Ishq Ka Samandar by Umme Laila NovelR50748 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode06
No Download Link
513.7K
15
Rate this Novel
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode01 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode02 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode03 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode04 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode05 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode06 (Watching)Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode07 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode08 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode09 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode10 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode11 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode12 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode13 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode14 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Last Episode
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode06
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode06
ذاکر کی بے چینی لمحہ با لمحہ بڑھتی جارہی تھی.
پارٹی سے واپسی پر ذاکر نے پھولوں کی دکان کے سامنے گاڑی روک کر چہرے پر رومال باندھ لیا تاکہ کوئی پہچان نا لے.
” ہانی کے لیے کس کلر کے پھول لوں? ” ذاکر سوچتے ہوئے کار سے نکل کر سب پھولوں کا جائزہ لینے لگا اور بلیک روز دیکھ کر ذاکر نے کہا
” Black Rose “
” ok “
ذاکر نے فلاور لیے اور گاڑی میں آکر بیٹھ گیا.
ایک پیج پر لکھا
“Get well soon “
اور بوکے کے اندر رکھ دیا.
یونی میں انڑ ہوکر ذاکر ہوسٹل کی طرف قدم بڑھانے لگا مگر رک گیا
” رات کے 1 بجے ہوسٹل جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ہانی نے ڈور لاک کیا ہوگا “
اب کیسے دوں ہانی کو فلاور ? ذاکر سوچتے ہوئے ہوسٹل کی بیک سائڈ پر گیا اور دیکھنے لگا کہ ہانی کا روم کتنا اوپر ہے اندھیرے میں کچھ خاص پتہ ہی نہیں چل رہا تھا.
“اووف میں کیا کررہا ہوں اور مجھے تو روم نمبر بھی نہیں پتہ ” ذاکر نے خود کو ڈانٹا اور ہوسٹل کی فرنٹ سائڈ پر آگیا اور اندر کی طرف بڑھا.
ریسپشن والی لڑکی ذاکر کو دیکھ کر حیران رھ گئی اور ہاتھ میں پکڑے بلیک فلاورز دیکھ کر اور زیادہ حیران ہوئی.
” How can i help u sir ? “
ذاکر نے تھوڑا جھجکتے ہوئے کہا
” Hoorain room number ? “
ریسپشن والی لڑکی نے کمپیوٹر سے چیک کیا اور کہا
” 402 .3rd floor “
” thanks “
کہہ کر ذاکر لفٹ کی مدد سے 3rd floor پر آیا اور اب 402 روم کے سامنے کھڑا تھا.
” دروازہ کیسے کھولوں ?”
ذاکر پریشان کھڑا سوچ رہا تھا.
ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھولا ہوا دیکھ کر ذاکر کمرے میں انڑ ہوگیا . اندر کسی کو نا پاکر ٹیرس کی طرف بڑھا اور ہانی کے روم کی ٹیرس میں کود گیا.
ٹیرس سے روم میں انڑ ہوا اور موبائل کی لائٹ اون کرلی پہلے ہی بیڈ پر ہانی کے براؤن بال کمبل سے جھانکتے ہوئے دیکھائی دیے ٹیبل پر پھول رکھ کر ذاکر نے کمبل تھوڑا سا ہٹایا اور ہانی کا خوبصورت اور مصوم چہرے نظر آنے لگا.
ذاکر ہانی کو آنکھوں کے رستے دل میں اتار رہا تھا ہاتھ بڑھا کر بال کو ہلکا سا چھوا اور ماتھے پر بندھی پٹی کو چھوتے ہوئے ذاکر کے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا
” Aşkım ” ( my love )
ذاکر نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا.
” یہ میں کیا بول دیا? اوووف ہانی میرا پیار کیسے ہوسکتی ہے اور یہ ترکی زبان. اوف میرے خدایا میں اپنی والدہ کی زبان کیوں بول رہا ہوں? “.
ہانی نے کروٹ لی ذاکر ہانی کو دیکھتے ہوئے ٹیرس میں آیا اور دوسرے کمرے کی ٹیرس میں چھلانگ لگا دی.
ذاکر کیسے ہوسٹل سے نکلا کیسے گاڑی ڈرائیو کی کچھ ہوش نہیں تھا. گھر آکر ذاکر اپنے روم کی طرف بڑھا اور کمرے میں آکر بیڈ پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گیا.
ہانی کا چہرہ اور اپنے الفاظ یاد آتے ہی ذاکر کو اپنی والدہ یاد آگئیں. ذاکر بیڈ سے اٹھا اور کمرے میں موجود ہر چیز توڑ دی. سب کچھ توڑ کر ذاکر روتے ہوئے بیڈ سے ٹیک لگا کر قلین پر بیٹھ گیا.
ٹوٹی ہوئی چیزوں اور اپنے وجود میں ذاکر کو کوئی فرق نظر نہیں آرہا تھا.
………………
ہانی سر کے درد کی وجہ سے صبح جلدی اٹھ گئی اور ٹیبل پر پڑے بلیک فلاور دیکھ کر آنکھیں فل کھل گئیں ” یہ کہاں سے آیا ? “
بوکے میں موجود بیج دیکھ کر پیج نکالا
” Get well soon “
” بلیک فلاور کے ساتھ یہ الفاظ ? “
ہانی کو کچھ سمجھ نہیں آیا.
” عامرہ اٹھو ” ہانی بیڈ پر بیٹھ کر ہی عامرہ کو آواز دینے لگی.
” عامرہ ام کی بات سنو یہ کہاں سے آیا ? “
عامرہ نے آنکھیں کھولے بغیر ہی کہا
” کیا ? “
” بلیک فلاورز “
عامرہ نے جھٹ سے آنکھیں کھول لیں اور اٹھ بیٹھی.
” دیکھاؤ ” ہانی نے فلاور عامرہ کی طرف بڑھائے اور عامرہ پکڑ کر بوکے کو دیکھنے لگی.
” ام کو بھی نیں پتہ. کوئی پیج وغیرہ تھا اس میں “
ہانی نے پیج بھی عامرہ کی طرف بڑھایا.
” یہ کیا بات ہوا بلیک فلاورز اور Get well soon “
” ام کو کیا پتہ ثمرین کو جگا کر پوچھو “
عامرہ نے ثمرین کو جگایا اور پوچھا. ثمرین نے بھی لالمی کا اظہار کیا تھا.
اب تینوں سوچ میں گم تھیں.
……….
ذاکر بیڈ سے ٹیک لگائے ہوئے ہی سوگیا تھا.
دروازہ نوک ہونے کی آواز پر ذاکر جاگ گیا اور اٹھ کر دروازہ کھولا.
ادریس صاحب اندر داخل ہوئے. کمرے کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئے
” یہ سب کیا ہے ذاکر ? “
” کچھ نہیں بابا بس رات غصے میں سب توڑ دیا تھا “
ادریس صاحب نے ذاکر کو گلے لگا لیا
” ذاکر کیا ہوا ہے ? میرے بچے کو اتنا غصہ کیوں آیا تھا ? “
ذاکر ہنستے ہوئے پیچھے ہوا اور کہا
” بابا بچوں کی طرح کیوں ٹریٹ کررہیں ہیں ? “
ادریس صاحب ہنسنے لگے
” کیونکہ تم نے بھی بچوں کی طرح غصے میں آکر سب توڑ دیا تھا”
” اچھا چلیں چھوڑیں میں یہ صاف کرواتا ہوں اور میں یونی کے لیے تیار ہونے لگا ہوں آپ بھی تیار ہو جائیں آج آپ کو میں چھوڑنے جاؤں گا “
ادریس صاحب ہنستے ہوئے باہر کی طرف بڑھے.
…….
عامرہ اور ثمرین کلاسسز لینے چلی گئیں تھیں اور ہانی اکیلی کمرے میں بیٹھی بور ہورہی تھی.
ہانی بیڈ سے اتری اور تیار ہوکر ٹیبل سے بلیک فلاور اٹھاکر اپنی الماری میں رکھ کر باہر کی طرف بڑھی.
……
ثمرین اپنی کلاسس چھوڑ کر عامرہ اور ہانی ساتھ پریکٹیکل کلاس لے رہی تھی صرف ذاکر کو دیکھنے کے لیے.
ذاکر ہانی کو دیکھنے میں مگن تھا.
بلیو کلر کی پٹھانی فراک میں ہانی بہت خوبصورت لگ رہی تھی.
ہانی نے ایک دو بار ذاکر کو دیکھا اور اپنی طرف دیکھتا پاکر پریشان ہوگئی.
” پتہ نیں ام کو گھور گھور کے کیوں دیک (دیکھ) را ہے ?”
عامرہ نے چونک کر ہانی کو دیکھا اور کہا
” کون ? “
ہانی گڑبڑا گئی
” نیں کوئی نیں “
عامرہ دوبارہ پریکٹیکل کرنے لگی.
ذاکر کو شرارت سوجھی ایک پیچ پر گندی سی رائٹنگ میں ” دھوبن ” لکھ کر ہانی کو مارا.
پیج ہانی کی بازو پر آکر لگا اور نیچے گرگیا ذاکر کو دیکھتے ہوئے ہانی نے پیج اٹھاکر دیکھا اور دھوبن لکھا دیکھ کر لال پیلی ہونے لگی.
ذاکر ہنسی روک رہا تھا.
ہانی نے پاس پڑی سلائیڈ اٹھائی اور ذاکر کو ماری.
ذاکر نے سمائل روکتے ہوئے سلائیڈ کیچ کرلی.
ہانی کو اور غصہ آنے لگا اب کی بار سٹوپ واچ ذاکر کو ماری ذاکر نے ہنستے ہوئے سٹوپ واچ بھی کیچ کرلی.
عامرہ اور ثمرین دونوں ہانی اور ذاکر کی حرکتیں نوٹ کررہیں تھیں.
عامرہ بول اٹھی
” یہ سب کیا او را ہے ? “
ہانی نے دھوبن والا پیج عامرہ کے آگے رکھ دیا اور دھوبن لکھا دیکھ کر عامرہ اور ثمرین کی ہنسی چھوٹ گئی.
ثمرین نے کہا
” ہانی تم بہت لکی ہو دیکھو کتنا پیارا لڑکا تمہیں چھیڑ رہا ہے “
عامرہ اور ہانی نے ثمرین کو ایسے دیکھا جیسے ثمرین پاگل ہوگئی ہو.
” ہاں غلط تو نہیں کہہ رہی میں “
ہانی ہنسنے لگی
” تم پاگل او “
عامرہ نے کہا
” ہانی خان لالہ نے کل ام کو کال کیا تھا اور غصہ او را تھا کہ تم نے ان کی کال کاٹا “
ہانی کو غصہ آنے لگا
” ہونے دو غصہ ام نیں کرے گا خان سے بات “
ثمرین نے کہا
” خان کون ہے ? “
باہر کی طرف اٹھتے ہوئے ذاکر کے قدم عامرہ کے الفاظ پر لڑکھڑائے
” ہانی خان لالہ کی منگ ہے “
ذاکر کو اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوا.
ذاکر کلاس سے نکلا اور کوریڈور میں موجود بینچ پر بیٹھ گیا.
” مجھے ہانی کا منگنی شدہ ہونا برا کیوں لگ رہا ہے کیا ہوگیا ہے مجھے ؟
ہانی خان کے بارے میں سن کر اداس ہوگئی تھی اور اب برا سا منہ بناکر بیٹھی تھی.
ثمرین اپنی کلاس میں جا چکی تھی اور عامرہ نے ہانی سے کہا
” ہانی ام ہوسٹل سے موبائل لے کر آتا ہے “
اور اٹھ کر چلی گئی.
ہانی کو ڈر لگ رہا تھا اور خود پر غصہ بھی آرہا تھا اس لیے خود سے باتیں کرنے لگی
” ام پاگل تھا جو انگلینڈ کے لالچ میں اس پاگل خان سے منگنی کروا لی. اوووووف ہانی تم بلکل پاگل او. سوچا تھا سب سہی کرلوں گی مگر یہاں تو کوئی حل نظر نیں آ را. اب ام کیا کرے گا? اگر خان یہاں آگیا تو ? ” (ثمرین نے تھوڑی بہت ہانی اور عامرہ کی اردو ٹھیک کروا دی تھی مگر ہم بولنا اب بھی دونوں میں سے کسی کو نہیں آیا تھا)
ہانی نان سٹاپ بول رہی تھی ذاکر واپس کلاس میں آیا اور ہانی کو خود سے باتیں کرتا دیکھ کر حیران رھ گیا اور چلتا ہوا ہانی کی چیر پاس آگیا.
” Any problem hani ? “
ہانی نے چونک کر ذاکر کو دیکھا
” کیا کہا آپ نے ? “
ذاکر ہانی کی ساتھ والی چیر پر بیٹھ گیا
” تم خود سے باتیں کررہی تھی ? “
” ہاں نا ام پاگل ہوگئی ہے “
” کیا مطلب ? “
” آپ کو کوئی مسلہ ہے ? ام اکیلی باتیں کرے یا نا کرے آپ کون ہوتے ہو پوچھنے والے ? “
ذاکر کو غصہ آنے لگا
” نہیں کچھ نہیں بس آپ اکیلی بول رہیں تھیں تو میں نے سوچا کہ شاید پاگل ہوگئی ہیں مگر شاید آپ پہلے سے ہی پاگل ہو بلکہ نہیں ماہا پاگل ہو. یہاں سے پندرہ منٹ کے فاصلے پر ایک پاگل خانہ ہے پر وہاں سب سے بڑے پاگل کو ایورڈ نہیں دیتے مگر آئیم شور اگر آپ وہاں چلی جائیں گئیں تو یقینا ہر سال وہ ایورڈ دینا شروع کردیں گے اور وہ بھی آپ کو لیٹل گرل …… “
ہانی کو بھی غصہ آنے لگا.
” اگر آپ ….”
ذاکر ہانی کی بات سنے بغیر ہی اٹھ کر باہر کی طرف بڑھا.
ہانی نے غصے میں اپنی بک اٹھاکر ذاکر کو ماری ذاکر نے بغیر دیکھے بک کیچ کی اور باہر چلاگیا.
” پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتا ہے بدتمیز کہیں کا “
……
عامرہ فون لے کر ہوسٹل سے نکلنے لگی مگر بلیک روز یاد آگئے اور ریسپشن کی طرف بڑھی.
” please tell me who came here Last night with black rose bouquet ? “
لڑکی نے سر اٹھاکر دیکھا اور کہا
” Zakir shah “
عامرہ کا منہ کھل گیا
“Are u sure ? “
” Yes i’m sure “
“ok thanks “
لڑکی نے ہلکی سی سمائل کی.
عامرہ بھاگتے ہوئے کلاس روم میں آئی.
” ہانی “
عامرہ کا بھاگنے کی وجہ سے سانس پھولا ہوا تھا.
” کیا ہوا ? “
” بلیک روز ذاکر شاہ لایا تھا “
ہانی چیر سے اٹھ کھڑی ہوئی
” سچ میں ? “
” ہاں ریسپشن والی لڑکی نے بتایا ہے “
ہانی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
” ام ابھی آتا ہے “
” کہاں جارہی ہو ? “
” واپس آکر بتاؤں گیں “
اور باہر کی طرف بڑھی.
ذاکر کہاں ہوسکتا ہے اس وقت ? ہانی سوچتے ہوئے ذاکر کو ڈھونڈنے لگی بلآخر کینٹین میں ذاکر ایک چیر پر بیٹھا نظر آگیا ہانی ذاکر کی طرف بڑھی.
ذاکر موبائل پر اپنے بابا سے بات کر رہا تھا.
” ٹھیک ہے آپ کب واپس آئیں گے ? “
” ایک ماہ لگ جائے گا “
” اوووف بابا اتنی دیر بعد “
ادریس صاحب ہنسنے لگے
” ذاکر بچوں کی طرح کیوں بی ہیو کررہے ہو ? “
ہانی ذاکر پاس پہنچ کر بولنا شروع ہوگئی.
” ذاکر شاہ بلیک روز آپ نے میرے روم میں رکھے تھے ? “
ذاکر نے ” بابا پھر بات کریں گے اللہ حافظ ” کہہ کر کال بند کردی اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا
” یس “
” کس خوشی میں ? “
ہانی گھورتے ہوئے قدم بڑھانے لگی ذاکر پیچھے ہوتا گیا.
” آپ کو چوٹ لگی تھی اس خوشی میں “
ہانی رک گئی اور آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا
” بلیک روز کے ساتھ Get well soon ? “
ذاکر نے ہلکی سی سمائل کی اور ہانی کی طرف قدم بڑھانے لگا
” بلیک روز نا “
ہانی نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا
” ہاں بلیک روز ? “
” تم نہیں سمجھو گی “
” کیوں? “
” تم ابھی چھوٹی بچی ہو لیٹل کیوٹ گرل “
ہانی رک گئی ذاکر بلکل قریب آکر کھڑا ہوا اور ہانی کے بالوں کو ہلکا سا چھوا. ہانی گڑبڑا گئی اور پیچھے ہوکر ٹیبل سے اپنی بک اٹھاکر کہا
” بہت بدتمیز ہو تم “
اور کینٹین سے نکل گئی.
ذاکر ہنستے ہوئے واپس ٹیبل پر بیٹھ گیا.
……..
ہانی برے برے بناتے ہوئے کلاس روم میں واپس آگئی اور چپ کرکے کرسی پر بیٹھ گئی.
عامرہ کچھ دیر ہانی کے بولنے کا انتظار کرتی رہی مگر ہانی بول ہی نہیں رہی تھی.
” اب بتاؤ بھی کہاں گئی تھی ? “
ہانی نے برا سا منہ بنایا
” ذاکر کی کلاس لینے گئی تھی “
” تو اتنا برا منہ کیوں بنارہی ہو ? اور کلاس لی پھر ? “
” وہ بہت بدتمیز ہے “
عامرہ ہنسنے لگی
” اب کیا کردیا ذاکر نے ? “
ہانی نے کلاس والا واقع اور کینٹین والا واقع بتادیا.
عامرہ ہنس ہنس کر پاگل ہورہی تھی پھر ہنسی کنڑول کرکے کہا
” ویسے ام کو لگتا ہے ذاکر کو تم سے پیار ہوگیا ہے “
” جانے دو اچھا فضول نا بولو “
عامرہ نے ہانی کا ہاتھ پکڑا اور کہا
” آج ثمرین کو لے کر گھومنے پھرنے جائیں گے بلکہ ابھی چلتے ہیں اٹھو “
ہانی اٹھ کھڑی ہوئی.
عامرہ ہنسی روکتے ہوئے ہانی ساتھ ہوسٹل کی طرف بڑھی.
……
ثمرین ‘ ہانی اور عامرہ شام ہوتے ہی ہوسٹل سے نکل آئیں.
ہانی نے کہا
” کہاں جانا ہے ? “
ثمرین نے کہا
” ہانی ہم مارکیٹ چلتے ہیں مجھے بہت کچھ لینا ہے “
” یارا پھر کسی دن چلی جانا آج کہیں اور چلتے ہیں “
عامرہ نے بھی ہانی کی ہاں میں ہاں ملائی.
” یار اس وقت کہاں جائیں گے ? ایسا کرتے ہیں ہم پیدل چلتے ہیں یہاں سے کچھ فاصلے پر فوڈ سٹریٹ ہے آج اس کا جائزہ لے کر آتے ہیں”.
ہانی نے اردگرد دیکھ کر کہا
” چلو ٹھیک ہے ویسے بھی کچھ دیر میں اندھیرا پھیل جائے گا “
اور تینوں فٹ پاتھ پر چلنے لگیں.
عامرہ ہنستے ہوئے بولنا شروع ہوگئی
” یارا ثمرین تم کو پتہ ہے آج ہانی ساتھ کیا ہوا ? “
ہانی نے کہا
” عامرہ ام کا موڈ خراب ہوجائے گا پلیز “
ثمرین نے کہا
” تم نا سننا کانوں میں انگلیاں دے لو “
عامرہ ہنستے ہوئے سب کچھ بتانے لگی. ہانی غصے کی وجہ سے تیز تیز چلنے لگی اور کافی شاپ دیکھ کر اس میں گھس گئی.
عامرہ اور ثمرین باتوں میں مگن کافی شاپ سے آگے گزر گئیں.
ہانی نے باہر جھانکا اور دونوں کو باتیں کرتے ہوئے آگے بڑھتے دیکھ کر باہر کی طرف بھاگی اور زور سے کسی سے ٹکرائی.
… …..
ذاکر گھر میں داخل ہوا اور ادریس صاحب تیار ہوکر صوفے پر بیٹھے ذاکر کا انتظار کررہے تھے.
” بابا “
ادریس صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا
” کب سے ویٹ کر رہا ہوں کہاں تھے? “
” سوری بابا لیٹ ہوگیا تھا بس وہ رستے میں ایک دوست مل گیا تھا “
اور ذاکر ادریس صاحب کے ساتھ باہر کی طرف بڑھا.
ادریس صاحب بزنس کے سلسلے میں ایک ماہ کے لیے امریکہ جارہے تھے.
ائیر پورٹ پر پہنچ کر ذاکر نے کہا
” بابا جلدی آنے کی کوشش کیجئے گا “
ادریس صاحب ہنسنے لگے
” وہ لڑکی کون تھی جس کے روم میں تم نے بلیک روز رکھے تھے ? “
ذاکر گڑبڑا گیا
” بابا کیسی باتیں کررہے ہیں ? “
” جھوٹ بولنے کی کوشش بھی ناکرنا میں نے خود سنا تھا “.
” بابا آپ لیٹ ہورہے ہیں “
ادریس صاحب ہنسنے لگے
” اوکے جارہا ہوں مگر یہ بلیک روز کس لحاظ سے دیے تھے? “
” بابا “
ادریس صاحب ہنستے ہوئے گاڑی سے نکل گئے اور جاتے ہوئے کہنا نہیں بھولے تھے
” چلو فون پر بتا دینا “
” اللہ حافظ بابا “
اور ہنستے ہوئے گاڑی بھگا لےگیا.
شام کے وقت ذاکر آوٹنگ کے لیے گھر سے نکل آیا.
اپنی فیورٹ جگہ سے کافی پینے کا سوچتے ہوئے کافی شوپ میں داخل ہونے لگا. ہانی تیزی سے کافی شاپ سے نکلی اور زور سے ذاکر ساتھ ٹکرائی.
……………..
ٹکرانے والے کو دیکھے بغیر ہی کہا ” سوری سوری ” اور آگے بڑھی مگر ہانی کا موبائل وہیں گرگیا.
ذاکر نے ہنستے ہوئے جھک کر موبائل اٹھایا اور ہانی کے پیچھے بھاگا
” سنو ہانی “
ہانی رک گئی اور مڑ کر دیکھا ذاکر کو دیکھ کر غصے میں آگئی. ذاکر ہانی کے پاس آکر کھڑا ہوگیا.
” اللہ اللہ آپ ام کا پیچھا کررہے ہو کیا ? “
ذاکر ہنسنے لگا
” موبائل کہاں ہے تمہارا ? “
ہانی نے ہوڈ کی پوکٹ میں ہاتھ ڈالا مگر سیل نہیں ملا.
” آپ کے پاس ہے نا ? “
ذاکر نے موبائل ہانی کی طرف بڑھایا اور ہانی نے موبائل لینے کے لیے ہاتھ آگے کیا ذاکر نے ہنستے ہوئے موبائل پیچھے کرلیا.
ہانی سوالیا نظروں سے ذاکر کو دیکھنے لگی.
” کافی “
” نو “
ذاکر نے ہانی کے ہاتھ پر موبائل رکھا اور واپس کافی شاپ کی طرف بڑھا.
ہانی کو برا لگا
” مجھے ذاکر کو انکار نہیں کرنا چاہیے تھا “.
#جاری ہے
