Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Harjai (Last Episode)

Harjai by Muqadas Awan

مہراب یہ یہ زندہ ہے ۔۔۔۔

کیاااا ۔۔۔مہراب زمین سے اٹھ کے ابیہا کی طرف مڑا

کیا کہا ایشال زندہ ہے

ہاں مہراب یہ لڑکی زندہ ہے جس رات تم نے مجھے اغوا کیا تھا اسی رات اس لڑکی کا ٹرک سے ایکسیڈینٹ ہوا تھا وہاں دو لڑکیاں تھیں ان میں سے ایک لڑکی نے اسی وقت دم توڑ دیا تھا جبکہ دوسری لڑکی کی سانسیں چل رہی تھی میں اسے اسی وقت ہسپتال لے کے گئ ڈاکٹر نے کہا کہ سر پہ گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے یہ کومے میں چلی گئ ہے۔۔۔۔

کیا ایشال کومےمیں چلی گئ یا اللہ جب بہن ملی تو اس حالت میں۔۔۔

نہیں مہراب تمہاری بہن اب ٹھیک ہے ایک ہفتہ پہلے ہی کومے ست باہر آئ ہے ۔۔ابیہا نے پوری بات بتائ۔۔۔

آبی پلیز مجھے میری ایشال کے پاس لے چلو۔۔مہراب ابیہا نے کے ہاتھ پکڑ کے التجا کی۔۔۔۔۔

دونوں گیٹ کی طرف جانے لگے مہراب کی امی نے آواز دی کہاں جا رہے ہو تم دونوں اتنی رات میں۔۔۔

امی امی۔۔۔مہراب بھاگ کے امی کے گلے لگ گیا۔۔

امی آج خوشی کا دن ہے

خوشی۔۔۔۔خوشی تو ہمارے مقدر میں تو اب ہے ہی نہیں ہماری زندگی ویران ہو گئ اب کون سی خوشی رہتی ہے۔۔۔

امی میں آج آپکو ایک سرپرائز دونگا تب تک آپ ہمارا اسی جگہ انتظار کیجیے گا۔۔۔مہراب اپنی امی کو صوفے پہ بٹھا کے سیدھا کوریڈور کی طرف چلا گیا ۔۔ملازموں کو آواز دی۔۔۔سب ملازم ایک آواز میں کوریڈور میں جمع ہوگئے۔۔۔ہاتھ باندھے نظریں جھکائے ۔۔

آج سب نے ایشال کی پسند کا کھانا بنانا ہے اور تم نے ایشال کے کمرے کی اچھے سے صفائ کرنی ہے اور پورے گھر کو روشن کردو کیونکہ ایشال کو اندھیرا نہی پسند ۔۔

مہراب سب کو کام سمجھا کے باہر گیٹ کی طرف چلا گیا

لگتا ہے صاحب پاگل ہوگئے پتا نہیں یہ کب سمجھیں گے کہ ایشال بی بی اب اس دنیا میں نہیں ہے۔۔۔سب ملازم نے افسوس سے کہا۔۔۔۔

*******************

ابیہا مہراب کو اپنی دوست کے گھر لے گئ کیونکہ ایشال ابیہا کے دوست کے گھر تھی۔۔۔

دونوں گاڑی سے باہر نکلے۔۔۔ن

ابیہا گیٹ کھول کے اندر بڑھ گئ۔۔۔

مہراب پیچھے گیٹ کے پاس کھڑا رہا۔۔

کیا ہوا چلو۔۔۔۔

آبی میں کیسے سامنا کرونگا ایشو کا مجھ سے اس کی تکلیف دیکھی نہی جائے گی۔۔۔

مہراب ہمت کرو ایشال کو تمہاری ضرورت ہے۔۔ابیہا مہراب کا ہاتھ پکڑ کے اندر لے گئ ۔۔۔۔۔۔

دینار ۔۔ابیہا نے دینار کو آواز دی۔۔کشف بھاگ کے ابیہا کے گلے لگ گئ۔۔

آبی میری جان کیسی ہے۔۔

میں ٹھیک ہوں وہ لڑکی کہاں ہے۔۔۔

ہاں وہ اندر ہے یار مجھے اس کی کنڈیشن ٹھیک نہی لگتی ہر وقت سوچتی رہتی ہے روتی رہتی ہے بس یہی کہتی ہے کہ مجھے جینے کا کوئ حق نہی میں نے اپنے بھائ کا بھروسہ توڑا ہے۔۔۔

مہراب دینار کی آخری بات سن کے تڑپ اٹھا۔۔۔۔

ابیہا مہراب کو ایشال کے پاس لے کے گئ۔۔۔

مہراب اندر گیا ایک لڑکی کھڑکی کے پاس کھڑی صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی ہڈی کا ڈھانچہ ۔۔۔

ایشو۔۔۔مہراب نے ایشال کو آواز دی۔۔۔

ایشال کے کسی اپنے کی آواز سنی پیچھے مڑ کے دیکھا سامنے اس کا بھائ کھڑا تھا۔۔۔۔

بھائئئئئ۔۔۔ایشال بھاگ کے اپنے بھائ کے گلے لگ گئ۔۔۔۔ایشو میری جان۔۔کہاں چلی گئ تھی تم ۔۔۔

بھائ مجھے معاف کر دیں میں نے آپ کا بھروسہ توڑا میں آپ سب کی گنہگار ہوں مجھے سزا مل گئ بھائ آپ کی لاج نا رکھ سکی میں مجھے سزا مل گئ بھائ

مجھے معاف کر دیں بھائ۔۔۔۔ایشال دونوں ہاتھ جوڑے مہراب کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔

نہیں ایشو ایسا نہی بولو تکلیف ہوتی ہے تم نہیں تھی تو ایک ایک لمحہ ایک ایک پل تکلیف سے گزراہوں میں تم کیوں چلی گئ ہم تو سمجھے کہ تم۔۔مہراب اس سے آگے ایک لفظ بھی نہیں بول سکا۔۔۔

بھائ میں تو اسی دن مر گئ تھی جس دن میں نے آپ کا بھروسہ توڑا۔۔۔۔۔

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تم صحیح سلامت ہو۔۔۔۔

بھائ اگر ابیہا وہاں نہیی ہوتی تو آج میں اس دنیا میں نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔

مہراب ایشال کو اپنے سے الگ کر کے ابیہا کی طرف آیا۔۔۔

چلو ایشو گھر چلو گھر میں امی انتظار کر رہی ہونگی۔۔

بھائ کس منہ سے جاوں میں امی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔

ایشو گھر چلو۔۔مہراب ایشال کا ہاتھ پکڑ کے باہر لےگیا۔۔۔

ایشال کو گاڑی میں بٹھایا گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔

ابیہا دور سے کھڑے مہراب کو جاتا دیکھ رہی تھی

گاڑی آنکھوں سے اوجھل ہوئ تو ابیہا وہیں دیوار کے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔۔

چلا گیا۔۔۔۔تمہیں بیچ رہ میں چھوڑ کے چلا گیا۔۔۔دینار ابیہا کے پاس بیٹھ گئ۔۔۔

جانا تو تھا ایک دن الگ ہونا ہی تھا ۔۔۔۔

ابیہا تو اس شخص کے لیے آنسوں بہا رہی ہو جو تمہیں بیچ راہ میں چھوڑ کے چلا گیا۔۔۔۔بہن ملی تو بیوی کو بھول گیا۔۔۔۔آبی اس نے تم سے صرف انتقام لینے کے لیے شادی کی تھی اور آج تم نے اس کو اسکی بہن لوٹائ تو تمہیں دودھ سے مکھی کی طرح پھینک دیا۔۔۔

اور تم پاگل لڑکی اس سے محبت کر بیٹھی۔۔۔ارے ظالم کو کیا پتہ کے محبت کسے کہتے ہیں۔۔۔۔

وہ محبت نہیں کرتا تو کیا ہوا میں تو کرتی ہوں نا۔۔

اس نے مجھے اپنی زندگی سے نکال دیا دینار اس نے خود بولا کے ابیہا میں تمہیں آزاد کرتا ہوں اپنے ظلم سے تمہیں آزاد کرتا ہوں۔۔۔زبردستی کے رشتے سے آزاد کرتا ہوں جب اس نے یہ الفاظ بولے تو مجھے بہت تکلیف ہوئ جب کہ مجھے تو خوش ہونا چائ تھا میں بھی ایسا ہی چاہتی تھی لیکن نہیں میں خوش نہیں ہوئ مجھے بہت دکھ ہوا کیونکہ مجھے محبت ہوگئہ ہے اس سے

۔مجھے محبت ہے اس کی ڈانٹ سے محبت ہے

اس ظالم انسان سے محبت ہے۔۔اس کی نفرت سے محبت ہے ہاں مجھے محبت ہے۔۔۔۔۔

اچھا اٹھو رات بہت ہوگی ہے اندر چلو ۔۔۔۔۔

**************

امی دیکھیں کون آیا ہے۔۔۔مہراب ایشال کو لے کے اندر آیا۔۔۔۔

مہراب کی امی سامنے صوفے پہ برجمان تھیں وہ پہلے ہی مہراب کی رویے کی وجہ سے پریشان تھیں ایشال کو سامنے دیکھ کے بےیقینی سی آنکھوں ںسے دیکھا

ایشال میری بچی ایشال ۔۔۔۔۔

ایشال سیدھا اپنی ماں کے گلے لگ گئ جیسے برسوں کسی پیاسے کو کنواں ملا ہو۔۔۔۔اور وہ اس کنوے سے اپنے پیاس بھجا رہا ہوں۔۔۔

میری بچی تو کہاں چلی گئ تھی اپنی بوڑھی ماں کا خیال نہیں آیا تجھے۔۔۔

امی مجھے معاف کر دیں

نا میرا بچہ مت رو ہم سب کو چھوڑ کے کیوں چلی گی تھی اتنا تو سوچ لیتی کہ تیرے بعد تیری ماں کیسے جیے گئ ۔۔۔میرا چھوڑ اپنے بھائ مہراب کا ہی سوچ لیتی مجھے پتا ہے کیسے جیتا تھا یہ تیرے بعد ۔۔۔۔

امی بس کریں آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گئ ۔۔۔

جب تو زندہ تھی تو واپس کیوں نہی آئ ہمارے پاس ۔۔۔

مہراب کی امی نے ایشال سے شکوہ کیا۔۔۔

امی میرا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا میں کومے میں چلی گئ تھی اور آپ کو پتا ہے میری جان کس نے بچائ۔۔۔وہ ابیہا تھی امی ۔۔۔۔

ایشال مہراب کو دیکھ کے بولی۔۔

جب اس نے جان بچائ تو ہمیں بتایا کیوں نہی

امی اسے نہیں پتا تھا کہ ایشو میری بہن ہے آج ہی اس نے ایشو کی تصویر دیکھی تو پتا چلا۔۔۔۔

مہراب کے کہا۔۔

مہراب ابیہا کہاں ہے۔۔۔وہ تمہارے ساتھ نہی آئ۔۔۔

امی اسے میں صبح لےآونگا آپ جا کے آرام کریں۔۔

********************

اگلے دن اس گھر میں خوشی کا دن تھا ہر کوئ خوش تھا

نور کو جب پتا چلا کہ اس کی بہن زندہ ہے تو صبح کی فلائٹ سے گھر آگئ ۔۔۔ایشال سے مل کے بہت روئ آج ہر کوئ خوش تھا سوائے ابیہا کے۔۔۔

مہراب لان میں بیٹھا گہری سوچ میں بیٹھا تھا پیچھے سے ایشال نے آواز دی ۔۔۔۔بھائ ۔۔

ایشو میری جان ادھر آو وہاں کیوں کھڑی ہو۔۔۔۔

بھائ آپ کس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔۔۔

نہیں میں کچھ نہی سوچ رہا۔

جھوٹ نہیں بولیں بھائ آپ ہی کی بہن ہوں۔۔ابیہا کے بارے میں سوچ رہے ہیں نا۔۔۔

ایشال میں نے ابیہا کے ساتھ ظلم کیا ہے میرے ہاتھوں اس کی زندگی برباد ہوگئ اس کی زندگی سے میں نے خوشیاں چھین لیں میں بہت ظالم ہوں۔۔۔وہ کہتی رہی چلاتی رہی کہ میں بےقصور ہوں لیکن میں نے اس کی ایک نہیں سنی اسے ہی قصور وار ٹھہراتا رہا جس نے تمہاری زندگی بچائ۔۔۔ایشو میں کیوں اتنا ظالم بن گیا۔۔۔میں کیسے ابیہا کا سامنا کرونگا میں نظریں نہیں ملا سکونگا۔۔۔کس منہ سے معافی طلب کروں جبکہ میں گنہگار ہوں۔۔۔

مہراب روتے روتے زمین میں بیٹھ گیا۔۔۔

بھائ ابیہا سے معافی مانگ لیں ۔۔۔۔

ایشو میں کس منہ سے معافی مانگوں میں گنہگار ہوں میں نے اس کی زندگی برباد کر دی حماد میں اور مجھ میں کیا فرق رہ گیا۔۔۔۔

نہیں بھائ ابیہا بہت اچھی ہے وہ ضرور آپ کو معاف کر دے گی۔۔۔

تو ہم آج ہی چلیں گے ابیہا کے گھر۔۔۔

ایشال مہراب کو زمین سے اٹھا کے کرسی میں بٹھا دیا خود بھی وہی بیٹھ گئ۔۔۔دونوں کے درمیاں خاموشی رہی جسے ایشال نے توڑا

بھائ حماد نے مجھے دھوکا دیا اس نے شادی کے ایک ہفتے بعد ہی مجھے طلاق دے دی ۔۔۔بھائ وہ بہت ظالم نکلا وہ دھوکے باز تھا وہ انسان نہیں جانور تھا بھیڑیہ تھا وہ اس نے میرے ساتھ ایک اور لڑکی کی زندگی برباد کی۔۔۔۔۔ایشال روتے روتے اپنے بھائ کو سب بتا رہی تھی۔۔۔میں نہیں جانتی وہ لڑکی کون تھی لیکن وہ بھی کسی شریف گھر کی تھی۔۔۔۔

وہ لڑکی ابیہا تھی ایشال

مہراب نظریں نیچے کر کے بولا

کیاااا ۔۔۔۔اب ابہیا ۔۔

ہاں ایشو اس دن جب میں تمہیں اپنی یونیورسٹی حمادکی سچائ بتانے ایک لڑکی کے پاس لے کے گیا تھا وہ ابیہا ہی تھی ۔۔میں نے تمہاری موت کے انتقام کے لیے ابیہا سے شادی کی۔۔۔

بھائ یہ آپ نے بہت غلط کیا اس معصوم کی کیا غلطی تھی ساری غلطی میری ہی تھی۔۔۔

ایشو مری آنکھوں میں انا کی پٹی بند گئ تھی ۔۔۔

میں سچ اور جھوٹ کے بیچ فرق نہیں کر پایا ۔۔۔مجھے بس بدلہ لینا تھا اور میں بےقصور کو ہی قصوروار ٹہراتا رہا۔۔۔

*****************

مہراب ایشال اس وقت ابیہا کے گھر تھے ایشال مہراب کو ابیہا کے کمرے کے اندر چھوڑ کے باہر آگئ ۔۔۔۔

ابیہا اپنے گھیلے بالوں میں کنگی کر رہی تھی مہراب کی آمد کا پتا ہی نہی چلا ۔۔مہراب نے اپنا گلا کھنکارا۔۔۔

ابیہا مہراب کو اپنے پیچھے دیکھ کے چونک گئ ۔۔۔۔

مہراب گہری نظروں سے ابیہا کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔

یہاں آنے کی وجہ جان سکتی ہوں۔۔۔سیدھا سیدھا سوال پوچھا گیا۔۔۔۔

مہراب کو اپنے سامنے دیکھ کر خوشی ہوئ لیکن اوپر اوپر ہی ناراضگی ظاہر کی۔۔۔

آبی مجھے سمجھ نہیں آرہا میں تم سے کیا کہوں۔۔اور مجھے یہ بھی پتا ہے کہ میں تمہارا گنہگار ہوں میں معافی کے لائق نہی ہوں۔۔اور میں یہ بھی جانتا ہوں

کہ تم مجھے معاف نہیں کروگی۔۔

مہراب مجرم کی طرح گردن جھکائے نظریں ابیہا کے پاوں پہ مرکوز تھیں ۔۔۔

جب سب کچھ پتا ہے تو اب یہاں کیا لینے آئے ہیں۔۔

ابیہا کو اچھا لگ رہا تھا مہراب کا یہ انداز ۔۔۔

ابیہا ایک آخری کوشش کرنے آیا ہوں پلیز ہو سکے تو مجھے معاف کر دو۔۔۔

مہراب نے ابیہا کے سامنے ہاتھ جوڑے۔۔۔

ابیہا کو مہراب کا یوں ہاتھ جوڑنا اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔

میں نے آپ کو معاف کیا۔۔۔۔ابیہا نے بنا پلٹے آنکھیں بند کر کے جواب دیا۔۔۔

آبی جب معاف کر ہی دیا ہے تو پلیز گھر چلو۔۔۔میں آج پورے حق سے تمہیں لینے آیا ہوں۔۔۔پلیز گھر چلو۔۔۔۔امی تمہارا انتظار کر رہی ہیں ۔۔۔۔

میں تب گھر آوں گی جب آپ پورے حق سے میرے گھر کی چوکھٹ پہ آئیں گے۔۔۔

میں سمجھا نہیں۔۔۔مہراب نے نا سمجھی سے ابیہا کی طرف دیکھا۔۔۔

مطلب یہ کہ جب آپ پورے حق سے اپنے گھر والوں کے ساتھ بارات لےکے آئیں گے۔۔ میں انتظار کروں گی آپ کا۔۔۔

اب آپ جائیں۔۔۔

ابیہا میں ایک شرط پہ بارات لے کے آونگا ۔۔۔کہ جب تم لال جوڑے پہ میرے لیے دلہن بنو گئ۔۔بولو منظور ہے شرط۔۔۔

منظور ہے۔۔۔

مہراب کمرے سے باہر آیا۔۔ایشال مہراب کا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔

کیا ہوا بھائ بھابھی مانی۔۔۔۔آپ کہیں تو میں کوشش کروں ۔۔۔۔

ایشو گھر چلو۔۔۔

مہراب اپنی مسکراہٹ دبانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔

بھائ پلیز مجھے بات کرنے دیں بھابھی ماں جانیں گی ۔۔۔

ارے بے صبری لڑکی گھر چلو اور چل کے میری شادی کی تیاریاں کرو اب ہم بارات لے کے ہی آئیں گے۔۔۔

یانی بھائ بھابھی ماں گئیں۔۔یاہووووو۔۔۔۔

چلو بھائ بہت تیاریاں کرنی ہے۔۔۔

**********************

ابیہا دلہن کے جوڑے میں بیٹھی بارات کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔دینار بھاگ کے آئ۔۔۔

آبی بارات آگئ دیکھو۔۔۔

ابیہا لہنگا سمبھال کے کھڑکی کی جانب گئ۔۔

مہراب شیروانی پہن کے سر پہ سہرا سجائے کھڑا تھا مہراب کی ایک طرف ایشال کھڑی تھی اور دوسری طرف نور تھی۔۔۔

ایک بار پھر سے ابیہا اور مہراب کا نکاح ہوا تھا رضامندی سے۔۔۔

حماد نے لندن جا کے وہاں ایک اور لڑکی سے شادی کی حماد کو سزا مل گئ تھی وہ دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گیا تھا۔۔۔ساری زندگی چلنے سے ناقاصر تھا لڑکی حمادکی معذوری سے تنگ آکےاسے چوڑ کے چلی گئ تھی۔۔۔۔۔

حماد لاوارثون کی طرح زندگی گزار رہا تھا۔۔۔۔

مہراب اپنی جان سے پیاری بہن اور ابیہا کو پا کے پرسکون تھا۔۔۔

سب خوش تھے اوپر آسمان میں چاند بھی خوش تھا۔۔۔

زندگی مکمل ہو گئ تھی سب خوش اور پرسکون تھے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *