Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

۔
بیڈ پر حورعین کی بکھری کانچ کی چوڑیوں پر جب ولید کا نیند میں ہاتھ لگا تو اسکی آنکھیں کھل گئی تھیں۔۔۔۔ بیڈ کے اطراف پر دیکھا تو حورعین نہیں تھی۔۔۔۔
اور پورے کمرے میں نہیں تھی۔۔۔۔
ولید پھر سے بیڈ پر لیٹ گیا تھا اور رات کی باتیں اسے یاد آرہی تھی۔۔۔۔
۔
“ولید شاہ مجھے تمہارے ساتھ اس بیڈ پر جانے میں مسئلہ نہیں ہے۔۔۔تم شوہر ہو میرے۔۔۔۔یاد ہے آنکھیں بند کر کے یقین کیا تھا تم پر۔۔پر اسی ہوٹل کے روم میں میرے جانے کے بعد اگلی صبح تم نے اپنی بیوی کی جگہ ڈاکٹر نینا کو دے دی تھی۔۔۔۔
ولید درد صرف تمہیں ہی نہیں حورعین کو بھی ہوتا ہے یہاں ہوتا ہے۔۔۔۔”
حورعین نے اپنے دل کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا۔۔۔۔۔
“حورعین تمہیں لگتا ہے میں بے وفائی کروں گا۔۔۔؟؟”
“ولید جو ایک بار محبت میں بے وفا ہوجائیں نا انکے ہاتھوں سے دل ٹوٹتے ہیں پھر۔۔۔۔
آج میں پھر سے اپنا آپ تمہیں سونپ دوں۔۔کل تم ایک اور یہاں لے آؤ گے۔۔۔ کیوں کہ جو ایک بار کر چکا ہو اس سے آگے اچھی امید نہیں رکھی جا سکتی۔۔۔۔”
۔
“خدا کے لیے۔۔۔۔ ایسا نا کہو۔۔۔۔بےبی ڈول۔۔۔۔تمہاری محبت سے اب بے وفائی کروں تو موت آجاۓ مجھے۔۔۔یقین کرو اپنے اینجل کا۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔اینجل۔۔۔۔؟؟ بہت پہلے مار دیا تھا اینجل کو تم نے۔۔۔۔۔ میں بچوں کے روم میں جا رہی ہوں۔۔۔۔۔”
حورعین نے الماری سے اپنا ایک اور سوٹ نکالا تھا۔۔۔۔
“تم جانے سے پہلے مجھے شرٹ پہنا دوگی۔۔۔۔میرے بازو میں درد ہورہا ہے۔۔۔۔”
حورعین کے کپڑے ہاتھ سے گر گئے تھے۔۔۔وہ بھول گئی تھی اپنے غصے میں ولید کی حالت کو۔۔۔۔۔
حورعین نے جلدی سے ولید کے لیے سوکھے ہوئے کپڑے نکالے تھے۔۔۔۔
۔
ولید نے باقی تو کپڑے باتھروم میں جا کر چینج کر لیئے تھے اور شرٹ حورعین نے پہنا دی تھی۔۔۔۔
“شکریہ بےبی ڈول۔۔۔اب تم چلی جاؤ بچوں کے روم میں۔۔۔”
ولید نے دوائی کھانے کے لیے گلاس پکڑنے کی کوشش کی تو نہیں پکڑا گیا اور حورعین نے اٹھا کر منہ کے پاس کیا۔۔۔۔
“ولید شاہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔میری مرضی میں جہاں مرضی جاؤں۔۔۔۔”
حورعین غصے سے کپڑے اٹھائے۔۔۔ باتھروم میں چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا میری جنگلی بلی۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“بےبی ڈول۔۔۔بہت جلدی سب غصہ محبت میں بدل جائے گا تمہارا۔۔۔۔”
ولید بیڈ سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا کے بابا سائیں آپ کو پتا ہے آپ کی مونچھیں یہاں اِس طرف سے سفید ہوگئی ہیں۔۔۔۔”
عاشی کی بات پر سب کے ہاتھ کھانا کھاتے رک گئے تھے۔۔۔۔
خاص کر ولید اور حورعین کے۔۔۔۔
سب کو ڈر تھا وجاہت شاہ کے غصہ کرنے سے۔۔۔۔
“کس طرف سے۔۔۔۔؟؟؟”
وجاہت شاہ کے چہرے پر سختی تھی پر انکے جواب سے سب شوکڈ تھے۔۔۔۔
“اِس طرف سے۔۔۔۔”
عاشی اٹھ کر وجاہت کی رائٹ سائیڈ پر کھڑی ہوگئی تھی اور وجاہت کی مونچھ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا تھا۔۔جہاں کچھ سفید بال تھے۔۔۔۔
ولید کے حواس اڑھ گئے۔۔۔۔
مہرالنساء نے ڈرتے ہوئے عاشی کو نا کا اشارہ کیا تھا۔۔۔۔
“دادو آپ ایسے اشارے کیوں کر رہی۔۔۔آپ بھی بابا کے بابا سائیں کو وہی لگایا کریں جو کل آپ اپنے بالوں پر لگا رہی تھیں۔۔۔۔”
ارش کی بات سن کر مہرالنساء کے چہرے پر شوکڈ تاثرات تھے۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔سوری ماں۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔اففف سوو سوری میں ابھی آئی۔۔۔۔”
ثمرین ہنستے ہوئے ڈائننگ ٹیبل چھوڑ گئی تھی۔۔۔اس سے اپنی ہنسی ہی کنٹرول نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔۔
“پھوپھو کیوں ہنس رہی تھی بابا۔۔۔؟؟ آپ کی مونچھیں بھی بلیک نہیں رہی۔۔۔۔”
عاشی کی بات سے سب کا دھیان ولید پر چلا گیا تھا جو اپنے بابا کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔مدد کے لیے۔۔۔۔
“وہ اس لیے بلیک نہیں رہی بیٹا کیوں کہ تمہارے بابا بڈھے ہورہے ہیں۔۔۔۔۔”
حورعین نے ولید کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔۔۔۔
ولید کا منہ اور کھل گیا تھا۔۔۔۔۔
“اور بابا کے بابا سائیں بھی بڈھے ہوگئے ہیں اس لیے۔۔۔؟؟”
“نہیں بچوں تمہارے دادا تو کتنے سال پہلے ہی بڈھے ہوگئے تھے۔۔۔
ان پر اس کا اثر بھی نہیں ہونا جو میں اپنے سر کے بالوں پر لگاتی ہوں۔۔۔۔”
اب کی بار وجاہت شاہ کا منہ کھل گیا تھا۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ثمرین بلا رہی مجھے۔۔۔۔۔”
سمیر بھی ہنستے ہوئے بھاگ گیا تھا وہاں سے۔۔۔۔
ریان عاشی ارش تو چار بڑے لوگوں کی طرف دیکھ رہے تھے جو ابھی بھی ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے شوکڈ ہو کر۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔بابا سائیں کیا ابھی میں نے جو سنا ماں کے منہ سے سچ ہے۔۔۔۔؟؟؟ ہاہاہاہا۔۔۔۔ منہ بند کر لیجیئے بابا۔۔۔۔۔”
“ہاں جیسے تمہاری بیوی نے تمہیں کچھ نہیں کہا نا۔۔۔۔؟؟؟ اِن عورتیں نے اچھی خاصی عزت افزائی کرنا شروع کردی ہے ہماری۔۔۔۔ ابھی مونچھیں کالی کر کے آتا ہوں مسز وجاہت شاہ۔۔۔۔ بڈھا نہیں ہو وجاہت شاہ ابھی۔۔۔”
وجاہت خفا ہوکر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ماں۔۔۔۔۔”
حورعین نے ہنستے ہوئے مہرالنساء کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔اب بڈھے لوگوں کو کو اور کیا کہیں۔۔۔؟؟؟؟”
مہرالنساء نے حور کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا۔۔۔۔
“ماں۔۔۔۔”
ولید نے بھی پاؤں پٹک دئیے تھے۔۔۔۔۔
“کیوں آپ نے مونچھ کالی نہیں کرنی شاہ جی۔۔۔۔۔”
حورعین نے چہرہ ولید کی طرف کر لیا تھا۔۔۔۔
“شاہ جی۔۔۔۔ماما ہاؤ رومینٹک۔۔۔۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔۔عاشی۔۔۔۔؟؟ رومینٹک۔۔۔؟؟”
حور نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔۔
اوپپسس سوری ماں”
“ولید شاہ کچھ زیادہ ہی بچے خراب نہیں کر رہے آپ۔۔۔؟؟؟”
حور نے ولید کی طرف دیکھا جو اوپر روم کی طرف بھاگ گیا تھا۔۔۔۔
“بےبی ڈول۔۔۔پہلے مونچھ کالی کر لوں۔۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔بلکل پاگل ہے۔۔۔۔۔”
مہرالنساء کہتے ہوئے حور کی طرف جھکی تھیں اور حور کا ماتھا چوم لیا تھا۔۔۔
“خوش رہو میری بچی۔۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
۔
ایک بہت بڑی خوبصورت گاڑی۔۔۔۔جب اِس محلے کے ایک پرانے سے گھر کے سامنے رکی تھی تو بہت سے لوگ رک رک کر اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
اور پھر گاڑی کا دروازہ کھلا تو۔۔۔۔ آنئیشا نیچے اتری تھی ڈرائیونگ سیٹ سے۔۔۔۔
بہت سالوں کے بعد آج وہ یہاں اِس جگہ کھڑی تھی جہاں اس نے اپنی زندگی کے پانچ سال اپنی بچی کے ساتھ گزارے تھے۔۔۔۔
ماضی کی وہ باتیں یاد آرہی تھیں اسے۔۔۔۔
کیسے کرایا لیٹ ہونے پر اسے نکال دیا گیا تھا یہاں سے اس کی بیٹی کے ساتھ۔۔۔۔
وہ شروعات تھی اس رشتے کے برباد ہونے کی جو اس کا۔۔۔اسکی بیٹی کے ساتھ تھا۔۔۔۔
“نیشا بیٹا۔۔۔۔؟؟؟”
ایک ضعیف عورت جو بلکل پاس والے گھر کے دروازے پر کھڑی تھی۔۔۔۔
آنئیشا کو دیکھ کر پہچان گئی تھیں۔۔۔۔
اور آہستہ آہستہ آنئیشا کی طرف بڑھی تھیں۔۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔۔ہم آنٹی کیسی ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟”
میں ٹھیک ہوں میری بچی۔۔۔۔ مجھے امید ہی نہیں تھی میں تمہیں کبھی دوبارہ دیکھ بھی پاؤں گی۔۔۔۔۔”
وہ آگے بڑھ کر نیشا کے گلے سے لگی تھیں۔۔۔۔۔
“ہممم میں بھی۔۔۔۔اور انکل کیسے ہیں۔۔۔؟ “
“بیٹا اندر نہیں آؤ گی۔۔۔۔؟؟ “
نیشا کی نظریں بار بار اس تالے لگے گھر پر جا رہی تھیں جو کبھی اسکا بھی تھا۔۔۔ اور پاس کھڑی ضعیف عورت آنئیشا کے جذبات سمجھ گئیں تھیں۔۔۔۔
اور اپنی بیٹی کو آواز دے کر کچھ کہا تھا جو واپس اپنے گھر چلی گئی تھی۔۔۔۔
“آپ نے انکل کا نہیں بتایا۔۔۔۔؟؟؟”
آنئیشا نے پھر سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔
“بیٹا وہ تو تمہارے چھوڑ جانے کے کچھ مہینے بعد ہی چھوڑ گئے تھے مجھے۔۔۔بہت بیمار رہتے تھے۔۔۔۔”
انکی بیٹی ایک جلدی سے کچھ چابیاں لے آئی تھی اور آنئیشا کو بہت احترام سے ملتے ہوئے وہ چابیاں اس نے اپنی ماں کو دے دی تھی۔۔۔
“بیٹا اپنے گھر میں نہیں چلو گی۔۔۔۔؟؟؟”
انکے لہجے میں بہت شرمندگی تھی۔۔۔۔
“وہ گھر جہاں کے مالک مکان نے مجھے اور میری پانچ سال کی بیٹی کو نکال دیا تھا۔۔۔۔۔؟؟؟”
آنئیشا نے بہت غصے سے کہا تھا انہیں۔۔۔۔
“وہ مجبور تھے بیٹا تمہارے انکل مجبور تھے۔۔۔۔تم اندر تو چلو میں سب بتاؤں گی تمہیں۔۔۔۔”
اور انہوں نے دروازہ کھول دیا تھا اس گھر کا جہاں آنئیشا کی بے پناہ خوبصورت یادیں تھیں اپنی بیٹی کے ساتھ۔۔۔۔
“سب کچھ ویسا ہی ہے بیٹا جیسے تم چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔۔یہ گھر کا دروازہ ہر مہینے کھولتے تھے گھر کی صفائی کے لیے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اندر داخل ہوتے ہی بولی جا رہی تھیں۔۔۔اور آنئیشا وہیں گھر کی چوکھٹ پر کھڑی تھی۔۔۔۔۔
۔
اور پھر ایک پل میں وہ ماضی کی ان یادوں میں چلی گئیں تھیں۔۔۔۔
۔
“ماما آپ کا ویٹ کر رہی تھی میں آپ کہاں تھیں۔۔۔۔؟؟؟”
اس بچی نے جیسے آنئیشا کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیا تھا انہیں۔۔۔۔
“ہر چیز وہیں ہے گھر کی پھر ہمیں کیوں بےدخل کر دیا تھا آپ نے۔۔۔؟؟؟”
آنئیشا وال پر اپنی اور اپنی بیٹی حورعین کی تصویریں دیکھ کر پوچھ رہی تھیں۔۔۔۔
“بیٹا۔۔۔تم جانتی نہیں۔۔۔اس وقت میں بہت بیمار تھی۔۔۔۔اور میری بیماری پر تمہارے انکل کی ساری جمع پونجی لگ گئی تھی۔۔۔۔
کچھ نہیں بچا تھا ہمارے پاس۔۔۔۔۔
اسی وقت ایک شخص آیا تھا ہمارے گھر۔۔۔اس نے ایک پیشکش کی تھی۔۔۔
اگر ہم تمہیں یہاں سے نکال دیں تو وہ ہمیں علاج کے تمام پیسے دے گا۔۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے رونے لگی تھی۔۔۔۔۔
“آنٹی فوزیہ۔۔۔۔آپ نے اس وقت مجھے دنیا کا سہی چہرہ دکھا دیا تھا۔۔۔۔اور میں نے اپنی بیٹی کو اپنا۔۔۔۔۔”
آنئیشا بھی وہیں ایک فوٹو فریم اٹھا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
“نیشا حورعین نہیں آئی تمہارے ساتھ۔۔۔؟؟؟
اب تو بہت بڑی ہوگئی ہوگی۔۔۔۔ابھی بھی ویسی ہی شرارتی ہے۔۔۔۔؟؟؟
ہاہاہاہا یاد ہے مسز زین کے بالوں پر پینٹ لگا دیا صرف اس لیے کہ اس نے تمہیں طنز کیا تھا۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
آنئشا کا پورا جسم کانپ گیا تھا جس شدت سے وہ رو رہی تھی۔۔۔۔
۔
“ماما۔۔۔آئی لو یو۔۔۔۔۔”
“ماما آپ اداس نا ہوا کریں۔۔۔۔کوئی بات نہیں مجھے سکول نہیں پڑھنا ابھی۔۔۔۔”
“ماما ہم میری سالگرہ پھر منا لیں گے۔۔۔۔آپ اپنی میڈیسن لائیں پہلے۔۔۔۔”
“ماما۔۔۔۔ ہم عید کے کپڑے ابھی نہیں لیں گے۔۔۔۔آپ زیادہ کام نا کیا کریں”
۔
“ماما پاپا کب آئیں گے۔۔۔؟؟ وہ مجھ سے پیار نہیں کرتے کیا۔۔۔؟؟”
۔
“آنئیشا بیٹا تم ایسے کیوں رو رہی ہو۔۔۔؟؟ حورعین ٹھیک ہے۔۔۔؟؟ کہاں ہے وہ۔۔۔۔۔؟”
“فوزیہ آنٹی میں نے دوسری شادی کر لی تھی۔۔۔ میری بوس جو میری اچھی دوست تھی۔۔۔۔اسکے بھائی سے۔۔۔۔
اور۔۔۔اور میں نے شادی سے پہلے اپنی نئی زندگی کو اپنانے سے پہلے سب پرانے رشتے اور سب پرانی یادیں چھوڑ دی تھی۔۔۔
اور ان سب میں سرفہرست میری بیٹی تھی حورعین۔۔۔۔
جسے میں نے اورفینیج میں چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
“فوزیہ بی کے ہاتھ تو آنئیشا کے ہاتھ سے چھوٹ گئے تھے۔۔۔پر انکی بیٹی جنکے ہاتھ میں چاۓ کی ٹرے تھی وہ بھی گر گئی تھی۔۔۔
ان لوگوں کے ساتھ انکے سامنے حورعین پانچ سال کی ہوئی تھی۔۔۔۔
“یہ تم نے کیا کر دیا نیشا۔۔۔۔”
“جو مجھے سہی لگا میں نے کیا۔۔۔کیونکہ مجھے کراۓ کے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔۔۔۔
اوور ٹائم کر کے راتوں کو اکیلی ڈرتے ڈرتے گھر آنے سے تھک گئی تھی میں۔۔۔
میں یہاں سے نکالے جانے کے بعد اپنے ماں باپ کے گھر بھی گئی تھی۔۔۔
اپنی بڑی بہن کے گھر بھی گئی تھی۔۔۔۔
سب نے اپنا اپنا غصہ اپنی اپنی نفرت ظاہر کی مجھ پر۔۔۔۔کسی کو ترس نہیں آیا۔۔۔۔
اور اس کے بعد میں بھی پتھر بن گئی۔۔۔۔ایک ایسا پتھر جس نے میرے اندر کی ممتا کو کچل دیا تھا اور ظالم بنا دیا تھا مجھے۔۔۔ورنہ ماں ایسا نہیں کرتی کبھی اپنی اولاد کے ساتھ۔۔۔۔۔کتنا بڑا گناہ کردیا میں نے۔۔۔”
۔
۔
“اپنے ہی در کو خودہی تھا چھوڑا۔۔۔اب دربدر سی یہ زندگی ہے۔۔۔
ہم رب کے آگے کس منہ سے جائیں۔۔۔آنکھوں میں ایسی شرمندگی سی ہے
۔
“بس بیٹا۔۔سنبھالو خود کو۔۔۔۔ہم نے اپنی مجبوری میں جو تمہارے ساتھ کیا وہ تمہارے انکل کو ایک پل کا سکون نہیں لینے دے رہی تھی۔۔۔۔
اور کچھ دن کے بعد جب تمہارے انکل نے انکے پیسے لینے سے منع کردیا تھا تو انہوں نے کہا تھا اگر تم واپس آئی تو وہ تمہیں اور تمہاری بیٹی کو مار دیں گے۔۔۔۔بیٹا ہم ڈر گئے تھے۔۔۔۔”
۔
ان کی بات سن کر آنئیشا نے بے یقینی سے انکی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
“کون تھا وہ انسان۔۔۔؟؟ جس نے پیسوں کی پیشکش کی تھی۔۔۔؟ اور دھمکی دی تھی۔۔۔۔؟؟؟”
“بیٹا وہ کوئی صغیر عالم نامی شخص تھا۔۔۔کافی روبدار امیر شخص تھا۔۔۔۔”
آنئیشا جس کو نام سن کر اندازہ ہوگیا تھا۔۔۔۔
“جہانگیر عالم۔۔۔۔ اسے میں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔۔”
نیشا غصے سے اٹھ گئی تھی۔۔۔۔
“بیٹا کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟؟؟”
“فوزیہ آنٹی مجھے یہ گھر خریدنا ہے۔۔۔چاہے جو بھی قیمت ہو پلیز۔۔۔مجھے حورعین کے ساتھ بِتائی یادیں سمیٹنی ہیں۔۔۔۔”
آنئیشا نے فوزیہ بی کے ہاتھ پکڑ لیے تھے۔۔۔۔
“بیٹا۔۔۔ہمیں پیسے نہیں چاہیے۔۔۔تمہارے انکل کی وصیت میں یہ گھر انہوں نے تمہیں اور حورعین کو دینے کا کہا تھا۔۔۔۔”
“بہت عجیب بات ہے جب سب چاہیے تھا اس وقت سب چھین لیا تھا۔۔۔اور آج۔۔۔سب مل رہا ہے پر وہ نہیں جسے پانے کے لیے تڑپ رہی ہوں۔۔۔۔میری حورعین نہیں مل رہی مجھے۔۔۔۔”
آنئیشا یہ کہہ کر وہاں سے چلے گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
“دنیا کی چاہت پاکر سب کچھ تو نے کھویا۔۔۔۔۔
تو نے ہے کاٹا۔۔۔وہی جو تھا تو نے بویا۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مس جہانگیر سر ایک سرجری میں مصروف ہیں۔۔۔۔ آپ کل کی اپاؤئنٹمنٹ لے لیجیئے وہ۔۔۔۔”
“کونسے کیبن میں ہیں آپ کے جہانگیر سر۔۔۔۔؟؟؟”
آنئیشا نے سامنے کھڑی نرس کے ڈسک پر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“میم وہ۔۔۔۔”
“انہیں آنے دیجیئے۔۔۔۔میرے کیبن میں بٹھائیے مس آنئیشا کو میں ابھی آیا۔۔”
جہانگیر اپنے کپڑے چینج کرنے چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
“نیشا۔۔۔؟ تم یہاں ہسپتال میں سب خیریت ہے۔۔۔۔”
“تم لوگ چاہے زندگی برباد کردو اور میں یہاں آ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔؟؟؟”
“نیشا میں سمجھا نہیں۔۔۔۔؟؟”
“اور اتنے میں آفس بوائے روم کا ڈور ناک کر کے دو جوس کے گلاس لے آیا تھا۔۔۔۔
“میم جوس۔۔۔۔”
“اپنے ڈاکٹر کو دو۔۔۔یا پھر میں ہی دے دیتی ہوں۔۔۔۔”
آنئیشا نے جوس کا گلاس جہانگیر صاحب کے منہ پر پھینک دیا تھا۔۔۔۔
اور آفس بوائے کے چہرے کے رنگ اڑھ گئے تھے۔۔۔۔۔وہ تو وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
“آنئیشا یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔؟؟ ہسپتال ہے یہ میرا۔۔۔۔ریپوٹشن ہے میری یہاں۔۔۔۔”
جہانگیر نے بہت غصے سے کہا تھا۔۔۔۔۔
“وہی عزت اور شہرت جس کے لیے تم نے اپنے بچے کو اپنانے سے انکار کردیا تھا۔۔؟؟؟؟
اگر تم نے انکار کردیا تھا۔۔۔نکال باہر کیا تو پھر کیوں تمہارے باپ نے میری اور میری بیٹی کی زندگی جہنم بنا دی تھی۔۔۔؟؟
پہلے مجھے میری نوکری سے نکلوا کر پھر کراۓ کے گھر سے۔۔۔۔”
آنئیشا نے بھیگے چہرے سے کہا تھا۔۔۔۔
“آنئیشا ڈیڈ کو نہیں پتا تھا کسی کو ہماری شادی کا نہیں پتا تھا۔۔۔۔”
جہانگیر کہتے ہوئے چپ ہوگئے تھے۔۔۔۔
“کسی کو نہیں پتا تھا۔۔۔کبھی کبھی سوچتی ہوں جہانگیر جس طرح تم نے سب ثبوت لے لئیے تھے ہماری شادی کے۔۔۔۔ اگر حورعین میرے پاس ہوتی بھی تو ناجائز ہی سمجھتے نا لوگ اسے۔۔۔۔۔؟؟؟”
“آنئیشا۔۔۔۔۔”
جہانگیر صاحب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔۔پر خود کو روک لیا تھا انہوں نے۔۔۔
“تم نے خود کہا ناکسی کو نہیں پتا تھا۔۔۔؟ ان سب کا یہی مطلب ہوتا ہے استعمال کیا اور پھینک دیا۔۔۔۔میں بہت غلط تھی جہانگیر چھوٹی عمر میں پیار اور شادی کر لی تم سے یقین کر لیا تم جیسے گِرے ہوئے انسان پر۔۔۔
جو بہت لالچی ثابت ہوا۔۔۔جس نے اپنی اولاد اپنی بیوی اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے قربان کردی۔۔۔۔۔”
آنئیشا کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔ آج انکے منہ سے نکلی ہر بات نے اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا جہانگیر عالم کو۔۔۔۔
“آنئیشا۔۔۔۔”
“نام مت لو میرا۔۔۔آج تک میں خود کو قصوروار سمجھتی رہی ہوں۔۔۔
پر تم بھی اتنے ہی گناہ گار ہو۔۔۔۔میری بیٹی کو مجھ سے دور کرنے میں تم تمہارا باپ تمہارے وہ خاندان بھی اتنے ہی قصوروار ہے۔۔۔۔
اور جہانگیر عالم۔۔۔۔یہ مت سمجھنا میں بھول جاؤں گی۔۔۔اپنی بیٹی کی آنکھوں میں میرے لیے جو نفرت ہے۔۔۔ان آنکھوں میں تمہارے لیے پیار عزت کیسے ہونے دوں گی۔۔۔؟؟
تمہاری سچائی بھی پتا چلنی چاہیے۔۔۔۔اگر تم نے خود اسے نا بتایا تو میں بتا دوں گی۔۔۔
ایک ہفتے کا وقت دے رہی ہوں تمہیں۔۔۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔۔
اور ایک بات۔۔۔تم سے پیار کرنا اور شادی کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی جہانگیر عالم۔۔۔۔ میں نے ماں باپ کی نافرمانی کی انکی بات نہیں مانی مجھے سزا میں تم مل گئے۔۔۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئی تھیں اپنا منہ صاف کئیے۔۔۔۔۔
۔
“وہ دن میری زندگی کا آخری دن ہوگا جب اپنی بیٹی کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھوں گا۔۔۔۔۔
آنئیشا تم دونوں کو ٹھکرا کر بہت برباد ہوا ہے یہ جہانگیر عالم۔۔۔۔۔”
۔
۔
انکے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا پر سننے والا کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
عدیل تجھے نینا کا بتانا پڑے گا۔۔۔۔تجھے اس بار میرے اور حورعین کے پیار کے درمیان نہیں آنے دوں گا۔۔۔۔۔۔”
۔
ولید نے بہت تعش میں آکر کہا تھا۔۔۔۔۔
۔
“جو کسی سے پیار کرتے ہیں وہ ریپ نہیں کرتے کسی کا۔۔۔
جو کسی سے پیار کرتے ہیں وہ تذلیل نہیں کرتے کسی کی۔۔۔۔
پیار کرنے والے یقین دیتے ہیں رشتے کو۔۔۔۔ اذیت نہیں۔۔۔۔۔۔۔”
“بکواس بند کر لے عدیل جان سے مار دوں گا تج۔۔۔۔۔”
۔
“ہاہاہاہا ولید بھیا۔۔۔۔ آپ کی ناک کے نیچے سب کر رہا تھا میں۔۔۔۔
آپ کو پتا ہے۔۔۔ آپ کو نینا کے عشق میں مبتلا ہوتے دیکھ کتنا سکون ملتا تھا مجھے۔۔۔۔
آپ نے کیا سچ میں حورعین سے پیار کیا تھا۔۔۔۔؟؟؟ کتنی عورتیں آئی آپ کی زندگی میں۔۔۔۔
آپ تو میری دوستی تک حورعین سے برداشت نہیں کر پائے تھے۔۔۔۔
اور خود۔۔۔۔؟؟؟
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ ملائکہ کے ساتھ شادی کے بعد آپ کی نزدیکیاں بھی میرا پلان تھا۔۔۔۔
کیسے حورعین کے سامنے آپ ملائکہ کو وہ حق دے رہے تھے جو حورعین کے تھے۔۔۔۔۔”
عدیل کے منہ سے خون بہہ رہا تھا پر وہ خاموش نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
“عدیل ایک اور لفظ نہیں۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا کیوں برداشت نہیں ہورہا۔۔۔۔؟؟؟ وہ رات جو حورعین کے ساتھ اس ہوٹل روم میں بتائی تھی۔۔۔مجھے اندر تک کاٹ گئی تھی۔۔۔۔۔
اور تبھی نینا کو بھیجا تھا میں نے۔۔۔۔ آپ تو میری سوچ سے زیادہ آگے نکلے۔۔۔۔
کوئی شوہر کیسے اپنی بیوی کے جانے کے بعد کسی اور کی بانہوں میں چلا جاتا ہے۔۔۔۔؟؟؟”
ولید شاہ نے اپنا منہ پھیر لیا تھا۔۔۔۔
وہ ان باتوں کو سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا اسے پتا تھا جس دن یہ باتیں سوچے گا وہ شرم سے مر جاۓ گا۔۔۔۔۔
“ولید شاہ رو رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟
پر تب کیوں نہیں رویا تھا ولید شاہ جب اپنی بیوی کو طلاق دے رہا تھا۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔؟؟؟
کیونکہ تب تمہیں اپنی زندگی حورعین سے دور خوبصورت نظر آرہی تھی نا۔۔۔؟؟؟؟
ایک مشہور ڈاکٹر بیوی۔۔۔اور پھر تمہیں بچے چاہیے تھے۔۔۔۔
ہا۔۔۔ولید شاہ تب رو کر سب ٹھیک کرلیتے تو آج نا رونا پڑتا۔۔۔۔۔”
ولید کے گارڈز باہر کھڑے تھے پر آوازیں سب کو جارہی تھیں۔۔۔
“ولید شاہ ایک بات سچ بتاؤں۔۔۔۔۔تمہاری بےبی ڈول کے سوا تمہاری ہر محبت نے مجھے اپنے قریب آنے دیا تھا۔۔۔۔
پر اس نے نہیں جس پر تم نے بےحیا بدکردار کا الزام لگایا تھا۔۔۔۔۔
تم اس لڑکی کو ڈیزرو نہیں کرتے۔۔۔۔۔
اسے میں اپناؤں گا۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔اور پھر حدید بھی آۓ گا تم۔۔۔۔۔”
ولید نے جتنی زور سے کک ماری تھی عدیل اس بندھی ہوئی کرسی کے ساتھ دیوار پر جا لگا تھا۔۔۔۔
وہ کامیاب ہورہا تھا ولید کو اکسانے میں۔۔۔۔وہ چاہتا تھا ولید شاہ خود دور چلا جائے حور کی زندگی سے۔۔۔۔
پر اسے یہ نہیں معلوم تھا اب یہ وہ ولید شاہ نہیں رہا۔۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ولید بھیا۔۔۔۔ تم حورعین کو ڈیزرو نہیں کرتے۔۔۔۔۔”
۔
“ولید شاہ اگر حورعین کو ڈیزرو نہیں کرتا تو کوئی اور بھی اسے پا نہیں سکتا۔۔۔۔۔
حورعین ولید شاہ کی تھی۔۔۔۔ولید شاہ کی ہے۔۔۔۔۔
اور ولید شاہ کی رہے گی۔۔۔۔۔
وہ ولید شاہ کی تب تک رہے گی جب تک بیوہ نہیں ہوجاتی وہ۔۔۔۔۔
اور ولید شاہ کی ہستی اسی سے شروع ہو کر ختم ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔
میری زندگی میں روشنی ہے وہ۔۔۔۔میری دھڑکنوں کے لیے ضروری ہے اسکی دھڑکنے۔۔۔۔
ولید شاہ اسکا اینجل ہے۔۔۔۔ اس کے بچوں کا باپ۔۔۔۔ اس کے سر کا سائیں۔۔۔
اس کی زندگی میں اسکی ہر خوشی ہر غم سے منسلک یہ ولید شاہ۔۔۔۔
اور تو کہتا ہے میں ڈیزرو نہیں کرتا اسے۔۔۔۔؟؟؟
ہم دونوں ہی ڈیزرو کرتے ہیں ایک دوسرے کو۔۔۔۔۔
کسی اور میں اتنی ہمت نہیں کہ شدت برداشت کر لے ہماری محبت کی۔۔۔۔
کسی میں اتنا ضبط نہیں کہ سہہ جاۓ ہماری محبت کی نفرت کو۔۔۔۔
ہم ہی کرتے ہیں ایک دوسرے کے ڈیزرو۔۔۔ہماری محبت پر ہمارے وجود پر ہم دونوں کا حق ہے۔۔۔۔۔
ہماری محبت نے ہمیں عشق مجازی سے عشق حقیقی سے ملا دیا۔۔۔۔
اور تو کہتا ہے کہ ڈیزرو نہیں کرتا میں حورعین کو۔۔۔۔
ولید شاہ کو سب کچھ کھو کر حورعین ملی تھی۔۔۔۔۔ اور حورعین کی جدائی نے مجھے میرے اللہ کے قریب کردیا۔۔۔۔
ولید شاہ کا نام اب حورعین کے نام کے ساتھ مل گیا ہے۔۔۔۔جدا نہیں ہوگا کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“کیسی خلائیں دل میں بسی ہیں۔۔۔۔۔۔
اب تو خطائیں۔۔۔۔فطرت ہی سی ہیں۔۔۔۔”
۔
۔
“تم کچھ نہیں ہو ولید شاہ کچھ بھی نہیں۔۔۔تم صرف دشمن ہو حورعین کے۔۔۔۔ اسکی خوشیوں کے۔۔۔۔
ارے تم تو اپنے بچے کے بھی دشمن نکلے تم جیسا حیوان محبت ہی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
ولید جو پہلے عدیل کی باتوں سے ٹوٹ گیا تھا۔۔۔آج اسے پھر سے وہ احساس وہ شرمندگی ہورہی تھی۔۔۔۔
کیوں وہ اپنی بیوی کے ساتھ اتنا بُرا کرگیا اپنے غصے میں۔۔۔۔
۔
۔
“”میں ہی ہوں وہ جو رحمت سے گرا۔۔۔۔
اے خُدا۔۔۔۔
گرگیا۔۔۔۔۔میں جو تجھ سے دور ہوا گِھر گیا۔۔۔۔۔”
۔
۔
“اسکے ہاتھ پاؤں ابھی کھولو۔۔۔۔۔”
ولید کے حکم پر اسکے گارڈز نے عدیل کے ہاتھ پاؤں کھول دئیے تھے۔۔۔۔
“اب تو حیوان دیکھو گا مجھ میں عدیل شاہ۔۔۔۔۔”
ولید نے بہت زور سے مکا مار کر پھر سے اسے نیچے گرا دیا تھا۔۔۔۔
اور عدیل کو پھر سے اٹھا کر پھر سے مارا تھا۔۔۔۔
عدیل جو ابھی تک مار کھا رہا تھا۔۔۔موقع پا کر ولید کی گن نکال لی تھی اس نے اور ولید کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
“ہاہاہاہا آج کوئی بات نہیں کرے گا عدیل شاہ ڈائریکٹ ہٹا دوں گا راستے سے۔۔۔۔ولید بھیا۔۔۔۔۔۔۔”
اسک خون سے بھرے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
جب اس نے گن چلا دی تھی۔۔۔۔
پر اس ایک گولی کے چلنے کے بعد اور فائرنگ بھی ہوئی تھی۔۔۔۔
عدیل نیچے گرگیا تھا۔۔۔۔
اور ولید شاہ کے سامنے اسکی ڈھال بنا اسکا گارڈ بھی۔۔۔۔
وہ دونوں ہی نیچے گر گئے تھے۔۔۔۔۔
“ولید سر آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
اور گارڈز نے ساری صورتحال کو کنٹرول کرلیا تھا۔۔۔۔
عدیل کو ہسپتال لے گئے تھے۔۔۔پر گارڈ نے جانے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔اور ولید کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
“سر۔۔۔۔میری بیٹی کو یہ۔۔۔۔یہ دے دیجیئے گا۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔”
اس گارڈ نے اپنی جیکٹ کی جیب سے ایک ڈول نکال کر ولید کے ہاتھ میں دے دی تھی۔۔۔۔
“میری بےبی ڈول کو اس کی سالگرہ پر یہ تحفہ دے دیجیئے گا۔۔۔۔”
ولید شاہ کی آنکھوں میں کسی غریب۔۔۔کسی غیر کے لیے پہلی بار آنسو آۓ تھے۔۔۔۔۔۔
۔
“کیوں جُڑتا اِس جہاں سے تو۔۔۔۔اِک دن یہ گزر ہی جاۓ گا۔۔۔
کتنا بھی سمیٹ لے یہاں۔۔۔۔مٹھی سے نکل یہ جاۓ گا۔۔۔۔۔”
۔
“سر وہ نہیں رہا اب۔۔۔۔”
وہ اس گارڈ کو اٹھا کر باہر لے گئے تھے ولید شاہ کو ایک اور تلخ حقیقت کے ساتھ چھوڑ کر۔۔۔۔
جو کسی کو نقصان پہنچانے کے بعد بھی نہیں سوچتا تھا۔۔۔۔
آج اپنے ہاتھوں میں کسی کے دم توڑ جانے سے ولید شاہ کو اتنا صدمہ کیوں لگ گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ ایک گناہ گار انسان۔۔۔۔۔
۔
اِتنی خطائیں تو لے کر چلا کر ہے۔۔۔۔۔
دولت ہی جیسے تیرا اب خدا۔۔۔۔
۔
۔
“کیا غریب ہونا بُری بات ہے اینجل۔۔۔۔؟؟؟”
“اتنا غرور تھا اپنی دولت کا تمہیں ولید شاہ۔۔۔۔”
“مار دیا میرے بچے کو تم نے۔۔۔حدید کو مار دیا تم نے۔۔۔۔۔”
۔
۔
ہر پل دیتا ہے تو جیسے ہوا ہے۔۔۔۔۔۔
گناہ کے سائے میں چلتا رہا۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم نے کیا سوچا تھا۔۔۔ولید شاہ ایسے ہی جانے دے گا تم۔۔۔؟؟ رکھیل بنو گی تم میری۔۔۔”
“تم اس قابل تھی ہی نہیں۔۔۔بابا سائیں آپ ٹھیک کہتے تھے ایسی عورت گھر میں رکھنے کے قابل نہیں۔۔۔۔”
۔
۔
سمندر سا بہہ کر تو چلتا ہی گیا۔۔۔۔۔
تیری مرضی پوری کی تو نے ہر دفعہ۔۔۔۔۔
۔
۔
تو ہی تیرا مجرم بندیا۔۔۔۔۔
۔
۔
ولید شاہ بہت دیر وہیں بیٹھا اس جگہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس اپنے گناہ اپنے ظلم اپنی آنکھوں کے آگے ہوتے ہوئے نظر آرہے تھے۔۔۔۔
ان مظالم کو برداشت کرنے والی اسکی بیوی۔۔۔۔۔
۔
۔
“آہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔”
ولید کی چیخ سے بہت سے گارڈز بھاگتے ہوئے اندر آگئے تھے۔۔۔۔
“سر۔۔۔۔”
“اس گارڈ کا نام کیا تھا۔۔۔؟؟؟”
“سر زوہیب ۔۔۔۔۔”
ولید اپنا چہرہ صاف کر کے اٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
“کتنے بچے ہیں اسکے۔۔۔۔”
“سر زوہیب کے دو بچے ہیں۔۔۔ایک بیٹا دو مہینے پہلے پیدا ہوا۔۔۔اور ایک بیٹی ہے 4 سال کی۔۔۔۔۔”
ولید وہیں کھڑا رہ گیا تھا۔۔۔۔
“ڈاکٹر کے پاس لے جانے سے بھی بچ نہیں سکتا وہ۔۔۔؟ اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔۔۔ وہ یتیم ہوگئے تو کیسے جیئے گے۔۔۔؟؟؟”
“ایم سوری سر۔۔۔۔”
“ہمم اور وہ باسٹرڈ۔۔۔۔؟؟”
آج ولید شاہ کے لیے اسکا چھوٹا بھائی مر گیا تھا۔۔۔۔
“ہمم عدیل شاہ زندہ ہے۔۔۔زوہیب نے اس جگہ نہیں مارا جہاں موت آجاتی۔۔۔۔”
اس بتانے والے گارڈ کے لہجے میں بہت نفرت اور غصہ تھا عدیل شاہ کے لیے۔۔۔۔
“وہ نظروں سے دور نہیں جانا چاہیے۔۔۔۔۔ زوہیب کے گھر کا ایڈریس مجھے بھیج دو۔۔۔میں جنازے پر ساتھ جاؤں گا۔۔۔۔”
۔
ولید وہاں سے سیدھا شاہ حویلی گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
شاہ حویلی۔۔۔۔۔
۔
۔
“اور یہ رپورٹ آئی ہے عاشی۔۔۔؟؟ %85۔۔۔؟؟”
حورعین کمر پر ہاتھ رکھے دونوں بچوں کی کلاس لے رہی تھی جو سامنے صوفے پر بیٹھے وجاہت اور مہرالنساء کو ہیلپ کے اشارے کر رہے تھے۔۔۔۔
“ماما شکر کریں اتنی ہی آگئی ہے۔۔۔مجھے تو یقین نہیں آرہا ہے۔۔۔۔”
عاشی نے بہت معصوم سا منہ بنا کر سچ بتایا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
مہرالنساء کے ہنسنے پر حور نے جیسے ہی انکی طرف دیکھا وہ چپ ہوگئی تھیں۔۔۔”
“دادو آپ ہنسے نا ہمیں ماں سے بچائیں۔۔۔۔۔”
“اچھا ابھی بتاتی ہوں۔۔۔۔۔”
اتنے میں ولید حویلی میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔
“بابا آگئے۔۔۔”
“بابا ہٹلر ماما سے بچائیں آپ۔۔۔۔”
“اننفف۔۔۔بچوں ابھی نہیں بابا کو کہیں جانا ہے۔۔۔۔حورعین تیار ہو جاؤ ہمیں جانا ہے کہیں۔۔۔۔”
ولید نے ڈرے ہوئے بچوں کو دیکھا تو نیچے جھک کر دونوں کا ماتھا چوما تھا اور اوپر اپنے روم میں چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
۔
“بابا کو کیا ہوا ماما۔۔۔”
“کچھ نہیں بچے بابا آفس کے کام سے پریشان ہونگے۔۔۔آپ دادو کے پاس بیٹھو میں ابھی آئی۔۔۔۔”
۔
حورعین بھی تھوڑی دیر میں کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔
“ولید ہم کہاں۔۔۔”
“نیچے آجانا جلدی۔۔۔۔”
ولید کو شلوار قمیض پہنے دیکھ حورعین نے جیسے ہی پوچھا ولید بس یہی کہہ کر نیچے چلا گیا تھا۔۔۔۔
“اب کیا ہوا۔۔۔؟؟کھڑوس شاہ جی۔۔۔۔”
حور خود سے کہہ کر اپنے کپڑے نکالے باتھروم میں چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“بابا آگے سے ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔”
“ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے بچے۔۔۔ اتنی کم پرسنٹیج۔۔۔؟ ارش اور عاشی تم دونوں کی ماں ٹھیک ڈانٹ رہی تھی۔۔۔۔اتنے کم نمبر ۔۔۔۔”
“ولید شاہ آپ کی پرسنٹیج تو %65 آئی تھی اس سٹینڈرڈ کے فائنل میں
بچوں کو انکی ماں سے آگے ہی بہت ڈانٹ پڑ گئی ہے۔۔۔۔
بچوں تم دونوں اپنے کمرے میں جا کر فریش ہوجاؤ آج پارک چلے گے۔۔۔”
وجاہت شاہ جو کب سے ولید کی ڈانٹ اور بچوں کو روتے دیکھ برداشت کر رہے تھے۔۔۔اب بول پڑے تھے۔۔۔۔۔
“دادا جان۔۔۔۔۔”
دونوں نے وجاہت سے آکر لپٹ گئے تھے۔۔۔۔
“چلیں ولید۔۔۔ہم جا کہاں رہے ہیں۔۔۔؟؟”
“یہ کیسے کپڑے پہنے ہیں۔۔۔؟؟”
“کیسے مطلب۔۔۔۔؟؟ ایسے ہی پہنے ہوتے ہیں جب آپ باہر کہیں چلنے کا کہتے ہیں۔۔۔”
“اب ایسے ہی چلے۔۔۔بہت ٹائم لگ جانا آپ نہیں جانتے بچوں کا رزلٹ کیسا آیا ہے۔۔۔اور اب آپ کی کوئی پارٹی پر۔۔۔”
“ہم جنازے پر جارہے ہیں۔۔۔۔ کسی کے دکھ میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔۔۔ایسے سج سنور کر جاؤ گی۔۔۔۔جاؤ کوئی سادہ لباس پہن کر آؤ۔۔۔۔اور سر کور ہونا چاہیے جب بھی میرے ساتھ باہر جاؤ۔۔۔۔”
ولید نے بہت غصے سے کہا تھا۔۔۔۔بہت وقت کے بعد چلایا تھا وہ حورعین پر۔۔۔۔۔
حورعین کے لیے بھی بہت شوکنگ تھا یہ سب۔۔۔بچے ڈر کر وجاہت کے پیچھے چھپ گئے تھے۔۔۔۔
“یہ کیا طریقہ ہے بہو سے بات کرنے کا۔۔۔؟؟؟”
اب کی آواز وجاہت شاہ کی تھی۔۔۔جو ولید شاہ کی آواز سے زیادہ اونچی تھی۔۔۔۔
ولید نے حورعین کا چہرہ دیکھ کر آنکھیں بند کر لی تھی۔۔۔۔وہ اپنے چلانے پر شرمندہ ہوگیا تھا۔۔۔۔
اور حورعین وہ دونوں باپ بیٹا کی باتوں سے شوکڈ تھی۔۔۔۔
“بہو” لفظ سن کر اسکی آنکھیں چھلک گئیں تھیں۔۔۔۔
“ایم سو سوری میری جان۔۔۔۔مجھے چلانا نہیں چاہیے تھا۔۔۔ہوسکے تو کوئی سادہ لباس پہن لو۔۔۔کسی کے جنازے پر جانا ہے۔۔۔وہاں میں نہیں چاہتے کہ۔۔۔”
حورعین نے ولید کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔۔
“میں بس پانچ منٹ میں آئی۔۔۔۔”
حورعین وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
“کس کے جنازے پر ولید۔۔۔؟؟”
“بابا ایک منٹ۔۔۔بچوں آپ نے دادا جان کےساتھ پارک نہیں جانا۔۔۔؟ تیار ہو کے آجاؤ۔۔۔۔”
دونوں بچے چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔۔۔
“بابا سائیں میرے ایک سیکیورٹی گارڈ کو گولی لگ گئی تھی۔۔۔”
“تم پر پھر سے حملہ ہوا ہے۔۔۔؟ تم میری سیکیورٹی کو کیوں اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے۔۔۔؟؟؟”
“بابا سائیں یہ باتیں میں آکر کروں گا۔۔۔۔”
“ولید۔۔۔۔”
اور اس بار حورعین ایک سادہ لباس میں ملبوس تھی۔۔۔شوہر کی خواہش کے مطابق سر پوری طرح سے کور تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“یہ زوہیب کی بیٹی کو گڑیا دینی ہے۔۔۔میں جنازے کے ساتھ جا رہا ہوں۔۔۔
تم اندر زوہیب کی بیوی سے جاکر افسوس کر لینا۔۔۔اور۔۔۔حورعین۔۔۔”
حور رک گئی تھی جاتے ہوئے۔۔۔۔
۔
“اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔تب تک باہر نا آنا جب تک میں فون نا کروں میں نے باہر گارڈز کی ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے۔۔۔۔
زوہیب کے دونوں بچوں کو پیار دینا۔۔۔۔”
ولید وہاں سے چلا گیا تھا پر حورعین وہیں اسی جگہ کو دیکھ رہی تھی جہاں ولید جا رہا تھا۔۔۔۔
۔
۔
“ہر شخص ہے دھول سے بنا۔۔۔اور پھر اس میں ہی جا ملا۔۔۔
یہ حقیقت ہے تو جان۔۔۔کیوں سچ سے منہ ہے پھیرتا۔۔۔۔۔”
۔
ولید نے مٹھی بھر کر مٹی ڈال دی تھی اور اپنے دادا کے جانے کے بعد یہ جنازہ تھا جس میں وہ شریک ہوا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
شاہ حویلی۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
حورعین جیسے ہی دودھ کا گلاس روم میں لیکر آئی تھی۔۔تو ولید کو بیڈ پر نیند میں دیکھ کر اسے بہت زیادہ افسوس ہوا تھا۔۔۔
وہ خود بھی حیران تھی باقی گھر والوں کی طرح۔۔۔جس طرح ولید ایک گارڈ کی مر جانے سے اپنی یہ حالت کر بیٹھا تھا۔۔۔۔
جیسے وہ خود ذمہ دار ہو۔۔۔۔
حورعین نے گلاس کو سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور خود ولید کے پاس اسکے قدموں کی پاس بیٹھ کر
اسکے شوز کے لئیس کھول کر اتارنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔
اور پھر بہت آہستہ سے دونوں جوتے اتار کے بیڈ کے پاس رکھ دیئے تھے۔۔۔
اور سوکس بھی بہت آرام سے اتار دی تھی۔۔۔۔
یہ وہ کام تھے جو اس نے شاید ہی اپنے شوہر کے لیے کئیے تھے۔۔۔۔
“پتا نہیں اور کون کون سا روپ دکھاؤ گے تم ولید شاہ۔۔۔۔
پر وہاں اس بچی کو جب نے بےبی ڈول کہا۔۔۔مجھے بہت اچھا لگا دوسروں کے بچوں کے لیے یہ پیار دیکھ کر۔۔۔۔
۔
پر جیلسی بھی ہوئی۔۔۔۔ولید شاہ۔۔۔۔۔”
حورعین کے چہرے پر مسکان تھی ایک ہلکی سی جلن کے ساتھ۔۔۔۔
اور اس نے ولید کے پاؤں دبانا شروع کر دئیے تھے۔۔۔۔
ولید کے تھکے ہارے ہوئے چہرے کو دیکھ کر وہ بھی خود کو تھکا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
شوہر کے پاؤں دبانے سے جو راحت جو سکون اسے مل رہا تھا۔۔۔۔ جیسے اس کے زخم بھر رہے تھے۔۔۔۔
وہ ایسی بننا نہیں چاہتی تھی۔۔۔پر ایسی بن رہی تھی۔۔۔۔وہ خود نہیں سمجھ پا رہی تھی کیوں۔۔۔۔
۔
“ہے تیری عنایت۔۔۔۔تجھ سے ملی ہے۔۔۔۔
ہونٹوں پہ میرے ہنسی جو کھلی ہے۔۔۔۔”
۔
وہ کتنی دیر ایسے ہی ولید کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کھو سی گئی تھی۔۔۔
اور ولید کے پاؤں بھی دبا رہی تھی ساتھ ساتھ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب حورعین وہاں سے اٹھ کر جانے لگی تھی تو ولید نے حور کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
“جزاک اللہ بےبی ڈول۔۔۔۔”
اور جہاں وہ سر رکھ کر لیٹا تھا وہاں سے سر اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے ہوگیا تھا حورعین کو وہاں بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی حورعین وہاں بیٹھ گئی تھی۔۔۔
اور ولید نے حورعین کے دونوں ہاتھوں پر بوسہ لیا تھا۔۔۔اور پھر ہاتھ کی انگلیوں پر۔۔
اور اس سے پہلے حورعین شرما کر وہاں سے اٹھ جاتی۔۔۔
ولید نے حورعین کی گود میں سر رکھ لیا تھا۔۔۔۔
“میرے سر میں بھی بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔۔ دبا دو گی۔۔۔؟؟؟”
ولید نے آنکھیں کھول کر بہت معصومیت سے پوچھا تھا۔۔۔۔
“جاگ رہے تھے آپ۔۔۔۔؟؟ دودھ پی لیں۔۔۔پھر سر دبا دوں گی۔۔۔آپ نے کچھ کھایا نہیں ہے۔۔۔۔”
ولید کو اٹھا کر حورعین نے گلاس دیا تھا۔۔۔۔جب حورعین سے گلاس نہیں پکڑا ولید نے تو سوالیہ نظروں سے حور نے ولید کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“میرے ہاتھوں میں بھی درد ہورہا ہے بےبی ڈول۔۔۔۔۔”
“اففف شاہ جی۔۔۔۔۔۔۔”
حورعین نے گلاس ولید کے منہ کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔۔
“شکریہ۔۔۔۔”
ولید نے پھر سے سر رکھ لیا تھا حورعین کی گود۔۔۔۔۔
۔
“کوئی بھی ایسا لمحہ نہیں یے۔۔۔
جس میں میرے تو ہوتا نہیں ہے۔۔۔۔”
۔
“وہ گارڈ بہت قریب تھا آپ کے۔۔۔۔؟؟؟”
حورعین ایک ہاتھ سے ولید کا سر دبا رہی تھی اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے ولید کے بکھرے بال سنوار رہی تھی۔۔۔۔تب ہی اس نے اچانک سے پوچھ لیا۔۔۔۔۔
“میں اسے جانتا بھی نہیں تھا۔۔۔۔ اتنے زیادہ گارڈز ہائیر کئیے ہوئے ہیں۔۔۔
مجھے کبھی حمزہ کے علاوہ کسی کا نام یاد نہیں رہا۔۔۔۔
بس کام تک۔۔۔۔
اور یہ گارڈ تو دو دن پہلے ہی ڈیوٹی پر لگا تھا ہماری۔۔۔۔”
ولید کہہ کر خاموش ہوگیا تھا۔۔۔۔ا
حورعین کو اپنی بات سے اور حیرت میں ڈال کر۔۔۔۔۔
“پھر دو دن آۓ ہوئے گارڈ کے لیے اتنا احساس۔۔۔۔اتنا درد۔۔۔۔ یہ کیسے رشتہ بنا ولید۔۔۔۔۔؟؟؟”
“جب اس نے اپنی بیٹی کے لیے ایک ڈول نکال کر مجھے دی تھی۔۔۔۔
اس وقت ایسا لگا حورعین جیسے اس نے وہ چھوٹی سی گڑیا نہیں۔۔۔
بہت بڑی ذمہ داری دے دی تھی میرے ہاتھوں میں۔۔۔۔اور اتنے یقین اور بھروسے کے ساتھ۔۔۔۔۔”
آنکھیں بھیگ جانے پر ولید نے اپنا منہ اور چھپا لیا تھا حور کی آغوش میں۔۔۔۔
وہ تو سمجھ چکی تھی ولید شاہ کو۔۔۔۔ولید کیا سمجھتا تھا منہ چھپانے سے اسکی بیوی کو اسکے گرتے آنسو محسوس نہیں ہوں گے۔۔۔۔؟؟؟
۔
“ہممم۔۔۔۔کیا کرو گے پھر۔۔۔۔؟؟؟ پیسے دو گے۔۔۔؟؟ راشن دو گے۔۔۔؟؟
کب تک۔۔۔ایک وقت میں تم بھول جاؤ گے۔۔۔یہ انسان کی فطرت میں شامل ہوتا ہے۔۔۔نئ نئ ہمدردی اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ تم بھول جاؤ گے۔۔۔؟؟؟”
ولید نے جیسے ہی حورعین کی طرف دیکھا تھا۔۔۔جیسے ولید کی آنکھوں میں دیکھ کر وہ ساکن سی ہوگئی تھی۔۔۔۔
“میں ارش اور عاشی کے سکول میں ایڈمشن کرواں گا دونوں بچوں کا۔۔۔
اور اسکی بیوی کو تمہاری کمپنی میں نوکری دلواؤں گا جہاں عورتوں کو عزت ملتی ہے تحفظ ملتا ہے۔۔۔۔
اور دونوں بچوں کے اکاؤنٹ بنوا کر ایک نا ختم ہونے والی رقم ٹرانسفر کروا دوں گا۔۔۔۔
یہ میں نے سوچا ہے بےبی ڈول۔۔۔۔اور میں جانتا ہوں۔۔۔اگر میں کبھی بھول گیا تو تم مجھے یاد کروا دو گی۔۔۔۔ ان دونوں بچوں کو لیکر تم بھی بہت پریشان ہوگئی تھی۔۔۔۔”
ولید نے یہ کہہ کر پھر سے سر واپس حورعین کی گود میں رکھ لیا تھا۔۔۔۔
“ہممم۔۔۔۔ کاش تم اتنے اچھے تب بن جاتے جب حدید کے بارے میں مجھے پتا چل جاتا۔۔۔۔
ہمارے پاد حدید ہوتا نا ولید۔۔۔؟؟ “
حورعین نے ولید کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔۔۔۔
اسکے آنسو ولید کے ماتھے پر گر رہے تھے۔۔۔۔
“کاش مجھے ہدایت میرے برباد ہونے سے پہلے مل جاتی حورعین۔۔۔۔
مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔۔چھوٹے چھوٹے بچے دیکھتا ہوں۔۔۔
حدید کے ساتھ ولید شاہ کا ایک حصہ بھی چلا گیا تھا۔۔۔۔”
ولید کی آنکھوں میں بے پناہ درد دیکھ کر حورعین نے ولید کے سر پر اپنا سر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔