Ishq Ka Samandar by Umme Laila NovelR50748 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode10
No Download Link
513.7K
15
Rate this Novel
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode01 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode02 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode03 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode04 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode05 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode06 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode07 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode08 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode09 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode10 (Watching)Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode11 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode12 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode13 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode14 Ishq Ka Samandar by Umme Laila Last Episode
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode10
Ishq Ka Samandar by Umme Laila Episode10
ذاکر گلہ پکڑے ہوئے بیڈ سے اتر گیا اور باہر کی طرف بڑھا سانس اب بھی سہی سے نہیں آرہا تھا.
ذاکر چلتے ہوئے گھر سے نکل آیا اور کچھ قدم کی دوری پر قبرستان دیکھ کر ہافرہ یاد آگئی.
ذاکر کے قدم خود با خود قبرستان کی طرف اٹھ رہے تھے قبرستان میں داخل ہوکر ہافرہ کی قبر کا رخ کیا ابھی دو تین قدم کا فاصلہ تہہ کیا تھا کہ اچانک عجیب قسم کی آواز سنائی دی.
ذاکر رک گیا اور اردگرد دیکھنے لگا آواز پھر سے آنے لگی.
” یہ آواز تو کسی لکڑی کو کھٹکھٹانے کی ہے “
ذاکر نے خود سے ہمکلام ہوتے ہوئے آواز کی سمت قدم بڑھائے.
نئی بنی قبر سے لکڑی کو کھٹکھٹانے کی آواز سن کر ذاکر جلدی جلدی مٹی ہٹانے لگا.
ساری مٹی ہٹاکر تابوت نظر آیا ذاکر نے ہاتھ بڑھا کر تابوت کا ڈھکن ہٹا دیا اور ہانی کو تابوت میں اکھڑتے سانس کے ساتھ ہاتھ پیر مارتے دیکھ کر ذاکر کا سانس اٹک گیا.
جھک کر جلدی سے ہانی کو تابوت سے نکالا اور بازوں میں اٹھائے ہوئے بھاگ کر قبرستان سے نکل آیا.
ہانی کو سڑک کنارے لیٹا کر امبولینس کو کال کردی.
ہانی کا سانس لمحہ با لمحہ مزید اکھڑتا جارہا تھا ذاکر ہانی کو مصنوعی سانس دینے لگا.
سانس اکھڑنا تو بند ہوگیا مگر ہانی بے ہوش ہوگئی تھی اور نبض حد سے زیادہ آہستہ ہوچکی تھی.
ذاکر کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ہانی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سینے سے لگا لیا.
کچھ دیر بعد دور سے آتی امبولینس دیکھ کر ذاکر سڑک کے درمیان کھڑا ہو کر ہاتھ ہلانے لگا.
ہانی کو امبولینس کی مدد سے ہوسپٹل لے جایا گیا اور ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد کہا
” فل حال کچھ نہیں کہا جاسکتا ٹیسٹ کی رپورٹس آئیں گئیں تو ہی کچھ پتہ چلے گا “
” ہوش کب تک آئے گا ? “
” امید تو ہے ہوش جلد ہی آجائے گا “
” اوکے تھیکنس “
ذاکر اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور ڈاکٹر سے ہاتھ ملایا. ڈاکٹر باہر کی طرف بڑھا.
ذاکر کمرے سے نکل آیا اور عامرہ کو کال کرلی
……..
عامرہ کو جب ہوش آیا تو اس نے خوب دروازہ پیٹا مگر گھر میں کوئی تھا ہی نہیں تو دروازہ کوئی کیسے کھولتا.
عامرہ سجدے میں گر کر ہانی کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی.
اچانک کال کی آواز پر عامرہ سجدے سے اٹھ کر موبائل کی طرف بڑھی
اور ذاکر کی کال دیکھ کر کال پک کرلی
” ہیلو عامرہ ہانی کو کس نے زندہ دفنایا تھا ? “
” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ? خان لالہ ہانی کو لے کر گئے تھے تو کیا…..”
عامرہ کے آنسوں ابل ابل کر باہر آنے لگے
” کیا خان نے ہانی کو زندہ دفنایا تھا ? “
” ذاکر یہ تو میں نہیں جانتی مگر جو کچھ ہوا ہے وہ بتا سکتی ہوں “
” ہممم اوکے بولو “
عامرہ نے سارا واقع ذاکر کے گوش گزار دیا.
ذاکر کی رگیں تن گئیں.
” تو تم نے کال کرکے کسی کو کچھ بتایا کیوں نہیں ? “
” میرے ہوش ویسے ہی گم ہوگئے تھے آپ کی کال پر مجھے اپنا موبائل نظر آیا. کیا ہانی ٹھیک ہے ? “
” فل حال کچھ نہیں کہا جاسکتا. مجھے خان کی تصویر بھیجو “
” ٹھیک ہے دو منٹ ویٹ کریں “
اور عامرہ نے کال بند کرکے خان کی تصویر ذاکر کو بھیج دی.
تصویر بھیج کر عامرہ نے موبائل ابھی رکھا ہی تھا کہ دروازہ کھلا اور خان اندر داخل ہوا
………..
عامرہ سے بات کرنے کے بعد ذاکر اب تصویر کا انتظار کررہا تھا.
میسج کی آواز پر ذاکر نے میسج کھولا اور خان کی تصویر دیکھ کر ذاکر نے گھر میں موجود نوکرانی کو کال کرلی.
” اپنے شوہر سے کہو چار گارڈز کا انتظام کرے اور گارڈز عام نہیں بلکے ٹرینڈ ہوں “
” اوکے صاحب جی “
ذاکر کال بند کرکے اندر آگیا اور ہانی پاس چیر رکھ کر بیٹھ گیا اور ہانی کو دیکھنے لگا
” ہانی اب میں تمہیں خود سے کبھی دور نہیں کروں گا “
اور ہانی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر سر بیڈ پر رکھ لیا.
کال کی آواز پر ذاکر نے پوکٹ سے موبائل نکالا اور نوکرانی کی کال دیکھ کر کال پک کرلی
” کام ہوگیا ? “
” جی ہوگیا “
” گڈ میں ایک تصویر بھیج رہا ہوں وہ سب گارڈز کو دیکھا دو “
اور کال بند کرکے خان کا نام اور تصویر بھیج دی.
کچھ دیر بعد ذاکر کو چاروں گارڈز نے اپنے سیل نمبر اور نام کے ساتھ اپنی تصویر بھی بھیج دی.
ذاکر خود سے ہمکلام ہوا
” خان تم نے ذاکر شاہ کی بیوی کے ساتھ غلط کرکے اپنی لائف لائن کو خطرے میں ڈال لیا ہے. معاف کرنا تو ذاکر شاہ نے سیکھا ہی نہیں ہے “.
ذاکر نے موبائل نکالا اور گارڈز کو کال کی
” خان کو کڈنیپ کرلو “
پھر کال بند کرکے موبائل پینٹ کی پوکٹ میں ڈال لیا.
ذاکر نے ہانی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر سرجھکایا اور ہاتھ پر ہونٹ رکھ دیے.
” Aşkım “( my love )
……..
خان نے کمرے میں انڑ ہوکر کہا
” دوپٹا لے کر باہر آؤ ام حویلی جارہے ہیں “
” ہانی کہاں ہے ? “
” جہاں اسے ہونا چاہیے “
” کہاں ہونا چاہیے ? “
” اپنی زبان بند رکھو ” خان چیخا اور باہر کی طرف بڑھا.
عامرہ منہ ہاتھ دھوکر گھر سے باہر آگئی.
” خان لالہ ام شرمندہ ہے کہ آپ ام کے لالہ ہو “
خان غصے سے عامرہ کی طرف بڑھا
” کیا تکلیف ہے ام کا دماغ پہلے ہی خراب ہے اور خراب نا کرو “
” لالہ ام آپ سے نفرت کرتا ہے “
خان نے عامرہ کے زناٹے دار تھپڑ مارا
” تم بھی ہانی کے ساتھ ملی ہوئی تھی نا. دل تو کررہا ہے تمہیں بھی زندہ زمین میں گاڑ دوں. “
عامرہ ڈر کے مار تھر تھر کانپنے لگی
” اگر دفن نہیں ہونا چاہتی تو دفع ہوجاؤ میری نظروں سے دور “
عامرہ بھاگتے ہوئے گھر میں داخل ہوئی.
خان اپنے کی طرف بڑھا اور کمرے میں بند ہوگیا.
………
دو تین گھنٹے سکون کی نیند لینے کے بعد خان گاڑی لے کر گھر سے نکلنے لگا تھا کہ اچانک چار گارڈز ایک گاڑی سے اترے اور خان کی طرف بڑھے.
خان نے گارڈز سے سوال کیا
” کون ہو تم لوگ ? “
گارڈز چپ چاپ خان کی طرف بڑھتے رہے اور ایک نے زور سے خان کے سر میں اپنا سر مارا. خان حملے کے لیے تیار نا تھا اس لیے لڑکھڑایا.
دو نے خان کو زور سے پکڑلیا اور ایک نے سر پر کالے رنگ کا تھیلا ڈال دیا اور دوسرے نے خان کے ہاتھ باندھ دیے.
گارڈز نے خان کو کسی نا کسی طرح گاڑی میں ڈال لیا اور گاڑی بھگالے گئے.
……..
کال کی آواز پر ذاکر نے موبائل پوکٹ سے نکالا اور گارڈ کی کال دیکھ کر کال پک کرلی
” بوس خان کو کڈنیپ کرلیا گیا ہے “
” گڈ خان کو گھر میں ہی رکھا ہے ناں? “
” یس “
” اوکے میں آرہا ہوں پندرہ منٹ میں “
” اوکے بوس “
ذاکر اٹھ کر کھڑا ہوا اور ہانی کی آنکھوں کو چھوتے ہوئے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے.
دو نرسیسز کو ہانی کے روم میں رہنے کا کہہ کر ہوسپٹل سے نکل آیا.
…….
ذاکر نے گھر کا دروازہ نوک کیا اور نوکرانی نے دروازہ کھول دیا
” کہاں ہیں خان ? “
نوکرانی نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا
ذاکر تیز تیز قدموں سے چلتا ہو نوکرانی کے بتائے ہوئے روم میں داخل ہوا.
خان کو چیر ساتھ باندھ کر بیٹھایا ہوا تھا اور چاروں گارڈز اردگرد کھڑے تھے.
ذاکر کے اشارے پر ایک گارڈ نے چیر خان کے سامنے رکھ دی.
خان ذاکر کو دیکھ کر ٹھٹکا
” ذاکر شاہ “
ذاکر چیر پر بیٹھ گیا
” یس ذاکر شاہ “
” آپ تو انگلینڈ کے بیسٹ ماڈل …”
ذاکر نے ہاتھ کے اشارے سے مزید بولنے سے روک دیا
” انگلینڈ کا بیسٹ ماڈل ہونے کے ساتھ ساتھ میں ہانی کا سرتاج بھی ہوں “
خان کی آنکھوں میں نفرت کی لہر دوڑ گئی.
” تو تم سے کی تھی اس نے شادی ? “
” ہاں بلکل “
خان کی گردن کی رگیں تن گئیں. ذاکر نے دو گارڈز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
” پانی کا ڈرم ارینج کرو “
دونوں باہر کی طرف بڑھے.
ذاکر موبائل نکال کر ہوسپٹل کے عملے سے ہانی کی طبیت پوچھنے لگا.
کچھ دیر بعد گارڈز پانی کا ڈرم لیے ہوئے اندر داخل ہوئے. ذاکر ڈرم کو دیکھ کر ہنسا اور کہا
” گڈ جاب “
” کہاں رکھنا ہے ? “
” ابھی فل حال یہیں رکھ دو “
ذاکر نے خان کی طرف دیکھا اور تھوڑا سا آگے جھک کر کہا
” خان تم نے ہانی کا سانس چھیننے کی کوشش کی تھی نا تو تمہارا سانس تو چھیننا پڑے گا. اگر تمہیں زندہ قبر میں دفنا دوں تو تمہیں باہر نکالنے کو میرا دل نہیں مانے گا اس لیے یہ پانی سے بھرا ڈرم منگوایا ہے مگر فکر نا کرو تمہیں موت نہیں آنے دوں گا بلکے تمہارے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا کروں گا. ہر ایک گھنٹے بعد تمہارا سانس اکھڑے گا. “
خان بولنے لگا مگر ذاکر کے زور دار پنچ نے خان کا جبڑا ہلاکر رکھ دیا. ذاکر نے ڈرم لانے کا اشارہ کیا.
گارڈز نے پانی سے بھرا ڈرم خان کی چیر کے پاس رکھ دیا.
ذاکر اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور خان کا سر پکڑ کر پانی میں ڈال دیا اور ٹائم دیکھنے لگا خان سر باہر نکالنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ذاکر کا مظبوط ہاتھ سر پر ہونے کی وجہ سے سر باہر نہیں نکال پارہا تھا.
جب خان کا سانس اکھڑنے لگا ذاکر نے خان کا سر پانی سے نکال دیا اور واپس چیر پر آکر بیٹھ گیا.
” میں تمہیں جان سے مار بھی سکتا ہوں مگر ذاکر شاہ قاتل نہیں بننا چاہتا “.
خان نارمل سانس لینے کی کوشش کرنے لگا.
” گارڈز ہر ایک گھنٹے کے بعد خان کا سر پانی میں ڈبونا ہے اور جب سانس اکھڑنے لگے تب سر باہر نکال لینا. پانی میں سر ڈالنے سے لے کر سانس اکھڑنے تک کی ویڈیو مجھے ہر ایک گھنٹے بعد سینڈ کرنا “
اور ذاکر اٹھ کر کھڑا ہوگیا
” جب تک رپورٹس نہیں آجاتیں تب تک یہی عمل دہراتے رہنا. اس کی لائف لائن کاٹنی ہے یا نہیں یہ رپورٹس کے آنے پر ڈیسایڈ کروں گا “
اور خان کو نفرت سے دیکھتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا.
……. …
ہوسپٹل پہنچ کر ذاکر کو پتہ چلا کہ ہانی کو ہوش آگیا ہے. ذاکر بھاگتے ہوئے روم میں داخل ہوا.
ہانی چھت کو گھور رہی تھی ذاکر پاس جاکر کھڑا ہوگیا اور ہانی کے بالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے کہا
” ہانی کیا تم ٹھیک ہو ? “
ہانی نے خالی نظروں سے ذاکر کو دیکھا. کچھ دیر دیکھتے رہنے کے بعد ہانی کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے.
………
رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا.
فاخرہ اور باقی سارے گھر والے خان’ ہانی اور عامرہ کی راہ دیکھ رہے تھے.
عامر نے عامرہ کو کال کرلی.
” عامرہ تم لوگ اب تک آئے کیوں نہیں ? “
عامرہ نے سارا کچا چٹھا عامر کے سامنے کھول دیا.
عامر نے دیوار کا سہارا لے کر خود کو گرنے سے بچایا.
” ہانی کون سے ہوسپٹل میں ہے ? “
عامر کے الفاظ سن کر سب عامر کی طرف دیکھنے لگے
” ذاکر سے پوچھ کر بتاتی ہوں “
عامرہ نے کال بند کرکے ذاکر کو کال ملالی.
#جاری ہے
