذکیہ کا روتا ہوا چہرہ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔ ذکیہ کے چہرے پر درد دیکھ کر اسکی آنکھیں بھی بھر آئیں تھیں۔۔۔۔
“حورعین ہم انہیں نہیں بدل پائیں گے۔۔۔ یہ ہمارے نام سے نہیں جانے جائیں گے۔۔۔
انکی وراثت انکا جنون انکے خون میں دوڑ رہا ہے۔۔۔ایم سوری ایان کی طرف سے۔۔۔”
ذکیہ وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔۔
اور حورعین کی نظریں ایان پر گئی تھیں جس کے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا۔۔۔
حورعین اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گئی تھی
“درد ہورہا ہے۔۔۔”
حور نے دوپٹے کی ایک سائیڈ سے ایان کے ہونٹ صاف کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔”
“جھوٹ۔۔۔ہورہا ہے۔۔۔”
حورعین ایان کے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے گلے لگا لیا تھا اور ایان رونے لگا تھا۔۔۔
پر جب ولید نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تو ایان نے بس ایک ہی سوال پوچھا تھا جس سوال نے سب بڑوں کو آبدیدہ کر دیا تھا۔۔۔۔
۔
“آپ نے میرے بابا کو گھر سے کیوں نکالا تھا۔۔؟ آپ کو پتا ہے جو آج ارش نے مجھے کہا ہے۔۔۔ وہ مجھے میری کلاس کے بچے بھی کہتے ہیں۔۔۔”
ایان نے حورعین کے گلے میں سر چھپا لیا تھا اور روتا رہا تھا وہیں کھڑے۔۔۔پر وہ اکیلا نہیں رو رہا تھا۔۔۔
حورعین کی آنکھیں بھی بھر گئیں تھیں وجاہت شاہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
مہرالنسا بھی روتے ہوئے چلی گئی تھیں وہاں سے۔۔۔
“ایم سو سوری ایان۔۔۔اب میں تمہاری سیٹ پر نہیں بیٹھوں گی۔۔۔”
عاشی نے ایان کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
“اب میں یہاں نہیں رہوں گا۔۔۔حمزہ انکل کے ساتھ اب میں انکے گھر میں رہوں گا۔۔۔ بائے۔۔۔”
ایان نے پیچھے ہوکر حمزہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
۔
سب چلے گئے تھے وہاں سے پر ولید شاہ وہیں کھڑا تھا۔۔۔
آج اس نے خود کو اپنے بیٹے میں دیکھا تھا اور وہ ڈر گیا تھا۔۔۔ اپنے آپ کو دیکھ کر وہ ڈر گیا تھا۔۔۔
اسے صاف نظر آرہے تھے
عدیل شاہ۔۔۔
ولید شاہ
ان دو چھوٹے بچوں میں۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ماں وہ۔۔۔”
ارش کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا تھا حورعین نے۔۔۔۔
“حورعین۔۔۔”
“ولید اچھا ہوگا اگر آپ ہم ماں بیٹے کی بات میں نا بولیں۔۔۔”
حورعین نے ولید کو ایک دم سے پیچھے ہونے کا کہہ دیا تھا۔۔۔
“ماں ۔۔۔۔اس نے عاشی کو مارا تھا۔۔۔”
” تو کیا تم نے اسے نہیں مارا تھا ارش۔۔۔؟؟”
“تو اس نے بھی مجھے مارا تھا۔۔۔میں نیچے حساب برابر کر آیا ہوں۔۔۔”
ارش نے چہرے غصے سے پیچھے کرلیا تھا۔۔۔
“حساب۔۔؟؟ اسے اسکے فادر کا طعنہ دے کر ارشمان ولید شاہ۔۔۔
یہ تربیت ہے۔۔۔ تم جانتے کیا ہو۔۔؟ تم نے لڑائی اس سے کی تھی۔۔۔پھر اتنی بڑی باتیں۔۔؟؟ یہ تربیت نہیں تھی میرے ڈیم اِٹ۔۔۔یہ نہیں سکھایا تھا میں نے تمہیں۔۔۔”
حورعین چلا دی تھی۔۔۔عاشی ولید کے پیچھے چھپ گئی تھی۔۔۔اور ولید شاہ پوری طرح شوکڈ تھا اتنا غصہ دیکھ کر۔۔۔
“ماں اس نے عاشی کو دھکا دیا تھا۔۔۔ آپ کی تربیت نے مجھے سٹینڈ لینا سکھایا ہے ڈر کے جینا نہیں۔۔۔اور جو میں نے کہا سچ تھا۔۔۔”
جہاں ارش کی بات سن کر حور اور ولید خوش ہوئے تھے وہیں حورعین فقرمند ہوگئی تھی۔۔۔ وہ ارش کو دوسرا ولید شاہ بنتے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“کیا سچ۔۔؟؟ کیسا سچ ارش۔۔۔؟؟”
“یہی کہ بابا سائیں نے اسکے بابا کو نکال دیا تھا۔۔اگر اب اس نے ایسا کیا تو میں بھی اسے نکال دوں گا۔۔۔اگر اس نے ہاتھ لگایا عاشی کو میں۔۔۔توڑ دوں گا اسکے ہاتھ۔۔۔۔”
اور اس بار جو تھپڑ حورعین نے ارش کو مارا تھا وہ نیچے گرگیا تھا ۔۔۔
“ارش سیریسلی۔۔۔؟؟”
حورعین نے ہاتھ کے اشارے سے ولید کو اسکی جگہ روک دیا تھا ولید شاہ کی آنکھوں میں بےپناہ غصہ تھا۔۔۔
“ارش تم ایسے نہیں ہو۔۔۔؟ تمہیں اپنے غصے کو قابو کرنا سیکھنا ہوگا۔۔۔
ایان کے بابا تمہارے بابا کے چھوٹے بھائی ہیں ارش وہ بھائی جس کا ہاتھ پکڑ کر تمہارے بابا بچپن میں سکول لے کر جاتے تھے جیسے تم عاشی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے لے جاتے ہو۔۔۔
ایان کے بابا تمہارے بابا کے چھوٹے بھائی ہی نہیں انکے بیٹے بھی تھے۔۔۔”
حورعین کی باتوں نے ولید کو اپنا منہ کھڑکی کی طرف کرنے پر مجبور کر دیا تھا ولید نے اپنی مٹھی بند کر لی تھی اپنی آنکھوں کے ساتھ۔۔۔۔
“ارش بابا اور ایان کے بابا میں لڑائی ہوئی تھی۔۔۔وہ دونوں بھائیوں کا مسئلہ ہے بچے کب سے بڑوں کی باتوں میں بولنے لگے۔۔۔؟؟
تم جانتے ہو جب بابا پاس نہیں ہوتے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔میرے بابا میرے پاس نہیں تھے۔۔۔ مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی۔۔۔
ایان وہی درد برداشت کر رہا ہے اسکے بابا اسکے پاس نہیں ہیں۔۔۔
تم جانتے ہونا درد ہوتا ہے۔۔۔؟؟ وہ حمزہ انکل کا گھر چھوڑ کر یہاں آتا تھا اسے یقین تھا اسکے بابا ایک دن آئیں گے اسےپیار کریں گے اسے اپنے گلے سے لگائیں گے اور کہیں گے بیٹا اب میں آگیا ہوں۔۔۔۔”
حورعین کا پورا چہرہ بھر گیا تھا۔۔۔اسکی آواز بند ہوگئی تھی اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔
“ارش ولید شاہ بنو گے تو بہت تکلیف میں رہوں گے۔۔۔ تمہیں اینجل بننا پڑے گا
تمہیں کسی کو نکالنا نہیں ہے تمہیں اپنانا ہے سب کو۔۔۔ جب تمہیں سب دیکھیں تو کہیں کے ماں باپ کی تربیت بہت اچھی تھی۔۔۔تم ولید شاہ نہیں بن سکتے۔۔۔
ولید شاہ نے ٹوٹ کر بکھر کر سنبھالا تھا خود کو سب کچھ توڑنے بکھیرنے کے بعد۔۔
تم وہ بنو جو تمہارے بابا اب ہیں اینجل ۔۔۔ ہمارے اینجل۔۔۔۔میرے اینجل۔۔۔۔”
حورعین نے ارش کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا عاشی بھی بھاگتے ہوئے آگئی تھی دونوں کے پاس۔۔۔
حورعین نے ولید کی بیک کو کانپتے ہوئے دیکھا تھا وہ جانتی تھی ولید شاہ اپنے رونے کی آواز اپنے منہ سے باہر آنے نہیں دے گا۔۔۔
۔
جب دونوں بچے چپ ہوگئے تھے ارش ولید کے پاس چلا گیا تھا۔۔۔
“ایم سو سوری بابا۔۔۔ ماں اب میں آپ دونوں کا اچھا بیٹھا بنوں گا۔۔۔۔”
ولید نے نیچے جھک کر اسے اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔
۔
اور کچھ دیر بعد دونوں بچے باہر چلے گئے تھے ولید حور کو اکیلا چھوڑ کر۔۔۔۔
۔
“میں کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں حورعین۔۔۔۔”
“ولید۔۔۔”
حورعین نے ولید کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا کہ وہ پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔
“پلیز۔۔۔”
“میں نہیں جاؤں گی۔۔۔”
“اوکے۔۔۔رہو۔۔۔میں چلا جاتا ہوں۔۔۔”
ولید پاس سے گزر کر دروازے تک جانے لگا تھا حورعین نے اسکا ہاتھ پکڑ لیاتھا۔۔۔
“تم کس سے بھاگ رہے ہو۔۔؟؟”
“تم سے تمہاری باتوں سے دور بھاگ رہا ہوں۔۔۔”
“کیوں ولید اب چبھ رہی ہیں میری سچی باتیں۔۔۔؟؟”
“ہاں بےبی ڈول چبھ رہی ہیں۔۔۔پر جو آج ہوا مجھے اسکا اتنا افسوس بھی ہے اور دکھ بھی۔۔۔”
“اس لئیے ارش کو لاڈ پیار سے بگاڑ رہیں ہیں آپ۔۔؟؟”
“میں صرف اپنے بچوں کو محبت دے رہا ہوں وہ جس کے حقدار ہیں۔۔۔”
“اور ایان۔۔؟؟ ایان کو اسکے بابا کی کمی۔۔۔”
“اسکے باپ کو میں نے نہیں کہا تھا گندی نظر رکھے بڑے بھائی کی بیوی پر۔۔۔ اس گھٹیا انسان نے ہم دونوں کو کہاں لاکر کھڑا کر دیا ہے۔۔۔”
ولید بہت زیادہ غصے میں بولا تھا۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔اب سارا الزام کسی تیسرے انسان پر۔۔۔؟؟”
ولید نے حیرانگی سے حورعین کے چہرے کو دیکھا تھا۔۔۔
“ولید جب میاں بیوی کے رشتے میں لڑائی ہو کسی شک پر تو غلطی باہر والے کی نہیں ہوتی۔۔۔
یہ انکا کم بھروسہ انکی کم محبت انکلے درمیان شک لیکر آتی ہے،،،،
ہم دونوں کی غلطی تھی جو کوئی تیسرا ہمارے درمیان آیا۔۔۔
ولید آج کےبعد اگر بچوں کی تربیت زرا بھی خراب ہوئی تو میں بہت سختی سے پیش آوں گی۔۔
آج انکومیں تھوڑا سا مار دوں گی تو وہ کل زمانے کی مار کھانے سے بچ جائیں گے۔۔۔
پلیز بچوں کو پیسے عیش عشرت دے کر انہیں اور نا بگاڑیں۔۔۔پلیز۔۔۔۔”
حورعین نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ ولید کے چہرے پر رکھ لیا تھا ۔۔۔
“میں پوری کوشش کروں گا حورعین۔۔۔میں نہیں چاہتا زندگی میں جو بربادیاں میں نے کی ہیں وہ ارش بھی کرے۔۔۔ ایان کو بھی میں واپس لاؤں گا میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔
بچوں میں ناانصافی نہیں ہوگی کبھی۔۔۔۔
میں شفقت کا ہاتھ رکھوں گا بےبی ڈول۔۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“شہر کے باہر ایک ویرانے جگہ میں ایک گھر تھا جس کے باہر بہت سی گاڑیاں کھڑی تھی اور پہرہ دے رہے تھے کچھ گارڈز۔۔۔۔”
۔
“اب پلان کیا ہےتمہارا ڈاکٹر نینا۔۔؟ وہ عدیل شاہ تو اب غائب ہوگیا”
“غائب نہیں ہوا ولید شاہ کے پاس ہے وہ۔۔۔”
ایک اور شخص اس اندھیرے سے نکل کر سامنے آگیا تھا۔۔۔
“سکندر انکل آپ۔۔۔؟؟”
نینا بہت شوکڈ ہوگئی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہا اتنا حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے نینا بیٹا۔۔۔میرا حساب باقی ہے ابھی وجاہت شاہ سے۔۔۔”
“راٹھور کا حساب بھی باقی ہے ابھی۔۔۔ مجھے اور میرے بیٹے کو جس طرح اس وئیر ہاؤس میں رکھ کر ٹوچر کیا گیا تھا میں اسے بھولوں گا نہیں “
سکندر صاحب نے نینا کی طرف دیکھا تھا جو اشارے کی زبان سمجھ گئی تھی۔۔۔
“ڈاکٹر نینا جو ہم نے منگوایا تھا وہ کہاں ہے۔۔؟؟”
راٹھور نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔تو نینا نے اپنے پرس سے ایک چھوٹی سی بوتل نکال کر ٹیبل پر رکھ دی تھی۔۔۔
“یہ ہے وہ نشہ جس کی زیادہ ڈاو پوائیزن کا کام کرتی ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہا ہمارا کام ہوجائے گا۔۔۔۔”
رنجیت راٹھور نے بوتل پکڑنے کی کوشش کی تو نینا نے ہاتھ پیچھے کر لیا تھا۔۔۔
“ایسے نہیں میرا کام نہیں ہوا وہ فائل کہاں ہے۔۔؟؟”
“تم اس فائل کا کرو گی کیا۔۔۔؟؟”
“ولید شاہ کو بلیک میل۔۔۔اس فائل میں اسکے ہی نہیں اسکے سارے خاندان کے راز چھپے ہیں ابھی تک کے انکے سہی غلط کام۔۔۔انکی پراپرٹی۔۔۔سب بینک اکاؤنٹس ہر ایک انفارمیشن۔۔۔”
اور نینا کی بات سے تین لوگوں کی آنکھوں میں لالچ آگئی تھی۔۔۔
سکندر شاہنواز ، راٹھور ، رنجیت راٹھور۔۔۔
“ہممم تمہارا کام ہوجائے گا۔۔۔ ہم نے ایک ایسے شخص کو۔۔۔”
“یہ کام مجھے اس حورعین کے زریعہ کروانا ہے۔۔۔تاکہ وہ بُری بنے سب کی نظروں میں۔۔
اسے فریم کرنا چاہتی ہوں میں۔۔۔”
“ہمم راؤ سامنے آجاؤ۔۔۔۔”
راٹھور نے آواز دے دی تھی اور وہ انسان آگیا تھا۔۔۔
“یہ تو حورعین کی کمپنی کا وکیل ہے۔۔۔اسکے لیے کام کرتا ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا اب ہمارے لیے کرے گا۔۔۔ کیوں راؤ۔۔۔؟؟”
“جی۔۔جی سر۔۔۔۔”
۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
۔
“حورعین اب تمہیں ایک ساتھ سب کچھ کھونا پڑے گا۔۔۔اپنا ولید شاہ بھی۔۔۔”
“نینا وہ بوتل دے کر وہاں سے جانے لگی تھی کہ رک گئی تھی۔۔۔
“ان سب میں ولید کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔اگر ولید کو کچھ ہوا تو میں کسی کونہیں چھوڑوں گی۔۔۔”
نینا وہاں سے چلی گئی تھی دھمکی دے کر۔۔۔
“ہاہاہا بیوقوف لڑکی۔۔۔ ولید شاہ کو تو ہم نے سب کچھ کرنا ہے۔۔۔”
“پر راٹھور حورعین کیسے زہر دے گی ہم سب جانتے ہیں وہ ولید شاہ کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔۔۔”
“وہ تم مجھ پر چھوڑ دو سکندر۔۔۔جاؤ اب انتظار کرو وجاہت شاہ کی تباہی کا۔۔۔”
۔
۔
وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ گیم کر رہے تھے۔۔۔۔
کسی کا مقصد وجاہت شاہ کو نقصان پہنچانے کا تھا
تو کسی کا مقصد ولید شاہ کو۔۔۔۔۔
اور کسی کا مقصد حورعین کو۔۔۔۔۔۔
۔
پر انہیں نہیں پتا تھا انکے سامنے ڈھال بن کر کون کھڑا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
ولید شاہ۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
حورعین میم۔۔۔وہ فائل شاہ حویلی کی سٹڈی روم میں ایک لاکر میں پڑی ہے۔۔۔
اس فائل کے ساتھ ہم میڈیا میں ثبوت کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔۔۔
اور ولید شاہ کا اصل چہرہ سب کے سامنے آجائے گا۔۔۔وہ برباد ہوجائے گا”
راؤ کی بات سن کر حورعین نے لکھنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔
“یہ ضروری بات تھی تمہاری راؤ۔۔؟؟”
حور نے غصےسے پوچھا تھا۔۔۔پچھلے کچھ دنوں میں وہ بھول گئی تھی اپنے بدلے کو پر اب راؤ کے لہجے میں نفرت محسوس کر کے اسے غصہ آرہا تھا۔۔۔۔
“میم۔۔۔حاشر سر کی روح کو سکون نہیں ملے گا ۔۔اور پتا نہیں کتنے لوگوں کو مار دیا ولید شاہ نے۔۔۔
اگر آپ نے وہ فائل لینی ہو تو۔۔۔اسکے لیے ضروری ہے ولید شاہ کو یہ نیند کی دوا دے کر سلا دینا۔۔۔”
“نیند کی دوا۔۔؟؟”
حورعین اٹھ گئی تھی۔۔۔
“جی۔۔۔اسے دودھ یا جوس میں ملا کر دیں گی تو وہ کچھ دیر تک سو جائیں گے۔۔۔”
راؤ بس اتنا ہی کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
“حورعین میم۔۔۔”
مائرہ نے اٹھ کر حور کو اسکی کھوئی دینا سے باہر نکالا تھا جو پانچ منٹ سے اس بوتل کو دیکھی جا رہی تھی۔۔۔۔
“میم۔۔۔میں بس اتنا کہنا چاہتی ہوں۔۔۔آپ کی نفرت زیادہ بڑھی ہے یا ولید شاہ کی محبت آپ کے لیے۔۔۔”
“حورعین نے مائرہ کی طرف دیکھا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کچھ۔۔۔
“میرا مطلب ہے۔۔۔ ولید شاہ کی آپ کے لیے بے-پناہ محبت۔۔۔اور آپ کی آنکھوں میں بھی محبت کی شدت اتنی ہی ہے۔۔۔
اب یہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے۔۔۔آپ اپنی محبت اپنا کر بدلہ بھول جائیں گی یا اپنی محبت ٹھکرا کر اپنی نفرت کو جتا دیں گی۔۔۔
راؤ جیسا انسان ایک دم سے اس طرح شیطانی ہو گیا ہے آپ کو نہیں لگتا اسکے پیچھے کچھ راز ہے۔۔؟؟”
اور مائرہ بھی چلی گئی تھی وہاں سے۔۔۔۔
حورعین اپنی سوچوں میں گم ہوگئی تھی۔۔۔ وہ بوتل وہاں رکھ کرآفس ونڈو سے شہر کی روشنیاں دیکھ رہی تھی۔۔۔”
۔
“کیا میں نے اپنی نفرت کو اتنا ظاہر کردیا کہ راؤ جیسے لوگ میرے ولید کو برباد کرنے کے لیے مجھے ایسی سازشیں بتانے لگے۔۔؟؟
کیا ولید شاہ کا انجام ایسا چاہتی ہوں میں۔۔۔؟؟”
حورعین کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔
“میں کبھی ایسا نہیں چاہتی تھی ولید۔۔۔تم سے نفرت۔۔یااللہ کس آزمائش میں ڈال دیا مجھے۔۔۔؟؟
تمہاری محبت نے مجھے آباد کیا تھا ولید۔۔۔۔
پھر اسی محبت کی تپش نے حورعین کو برباد کردیا۔۔۔
میری محبت نے تمہیں اینجل بنا دیا تھا۔۔۔
آج میری نفرت کی تپش تمہیں برباد کردینا چاہتی
پر تمہیں برباد کردیا تو میں بھی خالی ہوجاؤں گی ولید۔۔۔
اس نفرت میں بھی محبت میں کمی نہیں آئی
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ولید۔۔۔۔نیچے اتار دیں آپ تھک جائیں گے۔۔۔۔”
“نہیں تھکتا بےبی ڈول۔۔۔ ساری عمر تمہیں اپنی بانہوں میں اٹھا کر ایسے ہی چلتا رہوں۔۔۔۔شرط یہ ہے تمہاری نظریں میرے چہرے کو اسی طرح پیار سے دیکھتی رہیں۔۔۔۔۔”
ولید کی گرفت اور مظبوط ہوگئی تھی۔۔۔جب وہ ہر سیڑھی بہت آہستہ آہستہ چڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔
۔
“مجھے پیار دو۔۔۔مجھے پیار دل بے قرار ہے پیار دو۔۔۔”
برسو کیا ہے میں نے انتظار مجھے پیار دو۔۔۔””
۔
حورعین نے ولید کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا ولید کی نظروں میں اس شدت کی محبت اس سے برداشت نہیں ہو پارہی تھی۔۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ ہاتھ نہیں ہٹاؤ گی تو ضرور گر جائیں گے میری جان۔۔۔۔”
“ولید شاہ کیسے گرنے دے گا مجھے۔۔۔؟؟ “
حورعین نے آنکھیں بند کر کے ولید کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔۔۔
“اس حالت میں بھیگے ہوۓ کوئی دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا شاہ جی۔۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ سیریسلی شاہ جی۔۔۔۔؟ سب ملازم چھٹی پر ہیں جان۔۔۔۔”
“اور بابا سائیں۔۔۔؟؟ اور بچے۔۔۔۔”
حورعین کی انگلیاں ولید کی آنکھوں سے ہوتے ہوئے ولید کے ہونٹوں پر آکر رک گئیں تھیں۔۔۔۔۔ وہ ولید کو تنگ کر رہی تھی ولید وہیں رک گیا تھا۔۔۔
“ولید شاہ آپ کا دھیان کہاں ہے۔۔۔؟ ساری رات یہیں بتانی ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟؟”
“بےبی ڈول ڈونٹ ٹیمپٹ مئ۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔”
ولید فائینلی روم تک آگیا تھا حورعین کو اپنی بانہوں میں اٹھائے۔۔۔۔۔
اور جب روم میں آۓ تو ہر طرف حورعین کی تصویریں تھیں۔۔۔جو صبح تک نہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
“ولید یہ۔۔۔۔۔”
“یہ وہ یادیں ہیں جن کے سہارے ولید شاہ ابھی تک جی رہا تھا۔۔۔۔”
ولید نے حورعین کو جیسے ہی نیچے اتار دیا تھا وہ اس روم کی فوٹوز دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔۔
۔
“یہ عاشقی۔۔۔۔تجھ سے شروع۔۔۔۔تجھ پر ختم۔۔۔۔۔
تیرے لیے ہی سانسیں ملی ہیں۔۔۔۔تیرے لیے ہی ملا ہے جنم۔۔۔۔”
۔
جس فوٹو فریم کے سامنے حورعین کھڑی اس فوٹو کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ولید نے کب پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا اسے پتا نہیں چلا۔۔۔۔۔
“یہ وہ فوٹو ہے جب بےبی ڈول تم نے شادی کی ضد کی تھی۔۔۔۔”
ولید نے حورعین کے کندھے سے اسکے بھیگی ذلفیں ہٹا کر جیسے ہی اسکے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھے تھے حورعین کی گرفت ولید کے ہاتھ پر اور مظبوط ہوگئی تھی جو حورعین کی ویسٹ پر تھا۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔”
“شش۔۔۔۔اور یہ وہ فوٹو ہے جس میں تم نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔۔۔۔”
ولید نے حورعین کے ہاتھ کو اپنے لبوں پر لاکر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔۔
۔
“تم میرے ہاتھوں میں۔۔۔پریم لکیر جیسی ہو۔۔۔۔
میں دیوانہ رانجھا۔۔۔۔تم ہیر جیسی ہو۔۔۔۔”
۔
“ولید۔۔۔میں چینج کر لوں۔۔۔۔۔”
حورعین نے خود کو ولید کی گرفت سے چھڑا کر دو قدم آگے بڑھائے تھے کہ ولید نے پھر سے اسے بانہوں میں قید کرلیا تھا۔۔۔۔۔
۔
“جاؤ ناؤ اِس طرح ۔۔۔
بانہوں سے چھوٹ کر۔۔۔۔۔”
۔
ولید کے چہرے پر مایوسی دیکھ کر حورعین نے ولید کی سینے پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔۔۔
۔
“ہر پل تنہائی میں تمہیں یاد کرتا تھا۔۔۔۔۔
اپنی سونی دنیا میں آباد کرتا تھا۔۔۔۔”
۔
ولید کے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ کر حورعین نے ولید کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔۔
“درد کے وہ سبھی سخت موسم گئے۔۔۔۔
ہم ملے تو لگا پل یہیں تھم گئے۔۔۔۔۔”
۔
ولید نے پھر سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔دونوں کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔۔۔
۔
“اب نا جدا ہوں۔۔۔۔سپنے ہمارے۔۔۔
جب تک ہے۔۔۔دم میں دم۔۔۔۔”
۔
“ولید۔۔۔۔”
“زندگی کے کتنے سال ضائع کردئیے نا ہم نے حورعین۔۔۔۔اب جدائی کا گمان بھی سانسیں روک دیتا ہے۔۔۔۔”
“ولید۔۔۔۔”
“اینجل۔۔۔۔اینجل کہو بےبی ڈول۔۔۔۔۔”
“و۔۔۔۔۔”
اور ولید شاہ نے بےبی ڈول کو بولنے کا موقع نہیں دیا تھا۔۔۔جب اسکے ہونٹ رک گئے تھے حور کے ہونٹوں کے پاس آخر۔۔۔۔
“اینجل۔۔۔۔”
ولید کے ماتھے پر حورعین نے اپنا سر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔
۔
“تیری وفا کے بدلے ملے تو۔۔۔۔۔
منظور ہے ہر ستم۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“حورعین۔۔۔”
ولید نے سرگوشی کی تھی۔۔
“اینجل۔۔۔”
ولید نے حورعین کی آنکھوں میں دیکھا تھا اور پھر سے اپنا چہرہ جھکا لیا تھا حور کے چہرے کی طرف۔۔۔
اس سے پہلے فاصلے کم ہوتے حورعین کو چھینک آگئی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ بےبی ڈول جاؤ چینج کر لو۔۔۔”
ولید پیچھے ہوگیا تھا اور الماری سے اسے اسکے کپڑے نکال کر دئیے تھے اور اپنے بھی۔۔۔
حورعین جلدی سے چینج کرنے چلی گئی تھی۔۔۔اور جب واپس چینج کر کے آئی تھی ولید کو اسی جگہ اسی فوٹو فریم کے سامنے کھڑا پایا تھا۔۔۔
“میں کھانا گرم کر کے لاتی ہوں آپ چینج کرلیں۔۔۔”
ولید کا جواب سنے بغیر وہ باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ولید وہ پوائیزن حورعین کے پاس ہے۔۔۔اور اسے خود نہیں پتا وہ زہر ہے۔۔
اسے یہی پتا ہے کہ وہ نیند کی دوائی ہے۔۔۔پلیز تم کچھ بھی کھانا نہیں۔۔۔اور کچھ پینا بھی نہیں مجھے واپس آنے میں وقت لگے گا پلیز۔۔۔”
۔
“ہاہاہاہاہا حمزہ تمہیں نہیں لگتا اب اس گیم کو ختم ہوجانا چاہیے۔۔۔؟؟ بےبی ڈول کا غصہ اگر مجھے مار کر ختم ہوجائے گا تو ایسے ہی سہی۔۔
اگر میں زندہ بچ گیا تو ان لوگوں کو بھیانک موت دوں گا جن لوگوں نے حورعین کے ساتھ یہ گیم کھیلنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔”
۔
ولید نے اپنا موبائل آف کردیا تھا۔۔۔
۔
“بےبی ڈول۔۔۔میری زندگی میری خوشیاں میں نے بہت پہلے تمہارے نام کردی تھیں۔۔۔”
ولید اپنے کپڑے لیکر چینج کرنے چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
اور دوسری طرف حورعین کے ہاتھ میں وہ بوتل تھی جسے وہ بار بار دیکھ رہی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دیر بعد۔۔۔۔”
۔
۔
“ایسے کیا دیکھ رہیے ہیں ولید۔۔۔؟؟”
حورعین نے دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر پوچھا تھا۔۔۔
“دیکھ رہا ہوں اللہ ہمیں انسانوں کے روپ میں نعمتیں آتا کرتا ہے نا۔۔
جیسے کہ تم میری لیے نعمت ہو۔۔۔”
۔
“ولید۔۔۔”
ولید نے حورعین کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر کھینچ لیا تھااپنے پاس لٹا لیا تھا۔۔۔
“ولید۔۔۔”
“شش۔۔۔اگر آج رات میرے پاس میری زندگی کی آخری رات ہوگی تو میں اس رات کو تمہیں پیار کرنے میں گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔”
حورعین جہاں اداس ہوگئی تھی وہاں ولید کی آخری بات پر شرما بھی گئی تھی جب اسے سمجھ آگئی تھی
“اب شرما گئی ہو جان میری۔۔۔؟؟ دیوانے کی آخری خواہش سمجھ لو اِسے۔۔۔”
ولید بہت قریب ہوگیا تھاحور کے۔۔۔۔
۔
“محبت سے زیادہ محبت ہے تم سے۔۔۔
یہ دل کہہ رہا ہے۔۔۔قسم سے قسم سے۔۔۔۔”
۔
“ولید۔۔۔ایم یورز ٹو کلیم۔۔۔”
حورعین نے ولید کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا تھا۔۔۔
ولید شاہ کی باتوں نے ان دونوں کو جذباتی کردیا تھا۔۔۔۔
“ہائے بےبی ڈول۔۔۔اس کے بعد واپسی نہیں ہے۔۔۔”
ولید نے بہت آہستہ سے بوسہ دیا تھا حورعین کے لبوں پر۔۔۔۔
۔
“مجھے واپسی نہیں چاہیے ولید شاہ۔۔۔”
حورعین نے ولید کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا اور اسکے ہاتھ ولید کی گردن سے ہوتے ہوئے ولید کی شرٹ کے بٹن تک پہنچ گئے تھے۔۔۔۔۔
۔
“بچا کےرکھوں گی۔۔۔سب ہی الجھنوں سے۔۔۔
تمہیں گیسوؤں کی گھنئی چھاؤں دوں گی۔۔۔۔
مجھے چاہے کچھ بھی زمانہ کہے گا۔۔۔۔۔
تیرے بازؤں میں ہی سوئی رہوں گی۔۔۔۔”
۔
“تم نہیں جانتی اس پل کے لیے کتنا انتظار کیا ہے میں نے حورعین۔۔۔
تمہیں پیار کرنے کے لیے۔۔۔تمہیں اپنی بانہوں میں ٹوٹتا دیکھنے کے لیے۔۔۔
تمہار ی آغوش میں بکھرنے کے لیے۔۔۔۔”
ولید نے سرگوشی کرتے ہوئے حورعین کا دوپٹہ اتار کر پھینک دیا تھا کسی ایک کارنر پر۔۔۔
۔
“ولید۔۔۔”
حورعین نے کروٹ لے لی تھی ولید کی باتیں اسے اور شرم سے پانی پانی کر رہی تھیں۔۔۔
“ولید کی جان۔۔۔”
اور جب حورعین نے پلٹ کر نہیں دیکھا تو ولید نے حورعین کے کندھے سے اسکی زلفیں پیچھے ہٹا کر پھر سر سرگوشی کی تھی۔۔۔
“تمہیں پتا تمہارا شرما جانا مجھے اور پاگل بنا دیتا ہے تمہارا۔۔۔ یہ دیوانہ اور زیادہ دیوانہ ہو جاتا ہے تمہارا۔۔۔”
ولید کے لب جیسے ہی حورعین کی گردن پر محسوس ہوئے تھے حورعین واپس مڑ کر ولید کے سینے سے لگ گئی تھی۔۔۔۔
۔
“ٹوٹے تو ٹوٹےتیری بانہوں میں ایسے۔۔۔
جیسے شاخوں سے پتےبے حیا۔۔۔
بکھرے تجھ ہی سےاور سمٹے تجھ ہی میں۔۔۔
تو ہی میرا سب لےگیا۔۔۔۔”
۔
۔
“آئی لو یو بے بی ڈول۔۔۔۔”
ولید نے حورعین کو پھر بولنے کا کوئی موقع نہیں دیا تھا۔۔۔
جیسے ہی ولید کی شرٹ اس دوپٹے کے پاس گری تھی۔۔۔
حورعین نے شرما کر اپنے دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیے تھے۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہا تمہارا شرمانا مجھے گھائل کر دے گا کسی دن۔۔۔۔”
ولید نے ہنستے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔
اور پھر حسرت بھری نگاہوں سے پاس پڑے دودھ کے گلاس کو دیکھا تھا۔۔۔
اور جب حورعین کو کو حرکت محسوس نہیں ہوئی حورعین نے ہاتھ ہٹا کر ولید کو دیکھا جس کی آنکھیں بھری ہوئی تھی۔۔۔
“ولید۔۔۔” حورعین نے کی آنکھوں پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔
۔
“تم جانتی ہو۔۔۔تم میری زندگی کا وہ خوبصورت خواب ہوجس کے سچ ہونے کی دعائیں کی میں نے چاہت کی میں نے۔۔۔وہ خوبصورت خواب۔۔۔
کہ جو سچ ہوا تو زندگی نہیں رہی پاس۔۔۔۔”
۔
“ایسا کیوں کہہ رہے ہو۔۔؟ ولید ۔۔۔”
“کچھ نہیں۔۔بس اتنا جان لو تم میری وہ لاحاصل محبت ہو جس نے مجھے بہت تڑپایا۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”
ولید کی آنکھیں صاف کی تھی حورعین نے اسے کچھ کچھ سمجھ آرہی تھی ولید کی باتیں۔۔۔پر وہ سامنے کمزور پڑے انسان کو ایسے نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
سو اس نے وہ کیا جس نے ولید اور اسے دونوں کو شاکڈ کر دیا تھا۔۔۔
جب اس نے ولید کے چہرے اپنے اور قریب کر دیا تھا۔۔۔
“شاہ جی کچھ زیادہ ہی نہیں باتیں کر رہے آپ۔۔؟؟ اتنی جلدی کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔موت بھی الگ نہیں کر سکے گی ہمیں ہماری محبت کو۔۔۔”
“حورعین۔۔۔”
“شش۔۔۔۔”
حورعین نے بہت آہستہ سے اپنے لب ولید شاہ کے لبوں پر رکھ دئیے تھے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ گھنٹوں کے بعد۔۔۔
حورعین نے جب آنکھیں کھولی تو ولید شاہ کی گرفت میں پایا تھا خود کو۔۔۔
اور کچھ لمحوں کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی۔۔۔
اور پھر اسے وہ باتیں یاد آئی تھیں جو اس نے مائرہ کے ساتھ کی تھی۔۔۔
جب اس کی نظر دودھ کے گلاس پر پڑی تو وہ خالی تھا۔۔۔حورعین نے حیران ہوکر ولید کی طرف دیکھا جو بہت گہری نیند سو رہا تھا۔۔۔۔
اور وہ بوتل جو راؤ نے دی تھی اس نے اسی طرح وہ اپنے پرس سے نکال کر باتھروم میں بہا دی تھی۔۔۔۔۔
۔
“شاہ جی۔۔۔میری نفرت اور میرا بدلہ آپ کی محبت کے آگے کچھ نہیں ہے۔۔”
حورعین نے ولید کے ماتھے پر بوسہ دے دیا تھا۔۔۔اور اپنے کپڑے اٹھائے باتھروم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
اس نے آج بہت سے فیصلے لیے تھے۔۔۔پر وہ ایک بار اس فائل کو دیکھنا چاہتی تھی جس کے بارے میں راؤ نے زکر کیا تھا تھا۔۔۔
حورعین شاور لئے باتھروم سے باہر آگئی تھی اور اسکی نظر ولید کے کوٹ کی طرف گئی تھی۔۔۔
بہت ڈھونڈنے کے بعد اسے کچھ کئیز مل گئی تھی۔۔۔ جو اسے لگ رہا تھا سٹڈی میں موجود لاکر کی ہوں۔۔۔
وہ جلدی سے چابیاں لئے روم سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آخر کہاں ہوگی وہ فائل۔۔۔؟؟”
“اس فائل کو تو نہیں ڈھونڈ رہی تم۔۔۔؟؟”
پیچھے سے کسی نے ایک فائل آگے کی تھی۔۔۔
حورعین جو اندھیرے میں موبائل کی روشنی سے فائل ڈھونڈ رہی تھی اسکا موبائل ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔۔
“وہ۔۔۔مم۔۔دراصل۔۔۔”
“اگر میرے بیٹے کو برباد کر کے تمہیں دئیے گئے دکھوں اور تکلیفیوں کا مداعوا ہوسکتا ہے تو تم وجاہت شاہ کو بھی برباد کر سکتی ہو بیٹا۔۔۔۔”
وجاہت صاحب نے وہ فائل حورعین کے سامنے رکھ دی تھی۔۔۔اور اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔