Ishq Ka Samandar by Umme Laila NovelR50748 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode13
No Download Link
513.7K
15
Rate this Novel
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode01 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode02 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode03 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode04 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode05 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode06 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode07 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode08 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode09 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode10 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode11 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode12 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode13 (Watching)Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode14 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Last Episode
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode13
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode13
ہانی نے ذاکر کا سارا سامان ساتھ والے روم میں شفٹ کردیا اور ذاکر کا روم اپنے لیے سیٹ کرلیا تھا.
ذاکر رات کو واپس گھر آیا اور اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھائے.
ہانی کو اپنے بیڈ پر سوئے ہوئے دیکھ کر حیران رھ گیا.
” ہوسکتا ہے ہانی نے الگ روم لینے کا فیصلہ بدل لیا ہو ” کہتے ہوئے ذاکر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا اور وارڈ روب کھولی.
وارڈ روب میں صرف ہانی کے ڈریس دیکھ کر کنفیوز ہو گیا.
” میرے ڈریس ? “
اردگرد دیکھا تصویریں بھی غائب تھیں.
” ہاہ یہ کیا ? میری تصویریں کہاں گئیں ? “
ذاکر ڈریسنگ روم سے نکل کر بیڈ پاس آکر کھڑا ہوگیا اسی لمحے ہانی نے کروٹ بدلی.
ہانی کے چہرے پر سجی معصومیت دیکھ کر ذاکر کی سانس ساکن ہوگئی اور ہانی کی آنکھ کے نیچے براؤن تل پر نظر اٹک گئی.
کچھ دیر دیکھنے کے بعد ذاکر نے ہاتھ بڑھا کر تل کو چھوا. ہانی ذاکر کا لمس پاکر کسمسائی اور ہانی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی.
” یہ سمائل کیوں کررہی ہے ? کہیں خواب میں اس لڑکے… ” ذاکر بولتا بولتا چپ ہوگیا اور غصے سے ہانی کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا.
ہانی ہڑبڑا کر اٹھی اور ذاکر کو ماتھے پر بل ڈالے بیڈ پاس کھڑے دیکھ کر غصے میں آگئی.
” کیا مسلہ ہے ? “
” تم سوتے ہوئے سمائل کیوں کر رہی تھی ? ” ذاکر نے آنکھیں سکیڑ کر سوال کیا
” ہاہ اب آپ ام کی سمائل پر بھی پابندی لگاؤ گے “
” مجھے بتاؤ تم سمائل کیوں کررہی تھی ? “
” اووووف ذاکر ام کو کیا پتہ ام تو سو رہا تھا ” ہانی نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا
ذاکر ہانی کو گھورنے لگا
” اس لیے اٹھایا تھا ? ” ہانی نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روکتے ہوئے کہا
” میرے ڈریسز کہاں ہیں ? “
” آپ کے کمرے میں ہیں “
” میرے کمرے میں ? ” ذاکر نے خود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
” جی “
“مگر وارڈ روب میں تو صرف تمہارے ڈریس ہیں “
” آپ کے ڈریس آپ کے کمرے میں ہیں یہ ام کا کمرہ ہے “
ذاکر کا منہ کھلا رھ گیا
” یہ میرا کمرہ ہے ” ذاکر نے غصے سے کہا
” ہے نہیں تھا. اب یہ ام کا ہے “
ذاکر ہانی کو گھورنے لگا
” یہ میرا کمرہ ہے “.
ہانی بیڈ سے اترگئی اور ذاکر کی طرف قدم بڑھانے لگی
” یہ اب ام کا کمرا ہے آپ کا کمرہ ساتھ والا ہے “
ذاکر اچانک رک گیا ہانی ذاکر کے سینے سے جالگی. ذاکر نے جھک کر ہانی کو اٹھایا اور دروازے کی طرف قدم بڑھائے. ہانی ذاکر کے بازؤں سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی.
” ذاکر ام کو نیچے اتارو ” ہانی نے ذاکر کا کالر پکڑ کر کہا
ذاکر چپ چاپ کمرے سے نکلا اور ساتھ والے کمرے کے دروازے کو پاؤں سے کھول کر اندر داخل ہوا.
بیڈ پاس جاکر بازو ہٹائے ہانی بیڈ پر گرگئی.
” وہ میرا کمرہ ہے الگ رہنے کا شوق ہے تو یہاں رہو “
” ذاکر… “
” اب کچھ کہا نا تو …”
ذاکر وارن کرتا ہوا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا اور نائٹ ڈریس نکال کر ہانی کو دیکھتے ہوئے کمرے سے نکل گیا.
” پتہ نہیں یہ کیا چیز ہے ? اچھی بھلی سو رہی تھی مگر ہضم ہی نہیں ہوتا اس سے ” ہانی کمبل اوٹھ کر لیٹ گئی
” اگر ام کو اس سے ڈر نا لگتا ہوتا تو ام آج اس کو اچھے سے سبق سکھاتا “
ہانی بڑبڑاتے ہوئے سوگئی.
ذاکر ڈریس چینچ کرکے بیڈ پر لیٹ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا مگر نیند کی دیوی مہربان ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی.
ذاکر بیڈ سے اتر کر ہانی کے کمرے کی طرف بڑھا ہانی بے خبر سو رہی تھی.
ہانی کے برابر لیٹ کر ہانی کو کھنچ کر اپنے بازؤں میں چھپالیا اور پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے ہانی نے جھٹ سے آنکھیں کھول لیں اور خود کو ذاکر کے حصار میں دیکھ کر تڑپ اٹھی
” ذاکر ام کو چھوڑو “
” نہیں “
ہانی خود کو چھوڑوانے کی کوشش کرنے لگی.
ہانی نے جی جان لگاکر بازو ہٹانے کی کوشش کی مگر بے سود.
” ذاکر …. “
ذاکر نے گرفت مظبوط کرکے کان میں سرگوشی کی
” Aşkım ” ( My love )
” مطلب ? “
ذاکر نے ہنستے ہوئے ہانی کو چھوڑ دیا. ہانی شرٹ سیدھی کرتی ہوئی تھوڑی دور ہوکر لیٹ گئی.
” آپ ام کے کمرے میں کیوں آئے ہیں ? “
” منے نیند کونو آوے ہے “
” ذاکر اردو میں بات کریں یہ آپ کیا بولی جارہے ہیں ? “
” مجھے نیند نہیں آرہی تھی تو میں نے سوچا تمہاری نیند بھی اڑا کر آتا ہوں “
ذاکر کی بات سن کر ہانی نے آنکھیں بند کرلیں اور سونے کی کوشش کرنے لگی.
” ہانی پلیز سونا مت “
” ام کو نیند آ رہی ہے آپ بھی اپنے کمرے میں جاکر سوجائیں “
ذاکر برے برے منہ بناتا ہوا بیڈ سے اترگیا اور اپنے کمرے میں آکر لیپ ٹاپ اون کرلیا. لیپ ٹاپ چلاتے چلاتے ذاکر دیوان پر ہی سوگیا.
………
ذاکر کے کمرے سے نکلتے ہی ہانی نے اٹھ کر جلدی سے دروازہ لاک کرلیا کہ کہیں پھر سے ذاکر نا آجائے اور سونے کے لیے لیٹ گئی.
صبح ہانی کی آنکھ کھلی اور ٹائم دیکھ کر ہانی چھلانگ لگا کر بیڈ سے اتر گئی
” اووووف اتنا زیادہ ٹائم ہوگیا ہے ذاکر تو یونیورسٹی چلے گئے ہوں گے “
ہانی جلدی جلدی تیار ہوکر ذاکر کے کمرے میں چلی آئی ذاکر گود میں لیپ ٹاپ رکھے بے خبر سورہا تھا.
” آئی ذاکر سوتے ہوئے کتنا کیوٹ لگ رہا ہے “
ہانی بغیر آواز پیدا کیے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی دیوان پاس آکر کھڑی ہوگئی اور لیپ ٹاپ اٹھاکر ٹیبل پر رکھ دیا.
” ہائے اللہ دل کر رہا ہے ذاکر کو ہی دیکھی جاؤں کتنا معصوم لگ رہا ہے “
ہانی آنکھوں میں پیار سموئے پچھلے آدھے گھنٹے سے کھڑی ذاکر کو دیکھ رہی تھی اور دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز پر اچھل پڑی
” اللہ اللہ ڈرا کے رکھ دیا “
ہانی دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول دیا
” صاحب جی ? “
” سو رہے ہیں “
” وہ ناری آیا ہے صاحب جی سے ملنے “
ہانی نے رستہ چھوڑ کر اندر آنے کا اشارہ کیا
” آپ خود اٹھا دیں بی بی جی “
ہانی نے سر ہلایا اور کمرے کا دروازہ بند کرکے ذاکر کی طرف قدم بڑھائے
” ذاکر اٹھ جائیں ناری نامی شخص آپ سے ملنے آیا ہے “
” ہممم ” کہہ کر ذاکر نے کروٹ بدل لی اور پھر سے سوگیا. ہانی ذاکر کے بالوں کو چھیڑنے لگی. بالوں میں انگلیوں کا لمس محسوس ہونے پر ذاکر نے آنکھیں کھول لیں اور ہانی کو بال چھیڑتے ہوئے دیکھ کر حیران رھ گیا
” ہانی “
ہانی جلدی سے پیچھے ہٹی
” وہ دراصل کوئی ناری نامی شخص آپ سے ملنے آیا ہے “
ناری کا نام سن کر ذاکر اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے.
ہانی خاموشی سے ذاکر کو جاتا ہوا دیکھ رہی تھی.
” بی بی جی کھانا ڈائینگ ٹیبل پر لگا دیا ہے “
” ہاں ٹھیک ہے “
ہانی نیچے کی طرف بڑھی اور ڈائینگ ٹیبل پر ذاکر کے ساتھ ایک اجنبی لڑکے کو دیکھ کر کنفیوز ہوگئی.
” ڈائینگ ٹیبل پر جاؤں یا نا جاؤں ? “
” اوووف ام نے تو ذاکر سے وعدہ کیا ہوا ہے ” ہانی جلدی سے واپس سیڑیاں چڑ کر اوپر آگئی.
” ذاکر انکل کے بارے میں مجھے کچھ ضروری بات کرنی تھی ” ناری نے ڈرتے ڈرتے کہا
ذاکر نے سوالیا نظروں سے ناری کو دیکھنے لگا
” وہ دراصل انکل کی طبیت خراب رہنے لگی ہے اکثر بے ہوش ہوجاتے ہیں اور اکثر پاگلوں کی طرح خود سے گفتگو کرنے لگتے ہیں ہر وقت ان کی زبان پر تمہارا نام رہتا ہے ذاکر پلیز انہیں معاف کرکے جیل سے نکلوا لو “
ذاکر خاموشی سے ڈائینگ ٹیبل سے اٹھ گیا.
” ذاکر کچھ تو کہو ” ناری نے بے بسی سے کہا مگر ذاکر خاموشی سے سیڑیاں پار کر گیا.
ذاکر کمرے میں داخل ہوا اور ہانی کو کمرے میں پاکر ٹھٹکا.
” کوئی کام تھا ? ” ذاکر نے موبائل بیڈ پر پھینک کر ہانی سے سوال کیا ” آج یونیورسٹی نہیں جانا ? “
” میرا موڈ نہیں ہے تم چلی جاؤ “
ہانی کا منہ کھلا رھ گیا
” یہ کیا بات ہوئی موڈ نہیں ہے ? “
ذاکر شرٹ اتار کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا اور زور سے دروازہ بند کیا. ذاکر کے موبائل پر کال آنے لگی
” ذاکر آپ کے موبائل پر کال آرہی ہے “
” یس کرکے سپیکر اون کردو “
ہانی نے کال یس کرکے سپیکر اون کر دیا
” ذاکر کچھ تو رحم کھاؤ وہ تمہارے والد ہیں اگر ان سے غلطی ہوگئی ہے تو تم معاف بھی تو کرسکتے ہو نا جیل میں وہ کچھ دن اور رہے تو مر جائیں گے ” ناری نے افسردہ لہجے میں کہا ذاکر فٹافٹ ڈریسنگ روم سے نکل آیا.
ہانی ناری کی بات سن کر حیران رھ گئی
ذاکر نے بیڈ سے موبائل اٹھاکر سپیکر اوف کردیا
” ناری اس ٹوپک پر پھر کبھی بات کریں گے ابھی میں کال بند کرنے لگا ہوں ” اور ناری کے بولنے سے پہلے کال بند کردی.
” ذاکر آپ کے بابا آپ کی وجہ سے جیل گئے ہیں ? “
ذاکر نے مڑ کر دیکھا
” نہیں وہ اپنی وجہ سے جیل گئے ہیں “
” کیا آپ ساری بات بتائیں گے ? “
” نہیں فل حال بلکل نہیں “
ہانی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی ذاکر پاس آکر کھڑی ہوگئی اور ذاکر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا.
” ذاکر ہافرہ آپ کی والدہ کا نام تھا ? “
ذاکر جو ہانی کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو گھور رہا تھا چونکا
” ہمممم “
” کیا دادی ماں ان کی سوتیلی ماں تھیں ? “
” ہمممم “
” آپ کے بابا جیل کیوں گئے ہیں ? “
” ہانی ….”
” ذاکر پلیز ام کو سب کچھ جاننا ہے ” ہانی نے ذاکر کی بات کاٹ کر التجا سے بھرے لہجے میں کہا
ذاکر نے گہرا سانس خارج کیا اور بیڈ کی طرف بڑھا. ہانی بھی ذاکر کا ہاتھ پکڑے ہوئے بیڈ پر ذاکر کے برابر بیٹھ گئی.
” مام کی پیدائش کے وقت نانو کی ڈیتھ ہوگئی تھی. مام کو نانا ابو نے اپنی والدہ کے حوالے کرکے فاخرہ خان سے دوسری شادی کرلی تھی. مام آٹھ برس کی ہوئیں تو نانا ابو کی والدہ کی ڈیتھ ہوگئی مجبورن نانا ابو مام کو اپنے گھر لے گئے. فاخرہ مام کو دیکھ کر غصے میں آگئیں اور نانا ابو سے لڑنے لگیں فاخرہ کو اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں نور خان یعنی نانا ابو اپنی ساری جمع پونجی مام کی شادی پر نا لگادیں اور ان کی بیٹی آخرہ کے لیے کچھ نا بچے. فاخرہ سارا دن مام کو گالیاں نکالتیں پیٹتیں کے تم ہو ہی منہوس دنیا میں آتے ہی اپنی ماں کو مار دیا اور اب میری بیٹی کے حق پر بھی ڈاکا ڈالنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہو. ایسے ہی سات برس گزر گئے فاخرہ نے بہت کوشش کی کہ مام کو کسی نا کسی طرح اس گھر سے نکلوا دیں مگر ان کی کوئی ترکیب کام نا آئی. فاخرہ نے ایک آدمی کو پیسے دے کر مام کا ریپ کرنے کے لیے راضی کرلیا. ” ذاکر کی آنکھوں سے آنسوں کی لڑی جاری ہوگئی ہانی بھی مشکل سے آنسوں روک رہی تھی
ذاکر پھر سے گویا ہوا
جاری ہے
