No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
۔
“میم موسم بہت خراب ہے آئی تھنک ہمیں رک جانا چاہیے۔۔۔۔”
۔
“اگر تم نے اپنے بہانے بتا دیئے ہیں تو گاڑی سٹارٹ کرو۔۔۔۔”
حورعین نے جب پیچھے دیکھا تو ولید وہیں کھڑا تھا۔۔۔۔ حور نے جلدی سے منہ آگے کر لیا تھا جیسے ہی گاڑی چلنا شروع ہوئی تھی۔۔۔۔۔
۔
“ولید تم نے مجبور کیا مجھے۔۔۔ میں بھولنا چاہتی تھی اس رات کو اس اپارٹمنٹ کے اس کمرے کو جو میرے لیے نجات بھی تھا۔۔۔اور میرے لیے جہنم بھی بنا۔۔۔۔”
حورعین نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔۔
۔
“ہیلو میڈم۔۔۔کہاں جارہی ہو اکیلے اکیلے۔۔۔؟؟”
پاس سے کچھ بائیک میں بیٹھے لڑکوں نے گزرتے ہوئے بہت سے فقرے کسنا شروع کر دئیے تھے۔۔۔۔
“راؤ گاڑی کی سپیڈ بڑھا دو۔۔۔۔مائرہ شیشے بند کر دو۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔او میڈم۔۔۔۔”
“بدتمیز۔۔۔۔۔”
حورعین نے اپنی ونڈو کا شیشہ بھی بند کردیا تھا۔۔۔۔
۔
گاڑی کی سپیڈ جیسے ہی تیز ہوئی تھی وہ لوگ پیچھے رہ گئے تھے۔۔۔۔
“ڈسگسٹنگ۔۔۔۔”
“ریلکس میم۔۔۔۔ یہاں اِس روڈ میں اِس وقت ایسے ہی اوبعاش لڑکے ریسنگ کرتے ہیں۔۔۔۔۔”
۔
راؤ نے آہستہ سے کہا تھا۔۔۔۔
حورعین نے غصے سے پھر سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
شاہ حویلی۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
دادو بہت تیز بارش ہورہی ہے۔۔۔ماما بابا نہیں آۓ ابھی تک۔۔۔۔؟؟؟”
عاشی نے مہرالنساء کی گود میں رکھے سر کو پھر سے اٹھا کر دیکھا تھا۔۔۔
“عاشی بیٹا وہ آجائیں گے۔۔۔۔ارش آپ بھی آکر بیٹھ جاؤ۔۔۔۔”
“ثمرین پھوپھو ماں کے نمبر پر کال کریں نا۔۔۔۔”
ابھی دونوں بچے سوال جواب کر رہے تھے کہ ولید آگیا تھا وہاں۔۔۔
“بابا ماں کہاں ہیں۔۔۔؟؟؟”
دونوں بچوں نے حورعین کا پوچھا تھا پہلے۔۔۔۔
ولید ایک دم سے رک گیا تھا۔۔۔۔
“ماں آپ میرے کپڑے پیک کردیں گی جلدی سے۔۔۔؟؟”
مہرالنساء ولید کی اور پھر بچوں کی طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
“بابا ماما کہاں ہیں۔۔۔؟؟ آپ کہاں جا رہے ہیں۔۔۔؟؟؟”
“عاشی۔۔۔ارش کم بیٹا۔۔۔۔”
ولید نے دونوں کو اپنے پاس بٹھا لیا تھا۔۔۔۔
“بچے ماں ایک ضروری میٹنگ پر گئی ہیں۔۔۔”
“کونسی ضروری میٹنگ۔۔۔؟ تمہاری بیوی نا پوچھ کر گئی ہے نا بتا کر گئی ہے۔۔۔بچوں سے زیادہ ضروری ہوگئی میٹنگز اب۔۔۔؟”
وجاہت صاحب بھی روم میں آگئے تھے۔۔۔
“بابا سائیں بچوں کے ذہنوں میں انکی ماں کے خلاف ایسی باتیں نا ڈالیں پلیز۔۔۔ ارش۔۔۔عاشی بیٹا ماں گھر آنا چاہتی تھیں میں نے ہی منع کردیا تھا۔۔۔آپ جانتے ہو نا ماں کتنا پیار کرتی ہے آپ دونوں سے۔۔۔”
“اِٹس اوکے بابا ہم سمجھ سکتے ہیں۔۔۔۔ماں ہم سے بہت پیار کرتی ہیں۔۔”
دونوں بچوں کا جواب سننے کے بعد وجاہت وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
“ولید تم کہاں جا رہے ہو۔۔۔؟ “
مہرالنساء نیچے آگئی تھیں اور پیچھے ملازم ولید کا سوٹ کیس پکڑے کھڑا تھا۔۔۔
“ماں مجھے بھی حورعین کو لینے جانا ہوگا موسم خراب ہے۔۔۔بچوں آپ دونوں یہاں مینیج کر لو گے۔۔۔۔؟؟؟”
ولید نہیں چاہتا تھا بچوں کو اکیلا چھوڑنا پر وہ حورعین کو اکیلے جانے بھی نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔۔
“بابا آپ ماں کے پاس جائیے۔۔۔ہمارے پاس دادا دادی پھوپھو سب ہیں۔۔۔”
ولید نے دونوں کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔اور ماتھے پر بوسہ دے کر اٹھ گیا تھا۔۔۔۔ملازم سے بیگ پکڑ کر وہ سب کو خدا حافظ کر کے جلدی سے چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ہم بس ہاۓ وے پر آگئے ہیں۔۔۔۔آگئے تھوڑا سفر رہ گیا ہے۔۔۔۔۔”
راؤ کہتے کہتے چپ ہوگیا تھا۔۔۔
مائرہ اور حورعین دونوں ہی سو رہی تھیں۔۔۔
۔
کچھ دیر میں جب گاڑی سپیڈ سے رکی تو حورعین کی آنکھیں کھل گئی تھیں۔۔۔
“راؤ اب کیا ہوا۔۔۔۔؟؟؟”
“لگتا ہے کچھ مسئلہ ہوا ہے انجن اچانک سے بند ہوگیا۔۔۔۔”
“تمہیں میں نے کہا تھا مجھے کوئی بھی پرابلم نہیں چاہیے۔۔۔پر نہیں اپنی گاڑی لانی تھی تمہیں۔۔۔۔”
حورعین کی ڈانٹ سننے کے بعد راؤ جلدی سے باہر آگیا تھا اور گاڑی میں خرابی دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔
کہ اتنے میں وہاں سے بہت سی بائیک گزری۔۔۔۔اور گاڑی میں بیٹھی لڑکیوں کو دیکھ کر ان بائیک میں بیٹھے اوبعاش لڑکے گاڑی کے گرد چکر کاٹنے لگے۔۔۔ پھر سے۔۔۔۔
“میڈم لفٹ چاہیے کیا۔۔۔۔؟؟؟ دیکھو میری بائیک خالی ہے۔۔۔۔”
بہت سے فقرے کسنے کے بعد جب یہاں سے کوئی رسپانس نہیں ملا تو ایک لڑکا اتر کے گاڑی کے پاس آگیا۔۔۔۔
“دیکھے اگر آپ یہاں سے نہیں گئے تو میں پولیس کو فون کردوں گا وکیل ہوں میں ۔۔۔۔”
راؤ نے گاڑی سے پیچھے دھکا دیا تھا اسے۔۔۔۔
“ہاہاہاہا وکیل بابو۔۔۔۔”
راؤ کا فون کھینچ کر نیچے زمین پر مار کت توڑ دیا تھا ایک لڑکے نے۔۔۔
اور دو نے راؤ کو پکڑ لیا تھا۔۔۔اسے مارنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو اسے۔۔۔۔۔”
حورعین جلدی سے باہر نکل آئی تھی گاڑی سے۔۔۔۔
“ہاہاہاہا تو میڈم تمیز سیکھا دیں نا ہمیں۔۔۔”
حور نے کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اس نے اور باقی سب ہنسنے لگے تھے۔۔۔۔
“ہاتھ چھوڑو۔۔۔۔”
جب اس نے نہیں چھوڑا تو حورعین نے غصے سے ہاتھ چھڑا کر اسے زور دار تھپڑ مار دیا تھا۔۔۔۔
اور سب نے ہنسنا بند کر دیا تھا۔۔۔۔
“تیری اتنی ہمت۔۔۔۔”
حورعین کا ہاتھ اور زور سے پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
“پکڑو اِسے۔۔۔اِس کی اکڑ ختم کرتا ہوں۔۔۔۔”
دو اور لوگوں نے حورعین کا بازو پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
اور جب مائرہ نے چھڑانے کی کوشش کی تو اسے بھی پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
حورعین نے اب ڈر کر قدم پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی جب وہ لڑکے شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے اسکے گرد چکر کاٹنے لگے تھے۔۔۔۔
۔
“پاس مت آنا تم جانتے نہیں ہو میں کیا کرسکتی ہوں۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔تم جان جاؤ گی میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔۔”
حورعین کے دوپٹے کی طرف اس نے ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔۔تیز بارش پہلے ہی اسے پوری طرح بھیگا چکی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔اب بھیگی بلی نا بنو جو تھپڑ مارا ہے مجھے اسکے بعد تمہیں اس قابل نہیں۔۔۔۔۔”
ابھی وہ آگے بڑھتے ہوئے اپنی بات مکمل کر رہا تھا کہ پاس سے ایک گاڑی بہت سپیڈ سے گزری تھی۔۔۔۔۔
وہ لڑکے ڈر سے گئے تھے۔۔۔۔۔
“وہ گئی یار تو کیوں رک گیا۔۔۔۔یہاں کوئی گاڑی نہیں رکتی۔۔۔۔۔”
وہ سب پھر سے اِن تین لوگوں کی بے بسی پر ہنسے تھے۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔”
حورعین کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔۔”
اس نے بہت بے بسی سے پُکارا تھا۔۔۔اب وہ پچھتا رہی تھی ولید کی بات نا سن کر۔۔۔۔
اس نے اپنے غصے میں گارڈز کو بھی ساتھ نہیں رہنے دیا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ولید کون ولید۔۔۔؟ میرا نام لو نا اِتنے پیار سے شاید میں تھوڑا ترس کھا لوں۔۔۔۔۔”
ہنستے ہوئے اس نے دوپٹہ کھینچنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔
پر جو گاڑی تیزی سے گزری تھی کچھ لمحے پہلے۔۔۔اُتنی ہی تیزی سے وہ واپس بھی آئی تھی اور فاصلے پر جس طرح اس گاڑی نے موڑ کاٹ کر بریک لگائی تھی اس بریک کی آوازیں دور دور تک سنی جا سکتی تھی۔۔۔۔
۔
“اینجل۔۔۔۔۔”
۔
“ابھی ابھی۔۔۔بھولے بھی نا تھے تمہیں۔۔۔
خیال بن کہ پھر تم آگئے۔۔۔۔”
۔
حورعین کی تیز دھڑکنے اسے بتا چکی تھی سامنے گاڑی میں کون ہے۔۔۔۔
گاڑی کا دروازہ کھلا اور جو باہر نکل کر آرہا تھا وہ اینجل نہیں تھا۔۔۔
وہ ایک بِیسٹ تھا۔۔۔۔
انکے پاس آتے وقت اس نے اپنا کوٹ پوری طرح اتار دیا تھا اور جیسے وہ ان لڑکوں کے درمیان میں سے گزر رہا تھا سب پیچھے ہوگئے تھے حور کے ہاتھ جن دو لوگوں نے پکڑے تھے ولید شاہ کے چہرے پر غصہ دیکھ کر حور کے بازو چھوڑ کر پیچھے ہوگئے تھے دونوں۔۔۔۔
“تم بہت ضدی ہوگئی ہو۔۔۔۔پہلے ان لوگوں کو دیکھ لوں۔۔۔۔”
۔
“احساس جو تھے دل میں کہیں ان۔کہے۔۔۔۔
لفظوں پہ وہ پھر یوں آگئے۔۔۔۔۔”
۔
ولید نے پوری طرح سے حورعین کو کور کردیا تھا۔۔۔۔
“راؤ کوٹ دو اپنا مائرہ کو۔۔۔۔۔”
راؤ نے جلدی سے خود کو چھڑا کر اپنا کوٹ اتار کر مائرہ کو دے دیا تھا۔۔۔۔
۔
“کون ہے تو۔۔۔۔ چپ چاپ چلا جائے یہاں سے۔۔۔۔۔”
ولید جس کی نظریں حورعین کی بھیگی پلکوں پر تھی اس بارش میں بھی اسے پتا چل رہا تھا۔۔۔۔
پر پیچھے سے آواز سن کر ولید نے اس لڑکے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
اور اپنا چہرہ صاف کیا تھا بارش کے پانی سے۔۔۔۔
حورعین کے چہرے پر ایک مسکان آگئی تھی ولید شاہ کو اِس طرح سے دیکھ کر وائٹ شرٹ بلیک پینٹ میں۔۔۔۔ بارش میں بھیگتے اور پھر چہرے صاف کرتے۔۔۔۔
اسے ایک بار پھر سے محبت ہوگئی تھی ولید شاہ سے اسکی خوبصورتی سے۔۔۔۔اسکے غصے سے۔۔۔۔۔
“چپ چاپ بھیجنے والوں میں سے ہوں میں۔۔۔۔”
ولید کی طرف جیسے ہی اس لڑکے نے ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔ولید نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کو موڑ دیا تھا۔۔۔۔
“آ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ لڑکا درد سے چلا اٹھا تھا۔۔۔۔۔
“ششش شور نہیں ورنہ اور ماروں گا۔۔۔۔۔”
ولید شاہ نے اس پر پھر ترس نہیں کھایا تھا۔۔۔۔۔
“ہمارے دوست کو مار رہا ہے اور تم لوگ دیکھ رہے ہو۔۔۔۔
بہت سے لڑکے بائیک سے اتر کر ولید کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔
۔
گاڑی میں بیٹھو تم۔۔۔۔۔”
ولید نے راؤ کی طرف دیکھ کر کہا تھا مائرہ بھی بیٹھ گئی تھی ولید سے سب اتنا ڈر گئے تھے۔۔۔۔۔
“تم نہیں۔۔۔۔تم میری گاڑی میں جا کر بیٹھو۔۔۔۔۔”
ولید کی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر حورعین سمجھ گئی تھی اسکی خیر نہیں۔۔۔۔۔
“ہممم اوکے۔۔۔۔پر ولید شاہ ان لوگوں کو بچہ سمجھ کر زرا کم مارنا پلیز۔۔۔
اور سیدھے ہاتھ کا استعمال کم کرنا یہ پہلے سے زخمی ہے۔۔۔۔”
حورعین نے ولید کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔پر اسکی بات سے جہاں ولید شاہ کا سارا غصہ ختم ہوگیا تھا وہیں اب لڑکوں کو غصہ آگیا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔اگر تجھے پہلے یہ لڑکی چاہیے تھی تو بتا دیتا تو ہم شئیر۔۔۔”
ولید نے جس طرح غصے سے ہاتھ اس لڑکے کی گردن پر رکھا تھا۔۔۔۔اور دوسری نظر حور کو دیکھا تھا وہ جلدی سے گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
“وہ میری بیوی ہے باسٹرڈ۔۔۔۔تجھے اب میں بچہ سمجھ کر نہیں بخشوں گا۔۔۔۔”
“ولید نے اسے بہت مارا تھا۔۔۔بہت سے لڑکے اپنی بائیک سے بہت سی سٹکس اتار کر لے آئے تھے۔۔۔پر کچھ لوگ پیچھے ہٹ گئے تھے۔۔۔۔”
۔
“یہ ولید شاہ ہے۔۔۔۔ بھاگ جاؤ معافی مانگ کر ورنہ معافی کے قابل نہیں چھوڑے گا یہ تمہیں۔۔۔۔”
ایک لڑکا یہ کہتے ہوئے بھاگ گیا تھا وہاں سے۔۔۔۔۔
“اب بھاگنے کا موقع نہیں دوں گا۔۔۔۔”
ولید کو لڑائی کرتے دیکھ وہ گاڑی میں بیٹھے تینوں لوگ بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئے تھے۔۔۔۔
سب سے زیادہ حورعین۔۔۔۔۔
جب ولید کی بازو سے خون بہتا دیکھا تو حورعین نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی۔۔۔
وہ جانتی تھی وہ ذمہ دار ہے۔۔۔۔اسے ولید کی بات سن لینی چاہیے تھی۔۔۔۔
۔
۔
“یہ ٹوٹا ہوا ہاتھ تم لوگوں کو یاد دلاتا رہے گا کہ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔”
ولید نے راؤ سے میٹنگ کا ایڈریس پوچھ کر اسے گاڑی سٹارٹ کرنے کا کہہ دیا تھا۔۔۔۔
اور خود پھر سے اپنا چہرہ صاف کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
“سانسوں کی سر زمین پر۔۔۔۔ برسات لا گئے۔۔۔۔
ایک جھپکی میں تیرے سو۔۔۔۔خواب آگئے۔۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آنئیشا۔۔۔۔۔”
آنئیشا دبے پاؤں جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی تھی لائٹس آن ہوگئی تھی سب گھر کی۔۔۔۔
“ابشام۔۔۔۔ آپ سوئے نہیں ابھی تک۔۔۔۔؟؟؟؟”
وہ پوچھتے ہوئے کچن میں چلی گئی تھی۔۔۔
“جس شخص کی بیوی رات گئے تک اپنے بوتیک میں رہتی ہو اور صبح جلدی چلی جاتی ہو اِس ڈر سے کہ اس سے کوئی سوال جواب نا کرلیا جاۓ۔۔۔وہ شخص کیسے سو سکتا ہے۔۔۔؟؟؟”
وہ بھی کچن میں آگئے تھے۔۔۔۔
“ابشام ابھی میں بہت تھک گئی ہوں پلیز۔۔۔۔۔”
وہ پانی کا گلاس پی کر وہاں سے باہر آگئی تھی۔۔۔۔
“ہممم اور کتنے دن تک ایک ہی بہانہ چلے گا آنئیشا۔۔۔؟؟؟ بوتیک کب سے ضروری ہوگیا۔۔۔؟”
“ابشام۔۔۔۔۔”
“ڈیڈ موم کے لیے بوتیک نہیں اِن کی وہ بیٹی ضروری ہے۔۔۔۔ موم تو بوتیک میں اتنا ٹائم رہتی ہی نہیں ہیں۔۔۔”
نور نے الزام بھرے لہجے میں کہا تھا اور ابشام کے ساتھ آکر کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
“تم اندر جاؤ بیٹا یہ تمہاری موم اور میرے درمیان ہے۔۔۔”
“نووو ڈیڈ۔۔۔جب میں نے اپنی ضد چھوڑ دی ہے تو موم کیوں واپس نہیں چل رہی ہیں ہمارے ساتھ۔۔۔۔؟؟”
“نور اپنے روم میں جاؤ۔۔۔۔”
آنئیشا نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔
“نوو موم۔۔۔یہ دیکھیں ڈیڈ نے ٹکٹس بھی کروا لی ہیں آپ کل ہمارے ساتھ چل رہی ہیں یا اب بھی آپ کو اپنی وہ اورفینیج بیٹی کے پاس۔۔۔۔”
نور کو ایک تھپڑ مار دیا تھا نیشا نے۔۔۔۔
“بدتمیز۔۔۔۔وہ اورفینیج بہن ہے تمہاری کس طرح بتاؤں تمہیں۔۔۔۔”
“بسس آنئیشا یہ آخری بار تھا تم نے نور کو مارا۔۔۔غیروں کے لیے تم اپنوں کو دور کر رہی ہو خود سے۔۔۔۔”
ابشام کے گلے لگ کر رونے لگی تھی نور۔۔۔۔۔
“ابشام مجھے لگا تھا آپ سمجھیں گے۔۔۔۔آپ مجھے سپورٹ کریں گے ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔آپ نور کو سمجھائیں گے پر نہیں آپ باپ بیٹی کی ایگو ہے سامنے۔۔۔۔میرا فیصلہ نا میں ہے۔۔۔۔”
نیشا نے اپنی ٹکٹ پھاڑ کر پھینک دی تھی۔۔۔
“وائے موم۔۔۔بیٹی تو میں بھی ہوں نا آپ کی پھر اتنی تڑپ کیوں اسکے لیے۔۔۔”
“کیونکہ پانچ سال کی عمر میں میں نے اسے ایک اندھیری رات میں چھوڑ دیا تھا ایک اورفینیج کے باہر۔۔۔۔میں نے اپنی اس بدنصیب بیٹی کو ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑ دیا تھا نور۔۔۔۔اور وہ۔۔۔وہ ٹھوکریں کھاتی رہی۔۔۔۔ تم جانتی نہیں ہو میں کتنی اذیت میں رہی ہوں اتنے سال سے۔۔۔۔
تمہیں میرا پیار ملا اپنے ڈیڈ کا پیار ملا۔۔۔۔
پر میری وہ بدنصیب بیٹی۔۔۔۔اسے اسکے ڈیڈ نے اپنانے سے انکار کردیا تھا۔۔۔۔
اسے ابورٹ کروانے کا کہہ دیا تھا مجھے۔۔۔۔میری ڈائیورس کے ساتھ۔۔۔
تم اور تمہارے ڈیڈ جو چاہتے ہیں نا میں وہ نہیں دے سکتی۔۔۔۔اِس لیے تم لوگ جا سکتے ہو میرے بغیر۔۔۔۔۔”
نیشا جس طرح آئی تھیں اسی طرح گھر سے چلی بھی گئی تھیں۔۔۔۔
پیچھے ابشام جن کی آنکھیں بھر گئی تھیں سب سن کر۔۔۔۔اور نورلعین جو پتھر سی بن گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ولید گاڑی آہستہ کر دیجئے۔۔۔۔۔”
حورعین نے پھر سے کہا تھا پر ولید شاہ جب سے ان لوگوں کو مار کر آیا تھا تب سے گاڑی کی سپیڈ تیز ہوئی تھی کم نہیں۔۔۔۔
“کیوں۔۔۔؟؟ بہت جلدی ہے نا تمہیں میٹنگ میں جانے کی۔۔۔۔چلو چلتے ہیں۔۔۔”
“ولید میٹنگ کل ہے پلیز سپیڈ کم کر دیں چوٹ آئی ہے۔۔۔۔”
ولید نے ہاتھ پیچھے کر لیا تھا۔۔۔۔۔
پر سپیڈ کم نہیں کی تھی۔۔۔۔۔
“تمہیں بس یہی زخم نظر آتے ہیں۔۔۔۔جو پوشیدہ ہیں انکے بارے میں کبھی نہیں سوچا تم نے۔۔۔۔۔”
“ولید شاہ ابھی گاڑی کی سپیڈ کم کرو۔۔۔۔”
“نہیں کروں گا۔۔۔۔”
اور دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر لڑائی کرنے لگے تھے۔۔۔۔۔
انہیں یہ بھی پتا نہیں چل رہا تھا کہ سامنے ایک ٹرک بھی آرہا تھا۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔۔”
حورعین کی نظریں جیسے ہی روڈ پر پڑی تھی وہ چلا دی تھی۔۔۔۔
اور اسی وقت ولید نے جلدی سے بریک لگانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔
۔
گاڑی کی ٹرک کے پاس جاتے دیکھ حورعین نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔۔
“آنکھیں کھول لو۔۔۔۔ولید شاہ تمہیں کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔۔۔”
ولید نے گاڑی سائیڈ پر کھڑی کر کے حورعین کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔
“آئی ہیٹ یو ولید شاہ۔۔۔۔۔”
حورعین نے روتے ہوئے ولید کے کندھے پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا۔۔۔جس کے چہرے پر صرف مسکان تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہا آئی لو یو ٹو شاہ کی جان۔۔۔۔۔”
“تمہیں لگتا ہے مجھے اپنے مرنے کا خوف تھا ولید۔۔۔۔؟؟؟”
حورعین کی نم آنکھوں نے جب ولید کی طرف دیکھا تو ولید کی ہنسی چلی گئی تھی۔۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔۔”
“ہاں سوری کہہ دو بس۔۔۔۔دیکھو کتنا خون بہہ رہا ہے۔۔۔۔۔”
حور نے ولید کے کندھے کی طرف دیکھ کر کہا تھا اور جلدی سے اپنے دوپٹے کے کارنر سے کچھ کپڑا اتارنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔
“بےبی ڈول کچھ نہیں ہوا بس ہم پہنچنے والے ہیں۔۔۔۔۔”
“ایک منٹ بس۔۔۔میں یہ کپڑا باندھ دوں گی۔۔۔۔۔”
پر کارنر سے وہ دوپٹے کا حصہ نہیں اتارا جا رہا تھا اس سے۔۔۔۔۔
ولید جو یہ دیکھ کر ہنس رہا تھا۔۔۔۔۔
“ارے رہنے دو۔۔۔۔”
“اففففو۔۔۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتی یہ فلموں ڈراموں میں کیسے اتنی جلدی دوپٹے کے حصے پھٹ جاتے ہیں اور زخموں پر لگ جاتے ہیں۔۔۔۔مجھ سے کیوں نہیں ہو پارہا۔۔۔۔۔”
حور نے بڑبڑاتے ہوئے کہا تھا خود سے جو ولید نے سن لیا تھا۔۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔بےبی ڈول۔۔۔۔۔۔”
ولید نے بے ساختہ حورعین کو اپنی طرف کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔اسے بہت وقتوں کے بعد اپنی معصوم بےبی ڈول نظر آئی تھی آج وہ بہت خوش ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
۔
حورعین نے بھی ولید کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔۔
آج جو بھی ہوا بہت گہرا اثر ڈال گیا تھا اس پر۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
میڈم آپ کا کام ہوگیا ہے۔۔۔۔”
“ہمم اِسے اچھی طرح بیڈ کے ساتھ باندھ دو۔۔۔۔”
“پر میڈم عدیل صاحب ابھی بھی زخمی ہیں ہم انہیں ہسپتال سے اٹھا کر لائیں ہیں۔۔۔۔”
اس نے بہت ہمدردی کرتے ہوئے عدیل کی حالت بتائی تھی۔۔۔۔
“اِس نے گناہ ایسے کئیے ہیں کہ اب اس انسان پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔۔۔”
وہ اپنی ویل چئیر اندھیرے سے نکال کر روم کی روشنی میں لے آئی تھی۔۔۔
“اوکے میڈم۔۔۔۔”
اُن دو لوگوں نے پانچ منٹ میں عدیل کو بیڈ کے ساتھ لٹا کر باندھ دیا تھا۔۔۔
“سب ٹھیک سے ہوگیا تھا نا۔۔؟؟ کسی کو کوئی شک تو نہیں ہوا۔۔؟؟”
وہ اپنی ویل چئیر بیڈ کے قریب لے گئی تھی۔۔۔
“ایک گڑ بڑ ہوگئی تھی۔۔۔ انکے گارڈ حمزہ نے پکڑ لیا تھا۔۔۔اور ہماری لڑائی میں وہ بہت زخمی بھی ہوگیا تھا۔۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟ تم لوگوں کو بکواس بھی کی تھی کہ کسی کو کوئی نقصان نا ہو۔۔اور تم لوگ۔۔۔دفعہ ہوجاؤ۔۔۔۔”
“پر ملائکہ میڈم۔۔۔۔”
“میں نے کہا دفعہ ہوجاؤ۔۔۔۔۔”
اور وہ لوگ جلدی سے چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔۔۔
“عدیل تم نے خود کو بہت بڑی مصیبت میں ڈال لیا ہے۔۔۔۔ تمہارے بھائی کو شاید تم پر ترس آجاتا پر ملائکہ سکندر شاہنواز کو تم پر دوسری بار ترس نہیں آۓ گا ۔۔۔۔”
اس نے ٹھنڈے موسم میں بھی کھڑکی کھلی چھوڑ دی تھی۔۔۔اور کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔۔
۔
۔
مجھے پاپا کے ہسپتال اتار دیجیئے گا۔۔۔۔۔”
پورے راستے میں اب جا کر حورعین بولی تھی۔۔۔۔
دو دن بعد آج وہ واپس آئے تھے۔۔۔۔۔
حورعین چپ چپ تھی اس رات کے بعد۔۔۔
اب جہانگیر عالم کے نام پر ولید الرٹ ہوگیا تھا۔۔۔۔
“پاپا کے کیوں۔۔۔؟ پہلے حویلی چلتے ہیں۔۔۔۔بچے انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔”
ولید نے سپیڈ ہلکی کر دی تھی گاڑی کی۔۔۔۔۔
“مئیڈ کا فون آیا تھا وہ بتا رہی تھی پاپا گھر نہیں آرہے ہسپتال ہی رہ رہے ہیں۔۔۔ ضرور کچھ پریشانی ہوگی۔۔۔۔”
“ہممم میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔۔۔۔”
ابھی ولید نے بات مکمل کی تھی کہ اسکا فون بجنے لگا تھا۔۔۔۔
ولید نے پہلے کال کاٹ دی تھی پر پھر حورعین کے اسرار پر پھر ریسیو کرلی تھی۔۔۔
“تمہیں مجھے بتا کر میٹنگ کا ٹائم فکس کرنا چاہیے تھا ایڈیٹ۔۔۔۔اب کینسل کر دو۔۔۔۔”
“ولید میں چلی جاؤں گی۔۔۔۔۔”
حورعین نے ولید کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔۔کتنے وقت کے بات بنا طنز طعنے کے دونوں میں مکمل بات چیت ہو رہی تھی۔آج۔۔۔۔
“آر یو شئور۔۔۔۔؟؟؟”
“ہممم اللہ حافظ۔۔۔۔۔”
ولید نے گاڑی جیسے ہی ہسپتال کے باہر روکی تھی حور نیچے اتر گئی تھی۔۔۔۔
“حورعین۔۔۔۔”
ولید کے آواز دینے پر حور پیچھے پلٹی تھی۔۔۔۔۔
“اپنا خیال رکھنا۔۔۔ میں آفس میں ہی ہوں گا۔۔۔مجھے بتا دینا کچھ بھی ضرورت ہو تو۔۔۔۔۔”
“ہممم باۓ۔۔۔۔۔”
حور وہیں ولید کی گاڑی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔جب پیچھے مڑی تو جہانگیر فون پر بات کرتے ہوئے ہسپتال سے سیدھا اپنی گاڑی کی طرف گئے تھے۔۔۔
۔
“پاپا۔۔۔۔”
پر جہانگیر عالم جلدی میں سن نہیں پاۓ تھے۔۔۔۔۔
“ٹیکسی۔۔۔۔۔؟؟؟”
گاڑی پہلے ہی وہاں گیٹ پر کھڑی تھی حورعین نے ڈرائیور سے جہانگیر صاحب کی گاڑی کو فالو کرنے کا کہا اور ساتھ فون بھی ملا رہی تھی جو وہ بار بار کاٹ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
۔
حورعین اور زیادہ پریشان ہوگئی تھی۔۔۔۔اسے صبح سے کسی پریشانی کے آنے کا گمان سا ہو رہا تھا جیسے کچھ بُرا ہونے والا ہو۔۔۔۔
۔
“یا اللہ سب ٹھیک ہو۔۔۔۔”
اس نے آنکھیں بند کر کے پھر سے دعا کی تھی۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔۔”
دروازہ کھولنے پر آنئیشا کے سامنے ایک شخص کھڑا تھا جو شکل سے جانا پہچانا لگ رہا تھا اور ساتھ دو لیڈیز اور ایک ضعیف شخص بھی کھڑا تھا آنئیشا نے اپنے اِس پرانے گھر کا ایڈریس کسی کو نہیں دیا تھا تو کسی مہمان کے آنے کا اسے انتظار بھی نہیں تھا اسے۔۔۔۔اب نئے چہرے دیکھ کر وہ حیران ہو رہی تھی۔۔۔۔
“وعلیکم سلام۔۔۔جی۔۔۔۔؟؟”
“آپ آنئیشا ہیں۔۔۔؟؟ میں سرمد صغیر عالم اور یہ میرے والد صغیر عالم۔۔۔ہم۔۔۔۔”
“آنئیشا کے چہرے سے مسکراہٹ پوری طرح سے چلی گئی تھی صغیر عالم کا نام سن کر اس سے پہلے وہ دروازہ انکے منہ پر بند کردیتی جہانگیر عالم کی والدہ آہستہ سے اندر آگئی تھیں۔۔۔۔
“بیٹا ہماری بات سن لو۔۔۔۔”
“مجھے کسی کی کوئی بات نہیں سننی آپ لوگ ابھی جائیے یہاں سے۔۔۔”
“پلیز بیٹا۔۔۔”
صغیر صاحب نے آگے بڑھ کر التجا کی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
“جی کہئیے اب آپ کے بیٹے نے آپ کو بھیج دیا ہے۔۔۔؟؟”
آنئیشا دروازہ کھول کر اندر آگئی تھیں۔۔۔۔ صاف نظر آرہا تھا وہ گھر کی صفائی میں مصروف تھی۔۔۔۔۔
“ہم۔۔۔۔میں۔۔۔جہانگیر کی بیٹی سے ملنے آیا ہوں۔۔۔۔”
انہوں نے نیشا کی طرف دیکھتے ہوئے بہت ہچکچاہٹ سے کہا تھا۔۔۔۔
“بیٹی۔۔۔۔؟؟ ناجائز بیٹی جہانگیر کی۔۔۔؟ وہ بیٹی جسے مارنے کے لیے آپ کے بیٹے نے مجھے اپنے ڈاکٹر دوست کا کارڈ دیا تھا۔۔۔۔؟؟؟
وہ بیٹی جسے اِس گھر سے نکالنے کے لیے آپ نے مالک مکان کو پیسے دئیے تھے۔۔۔؟؟”
سب بہت شوکڈ ہوگئے تھے۔۔۔ سب سے زیادہ جہانگیر کی ماں اور بہن۔۔۔۔
“بیٹا میرا جہانگیر ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔”
نیشا نے سامنے کھڑی ایک کمزور ماں کو دیکھ کر اپنا لہجہ نرم کرلیا تھا۔۔۔
“آپ یقین جانیے بعض دفعہ اولاد تربیت کے بلکل برعکس نکلتی ہے جیسے آپ کا بیٹا۔۔۔۔ جس نے اپنی ہی اولاد کو مارنے کا کہہ دیا تھا مجھے۔۔۔ مجھے طلاق دے دی تھی اس خوش خبری کو سننے کے بعد۔۔۔۔ رہی سہی کسر آپ کے شوہر نے پوری کر دی تھی ہمیں اس گھر سے نکلوا کر۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ پیچھے گرتی جہانگیر بھاگتے ہوئے اندر آۓ تھے اور اپنی ماں کو سہارا دیا تھا۔۔۔۔
“آنئیشا ایک اور لفظ نہیں ماں بیمار ہیں۔۔۔۔”
“کیوں ایک اور لفظ نہیں جہانگیر صاحب۔۔۔؟؟ ہم پر گزر سکتی ہے اور تم لوگ سن بھی نہیں سکتے۔۔۔؟؟؟”
“بیٹا میں قصوروار ہوں۔۔۔میں نے مجبور کیا تھا اپنے بیٹے کو۔۔۔۔”
صغیر عالم اٹھ کر آنئیشا کی طرف آۓ تھے۔۔۔۔۔
“کیوں مرد نہیں تھا آپ کا بیٹا۔۔۔؟ مرد مجبور نہیں ہوتے۔۔۔۔یا پھر جہانگیر عالم صرف نام کے مرد تھے۔۔۔۔۔”
نیشا نے سب کے سامنے جتنی بےعزتی کردی تھی جہانگیر غصے میں وہاں سے جانے لگے تھے پر نیشا نے پیچھے سے ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
“کسی لڑکی کو پیار محبت سے نکاح کر کے گھر سے بھگا لینا مردانگی نہیں ہوتی جہانگیر۔۔۔۔ اس بدنامی کے رشتے کو پاکیزگی سے نبھانا مرد کی مردانگی ہوتی ہے۔۔۔۔
اگر مجھ سے غلطی ہوگئی تھی تم پر یقین کر لیا تھا میں نے تو تم نبھا جاتے۔۔۔۔ مجھے اِس طرح تو برباد نا کرتے۔۔۔۔ آج تمہیں دکھ ہورہا ہوگا۔۔۔۔
پر تم اور تمہارا سارا خاندان اپنی بیٹی سے ملنے سے پہلے کسی اور سے تو مل لو۔۔۔۔۔”
۔
آنئشا جہانگیر کا ہاتھ پکڑے جیسے ہی دروازے کی جانب بڑھی تھی حورعین اپنا بھیگا چہرہ لیے پیچھے چھپ گئی تھی۔۔۔۔
نیشا کچھ گلیوں کے اس پار لے گئی تھی ان لوگوں کو۔۔۔۔اور سامنے ایک قبرستان تھا۔۔۔۔ جہاں ایک کارنر پر ایک چھوٹی سی قبر تھی۔۔
نیشا نے جہانگیر کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ اور اور وہ اس قبر پر لکھے نام کو پڑھنے لگے تھے۔۔۔۔۔
“حنان جہانگیر عالم۔۔۔۔”
“تمہارا بیٹا جہانگیر۔۔۔۔ہمارے ٹونز ہوئے تھے۔۔۔۔ تمہارا بیٹا بھی تمہاری طرح کمزور نکلا۔۔۔۔ کچھ دن ساتھ نا دے سکا میرا۔۔۔۔اور تمہاری بات شاید سن لی ہوگی اس نے۔۔۔۔”اسے مارنے والی بات۔۔۔۔” دیکھو وہ تو چلا گیا تھا۔۔۔۔”
جہانگیر صاحب تو وہاں بیٹھ گئے تھے۔۔۔پر انکے ساتھ صغیر عالم بھی وہیں بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“اس وقت میرے پاس پیسے نہیں تھے حنان کا علاج کروانے کے لیے۔۔۔ جس دن تمہیں فون کیا اس دن پتا چلا تم تو ملک سے باہر جاچکے تھے۔۔۔۔
“اپنے خواب پورے کرنے” اور کچھ دن بعد حنان بھی چلا گیا تھا۔۔۔۔”
۔
“یا اللہ۔۔۔۔۔”
حورعین روتے ہوئے وہاں سے بھاگ آئی تھی۔۔۔۔ اسکا دم گھٹ رہا تھا اس کھلی ہوا میں بھی۔۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔”
پاگلوں کی طرح روتے ہوئے وہ ولید شاہ کے آفس کی طرف پیدل ہی چل دی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ولید تم مجھے ایسے نہیں نکال سکتے اس کمپنی سے میں نے چار سال دینے ہیں اور تم کیسے بھول سکتے ہو وہ وقت جو ہم نے۔۔۔۔”
“مس نوشین۔۔۔۔ آپ کی ضرورت نہیں ہے اب اس کمپنی کو روز روز تمہارا بےجا کسی نا کسی بہانے سے میرے کیبن میں آنا مجھے پسند نہیں۔۔۔۔”
“پر ولید۔۔۔۔”
نوشین نے جیسے ہی ولید کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا اسی وقت کیبن کا دروازہ کھل گیا تھا۔۔۔۔سامنے حورعین کھڑی تھی۔۔بکھری ہوئی ٹوٹی ہوئی۔۔۔
“ایم سوری میں نے ڈسٹرب کر دیا۔۔۔؟؟”
نوشین کا ہاتھ ولید کے کندھے پر دیکھ کر حور نے طنزیہ پوچھا تھا۔۔۔
“حورعین نوشین بس جا رہی ہے۔۔۔۔مس نوشین آپ کا استعفی آپ کی ڈیسک پر موجود ہے۔۔۔پلیز جائیے اب۔۔۔۔۔”
ولید کے غصے کو دیکھ کر وہ چلی گئی تھی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے حورعین بھی وہاں سے باہر جاتی ولید نے جلدی سے کیبن کا دروازہ بند کر کے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔
“تم جیسا سوچ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے حورعین ولید شاہ مر جائے گا تم سے بےوفائی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔”
“جانتی ہوں شاہ جی۔۔۔۔”
حورعین نے آنکھیں بند کر لی تھی۔۔۔۔
“کچھ ہوا ہے کیا بےبی ڈول۔۔۔؟؟؟تم یہاں بیٹھو میں جوس منگواتا ہوں۔۔۔”
وہ اسے صوفے پر بٹھا کر کچھ قدم آگے بڑھا تھا حورعین نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روک دیا تھا۔۔۔
ولید جیسے ہی صوفے پر بیٹھا تھا حورعین اسکے سینے پر منہ چھپائے رونے لگی تھی اور بہت روئی تھی۔۔۔
اسکے ہاتھ کی گرفت بہت مظبوط تھی ولید کے کالر پر۔۔۔۔
“حورعین تم مجھے ڈرا رہی ہو اب میری جان بتاؤ کیا ہوا ہے تم اپنے پاپا سے ملنے گئی تھی۔۔۔۔۔”
حورعین پاپا لفظ سن کر اور زیادہ رونے لگی تھی۔۔۔۔ اسکا دماغ بلکل بلینک ہوگیا تھا۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں زارو قطار آنسو تھے آہییں تھیں۔۔۔۔
وہ ولید کی آغوش میں کب تک روتی رہی اسے بھی پتا نہیں چلا تھا۔۔۔
پر ولید شاہ کو ایک بات سمجھ آگئی تھی کہ وہ اپنی زندگی کا ایک اہم راز ایک اہم سچ جان چکی تھی۔۔۔۔۔
۔
کچھ دیر بعد جب وہ وہیں ویسے ہی ولید کے کندھے پر سر رکھے روتے ہوئے سو گئی تھی۔۔۔۔
ولید اسے اپنی بانہوں میں اٹھائے اپنے کیبن اور پھر آفس سے گھر لے گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
شاہ حویلی۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا۔۔۔راستہ صاف ہے آجائیں۔۔۔۔”
“بچوں۔۔۔آرام سے بولو پلیز۔۔۔۔۔”
ولید نے آہستہ سے بیڈ روم کا دروازہ کھولا تھا۔۔
پہلے عاشی نے اندر گردن کر کے بیڈ کی طرف دیکھا۔۔۔پھر ارش نے اور پھر ولید شاہ نے۔۔۔۔۔
“راستہ صاف ہے بچوں۔۔۔۔اب مزہ چکھانے کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔”
ولید نے نیچے سر کر کے دونوں بچوں کو ایول سمائل دی تھی۔۔۔۔
“ہاں بابا۔۔۔آج ماں کو بتاتے ہیں۔۔۔انہوں نے اس دن ہمارے چہروں پر پینٹ لگا کر کن دے پنگا لیا ہے۔۔۔۔”
“ہاں بابا۔۔۔۔ عینی ابھی تک ہنستی ہے مجھ پر۔۔۔۔”
عاشی نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔۔
“میری شونا اب تمہاری ماما کی باری ہے بہت شیرنی بن رہیں تھیں محترمہ۔۔۔۔”
اور تینوں نے جو اپنے ہاتھوں میں پکڑے باکس میں چھپایا تھا آہستہ سے نکال کر حور کے پاس بیڈ پر رکھ دئیے تھے۔۔۔۔
تین چھوٹے چھوٹے خرگوش۔۔۔۔ جو حور کے ہاتھ اور چہرے سے پیچھے ہورہے تھے۔۔۔۔
پر ارش نے بہت سی گاجر حورعین کے ساتھ باندھ دی تھیں۔۔ ۔
“ہاہاہاہا۔۔۔واااوو بھیا۔۔۔۔۔”
“شیطان۔۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔چلو اب باہر بھاگو۔۔۔۔۔”
ایک خرگوش نے جیسے ہی حورعین کے کندھے پر پڑی گاجر کھانا شروع کی حور کا ہاتھ اس خرگوش کے چہرے پر تھا۔۔۔۔
“و ولید۔۔۔۔سونے دیں۔۔۔۔۔”
حورعین کی بہت ہلکی سرگوشی نے ولید شاہ کی دھڑکنے تیز کردی تھیں۔۔
“بابا۔۔۔پلیز ڈے ڈیمنگ بعد میں۔۔۔۔۔”
ارش کی بات پر ولید بہت شرمندہ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
اور تینوں جلدی سے باہر چلے گئے تھے۔۔۔۔۔
“تم تینوں سنڈے والے دن اتنی جلدی اٹھ گئے۔۔۔؟؟ شکر ہے حورعین نے کچھ کنٹرول کیا تم تینوں کو۔۔۔۔”
مہرالنساء ہنستے ہوئے عاشی کے بال سہلاتے ہوۓ کچن میں چلیں گئیں تھیں۔۔۔۔
“بابا۔۔۔۔۔ دادو پھر سے اس دن والی بات کو سنا کر گئی ہیں۔۔۔۔”
عاشی پاؤں پٹک کر صوفہ پر جا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہا بابا کی پرنسز کچھ دیر اور۔۔۔۔”
“بچوں اتنی جلدی اٹھ گئے۔۔۔؟؟ کم ناشتہ نہیں کرو گے۔۔۔۔۔ویسے اب چہرے سے وہ پینٹ کے نشان چلے گئے ہیں۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔”
ثمرین نے تینوں کو اور تنگ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے سب لوگ اپنی ہنسی چھپا رہے تھے۔۔۔۔۔۔
“بابا۔۔۔۔۔”
اِس بار ارش پاؤں پٹک کر عاشی کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
“ویری فنی ثمرین آپی۔۔۔ہمارا بھی ٹائم آۓ گا۔۔۔۔۔۔”
ولید کہہ کر اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھنے لگا تھا کہ حور کی چیخ سے اسکے چہرے پر ہنسی چھا گئی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ولید۔۔۔۔۔۔
ارش۔۔۔۔عاشی۔۔۔۔۔
ماں۔۔۔۔۔۔۔۔”
حورعین سیڑھیوں سے نیچے چلاتے ہوئے آرہی تھی۔۔۔۔۔۔
اور نیچے آتے ہی ولید کے گلے لگ گئی تھی۔۔۔۔۔
اور پیچھے وہ خرگوش جو ابھی بھی ان گاجروں کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔”
حورعین چھلانگ لگا لگا کر ولید سے چپک کر ان چھوٹے خرگوش سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
وہاں موجود ہر کوئی ہنس رہا تھا سوائے حورعین اور ولید شاہ کے۔۔۔ولید جو ابھی تک شوکڈ میں تھا حورعین جس طرح اسکی آغوش میں تھی۔۔۔۔
۔
“بےبی ڈول وہ جا چکے ہیں۔۔۔۔اگر تم نے مجھے نا چھوڑا تو میری دھڑکن رک جانی ہے تمہیں اتنا پاس پا کر۔۔۔۔۔”
ولید نے حورعین کے کان میں سرگوشی کی تو وہ جلدی سے پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ماں آپ تو چھوٹے چھوٹے ریبٹس سے ڈر گئی۔۔۔بابا جیسے شیر کو کیسے ہینڈل کیا۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
ارش کی معصومانہ بات سے وجاہت شاہ کو کھانسی آنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔اور ولید شاہ اور حورعین کے منہ کھلے رہ گئے تھے۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔بھیا ماما تو بکری لگ رہی بابا کے سامنے۔۔۔۔”
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔
حورعین نے دونوں بچوں کی طرف قدم بڑھانا شروع کئے تھے۔۔۔۔
“تم دونوں بندروں نے یہ کیا نا۔۔۔۔؟”
دونوں بچے ولید کے پیچھے چھپ گئے تھے۔۔۔۔۔۔
“خبردار میرے بچوں کو بندر کہا تو۔۔۔۔”
ولید دونوں بچوں کی ڈھال بن کت کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔۔
“اچھا۔۔۔بچوں نے کہہ کیا دیا تم خود کو شیر سمجھ رہے ہو ولید شاہ۔۔۔؟
کہوں گی بندر۔۔۔اور یہ بابا تمہارے کوئی شیر نہیں گوریلا ہیں۔۔۔۔
آئے بڑے شیر۔۔۔۔۔۔ ابھی پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔ورنہ تمہاری پٹائی بھی ہوجاۓ گی۔۔۔۔۔”
ولید شاہ ڈر کے جیسے ہی پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
ان تینوں کی شکلیں دیکھ کر سب کی ہنسی سے شاہ حویلی گونج اٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ماما آپ کے پیچھے ریبٹ۔۔۔۔۔”
حورعین نے پھر سے ڈر کر ولید کے پاس جانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ماما ڈر گئی۔۔۔۔۔”
“اچھا ابھی نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔۔”
حورعین دونوں بچوں کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔۔۔۔
ولید ایک ہی جگہ کھڑا چہرے پر مسکان سجائے اپنی چھوٹی سی دنیا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اور دعا کر رہا تھا اب اسکی خوشیوں کو کسی کی نظر نا لگے۔۔۔۔۔۔۔
۔
“بابا منہ پیچھے کر لیں آپ کو لگ جائے گا۔۔۔۔۔”
اور بہت دیر ہوگئی تھی۔۔۔۔
ایک کیک حصہ ولید کے چہرے پر آکر لگ گیا تھا۔۔۔۔۔
“او۔۔۔۔سو سوری ولید۔۔۔۔”
حورعین نے بہت معصوم سا چہرہ بنا لیا تھا۔۔۔۔۔
“سوری نہیں بابا دیکھیں ماں نے ہمارے چہرے پر کیک لگا دیا۔۔۔۔”
“بابا کی چمچی کیک کچن سے کون اٹھا کر لایا تھا۔۔۔۔؟؟؟”
حورعین بچوں کی طرح بچوں سے لڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
“بےبی ڈول اب کیک لگانے کی باری میری ہے۔۔۔۔۔”
ولید حورعین کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔۔۔
“شاہ جی اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا نا تو ایک بار پھر سے کیک سے آپ کا چہرہ بھر دوں گی۔۔۔۔۔”
حورعین کہتے ہوئے دوسری طرف بھاگی تھی۔۔۔۔
“بھابھی۔۔۔۔ابھی پھینکے اپنے شاہ جی پر۔۔۔۔”
“ولید یار ناک کٹواؤ گے کیا بچوں سے کیک پکڑ کر بدلا لو۔۔۔۔۔”
“اففف سمیر۔۔۔۔”
ثمرین نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔بیگم ابھی تو چپ ہی رہو۔۔۔۔کم آن ولید۔۔۔۔”
“حورعین پھینک دو۔۔۔۔۔”
مہرالنساء نے جب کہا تو ولید نے اپنے بابا سائیں کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
کچھ فرد حورعین کو سپورٹ کت رہے تھے تو کچھ ولید کو۔۔۔۔”
“بابا کم آن آپ۔۔۔۔”
عاشی کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب حور نے اس پر کیک کا کچھ حصہ پھینکا تھا۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔عاشی۔۔۔۔۔”
ارش بہت ہنس دیا تھا۔۔۔۔۔
“بابا۔۔۔۔”
“اووو میری بچی ابھی دیکھنا ماما کا حال۔۔۔۔”
ولید حورعین کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا اب کہاں جاؤ گی میری شیرنی۔۔۔۔”
ولید نے اسے قید کرلیا تھا صوفے کے ساتھ۔۔۔۔
“بابا کیک تو ہے نہیں۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا شاہ جی کیک تو میرے پاس ہے۔۔۔۔”
حورعین نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔
“شاہ کی جان کیک ہے تو سہی۔۔۔۔۔”
ولید نے جیسے ہی اپنا چہرہ حورعین کی گال کے ساتھ لگایا تھا اسکے دونوں ہاتھ اسکی کمر کے پیچھے موڑ دیئے تھے حورعین کے دونوں گالوں پر کیک لگا دیا تھا۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا بےشرم۔۔۔۔۔”
مہرالنساء ہنستے ہوئے کہہ گئی تھیں ولید کو جس کی نظریں ابھی بھی حورعین کے چہرے پر تھی۔۔۔۔۔
“بےبی ڈول۔۔۔۔ کیک تو ریڈ نہیں تھا پھر آپ کا چہرہ کیوں اتنا ریڈ ہو رہا ہے۔۔۔۔؟؟”
“پیچھے ہٹئیے۔۔۔بے شرم۔۔۔۔۔”
حورعین اپنی مسکان چھپائے اوپر روم کی طرف بھاگ گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔
