No Download Link
Rate this Novel
Episode 07
شاہ حویلی سے تھوڑی دور تین لوگ ایسے بیٹھے جیسے زندگی تھم گئی تھی انکی۔۔۔۔
“ماما۔۔بابا کی شادی ہورہی ہے۔۔۔؟؟؟”
عاشی کی آواز نے حورعین اور ارش کی نظریں پھر سے حویلی کی طرف کروا دی تھی۔۔۔۔ جو روشنیوں سے جگمگا رہی تھی۔۔۔چہل پہل گانے بجانے کی آوازیں یہاں تک سنائی دے رہی تھیں انہیں۔۔۔۔
“ہممم۔۔۔۔”
حور کے دونوں کندھوں پر دونوں بچوں نے سر رکھا ہوا تھا۔۔۔عاشی کے معصوم سوال جو اور توڑ رہے تھے حورعین کو۔۔۔۔پر اسکی پریشانی کی وجہ ارش کی خاموشی تھی۔۔۔۔۔
“ماں۔۔۔۔اب ہم یہاں کبھی نہیں آئیں گے۔۔۔۔”
ارش نے آنکھیں بند کر لی تھیں یہ کہہ کر۔۔۔۔ بارش میں بھیگ رہے تھے وہ مائرہ کے گھر رہ رہی تھی حورعین باہر کی دنیا سے بے خبر۔۔۔۔
بچوں نے ضد کی تھی ولید کو دیکھنے کی۔۔۔اور بہت دور سے ولید شاہ کو خوبصورت لباس میں ہنستے دیکھ کر حورعین اور بچے وہاں سے آگئے تھے۔۔۔۔کچھ فاصلے پر ایک بینچ پر بیٹھ کر حور نے مائرہ کو جانے کا کہہ دیا تھا۔۔۔۔۔
وہ کچھ باتیں کرنا چاہتی تھی اپنے دونوں بچوں سے کچھ ایسی باتیں جو وہ نہیں کہنا چاہتی تھی کبھی۔۔۔۔۔
“ارش عاشی۔۔۔۔ تم لوگ بابا کے پاس جب آنا چاہو آسکتے ہو۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا کہ کیوں تم لوگوں نے میرے پاس آنے کی ضد کی۔۔۔۔
میں۔۔۔میں وہ پہلے جیسی ماں نہیں بن پاؤں گی اب۔۔۔۔ اور ایک نئی ماں آگئی ہے اب تو۔۔۔۔”
حورعین کی آنکھیں بھر گئیں تھیں۔۔۔۔
“ہمیں نا نئی ماں چاہیے نا ہی بابا۔۔۔۔ہمیں آپ چاہیے ماں بس آپ۔۔۔۔۔”
ارش روتے ہوئے حور کے گلے لگ گیا تھا۔۔۔۔
“پر ماں بابا نے ہمیں کیوں نکال دیا۔۔۔۔؟؟؟”
“کیونکہ وہ ہمارے ساتھ خوش نہیں تھے۔۔۔۔۔”
عاشی کی بات کا جواب ارش نے بہت غصے سے دیا تھا۔۔۔۔انکو پتا ہی نہیں چلا تھا کوئی اور بھی تھا وہاں جو انکی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔۔”
حورعین نے جو دوپٹہ سر پر لیا تھا سارا گیلا ہوگیا تھا کپڑوں کی طرح۔۔۔
“وعلیکم سلام۔۔۔۔”
حور نے ڈر کر دونوں بچوں کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔۔
پیچھے کھڑے انسان نے اپنی لی ہوئی چھتری ان تینوں کے سر پر کردی تھی۔۔۔
“آپ اِس وقت یہاں ہیں۔۔۔اگر لفٹ چاہیے تو۔۔۔”
“نوو تھینکس۔۔۔۔”
ارش بات کاٹ دی تھی
“ہممم۔۔۔مس بچے چھوٹے ہیں پر آپ کو پتا ہے نا اِس موسم کی بارش انہیں بیمار کر سکتی ہے۔۔۔۔؟؟؟”
“دیکھیئے آپ جائیں یہاں سے۔۔۔۔”
“عاشی یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا۔۔۔۔؟؟؟”
حورعین خاموشی سے اٹھ گئی تھی پر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔۔
“آپ کو میں چھوڑ دیتا ہوں میری گاڑی وہ کھڑی ہے۔۔۔۔۔”
“شکریہ۔۔پر ہم چلے جائیں گے۔۔۔۔۔”
وہ تینوں اٹھ گئے تھے اور دوسری طرف حورعین مائرہ کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔پر وہ شخص ابھی بھی چھتری بچوں کے سر پر کئے کھڑا تھا۔۔۔۔۔
“دیکھیئے یہاں کوئی بھی ٹیکسی نہیں ملے گی۔۔۔۔”
پر وہ لوگ چلے جارہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔بنا کچھ سنے۔۔۔۔۔
“اوکے۔۔۔۔ بچوں نہیں ہیلپ چاہیے تو ٹھیک ہے یہ چھتری پکڑ لو۔۔۔”
ارش نے کچھ سیکنڈ سوچنے کے بعد وہ چھتری پکڑ لی تھی۔۔۔۔۔
“ہممم۔۔۔ایک منٹ۔۔۔۔”
اس شخص نے پھر سے آواز دی تھی۔۔۔۔اور جلدی سے اپنے کندھے سے اپنی کالے رنگ کی چادر اتار کر ارش کو پکڑا دی تھی۔۔۔۔
“بیٹا یہ اپنی ماما کو دے دو انہیں کہو یہ سر پر اوڑھ لیں۔۔۔۔۔۔”
اس نے بہت اونچی کہا تھا۔۔۔۔
“دیکھے آپ جو کوئی بھی ہیں آپ کے کسی احسان کی ضرورت نہیں ہے ہمیں۔۔۔”
“مس میں کوئی احسان نہیں کر رہا۔۔۔۔ آپ جتنی مرضی بڑی پریشاں ہوں یہاں سنسان جگہ آکر وہ ختم نہیں ہوجاۓ گی۔۔۔۔ سکون یہاں ویرانے میں نہیں یاد الہی میں ملے گا آپ کو۔۔۔۔۔”
وہ جب تک بات کررہا تھا اسکا سر اور آنکھیں جھکی ہوئی تھی
“حورعین کی آنکھیں اور بھر گئیں تھیں۔۔۔۔اس نے بچوں کو ہاتھ پکڑ کر چلنا شروع کردیا تھا اور کچھ لمحوں میں وہاں مائرہ کی گاڑی بھی آگئی تھی
“ایم سو سوری میڈم آفس سے فون آگیا تھا میں نے سوچا آپ پریشان ہوں گی تو بتایا نہیں تھا۔۔۔۔”
دونوں بچوں گاڑی میں بیٹھ گئے تھے۔۔۔پر حورعین کو اس شخص کی آواز نے پھر سے روک دیا تھا۔۔۔۔
“ایک منٹ۔۔۔۔۔”
مائرہ اسے کچھ پوچھتی وہ تیز قدموں سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا اور پھر اسی رفتار سے واپس بھی آیا تھا۔۔۔۔۔
“میں نہیں جانتا کہ کیا ہوا آپ کے ساتھ۔۔۔پر میں اتنا جانتا ہوں آپ کو دنیا کے غموں سے تسکین سکون۔۔۔۔اور نجات اللہ پاک کے کلام اور نماز میں ملے گی۔۔۔۔ میں ابھی مسجد سے آرہا تھا۔۔۔۔یہ لیجیئے قرآن پاک اور جاۓ نماز۔۔۔۔”
حورعین جیسے پیچھے پلٹی تھی وہ چادر نے پورا چہرہ کور کردیا تھا اسکا۔۔۔۔اور حور کے ہاتھ آگے بڑھ گئے تھے۔۔۔۔۔
اور سامنے کھڑے شخص نے اس طرح سے قرآن پاک اور جاۓ نماز پکڑایا تھا کہ دونوں کے ہاتھ ٹچ نہیں ہوۓ تھے۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔اور واپس جانے کے لیے مڑ گیا تھا۔۔۔۔۔
“بات سنے۔۔۔۔۔”
اِس بار حورعین کی آواز پر وہ شخص رک گیا تھا۔۔۔۔۔
“جی۔۔۔۔”
“بھولے ہوئے رب کو جب بندہ یاد کرتا ہے تو رب اس گناہ گار کو معاف کردیتا ہے۔۔۔؟؟؟”
“کوئی شک نہیں اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔۔۔۔ انسان دنیا کی موج مستی میں اپنے رب کو بھول جاتا ہے پر رب اپنے ہر بندے کو یاد رکھتا ہے اسے نوازتا ہے۔۔۔۔۔”
حورعین واپس گاڑی کی طرف بھاگ گئی تھی
اور مائرہ کی حیران نظریں ابھی بھی اس انسان کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
“میڈم۔۔۔۔ جہانگیر سر بار بار آپ کا پوچھ رہے ہیں۔۔۔۔”
“مائرہ۔۔پلیز مجھے کسی کے سامنے نہیں جانا تم جانتی ہو۔۔۔۔۔”
مائرہ نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔بچے بھی خاموش تھے۔۔۔حورعین بھی۔۔۔
۔
جب تک مائرہ کی گاڑی اسکے گھر کے باہر رکی تو پیچھے۔۔۔انکا پیچھا کرتی گاڑی بھی کچھ دوری تک رک گئی تھی۔۔۔۔
بچوں کو آہستہ سے اتار کر مائرہ نے حورعین کے ساتھ اندر بھیج دیا تھا اور خود رکی ہوئی گاڑی کے پاس چلی گئی تھی غصے سے۔۔۔۔۔
“اب آپ شرافت سے بتا دیں کیوں فالو کر رہے ہیں یا بلاؤں پولیس کو۔۔۔؟”
“میں بس تسلی کرنا چاہتا تھا کہ سب باحفاظت گھر پہنچ گئے ہیں۔۔۔۔ایم سوری۔۔۔۔”
اور اس شخص نے گاڑی گھما دی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
شاہ حویلی۔۔۔۔
۔
۔
نینا ابھی تک بھیا نہیں آۓ۔۔۔؟؟ کچھ گڑ بڑ تو نہیں۔۔۔؟؟؟”
“عدیل بھائی اگر آپ مجھ سے دور نا ہوئے تو ہمیں ساتھ دیکھ کر گڑ بڑ ضرور ہوجائے گی۔۔۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔ اور ذکیہ بھی نظر نہیں۔۔۔۔”
پر ذکیہ پھر ہال میں داخل ہوگئی تھی۔۔۔۔۔
“ایم سوری ایوری ون اب یہاں کوئی فنگشن نہیں ہورہا۔۔۔مولوی صاحب آپ کو اتنا انتظار کروانے کے لیے معذرت خواہ ہیں۔۔پر اب یہاں کوئی نکاح نہیں ہونے والا۔۔۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ تمہارا دماغ سہی ہے۔۔۔؟؟”
نینا چلاتے ہوۓ آگے آئی تھی۔۔۔۔
“جی نینا آپی۔۔۔۔میرا مطلب ہے سمعیہ آپی۔۔۔۔۔”
اور نینا شوکڈ ہوگئی تھی۔۔۔۔اور ولید شاہ بھی کپڑے چینج کر کے وہاں آگیا تھا۔۔۔۔اور آتے ہی سب سے پہلا تھپڑ عدیل کو پڑا تھا۔۔۔۔
اور پھر نینا کو۔۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔”
“بکواس بند کرو نینا۔۔۔اووو سوری سمعیہ۔۔۔۔۔چار سال۔۔۔کیا خوب پاگل بنایا مجھے۔۔۔ کبھی خراب میڈیسن سے تو کبھی فیک ڈاکٹرز سے۔۔۔”
“ولید پلیز میری بات۔۔۔۔”
نینا نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ اسکی پلاننگ اتنی جلدی ختم ہوجائے گی۔۔۔
اور عدیل ابھی بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ ولید کو سچ کس نے بتایا۔۔۔
“ولید بھیا آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔”
ولید کا ایک اور تھپڑ پڑا تھا عدیل کو۔۔۔۔
“انسپکٹر صاحب۔۔۔۔۔”
ولید کی گرجتی آواز سے وہاں پولیس آگئی تھی لیڈیز۔۔۔۔
“یہ ہیں وہ مجرم آپ اِن محترمہ کو لے جا سکتے ہیں۔۔۔۔”
ولید کچھ قدم پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
“ولید یہ سب کیا تماشا ہے۔۔۔؟؟ تم جانتے ہو میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں۔۔۔ ہماری شادی کو رکوا کر تم اچھا نہیں کر رہے ولید۔۔۔۔”
“مجھے کچھ اچھا کرنے کے قابل بھی چھوڑا ہے تم نے۔۔۔؟؟”
ولید نے غصے سے پوچھا تھا۔۔۔۔
“تم خود آزاد ہونا چاہتے تھے۔۔۔تنگ آگئے تھے تم اپنی شادی سے۔۔۔
تمہیں تمہارا حدید چاہیے تھا ولید جو حورعین تمہیں کبھی۔۔۔”
۔
ولید کا پھر سے ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
“ایک اور جھوٹ۔۔۔حورعین کا ماں نا بننے والا جھوٹ۔۔۔۔
اور کتنے جھوٹ بولے تم نے۔۔۔پر میں بےوفا تھا جو حدید کو پانے کے لیے تین انمول لوگوں کو گنوا بیٹھا۔۔۔لے جائیے اِسے۔۔۔۔”
ولید نے پیچھے منہ پھیر لیا تھا نینا کی چلانے کی آوازیں زہر لگ رہی تھیں اسے۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ حویلی سے باہر تھی اور مہمان بھی ڈر کے مارے چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔۔
“ولید بھیا۔۔۔۔”
ولید نے ایک نہیں سنی تھی اسکا ہاتھ اٹھتا چلا گیا تھا عدیل پر۔۔۔۔۔
“بس ولید۔۔۔۔”
ملائکہ ویل چئیر کو ان دونوں کے درمیان لے آئی تھی۔۔۔۔۔
“پیچھے ہٹ جاؤ آج میں اسے مار دوں گا۔۔۔۔۔”
“اِسے مجھے کسی کو بھی مارنے سے وہ واپس آجاۓ گی ولید۔۔؟
تم اسے طلاق دے چکے ہو۔۔۔۔وہ اب واپس کیسے آۓ گی۔۔۔۔؟؟؟؟”
ولید کے قدم ڈگمگا گئے تھے ملائکہ نے اٹھ کر عدیل کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو وہ نیچے گر گئی تھی۔۔۔۔۔ اور دور پڑے عدیل نے اپنے زخموں کی پرواہ نا کرتے ہوئے اٹھ کر ملائکہ کو سہارا دیا تھا۔۔۔۔۔
“عدیل بس کرو پچھلے چار سالوں سے سہاروں پر جی رہے ہیں ہم تینوں۔۔۔۔
دیکھو نا ہمارے سہاروں نے آج اس معصوم کو بے سہارا کر دیا۔۔۔۔۔”
حورعین کی بات پر ولید نے پھر سے آنکھیں بند کرلی تھی پر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔
“ولید۔۔۔۔ تم میرے مجرم تھے۔۔۔ اور میں نے تمہیں مجرم بنا دیا عدیل اور حورعین کے جھوٹے آفئیر کا کہہ کر۔۔۔۔ عدیل کے ساتھ لڑ لڑ کر تم بھی گناہ گار بنتے رہے۔۔۔۔۔ ہم تینوں ایک دائرے میں گھومتے رہے ولید۔۔۔۔۔
اور اِس دائرے کے درمیان میں کھڑی تھی حورعین
میں بازی کھیلتی تھی یا عدیل کی کوئی چال ہوتی تھی۔۔۔
تم غصہ کرتے تھے یا غصہ اتارتے تھے تو اس معصوم پر۔۔۔۔ ہم تینوں ہی مجرم ہیں۔۔۔پر ایک دوسرے کے نہیں اس کے جو ہمارے درمیان نہیں ہے ہمیں سزا دینے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔”
وجاہت شاہ نے اپنی آنکھیں بند کر کے اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھائے تھے کہ ملائکہ کی آواز نے روک دیا تھا انہیں۔۔۔۔۔
“آپ نے مجھے بہت عزت دی بابا سائیں۔۔۔پر وہ جس کا حق تھا اسے صرف بے عزتی ملی آپ سے ہم سب سے۔۔۔۔۔
میں ایک بات کہنا چاہتی ہوں ولید۔۔۔۔ تمہاری بےبی ڈول بہت ثابت قدم رہی۔۔۔ تم تو سہاروں پر جیتے رہے پر وہ وفا کی اتنی پکی تھی تم سے جدا رہ کر بھی نا بےوفائی کر سکی۔۔۔۔ اور تم۔۔۔۔۔ ہر دفعہ بےوفائی کا موقع تلاش کرتے تھے
اور اب تو بس ہوگئی نا۔۔۔۔؟؟؟”
باقی سب وہاں سے چلے گئے تھے ذکیہ،مہرالنساء،وجاہت صاحب۔۔۔
بس رہ گئے تھے تو وہ تینوں۔۔۔۔
ولید شاہ عدیل شاہ ملائکہ سکندر شاہنواز
“ولید محبت میں نے بھی تم سے کی تھی جس طرح عدیل نے کی تھی حورعین سے۔۔۔۔ ولید اس وقت تمہارا میرے بجائے اس کل کی آئی لڑکی کے پاس جانے مجھے اِسی طرح کاٹتا تھا جیسے عدیل کا۔۔۔۔
مجھے چار سال پہلے محبت کا پتا نہیں تھا۔۔۔پر آج میں انجان نہیں ہوں۔۔۔
آج ولید عدیل کے لیے میرے دل میں محبت ہے۔۔۔۔ عدیل نے مجھے وہاں سے نکالا تھا جس حال میں تم مجھے چھوڑ آۓ تھے۔۔۔۔ اللہ نے مجھے نئی زندگی دی پر مجھے ہدایت بھی ملی ولید۔۔۔ میں پھر سے بدلہ لیتی تو پھر مجھے اللہ نے موقع نہیں دینا تھا۔۔۔۔
اور آج عدیل اور میں ہمشیہ ہمیشہ کے لیے تمہارے ہر کام ہر فیصلے ہر سے دور رہیں گے۔۔۔۔”
عدیل پیچھے ہٹ گیا تھا۔۔۔۔
“ملائکہ اِس انسان نے مجھ سے سب چھین لیا تم مجھے کہہ رہی ہو میں بھول جاؤں۔۔۔۔؟؟؟”
“عدیل۔۔۔۔ میں آج کے بعد تمہیں کبھی کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔۔ یہ آخری موقع ہے ہمارے پاس ہماری خوشیاں جینے کا۔۔۔۔حورعین تمہارے دل میں ہمشیہ رہے گی میں جانتی ہوں۔۔۔پر اب تمہیں اس سے محبت نہیں رہی تم اِس بات کو تسلیم کر لو۔۔۔۔
راتوں کو جاگ جاگ کر میری فکر کرنا میرے لیے چار سال لگ دیئے تم نے تاکہ میں بول سکوں اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکوں۔۔۔۔
تم مجھ سے محبت نہیں کرتے نا سہی میری فکر کرتے ہو میرے لیے کافی ہے۔۔۔۔
عدیل مجھے محرم رشتہ چاہیے۔۔۔میں گناہوں کی زندگی سے تھک گئی ہوں۔۔۔”
ملائکہ کا سر جھک گیا تھا۔۔۔۔ عدیل پھر سے اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
اور ولید شاہ کی نظریں اب ان دونوں پر تھی۔۔۔۔
اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی پینٹ کی جیب میں ڈال لیۓ تھے۔۔چہرے پر وہی روب وہی غصہ تھا۔۔۔۔۔
“ملائکہ۔۔۔۔میں۔۔۔۔ میں تمہارے قابل نہیں ہوں۔۔۔ آج تم کہہ رہی ہو بدلہ بھول جاؤں۔۔۔۔یہ بدلہ میرا جنون بن گیا ہے اسے بھول گیا تو پھر مقصد کیا رہا جینے کا۔۔۔۔؟
محبت اِس ظالم انسان نے چھین لی۔۔۔۔
بیوی وہ ظالم انسان لے گیا اور میرا بیٹا۔۔۔۔؟؟؟
ملائکہ بدلہ گیا تو جنون گیا۔۔۔۔اور جنون گیا تو عدیل شاہ گیا۔۔۔۔۔۔”
عدیل کا چہرہ بھر گیا تھا جس طرح وہ اپنے ساتھ ہوئی زیادتیاں بتا رہا تھا۔۔۔
“عادی تو رہ جاۓ گا نا جسے حورعین نے پسند کیا تھا۔۔۔۔
جسے میں پسند کرنے لگی ہوں۔۔۔ وہ عادی لوٹا دو عدیل۔۔۔۔بس بہت ہوا اب۔۔۔۔”
اور عدیل وہاں سے گہرا سانس لیکر اٹھ گیا تھا۔۔۔۔
“ولید شاہ۔۔۔تمہیں یاد ہے ایک بار میں نے تمہیں بد دعا دی تھی۔۔۔۔۔
پر مجھے تب بد دعا نہیں دینی چاہیے تھی۔۔۔۔۔ مجھے پتا ہونا چاہیے تھا تم تو اکیلے کافی ہو اپنے آپ کو برباد کرنے کے لیے۔۔۔۔۔
آج مجھے افسوس نہیں ہے۔۔۔۔ کیونکہ حورعین بنا محنت بنا مانگے ملی تھی تمہیں۔۔۔۔ تم ناشکرے ہوگئے تھے نا بہت۔۔۔۔؟؟؟
اب وہ دسترس میں نہیں رہی بھیا۔۔۔۔اب آپ کو پتا چلے گا محبت کا۔۔۔
محبت میں جدائی کا۔۔۔۔۔۔ اب میں کبھی کچھ نہیں کروں گا کبھی نہیں جاؤ اب آپ خود کے لیے کوئی اور ڈھونڈ لو۔۔۔۔کیونکہ آپ اس معصوم کو ڈیزرو ہی نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔”
اب ولید شاہ کے ہاتھ نہیں اٹھے تھے وہ وہیں کھڑا دیکھ رہا تھا عدیل کس طرح ملائکہ کو زمین سے اٹھا کر ویل چئیر پر بٹھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
“ملائکہ سکندر شاہنواز۔۔۔۔۔ میں آج تمہارا ہاتھ کبھی نا چھوڑنے کے لیے تھامنا چاہتا ہوں۔۔۔اور محرم رشتے میں باندھنا چاہتا ہوں تمہیں۔۔۔۔۔۔
کیا تمہیں یہ عادی کے ساتھ زندگی بھر کی قید با مشقت منظور ہے۔۔۔۔؟؟؟”
عدیل نے ملائکہ کے سامنے ہاتھ بڑھا کر پوچھا تھا۔۔۔۔۔
“ڈیڈ سے آکر ہاتھ مانگو میرا۔۔۔۔”
ملائکہ نے ہنستے ہوئے ویل چئیر پیچھے کر لی تھی۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔پھر بابا سائیں کو منانا پڑے گا ماں کو بھی۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا تو مناؤ نا ڈففر۔۔۔۔۔”
دونوں ہنستے ہوۓ باہر چلے گئے تھے۔۔۔۔۔
ولید شاہ پورے ہال میں تنہا کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا سائیں۔۔۔۔۔۔”
اسے بچوں کی آوازیں سنائی دینے لگی تھی پر کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
۔
“اینجل۔۔۔۔۔”
بابا سائیں۔۔۔۔۔۔”
“ولید۔۔۔۔۔”
۔
۔
وہ حویلی سے باہر چلا گیا تھا اب اسکی برداشت سے باہر تھا سب کچھ۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آج یہاں آئی ہوں تمہارے اتنے قریب اِس لیے کھڑی ہوں کیوں کہ آج کے بعد تم میرے محرم نہیں رہو گے۔۔۔۔۔”
۔
“بےبی ڈول۔۔۔۔۔۔”
حورعین کی کہی باتیں اسے یاد آرہی تھی۔۔۔۔جو بے سُد چل رہا تھا اِس روڈ پر۔۔۔۔
“ہر بار غلط کہتا تھا ہر بار غلط ہوتا تھا۔۔۔۔ میں ایسا کیوں ہوں۔۔۔۔؟؟؟”
ولید نے آسمان کی طرف دیکھا تو بارش کے قطرے اس پر گرنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔۔
“کیوں ہوں میں ایسا۔۔۔۔۔؟؟؟ مجھے کیوں ہمیشہ راستے کی تلاش رہی۔۔۔؟
میری زندگی کیوں پچھتاوں سے بھر گئی کیوں۔۔۔۔؟؟؟
کیوں لوگوں میں محبتیں ڈھونڈتا رہا۔۔۔اور ٹھکرا دیا اسے جو میرا تھا۔۔۔
کیوں میں اپنے آپ میں قید ہوگیا ہوں۔۔۔۔ کیوں الجھ گیا ہے ولید شاہ جو سب کو الجھا دیتا تھا۔۔۔۔
میرا غرور میری خوشیاں کھا گیا ہے کیوں میں اکیلا رہ گیا ہوں ادھورا رہ گیا ہوں کیوں۔۔۔؟
یا اللہ میں ہار گیا ہوں۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔”
اور ایک تیز رفتار گاڑی اسے ٹکر مار گئی تھی۔۔۔۔
اور جس طرح وہ گر گیا تھا اسکا چہرہ پھر بھی اوپر کی طرف تھا۔۔۔۔
اور اسکی آنکھیں بند ہوگئی تھیں۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اینجل۔۔۔۔۔۔۔”
حورعین کی چیخ سے مائرہ اٹھ گئی تھی جو سامنے صوفہ پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔
“حورعین میڈم۔۔۔۔۔؟؟؟”
“ولید۔۔۔۔۔”
حور جھٹکے سے اٹھ گئی تھی اپنی نیند سے ماتھے سے پسینہ بہہ رہا تھا۔۔۔
“میم پانی پی لیجیئے آپ نے کوئی بُرا خواب دیکھ لیا ہے۔۔۔۔۔”
حورعین نے پانی کا سارا گلاس پی لیا تھا۔۔۔۔۔اور بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا لی تھی۔۔۔۔
“میم۔۔۔۔۔”
“مائرہ تم سو جاؤ۔۔۔۔ ایم سوری تمہیں سب تکلیف دے رہی ہوں۔۔۔۔
تم جانتی ہو پاپا کے سامنے نہیں جا سکتی۔۔۔۔ عدت کے بعد۔۔۔”
حورعین کے بس یہ الفاظ بولنے پر چہرہ بھیگ گیا تھا۔۔۔۔۔
“میم۔۔۔۔”
“طلاق لفظ جتنا چھوٹا پڑھنے اور بولنے میں ہے اتنا ہی پہاڑ جتنی اذیت دے جاتا ہے جو اس کے بوجھ تلے آجاتا ہے۔۔۔۔۔”
حورعین کے پانی کا گلاس مائرہ نے واپس ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔
“تو پھر آپ نے کیوں لی۔۔۔؟ کیوں نہیں روکا۔۔۔۔؟؟ منا لیتی رشتہ بچانے کے لیے آنا کو مارنا پڑتا ہے۔۔۔۔”
مائرہ بھی وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
“پچھلے نو سالوں میں میں نے سب برداشت کیا پر کبھی یہ لفظ زبان تک نہیں لائی تھی۔۔۔۔اِس سے زیادہ کیا رشتہ بچاتی میں۔۔۔۔؟؟
طلاق پر سب سے زیادہ قصوروار عورت کو سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔پر طلاق کے بعد سب سے زیادہ برداشت بھی اک عورت کو کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔ جس عورت پر یہ قیامت گرتی ہے بس وہی جانتی ہے
اسے پتا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ کتنی باتیں کتنی سوچیں آتی ہیں۔۔۔ایسا نا ہوتا۔۔۔یہ نا ہوتا۔۔۔۔ وہ ہوجاتا۔۔۔۔۔
معاشرے میں عورت پر ایک ٹیگ لگ جاتا ہے طلاق یافتہ۔۔۔۔ پر تلخیاں کوئی محسوس نہیں کرتا کہ اس مظلوم عورت پر کیا گزرتی ہو گی جو سب وار کر بھی اس قرب سے گزرتی ہوگی۔۔۔۔؟
میں چار سالوں میں یا نو سالوں میں جتنی مظبوط ہوئی تھی مجھے اندر تک توڑ دیا ہے اس نے۔۔۔۔۔۔”
مائرہ بھری آنکھوں سے خاموشی کے ساتھ سامنے بیٹھی اپنی باس کو سن رہی تھی وہ بوس جسے اس نے ایک مظبوط بزنس وومن کے روپ میں دیکھا تھا ہمیشہ۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
ایک مہینے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
“تم مجھے نہیں بتانا چاہتے مت بتاؤ۔۔۔پر اپنے بابا سے تو شئیر کرو بیٹا۔۔۔
اب تو سب نے نوٹ کرنا شروع کر دیا ہے پچھلے ایک مہینے سے تم الگ الگ رہ رہے ہو۔۔۔۔۔”
پر وہ سر جھکائے”جاۓ نماز” پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔
آنکھوں میں سرخی سی آگئی تھی۔۔۔۔
پچھلے ایک مہینے سے وہ ایسے ہی کر رہا تھا۔۔۔۔ بہت نمازیں اس نے گھر میں اپنے کمرے میں ادا کی تھیں۔۔۔۔۔
“امی بابا کو کچھ نا بتائیے گا۔۔۔میں بس ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔”
وہ پھر سے تسبیح پڑھنے میں مصروف ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے اگر تمہاری ماں مجھے کچھ نہیں بتائیں گی تو مجھے پتا نہیں چلے گا۔۔۔۔۔۔؟؟ باپ ہوں تمہارا۔۔۔۔۔۔”
ان کے کمرے میں آتے ہی اُنکی بیگم کمرے سے چلیں گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔
“اب بتاؤ گے۔۔۔۔”
“مجھ سے ایک گناہ ہوگیا ہے بابا۔۔۔۔۔۔”
اور سر پھر سے جھک گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
والد صاحب کے دل میں ڈر بیٹے سے زیادہ بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
اُنکی ساری زندگی اولاد کو سمجھانے نیکی کے راستے پر چلانے میں لگ گئی آج وہ ڈر گئے تھے اپنے جوان بیٹے کی کہی اِس بات پر۔۔۔۔۔
“کسی نا۔محرم کے لیے دل میں ہمدردی آگئی ہے بابا۔۔۔۔۔۔
وہ نا۔محرم جو کسی اور کی محرم ہے۔۔۔۔۔ ایک ترس کا گوشہ جاگ اٹھا ہے۔۔۔۔
پچھلے ایک مہینے سے۔۔۔۔دعاؤں میں اسکی آسانیاں مانگ رہا ہوں۔۔۔۔۔”
“کیا تم اس سے پیار۔۔۔۔”
“نہیں بابا۔۔۔۔میرا پیار صرف میری محرم ہوگی۔۔۔۔۔۔ اور نامحرم سے ہمدردی مجھے مجرم بنا گئی ہے۔۔۔۔۔
مجھے شرمندگی ہو رہی ہے۔۔۔۔اپنی ہمدردی پر۔۔۔۔۔۔
بابا۔۔۔جس دن میں نے سوچا تھا کہ آپ لوگوں سے کہوں گا میری شادی کی بات کریں۔۔۔۔اُس دن پتا چلا وہ شادی شدہ ہے۔۔۔۔۔
بابا اسکے دو بچے بھی ہیں۔۔۔۔۔۔۔”
وہ گہرا سانس لیکر چپ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
“اور پھر بیٹا۔۔۔۔؟ اللہ کے بندوں کے لیے دعائیں مانگنا ہمدردی کرنا کوئی گناہ نہیں ہے میرے بچے ۔۔۔۔۔”
“پر بابا مجھے جب سے اسکی شادی کا پتا چلا ہے میں اندر ہی اندر گھٹ رہا ہوں۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔ اسے دیکھ کر ایسا لگا وہ بہت اندھیروں میں گھری ہوئی ہے۔۔۔۔۔ جیسے اسکے پاس نجات کا کوئی راستہ نہیں۔۔۔۔۔۔”
“تم نے کہیں کوئی رشتہ۔۔۔۔۔”
“نہیں بابا۔۔۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ میں نے اس سے تنہائی میں ایک ملاقات کرنی چاہی تھی بس۔۔۔۔۔۔”
“اور۔۔۔۔؟ اور اس تنہائی میں اسکے ساتھ دو بچے بھی تھے۔۔۔۔۔۔
سنسان سڑک پر ایک بینچ پر بیٹھی اپنے بچوں کو اپنی آغوش میں چھپائے رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔”
اور اسکی آنکھوں سے آنسوؤں زارو قطار امڈ آۓ تھے۔۔۔۔۔۔
سامنے بیٹھے عمر رسیدہ والد ء محترم پہلی بار اپنے جوان بیٹے کو ایسے غمزدہ دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
“اور بیٹا بولو۔۔۔۔۔۔۔”
“بابا۔۔۔۔میں نے ہمت کی وہاں جاکر اسے نجات کا راستہ دی کر آیا۔۔۔۔”
“کیسا راستہ۔۔۔۔؟؟؟؟”
“قرآن پاک اور جائے نماز۔۔۔۔۔ بابا اور میں نے اسے کہا کہ تم اکیلی نہیں ہو خدا تمہارے ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔۔۔۔”
“بابا۔۔۔تب سے اب تک اسکا خیال نہیں جا رہا دل سے۔۔۔۔۔۔ مجھے نامحرم کے خیال نے جکڑ سا لیا ہے میں اس دن سے اب تک اپنے اللہ سے معافی مانگ رہا ہوں۔۔۔۔ اللہ مجھے معاف کردے گا نا بابا۔۔۔۔؟؟؟
میں بس ہمدردی سے اسکی پاس گیا تھا۔۔۔۔۔”
“بس میرے بچے بس۔۔۔۔۔تم نے کسی کی مدد کرنا چاہی ہے اسے نیکی کا راستہ دیکھانے کی کوشش کی ہے اللہ بڑا بے نیاز ہے میرے بچے۔۔۔۔۔۔”
وہ اٹھ گئے تھے۔۔۔۔انہیں پتا تھا انکا بیٹا بہت حساس ہے اسے ٹائم چاہیے۔۔۔۔
وہ دروازے تک گئے تھے اور پیچھے مڑ کر اپنے بیٹے کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
“حاشر بیٹا مجھے فخر ہے تم پر۔۔۔۔۔ہر چیز میں کچھ نا کچھ حکمت ہوتی ہے
بیٹا میں دعا کروں گا اس بچی کو اندھیروں سے نجات مل جاۓ اور تمہیں سکون۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
حاشر نے گہرا سانس لیا تھا اور پھر بیڈ پر پڑے اپنے موبائل کو اٹھایا تھا۔۔۔جس پر فون آرہا تھا۔۔۔۔
۔
“اسلام وعلیکم حاشر انکل۔۔۔۔۔”
“وعلیکم سلام بیٹا۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔ماشااللہ آج یاد کرائے بغیر سلام کیا مجھے اچھا لگا۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا ماں سامنے ہیں اس لیے۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا بُری بات ماں سامنے نا بھی ہوں تو آپ بھولا مت کرو۔۔۔۔۔”
“اوکے اوکے۔۔۔۔۔انکل کل ہم پارک میں مل رہے ہیں نا۔۔۔۔؟؟ عاشی بھی بہت ضد کر رہی آپ سے ملنے کی۔۔۔۔”
“ہاں بیٹا پر کل صبح کا رکھ لو۔۔۔شام کو گیراج بھی جانا ہے بہت کام ہے۔۔۔”
اور کچھ دیر بات کرنے کے بعد حاشر نے فون بند کردیا تھا اور موبائل کی سکرین پر اسے ان دونوں بچوں کی فوٹو نظر آرہی تھی۔۔۔۔جن سے وہ پچھلے ایک مہینے سے مل رہا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تمہارے زخم ابھی بھی نہیں بھرے بیٹا۔۔۔۔۔”
“پلیز آج مجھے نا روکے۔۔۔مجھے جانے دیجیئے۔۔۔۔۔میرا اس سے ملنا بہت ضروری ہے۔۔۔۔”
ولید پھر سے بستر سے اٹھ گیا تھا کہ روم میں ایک اور عورت بھی داخل ہوئی تھی جن کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔۔۔۔۔
“بیٹا تم نے جانا ہے تو جاؤ پر کھانا کھا کر۔۔۔۔”
ولید واپس بیٹھ گیا تھا پر اس کے سیدھے ہاتھ میں ابھی بھی پلاسٹر لگا ہوا تھا سر پر ابھی بھی پٹی بندھی تھی اسکے۔۔۔
“اب کھانا بھی خود کھا لو گے نا۔۔۔؟ “
سامنے کھڑے شخص نے خفا ہوتے ہوئے پوچھا تھا جو وجاہت صاحب کی عمر کے تھے۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔نہیں آج آپ کھلا دیں۔۔۔۔”
ولید نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔پچھلے ایک مہینے سے اس رات ایکسیڈنٹ کے بعد یہ دونوں میاں بیوی ولید کو ہسپتال لے گئے تھے۔۔۔۔۔
“ولید بیٹا تم نے ابھی تک اپنی فیملی کو کیوں نہیں بتایا۔۔۔؟ تم کیوں کسی کے پاس نہیں جانا چاہتے۔۔۔۔؟”
وہ ولید کو کھانا کھلانا شروع کر چکی تھیں۔۔۔۔۔
“دل بھر گیا ہے اب سب کو زخم دکھانے کا۔۔۔ ویسے بھی میرا تو کام بن گیا ہے ہر دفعہ میں مظلوم بن جاتا ہوں۔۔۔۔۔اِس بار خود بکھر کر سنبھلنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔”
۔
ولید کی باتیں سن کر سامنے بیٹھے دونوں لوگ اِسی طرح چپ ہوجاتے تھے ہسپتال سے بہت اسرار پر وہ ولید کو اپنے ساتھ اپنے اپارٹمنٹ میں لے آۓ تھے جہاں وہ اکیلے رہتے تھے جن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“دیکھیئے میرا آپ کی میڈم سے ملنا بہت ضروری ہے۔۔۔۔۔”
ولید نے جتنی زور سے بازو چھڑوایا تھا گارڈ سے۔۔۔اسکے بازو پر بندھی پٹی پھر سے سرخ ہونا شروع ہوگئی تھی اسکے خون سے پر اسے کوئی درد محسوس نہیں ہورہا تھا۔۔۔۔۔
“دیکھے سر ہمیں مجبور نا کرے زور زبردستی کرنے پر آپ۔۔۔۔”
“آپ لوگ جائیے۔۔۔۔میں دیکھ لوں گی۔۔۔۔۔”
مائرہ کے ہاتھ میں کچھ فائلز پکڑی ہوئی تھی وہ آفس میں داخل ہوگئی تھی اور گارڈ نے ولید کا دوسرا بازو بھی چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
“مائرہ مجھے حورعین سے ملنا ہے۔۔۔۔”
مائرہ بنا کچھ کہے اندر چلی گئی تھی اور ولید اسکے پیچھے پیچھے۔۔۔۔
جب ایلویٹر حورعین کے کیبن کے فلور پر رک گیا تھا۔۔۔ولید مائرہ سے پہلے حور کے کیبن میں گیا تھا اور جلدی سے دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔
“بےبی ڈول۔۔۔۔۔”
پر حورعین کی کرسی خالی تھی۔۔۔۔
ولید کیبن کے اندر داخل ہوگیا تھا اور کرسی کے پاس چلا گیا تھا جیسے وہ محسوس کرنا چاہتا تھا اسے۔۔۔۔۔
“حورعین میڈم یہاں نہیں ہیں۔۔۔۔۔”
“کہاں ہیں وہ۔۔۔۔”
“وہ عدت پر ہیں۔۔۔۔اور آپ کو شاید پتا ہو جن کی طلاق ہوجاتی ہے وہ۔۔”
“بس۔۔۔۔”
ولید نے منہ کھڑکی کی طرف کر لیا تھا عدت لفظ نے اسے نڈھال کردیا تھا۔۔۔ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اور حورعین کے ملنے کے راستے بند کر دئیے تھے۔۔۔۔۔
“بس۔۔۔یہی لفظ میں حور میم کو بھی کہتی ہوں۔۔۔یہ ڈائیورس لفظ انہیں کھا چکا ہے۔۔۔۔۔
آپ بہت بڑے بیوقوف ثابت ہوۓ۔۔۔بھلا کون باوفا اور بےپناہ پیار کرنے والے بچوں کو ٹھوکر مار سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟”
۔
۔
“ولید بنا کچھ کہے وہاں سے واپس چلا گیا تھا۔۔۔۔۔اور اسی اپارٹمنٹ میں جہاں سے وہ خدا حافظ کر کے آیا تھا ان دو لوگوں کو۔۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
آذان مغرب سنتے ہی طاہر صاحب اپنے گھر سے نکل رہے تھے کہ جلدی جلدی میں ولید سے ٹکرا گئے تھے۔۔۔۔
“ولید بیٹا تم واپس یہاں۔۔۔۔تمہیں کہیں لگی تو نہیں۔۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔آپ کو تو نہیں لگی۔۔۔؟؟؟”
ولید نے پریشانی سے پوچھا تھا پر ولید کی بھاری آواز سوجھی ہوئی آنکھیں انہیں بتا گئی تھی ولید کی اندر کی حالت۔۔۔۔۔
“نہیں مجھے نہیں لگی تم اندر جاؤ۔۔۔ تمہاری آنٹی تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہوگی۔۔۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔آپ کہاں جارہے ہیں۔۔۔؟؟؟”
ولید نے طاہر صاحب کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔
“بیٹا میں نماز پڑھنے جارہا ہوں۔۔۔۔”
“میں۔۔۔۔میں آپ کے ساتھ آجاؤں۔۔۔۔۔؟؟؟ “
“ہاں کیوں نہیں۔۔۔پر بیٹا اِس ہاتھ کے ساتھ۔۔۔۔۔”
“میں پڑھ لوں گا۔۔۔۔۔ مجھے درد سے آرام نہیں نجات چاہیے۔۔۔۔
مجھے میرے دل کا سکون چاہیے۔۔۔۔۔
مجھے پھر سے اس کا ساتھ مانگنا ہے۔۔۔وہ جو میری تھی۔۔۔۔وہ جس نے مجھے ہر بار موقع دیا تھا۔۔۔۔
مجھے ایسا ایک اور آخری موقع مانگنا ہے۔۔۔۔۔۔
مجھے آپ اپنے ساتھ لے جائیے۔۔۔۔”
اور طاہر صاحب خاموشی کے ساتھ ولید کو مسجد لے گئے تھے اپنے ساتھ۔۔۔۔
۔
