Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode05

Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode05

ذاکر ہنستے ہوئے اپنے محل نما گھر میں داخل ہوا اور ادریس صاحب اپنے ہنستے مسکراتے ہوئے بیٹے کو اندر آتا دیکھ کر حیران رھ گئے
” ذاکر خیریت تو ہے آج چار سال بعد تمہیں ہنستا ہوا دیکھ رہا ہوں “
ذاکر نے ہنسی کنڑول کی اور کہا
” ویسے ہی “
” کوئی نا کوئی وجہ تو ہے ?”
ذاکر ادریس صاحب کے ساتھ جابیٹھا
” آپ سنائیں بزنس کیسا جارہا ہے ? “
” اللہ کا شکر ہے بلکل پرفیکٹ. بس تھوڑی بہت پرابلمز تو بنتی رہتیں ہیں اور کیسا رہا آج کا دن ? “
ذاکر کی نظروں کے سامنے ہانی کا چہرہ آگیا اور چہرے پر پھر سے مسکراہٹ بکھر گئی.
” بہت اچھا دن تھا “
” ہاں تمہارا چہرہ بتا رہا ہے کہ دن کتنا اچھا گزرا ہے “
ذاکر نے خود کو بار بار ہنسنے پر ڈانٹا.
” بابا میں فریش ہوکے آتا ہوں پھر اکٹھے کھانا کھائیں گیں “
ذاکر اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھا.
ادریس شاہ ذاکر کی ہنسی ہمیشہ قائم رہنے کی دعا کرنے لگے.
………..
عامرہ کب کی سو چکی تھی مگر ہانی کو نیند چھوکر بھی نہیں گزری تھی.
صبح تیار ہوکر ہانی نے عامرہ کو جگایا.
عامرہ تو بیہوش ہوتی ہوتی بڑی مشکل سے بچی.
” اوف یہ سورج آج کہاں سے نکلا اے ?”
ہانی ہنسنے لگی
” دیک (دیکھ) لو سورج مغرب سے بھی نکل سکتا اے “
عامرہ کی ساری آنکھیں کھل گئیں
” اوف لڑکی ٹیک ( ٹھیک ) نیں لگ را تم “
ہانی ہنستے ہوئی دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول کر کہا
” تیار ہوکر آجانا ام جا را ہے “
اور باہر کی طرف بڑھی.
عامرہ تیار ہونے کے لیے بیڈ سے اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھی.
ہانی ہوسٹل سے نکل کر کینٹین کی طرف بڑھی اور کافی لے کر کلاس روم کی طرف چل پڑی.
ہانی کو کل صبح والا واقع سوچ کر ہنسی آگئی اور ہنستے ہوئے ہانی کسی سے ٹکرائی کافی ساری ٹکرانے والے پر گرگئی.
ہانی نے سر اٹھا کر دیکھا اور ذاکر شاہ کو دیکھ کر سانس اٹک گیا.
ذاکر نے ہانی کو مگن انداز میں چلتے دیکھ لیا تھا اور جان بوجھ کر ہانی سے ٹکرایا تھا.
” کیا اب آپ روز مجھ سے ہی ٹکرائیں گئیں ? “
” ام کو معاف کردو ام نے آپ کو دیکھا نیں تھا “
ذاکر ہانی کی بوکھلاہٹ پر اندر ہی اندر جھوم رہا تھا.
” اور اس کا کیا جو میری شرٹ گندی کی ہے ? “
” صاف کرلیں “
ذاکر نے گھورا اور کہا
” گندی کس نے کی تھی ? “
” ام نے “
” تو صاف کون کرے گا “
” ام نیں کرے گا خودی کرو “
ہانی کہہ کر آگے بڑھنے لگی مگر ذاکر نے ہاتھ پکڑا اور کھنچ کر سامنے کھڑا کرلیا
” شرٹ صاف کیے بغیر آپ نہیں جاسکتیں “
ہانی نے اپنا ہاتھ چھوڑوانے کی کوشش کی مگر گرفت مظبوط ہونے کی وجہ سے ہاتھ نا چھوڑوا سکی.
ذاکر کا لمس ہانی کو گرم کوئلے کی طرح محسوس ہو رہا تھا. ہانی نے ہار ماننے میں ہی عافیت جانی.
” ام شرٹ صاف کرنے کے لیے تیار اے “
ذاکر نے ہاتھ چھوڑ دیا اور ہانی کی جان میں جان آئی.
” کیسے صاف کرو گی ? “
” ام کے پیچھے آئیں ” اور ہانی واش روم کی طرف بڑھی.
ذاکر نے گاڑذ سے کہا ” wait ” اور ہانی کے پیچھے چل پڑا.
ہانی نے واش روم میں انڑ ہوکر رومال گیلا کیا اور واش روم سے نکل کر ذاکر کی شرٹ صاف کرنے لگی.
ذاکر نے ہانی کا جائزہ لیا گلابی پٹھانی فراک میں ملبوس چہرے پر دنیا بھر کی مصومیت لیے ہوئے اٹھتی گرتی پلکوں کے ساتھ ہانی ذاکر کے ہوش اڑا رہی تھی.
ہانی نے شرٹ صاف کرکے ذاکر کو دیکھا اور ذاکر کی آنکھوں میں عشق کا سمندر موجزن دیکھ کر ہانی کی ہاٹ بیٹ مس ہوئی. خود کو کمپوز کرکے ہانی نے کہا.
” صاف کردیا “
ذاکر ہانی کی آواز پر ہوش میں آگیا اور کہا
” دوبارہ ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے “
اور کلاس کی طرف بڑھا.
ہانی نے بڑھتے ہوئے غصے کے ساتھ خود سے کہا ” ام کو تھینکس بھی تو کہہ سکتا تھا مگر نیں بدتمیز ‘ شوخا خود کو پتہ نیں کیا سمجھتا اے ” ہانی نے ہاتھ میں موجود کافی کا کپ ذاکر کی طرف اچھالا ذاکر نے بغیر دیکھے کافی کا کپ کیچ کرلیا اور ہانی کا منہ کھلا رھ گیا .
ذاکر پیچھے مڑ کر ہنستے ہوئے آنکھ مار کر چلتا بنا.
ہانی دل میں ذاکر کو گالیاں نکالتے ہوئے کلاس روم کی طرف بڑھی.
کلاس میں سر پہلے ہی موجود تھے.
” Can i come to class ? “
” Yes “
تھینکس کہتے ہوئے ہانی کلاس میں آگئی اور عامرہ کے اردگرد کوئی بھی چیر خالی نا ہونے کی وجہ سے بلکل پیچھے جاکر بیٹھ گئی. عامرہ نے پیج پر لکھا ” کہاں تھی تم ? ” اور پیچھے منہ کرکے ہانی کی طرف پھنکا پیج کیچ کرکے ہانی نے کھول کر پڑھا اور جواب لکھا ” ایک بدتمیز شخص کی وجہ سے دھوبن کا کام سر انجام دے را تھا ام ” اور کاغذ عامرہ کی طرف پھینکا مگر کاغذ ذاکر کی چیر پاس جاگرا.
ذاکر نے مڑکر کر دیکھا ہانی انجان بنتے ہوئے بیگ کھول کر دیکھنے لگی ” یہ کیا کر دیا ہانی اب کیا او گا “
ذاکر نے منہ سیدھا کرکے پیج کھول کر دیکھا اور پڑھتے ہوئے ہنسنے لگا.
ہانی کو ذاکر کل جتنا اچھا اور ڈیسنٹ لگا تھا آج اتنا ہی برا لگ رہا تھا.
…..
ہوسٹل میں آکر ہانی نے سارا کچھ عامرہ کو بتا دیا اور اب پچھلے آدھے گھنٹے سے عامرہ ہنس رہی تھی.
” ہانی تم کو سیٹ صرف ذاکر شاہ ہی کرسکتا اے “
” کیا مطلب ? “
” باقی سب کی تمہارے سامنے بولتی بند ہوجاتا اے اور تم صرف ذاکر شاہ کے سامنے میوٹ ہوجاتی او “
ہانی نے گھورا
” تم ام کا مزاق اڑا رہی او ? “
” نیں بلکل نیں “
اور عامرہ ہنسی روکنے کی کوشش کرنے لگی.
ہانی بیڈ سے اٹھ کر کچن میں گئی اور فریز سے کھانے پینے کی چیزیں نکال کر واپس آکر بیڈ پر لیٹ کر کھانے لگی.
عامرہ موبائل پر مصروف تھی ہانی کھاتے کھاتے تھک گئی تو تنگ آکر کہا
” عامرہ کتنا کھالوں یار ? کھانے سے بھی اب ام بور ہونے لگا اے “
” ہانی یہ دیکو (دیکھو) کیا ملا “
ہانی فورن سے اٹھ بیٹھی
” کیا ملا ? “
” ذاکر شاہ کی آئی ڈی ملی “
” لو وہ شوخا جا یارا ام کا موڈ پہلے ہی خراب اے اس کو دیک (دیکھ) لیا تو دماغ خراب ہوجائے گا “
” ہانی دیک (دیک) تو کتنا ہنڈسم لگ را “
” تو رہن دے میں نیں ویکھنا ( ہانی کو پنچابی کی آنے والی واحد لائن ) یونی میں دیکا کیسے چلتا ہے دو لڑکے پیچھے ہوتے ہیں اور خود اگے چل رہے ہوتے ہیں ذاکر شاہ صاحب “
ہانی نے ذاکر کا نام منہ ٹیڑھا کرکے لیا.
عامرہ کو ایک انجان نمبر کا میسج مصول ہوا.
عامرہ نے میسج کھول کر دیکھا
” اسلام علیکم ڈیر کیوٹ سسٹر ? “
” کون ? “
” ذاکر شاہ “
عامرہ کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا ” جی ذاکر شاہ آپ نے کیوں میسج کیا ?”
” مجھے ہانی کے بارے میں سب جاننا ہے “
” تو ہانی سے پوچھ لیں “
” نیں پوچھ سکتا نا. ہانی آپ کی کیا لگتی ہے ? “
” دوست ‘ کزن ‘ نند اور ہونے والی بھابھی “
ذاکر کی رگیں تن گئیں.
” ہانی کی مرضی شامل ہے ? “
” نہیں “
ذاکر کو کچھ سکون محسوس ہوا.
” مجھے ہانی سے شادی کرنی ہے ? “
” ناممکن ہے “
” کیوں ? “
” خان لالہ آپ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے “
” کیوں ? “
” کیونکہ وہ ہانی کو چاہتے ہیں. ہانی اور خان لالہ کی منگنی ہوچکی ہے “
” میں سب سیٹ کرلوں گا “
” دیکھتے ہیں “
” بس یہی پوچھنا تھا تھینکس ڈیر سسٹر “
عامرہ نے دل میں دعا کی کہ ہانی کا شوہر ذاکر بنے خان لالہ نہیں.
ہانی نے ذاکر کی برائیاں کرکے عامرہ کی طرف دیکھا عامرہ سو چکی تھی برے برے منہ بناتی ہوئی ہانی بھی لیٹ کر سوگئی.
…….
عامرہ کی آواز پر ہانی کی آنکھ کھلی.
عامرہ کمرے میں موجود ایک لڑکی سے ہنس ہنس کر باتیں کررہی تھی.
ہانی اٹھ بیٹھی
” ہانی یہ لڑکی ام کے ساتھ رہے گا “
” کیوں ? “
عامرہ نے ہانی کو آنکھیں دیکھائیں. ہانی نے زبان دانتوں تلے دبالی.
” میرا نام ثمرین ہے ” لڑکی نے بیڈ سے اٹھ کر ہانی سے سلام لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا.
” ام کا نام حورین آپ چاہو تو ہانی بھی کہہ سکتا” ہانی نے ہنستے ہوئے ہاتھ تھام لیا اور اپنے بارے میں بتاکر واش روم کی طرف بڑھی.
” ام کچھ کھانے پینے کے لیے لاتا ” عامرہ ثمرین کو کہتے ہوئے کچن میں چلی آئی.
ہانی منہ ہاتھ دھوکر ثمرین پاس آکر بیٹھ گئی اور کہا
” کونسا سبجیکٹ اے آپ کا ?”
” میرا سبجیکٹ کمیسٹری اور آپ کا ? “
” ام کا فزکس “
” آپ پٹھان ہو ? “
” جی “
” ہمممم سہی “
” ثمرین ? “
” ہمممم “
” آپ ام کو سہی اردو سکھا دو “
عامرہ کو ہانی کی آواز سنائی دے رہی تھی عامرہ ہنسنے لگی.
” ہاہاہا اب تک کسی نے نہیں سکھائی ? “
” نیں ام کو کوئی نیں بلاتا تھا نا سکول میں نا کالج میں سب دور دور ہی رہتا تھا کیونکہ ام کے علاقہ میں ام کے گھر کے آدمیوں کی بہت دہشت ہے اور سب لڑکیوں کے ماما بابا ان کو ام سے دور رہنے کا کہتا تھا “.
” اوہ سہی ٹھیک ہے سکھا دوں گی “
” شکریہ شکریہ “
عامرہ ڈش لیے ہوئے کچن سے نکلی اور کہا
” ہانی تم کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نیں دیتا “
ہانی کا تو منہ کھلا رھ گیا
” اب کیا کیا ام نے ? “
” اردو سیکھنے لگا تم “
” ہاں نا ام تنگ آگیا اے ایسی اردو بول بول کے “
عامرہ نے بیڈ پر ڈش رکھی اور انڈہ بریڈ دیکھ کر ہانی کا منہ بن گیا
” یہ کیوں بنایا ہے ? “
عامرہ کو پتہ تھا کہ ہانی کو انڈہ بریڈ پسند نہیں ہے مگر ٹائم تھوڑا تھا تو صرف یہی بن سکتا تھا.
” ٹائم تھوڑا تھا “
ہانی بیڈ سے اتر گئی
” تم کھاؤ ام کینٹین پر جا رہا “
عامرہ نے ہنستے ہوئے کہا
” ذاکر سے ٹکرانے کو دل کر رہا ہے ? “
ہانی کو کل والا واقع یاد آگیا اور غصہ آنے لگا.
” نیں “
عامرہ کو رات والا خواب یاد آیا اور عامرہ اچھل کر بیڈ سے اتری اور ہانی کو گلے لگا کر کہا
” ہانی ذاکر تم سے شادی کرنا چاہتا ہے “
ہانی بے ہوش ہوتے ہوتے بڑی مشکل سے بچی اور عامرہ کو خود سے دور کرکے کہا
” ہائے یہ کیا کہہ را تم “
” یار خواب سنا را ہوں “
ہانی نے سکون کا سانس لیا
” شکر ہے خواب تھا “
ثمرین جو اتنی دیر سے چپ بیٹھی تھی بول اٹھی
” ایک منٹ یہ ذاکر کہیں ذاکر شاہ تو نہیں ? “
عامرہ نے جھٹ سے جواب دیا
” ہاں وہی ہے “
ثمرین کا منہ کھل گیا
” ہائے وہ تو بہت ہنڈسم ہے اور کیا اس یونی میں پڑھتا ہے ? “
” ہاں “
” اوف میرے خدایا تیرا شکر ہے اب میں ذاکر شاہ فیس ٹو فیس دیکھ سکوں گی “
عامرہ اور ہانی ہنسنے لگیں.
ہانی نے موبائل اور کچھ پیسے ہوڈ کی پوکٹ میں ڈالے اور باہر کی طرف بڑھی کینٹین سے کافی لے کر ایک بینچ پر آکر بیٹھ گئی. رینگ ٹون کی آواز پر موبائل نکال کر دیکھا. خان کی کال تھی ہانی نے موبائل سایڈ پر رکھ دیا اور کافی پینے لگی. کچھ دیر بعد پھر سے کال آئی.
دادی ماں کا نام سکرین پر جگمگاتا ہوا دیکھ کر ہانی نےکال پک کرلی ” سلام دادی ماں “
” ام کی کال کیوں نیں اٹھاتا تم “
خان کی آواز سن کر ہانی کی سانس اٹک گئی
” وہ ام تھوڑا مصروف ہے بعد میں بات کریں گے “
” فون مت رکھنا ” خان کی غصے سے بھری ہوئی آواز سن کر ہانی کا سانس بند ہونے لگا.
ہانی نے کال کاٹ کر فون اوف کردیا اور لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے یونی سے باہر آگئی.
……..
رنگ ٹون کی آواز پر ذاکر نے آنکھیں بند کیے ہوئے ہی ہاتھ بڑھا کر کال بند کردی پھر سے کال آنے لگی اور اچانک یاد آیا کے آج نئی کمپنی کی اوپنگ پر جانا ہے.
” اللہ اللہ اوف آج تو جلدی اٹھنا تھا “
ذاکر برا سا منہ بناکر اٹھ بیٹھا اور واش روم کی طرف بڑھا.تیار ہوکر خود کو شیشے میں دیکھا اور چابی اٹھاکر گھر سے نکل آیا.
………
ذاکر فون پر بابا سے بات کرتے ہوئے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اچانک کال کٹ ہونے پر موبائل کو دیکھنے لگا اور اسی لمحے ہانی ذاکر کی گاڑی سے ٹکرا کر نیچے گر گئی.
ذاکر گاڑی سے باہر نکل آیا اور ہانی کے پیر اور سر سے خون نکلتا دیکھ کر حیران رھ گیا
” اوف اس لڑکی کو ٹکرانے کے لیے میں ہی ملتا ہوں کیا ?” کہتے ہوئے ہانی پاس آکر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا.
” سوری “
ہانی نے سر اٹھا کر دیکھا اور ذاکر کو دیکھ کر ماتھے پر بل پڑگئے.
” ام کا پیر ٹوٹ گیا اے “
” تو دھیان سے چلا کرو نا “
” آپ دھیان سے گاڑی نیں چلا سکتے ? “
” اٹھ کر وہ سامنے بینچ پر بیٹھو میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں “
” لیڈی ڈاکٹر “
” کیا یہ کم ہے کہ میں ڈاکٹر کو کال کر رہا ہوں “
” ہاں کم اے “
ذاکر نے کھڑے ہوکر ہانی کی طرف ہاتھ بڑھایا. ہانی نے نا میں سر ہلایا اور کہا
” ام نیں اٹھے گا “
” کس خوشی میں ? “
” دیکھو کتنا خون بہہ رہا ہے “
ذاکر ہنسنے لگا
” ہاں اتنا زیادہ خون بہہ رہا ہے کہ بلڈ بینک بن سکتی ہے. دو خراشیں کیا لگ گئیں محترمہ کے آنسوں ہی بند نہیں ہورہے. اٹھو مجھے جانا ہے میں لیٹ ہورہا ہوں “
” ام نیں اٹھے گا “
” دیکھو مجھے غصہ مت دلاؤ ورنہ….. “
” ام نیں اٹھے گا جو بن پڑے کرلو “
ذاکر غصے سے آگے بڑھا اور جھک کر ہانی کو بازوں میں اٹھاکر گاڑی کی طرف بڑھا ہانی خود کو چھڑوانے لگی.
” دیکھو ام کو نیچے اتارو “
ذاکر نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور ہانی کو پھینکنے والے انداز میں اندر بیٹھاکر سیٹ بیلٹ باندھ دیا. ڈور لاک کرکے بھاگ کر ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا.
” دروازہ کھولو ام کو باہر نکلنا ہے “
” میرے پاس اتنا فضول ٹائم نہیں ہے کہ تمہارے نخرے برداشت کروں اور میڈیا یہاں پہنچتا ہی ہوگا میں کوئی سکینڈل افوڈ نہیں کر سکتا ہم یہاں پاس ہی ایک کافی شوپ پر جارہے ہیں وہاں ڈاکٹر کو بولوا لوں گا “
” ام کو نہیں جانا گاڑی کا دروازہ کھولو “
ذاکر جو اتنی دیر سے غصہ کنڑول کر رہا تھا پھٹ پڑا
” ایک لفظ بھی اب زبان سے نکالا تو دیکھنا…. ایک تو تمہاری ہلپ کررہا ہوں اوپر سے تم ……”
ہانی ڈر کر چپ ہوگئی.
ذاکر نے گاڑی سٹاٹ کرلی اور دل میں شکر ادا کیا کے آج Lamborghini کی جگہ پجارو لے کر آیا تھا ورنہ ہر صورت آج سکینڈل بن جانا تھا.
کافی شاپ کے سامنے گاڑی روک کر ذاکر نے کہا
” خود اترو گی یا اٹھانا پڑے گا.میرے سارے ڈریس کا ستیاناس ہوگیا ہے. اوف میرے خدا کہاں پھنس گیا ہوں میں ? “
ذاکر کو غصہ آرہا تھا.
” تو کس نے کہا تھا ام کو اٹھاؤ “
ہانی دروازہ کھول کر گاڑی سے نکل آئی اور لڑکھڑا کر چلتے ہوئے اندر کی طرف بڑھی.
ذاکر نا چاہتے ہوئے بھی ہنسنے لگا.
کافی شوپ میں انڑ ہوکر ہانی ایک ٹیبل پر جاکر بیٹھ گئی اور درد کی وجہ سے آنسوں پھر سے نکل آئے.
ذاکر نے ایک کلینک پر کال کرکے لیڈی ڈاکٹر کو ایڈریس بتاکر جلدی آنے کا کہا اور آکر ٹیبل پر بیٹھ گیا.
ہانی کے بہتے آنسوں دیکھ کر ذاکر تھوڑا سا شرمندہ ہوگیا اور کہا
” سوری “
ہانی نے کچھ دیر بعد سر اٹھاکر دیکھا ذاکر ویٹر کو دو کپ بلیک کافی کا آرڈر دے رہا تھا. بلیو کلر کی جینز شرٹ میں ملبوس’ شرٹ کے اوپر کے دو کھلے بٹن اور رول کیے ہوئے بازوں کے ساتھ پہنی ہوئی ورسٹ واچ ‘ آنکھوں پر لگے گلاسسز ہر چیز ذاکر کو پرفیکٹ دیکھا رہی تھی. ویٹر نے آرڈر لے کر کہا
” Sir I’m ur big fan Plz give me autograph “
اور ایک پیج ذاکر کے سامنے رکھ دیا.
ذاکر نے ہنستے ہوئے سائن کیے اور کہا
” please ko meet u “
ویٹر ہنستے ہوئے چلاگیا اور ذاکر نے پوکٹ سے رومال نکال کر چہرے پر باندھ لیا. ہانی کو مگن انداز میں خود کو دیکھتا پاکر ذاکر ہنسنے لگا
” بہت خوبصورت لگ رہا ہوں کیا ? جو گھور گھور کے دیکھ رہی ہو “
ہانی گڑبڑا گئی اور اردگرد دیکھنے لگی.
بلیک کافی کے آتے ہی ڈاکٹر بھی آگئیں اور ذاکر کھڑا ہوکر ان سے بات کرنے لگا. ڈاکٹر سے بات کرکے کہا
” انجکشن لگے گا “
ہانی کے آنسو بہنے لگے
” نیں ام نیں لگوائے گا “
ذاکر نے ڈاکٹر کو انجکشن لگانے کا اشارہ کیا اور ہانی سے کہا
” کچھ نہیں ہوگا دیکھو میں لیٹ ہورہا ہوں چپ کرکے لگوا لو نا “
ہانی نے زور سے آنکھیں بند کرلیں ذاکر کو ہانی پر بے اختیار پیار آیا ہاتھ بڑھا کر ٹیبل پر پڑا ہانی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ہلکا سا دبایا اور کہا
” ریلکس “
ہانی نے آنکھیں کھول کر ذاکر کو دیکھا اور ہاتھ کھنچا ذاکر ہوش میں آگیا اور ہاتھ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا.
” میں جارہا ہوں یہ ڈاکٹر آپ کو ہوسٹل تک چھوڑ دے گی “
ذاکر خود کو ڈانتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا ” اللہ اللہ کیا ہوگیا ہے مجھے اس لڑکی کو دیکھ کر خود پر اختیار کیوں نہیں رہتا ? “
………
ہانی ڈاکٹر کی مدد سے ہوسٹل آکر اپنے کمرے میں چلی آئی.
عامرہ بیڈ پر سر پکڑ کر بیٹھی تھی اور ہانی کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر بیڈ سے اتری. سر اور پیر پر پٹی بندھی دیکھ کر عامرہ ہانی کو پکڑکر بیڈ پر لائی اور کہا
” یہ سب کیا ہے ? پچھلے دو گھنٹے سے کہاں تھا تم پورا یونی دیکھ لیا ام نے تم کہیں نہیں ملا اور یہ چوٹ کیسے آیا ? “
ہانی نے سارا واقعہ عامرہ کو بتادیا.
عامرہ سکتے میں آگئی. ہانی نے عامرہ کو ہلایا اور کہا
” کیا ہوا ? “
” How romantic “
ہانی نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور ہاتھ چوٹ پر لگنے کی وجہ سے پھر سے درد شروع ہوگیا.
” اللہ اللہ اتنا زیادہ درد ہورہا ہے “
” چھوڑو درد کو یہ سوچو ذاکر کو تم سے کہیں پیار تو نیں ہوگیا “
” عامرہ کیوں اوٹ پٹانگ بول را ہو ایسا کچھ نیں ہے ” عامرہ برا سا منہ بناکر کچن کی طرف بڑھی.
……..
اوپنگ کے بعد پارٹی میں بھی ذاکر کو عجیب قسم کی بے چینی محسوس ہورہی تھی ایسے لگتا تھا جس جیسے اپنی روح ہانی پاس چھوڑ آیا ہو.
#جاری ہے🌹

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *