Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode03

Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode03

پلین میں بیٹھ کر عامرہ اور ہانی کی خوشی کی انتہا نہیں رہی.
” ہانی خان لالہ نے کہا تھا کہ انگلینڈ ائیرپورٹ پر ام کو لینے اک آدمی آئے گا “
ہانی حیران رھ گئی
” کیوں وہ کیوں لینے آئے گا? “
” ام کو تو خود نیں پتا کہ کیوں لینے آئے گا ام تم کو کیا بتائے “
” چلو دیکا (دیکھا) جائے گا “
………
ائیر پورٹ سے نکل کر ہانی اور عامرہ اونچی اونچی عمارتوں کو دیکھنے لگیں اور دونوں کے چہروں سے خوشی چھلک رہی تھی.
” اکسکوزمی مس حورین اینڈ مس عامرہ? “
دونوں آدمی کی آواز پر پلٹ کر دیکھنے لگیں.
ایک ایجڈ آدمی بلیک پنٹ کورٹ میں ملبوس آنکھوں پر چشمہ لگائے ہوئے ہانی اور عامرہ کو دیکھ رہا تھا.
عامرہ نے کہا
” Yes we are “
” Ok follow me “
ہانی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کون ہے اور ہمارے نام کیسے جانتا ہے? آخر ہانی بول پڑی
” who are u ? “
آدمی نے پلٹ کر دیکھا اور کہا
” I have been sent to bring u “
( مجھے آپ کو لانے کے لیے بھیجا گیا ہے )
ہانی بولنے لگی مگر عامرہ نے ہانی کے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہانی کو بولنے سے روک دیا اور آہستہ آواز میں کہا
” چپ رو (رہو ). آدم کے ماتھے پر بل پر (پڑ) رے ہیں “
ہانی نے عامرہ کا ہاتھ ہٹایا اور کہا ” ٹیک اے نیں بولتا “
آدمی نے سامان گاڑی میں رکھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا.
دونوں کار میں بیٹھ گئیں.
راستے میں باہر کے مناظر دیکھ کر ہانی اور عامرہ پاگل ہورہیں تھیں.
گاڑی یونی میں داخل ہوئی اور یونی دیکھ کر دونوں کے منہ کھلے رھ گئے.
ایک بہت بڑی بلڈنگ کے آگے جاکر گاڑی رکی.
آدمی نے بلڈنگ کی طرف اشارہ کیا اور کہا
” hostel “
اور گاڑی سے نکل کر سامان گاڑی سے نکال دیا.
ہانی اور عامرہ گاڑی سے نکل کر بیگ کو کھنچتے ہوئے بلڈنگ کی طرف بڑھیں.
ہوسٹل میں داخل ہوکر ریسپشن پر آئیں اور ہانی نے ریسپشن پر موجود لڑکی سے کہا
” Excuse me, My name is Hoorain and Her name is
Aamrah “
ریسپشن کی لڑکی نے دراز سے چابی نکال کر ہانی کی طرف بڑھائی اور کہا
” WelcoM Miss Hoorain and Miss Aamrah. your room no is 402. The key is here. 3rd floor.”
ہانی نے تھینکس کہا اور عامرہ کا ہاتھ پکڑ کر لفٹ کی طرف بڑھی.
لفٹ میں داخل ہوتے ہی عامرہ بولنا شروع ہوگئی
” ہانی کتنا پیارا ہوسٹل اے نا? “
ہانی جو ایکسائٹمنٹ چھپارہی تھی ساتھ ہی شروع ہوگئی.
“بہت ہی خوبصورت اے ہائے ام تو دیک دیک (دیکھ) کر پاگل او را اے “
خوشی خوشی لفٹ سے باہر نکل کر اردگرد کا سناٹا دیکھ کر ہانی اور عامرہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور دونوں کی آنکھوں میں ڈر چمک رہا تھا.
” ہانی کہیں ام زیادہ اوپر تو نیں آگیا? یہ ہلکا ہلکا پھیلا ہوا اندھیرا اور سناٹا ام کو ڈر لگ را اے “
اور ہانی کا ہاتھ پکڑلیا. ہانی نے خشک گلے کو تر کرکے کہا
” اللہ کا نام لیتے ہوئے روم ڈھونڈیں چلو”
” ہانی ایک بار پھر سے ریسپشن سے پوچ (پوچھ) لیتے ہیں “
ہانی کے سیل پر کال آئی اور بیل کی آواز سے دونوں کی چیخیں نکل گئیں.
ایک روم کا دروازہ کھلا اور اندر سے ایک لڑکی نکل کر ہانی اور عامرہ کو دیکھنے لگی اور کہا
” what’s ur problem guys? “
ہانی اور عامرہ کی ہنسی چھوٹ گئی.
لڑکی یہ کہتی ہوئی اندر کی طرف بڑھی
” mad girls “
ہانی نے فون بیگ سے نکالا اور خان کی کال دیکھ کر برے برے منہ بنانے لگی. عامرہ نے ہانی کے ہاتھ سے موبائل لے کر کال یس کی اور کہا
” سلام لالہ “
” وسلام تم لوگ پہنچ گیا اور خیریت سے او ? “
” جی لالہ ام ٹیک اے “
” ہانی سے بات کرواؤ ام کا “
ہانی نے ہاتھ سے انکار کیا.
” لالہ وہ واش روم گیا اے “
” ٹیک اے خدا حافظ “
ہانی نے گہرا سانس خارج کیا اور کہا
” چلو اب “
اور دونوں کمرہ ڈھونڈنے لگیں.
جلد ہی کمرہ مل گیا.
دونوں اندر داخل ہوئیں کمرہ کشادہ اور ہوا دار تھا. تین بیڈ اور تین الماری اور دو دروازے لگے ہوئے تھے.
ہانی نے دروازہ لاک کر دیا.
ہانی اور عامرہ بیگ دروازے پاس چھوڑ کر بند دروازوں کی طرف بڑھیں.
ایک واش روم تھا اور دوسرا کچن.
کچن میں داخل ہوکر سارے کیبن کھول کر دیکھے اور خالی کیبن دیکھ کر ہانی نے کہا
” کیبن کھانے پینے کے سامان سے برے (بھرے) ہونے چاہیے تھے “
” پھوپھو گھر آیا او ?”
ہانی ہنسنے لگی اور کہا
” ام کو بہت بھوک لگا اے “
” ام کو بھی لگا اے “
دونوں باتیں کرتی ہوئیں واپس روم میں آگئیں اور بیگ کی طرف بڑھیں.
بیگ کھول کر دونوں نے اپنے بیگ میں موجود کھانے کی چیزیں نکالیں اور ایک بیڈ پر آکر بیٹھ گئیں.
تھوڑا بہت کھاکر ہانی بیڈ پر لیٹ گئی اور عامرہ نے باقی چیزیں ٹیبل پر رکھیں اور بیگز کی طرف بڑھی.
عامرہ نے اپنا سارا سامان نکال کر الماری میں رکھتے ہوئے کہا
” ہانی تم بیگ سے سامان کب نکالے گا ? “
جواب نا پاکر عامرہ نے مڑ کر دیکھا ہانی نیند کی وادیوں میں جاچکی تھی.
عامرہ نے اپنا سامان الماری میں رکھ کر ہانی کا سامان بھی الماری میں رکھا اور دو گھنٹے کی مشقت کے بعد بیڈ پر آکر لیٹ گئی اور کچھ ہی دیر میں سوگئی.
………….
عامرہ ہانی کو آدھے گھنٹے سے اٹھا رہی تھی مگر ہانی اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. عامرہ تنگ آکر تیار ہوگئی اور الارم کلاک اون کرکے ہانی کے کان کے قریب کیا ہانی ہڑبڑا کر اٹھی.
” تم کو اٹھانا نیں آتا کیا ? “
” گھنٹا او گیا تم کو جگاتے اوے (ہوئے) ام تیار بھی او گیا اے اور تم کا نیند پورا نیں او را “
ہانی بیڈ سے اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھی.
عامرہ نے اونچی آواز میں کہا
” ام جا را اے نیچے تم تیار او کے آجانا “
اور باہر نکل گئی.
ہانی واش روم سے ہاتھ منہ دھوکر جلدی جلدی باہر آئی مگر عامرہ جاچکی تھی.
ہانی نے الماری کھول کر دیکھی اور اپنا سامان سیٹ دیکھ کر عامرہ پر بے اختیار پیار آیا.
ہانی نے اپنی خریدی ہوئی اکلوتی پینٹ شرٹ نکالی اور پہن کر ہینڈ بیگ اٹھایا اور باہر کی طرف بڑھی سوچا کلاس ڈھونڈتے ڈھونڈتے بال باندھ لے گی. میک اپ سے ویسے ہی ہانی کو الرجی تھی اور ہانی کو میک اپ کرنے کی ضرورت بھی نا تھی.
لفٹ میں انڑ ہوکر ہانی نے بیگ کھولا اور اندر سے ہیر بینڈ ڈھونڈنے لگی.
لفٹ سے نکل کر ہوسٹل سے باہر کی طرف قدم بڑھائے.
ذاکر شاہ بلیک کلر کی پینٹ شرٹ میں ملبوس شرٹ کے بازوؤں کو فولڈ کیے ہوئے اور گلاسیز پہنے ہوئے فون پر آج کے دن کے لیے موڈلنگ کرنے سے انکار کررہا تھا مگر ذاکر کی بات کو نا ماننے کی غلطی کرکے ڈائیریکٹر پھس گیا تھا اور اب ذاکر کا غصہ آسمان کو چھورہا تھا.
ہانی فل مگن انداز میں بیگ سے ہیر بینڈ نکالتے ہوئے سامنے والی بلڈنگ میں موجود کلاس روم کی طرف بڑھ رہی تھی کہ زور سے فون پر بات کرتے ذاکر شاہ سے ٹکرائی. سر ذاکر شاہ کے سینے سے جالگا اور ہانی کو لگا کے جسے کسی پتھر سے ٹکرائی ہو.
ہانی نے پیچھے ہو کر ذاکر شاہ کو دیکھا اور بولنا شروع ہوگئی.
” آپ کو نظر نیں آتا کیا? اتنی زور سے سر لگا اے. ام کا سر دوکنے (دوکھنے) لگا ہے “
ذاکر شاہ پہلے ہی غصے میں تھا ہانی کے خود ٹکرانے اور پھر بغیر سوچے سمجھے بولنے پر اور غصے میں آگیا.
” آپ خود ٹکرائیں ہیں اور الزام میرے سر ڈال رہیں ہیں “.
” دیکو (دیکھو) مسڑ XYZ تم اتنا لمبا او اس لیے تم کو ام نظر نیں آیا تو اس میں ام کا قصور نیں اے تم سر جھکا کر چلا کرو “
” دیکھو مس چھوٹی abc تم چھوٹی ہو اس لیے سر اٹھا کر چلا کرو تاکہ تمہیں لوگ نظر آسکیں اور تھوڑی بہت تم لوگوں کو نظر آسکو لٹل گرل “.
ہانی کو غصہ آنے لگا. ہانی غصے سے ذاکر شاہ کی طرف قدم بڑھانے لگی. ذاکر الٹے قدموں سے پیچھے ہٹنے لگا ہانی نے غصے سے کہا
” آپ ام کو غصہ دِلا رے (رہے) او “
ذاکر رک گیا اور ہانی کو بھی رکنا پڑا. اب ذاکر ہانی کی قدم بڑھانے لگا ہانی الٹے قدموں سے پیچھے ہٹنے لگی
” ایک تو آپ خود مجھ سے ٹکرائیں اور اوپر سے مجھے ہی ڈاٹنا شروع کردیا اور غصہ آپ مجھے دِلا رہی ہو میں آپ کو نہیں “
عامرہ کی آواز آئی
” ہانی تم نے یہاں بھی جنگ شروع کردیا “
ہانی رک گئی اور مڑ کر دیکھا.
ذاکر نے قدم روکے اور عامرہ کی طرف دیکھنے لگا.
عامرہ نے کہا ” چلو ہانی “
” اوکے “
ہانی نے ذاکر کی طرف دیکھا اور کہا
” تم کو تو ام بعد میں دیک (دیکھ) لے گا “
ذاکر کا غصہ کچھ کم ہوا تھا تو ذاکر نے ہانی کا جائزہ لیا.
مصوم چہرہ’ نیلی آنکھیں ‘ گلابی ہونٹ ‘براؤن کھلے بال اور ڈھیلی سی بلیک کلر کی شرٹ اور سکن کلر کی پینٹ میں ملبوس بغیر میک اپ کے بھی ہانی غضب ڈھارہی تھی.
ذاکر اتنا مکمل حسن پہلی بار دیکھ رہا تھا ذاکر کے چہرے پر سمائل آگئی.
چار سال بعد آج ذاکر کے ہونٹوں پر سمائل ابھری تھی وہ بھی صرف اس لڑکی کی وجہ سے ذاکر سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ عورتوں سے نفرت کرنے والا شخص آج اس لڑکی کی وجہ سے سمائل کررہا ہے کیوں ?
ہانی عامرہ کا ہاتھ پکڑکر کلاس روم کی طرف جارہی تھی اور ذاکر کی نگاہ ہانی پر جمی تھی.
چار سال پہلے ایک عورت نے ذاکر کی سمائل چھین لی تھی اور آج چار سال بعد ایک عورت نے ذاکر کو سمائل لوٹائی تھی.
#جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *