Ishq Ka Samandar by Umme Laila NovelR50748 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode09
No Download Link
513.7K
15
Rate this Novel
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode01 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode02 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode03 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode04 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode05 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode06 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode07 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode08 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode09 (Watching)Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode10 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode11 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode12 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode13 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode14 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Last Episode
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode09
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode09
” ذاکر اٹھو وہ جو سامنے الماری ہے اس میں سے میرا بیگ نکالو اور موبائل ڈھونڈ کر لاؤ “
ذاکر چیر سے اٹھ کر الماری کی طرف بڑھا اور بیگ نکال کر موبائل ڈھونڈا اور واپس چیر پر آکر بیٹھ گیا.
موبائل ہافرہ کی طرف بڑھایا.
ہافرہ نے ادریس کو کال کرلی
” ادریس مجھے کچھ بات کرنی ہے “
” فرماؤ “
” میں ذاکر سے ملنا چاہتی ہوں “
” کیوں? “
” وہ میرا بیٹا ہے “
” مجھے پتہ ہے تم نے اس سے مل کر اسے سب بتا دینا ہے اس لیے دو اوپشن ہیں اگر ذاکر کی زندگی کی ضمانت چاہتی ہو تو اسے بھول جاؤ اور اگر ملنا چاہتی ہو تو پھر اس کی لاش سے ہی ملو گی “
” آپ اس کو کیسے مروا سکتے ہیں? وہ آپ کا بھی تو بیٹا ہے “
” میں نہیں چاہتا کہ میں ذاکر کی نظروں سے گر جاؤں اور وہ مجھ سے نفرت کرنے لگے.”
” تو آپ ناجائز کمانا چھوڑ دو “
” میں ناجائز نہیں کماتا “
” ڈرگز کی سمگلنگ کرتے ہو تم اور یہ کام جائز نہیں ہے “
” تم اپنی زبان بند رکھو. اسی بے لگام زبان نے تمہیں طلاق دلوائی ہے “
ذاکر ہافرہ کو چپ رہنے کا اشارہ کرکے خود بول اٹھا
” ادریس صاحب آپ میری نظروں سے گر گئے ہیں اور مجھ سے زیادہ آپ کو کوئی نفرت نہیں کرتا. جو کیا ہے اس کا حساب چکانے کے لیے تیار ہوجائیں. آپ اچھے سے جانتے ہیں ذاکر معاف نہیں کرتا “
ذاکر کی آواز سن کر ادریس کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا.
… …
پاکستان ائیر پورٹ پر خان تینوں کو لینے آیا تھا اور ہانی کو دیکھ کر خان کا دل ہانی سے بات کرنے کو ہمکنے لگا.
ہانی خان کو دیکھ کر ویسے ہی گھبرا گئی تھی اس لیے زور سے عامرہ کا ہاتھ پکڑلیا.
عامرہ نے آہستہ آواز میں کہا
” ہانی ریلکس “
” مجھے خان سے ڈر لگ رہا ہے “
عامرہ ہانی کا ہاتھ پکڑے ہوئے خان کی طرف بڑھی
” سلام لالہ “
خان نے ہانی کو نظروں کے حصار میں رکھتے ہوئے عامرہ کو سلام کا جواب دیا
” وسلام “
ہانی عامرہ کا ہاتھ چھوڑ کر گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی.
خان کے ماتھے پر بل پڑگئے اور گاڑی میں بیٹھ کر زور سے دروازہ بند کیا.
عامرہ نے گاڑی میں بیٹھ کر ہانی کے کان میں کہا
” تمہاری ایسی حرکتوں کی وجہ سے لالہ کو اور زیادہ غصہ آتا ہے “
ہانی چپ چاپ بس آنے والے لمحوں کو سوچ رہی تھی پتہ نہیں کیا ہوگا.
” ذاکر تم نے اچھا نہیں کیا. جس سے محبت کی اسی کو سب سے بڑے امتحان میں ڈال دیا. میں کیسے ثابت کروں گی کہ میں تمہاری بیوی ہوں ?”
…….
خان ہاؤس کا ہر مکین ہانی اور عامرہ کا بے صبری سے انتظار کررہا تھا سوائے علیزہ کے.
علیزہ کا دل صبح سے گھبرائی جا رہا تھا
” اگر سچ میں ہانی ام کا سوتن بن گیا تو …..”
فاخرہ نے سارے گھر کے بڑوں کو اپنے روم میں آنے کا بلوا بھیجا تھا اور سارے فاخرہ کے روم میں بھاگے چلے آئے.
” اس جمعے کو ہانی اور خان کا نکاح کروا دیا جائے گا کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں ? “
سب نے نا میں سر ہلادیا. ناصر’ ماخر اور ماخرہ کو تو کوئی اعتراض تھا ہی نہیں اور ناصرہ کی زبان فاخرہ پہلے ہی بند کروا چکیں تھیں اس لیے انھوں نے بھی نا میں سر ہلا دیا.
” فل حال ہانی کو کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے بس چپ چاپ سب تیاریاں کرلو “
سب ہاں میں سر ہلاکر باہر کی طرف بڑھے.
…………
خان ہاؤس کے سامنے گاڑی رکی اور سب نکل کر اندر کی طرف بڑھے ہانی تھکن زدہ چال چلتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ رہی تھی خان بھی ہانی کے ساتھ ساتھ چلنے لگا
” ہانی کیسی او ? “
ہانی نے چونک کر خان کو دیکھا
” ام ٹھیک ہے “
اور تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی عامرہ کے برابر آگئی.
سب سے مل کر ہانی اور عامرہ فاخرہ کے کمرے میں داخل ہوئیں.
ہانی کو دیکھ کر فاخرہ کا خون کھولنے لگا اور بلیک پنٹ شرٹ میں ملبوس ذاکر کے حصار میں کھڑی ہانی کی تصویر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی.
ہانی اور عامرہ فاخرہ کے ہاتھ کا بوسہ لے کر تخت پاس چیر رکھ کر بیٹھ گئیں.
ہانی نے کہا
” دادی ماں اب طبیت کیسی ہے ? “
” ٹھیک ہے “
فاخرہ نے روکھے سے انداز میں جواب دیا. ہانی عامرہ کو دیکھنے لگی اور دونوں کی آنکھوں میں حیرانگی سمٹ آئی.
” دادی ماں ام نے آپ کو بہت یاد کیا ” عامرہ نے کہا
” ہانی نے تو بلکل یاد نہیں کیا ہوگا “
ہانی کا منہ کھلا رھ گیا
” دادی ماں آپ ام سے ناراض ہو ? “
” لڑکی تم نے ام کو سخت مایوس کیا ہے “
” کیا مطلب ? آپ کہنا کیا چاہتیں ہیں ? “
” فل حال جاکر آرام کرو پھر بات کریں گے “
” دادی ماں…”
ہانی کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی فاخرہ نے ہاتھ کھڑا کر کے بولنے سے روک دیا.
ہانی اور عامرہ باہر کی طرف بڑھیں.
عامرہ اپنے روم میں چلی گئی اور ہانی اپنے روم کی طرف بڑھی. کوریڈور میں خان نے ہانی کا رستہ روک لیا
” تم ام سے ناراض ہو ? “
” نہیں “
خان ہانی کا رستہ چھوڑ کر پیچھے ہوا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے سوچا ” کچھ دنوں کے بعد ہانی صرف میری ہوگی “
………..
ذاکر نے ہافرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اس پر ہونٹ رکھ دیے اور کہا
” مام آپ کے ساتھ کی گئی ہر زیادتی کا بدلا ادریس صاحب کو چکانا ہو گا “
” ذاکر…. “
” مام پلیز سب کچھ مجھ پر چھوڑ دیں اب اس بارے میں ہم دوبارہ بات نہیں کریں گے. کوئی اور بات کرتے ہیں “
ہافرہ ہنسنے لگیں
” تم نے منگنی کب کی ? “
” مام میں نے شادی بھی کرلی ہے “
ہافرہ حیران رھ گئیں
” کس سے ? “
” آپ کے سوتیلے بھائی کی بیٹی حورین خان سے “
ہافرہ اٹھ بیٹھیں
” کب کی تم نے شادی ? “
” دو دن پہلے “
” کہاں ہے اس وقت حورین ? “
” ہوسٹل میں ہوگی ” ذاکر نے لاپرواہی سے کہا
” تم حورین سے پیار کرتے ہو ? “
” نہیں بلکل نہیں صرف نفرت کرتا ہوں “
” تو پھر شادی کیوں کی ? “
” بدلا لینے کے لیے کی تھی “
ذاکر ہافرہ کو پہ در پہ حیران کر رہا تھا
” کس سے بدلا لینا تھا ? “
” آپ کے سوتیلے بھائیوں سے اور آپ کی بہو حورین سے “
” ذاکر کھل کر بات کرو کون سا بدلا ?”
ذاکر نے سب کچھ تفصیل کے ساتھ ہافرہ کو بتادیا.
ہافرہ حیرانگی سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہیں تھیں.
” ذاکر تم نے یہ کیا کردیا. ماخر اور ناصر نے کچھ غلط کیا ہے یا نہیں یہ تو مجھے نہیں پتہ پر تم ان کا بدلا حورین سے کیوں لے رہے ہو? حورین کیسے ثابت کرے گی کہ وہ تمہاری بیوی ہے? “
” مجھے کیا پتہ “
” اتنی بڑی سزا کچھ تو رحم کرتے “
” مام چھوٹا سا بدلا لیا ہے بس اسے میرے جینے یا مرنے سے فرق نہیں پڑتا تھا نا تو دیکھیں اب میرے جینے یا مرنے سے سب سے زیادہ اسے ہی فرق پڑے گا.”
” تم نے اس کی پوری زندگی داؤ پر لگا دی ہے “
” مام چھوڑیں نا میرا موڈ خراب ہوجائے گا. کوئی اور بات کریں “
” میں نے تمہاری تربیت ایسے تو نہیں کی “
ذاکر خاموشی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا
” مجھے حورین سے ملنا ہے “
” کیوں ? “
” بہو ہے وہ میری چلو شاباش اٹھو اور اسے لے کر آؤ “
” مام رہنے دیں نا اس نے یہاں آکر رونا ہی ڈالنا ہے “
” رونا ڈالنے پر بھی تم نے ہی مجبور کیا ہے “
” آپ کو نیند آرہی ہے نا ? چلیں سو جائیں “
” اٹھو جلدی اور اس کو لے کر آؤ “
” مام ….”
ہافرہ نے ہاتھ کھڑا کرکے مزید بولنے سے مناکر دیا.
ذاکر ناچار اٹھ کھڑا ہوا اور موبائل اون کرکے ڈرائیور کو گاڑی لانے کا حکم دے کر باہر کی طرف بڑھا.
………
یونیورسٹی پہنچ کر ہوسٹل کا رخ کیا اور اب روم کے باہر کھڑا تھا.
دروازہ نوک ہونے پر ثمرین نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور ذاکر کو دیکھ کر ثمرین کو غصہ آنے لگا
” ہاں جی اب کیا لینے آئیں ہیں ? “
” ہانی کو لینے آیا ہوں “
” ہانی یہاں نہیں ہے “
” کہاں ہے ? “
” ہانی پاکستان چلی گئی ہے “
ذاکر نے آنکھیں سکیڑ کر کہا
” کیوں ? “
” اس کی دادی ماں کی طبیت ٹھیک نہیں تھی “
” اوہ سہی. کب تک واپس آئے گی ? “
” پتہ نہیں “
” ہانی کا نمبر ? “
ثمرین نے ہانی کا نمبر ذاکر کو لکھوا دیا.
” اللہ حافظ ” کہتے ہوئے ذاکر لفٹ کی طرف بڑھا اور ثمرین نے جلدی سے دروازہ بند کرکے ہانی کو کال ملالی.
…………..
ذاکر نے گھر کا رخ کیا.
گیٹ پر گن مین نے ہانی اور ثمرین کی آمد کی اطلاح دی ذاکر حیران پریشان سا اندر کی طرف بڑھا.
اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر لیٹ گیا
” ہانی کو کال کروں یا نا کروں ? “
سوچتے سوچتے سوگیا.
…………..
ہانی سورہی تھی کال کی آواز پر اٹھ بیٹھی اور ثمرین کا نام دیکھ کر کال پک کرلی.
” ہانی ذاکر تمہیں لینے آیا تھا “
” کیوں ? “
” یہ تو اس نے نہیں بتایا بس تمہارا نمبر لے کر چلاگیا “
” یارا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے “
” کیوں ? “
” دادی ماں کے مزاج بدلے ہوئے ہیں اور گھر میں ایک عجیب سی ہلچل ہے “
” کیا مطلب ? “
” خیر چھوڑو ذاکر دوبارہ آئے تو بتانا “
” ٹھیک ہے بتادوں گی “
ہانی کال بند کرکے واش روم کی طرف بڑھی اور منہ ہاتھ دھوکر کمرے سے نکل آئی.
دوپہر کا کھانا ڈائینگ ٹیبل پر لگایا جارہا تھا ہانی چیر کھنچ کر بیٹھ گئی اور ابھی پانی پی رہی تھی کہ فاخرہ بیگم آگئیں
” لڑکی تم سارے ادب آداب بھول گئی ہو. ام سے پہلے آج تک تمہارا باپ بھی ڈائینگ ٹیبل پر نہیں بیٹھا اور تم نے بیٹھ کر پانی بھی پینا شروع کر دیا “
ہانی پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھ کر کھڑی ہوگئی
” سوری دادی ماں وہ ام بھول گئی تھی “
” تم ام کو قدم قدم پر مایوس کررہی ہو لڑکی تم سے ام کو یہ امید نا تھی “
” دادی ماں ایسا کیا کردیا ہے ام نے صرف پانی ہی تو پیا ہے “
” لڑکی ام کے سامنے زبان نا چلاؤ “
ہانی کا دل کر رہا تھا کچھ اٹھاکر اپنے سر میں مار لے.
…………..
ہانی ذاکر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جارہی تھی ذاکر نے ہاتھ پکڑ کر روکنا چاہا مگر ہانی ہاتھ چھوڑوا کر چلی گئی.
بے چینی کی وجہ سے ذاکر کی آنکھ کھل گئی تھی اور یہ جان کر کہ ہانی کا چھوڑ جانا صرف خواب تھا ذاکر نے سکون کا سانس لیا.
ذاکر اٹھ بیٹھا اور موبائل اٹھاکر ہانی کو کال کرلی مگر ہانی کال اٹھا ہی نہیں رہی تھی.
موبائل بیڈ پر پھینک کر واش روم کی طرف بڑھا اور فریش ہوکر کپڑے چینج کرکے موبائل اٹھایا اور باہر کی طرف بڑھا.
گاڑی سٹاٹ کرنے سے پہلے ایک بار پھر سے ہانی کو کال کی مگر ہانی نے پھر سے کال نہیں اٹھائی.
…………
کھانا کھاکر ہانی روم میں آئی اور موبائل پر انجان نمبر سے سات مس کالز دیکھ کر ٹھٹھک گئی
” کہیں کال ذاکر کی تو نہیں تھی “
” ہانی کیوں دماغ پر ذاکر کو حاوی کررہی ہو. یہ بھی تو ہوسکتا ہے نا کہ کسی اور نے کال کی ہو “
ہانی نے خود کو ڈانٹا اور موبائل بیڈ پر پھینک کر بیگ کی طرف بڑھی اور بیگ کھول دیا مگر پھر ایک منٹ سے پہلے واپس بھاگ کر بیڈ پاس آئی اور موبائل اٹھاکر کال بیک کرلی.
” یہ تو نمبر ہی بند ہے “
ہانی برا سا منہ بناکر بیڈ پر بیٹھ گئی اور انجانے میں ذاکر کو سوچنے لگی.
کچھ دیر بعد ہانی نے خود کو خیالات سے آزاد کرکے سامنے دیکھا تو عامرہ کھڑی گھور گھور کر ہانی کو ہی دیکھ رہی تھی.
” کہاں کھوئی ہوئی ہو ? پچھلے آدھے گھنٹے سے کھڑی تمہارا منہ دیکھ رہیں ہوں اور تم پتہ نہیں … اوہ کہیں ذاکر کو تو نہیں سوچ رہی ہو ? “
عامرہ ذاکر کا کہتے ہوئے چھلانگ لگاکر بیڈ پر چڑگئی اور آنکھیں سکیڑ کر ہانی کو دیکھنے لگی.
ہانی پزل ہوگئی
” نہیں کیوں میں پاگل ہوں جو اس کو سوچوں گی “
عامرہ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی.
” یار ابھی ام کو آئے ہوئے ٹائم ہی کتنا ہوا ہے اور تم ذاکر کو اردگرد سے بے خبر ہوکر سوچنے لگی ہو. کہیں…”
ہانی نے عامرہ کی بات کاٹ کر افسوس سے کہا
” ہا کیسی باتیں کررہی ہو ? “
” اچھا اب جھوٹ تو نا بولو ام لکھ کر دینے کو تیار ہے تم ذاکر کو ہی سوچ رہی تھی “
ہانی نے بھی ہار مانتے ہوئے اقرار کرلیا
” ہاں اسی کو سوچ رہی تھی “
” کیوں ? کہیں پیار تو نہیں ہوگیا ? “
ہانی نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا
” پتہ ہے اس نے بھی یہی سوال کیا تھا “
عامرہ تو بے ہوش ہونے والی ہوگئی اور زور سے ہانی کو ہلایا
” ہانی ہوش میں آؤ. اس نے تمہاری دنیا اجاڑ دی ہے اور تم کیسے ناکام عاشقوں کی طرح اس کو سوچ رہی ہو “
ہانی نے عامرہ کے چوٹکی کاٹی اور بیڈ سے اتر گئی
” اللہ اللہ اب ایسی بات بھی نہیں ہے “
” اچھا پھر کیسی بات ہے ? “
” ثمرین کی کال آئی تھی اس نے بتایا کے ذاکر ام کو لینے آیا تھا مگر ام کی غیر ماجودگی کی وجہ سے ام کا نمبر لے کر چلاگیا اور جب ام کھانا کھاکر آیا تو انجان نمبر سے سات مس کالز آئیں ہوئیں تھیں. ام نے کال بیک کی تو نمبر بند تھا. اس لیے جانے انجانے میں ذاکر کو سوچنے لگی “
” اوہ تو یہ بات ہے “
” ہاں بس یہی بات ہے “
” نمبر دیکھاؤ ام کے پاس بھی ذاکر کا ایک نمبر ہے “
ہانی نے موبائل عامرہ کی طرف بڑھایا
” نہیں یہ نمبر تو ام کے پاس نہیں ہے “
” اچھا ہوسکتا ہے کوئی اور ہو پھر ” ہانی نا چاہتے ہوئے بھی اداس ہوگئی
عامرہ بیڈ سے اترگئی اور دروازے پاس جاکر کہا
” تم مانو یا نا مانو تمہیں ذاکر سے پیار ہوگیا ہے “
اور باہر بھاگ گئی.
ہانی ہنستے ہوئے بیگ کی طرف بڑھی اور سارا سامان بیگ سے نکال کر الماری میں رکھنے لگ گئی.
………..
ذاکر نے ہانی کے کال نا اٹھانے پر موبائل اوف کرکے دوسرا موبائل نکال لیا اور ادریس کی سیکڑی جویریہ کو کال کرلی
” ہائے جینی “
جینی ادریس کی پرسنل سیکڑی تھی اور جب بھی ذاکر ادریس کے اوفس جاتا تھا تو جینی ذاکر پر ڈورے ڈالنے کی پوری کوشش کرتی تھی.
” ہائے مسٹر ہنڈسم آج کیسے کال کرلی ? “
” وہ دراصل مجھے تم سے ملنا ہے پرسنلی “
جینی بے ہوش ہونے والی ہوگئی
” کب ? “
” جب تم چاہو “
” آدھے گھنٹے بعد مل سکتے ہیں ? “
” اوکے لوکیشن سینڈ کرو “
جینی لوکیشن سینڈ کرکے اٹھ کر ناچنے لگی پھر خود کو کنڑول کیا اور میک اپ وغیرہ ٹھیک کرکے اوفس سے نکل آئی.
ذاکر کال بند کرکے ہنسنے لگا
” سوری جینی پر اس کے علاوہ فل حال کوئی اور راستہ نہیں تھا “
اور جینی کہ بتائی ہوئی لوکیشن کا رخ کیا.
ذاکر کے پہنچنے سے پہلے ہی جینی ہوٹل میں پہنچ چکی تھی ذاکر چلتا ہوا جینی والے ٹیبل پر آیا. گلاسسز ٹیبل پر رکھ کر کرسی کھنچی اور بیٹھ گیا. وائیس ریکارڈر ( voice recorder) اون کرکے اردگرد کا جائزہ لینے لگا.
” کیا دیکھ رہے ہو ? “
ذاکر نے جینی کہ طرف دیکھا اور کہا
” کچھ نہیں ” اور جینی کی ہاتھوں سے اس کے اندر کا حال جاننے کی کوشش کرنے لگا. جینی بار بار ہاتھوں کی آنگلیوں کو مڑوڑ رہی تھی ذاکر سمجھ گیا کہ جینی اس وقت کنفیوز اور پریشان ہے.
” ذاکر کچھ بولو بھی “
” مجھے تمہاری مدد چاہیے. میری مدد کرو گی ? “
جینی نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا
” کس قسم کی مدد? “
” ڈیڈ انگلینڈ کب تک آئیں گے? “
جینی کنفیوز ہوگئی
” سر تو کہیں گئے ہی نہیں ہیں “
” کیا مطلب ? ” ذاکر حیران رھ گیا
” اب اتنے آسان الفاظ کا مطلب کیسے بتاؤں ? “
” یعنی تم کہنا چاہتی ہو کہ ڈیڈ انگلینڈ میں ہی ہیں “
” ہاں بلکل “
” اوہ ” ذاکر کے منہ سے بے اختیار نکلا
” کیا ہوا ? “
” نہیں کچھ نہیں “
” بس یہی پوچھنا تھا ? “
” نہیں. ایک کام کرو گی ? “
” کیا ? “
” کل کسی نا کسی طرح تم ڈیڈ کو اوفس سے دور لے جاؤ “
” کیوں ? “
” ساری امپورٹنٹ فائلز ڈیڈ کے اوفس میں ہی ہوتیں ہیں نا ? “
” Handsom any problem ? “
” little bit “
” کیا ? “
” سوری ڈیر نہیں بتاسکتا. تو کیا تم میرا کام کرو گی ?”
جینی نے گہرا سانس خارج کیا
” اوکے آئی ڈو “
ذاکر کے چہرے پر مسکراہٹ ابھر آئی.
” گڈ اینڈ تھنکس “
جینی نے ہلکی سی سمائل ذاکر کی طرف اچھالی
” تم نے جواب نہیں دیا. کیا ساری امپورٹنٹ فائلز ڈیڈ کے اوفس میں ہی ہوتیں ہیں ? “
” ہاں وہیں ہوتیں ہیں “
” اوکے اور ایک بات جب ڈیڈ کو لے کر جاؤ تو مس بیل دے دینا “
” ٹھیک ہے اور کچھ ? “
” نہیں بس اتنا ہی کافی ہے اور اس میٹنگ کا تمہارے اور میرے سوا کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے “
” ٹھیک ہے “
” اوکے اب میں چلتا ہوں ” اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا.
جینی بھی اٹھ کر کھڑی ہوئی اور ہاتھ ملا کر باہر کی طرف بڑھی. ذاکر نے دور کھڑے گارڈ کو آنکھوں سے جینی کا پیچھا کرنے کا اشارہ کیا اور ریکارڈنگ سیو کرکے ہنستے ہوئے ٹیبل سے گلاسسز اٹھاکر باہر کی طرف بڑھا.
…….
ہوسپٹل پہنچ کر روم میں داخل ہوا اور ہافرہ کو سوتے ہوئے دیکھ کر باہر آگیا. موبائل اون کرکے ہانی کو کال کی مگر ہانی کا نمبر بزی جارہا تھا. ذاکر کو غصہ آنے لگا
” ٹھیک ہے کال نہیں اٹھانی تو نا اٹھاؤ. میں بھی مری نہیں جارہا تم سے بات کرنے کو “
اور غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے گہرے سانس لینے لگا. خود کو نارمل کیا اور واپس روم میں آگیا.
………
( انگلینڈ پاکستان سے چار گھنٹے پیچھے ہے. انگلینڈ میں ابھی شام ہوئی تھی جبکہ پاکستان میں رات ہوچکی تھی ) رات ہوچکی تھی ہانی کو ڈر لگ رہا تھا اس لیے عامرہ کو کال کرلی
” ہانی تم ٹھیک ہو ? “
” ہاں ٹھیک ہی ہوں. عامرہ مجھے ڈر لگ رہا ہے “
” کیوں ? “
” گھر میں سب لوگ کچھ نا کچھ چھوپا رہے ہیں کہیں انھوں نے ام کی اور ذاکر کی کافی شاپ والی تصویر تو نہیں دیکھ لی “
” یار اوی ڈر رہی ہو کچھ بھی نہیں ہے “
” عامرہ ….”
کال کی آواز پر ہانی بات کرتی ہوئی رک کر نمبر دیکھنے لگی
” ہاں بولو بھی “
” اُسی نمبر سے کال آرہی ہے “
” تو پک کرلو نا “
” پر کال آنی تو بند ہوگئی ہے “
” تم خود کال کرلو “
” اچھا ٹھیک ہے تم سے بعد میں بات کرتی ہوں “
” اوکے “
ہانی نے عامرہ کی کال بند کرکے نمبر پر کال بیک کرلی مگر نمبر بند تھا
” اووووف میرے خدایا یہ کون ہے ? “
ہانی کو غصہ آ رہا تھا موبائل ٹیبل پر پھینکا اور سونے کی کوشش کرنے لگی.
…….
ذاکر روم میں داخل ہوا اور ہافرہ کو جاگتے دیکھ کر کہا
” مام آپ کی بہو پاکستان گئی ہوئی ہے “
” کیوں خیریت ? “
” آپ کی سوتیلی والدہ کی طبیت ٹھیک نہیں ہے “
” کیا ہوا انہیں ? “
ذاکر نے کندھے اچکا کر لالمی کا اظہار کیا
ہافرہ گہرا سانس لے کر رھ گئیں.
” مام آپ نے کبھی گاؤن پہنا ہے ? “
” تم کیوں پوچھ رہے ہو ? “
” مجھے چاہیے “
ہافرہ کا منہ کھل گیا
” کیوں خیریت ? “
” کل پہننا ہے “
ہافرہ ہنسنے لگیں
” ذاکر مزاق نا کرو “
” مام میں بلکل سنجیدہ ہوں “
” کیوں پہننا ہے ? “
” آپ کے پاس ہے کے نہیں یہ بتائیں ? “
” ہاں ہے میرے پاس “
” کہاں ہے ? “
” وہ سامنے والی الماری میں ہی ہے “
” اوکے “
ذاکر نے الماری کھولی اور گاؤن ڈھونڈ کے دیکھا اور واپس رکھ دیا.
” ذاکر تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے ? “
” مام آپ کو خودی پتہ چل جائے گا بس تھوڑا سا انتظار کرلیں “
ہافرہ نے کچھ نہیں کہا
ذاکر چیر پر آکر بیٹھ گیا اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا.
…….
اگلے دن جینی کی کال پر ذاکر نے الماری میں سے گاؤن نکالا اور پہن لیا.
ہافرہ کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا اور ہافرہ کو ہنستے ہوئے دیکھ کر ذاکر کے اندر تک سکون پھیل گیا.
” مام میں جارہا ہوں “
اور ہافرہ کے ہاتھ پر بوسہ دے کر چہرہ پر نقاب گرا لیا. ہافرہ کا پرس نکالا اور اس میں موبائل اور کچھ پیسے رکھ لیے. پھر جوتا نکال کر پہنتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا.
…….
ادریس کی کمپنی کے سامنے ٹیکسی رکنے پر ذاکر نے پیسے دیے اور ٹیکسی سے نکل آیا.
” اللہ اللہ پتہ نہیں عورتیں کیسے گاؤن پہن کر چل لیتیں ہیں مجھے لگ رہا ہے ابھی گر جاؤں گا “
ذاکر خود سے باتیں کرتا ہوا اوفس میں داخل ہونے لگا مگر گارڈ نے راستہ روک لیا
” ID card ? “
ذاکر نے پرس میں سے فون نکال کر جینی کو کال کی اور ساری تفصیل بتاکر موبائل گارڈ کی طرف بڑھایا.
کال سن کر گارڈ نے اندر جانے کی اجازت دے دی.
ذاکر اندر کی طرف بڑھا اور سب کو اپنا اپنا کام کرتا دیکھ کر جینی کے کیبن میں آگیا. دراز سے اوفس کی چابی نکال کر اوفس میں گھس کر دروازہ لاک کرلیا.
نقاب اتار کر ٹیبل پر رکھا اور اوفس میں موجود ہر فائل کا جائزہ لینے لگا بلآخر دو فائلز ذاکر کے کام کی مل گئیں.
ذاکر فائلز کو لے کر اوفس سے نکل آیا اور اوفس کی چابی واپس دراز میں رکھ کر بلڈنگ سے نکل گیا.
بیگ سے فون نکال کر چلتے ہوئے کافی دور نکل آیا اور ڈرائیور کو کال کرکے بلالیا.
گاڑی میں بیٹھ کر گاؤن اتارا اور گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے ایک بار پھر سے فائلز کا جائزہ لیا اور ڈرائیور کو پولیس اسٹیشن کا رخ کرنے کا حکم دے کر سر سیٹ کی بیک پر رکھ کر آنکھیں بند کرلیں.
پولیس سٹیشن کے سامنے اترنے سے پہلے ہافرہ کے جوتے اتار کر اپنے جوتے پہنے اور شیشے میں خود کا جائزہ لے کر فائلز اٹھائیں اور گاڑی سے نکل آیا.
ذاکر کو دیکھ کر گارڈ نے جلدی سے دروازہ کھول دیا اور ذاکر اندر کی طرف بڑھا.
ذاکر سیدھا ناری کے اوفس میں داخل ہوا اور ناری ذاکر کو دیکھ کر کھڑا ہوگیا.
” خیریت آج اس غریب خانے میں ذاکر شاہ نے قدم رکھے ہیں ? “
ذاکر ہنستے ہوئے سلام لے کر چیر پر بیٹھ گیا اور دونوں فائلز ناری کی طرف بڑھائیں.
” یہ کیا ہے ? “
” ادریس شاہ کی بربادی “
” ادریس تو تمہارے والد کا نام ہے نا “
” ہاں بد قسمتی سے “
ناری فائلز کھول کر دیکھنے لگا اور ناری کی آنکھیں فل کھل گئیں
” یہ ایلیگل ڈرگ ڈیلز کے پیپرز تمہیں کہاں سے ملے ? “
ذاکر نے سارا کچا چٹھا ناری کے سامنے کھول دیا
ناری نے افسوس کے ساتھ کہا
” یار انکل نے اچھا نہیں کیا پر تم ان کو معاف بھی تو کرسکتے ہو نا “
” تم اچھے سے جانتے ہو کے میں کسی کو معاف نہیں کرتا “
” پر یہ تو تمہارے والد ہیں ان کو تو ….”
ذاکر نے ہاتھ کھڑا کرکے مزید بولنے سے روک دیا
” میرے لیے سب برابر ہیں “
” ایک بار پھر سے سوچ لو “
” سوچ کر ہی آیا ہوں “
” ٹھیک ہے “
” کل ڈیڈ کی ایک فارنر سے میٹنگ ہے تو اسی وقت ان کو اریسٹ کرلینا “
” ٹھیک ہے. یار ایک بار پھر سے سوچ لو “
” اللہ حافظ کل ملتے ہیں “
ذاکر ہاتھ ملا کر باہر کی طرف بڑھا.
……..
ہانی صبح منہ ہاتھ دھوکر کمرے سے نکل آئی اور گھر میں عجیب سی ہل چل محسوس ہوئی.
ہانی نے عامرہ کے کمرے کا رخ کیا اور عامرہ کے کمرے میں پھوپھو کو دیکھ کر ہانی بھاگ کر پھوپھو کے گلے لگ گئی
” ہائے اللہ آپ کب آئیں ? “
” جب تم سو رہی تھی “
آخرہ نے ہانی کے ماتھے پر بوسہ دیا.
ہانی بیڈ پر چڑگئی
” عبداللہ بھی آیا ہے ? “
” ہاں خان کے ساتھ باہر گیا ہے “
خان کے نام پر ہانی کے ہلک تک کڑواہٹ پھیل گئی.
…….
ذاکر واپس ہوسپٹل میں آ گیا اور ہافرہ کو گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے دیکھ کر کہا
” مام جب سے میں گیا ہوں آپ تب سے ایسے ہی بیٹھیں ہیں ? “
” ذاکر میں پاکستان جانا چاہتی ہوں “
ذاکر ہافرہ کی گود میں سر رکھ کر بیڈ پر لیٹ گیا
” کیوں ? “
” ذاکر پلیز مجھے پاکستان میں دفن کرنا “
ذاکر تڑپ اٹھا
” مام آپ کیسی باتیں کررہیں ہیں “
” ذاکر وہاں ہمارا خاندانی قبرستان ہے جس میں سب دفن ہیں میں بھی وہیں دفن ہونا چاہتی ہوں “
” مام پلیز ایسی باتیں مت کریں میرا ہاٹ فیل ہوجائے گا “
” ذاکر مجھے پاکستان جانا ہے “
” ٹھیک ہے مگر آپ دوبارہ ایسی باتیں نہیں کریں گیں “
” اوکے “
ذاکر اٹھ بیٹھا اور کل شام کی سیٹس بک کروالیں.
…….
اگلی صبح ناری کو ذاکر نے لوکیشن سینڈ کرکے جلدی آنے کو کہا اور سب کچھ سمجھا دیا کہ پہلے میں جاؤں گا پھر کال کروں گا اور ادریس شاہ کو آکر اریسٹ کرلینا.
ہوٹل کے باہر ناری سے مل کر ذاکر اندر کی طرف بڑھا.
ذاکر چلتا ہوا ادریس شاہ کے ٹیبل پاس آکر کھڑا ہوا اور چیر کھنچ کر بیٹھتے ہوئے گلاسسز ٹیبل پر رکھ دیے.
” Sorry Dad but Its time to show u my evil side “
ادریس نے سامنے بیٹھے کلائینڈ کو دیکھا اور پھر ذاکر کی طرف دیکھ کر کہا
” تم یہاں کیا کررہے ہو ? اور کیوں آئے ہو ? “
ذاکر طنزیا ہنستے ہوئے تھوڑا سا ادریس کی طرف جھکا اور کہا
” ڈیڈ جو آپ نے زندگی بھر کمایا ہے اس کا آجر دینے آیا ہوں “
” ذاکر میں تمہارا باپ ہوں “
” ادریس صاحب میں شرمندہ ہوں کہ آپ میرے باپ ہیں “
ذاکر نے یس کا بٹن پریس کیا اورساری پولیس ہوٹل میں داخل ہوکر ادریس کی طرف بڑھی.
” put ur hands up “
ادریس نے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے ہاتھ اوپر کیے اور کہا
” ذاکر مجھے اتنی نفرت سے نا دیکھو میں ….”
ذاکر نے ہاتھ کھڑا کرکے مزید بولنے سے روک دیا
” جس دن آپ کی سزا پوری ہوجائے گی اس دن کے بعد آپ میری آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نہیں دیکھیں گے. تب تک کے لیے اللہ حافظ “
اور چیر سے اٹھ کر اپنے گلاسسز اٹھاکر باہر کی طرف بڑھتے ہوئے گلاسسز پہننے سے پہلے اپنے آنسوں صاف کرلیے.
گاڑی میں بیٹھ کر ذاکر نے گھر کا رخ کیا.
گھر میں داخل ہوکر تیز تیز چلتے ہوئے اپنے روم میں انڑ ہوا اور زار و قطار روتے ہوئے بیڈ سے ٹیک لگاکر نیچے بیٹھ گیا.
کافی دیر رونے کے بعد اچانک گھڑی پر نظر پڑتے ہی اٹھ کھڑا ہوا. بیگ پیک کرکے کپڑے چینج کیے اورگھر سے نکل آیا.
…….
ہافرہ ٹی وی پر ادریس کے اریسٹ ہونے کی خبر سن کر ساکت رھ گئیں ” تو ذاکر پچھلے دو تین دن سے اس لیے بھاگ دوڑ کررہا تھا “
ذاکر روم میں انڑ ہوا اور ہافرہ کو ٹی وی پر نیوز سنتے دیکھ کر ہافرہ کی طرف بڑھا اور ہافرہ کو ساتھ لگا لیا.
” ذاکر ….”
ذاکر نے ہافرہ کی بات کاٹ کر کہا
” مام ہم لیٹ ہورہے ہیں. میں ڈسچارج پیپرز ریڈی کروا کر آتا ہوں تب تک آپ تیار ہوجائیں “
اور باہر کی طرف بڑھا.
ہافرہ کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے
” ادریس بہت منا کیا تھا تمہیں مگر تم نے ناجائز کمانا نہیں چھوڑا اور دیکھو آج تمہارے بیٹے نے تمہیں اریسٹ کروا دیا “
ہافرہ آنسوں صاف کرکے بیڈ سے اتر کر واش روم کی طرف بڑھیں.
……….
ذاکر اور ہافرہ پاکستان پہنچ کر پشاور روانہ ہوگئے تھے.
پشاور پہنچ کر ہافرہ نے اپنے پرانے گھر کا آڈریس بتایا اور پرانی ملازمہ کو فون کرکے گھر صاف کرنے کا کہہ کر ہافرہ نے سیٹ کی پشت پر آنکھیں بند کرکے سر رکھ لیا.
کچھ دیر بعد آنکھیں کھولیں اور اپنا خاندانی قبرستان دیکھ کر ذاکر سے کہا
” پتہ ہے یہ قبرستان بہت پرانا ہے نسل در نسل ہر شخص جو دنیا سے رخصت ہوچکا ہے وہ اس قبرستان میں دفن ہے. بیٹا مجھے بھی اسی قبرستان میں دفنانا “
” مام آپ پھر سے ایسی باتیں کرنے لگیں ہیں “
ہافرہ ہنسنے لگیں.
گھر پہنچ کر ذاکر آرام کرنے کے لیے روم میں جاکر سوگیا.
صبح ذاکر کی آنکھ شور پر کھلی دروازہ زور زور سے بجایا جارہا تھا ساتھ میں ملازمہ کی آواز آرہی تھی
” صاحب جی بی بی جی کو پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے “
ذاکر نے بیڈ سے اٹھ کر جلدی سے دروازہ کھولا
” صاحب جی وہ بی بی جی “
ذاکر بھاگتے ہوئے ہافرہ کے کمرے میں داخل ہوا اور ہافرہ کو آنکھیں بند کیے بیڈ پر چت لیٹے دیکھ کر بھاگ کر ہافرہ کو زور زور سے ہلانے لگا مگر ہافرہ دم توڑ چکیں تھیں.
ذاکر زندگی میں پہلی بار چیخ چیخ کر رو رہا تھا.
شام کے وقت جنازہ پڑھایا گیا اور ہافرہ کو خاندانی قبرستان میں دفنا دیا گیا.
. ………
فاخرہ نے ہانی کو اپنے کمرے میں آنے کا بلاوا بھیجا تھا اور ہانی اتنے دونوں کے بعد فاخرہ کے بلاوے پر جلدی جلدی فاخرہ کے روم کی طرف بڑھی.
” دادی ماں آپ نے بلایا ? “
” ہاں آجاؤ لڑکی “
ہانی فاخرہ کے پاس جاکر بیٹھ گئی.
” لڑکی آج شام کو تمہارا نکاح خان سے کردیا جائے گا “
ہانی کو پیروں کے نیچے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی
” دادی ماں …”
فاخرہ نے ہاتھ کھڑا کرکے مزید بولنے سے روک دیا
” اپنے کمرے میں جاؤ “
ہانی لڑکھڑاتے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی اور کمرے میں آکر دروازہ بند کرکے دروازے ساتھ بیٹھتی چلی گئی. عامرہ تک جب یہ خبر پہنچی عامرہ بھاگتے ہوئے ہانی کے روم میں آئی.
” ہانی دروازہ کھولو “
ہانی نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور روتے ہوئے عامرہ کے گلے لگ گئی.
” ہانی بھاگ جاؤ “
” یہ تم کیا کہہ رہی ہو “
” ہانی سب لوگ اس وقت گھر سے حویلی کی طرف روانہ ہوچکے ہیں سہی وقت ہے بھاگ جاؤ. اگر کسی کو پتہ چل گیا کہ تم ذاکر سے شادی کرچکی ہو تو ….”
عامرہ کی بات پوری ہونے سے پہلے دروازہ جھٹکے سے کھلا اور خان کڑے تیور لیے ہوئے ہانی کی طرف بڑھا اور عامرہ کو پیچھے ہٹا کر ہانی کو کھنچتے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھائے. عامرہ ہانی کو چھوڑوانے کی کوشش کرنے لگ گئی مگر خان کے تھپڑ سے عامرہ لڑکھڑا کر گری اور عامرہ کے سمبھلنے سے پہلے خان ہانی کو کھنچتے ہوئے کمرے سے نکل گیا اور کمرے کو باہر سے لاک کرکے چابی جیب میں ڈال لی.
ہانی کے آنسوں ابل ابل کر باہر آرہے تھے
” خان ام کو چھوڑو “
ہانی چیخ رہی تھی خان ہانی کو کھنچتے ہوئے گاڑی تک لایا اور پچھلا دروازہ کھول کر دھکا دیا ہانی کا سر دروازے سے لگا اور ہانی ہوش و ہواس سے بے گانی ہوگئی.
خان نے موبائل نکال کر اپنے دو دوستوں کو کال کی اور تابوت کے ساتھ خاندنی قبرستان میں پہنچنے کو کہا
قبرستان پہنچ کر خان نے ہانی کو گاڑی سے نکالا اور ہانی کو بازوں میں اٹھائے ہوئے اندر کی طرف بڑھا.
خان کے دوست تابوت کے ساتھ قبرستان پہنچ چکے تھے.
” خان لالہ یہ …..”
خان نے گرج دار آواز میں کہا
” قبر کھودو اور تابوت اندر رکھو “
دونوں ڈر کے مارے قبر کھودنے لگے اور قبر کھود کر اس میں تابوت رکھ دیا. خان نے ہانی کو تابوت میں لیٹا کر تابوت بند کرتے ہوئے کہا
” حورین خان ام نے کہا تھا نا زبان سے پھرتا ہوں نا پھرنے دیتا ہوں. تم زبان دے کر پھر گئی اور اب ام نے تم کو بولنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا “
خان نے مٹی ڈالنے کا اشارہ کیا.
دونوں جلدی جلدی مٹی ڈالنے لگے.
سانس سہی سے نا آنے کی وجہ سے ہانی ہوش میں آگئی اور زور زور سے ہاتھ پیر مارنے لگی.
…
ذاکر روتے روتے سو گیا تھا اور اچانک سوئے ہوئے ہی ذاکر کو اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوا ذاکر فورن سے گلہ پکڑ کر اٹھ بیٹھا.
جاری ہے 
