Ishq Ka Samandar by Umme Laila NovelR50748 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode14
No Download Link
513.7K
15
Rate this Novel
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode01 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode02 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode03 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode04 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode05 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode06 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode07 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode08 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode09 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode10 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode11 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode12 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode13 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode14 (Watching)Ishq Ka Samandar by Umme Laila Last Episode
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode14
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode14
” آخرہ کو مام سے ہمدردی تھی وہ اکثر مام کے لیے فاخرہ سے بھی لڑجاتیں تھیں. آخرہ نے چپکے چپکے فاخرہ کی ساری باتیں سن لیں تھیں اس لیے مام کو جاکر سب بتادیا اور کہا عزت لٹانے سے بہتر ہے کہ تم گھر سے بھاگ جاؤ. مام اپنی ساری جمع پونجی لے کر گھر سے بھاگ گئیں. سڑکوں اور پارکوں میں دھکے کھاتے ہوئے ایک دن انھیں ایک عورت ملیں جن کی کوئی اولاد نا تھی. مام کو پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھ کر اس عورت نے مام کو اپنی بیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا اور یوں مام کو وہ اپنے گھر لے گئیں. سہی کہتے ہیں جب کوئی ہاتھ اور ساتھ چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالی کوئی نا کوئی انگلی پکڑنے والا بھیج ہی دیتا ہے. وہ عورت مام کے لیے فرشتہ ثابت ہوئیں. وہ ترکی کی رہنے والی تھیں اور کچھ دنوں کے لیے اپنے رشتے داروں کے پاس پاکستان رہنے آئیں تھیں. مام کو وہ اپنے ساتھ ترکی لے گئیں مام کو بیٹی کا درجہ دیا ان کی اچھے سے دیکھ بھال کی اور جب مام شادی کی عمر کو پہنچیں تو ان کی شادی ادریس شاہ سے کروا دی یعنی میرے بابا کے ساتھ. مام کی شادی کے بعد اس فرشتہ صفت عورت کا انتقال ہوگیا اور ان کی ساری جائداد مام کے نام ہوگئی. مام کی جائداد بیچ کر بابا مام کو لے کر یہاں آگئے اور مام کے پیسوں سے امپائر کھڑا کر لیا. مام شروع شروع میں بابا کے ساتھ کمپنی جاتیں تھیں لیکن میری پیدائش کے بعد مام دوبارہ کمپنی نہیں گئیں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ بابا نے جانے نا دیا. جب میں سیکنڈ ائیر میں تھا تب میری مام اور ڈیڈ کے درمیان بے تہاشہ ان بن ہونے لگی اور ایک دن جب میں گھر آیا تو بابا نے بتایا میری مام کسی آدمی کی محبت میں پاگل ہوکر ہمیں چھوڑ گئیں ہیں. مام کے جانے کے بعد دو ماہ کے لیے میں نے خود کو کمرے میں بند کرلیا اور ہر کسی سے نفرت کرنے لگا بلخصوس عورت ذات سے . دو ماہ بعد کمرے سے نکلنے والا ذاکر کمرے میں داخل ہونے والے ذاکر سے مکمل طور پر مختلف تھا. میں نے خود کو پڑھائی اور ماڈلنگ میں بزی کرلیا.
ماخر اور ناصر بابا سے ایک میٹنگ میں ملے اور ان کے درمیان دوستی ہوگئی وہ اکثر گھر میں آنے لگے.
گھر میں مام کی تصویر دیکھ کر ماخر اور ناصر مام کو پہچان گئے.
مام کے بارے میں بابا سے پوچھا تو انہوں نے جو کہانی مجھے سنائی تھی ان کو بھی سنا دی. ماخر اور ناصر کو بابا کے ایلیگل بزنس کا پتہ چلا تو انہوں نے بابا کو اریسٹ کروا دیا. بابا نے اپنے سورسیسز کو استعمال کرتے ہوئے ایک رات میں ہی اپنی بیل کروالی اور ماخر ‘ ناصر کو پاکستان بھیجوا دیا. بابا نے اس واقع کو میرے سامنے ایسے پیش کیا کہ ماخر اور ناصر نے پیسے کے لالچ میں ان کو جیل بھیج دیا تھا اور اب پیسہ لے کر پاکستان چلے گئے ہیں. میں نے بھی کوئی خاص نوٹس نہیں لیا.
جب یونیورسٹی جوائن کی تو یونیورسٹی میں مجھے تم سے پیار ہوگیا اور تمہارے انکار نے مجھے تپا دیا. تمہیں کڈنیپ کرکے شادی کرنے کا سوچ کر میں پرسکون ہوگیا تھا مگر جب مجھے پتہ چلا کہ تم ناصر کی بیٹی ہو تو میں نے تمہیں نکاح نامہ نا دینے کا فیصلہ کرلیا تھا. ہماری شادی کے بعد تم پاکستان چلی گئی اور مجھے پتہ چلا کہ مام کو دماغ کا سرطان ہے میں سب کچھ بھول کر ان کے پاس چلاگیا انہوں نے مجھے بابا کی ساری سچائی بتادی پھر میں نے بابا کے خلاف ثبوت ڈھونڈ کر انہیں اریسٹ کروا دیا اور مام کو لے کر پاکستان آگیا جس دن مام کی ڈیتھ ہوئی تھی اسی دن خان نے تمہیں زندہ دفنایا تھا اور میں اپنی مام کی قبر پر آیا تھا مگر مجھے وہاں تم مل گئی. “
ذاکر نے بات مکمل کرکے گہرا سانس خارج کیا. ہانی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے.
ذاکر نے ہمت کرکے ہانی کی طرف دیکھا اور کہا
” تمہاری سزا ختم ہوگئی ہے ہانی کیا تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو ? یا مجھ سے طلاق لینا چاہتی ہو ? “
ہانی خاموشی سے ذاکر کو دیکھنے لگی
” بتاؤ ہانی جو تم چاہو گی وہی ہوگا “
ہانی کے منہ سے بے اختیار نکلا
” ام کو فیصلہ کرنے کے لیے تین ماہ کا ٹائم دے دو “
ذاکر کو اپنے اندر سکون پھیلاتا ہوا محسوس ہوا.
” ٹھیک ہے جیسے تم مناسب سمجھو “
ہانی ذاکر کا ہاتھ چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی.
” آپ نے اپنے بابا کے بارے میں کیا سوچا ہے ? ان کو معاف نہیں کریں گے ? “
” ہانی پلیز مجھے اس بارے میں فل حال کوئی بات نہیں کرنی “
ہانی چپ کر گئی اور باہر کی طرف قدم بڑھائے.
ڈرائیور ساتھ یونیورسٹی آگئی اور اپنی کلاس کی طرف قدم بڑھائے.
ہانی کلاس میں موجود ہوکر بھی کلاس میں نہیں تھی بار بار دھیان بھٹک کر ذاکر کی طرف چلا جاتا تھا.
…….
شام تک یونیورسٹی میں بھٹکتی رہی اور آخر کار تنگ آکر واپس گھر آگئی.
ہانی بغیر آواز پیدا کیے ذاکر کے کمرے میں داخل ہوئی اور ذاکر کی پشت دروازے کی طرف ہونے کی وجہ ذاکر کو پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگی.
” ہانی میں فرنٹ سایڈ سے زیادہ خوبصورت ہوں ” ذاکر نے لیپ ٹاپ سے نظر ہٹائے بنا کہا
ہانی گڑبڑا گئی
” آپ کو ام کی موجودگی کا کیسے پتا چلا ? “
ذاکر چیر سے اٹھ کھڑا ہوا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے ہانی پاس آکر کھڑا ہوگیا.
بازو سے پکڑ کر قریب کیا اور کان میں سرگوشی کی
” Aşkım Trust me! I can feel you “
ہانی کی ہاٹ بیٹ مس ہوئی. خود کو نارمل کرکے ہانی نے کہا
” ذاکر وہ دراصل ان تین ماہ میں ام ہوسٹل رہنا مانگتا ہے “
ذاکر پیچھے ہوا
” کیوں ? “
” پلیز ام چاہتا ہے کہ ان تین ماہ میں ام اجنبیوں کی طرح رہیں نو کال نو مس کال نو میسج نو فیس ٹو فیس بات چیت “
” اوکے ” ذاکر نے نا چاہتے ہوئے بھی ہانی کی بات مان لی
” تھیکنس ذاکر آپ بہت اچھے ہیں “
” بیگ پیک کرلینا کل صبح میں تمہیں ہوسٹل چھوڑ آؤں گا اور ہاں پیسے ہر ماہ تمہارے اکاؤنٹ میں آجائیں گے “
ہانی نے ہممم کہہ کر باہر کی طرف قدم بڑھائے.
…..
ہانی پیکنگ کرنا چھوڑ کر بیڈ پر بیٹھ گئی.
” ذاکر سے دور جانے کو ام کا دل نہیں مان رہا مگر یہ ضروری ہے. ام کو جاننا ہے کہ کیا ام کو ذاکر سے پیار ہوگیا ہے یا نہیں ” کہتے ہوئے ہانی پھر سے اٹھ کھڑی ہوئی اور پیکنگ کرنے لگی.
…..
ذاکر ہانی کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا مگر ہانی جانا چاہتی تھی تو وہ کیسے روک سکتا تھا.
صبح ذاکر ہانی کو لیے یونیورسٹی آگیا اور ثمرین کے روم میں چھوڑ کر جانے کے لیے باہر کی طرف قدم بڑھائے
” ذاکر “
ذاکر رک گیا.
” آپ ام سے ناراض ہیں ? “
“نہیں تو “
” آپ کے فیس سے لگ رہا ہے “
ذاکر چپ کرگیا
ہانی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی ذاکر کے قریب آکر کھڑی ہوگئی اور ذاکر کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا
” ڈونٹ بی سیڈ “
ثمرین کمرے میں داخل ہوئی اور ہانی کو ذاکر کے ہاتھ پکڑے کھڑی دیکھ کر کہا
” ہانی ” ہانی جلدی سے ذاکر کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہوئی.
” اوکے بائے میں جارہا ہوں تین ماہ بعد اسی تاریخ کو لینے آؤں گا ” ہانی نے سر ہلادیا.
ثمرین کو سلام کہتے ہوئے ذاکر کمرے سے نکل گیا.
” ہانی یہ سب کیا ہے ? “
ہانی نے ثمرین کو سب کچھ بتا دیا
” اوہ ویسے ہانی تم نے تین ماہ کیوں مانگے ہیں ? “
” یہ جاننے کے لیے کہ ام کو ذاکر سے محبت ہے کہ نہیں “
” اوہ سہی “
……..
شام کے وقت ہانی ثمرین کو لیے یونیورسٹی سے نکل آئی اور دونوں فٹ پاتھ پر چلنے لگیں.
ہانی چلتے ہوئے اردگرد دیکھ رہی تھی کہ اچانک ہانی کے قدم رک گئے . ثمرین ہانی کو دیکھنے لگی اور ہانی کی نظروں کے تاقب میں دیکھا.
” اس کو گھور کیوں رہی ہو ? “
” ام کو یہاں سے فائٹنگ سیکھنی ہے “
ثمرین نے ماتھے پر ہاتھ مارا
” اووف ہانی “
” کیا ہوا ? “
” ذاکر “
” ان کو بتانا کس نے ہے ام تو بلکل نہیں بتائے گا اور تم بھی نہیں بتاؤ گی. آ جاؤ اب اندر چلتے ہیں “
ثمرین کا ہاتھ پکڑ کر ہانی کھنچتی ہوئی اندر لے گئی.
……..
ہانی صبح کے ٹائم کلاسسز لیتی تھی اور باقی ٹائم میں فائٹ سیکھنے جاتی تھی ثمرین کے منا کرنے کے باوجود ہانی باز نا آئی.
…… تین ماہ پورے ہونے سے ایک دن پہلے ………
خان مکمل طور پر ٹھیک ہوگیا تھا اور آج انگلینڈ آگیا تھا.
خان نے انگلینڈ کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی حمر کو کال کرلی
” کون ? “
” خان “
” اوہ کیا تم ٹھیک ہوگئے ہو ? “
” ہاں اور اس وقت انگلینڈ میں موجود ہوں “
” کب آئے ? “
” ابھی “
” ٹھیک ہے تم ائیر پورٹ پر رکو میرا ڈرائیور تمہیں پک کرنے آرہا ہے “
” ٹھیک ہے “
خان حمر کے ڈرائیور کا انتظار کرنے لگا.
کچھ دیر بعد حمر کا ڈرائیور ائیر پورٹ پہنچ گیا اور خان ڈرائیور کے ساتھ حمر کے محل نما گھر میں داخل ہوا.
خان گاڑی سے اترا اور اندر کی طرف بڑھا.
گارڈ خان کو گیسٹ روم میں چھوڑ کر باہر کی طرف بڑھا.
خان بے صبری سے حمر کا انتظار کر رہا تھا اور حمر کو آتا دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا
” نائس ٹو میٹ یو مسڑ خان “
” سیم ٹو یو. ام کو کل شام تک واپس جانا ہے “
” اوکے “
” کیا سوچا ہے ذاکر کے بارے میں ? “
” کل صبح ذاکر کی کار کی بریک فیل کروا دینی ہے “
خان کے چہرے پر کمینگی سے بھری مسکراہٹ پھیل گئی
” گڈ “
” سارا انتظام ہوگیا ہے بس صبح ہونے کی دیر ہے ہمارا آدمی ذاکر کی کار کی بریک فیل کردے گا آگے ذاکر کی قسمت “
دونوں ہنسنے لگے.
………
صبح ہونے سے کچھ دیر پہلے حمر کا آدمی ذاکر کے گھر میں گھسا اور چوری چھپے ذاکر کی گاڑی کی طرف بڑھا.
بریک فیل کرکے جہاں سے گھر میں گھسا تھا وہیں سے نکل گیا اور حمر کو کال پر کام ہوجانے کی اطلاح دے دی.
….
ذاکر کی رات آنکھوں میں کٹی تھی.
” یہ صبح کیوں نہیں ہورہی مجھے ہانی پاس جانا ہے “
اللہ اللہ کرکے صبح ہوئی ذاکر جلدی جلدی تیار ہوکر گاڑی کی چابی لیے گھر سے نکل آیا.
کار میں بیٹھ کر کار سٹاٹ کی اور مین ڈور سے نکل کر یونیورسٹی کا رخ کیا.
کار چلاتے ہوئے اچانک سامنے ایک چھوٹا بچہ آگیا ذاکر نے بریک لگائی مگر بریک لگ ہی نہیں رہی تھی ذاکر نے جلدی سے سٹیرنگ گھمایا اور گاڑی سامنے سے آتے ٹریک سے ٹکرا کر اچھلتی ہوئی دور جاگری لوگ بھاگتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھے امبولینس کو کال کرکے بلوایا گیا اور امبولینس ذاکر کو ہوسپٹل لے گئی.
……..
ہانی نے صبح صبح اٹھ کر اپنا بیگ پیک کیا. ہانی کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے.
” ہائے اللہ آج ذاکر مجھے لینے آئیں گے ذاکر آپ نہیں جانتے مجھے آپ سے کتنی محبت ہے ” کہتے ہوئے ہانی چھلانگیں لگانے لگی
( تین ماہ میں ہانی نے سہی سے اردو بولنا سیکھ لیا تھا اور فائٹ بھی کافی حد تک سیکھ گئی تھی. ان تین ماہ میں ہانی اپنے ادارے کی سب سے بہترین سٹوڈنٹ بن گئی تھی )
ہانی چھلانگیں لگاتی ہوئی روم سے نکل گئی اور یونیورسٹی کے مین گیٹ کی طرف قدم بڑھائے.
ذاکر کے لیے گفٹ لینے گفٹ شاپ میں چلی گئی اور گھڑی خرید کر فلاور شاپ سے ہر قسم کے پھول لے کر ہوسٹل کی طرف روانہ ہوئی.
ہوسٹل پہنچ کر ہانی ہنستی مسکراتی کمرے میں آگئی. ثمرین سیرس بیٹھی نیوز دیکھ رہی تھی ثمرین کی عادت تھی وہ منہ بعد میں دھوتی تھی پہلے نیوز دیکھتی تھی.
ہانی بوکے اور گفٹ بیڈ پر رکھ کر مڑی اور اچانک ٹی وی پر نظر پڑی ذاکر کے کومہ میں جانے کی ہیڈ لائن چل رہی تھی ہانی بیٹھتی چلی گئی
” ذاکر “
ثمرین جلدی سے بیڈ سے اتر کر ہانی کی طرف بڑھی. ہانی بے ہوش ہونے والی ہوگئی ثمرین نے جلدی جلدی گلاس میں پانی ڈال کر ہانی کی طرف بڑھایا .
…..
خان اور حمر نے ذاکر کے کومہ میں جانے کی خبر پر پارٹی ارینج کی تھی.
پارٹی ختم ہوتے ہی خان ائیر پورٹ کے لیے نکل گیا اور ائیر پورٹ پہنچ کر خان نے ماخر کو فون کرکے سب بتادیا.
……..
ثمرین ہانی کو لیے ہوسپٹل پہنچی اور دونوں بھاگتے ہوئے روم میں داخل ہوئیں.
ذاکر دنیا جہان سے بے خبر بیڈ پر بے سود پڑا تھا. ہانی کے آنسوں ابل ابل کر باہر آرہے تھے ہانی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی ذاکر کی طرف بڑھی.
……
ناری ساری انوسٹیگیشن کرکے ہوسپیٹل پہنچا.
ہانی ایک دن سے بھوکی پیاسی ذاکر کے پاس بیٹھی تھی. ثمرین نے ہانی کو کھلانے پلانے کی بہت کوشش کی مگر ہانی بس خالی نظروں سے ثمرین کو دیکھتی رھ گئی.
ناری روم میں انڑ ہوا اور ہانی کی طرف بڑھا
” بھابھی “
ناری کی آواز پر ہانی نے ذاکر سے نظریں ہٹاکر ناری کو دیکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی
” ذاکر کی کار کی بریکس فیل کی گئیں تھیں ” ناری نے آہستہ آواز میں کہا
” کس نے ? “
” خان اور حمر نے “
” خان ” غصے کی وجہ سے ہانی کی آنکھوں میں خون اتر آیا
” حمر کو اریسٹ کرلیا گیا ہے مگر خان کو اریسٹ نہیں کیا جاسکا کیونکہ وہ پاکستان میں ہے “
” خان سے بدلا میں خود لوں گی “
” بھابھی آپ “
” ہاں میں “
” لیکن …”
ثمرین چپ چاپ کھڑی ناری اور ہانی کی باتیں سن رہی تھی.
ہانی نے ثمرین کو کہا
” کیا تم میرے واپس انگلینڈ آنے تک ذاکر کے پاس رکو گی ? “
” ہانی ایک بار پھر سوچ لو اس شخص نے تمہیں زندہ دفنا دیا تھا تم اس سے بدلا کیسے لو گی ? “
” تب میں اور اب میں بہت فرق ہے. تم رکو گی یا نہیں ? ” ہانی نے سخت لہجے میں کہا
” ٹھیک ہے میں ذاکر کے پاس ہی رہوں گی “
ناری نے بولنا چاہا مگر ہانی نے ہاتھ کے اشارے سے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور ذاکر کے بالوں کو چھوتے ہوئے پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے ” ذاکر میں وعدہ کرتی ہوں خان سے بدلہ لیے بغیر واپس نہیں آؤں گی ” اور باہر کی طرف قدم بڑھے.
……..
ہوسٹل پہنچ کر سیٹ بک کروائی اور چند ایک ضرورت کی چیزیں بیگ میں رکھ کر ملکا کو کال کرلی.
” کون ? “
” ہانی “
” بی بی جی آپ ? “
” ہاں میں “
ساری تفصیل بتاکر کال بند کی اور ائیر پورٹ کے لیے ہوسٹل سے نکل گئی.
……..
ملکا ہانی کے کہنے کے مطابق ائیر پورٹ پر ہانی کا انتظار کررہی تھی ہانی ملکا کو دیکھ کر ملکا کی طرف بڑھی.
” خان کا پتہ لگوا لیا ? “
” جی بی بی جی “
” کہاں ہے ? “
” فیکڑی میں ہے “
” گڈ سیدھا فیکڑی چلتے ہیں “
ٹیکسی روک کر ہانی اور ملکا اس میں بیٹھ گئیں اور فیکڑی کا رخ کیا.
فیکڑی کے سامنے گاڑی رکی اور ہانی نے ملکا کو گارڈز کو کال کرنے کا اشارہ کیا.
ملکا کے کال کرنے کے ٹھیک پندرہ منٹ بعد کافی سارے گارڈز نمودار ہوئے اور فیکڑی میں گھس گئے.
فیکڑی خالی کروا کر گارڈز باہر آکر کھڑے ہوگئے.
ہانی کار سے نکل کر ملکا کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے فیکڑی میں گھس گئی.
خان کے اوفس کا لاک کھول کر ہانی اندر داخل ہوئی خان بیٹھا موبائل استعمال کررہا تھا اور ہانی کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا
” اوہ ہانی آئی ہے “
” خان حورین ذاکر آج تم سے ذاکر کا بدلا لینے آئی ہے ” ہانی نے اپنا کوٹ اتار کر چیر پر رکھا اور شرٹ کے بازو فولڈ کرنے لگی.
” ہاہاہاہاہا ” خان کھل کر ہنسا
” ہنس لو جتنا ہنسنا ہے کیونکہ آدھے گھنٹے کے بعد میں تمہیں رونے کے قابل بھی نہیں چھوڑوں گی “
خان نے ڈرنے کی ناکام ایکٹنگ کی اور ہنسنے لگا
” جسے ام نے زندہ دفنا دیا تھا وہ آج ام کو ہی دھمکی دے رہی ہے “
” ڈیر خان ہر شخص کے اندر 206 ہڈیاں ہوتیں ہیں مگر آدھے گھنٹے بعد تم میں صرف 106 ہڈیاں رھ جائیں گی باقی 100 ہڈیاں میں توڑ دوں گی “
کہتے ہوئے ہانی نے ملکا کو ویڈیو بنانے کا اشارہ کیا اور بھاگتے ہوئے خان کی طرف بڑھی.
خان کو اچھے سے مار پیٹ کر نڈھال کرنے کے بعد ہانی نے اپنے ناخن خان کی آنکھوں میں گاڈ دیے اور اپنے ہونٹ سے نکلتا خون صاف کرکے پاس پڑی چیر اٹھاکر خان کے سر پر دے ماری.
اپنے اندر کا سارا غصہ نکال کر ہانی فرش پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی اور سر پکڑ کر رونے لگی.
جاری ہے
