Ishq Ka Samandar by Umme Laila NovelR50748 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode07
No Download Link
513.7K
15
Rate this Novel
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode01 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode02 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode03 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode04 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode05 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode06 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode07 (Watching)Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode08 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode09 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode10 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode11 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode12 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode13 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode14 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Last Episode
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode07
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode07
ہانی بغیر سوچے سمجھے ذاکر کے پیچھے کافی شاپ میں انڑ ہوئی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے ذاکر کے ٹیبل پاس چلی آئی.
ذاکر سر جھکا کر بیٹھا تھا اور ہانی کے پاؤں پر نظر پڑتے ہی سر اوپر اٹھالیا. ہانی کو دیکھ کر ذاکر کا دل بیلوں اچھلنے لگا.
ذاکر اٹھ کر کھڑا ہوا اور دوسری چیر پیچھے کرکے کہا
” بیٹھ جائیں “
ہانی نے ڈرتے ڈرتے ہوڈ اتار کر چیر کی بیک پر رکھا اور بیٹھ گئی. دل میں سوچا ” بغیر سوچے سمجھے آ تو گئی ہوں کہیں غلط نا سمجھ لے ذاکر “
” دیکھو ام کو غلط لڑکی نا سمجھنا ام صرف اس لیے آیا ہے کیونکہ آپ نے ام کا موبائل ام کو لوٹا دیا “
ذاکر چیر پر بیٹھتے ہوئے ہنسی روکنے لگا.
” اوکے اور کچھ ? “
ذاکر نے ہنستے ہوئے کہا
ہانی اردگرد دیکھنے لگی.
ذاکر ویٹر کو کافی کا آرڑر دے کر ہانی کی طرف دیکھنے لگا ہانی دور بیٹھے ایک کپل کو دیکھ رہی تھی.
بلیک کلر کی پنٹ شرٹ میں ملبوس براؤن بالوں کو پونی کی شکل دیے ہوئے ہانی کیوٹ لگ رہی تھی ذاکر کے چہرے پر سمائل آگئی.
اتنے میں میڈیا کہ کچھ لوگ کافی شاپ میں انڑ ہوئے اور ذاکر کو دیکھ کر ذاکر کی طرف چلے آئے.
میڈیا کو دیکھ کر ذاکر کے ہوش اوٹھ گئے. ہر طرف سے کیمرے کی فلیش لائٹ پڑرہی تھی اور ہانی بے ہوش ہونے والی ہوگئی.
” Mr. Zakir shah who is she ? “
ذاکر خود کو کمپوز کرکے چیر سے اٹھا اور ہانی کے پاس جاکر کان میں کہا ” ہانی میں جو بھی کروں گا اس میں تمہاری بھلائی ہی ہوگی اس لیے کچھ مت بولنا پلیز “
ہانی نے خالی نظروں سے ذاکر کو دیکھا.
ذاکر نے ہانی کا ہاتھ پکڑا اور کہا
” My finace Hoorain khan “
ہانی کے ہاتھ پیر ڈر سے پھولنے لگے.
ہانی اٹھ کر کھڑی ہوگئی مگر لگتا تھا ابھی گر جائے گی. ذاکر نے سہارے کے طور پر ہانی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کرلیا.
میڈیا کے ایک آدمی نے سوال کیا.
” Marriage date ? “
ذاکر نے ہنستے ہوئے کہا
” plz no more questions “
اور ہانی کا ہوڈ اٹھاکر ہانی کو پکڑے ہوئے ہی باہر کی طرف قدم بڑھائے.
ہانی کو سہارا دے کر گاڑی تک لایا اور کار میں بیٹھا کر دروازہ بند کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹاٹ کرلی.
ہانی بے ہوش ہوچکی تھی.
ذاکر نے کافی دور آکر گاڑی روک لی اور پانی کی بوتل اٹھاکر ہانی کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے.
ہانی کو ہوش آگیا اور ہوش میں آتے ہی ذاکر کو دیکھ کر ہانی رونے لگی.
” ذاکر اب کیا ہوگا ? میڈیا والے یہ نیوز ہر چینل پر دیکھائیں گے اور اگر ام کے گھر والوں نے دیکھ لیا تو….. “
ذاکر نے ہانی کو تسلی دی اور کہا
” ہانی کچھ نہیں ہوگا ریلکس ” اور ہانی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر نرمی سے دبایا.
ہانی نے ہاتھ کھنچا اور گاڑی سے نکل کر سڑک پر چلنے لگی.
ذاکر بھی گاڑی کا دروازہ کھول کر ہانی کے پیچھے بھاگا اور ہانی کا بازو پکڑ کر روکا
” ہانی دیکھو کچھ بھی نہیں ہوگا ایک یا دو دن یہ نیوز چلے گی اس کے بعد اس نیوز کو کوئی پوچھے گا بھی نہیں “
ہانی پھٹ پڑی
” تم نہیں جانتے جب یہ نیوز لالہ اور خان دیکھے گا تو ام کو زندہ زمین میں گاڈ دیں گے. میری زندگی داؤ پر لگ گئی ہے “
” ہانی کچھ نہیں ہوگا میرا یقین کرو. میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا “
ہانی نے ذاکر کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا
” کیا لگتے ہو تم ام کے ہاں بولو کیوں بچاؤ گے ام کو…. “
ہانی کی آنکھوں سے آنسوں اُبل اُبل کر باہر آرہے تھے اور آواز لمحہ با لمحہ اونچی ہورہی تھی.
ذاکر نے ہانی کے منہ پر ہاتھ رکھ کر مزید بولنے سے روک دیا اور ذاکر کو ایک لمحہ بھی نا لگا تھا انکشاف ہونے میں کہ ذاکر کو ہانی سے پیار ہوگیا ہے.
” آئی لو یو ہانی “
ہانی کے آنسوں بند ہوگئے اور ہونٹ کپکپائے.
………….
ہانی کی دادی ماں گھر کی واحد خاتون تھیں جو رات کے وقت ٹی وی دیکھتیں تھیں.
ڈرامے والے چینل پر کمرشل آئی تو نیوز چینل لگا لیا ہیڈ لائن چل رہی تھی.
” انگلینڈ کے معروف ماڈل ذاکر شاہ کی منگنی کا راز کھل گیا. معروف ماڈل ذاکر شاہ کی منگیتر کا نام حورین خان ہے جو کہ پاکستان سے تعلق رکھتیں ہیں “
اور ذاکر کے حصار میں بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس حورین کی تصویر دیکھائی جارہی تھی.
ہیڈ لائنز دیکھ کر دادی ماں کے ماتھے کی رگیں تن گئیں.
” اگر خان نے یا عامر نے یہ دیک (دیکھ ) لیا تو ہانی کو زندہ زمین میں گاڑ دیں گے “
دادی ماں اٹھ کر کمرے سے نکلیں اور نوکرانی کو آوازیں دینے لگیں. نوکرانی بھاگتی ہوئی آئی.
” جی مالکن “
” گھر میں موجود ہر ٹی وی کی تار کاٹ دو اور نیٹ کی بھی تار کاٹ دو “
” کیوں بی بی جی ? “
” جتنا کہا ہے اتنا کرو “
نوکرانی نے جلدی سے ہاں میں گردن ہلائی اور دادی ماں واپس کمرے میں آگیں.
” حورین بی بی تم نے ام کا اعتبار توڑا ہے تم کو اس کا حساب دینا ہوگا بہت جلد “
دادی ماں خود سے کہتیں ہوئیں دوبارہ سے نیوز دیکھنے لگیں.
………
ذاکر نے ہانی کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹالیا اور کہا
” کیا اب تم یقین کرو گی کہ میں کچھ غلط نہیں ہونے دوں گا ? “
” نہیں “
” کیوں ? “
” کیوں کہ ام آپ سے پیار نہیں کرتی تو یقین کیسے کرسکتی ہوں اور ام زندگی میں کبھی دوبارہ آپ کو دیکھنا نہیں مانگتی. “
اور ہانی نے ٹیکسی روکی
” ہانی میں تمہارے بغیر مر جاؤں گا “
” آپ مرو یا جیو ام کو کوئی فرق نہیں پڑتا “
ہانی ٹیکسی میں بیٹھ گئی.
ذاکر کو اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوا.
” اسے مجھ سے محبت نہیں ہے میں مروں یا جیوں اسے فرق نہیں پڑے گا تو میں مرگیا ہوں میری حیثیت میرا سٹیٹس میرا پیار اس کے لیے بے معانی ہے میری آنکھوں میں موجزن عشق کا سمندر بے معنی ہے. ہر چیز بے معنی ہے. ذاکر شاہ ایک بار پھر سے ٹوٹ گیا ہے ایک مظبوط شخص ایک بار پھر سے کرچی کرچی ہوگیا ہے. ہانی تم نے ذاکر شاہ کو جیتے جی مار دیا ہے ذاکر شاہ پھر سے بکھر گیا …..”
ذاکر خود سے ہمکلام ہوتے ہوئے سڑک پر چلنے لگا اور آتی ہوئی گاڑی سے ٹکرا کر زمین بوس ہوگیا اور سر سے خون نکلنے لگا ذاکر نے زخم پر ہاتھ رکھا اور اٹھ بیٹھا . آدمی گاڑی سے نکلا اور ذاکر کی طرف بڑھا مگر ذاکر نے ہاتھ سے دور رہنے کا اشارہ کیا. آدمی پھر بھی ذاکر کی طرف آنے لگا. ذاکر چیخا
” Stay away “
آدمی ڈرتے ہوئے واپس گاڑی میں بیٹھ گیا.
ذاکر سڑک سے اٹھا اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھا.
گاڑی میں بیٹھ کر گھر کا رخ کیا.
………
ٹی وی پر حورین اور ذاکر کی منگنی والی نیوز دیکھ کر ثمرین اور عامرہ پریشان بیٹھیں تھیں.
عامرہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
” اگر گھر میں سے کسی نے یہ ہیڈ لائنز دیکھ لیں تو ہانی زندہ نہیں بچے گی “
ثمرین نے کہا ” ہانی ہے کہاں اس وقت? “
” ام کو کیا پتہ “
” کال کروں? “
” ہاں کرو “
ثمرین نے کال ملائی مگر نمبر بند تھا.
دونوں پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں.
………..
ہانی نے ٹیکسی میں بیٹھتے ہی فون اوف کردیا اور رونے لگی.
” ام کو ذاکر کا دل توڑنا نہیں چاہیے تھا پتا نہیں ذاکر اس وقت کس حال میں ہوگا “.
ہانی سارے رستے روتی رہی.
……….
ذاکر گھر میں داخل ہوکر اپنے روم کی طرف بڑھا اور شیشے سامنے کھڑے ہوکر اپنا جائزہ لیا.
سر سے بہتا خون اور چہرے پر لگے ہوئے زخموں کے نشان جن سے خون نکلنے کو بےتاب تھا ذاکر کو ساکت کرگیے.
ذاکر کو اپنی حالت دیکھ کر غصہ آنے لگا.
” Hoorain khan its time to show u my evil side “
ذاکر نے بے دردی سے زخم صاف کرنے شروع کردیے.
ہانی روتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی.
ثمرین اور عامرہ ہانی کی طرف بڑھیں.
” ہانی یہ نیوز والے کیا دیکھا رہے ہیں تم دونوں نے منگنی کب کی ?”
ثمرین نے روتی ہوئی ہانی سے سوال کیا.
عامرہ نے ثمرین کو چپ رہنے کا اشارہ کیا.
ہانی کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ تک لاکر بیڈ پر بیٹھا دیا اور پانی کا گلاس ہانی کی طرف بڑھایا.
ہانی نے ایک سانس میں ہی سارا پانی پی لیا.
عامرہ نے بیڈ پر بیٹھ کر ہانی کو ساتھ لگا لیا اور کہا
” اب ام کو سب کچھ بتاؤ “
ہانی نے گہرا سانس لیا اور سب بتا دیا.
ذاکر کے اظہارِ محبت پر عامرہ اور ثمرین کا منہ کھلا رھ گیا.
عامرہ نے ہانی کو پیچھے کرتے ہوئے کہا
” ہانی تم نے یہ کیا کردیا. ذاکر نے اظہارِ محبت کیا اور تم نے….. “
ہانی پھر سے زار و زار رونے لگی.
” ام کو خود نہیں پتہ کیا کردیا ہے ام نے “
ثمرین بھی بیڈ پر بیٹھ گئی اور ہانی کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کرکہا “ہانی ریلکس ریلکس جو ہونا تھا وہ ہوچکا ہے اب رونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا “
عامرہ کا تو ویسے ہی دل کر رہا تھا کہ ہانی کے دو لگا دے.
” ہانی تمہیں عقل نہیں آسکتی جانتی ہو کس کو نا کرکے آئی ہو ذاکر شاہ بیسٹ ماڈل اوف انگلینڈ اس کی پاور کا اندازہ خود لگا لو پورا انگلینڈ پاگل ہے اس کے پیچھے اور تم …. اوف ہانی اووووف “
” جب ام کو اس سے پیار ہی نہیں ہے تو کیا کہتی ام کہ ام کو بھی بہت پیار ہے ہاں ? “
عامرہ نے سر پر ہاتھ مارا اور کہا
” اوووف ہانی بس چپ ہوجاؤ “
” نہیں بتاؤ نا تم میں کیا کہتی ? “
عامرہ کا موبائل بج اٹھا اور دادی ماں کا نام سکرین پر جگمگاتا ہوا دیکھ کر تینوں کی سانس اٹک گئی.
ثمرین نے کہا
” عامرہ فون نا اٹھانا “.
” لیکن…. “
” لیکن ویکن کو چھوڑو پہلے بہانے اور ترکیبیں سوچو کہ معاملہ حل کیسے کرنا ہے “
” ٹھیک ہے ” اور تینوں سوچنے لگیں.
………..
” ڈیر حورین تمہیں تکلیف دینے کے لیے لوگوں کو زحمت نہیں دوں گا میں اکیلا ہی تمہارے لیے کافی ہوں “
اور ڈائرکٹر کو کال کرلی
” میری منگنی کی نیوز صبح تک ہر چیز پر بین ہوجانی چاہیے “
” اتنی جلدی کیسے مینج کروں گا ذاکر پلیز تھوڑا وقت تو دو “
” نہیں صبح تک یہ خبر بند ہوجانی چاہیے کسی بھی قیمت پر ورنہ میں تمہارے لیے ماڈلنگ کرنا چھوڑ دوں گا “
” ٹھیک ہے میں کوشش کرتا ہوں “
” بیسٹ اوف لک “
اور کال بند کرکے چیر کی بیک پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلیں.
موبائل کی بیل پر کال یس کرکے آنکھیں بند کیے ہوئے ہی موبائل کان سے لگا لیا.
” کون ? “
” ذاکر میں حمر بول رہا ہوں “
ذاکر نے جھٹ سے آنکھیں کھول لیں ” فرماؤ حمر صاحب اور معافیاں نا مانگنا تمہیں پتہ ہے میں نے معاف نہیں کرنا “
” معافی مانگنے کے لیے نہیں بلکہ آج سچ بولنے کے لیے کال کی ہے “
” بلآخر ایک سال بعد عقل آہی گئی گڈ “
” تمہاری منگیتر حورین خان تمہارے دشمن کی بیٹی ہے “
ذاکر اٹھ کھڑا ہوا ” کیا کہنا چاہتے ہو ? “
” تمہارے والد صاحب کے ساتھ فراڈ کرنے والے اشخاص ناصر خان اور ماخر خان یعنی تمہارے سوتیلے ماموں تو تمہیں یاد ہی ہوں گے “
” ہاں یاد ہیں. ان کو کیسے بھول سکتا ہوں “
” حورین خان ناصر خان کی بیٹی ہے اور تم پر حملہ بھی ان کے کہنے پر میں نے کروایا تھا “
ذاکر واپس چیر پر بیٹھ گیا.
” مجھ پر حملہ کس مقصد کے لیے کروایا گیا تھا ? “
” تاکہ تمہارے والد کو ڈرا کر ان سے سارا بزنس ہتھیالیا جائے “
” اور کیا جانتے ہو ? “
” تمہارے والد اس وقت امریکہ نہیں پاکستان گئے ہیں اپنی جائداد کا آدھا حصہ ماخر اور ناصر کو دینے “
” اور کچھ ? “
” نہیں بس اتنا ہی پتہ تھا “
” ٹھیک ہے آج سے تم آزاد ہو لیکن حمر مجھے ہر لمحے کی رپورٹ چاہیے ورنہ آزادی کو بھول جاؤ “
” میں وعدہ کرتا ہوں جو بھی پتہ چلے گا تمہیں ضرور بتاؤں گا “
” ڈیر حمر وعدہ نا بھی کرو تب بھی تمہیں سب بتانا ہی پڑے گا “
” جانتا ہوں کیا چیز ہو تم اللہ حافظ “
” ہاہاہا اللہ حافظ “.
ذاکر چیر سے اٹھا اور کھڑکی میں جاکھڑا ہوا
” اس کا مطلب حورین خان تمہاری طرف کافی حساب نکلتے ہیں. تیار ہوجاؤ ذاکر کی نفرت برداشت کرنے کے لیے “
اور ذاکر نے ہنستے ہوئے ادریس کو کال کرلی.
” سلام بابا “
” وسلام اتنی رات کو کال کی ہے خیریت ? “
” بابا آپ اس وقت کہاں ہیں? “
” امریکہ میں “
” جھوٹ مت بولیں آپ اس وقت پاکستان میں ہیں “
” تمہیں کس نے بتایا? “
” بابا آپ اپنی محنت کی کمائی ان لوگوں کو کیوں دے رہے ہیں. کیا آپ جیل میں گزاری ہوئی رات بھول گئے ہیں ? “
” ذاکر وہ تمہیں مار دیں گے “
” بابا ایسا کچھ نہیں ہوگا اور نا ہی میں ہونے دوں گا “
” ذاکر تم نے منگنی کرلی ہے ?”
ذاکر طنزیا ہنسا
” شادی بھی کل ہوجائے گی “
” ذاکر تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے ? اور حورین خان سے شادی کرنے والے ہو ?”
” آپ انگلینڈ آجائیں پھر بات کریں گے “
” ذاکر کچھ بھی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا “
” بابا سی یو سون اللہ حافظ “
……..
فاخرہ ( ہانی کی دادی ماں ) کو عامرہ کا فون نا اٹھانا غصہ دلا رہا تھا.
” ام کا فون نا اٹھاکر عامرہ اور ہانی تم لوگوں نے غلطی کرلیا “
فاخرہ اب بیٹھیں ہانی اور عامرہ کو واپس بلانے کی ترکیبیں لڑا رہیں تھیں ساری رات انہیں خیالوں میں گزر گئی.
صبح تک فاخرہ بیگم نے سوچ لیا تھا کہ ہانی اور عامرہ کو کیسے واپس بلانا ہے.
” ام بیماری کا بہانہ کرکے ہانی اور عامرہ کو واپس بلالے گا اور ہانی کی خان سے شادی کروا دے گا “
اپنے پلین پر مطمین ہو کر فاخرہ باہر چلیں آئیں.
خان ملازموں پر چیخ رہا تھا
” کس نے کاٹی ہے نیٹ اور کیبل کی تار ام کو جلدی بتاؤ “
فاخرہ بیگم نے کہا
” سب اپنا کام کرو اور خان کیا ہوگیا ہے کیوں صبح صبح چیخ رہے ہو? “
” دادی ماں ان میں سے کسی نے کیبل اور نیٹ کی تار کاٹ دی ہے “
اور خان ڈائینگ ٹیبل کی چیر کھنچ کر بیٹھ گیا.
” گھر میں بچے بھی تو آتے ہی ہیں کیا پتہ ان میں سے کسی نے کاٹ دی ہو تم کال کرکے آدمی بولوا کر سہی کروا لو چیخنے سے تو کچھ نہیں ہوگا “
” ٹھیک ہے دادی ماں “
فاخرہ چکرانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے گرنے لگیں مگر خان نے جلدی سے اٹھ کر فاخرہ کو پکڑ کر چیر پر بیٹھا دیا اور علیزہ کو آوازیں دینے لگا.
” علیزہ علیزہ “
علیزہ بھاگی بھاگی آئی
” جی “
” دادی ماں کو کمرے تک لے جاؤ اور ڈاکٹر کو کال کرو جلدی “
علیزہ خان کے حکم کی تکمیل کرنے لگی ڈاکٹر کو کال کرکے بولوایا اور ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد کہا
” یہ تو بلکل ٹھیک ہیں “
اور ڈاکٹر واپس چلی گئی.
فاخرہ نے علیزہ کو کہا
” بیٹھ جاؤ “
علیزہ بیٹھ گئی ” جی دادی ماں “
” ام کو کچھ نیں او تھا یہ ڈرامہ ام نے اگلے دو دن تک کرنا اے تاکہ ہانی اور عامرہ کو واپس بولا سکیں اور ہانی کی خان سے شادی کرواسکیں. ہانی نے ام کا اعتبار توڑا اے اس کی سزا یہی ہے کہ وہ خان کی بیوی بن جائے “
علیزہ حیران بیٹھی دادی ماں کو دیکھ رہی تھی.
” کیا کر دیا ہانی نے ? “
” ہر بات تمہیں بتانا ضروری نیں اے اور اب تم جاؤ اور خان سے کہنا کہ ام کافی بیمار اے “
علیزہ کمرے سے نکل آئی اور اپنے کمرے میں آکر کمرہ لاک کیا اور عامرہ کو کال ملائی.
عامرہ نے علیزہ کا نمبر دیکھ کر کال پک کرلی
” علیزہ کیا ہوا ? “
علیزہ نے ساری بات عامرہ کے گوش گزار دی.
” ٹھیک ہے علیزہ کچھ اور پتہ چلے تو بتانا “
” اوکے “
دروازہ نوک ہوا. علیزہ نے کال بند کرکے موبائل دراز میں رکھا اور جلدی جلدی کپڑے بدل کر دروازہ کھولا. خان اندر داخل ہوا اور علیزہ کو بغیر دوپٹے کے دیکھ کر آگ بگولہ ہوگیا.
” دوپٹہ کہاں ہے ? “
” جی وہ آپ بار بار دروازہ بجارہے تھے تو جلدی جلدی کپڑے بدل کر دروازہ کھول دیا دوپٹہ لینا یاد نہیں رہا “
” اچھا ٹھیک ہے دوپٹہ لو “
علیزہ نے دوپٹہ لے لیا اور کہا
” خان دادی ماں کی طبیت بہت خراب ہے “
” تو تم یہاں کیا کر رہی ہو جاؤ ان کے پاس “
علیزہ جلدی سے باہر کی طرف بڑھی. خان بھی علیزہ کے پیچھے دادی ماں کے کمرے میں داخل ہوا
” خان میرے بچے ام کے دن پورے ہونے والے ہیں “
خان پریشانی سے آگے بڑھا اور دادی ماں پاس بیٹھ کر دادی ماں کے ہاتھوں کو اپنے میں لے کر ان پر ہونٹ رکھ دیے.
” دادی ماں کیسی باتیں کررہیں ہیں آپ. ایسی باتیں تو نا کریں “
علیزہ نے دل میں کہا ” حد ہے کیسے ڈرامے کررہی ہیں “
” بچے ام کو معاف کردینا اگر کبھی تمہارے ساتھ کچھ غلط کیا ہو “
خان تو دادی ماں کی ایسی باتوں پر رونے والا ہوگیا تھا.
……………
ذاکر کی رات آنکھوں میں کٹی تھی.
صبح ہوتے ہی ذاکر نے اپنے دوست ناری کو کال کرلی
” ناری شام تک نکاح خواں اور گواہوں کا انتظام کرو “
” کیوں ? “
” مجھے شادی کرنی ہے “
” ذاکر تم ہوش میں تو ہو “
” ہاں بلکل ہوش میں ہی ہوں “
” حورین خان سے شادی کرنے والے ہو ? “
” ہاں “
” ٹھیک ہے کرتا ہوں کچھ “
” اوکے شام کو ملتے ہیں “
” اوکے “
ڈائرکٹر کی کال آرہی تھی ذاکر نے کال پک کرلی
” کام ہوگیا ? “
” ہاں ہوگیا ہے “
” گڈ آگلے دو دن تک میں مصروف ہوں اس لیے مجھے ڈسڑب ناکرنا “
” ٹھیک ہے “
” اوکے سی یو سون “
” اوکے “
ذاکر ہنستے ہوئے بیڈ سے اٹھا اور تیار ہونے لگا. خود کو شیشے میں دیکھ کر گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر کی طرف بڑھا.
یونی کے مین گیٹ پر آکر گاڑی روک دی اور ریسپشن سے عامرہ کا نمبر لے کر واپس گاڑی میں آکر بیٹھ گیا.
…..
ہانی سو کر اٹھی تو رات کی نسبت کافی حد تک بہتر فیل کررہی تھی. عامرہ اور ثمرین سر جوڑے باتوں میں مصروف تھیں.
ہانی منہ ہاتھ دھوکر عامرہ اور ثمرین پاس چلی آئی.
عامرہ کے موبائل کی بیل بجی اور عامرہ نے کال پک کرلی
” ہیلو کون ? “
” ذاکر شاہ “
عامرہ بیڈ سے اترگئی
” تو ? “
” میں یونی کے مین گیٹ پر ہوں مجھے ہانی سے کچھ امپورٹنٹ بات کرنی ہے ہانی کو پلیز بھیج دیں “
” ہانی سو رہی ہے “
” کب تک اٹھے گی ?”
” پتہ نہیں “
” میں ویٹ کررہا ہوں جب اٹھے بھیج دیجیے گا اللہ حافظ “
عامرہ واپس بیڈ پر آکر بیٹھ گئی.
” ہانی ذاکر مین گیٹ پر تمہارا انتظار کر رہا ہے ذاکر کو کچھ ضروری بات کرنی ہے “
” ام نہیں جائے گا “
ثمرین بول اٹھی
” ہانی تمہیں جانا چاہیے کیا پتہ سچ میں کوئی ضروری بات کرنی ہو “
” ام نہیں جائے گا “
” ہانی چلی جاؤ نا یار کیا ہے ? “
ہانی برے برے منہ بناتی ہوئی اٹھ کر سلپنگ سوٹ میں ہی باہر کی طرف بڑھی اور ہوسٹل سے نکل کر مین گیٹ کا رخ کیا.
مین ڈور سے نکل کر اردگرد دیکھا ذاکر کی گاڑی دیکھ کر گاڑی کی طرف بڑھی.
ذاکر ہانی کو دیکھ چکا تھا مگر انجان بن کر موباٰئل استعمال کرنے لگا.
ہانی گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی اور کہا
” فرمائیں “
ذاکر نے ہنستے ہوئے ڈور لاک لگا دیا اور گاڑی سٹاٹ کرلی. ہانی گڑبڑا گئی
” آپ نے گاڑی کیوں سٹاٹ کی ہے ? اور ہم کہاں جارہیں ہیں ? “
” ہنی مون منانے ڈیر “
” یہ کیا بدتمیزی ہے. گاڑی روکو “
” غصہ کیوں ہورہی ہو اس سے پہلے نکاح بھی ہوگا سو ڈونٹ وری “
ہانی سٹیرنگ کی طرف بڑھی ذاکر نے ایک دم بریک لگائی اور ہانی کے منہ پر رومال رکھ کر ہانی کو بے ہوش کردیا.
ہنستے ہوئے گاڑی پھر سے سٹاٹ کی اور گھر کا رخ کیا.
گیراج میں گاڑی روک کر ہانی کا بے ہوش وجود بازوں میں اٹھائے ہوئے ہی اپنے کمرے کی طرف بڑھا. سارے ملازم ذاکر کے بازوں میں موجود بےہوش ہانی کو دیکھ رہے تھے.
اپنے روم میں آکر ہانی کو بیڈ پر لٹایا اور دروازہ لاک کرلیا.
ذاکر ہانی کو نظروں کے حصار میں رکھتے ہوئے صوفے پر جابیٹھا اور شروع سے لے کر اب تک ہونے والے ہر ٹکراؤ کو سوچ کر ہنسنے لگا مگر کل والے واقع کو سوچ کر ہلک تک کڑواہٹ پھیل گئی.
…..
ہانی کو ہلکا ہلکا ہوش آرہا تھا اور دماغ نے جیسے جیسے کام کرنا شروع کیا سب سے پہلے اپنے چہرے پر رومال رکھنے والا واقع یاد آیا ہانی فورن اٹھ بیٹھی اور خود کو بند کمرے میں دیکھ کر آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے. کمرے میں خواب ناک ماحول تھا اور ہلکی ہلکی مردانا پرفیوم کہ خوشبو پھیلی ہوئی تھی اتنے میں ذاکر کمرے میں داخل ہوا اور لائٹ جلائی.
اچانک لائٹ جلنے پر ہانی کی آنکھیں روشنی برداشت ناکر پائیں اور بند ہوگئیں. ذاکر چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتا ہوا بیڈ پر آکر بیٹھ گیا اور ہانی کی آنکھوں کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا اسی لمحے ہانی نے آنکھیں کھول لیں اور ذاکر کا ہاتھ جھٹک کر بیڈ سے اتر گئی.
ذاکر بھی ہنستے ہوئے بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا
” کیسا لگ رہا ہے ? “
” ام کو یہاں کیوں لائے ہو “
” کار میں بتایا تو تھا “
” ام کو آپ سے شادی نہیں کرنی “
” مگر ام کو تو تم سے شادی کرنا ہے اس لیے تم کو بھی ام سے شادی کرنا پڑے گا “
ذاکر ہانی جیسی زبان بولتے ہوئے قدم بڑھانے لگا ہانی کو لگا ذاکر اس کا مزاق اُڑا رہا ہے ہانی اور زیادہ رونے لگی.
دروازہ نوک ہونے کی آواز پر ذاکر دروازے کی طرف بڑھا اور دروازہ کھول دیا.
ایک لڑکی وائیٹ کریسچن فراک لیے ہوئے اندر داخل ہوئی.
ذاکر نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا لڑکی فراک رکھ کر باہر کی طرف بڑھی.
” ام کو واپس جانا ہے “
ذاکر فراک کو دیکھنا چھوڑ کر ہانی کو دیکھنے لگا اور قدم بڑھاتے ہوئے ہانی کے بلکل قریب آکر کھڑا ہوگیا
” ڈیر حورین خان اگر آپ شادی نہیں کرنا چاہتیں تو نا کریں ایسے ہی میرے ساتھ رھ لیں مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا “
ہانی کو سانس اٹکتا ہوا محسوس ہوا
” ام کو واپس جانا ہے “
ذاکر کو غصہ آنے لگا
” ٹھیک ہے چلی جانا مگر شادی کے بعد “
ہانی چیخی ” ام کو نہیں کرنی شادی “
ذاکر نے ہانی کا بازو پکڑ کر مڑوڑا
” آواز نیچی رکھو اور یہ ڈریس پہنو جلدی ورنہ میں خود پہناؤں گا “
ہانی نے جلدی سے بازو چھڑوایا اور ڈریس کی طرف بڑھی ڈریس اٹھاکر کہا
” ذاکر ام کو شادی نہیں کرنی “
” ٹھیک ہے تیار ہوجاؤ ایسے ہی سہاگ رات منالیں گے “
ہانی کی نیلی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے اور ہانی نے زور زور سے نا میں سر ہلایا.
ذاکر ہانی کے گال کو چھو کر باہر کی طرف بڑھا اور کمرے سے نکل کر دروازہ لاک کردیا.
کچھ دیر بعد کمرے میں داخل ہوا.
ہانی وائیٹ فراک پہنے ہوئے بیٹھی رو رہی تھی. خوبصورت روتی ہوئیں نیلی آنکھیں اور مصوم گلابی گلابی چہرہ ذاکر کے ہوش اڑا رہا تھا.
ذاکر نے چہرے پر ہاتھ پھیر کا خود کو کمپوز کیا اور ہانی ساتھ بیڈ پر جا بیٹھا.
” تو کیا فیصلہ کیا ہے ? شادی کرنی ہے یا ایسے ہی میرے ساتھ رہنا ہے “
” ام شادی کرے گا “
ذاکر کے چہرے پر طنزیا مسکراہٹ ابھر آئی
” good decision Let’s go “
اور پاس پڑا ریڈ دوپٹہ ہانی کے اوپر دے کر ہاتھ پکڑا اور باہر کی طرف بڑھا ہانی بھی مردہ قدموں سے چل پڑی.
……
نکاح کے بعد ذاکر ہانی کو واپس کمرے میں لے آیا.
ہانی نے ہمت کرتے ہوئے کہا
” اب ام جائے ?”
” نہیں ابھی نہیں “
ہانی بنا سوچے سمجھے بولنا شروع ہوگئی. ذاکر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا ہانی کے قریب آگیا. دونوں بازوں کو کلائیوں سے تھام کر پیچھے لے گیا اور مظبوطی سے کلائیوں کو پکڑلیا. ہانی کا سانس اٹک گیا. ذاکر نے ہانی کی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہا
” تمہاری آنکھوں کے نیلے سمندر میں میں نے اپنا آپ کھودیا ہے “
ہانی ذاکر کی بات کا اثر مٹانے کے لیے پھر سے نان سٹاپ بولنا شروع ہوگئی. ذاکر نے اپنا حق پہلی بار استعمال کرتے ہوئے ہانی کی بولتی بند کردی اور ہنستے ہوئے ہانی کو چھوڑ کر پیچھے ہوا.
ہانی کو نظر اٹھانا جان جوکھوں کا کام لگ رہا تھا اس لیے نظر جھکائے ہوئے ہی ہونٹوں کو سختی سے دباتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی.
ذاکر نے خود کو ڈانٹا ” اوووف ذاکر تم نے بدلا لینے کے لیے شادی کی ہے یہ کیا حرکتیں کر رہے ہو “
” رکو “
ہانی رک گئی. ذاکر نے دروازہ لاک کیا اور قدم بڑھانے لگا ہانی پیچھے ہوتی گئی. ذاکر طنزیا ہنسا ” اتنا ڈر کیوں رہی ہو ? “
” ذاکر ام کو جانے دو “
ہانی دیوار سے جالگی
” اتنی بھی کیا جلدی ہے “
ذاکر نے ایک ہاتھ دیوار پر رکھا اور دوسرے سے ہاتھ سے ہانی کے بالوں کو چھونے لگا
” ذاکر ام کو واپس جانا ہے “
” صبح چلی جانا “
” لیکن آپ نے کہا تھا …”
ہانی کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ذاکر نے ہانی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
” اب بھی میں ہی کہہ رہا ہوں “
ہانی نے ہاتھ ہٹانا چاہا
ذاکر نے ہاتھ پکڑ کر مڑوڑا ہانی کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے
” اب تک تو تمہیں سمجھ جانا چاہیے تھا Its not a luv sTory its a hate story اتنی سی تکلیف پر رونے لگی ہو ابھی تو تمہیں بہت ساری تکلیفیں اٹھانی ہیں ڈیر “
اور ہانی کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ کی طرف بڑھا.
ہانی کو دھکا دیا ہانی بیڈ پر جاگری ذاکر لائٹ بند کرکے ہانی کی طرف بڑھا. ہانی نے خود کو چھڑوانے کی بہت کوششش کی مگر ذاکر کی گرفت مظبوط تھی.
……….
صبح ہانی کی آنکھ کھلی تو ذاکر روم میں نہیں تھا.
ہانی روتے ہوئے بیڈ سے اتری اتنے میں ذاکر روم میں داخل ہوا
” Gunya din ” ( Good morning )
ہانی کو ذاکر کی بات سمجھ نہیں آئی
” اب تم جاسکتی ہو مگر میں نکاح نامہ تمہیں نہیں دوں گا تمہیں خود ثابت کرنا ہوگا کہ تم میری بیوی ہو “
ذاکر کی بات سن کر ہانی کے اندر تک سرد لہر دوڑ گئی.
جاری ہے 
