Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode01

Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode01

رات کے درمیانے پہر میں ہانی چور قدموں سے عامرہ کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی اور خان (عامرہ کا بڑا بھائی ) کمرے سے نکلتا ہوا دیکھائی دیا. ہانی کو سانس بند ہوتا محسوس ہوا
( خان شادی شدہ ہے مگر ہانی سے دوسری شادی کرنا چاہتا ہے )
خان ہانی کو دیکھ کر ہانی کی طرف چلا آیا
” ہانی تم آدھی رات کو گھوم کیوں رہا ہے ? “
ہانی کے ہلک تک کرواہٹ پھیل گئی.
” ام کا مرضی ام کا گھر ہے ام جہاں مرضی گھومے آپ کون ہوتے پوچھنے والے “
” ہانی ام سے تمیز سے بات کیا کرو ام تمہارا سرتاج بننے والا ہے “
ہانی کو غصہ آنے لگا
” ام آپ کو اپنا سرتاج نہیں بننے دے گا اور آپ پہلے سے شادی شدہ ہو “
” کیا کمی ہے ام میں “
” کمی کی بات ہی نہیں ہے خان لالہ آپ ام سے بڑے ہو اس لیے ام آپ سے تمیز سے بات کرتا اور آج آخری بار کہہ را اوں ام کو مجبور مت کرو ورنہ ام دادی ماں کو بتا دے گا “
” ام کو لالہ مت بلایا کرو ام تم کا لالہ نہیں ہے اور ام کو چار شادیوں کی اجازت ہے ابھی تو ام نے صرف ایک شادی کیا ہے اور دوسری شادی تم سے کرے گا یاد رکنا تم صرف ام کا ہو “
ہانی پیر پٹختے ہوئے واپس کمرے میں آگئی.
پچھلے دو ماہ سے خان کو پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا ہر وقت ہانی سے شادی کی رٹ لگائی رکھتا تھا.
………
دادا ابو کی وفات دو سال پہلے ہوگئی تھی جبکہ دادی ماں زندہ تھیں اور ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی. بڑے بیٹے کا نام ماخر خان تھا اور ماخرہ ان کی بیوی کا نام تھا. ماخر اور ماخرہ کے دو بچے تھے عامرہ اور خان.
چھوٹے بیٹے کا نام ناصر خان تھا اور ان کی بیوی کا نام ناصرہ تھا. ناصر اور ناصرہ کے بھی دو بچے تھے. حورین (ہانی) اور عامر.
دو بھائیوں سے چھوٹی بیٹی کا نام آخرہ خان تھا ان کا بس ایک بیٹا تھا عبداللہ.
خان گھر کا بڑا لڑکا تھا اور اس سے چھوٹا عامر تھا.
حورین اور عامرہ ہم عمر تھیں.
بچپن سے ہی عامرہ اور عامر کا رشتہ تہہ ہوچکا تھا اور عامرہ کے فسٹ ائیر میں ہوتے ہی عامر سے اس کا نکاح کروا دیا گیا تھا.
خان کی شادی ماموں کی بیٹی علیزہ سے ہوئی تھی.
خان اور عامر پڑھائی مکمل کرچکے تھے اور اب شوگر مل میں جاتے تھے.
عامرہ اور ہانی ابھی پڑھ رہیں تھیں.
سب لوگ ایک ہی گھر میں رہتے تھے.
…………
ہانی نے رات سوچ لیا تھا کہ صبح دادی ماں سے بات کرے گی.
صبح کھانے پر سب جما تھے. سب کی روٹین تھی جو بھی ڈائینگ ٹیبل پر بٹھنے لگتا تھا وہ پہلے دادی ماں کے ہاتھ پر بوسہ دیتا تھا اور پھر ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھتا تھا.
کھانا کھاتے وقت بولنا منا تھا کوئی چیز چاہیے ہوتی تھی تو ہاتھ کے اشارے سے مانگی جاتی تھی.
کھانا کھاکر سب اپنے اپنے کام پر چلے جاتے تھے.
اپنی شوگر مل ہونے کی وجہ سے گھر کے سارے مرد وہاں ہی کام کرتے تھے.
سب آدموں کے گھر سے نکلتے ہی ہانی دادی ماں کے روم کی طرف بڑھی. دروازہ نوک کرکے اندر داخل ہوئی دادی ماں تخت پر بیٹھیں کچھ کپڑوں کے ناپ لے رہیں تھی.
” دادی ماں ام کو آپ سے کچھ بات کرنا ہے “
دادی ماں نے کپڑے سایڈ پر کرکے ہانی کے لیے جگہ بنائی اور کہا
” آو ہانی بچہ کیا بات کرنا ہے “
ہانی دادی ماں پاس جابیٹھی.
” دادی ماں ام کی پوری بات سن کر ہی کچھ کہیے گا “
” ہاں بولو “
” دادی ماں ام کو خان لالہ تنگ کرتا ہے کہتا ہے ام کا جلد ہی سر تاج بنے گا. دادی ماں ام کو اس سے شادی نہیں کرنا وہ شادی شدہ ہے “
دادی اماں نے ہانی کو ساتھ لگا لیا
” کیوں نہیں کرنا خان سے شادی ? “
” دادی ماں وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں اور ام سے آٹھ سال بڑا بھی ہے اور ام کو ابھی بہت سارا پڑھنا بھی ہے “
” بچے وہ آپ کو چاہتا ہے “
” دادی ماں ام تو انہیں نہیں چاہتا ام تو ان کو بھائی مانتا ہے “
” آپ کو پتہ ہے نا بچے خان کتنا ضدی ہے “
“آپ بھی جانتا ہے کہ ام کتنا ضدی ہے “
ہانی کو غصہ آنے لگا دادی ماں سے تو ایسی امید نہیں تھی. دادی ماں میری شادی خان سے کرنا چاہتیں ہیں یہ سوچ کر ہانی کو غصہ آرہا تھا.
دادی ماں جو حکم دیتی تھیں وہ ہر کسی کو ماننا پڑتا تھا اور اگر دادی ماں نے شادی کا حکم دے دیا تو اس سے اگے ہانی سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی.
ہانی کو فارن کنٹری جانے کا بہت شوق تھا اور وہ بھی انگلینڈ. ہانی کے دماغ میں آئیڈیا آیا کہ اب اس کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے کے کسی بھی قیمت پر انگلینڈ چلی جاؤں.
” دادی ماں ٹھیک ہے ام خان سے شادی کرے گا مگر ایک شرط ہے ام کی “
” کیا ? “
” ام پہلے پڑھنے کے لیے باہر کے ملک جائے گا “
” یہاں بھی تو پڑھ سکتی ہو “
” ام آپ کی بات مانے گا آپ ام کی بات مانو “
” اکیلی جاؤ گی ?”
” نہیں ام کے ساتھ عامرہ بھی جائے گا “
” عامر اجازت نہیں دے گا “
دادی ماں کی تھوڑی تھوڑی ہاں سن کر ہانی کا دل بیلوں اچھلنے لگا
” دادی ماں آپ کے حکم کے آگے کوئی نہیں بول سکتا “
” ام سوچتا ہے لڑکی اب تم جاؤ “
ہانی خوشی خوشی عامرہ کے کمرے کی طرف بڑھی اور دروازہ دھڑم سے کھول کر اندر داخل ہوئی عامرہ شیشے سامنے کھڑی بال کنگھی کر رہی تھی. ہانی بھاگ کر عامرہ کے گلے لگی اور کہا
” عامرہ ام نے دادی ماں سے انگلینڈ جانے کا پوچھ لیا وہ کہتیں ہیں ام سوچتا ہے اور ام کو لگتا ان کا جواب ہاں ہی ہوگا عامرہ انگلینڈ ہائے عامرہ کتنا مزہ آئے گا “
اور دونوں چھلانگیں لگانے لگیں.
ماخرہ اندر داخل ہوئی اور دونوں کو چھلانگیں لگاتے دیکھ کر غصے میں آگئیں.
” عامرہ اور ہانی یہ کیا او رہا ہے “
ہانی اور عامرہ چھلانگیں لگانا بند کرکے سر جکھا کر کھڑیں ہوگئیں.
” آپ دونوں کو پتہ نہیں ہے.خان صاحب آگئے تو کتنا غصہ ہوں گے”
ہانی نے سر اٹھاکر کہا
” تایا جی تو گھر پر نہیں ہیں “
” ہانی ام کے سامنے زبان نا چلایا کرو اور عامرہ بال کیوں کھلا ہوا ہے آپ کا ? “
ہانی نے واپس سر جکھالیا.
” ماں جی ام کنگھی کر را تھا “
ماخرہ بیگم باہر کی طرف بڑھیں.
” عامرہ یہ تائی اماں اتنا سخت کیوں ہیں ? “
” ام کو نہیں پتا تم یہ بتاؤ کے کیسے دادی ماں سے بات کیا ? “
” خان لالہ سے شادی کے لیے ہاں کر دیا ام نے “
عامرہ کا منہ کھل گیا
” ہانی یہ تم نے کیا کیا ? “
” ام کون سا شادی کرنے لگا ام نے شرط رکھا ہے کہ ام تب تک شادی نہیں کرے گا جب تک ام باہر سے پڑھ کر نہیں آتا “
” اس کے بعد تم کرلے گا شادی خان لالہ سے “
” نہیں کبھی نہیں “
” تو ڈبل کراس”
” ام کے پاس بات منوانے کا یہی طریقا تھا “
” چلو دیکھ لیتا ہم کہ کیا ہوتا ہے “
” ام کا تیر کبھی چوکا نہیں اب بھی دیکھنا ام ہی جیتے گا “
………
شام کو دادی ماں نے ہانی کو اپنے کمرے میں آنے کا بلاوا ناصرہ کے ہاتھ بھیجا.
ناصرہ ہانی کے کمرے میں داخل ہوئیں اور ہانی کو الٹا لیٹے دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئیں
” ہانی ام تم کو کتنی بار منا کیا ہے الٹا نا لیٹا کرو “
ہانی نے سر اٹھاکر ناصرہ کو دیکھا اور کہا
” ماں جی آپ غصہ کیوں ہوتا ام کو الٹا لیٹنا اچھا لگتا ہے ? “
” دوبارہ ایسے لیٹا تو مار پڑے گا اور آپ کی دادی ماں بولا را آپ کو “
” کیوں ? “
” خود جاکر پوچھ لو “
ہانی بیڈ سے اٹھ کر دادی ماں کے کمرے کی طرف بڑھی اور بغیر نوک کیے اندر داخل ہوگئی.
” دادی ماں آپ نے بولایا ام کو ? “
” بیٹھو “
ہانی دادی ماں کے پاس بیٹھ گئی.
” ام آپ کی بات پر غور کیا ہے آپ باہر کے ملک جاسکتا ہو مگر خان سے منگنی کرنا ہوگا پہلے “
ہانی کو غصہ تو بہت آیا پر دادی ماں کو کہا
” ام آپ کی بات مانے گا ام منگنی کے لیے تیار ہے “
” ٹھیک ہے ام آپ کو اور عامرہ کو جلد باہر بھیج دے گا.اب آپ جاؤ “
ہانی اٹھ کر باہر کی طرف بڑھی اور کوریڈور میں خان نے ہانی کا رستہ روک لیا
” ام کو بہت خوشی ہوا کہ تم اب ہم کا بیوی بنے گا “
ہانی دل ہی دل میں ہنسی خان ویسے تو بہت تیز بنتا ہے مگر تیز ہے نہیں.
ہانی شرمانے کی ایکٹینگ کرنے لگی
” ام کی منگ تم بن جاؤ گی پھر ام کی شادی ہوگا. ام اس دن کا انتظار کرے گا”.
” خان ام بہت خوش ہے “
” ام کو اپنا نام تم سے سننا اچھا لگتا ہے اور ام بھی بہت خوش ہے”
ہانی شرماتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھی.
کمرے میں عامرہ پہلے سے موجود تھی.
ہانی کمرے میں داخل ہوتے ہی ہنسنے لگی.
” ہانی اتنا ہنس کیوں را تم ? “
” تم بھی ہنسو ام کی صرف منگنی ہوگا اور پھر ام اور تم انگلینڈ چلا جائے گا “.
” ہانی تم غلط کر را “
” جب سب ام کے ساتھ غلط کرے گا تو ام بھی پھر کسی کے ساتھ کیوں سہی کرے “
” ہانی تم کبھی بدل نہیں سکتا اپنا کام نکلوانے کے لیے تم ہر حد پار کر جاتا “
ہانی ہنسنے لگی.
#جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *