Ishq Ka Samandar by Umme Laila NovelR50748 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Last Episode
No Download Link
513.7K
15
Rate this Novel
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode01 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode02 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode03 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode04 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode05 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode06 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode07 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode08 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode09 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode10 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode11 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode12 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode13 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode14 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Last Episode (Watching)
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Last Episode
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Last Episode
” بی بی جی اٹھیں پولیس آتی ہی ہوگی ” ملکا نے پریشانی سے کہا
ہانی آنسوں صاف کرتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور خان کے پیٹ میں زور سے پاؤں مار کر باہر کی طرف بڑھی.
ملکا ہانی کا کوٹ اٹھاکر ہانی کے پیچھے پیچھے اوفس سے نکل آئی.
ہانی ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور پیسوں کا بیگ ملکا کی طرف بڑھایا.
” سب کو پیسے دے دو اور جو بچ جائیں وہ کسی غریب کو دے دینا. جو ویڈیو بنائی ہے وہ مجھے سینڈ کردینا “
” ٹھیک ہے بی بی جی. کیا آپ گھر نہیں آئیں گی ? “
” نہیں “
ملکا نے سر ہلادیا.
ہانی نے ٹیکسی والے کو واپس ائیر پورٹ جانے کا حکم سنایا اور آنکھیں بند کرکے سیٹ کی بیک پر سر ٹکا دیا.
……..
ادریس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنی سزا پوری کاٹ کر ہی جیل سے نکلیں گے مگر جب ذاکر کے کومہ میں جانے کی خبر ادریس تک پہنچی تو ادریس نے اپنا فیصلہ بدل لیا اور اپنے سورسیسز کو ایک بار پھر سے استعمال کرتے ہوئے 6 گھنٹے کے لیے بیل کروالی اور سیدھا ہوسپٹل کے لیے روانہ ہوا.
ہوسپٹل پہنچا تو ثمرین کو ذاکر پاس بیٹھا دیکھ کر رک گئے
” بیٹا آپ کون ہیں ? “
ثمرین نے چونک کر ادریس کو دیکھا
” میں حورین کی دوست ہوں “
” اوہ اچھا ” ادریس کہتے ہوئے آگے بڑھے اور ثمرین کے سر پر پیار دے کر ذاکر کو دیکھنے لگے.
ادریس کی آنکھوں میں آنسوں آگئے کہاں وہ روز اپنے بیٹے کو دیکھتے تھے اور کہاں آج اتنے ماہ بعد ذاکر کو دیکھنا نصیب ہوا تھا.
” ذاکر میرا بچہ ” کہتے ہوئے ادریس نے ذاکر کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے.
6 گھنٹے ذاکر پاس بیٹھ کر ادریس ذاکر کو دیکھتے رہے اور ٹائم پورا ہوتے ہی ذاکر کے سر پر پیار دے کر روتے ہوئے باہر کی طرف بڑھے.
……….
ہانی نے انگلینڈ کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی موبائل اون کرلیا.
ہانی ائیر پورٹ سے ابھی نکلی ہی تھی کے ثمرین کی کال آنے لگی. ہانی نے ڈرتے ڈرتے کال اٹھالی
” ہاں ثمرین “
” ہانی ذاکر کومہ سے باہر آگیا ہے ” ثمرین نے خوشی سے بھری ہوئی آواز میں کہا
ہانی روتے ہوئے چھلانگیں لگانے لگی کچھ لوگ ہانی کو پاگلوں کی طرح رونے کے ساتھ ساتھ چھلانگیں لگاتے ہوئے دیکھ کر رک گئے.
” ہانی ذاکر بار بار تمہارا نام لے رہا ہے”
” میں ابھی آتی ہوں “
ہانی آنسوں صاف کرتی ہوئی ٹیکسی کو روکنے لگی.
ٹیکسی میں بیٹھ کر ہانی نے جلدی جلدی کی رٹ لگا دی.
ہوسپٹل کے سامنے ٹیکسی رکنے پر ہانی نے جلدی جلدی پیسے دیے اور اندر کی طرف دوڑ لگائی. ہانی دروازے میں آکر بجی اور دھڑم سے نیچے گر گئی. ذاکر نے کچھ گرنے کی آواز پر تھوڑا سا اٹھ کر دیکھنا چاہا مگر سر اور کمر میں شدید درد ہونے کی وجہ سے پھر سے لیٹ گیا . ہانی کو سر پکڑے اندر آتا دیکھ کر بے انتہا درد کے باوجود ذاکر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھر آئی.
ہانی ذاکر پاس آکر کر کھڑی ہوگئی اور ذاکر کا اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا
” ذاکر اگر آپ کو کچھ ہوجاتا تو… ” ہانی کے آنسوں ابل ابل کر باہر آنے لگے.
ذاکر نے بولنے کے لیے منہ کھولا مگر ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر خاموش ہوگیا.
ڈاکٹر نے سب کو باہر نکال دیا اور معائنہ کرنے لگے.
اچھے سے چیک اپ کرکے کمرے سے نکلے اور کہا
“ذاکر اب کافی حد تک بہتر ہے. بس کچھ دن ریسٹ کرنے کی ضرورت ہے اور اب آپ انہیں گھر لے جاسکتی ہیں. دوا کا خاص خیال رکھیے گا ” ہانی نے خوشی سے بھرپور لہجے میں کہا
” Thanks doctor “
ڈاکٹر نے سمائل کرتے ہوئے ریسپشن کی طرف قدم بڑھائے.
ہانی بھاگ کر اندر داخل ہوئی اور ذاکر پاس جاکر کھڑی ہوگئی.
ذاکر کو شدید درد کی وجہ سے ڈاکٹر نے نیند کا انجیکشن دے دیا تھا اس لیے ذاکر بے خبر سو رہا تھا.
ہانی نے ذاکر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر ہونٹ رکھ دیے.
ثمرین کمرے میں داخل ہوئی اور ہانی کو ذاکر کے ہاتھ پر ہونٹ رکھے دیکھ کر کھانسی کرنے لگی.
ہانی جلدی سے ذاکر کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہوئی.
ثمرین ہنس رہی تھی ہانی ثمرین کے گلے لگ گئی
” ثمرین تھینک یو فار ایوری تھنگ “
ثمرین نے ہنستے ہوئے ہانی کو پیچھے کیا
” شرم تو نہیں آتی ہوگی دوست کو ایسے کہتے ہوئے “
” کیا مطلب ? “
” کچھ نہیں. تم نے بدلا لے لیا ? “
” ہاں “
” کیسے لیا ? “
” ویڈیو بھیج رہی ہوں دیکھ لینا “
ثمرین نے غور سے ہانی کو دیکھا
” تمہارا ہونٹ کب پھٹا ? “
” خان سے لڑتے ہوئے ” ثمرین کا منہ کھلا رھ گیا
” ہاہ تم ..”
” ہاں میں “
” یار لوگوں کو عشق نکما کرتا ہے اور تمہیں طاقتور بنا دیا واہ “
ہانی ہنسنے لگی
” چلو اب ڈسچارج پیپر ریڈی کروا کر آتے ہیں “
اور دونوں ہنستی مسکراتی کمرے سے نکل گئیں.
……
ذاکر کو ہوسپٹل سے گھر لاکر ہانی نے اپنا سامان بھی ذاکر کے روم میں ہی رکھ لیا تھا. ذاکر خاموش بیٹھا ہانی کو چیزوں سے الجھتے ہوئے دیکھ رہا تھا ہانی لگاتار بولی جارہی تھی.
” ہانی کافی زیادہ چینج ہوگئی ہے ” ذاکر بڑبڑایا
ہانی خود سے باتیں کرنا چھوڑ کر ذاکر کی طرف دیکھنے لگی
” آپ نے مجھ سے کچھ کہا ? “
” نہیں تو “
ہانی چلتی ہوئی ذاکر پاس آکر بیٹھ گئی
” ذاکر درد ہو رہا ہے ? ” ہانی نے معصوم سا منہ بناکر پوچھا
ذاکر ہانی کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا. ہانی کے ماتھے پر پڑا نیل اور پھٹا ہوا ہونٹ دیکھ کر ذاکر نے ہاتھ پکڑ کر قریب کیا. پہلے ماتھے کو چھوا اور پھر ہونٹ کو چھونے لگا. ہانی کو اپنا دل ہاتھوں میں دھڑکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا.
” تمہارے ماتھے پر نیل کیسے پڑا اور یہ ہونٹ کیسے پھٹا ? “
ہانی کو بولنا جان جوکھوں کا کام لگ رہا تھا
” بولو بھی “
” وہ میں گر گئی تھی ” ہانی نے ہمت کرکے جھوٹ بول دیا
” گرنے سے اتنی بری چوٹ تو نہیں لگتی خیر تم کہہ رہی ہو تو مان لیتا ہوں “
ہانی نے دل میں شکر ادا کیا.
اتنے میں دروازہ نوک ہوا ہانی نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا.
” بی بی جی یہ صاحب جی کے لیے سوپ ” نوکرانی نے سوپ ہانی کی طرف بڑھا.
ہانی نے سوپ پکڑ کر دروازہ بند کیا اور واپس ذاکر پاس آکر بیٹھ گئی.
” ہانی مجھے تمہارے ہاتھ سے سوپ پینا ہے ” ذاکر نے بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے کہا
ہانی نے چپ چاپ چمچ ذاکر کی طرف بڑھایا ذاکر نے سمائل روکتے ہوئے منہ کھول لیا.
ذاکر نے دل میں سوچا یہ اتنی مہربان کیوں ہو رہی ہے اور غور سے ہامی کو دیکھنے لگا.
ہانی کے ہاتھ کی کپکپاہٹ کو واضع محسوس کرتے ہوئے کہا
” تمہارے ہاتھ کیوں کانپ رہیں ہیں ? “
” کیوں کہ آپ گھور رہیں ہیں “
ذاکر نا چاہتے ہوئے بھی ہنسنے لگا. ہانی نے ذاکر کا ہاتھ پکڑ کر اوپر کیا اور اس پر سوپ کا پیالہ رکھ دیا
” ڈرامے باز خود پیو “
” اللہ اللہ لڑکی تم تو مجھ سے ڈرتی تھی نا اور آج آنکھیں دکھا رہی ہو “
” ہمیشہ وقت ایک سا نہیں رہتا “
” کیا مطلب ? “
” کچھ نہیں “
ہانی اٹھ کھڑی ہوئی اور سامان سمیٹنے لگی.
سامان سمیٹ کر ہانی فریش ہوکر روم میں آئی اور ذاکر کو بے خبر سوئے دیکھ کر ہانی چور قدموں سے چلتی ہوئی بیڈ پر چڑھ گئی.
ذاکر کے قندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلیں.
……
صبح ذاکر کی آنکھ کھلی تو ہانی کو بچوں کی طرح بیڈ پر ترچھا لیٹے دیکھ کر ہنسنے لگا.
ہانی ہنسنے کی آواز پر جاگ گئی اور اٹھ بیٹھی. مڑ کر دیکھا تو ذاکر ہنسنی روکنے کی کوشش میں سرخ ہورہا تھا.
” ہانی میرے پاس آؤ “
” کیوں ? “
” آؤ تو “
” نہیں “
” ڈر لگ رہا ہے ? “
ہانی غصے سے ذاکر کی طرف بڑھی
” مجھے آپ سے ڈر نہیں لگتا “
ذاکر نے بازو سے پکڑ کر قریب کیا اور کان میں سرگوشی کرنے لگا تھا مگر ابھی ” Aşkım…. ” ہی کہا تھا کہ ہانی جلدی سے بازو چھڑوا کر پیچھے ہوئی.
” بات تو پوری سن لو “
” مجھے یونیورسٹی جانا ہے ” ہانی جلدی سے بیڈ سے اتر گئی اور خود کو نارمل کرنے لگی.
” تم بلش کر رہی ہو ” ہانی نے جلدی سے گالوں پر ہاتھ رکھ لیے اور ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی.
ہانی ڈریسنگ روم میں داخل ہوکر بولنے لگی
” پتہ نہیں اس شخص میں کیا جادو ہے پل میں اپنا اسیر بنا لیتا ہے. ہائے اللہ میں پیار کا اظہار کیسے کروں گی ? “
ہانی ذاکر کو سوچتے ہوئے تیار ہوکر ڈریسنگ روم سے نکل آئی.
” میں نوٹس لینے جارہی ہوں دو دن بعد پیپر ہے اور ہاں آپ پیچھلے تین ماہ میں ایک بار بھی یونیورسٹی نہیں آئے کیوں ? “
” میری مرضی ” ذاکر نے منہ پھولا کر کہا
ہانی ذاکر کی طرف بڑھی اور بالوں کو چھیڑا ذاکر نے ہاتھ پیچھے کردیا ” ناراض ہیں ? “
” نہیں بہت خوش ہوں ” ذاکر نے جل کر کہا
” اوہ واؤ کیوں ? ” ہانی نے ہنسی روکتے ہوئے کہا
” تم لیٹ ہورہی ہو “
” اوہ ہاں ” ہانی جلدی سے باہر کی طرف بھاگی مگر جھٹ سے واپس آئی اور دوائی لینے کا کہہ کر پھر سے باہر بھاگ گئی.
ذاکر خود سے باتیں کرنے لگا ” دماغ خراب ہے میرا جو ہر لمحہ اسے خود سے قریب کرنے کی کوشش کرتا ہوں نہیں تو نا سہی ” کہتے ہوئے ذاکر بیڈ پر لیٹ گیا.
…….
ہانی نوٹس لے کر گھر واپس آئی اور کمرے کی طرف بڑھی.
ذاکر اوندھے منہ پڑا سو رہا تھا ہانی بیگ رکھ کر ذاکر پاس بیٹھ گئی.
” ذاکر اٹھیں آپ نے دوائی نہیں لی نا ? “
” لے لوں گا “
” ذاکر “
ذاکر جارحانہ تیوروں سے اٹھا اور میڈیسن کھاکر ہانی کو گھورتا ہوا پھر سے اوندھے منہ لیٹ گیا.
ہانی ہنسنے لگی اور اٹھ کر کمرے سے نکل آئی.
…..
رات کے وقت ذاکر کا موڈ کچھ سہی ہوا تو ہانی نے نوٹس نکال کر ذاکر کے آگے رکھے اور خود بھی پڑھنے لگی.
” مجھے نہیں پڑھنا اٹھالو اپنے نوٹس ” ذاکر نے خفگی سے بھری آواز میں کہا
ہانی چپ چاپ دیوان پر بیٹھی پڑتی رہی ذاکر ہانی کو پڑھتا ہوا دیکھ کر جیلس ہورہا تھا اس لیے نوٹس اٹھاکر رٹے لگانے لگا
” ہانی مجھے ایک ٹوپک سمجھ نہیں آرہا سمجھا دو ” ہانی کو قریب بولانے کے لیے ذاکر نے سیرس سا منہ بناکر کہا
ہانی دیوان سے اٹھ کر بیڈ پر آگئی اور ذاکر پاس بیٹھ گئی
” کونسا ٹوپک ? “
ذاکر بس ہانی کے براؤن بالوں کو ہی دیکھی جارہا تھا.
” ذاکر بولیں بھی “
ذاکر نے نوٹس پکڑ کے قالین کی طرف اچھالے اور ہانی کو قریب کرلیا
” تو کیا فیصلہ کیا تم نے ? “
” کس بارے میں ? ” ہانی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا
” جس کے لیے تم نے تین ماہ مانگے تھے “
” مجھے طلاق نہیں لینی “
ہانی کے اتنا کہنے کی دیر تھی ذاکر کا دل بیلوں اچھلنے لگا.
” گڈ کیوٹ لیٹل گرل ” کہتے ہوئے ذاکر نے ہانی کے گالوں کو چھوا.
……..
دو دن ذاکر اس بات کو سوچ کر خوش ہوتا رہا کہ ہانی اب طلاق نہیں لے گی.
پیپر دے کر ذاکر کلاس سے باہر نکلا اور ہانی ساتھ بینچ پر آکر بیٹھ گیا
” کیسا ہوا پیپر ? ” ہانی نے سوال کیا
” بہت اچھا اور تمہارا ? “
” آپ نے سارے سوال کیے ہیں ? “
” ہاں “
” اللہ اللہ ” ہانی نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا
ذاکر گھبرا گیا
” کیا ہوا ? دل میں درد ہورہا ہے ? “
” ہاں بہت زیادہ درد ہورہا ہے. تم نے سارا پیپر کیوں کیا ? ” ہانی کڑے تیوروں سے ذاکر کو گھورنے لگی
” چلو ہوسپٹل چلیں ” ذاکر پریشان سا اٹھ کھڑا ہوا اور جلدی سے ہانی کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا
” تم نے سارا پیپر کیا ہے اس وجہ سے درد ہو رہا ہے “
ذاکر کا منہ کھلا رھ گیا
” حد ہے لڑکی مجھے ڈرا دیا تم نے “
ہانی غصے کی وجہ سے تیز تیز چلتی ہوئی یونیورسٹی سے نکل گئی. ذاکر بھی ہانی کے پیچھے یونیورسٹی سے نکل آیا.
” ہانی سنو تو “
” نہیں سننا آپ نے سارا پیپر کر کے میرا دل توڑ دیا ہے “
” اللہ مجھے صبر دے ” ذاکر نے اونچی آواز میں کہا
ہانی ٹیکسی روک کر اس میں بیٹھ گئی.
” ہانی رکو ” ذاکر آوازیں دیتا رھ گیا
” حد ہے یار ” ذاکر نے زور سے گاڑی کو پاؤں مارا
” ٹھیک ہے میں بھی گھر نہیں جارہا “
ذاکر نے پولیس سٹیشن کا رخ کیا.
…….
پولیس سٹیشن پہنچ کر ذاکر نے ناری کے اوفس کی طرف قدم بڑھائے
” اوہ میرا جگر آیا ہے ” ناری ذاکر کو دیکھ کر چیر سے اٹھ کھڑا ہوا
” بس تم یاد آرہے تھے تو آگیا “
” اپنے بابا یاد نہیں آتے کیا ? “
ذاکر کی مسکراہٹ غائب ہوگئی
” ذاکر ایک بار مل ہی لو ان سے “
” ٹھیک ہے “
ناری خوشی خوشی ذاکر کو لے کر ادریس پاس چلا آیا
” انکل دیکھیں کون آیا ہے “
ادریس زمین سے اٹھ کر جنگلے پاس آ گئے
” ذاکر میری جان تم یہاں “
ناری ادریس اور ذاکر کو اکیلا چھوڑ کر اپنے اوفس میں آگیا
” بابا کیا آپ جیل سے باہر آنا چاہتے ہیں ? “
” نہیں بیٹا میں پوری سزا کاٹ کر ہی باہر آنا چاہتا ہوں “
” ایک بار پھر سوچ لیں “
” سوچ لیا میں باہر نہیں آنا چاہتا “
ذاکر ناری سے خان اور حمر کا سن کر کچھ بھی کہے بغیر پولیس سٹیشن سے نکل آیا اور رستے سے بلیک فلاور لے کر گھر کا رخ کیا.
…….
ذاکر کے گھر نا آنے پر ہانی پریشان ہوگئی
” میں نے کچھ زیادہ ہی بول دیا تھا اوووف ہانی “
ہانی نے ذاکر کو منانے کے لیے گھر کی بیک سایڈ پر ایک ٹیبل رکھوایا اور اس کو اچھے سے سجا کر موم بتیوں سے ٹیبل تک آنے کا راستہ بنایا.
ہانی ذاکر کی پسند کا کھانا بنانے کا کہہ کر کمرے میں آگئی اور کپڑے بدل کر ذاکر کا ویٹ کرنے لگی.
کچھ دیر بعد ذاکر کی کار گیٹ سے انڑ ہوتی ہوئی دیکھائی دی.
ہانی جلدی جلدی اگلے پیپر کے نوٹس لے کر قالین پر بیٹھ کر خود کو پڑھائی میں مصروف دیکھانے کی کوشش کرنے لگی.
ذاکر بلیک کلر کے پھولوں کا گلدستہ لے کر کمرے میں داخل ہوا اور ہانی قالین پر بیٹھی پیپر کی تیاری کرنے میں مصروف تھی.
ذاکر چلتا ہوا ہانی ساتھ آکر بیٹھ گیا. ہانی کے متوجہ نا ہونے پر ہاتھ سے نوٹس پکڑ کر دور اچھالے اور ہانی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا.
” یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں ” اور پھولوں کا گلدستہ ہانی کی طرف بڑھایا.
ہانی نے منہ دوسری سایڈ کو کرلیا ذاکر نے ہنستے ہوئے گلدستہ قالین پر رکھا اور ہانی کے ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیے.
” Aşkım ” ( my love )
ہانی نا چاہتے ہوئے بھی ذاکر کو دیکھنے لگی
” مجھے نا بلاؤ آپ نے سارا پیپر کیا اور میں نے ایک سوال نہیں کیا “
” لو اب اس میں میرا کیا قصور ہے ?”
ہانی نے منہ پھولا کر پھر سے چہرہ دوسری طرف کرلیا
” اچھا ٹھیک ہے کل والا پیپر تم سارا کرلینا میں ایک سوال چھوڑ دوں گا اب خوش ? “
” ہائے اللہ ذاکر آپ کتنے اچھے ہیں “
ہانی نے کہتے ہوئے قالین سے گلدستہ اٹھالیا
” آپ ہر بار مجھے بلیک روز کیوں دیتے ہیں ? “
” اس لیے تاکہ تمہیں اس بات کا اندازہ ہوجائے کہ تمہارے لیے میرے عشق کا سمندر بلکل کالا ہے جس میں تم ڈوب گئی تو باہر نکلنے کا کوئی راستہ نا ہوگا اور ویسے بھی مجھے بلیک روز بے انتہا پسند ہیں.
لوگ بلیک روز کو نفرت کی علامت سمجھتے ہیں اور ریڈ روز کو محبت کی مگر کسی بھی پھول پر کچھ بھی تو نہیں لکھا ہوا کہ یہ محبت کے پھول ہیں یہ نفرت کے پھول ہیں بس سب کے اپنے اپنے کونسیپٹ ہیں “.
کہتے ہوئے ذاکر اٹھ بیٹھا
ہانی اٹھ کھڑی ہوئی اور ذاکر کی طرف ہاتھ بڑھایا.
ذاکر نے سوالیا نظروں سے ہانی کو دیکھا
” چلیں نا “
ذاکر ہانی کا ہاتھ پکڑ کر اٹھ کھڑا ہوا.
ہانی ذاکر کا ہاتھ پکڑے ہوئے گھر کی بیک سایڈ پر لے آئی.
سجاوٹ کو دیکھ کر ذاکر کا منہ کھل گیا
” واؤ شاہانہ “
چیر کھنچ کر ہانی نے ذاکر کو بیٹھنے کا اشارہ کیا. ذاکر ہنستے ہوئے بیٹھ گیا
” خیریت. تمہاری طبیت ٹھیک ہے ? “
” ہاں بلکل ” کہتی ہوئی ہانی چیر کھنچ کر بیٹھ گئی.
” ہانی کل یا پرسوں تک میں نے پاکستان جانا ہے کیا تم جانا چاہو گی ? “
” پاکستان کیوں جانا ہے ? “
” خان سے بدلا لینے جانا ہے “
” اس کی ضرورت نہیں ہے “
” کیوں ? “
ہانی نے پوکٹ سے موبائل نکال کر ویڈیو چلائی اور موبائل ذاکر کی طرف بڑھایا.
ذاکر موبائل پکڑ کر ویڈیو دیکھنے لگا.
ویڈیو دیکھتے ہوئے ذاکر کا منہ کھل گیا
” ہانی تم “
” جی میں “
” کب سیکھی تم نے فائٹنگ ? “
” گزرے تین ماہ میں “
” واؤ میرے ساتھ فائٹنگ کرو گی ? “
” ابھی ? “
” ہاں ابھی “
ہانی اٹھ کھڑی ہوئی.
ذاکر اور ہانی نے اپنا اپنا کوٹ اتار کر کرسی پر رکھا
” ذاکر میں ہی جیتوں گی “
” ہو ہی نہیں سکتا ” ذاکر نے بازو فولڈ کرتے ہوئے کہا
ذاکر اور ہانی ہاتھ پکڑے ہوئے کھلے ایریا میں آگئے.
ذاکر ہنستے ہوئے ہانی کی طرف بھاگا. ہانی نے جان بوجھ کر ذاکر کو جیتا دیا
” ہانی تم جان بوجھ کر ہاری ہو “
” ہاں “
” کیوں ? “
ہانی نے آنکھیں بند کرکے کہا
” seni çok seviyorum ” ( i love u so much )
ذاکر ہانی کے قریب ہوا
” کیا کہا تم نے ? تمہیں ترکش آتی ہے ? “
ہانی نے ذاکر کے گلے میں بازو ڈال کر کان میں سرگوشی کی
” seni çok seviyorum zakir ” ( i love u so much zakir )
” ہانی پھر سے کہو ” ذاکر نے بچوں کی طرح خوش ہوکر کہا
” seni çok seviyorum ” ( i love u so much )
ذاکر نے ہانی کو اٹھاکر گھومایا.
ہانی پاگلوں کی طرح بار بار یہی الفاظ رپیٹ کرنے لگی
” Bu adamı çok seviyorum, çok fazla “( i love this man so much , so much ) Aşkım ( my love ) Güzel gözlerim ( my beautiful eyes ) Benim zakir ( my zakir ) “
ختم شد 


